منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 275

بنگال کے جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، تین افراد ہلاک

0

بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے کئی ڈبے جمعرات کی شام پانچ بجے مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی کے ڈوموہنی میں پٹری سے اتر گئے

کولکاتا: بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس کے کئی ڈبے جمعرات کی شام پانچ بجے مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی کے ڈوموہنی میں پٹری سے اتر گئے۔ اس حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی ہے اور متعدد افراد کے ڈبوں میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹرین نمبر 15633 جمعرات کی صبح 5.44 بجے پٹنہ ریلوے اسٹیشن سے گوہاٹی روانہ ہوئی تھی۔ یہ حادثہ مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی نیو ڈوموہنی اور نیو میناگوری کے درمیان پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹرین کے 12 ڈبے پٹری سے اتر گئے ہیں۔

ریلوے حکام جائے حادثہ پہنچ گئے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کئی مسافروں کے کوچوں میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے، جنھیں افسران بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اندھیرے کے باعث ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مشکلات آ رہی ہیں۔

ریلوے نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریلوے نے ایک ہیلپ لائن نمبر 8134054999 جاری کیا ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال لے جانے کے لیے 50 سے زائد ایمبولینسیں بھیجی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے کے فوراً بعد بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے فون پر بات کی ہے۔ بیکانیر ایکسپریس منگل کی رات راجستھان کے بیکانیر سے روانہ ہوئی تھی۔

استعفی کا سلسلہ جاری، یوگی حکومت کے تیسرے وزیر ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے دیا استعفی، اکھلیش نے کیا استقبال

0

یوگی حکومت میں محکمہ آیوش، فوڈ سیفٹی اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

لکھنؤ: اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی کے اراکین اسمبلی و یوگی حکومت کے وزراء کے استعفی کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ اسی کڑی میں یوگی حکومت میں محکمہ آیوش، فوڈ سیفٹی اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

گذشتہ تین دنوں میں یوگی حکومت کے یہ تیسرے وزیر کا استعفی ہے۔ ضلع سہارنپور کے نکڑ سیٹ کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر سینی نے گورنر آنندی بین پٹیل کو بھیجے استعفے میں کہا کہ وزیر کی حیثیت سے میں نے پوری جتن سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی کوشش کی ہے۔ سینی بھی دیگر وزراء کی طرح بی جے پی حکومت میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے استعفی دیا ہے۔

انہوں نے استعفی میں لکھا ’جن توقعات کے ساتھ دلتوں، پسماندہ طبقات، کسانوں، تعلیم یافتہ بے روزگار، چھوٹے اور متوسط طبقے کے کاروباریوں نے مل کر بی جے پی کو مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کا کام کیا۔ ان کی اور دیگر عوامی نمائندوں کے تئیں لگاتار نظراندازی کے رویہ کی وجہ سے یوپی کے کابینہ سے استعفی دیتا ہوں‘۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کو وزیر مزدور سوامی پرساد موریہ کے استعفی کے بعد بدھ کو وزیر جنگلات دارا سنگھ چوہان نے وزارت سے استعفی دے دیا تھا۔ جمعرات کو استعفی دینے والوں میں سینی کے علاوہ بی جے پی کے دو اراکین ونئے شاکیہ اور ڈاکٹر مکیش ورما بھی شامل ہیں۔

اکھلیش یادو نے کیا استقبال

ڈاکٹر سینی کے استعفی کے فیصلے کا سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے استقبال کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر سینی کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹ پر شیئر کرتے ہوئے کہا ’سماجی انصاف‘ کے ایک اور سپاہی ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی جی کے آنے سے سب کا میل۔ ملاپ ۔ملن کرنے والی ہماری ’مثبت اور پرترقی پذیر سیاست‘ کو مزید تقویت ملی ہے۔ ایس پی میں ان کا احترام و پرتپاک استقبال ہے۔ 

بائیس میں باہمی ہم آہنگی کی جیت یقینی ہے۔ 

دلچسپ ہے کہ دو دن قبل سینی نے سوامی پرساد موریہ کے دعوی کو خارج کیا تھا جس میں انہوں نے ان کے بی جے پی چھوڑ کر ایس پی میں شمولیت کا دعوی کیا تھا۔ سینی پسماندہ طبقات کے بڑے لیڈر ہیں۔ وہ چار دفعہ کے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ گذشتہ بار انہوں نے ضلع سہارن پور کے ناکڑ سیٹ سے جیت درج کی تھی۔

اس سے پہلے آج ہی بی جے پی کے دو اراکین اسمبلی مکیش ورما فیروزآباد کی شکوہا آباد اور اوریا کی بدھونا سیٹ سے ونئے شاکیہ نے پارٹی کی پرائمری ممبر شپ سے استعفی دیا ہے۔

وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی معاملے میں میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے: گہلوت

0
وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی معاملے میں میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے: گہلوت
وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی معاملے میں میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے: گہلوت

وزیر اعلی اشوک گہلوت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی کی تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے۔

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں کوتاہی کی تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے۔

مسٹر گہلوت نے بدھ کی رات سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں لاپرواہی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اب حقیقت جاننے کے لیے سب کو اس کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔

انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا ٹرائل اور بیان بازی پر روک لگائی جائے۔

لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت، برطانوی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

0
لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت، برطانوی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ
لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت، برطانوی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

برطانوی عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید پر بورس جانسن نے آج برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی میں شرکت کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی

لندن: برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باوجود پارٹی میں شرکت پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان سے وزارت عظمیٰ کے عہدہ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

خیال رہے گذشتہ چند دنوں سے برطانوی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر متعدد تصاویر گردش کررہی ہیں جن میں بورس جانسن کو ان کی سرکاری رہائش گاہ کے گارڈن میں اپنے اسٹاف کے ساتھ جشن مناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ تصاویر مئی 2020 کی ہیں جب برطانیہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔ اس دوران ان کے سرکاری گھر کے گارڈن میں پارٹی کا انعقاد ہوا جس میں 100 کے قریب عملے کے افراد شریک ہوئے تھے۔

جانسن نے مانگی معافی

برطانوی عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید پر بورس جانسن نے آج برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی میں شرکت کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی۔ تاہم وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کیا۔

بورس جانسن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی ان کے دفتر کے عملے کے لیے تھی جس میں وہ صرف 25 منٹ کے لیے شریک ہوئے تھے تاکہ وبا کے دوران کام کرنے والے عملے کا شکریہ ادا کرسکیں۔ تاہم مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اور شکریہ ادا کرنے کے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

وزیر اعظم کے بیان پر برطانوی ارکان پارلیمنٹ حکومت پر پھٹ پڑے، ایم پی افضل خان نے کہا کہ والدہ کا اسپتال میں انتقال ہوا تو انہیں گاڑی میں بیٹھنا پڑا، ہم اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت نہ کرسکے اور وزیر اعظم اور ان کے عملے نے پارٹی کرلی۔ رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے بھی بورس جانسن کو تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ اپنی ساس کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور رکن ایوان میں رو پڑے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بورس جانسن نے بجائے معافی مانگنے کے اپنے اقدام کا دفاع کیا ہے جو کہ انتہائی قابل افسوس بات ہے۔

اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش

0
اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش
اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش

اکھلیش نے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی کابینہ سے بدھ کو استعفی دینے والے دارا سنگھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان کا ایس پی میں استقبال کیا۔

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی کابینہ سے بدھ کو استعفی دینے والے دارا سنگھ چوہان کے استعفی کے بعد سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ چوہان کا ایس پی میں استقبال ہے۔

 

حالانکہ دارا سنگھ نے وزارت سے استعفی دینے کے بعد واضح کیا ہے کہ فی الحال انہوں نے کسی پارٹی کی رکنیت حاصل نہیں کی ہے۔ جلد ہی وہ اپنے حامیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے آگے کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

اس درمیان اکھلیش نے دارا سنگھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان کا ایس پی میں استقبال کیا۔ اکھلیش نے کہا ’سماجی انصاف کی جدوجہد کے جانباز سپاہی دارا سنگھ چوہان کا ایس پی میں دل کی گہرائیوں سے استقبال ہے۔ ایس پی و اس کے معاون پارٹیاں متحد ہوکر برابر۔مساوات کی تحریک کو انتہا تک لے جائیں گے‘۔ تفریق مٹائیں گے یہ ہمارا اجتماعی عزم ہے۔ سب کو احترام سب کو مقام‘۔

اس دوران یوپی کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے بھی دارا سنگھ کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی اور کہا ’کنبے کا کوئی رکن بھٹک جائے تو دکھ ہوتا ہے۔ جانے والے معزز کو میں بس یہی اپیل کرونگا کہ ڈوبتی ہوئی کشتی پر سوار ہونے سے نقصان ان کا ہی ہوگا۔ بڑے بھائی دارا سنگھ جی آپ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرئیے‘۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کو یوگی کابینہ سے استعفی کے سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے وزیر لیبر سوامی پرساد موریہ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ اس کے اگلے ہی دن دارا سنگھ نے بھی یوگی حکومت سے استعفی دے دیا۔

یوپی اسمبلی انتخابات: یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر دارا سنگھ چوہان نے دیا استعفی

0
یوپی اسمبلی انتخابات: یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر دارا سنگھ چوہان نے دیا استعفی
یوپی اسمبلی انتخابات: یوگی کابینہ کے ایک اور وزیر دارا سنگھ چوہان نے دیا استعفی

یوپی اسمبلی انتخابات سے عین قبل دارا سنگھ چوہان نے بھی وزارت سے استعفی دے کر بی جے پی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

لکھنؤ: یوپی اسمبلی انتخابات سے عین قبل سوامی پرساد موریہ کے بعد یوگی کابینہ کے وزیر دارا سنگھ چوہان نے بھی بدھ کو وزارت سے استعفی دے کر بی جے پی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

انہوں نے اپنا استعفی یوپی کی گورنر آنندی بین پٹیل کو سونپا۔ اپنے استعفی نامہ میں چوہان نے کہا ’وزیر کی حیثیت سے اپنے شعبے کی بہتری کے لئے میں نے حتی المقدار کوششیں کی لیکن پسماندہ طبقات، دلت و بے روزگار نوجوانوں کے تئیں حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویہ اور دلتوں کے ریزرویشن کے معاملے کو جس طرح سے ہینڈل کیا گیا اس سے دلبرداشتہ ہوکر وزارت سے استعفی دے رہا ہوں‘۔

اس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں چوہان نے اعادہ کیا کہ انہوں نے ایسا قدم مجبوری میں اٹھایا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ پسماندہ طبقات، دلتوں، پچھڑوں، کسان اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے۔

گذشتہ 5 سالوں میں اپنے تحفظات ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی قیادت کو بھی آگاہ کیا لیکن دونوں جگہ سے اسے نظر انداز کردیا گیا۔ جن غریب، مزدور، پسماندہ طبقات، کسان اور نوجوان کے آشیرواد سے حکومت بنی تھی ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

کیا چوہان سماج وادی میں شمولیت اختیار کریں گے؟

ایک سوال آیا انہوں نے سوامی پرساد موریہ کی حمایت میں استعفی دیا ہے چوہان نے کہا موریہ ایک سینئر لیڈر ہیں لیکن استعفی دینے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے۔ وہیں اس سوال کہ کیا وہ سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے، پر ان کا کہنا تھا کہ ’ میں اپنے حامیوں، کارکنوں اور ان تمام افراد جن کی وجہ سے میں سیاست میں ہوں ان سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔ دھیرے دھیرے ساری چیزیں اک دم واضح ہوجائیں گی۔

یوگی کابینہ کے لیبر منسٹر سوامی پرساد موریہ کا استعفی

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یوگی کابینہ کے لیبر منسٹر سوامی پرساد موریہ نے گذشتہ کل استعفی دے دیا تھا۔ موریہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی جے پی کے دیگر تین اراکین اسمبلی روشن لال ورما، برجیش پرجاپتی اور بھاگوتی ساگر نے بھی بی جے پی کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔

اگرچہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے سوامی پرساد موریہ کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ایس پی جوائن کرنے کا اشارہ دیا تھا لیکن سابق وزیر نے کہا کہ انہوں نے کابینی وزیر کی حیثیت سے استعفی دیا ہے۔ اور آگے کی حکمت عملی کے بارے میں 14جنوری کو آگاہ کریں گے۔

اجمل علی خاں سماجوادی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ کے قومی سکریٹری مقرر

0
اجمل علی خاں سماجوادی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ کے قومی سکریٹری مقرر
اجمل علی خاں سماجوادی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ کے قومی سکریٹری مقرر

اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کی طلبہ ونگ کی قومی صدر نیہا یادو نے اجمل علی خاں کی بحیثیت قومی سکریٹری تقرری عمل میں لائی ہے۔

حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے پی ایچ ڈی سکالر اجمل علی خاں کو سماجوادی پارٹی کی طلبہ ونگ کا قومی سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان راجندر چودھری کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کی طلبہ ونگ کی قومی صدر نیہا یادو نے اجمل علی خاں کی بحیثیت قومی سکریٹری تقرری عمل میں لائی ہے۔

اترپردیش کے ضلع غازی پور کے رہنے والے اجمل خاں ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد حیدر علی خاں المعروف ٹائیگر کو سماجوادی پارٹی کی پچھلی حکومت میں ریاستی وزیر کا درجہ ملا تھا۔ اجمل علی خاں کی خود سیاست میں کافی دلچسپی ہے اور وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ہونے والی طلبہ سیاست میں خاصے سرگرم ہیں۔

انہوں نے یونیورسٹی میں پچھلے چند برسوں کے دوران ہونے والے طلبہ یونینز کے انتخابات میں بادشاہ گرکا کام کیا ہے۔ وہ آزاد یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن یا اے یو ایس ایف کے بانی رکن ہیں۔ یہ تنظیم یونیورسٹی میں طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہے۔

دریں اثنا اردو یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ نے اجمل علی خاں کی سماجوادی پارٹی کی طلبہ ونگ میں بحیثیت قومی سکریٹری تقرری پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ موصوف مستقبل میں بھی طلبہ کے مسائل کی یکسوئی کا کام جاری رکھیں گے۔

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر منگل کو بی جے پی کی اہم میٹنگ

0

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔ جس میں یہ بھی فیصلہ ہو سکتا ہےکہ قانون ساز کونسل کے رکن مسٹر آدتیہ ناتھ، مسٹر موریہ اور مسٹر شرما اس بار اسمبلی الیکشن لڑیں گے یا نہیں۔

نئی دہلی: اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر منگل کو یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔

اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، دونوں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، دنیش شرما، اتر پردیش بی جے پی کے الیکشن انچارج دھرمیندر پردھان، بی جے پی کے تنظیمی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش، اتر پردیش کے صدر سواتنتر دیو سنگھ، اترپردیش میں تنظیمی سکریٹری سنیل بنسل سمیت کئی رہنما شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں انتخابی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی پہلے دو مرحلوں کی سیٹوں کے لیے پارٹی کے ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ ہو سکتا ہےکہ قانون ساز کونسل کے رکن مسٹر آدتیہ ناتھ، مسٹر موریہ اور مسٹر شرما اس بار اسمبلی الیکشن لڑیں گے یا نہیں۔ اگر یہ رہنما الیکشن لڑتے ہیں تو کس سیٹ سے الیکشن لڑیں گے؟

مانا جا رہا ہے کہ اس بار الیکشن میں کئی موجودہ اراکین اسمبلی کے ٹکٹ بھی کٹ سکتے ہیں۔

ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز

0
ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز
ملک میں کووڈ ویکسینیشن کی تعداد 152.89 کروڑ سے متجاوز

ملک کی 28 ریاستوں میں 4461 افراد کووڈ کی نئی شکل اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1247 مہاراشٹرا میں، 645 راجستھان میں اور 546 دہلی میں ہیں۔

نئی دہلی: گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 92 لاکھ سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مجموعی ویکسینیشن 152.89 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے منگل کو یہاں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 90 لاکھ 7 ہزار 700 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 152 کروڑ 89 لاکھ 70 ہزار 294 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ وائرس کے ایک لاکھ 68 ہزار 63 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد آٹھ لاکھ 21 ہزار 446 ہو گئی ہے۔ یہ متاثرہ کیسز کا 2.29 فیصد ہے۔ یومیہ کیسز کی شرح 10.64 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ملک کی 28 ریاستوں میں 4461 افراد کووڈ کی نئی شکل اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1247 مہاراشٹرا میں، 645 راجستھان میں اور 546 دہلی میں ہیں۔ اومیکرون سے 1711 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ اسی مدت میں 69959 لوگوں کو کووڈ سے شفایاب ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 45 لاکھ 70 ہزار 131 لوگ کووڈ سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور یہ شرح 96.36 فیصد ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 15 لاکھ 79 ہزار 928 کووڈ ٹسٹ کیے گئے ہیں اور اب تک کل 69 کروڑ 31 لاکھ 55 ہزار 280 کووڈ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

سپریم کورٹ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر پر فوری سماعت کے لیے رضامند

0

مسٹر سبل نے عرضی میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کو بہت اہم معاملہ قرار دیا اور جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ملک میں ‘ستیہ میو جیتے‘ کے نعرے بدل چکے ہیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہری دوار اور دہلی میں ’دھرم سنسد‘ کے پروگراموں میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف کی گئی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق عرضیوں کی جلد سماعت کی عرضی پیر کو قبول کر لی۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ کے سامنے ’خصوصی تذکرہ‘ کے تحت سینئر وکیل کپل سبل نے پی آئی ایل پر جلد سماعت کی مانگ کی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور سینئر وکیل انجنا پرکاش، سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور دیگر کی درخواستوں پر تیزی سے سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔ مسٹر سبل کی بات سننے کے بعد بنچ نے کہا ’’ہم اس کا جائزہ لیں گے‘‘۔

مسٹر سبل نے عرضی میں مسلمانوں کےخلاف اشتعال انگیز تقریر کو بہت اہم معاملہ قرار دیا اور جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ملک میں ‘ستیہ میو جیتے‘ کے نعرے بدل چکے ہیں۔

ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں

بنچ نے مسٹر سبل سے پوچھا کہ کیا کوئی تحقیقات ہو رہی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے اور لگتا ہے عدالت کی مداخلت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

خیال رہے گزشتہ سال 17 اور 19 دسمبر کو دہلی اور ہری دوار میں منعقدہ دو الگ الگ پروگراموں میں ہندو یووا واہنی کی طرف سے ‘دھرم سنسد‘ پر مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزامات ہیں۔ درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ کئی ہندو مذہبی رہنماؤں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کال دی تھی۔

وکلاء، صحافیوں اور کئی سماجی کارکنوں کی طرف سے دائر درخواستوں میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر واقعات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عرضی داخل کرنے والوں میں سابق جج خورشید، سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور پرشانت بھوشن شامل ہیں۔