پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 269

دھرم سنسد معاملہ: سوامی یتی نرسمہانند کو ملی ضمانت

0

ہریدوار دھرم سنسد معاملہ میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں یتی نرسمہانند کو ضمانت ملی

ہریدوار: یہاں کی ضلع اور سیشن عدالت نے سوامی یتی نرسمہانند کو راحت دیتے ہوئے ہریدوار دھرم سنسد معاملہ میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں ضمانت دے دی ہے۔

سوامی یتی نرسمہانند پر الزام ہے کہ انہوں نے ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں ایک خاص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کیں اور ایک خاص مذہب کے جذبات کو بھڑکانے کا کام کیا۔ شکایت ملنے کے بعد پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا تھا۔

ہریدوار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں سوامی یتی نرسمہانند کی جانب سے ضمانت کی درخواست پیش کی گئی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ ایک کمرے میں دھرم سنسد چل رہی تھی۔

دوسری جانب مدعا علیہ کی جانب سے ان کی ضمانت کی مخالفت کی گئی۔ ایڈوکیٹ نارائن ہر گپتا نے بتایا کہ آخر میں عدالت نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد سوامی نرسمہانند کو ضمانت دے دی۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں شریک ملزم جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی پر بھی دھرم سنسند میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے اور انہیں نچلی عدالت میں ضمانت نہیں مل سکی۔ اس کے بعد انہوں نے ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

حکومت کی اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل

0

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کے رکن اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے۔

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے۔

ایوان بالا میں ایک بیان میں مسٹر امت شاہ نے کہا کہ مسٹر اسدالدین اویسی پر اتر پردیش میں ضلع ہاپوڑ کے پلکھوا کے چھجارسی ٹول پلازہ کے پاس جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے معلومات طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اویسی کے سفر یا آمد و رفت کے بارے میں مقامی سطح پر کوئی اطلاع نہیں تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر اویسی پر حملے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور دونوں کے پاس سے دو غیر قانونی پستول برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اویسی کو دہلی اور کیرالہ میں بلٹ پروف کار اور زیڈ پلس سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بیان کے بعد مسٹر شاہ نے کہا کہ انہیں زبانی طور پر معلوم ہوا ہے کہ مسٹر اویسی نے سیکیورٹی لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر اویسی کو سیکیورٹی لینی چاہئے اور سب کے خدشات کو دور کرنا چاہئے۔

کرناٹک: حجاب پہنی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: مولانا جعفر پاشاہ

0
کرناٹک: حجاب پہنی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: مولانا جعفر پاشاہ
کرناٹک: حجاب پہنی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: مولانا جعفر پاشاہ

مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے اپنے بیان میں کرناٹک میں مسلم طالبات کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست تنظیمیں اور ان کے آلہ کار حجاب کی مخالفت کررہے ہیں جو افسوس کی بات ہے

حیدرآباد: حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش نے کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے پر اعتراض اور ان کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنے کی شدید مذمت کی۔

کرناٹک میں مسلم طالبات کا احتجاج حق بجانب

انہوں نے اپنے بیان میں مسلم طالبات کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست تنظیمیں اور ان کے آلہ کار حجاب کی مخالفت کررہے ہیں جو افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا دستور کسی بھی مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اپنے مذہب کے لحاظ سے کپڑے پہن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حجاب پہنی ہوئی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ہمارے ملک ہندوستان کی خوبصورتی ہے کہ یہاں پر کسی کو بھی کوئی بھی چیز پہننے کے لئے آزادی حاصل ہے۔ اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنوبی ہند کی اس ریاست میں لڑکیوں کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کو لڑکیوں کی بہتر تربیت پر وہ مبارکباد دیتے ہوئے ان کے جذبہ کو سلام کرتے ہیں۔

مولانا نے مسلم لڑکیوں کے حجاب کے جواب میں بعض لڑکیوں اور یہاں تک کہ لڑکوں کی جانب سے زعفرانی کھنڈوے پہننے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک یہ کھنڈوے کہاں گئے تھے؟ آج کیوں یہ زعفرانی کھنڈوے یاد آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے اس طرح کی حرکتیں کی جارہی ہیں جو نامناسب ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی ظالموں کے ظلم سے مسلمانوں کو بچائے اور مسلم لڑکیوں کو اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے اور آواز بلند کرنے کے لئے مزید طاقت عطا فرمائے۔

اسلامی معاشرہ

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت پر توجہ دینا ہے۔ اپنی اولادوں کو پردہ کا پابند بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ مسلم معاشرہ اس وقت بحران کا شکار ہے۔ اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے اسلامی معاشرہ میں تبدیل کیا جائے۔ اسلامی تعلیمات کو روبہ عمل لانے سے ہی مسلم معاشرہ میں جڑ پکڑتی خرابیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ملت کے باشعور طبقہ کو اپنی ذ مہ داری محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

مسلم معاشرہ میں ان دنوں جھوٹ، حسد، اور دیگر کئی بُری چیزیں جگہ بنارہی ہیں۔ ایسے میں ہمیں مسلم معاشرہ کو صحیح خطوط پر لانے کے لئے ہمہ جہتی کوششوں کو تیز کرنا ضروری ہے، تب ہی مسلم معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اس معاشرہ کی بُری باتوں کو چھوڑ کر اس میں مثبت پہلو کو جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام زعمائے ملت سے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلہ میں منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں مسلم معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

بائیڈن نے کہا، روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں

0
بائیڈن نے کہا، روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں
بائیڈن نے کہا، روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں

روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دو دن بعد بائیڈن نے کہا ہے کہ روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

مسٹر بائیڈن نے یہ ریمارکس روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دو دن بعد کہے۔ انہوں نے روس اور چین کے درمیان بڑھتی قربت کے بارے میں صحافیوں کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی یوکرین کے گرد تناؤ بڑھنے کے بعد مشرقی یوروپ میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا۔

قابل ذکر ہے کہ چین نے روس کی طرف سے امریکہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) سے سلامتی کی ضمانت کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت

0
پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت
پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت

بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر سری لنکا،  افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اظہارِ تعزیت کیا

نئی دہلی: دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اتوار کو بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا۔

سری لنکا کے وزیر اعظم کا ٹویٹ

سری لنکا کے وزیر اعظم مہیندرا راج پکشے نے ٹویٹ کیا، ’ہندوستان کی صدائے سامری، لتا منگیشکر زندہ باد رہیں۔ ​​سرحدوں کو عبور کرنے والے دہائیوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے شکریہ۔ آپ نے کہاوت ’موسیقی عالمی زبان ہے‘ کو مجسم کیا‘۔

مسٹر راج پکشے نے کہا، ’ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے ساتھ میری تعزیت۔ ان کی یادیں ان کی موسیقی کے ذریعے سے زندہ رہیں گی‘۔

حامد کرزئی کا ٹویٹ

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ٹویٹ کیا، ’لتا منگیشکر نے اپنی آواز سے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو خوشی سے بھر دیا۔ ان کی دھن آفاقی اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے تئیں میری گہری تعزیت ہے۔ ان کی روح کو سکون ملے‘۔

لتا منگیشکر کی موت، پاکستان میں سوگ کی لہر

لتا کی موت کی خبر پاکستان میں ٹویٹر پر سب سے زیادہ زیر بحث موضوعات میں تھی۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین وہاں کی ان ہستیوں میں ہیں جنہوں نے لتا جی کی موت پر اظہار تعزیت کیا اور خراج عقیدت پیش کیا۔ بہت سے لوگوں نے لتا منگیشکر کو بہن کہہ کر اپنے غم کا اظہار کیا

فواد چودھری نے کہا کہ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، ’ایک عظیم ہستی ہمارے بیچ نہیں رہیں۔ لتا منگیشکر سروں کی رانی تھیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر راج کیا۔ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتی رہے گی۔ خراج عقیدت‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ لتا منگیشکر کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک ایسی گلوکارہ سے محروم ہوگئی جس نے اپنی سریلی آواز سے نسلوں کو مسحور کیا۔

بی بی سی کا اظہار تعزیت

بی بی سی نیوز کی پنجابی سروس نے لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے پاکستانی عوام کا ایک ویڈیو جار ی کیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ لتا منگیشکر کی سریلی آواز سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ بعض نے ان کا موازنہ نور جہاں سے بھی کیا۔

کالم نگار دوردانہ نجم نے لتا کو میوزیکل نائٹنگل کہا۔ لتا منگیشکر بھی ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی چاہی جاتی تھیں۔

سیاسی تجزیہ کار شاہد مسعود کا تعزیتی پیغام

سیاسی تجزیہ کار شاہد مسعود نے بھی کہا کہ لتا منگیشکر کی رخصتی ایک دور کا خاتمہ ہے۔ وہ پاکستان میں بھی اتنی ہی مقبول تھیں جتنی وہ ہندوستان یا کہیں اور تھیں۔ انہوں نے لتا جی کو ’ہماری بہن‘ کہہ کر خراج عقیدت پیش کیا۔

محمد طاہر نامی ایک اور شخص نے ٹویٹ کیا کہ ہندوستان-پاکستان میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں لوگ ان کے نغموں سے لطف اندوز نہ ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری زندگی کی ایک عمر ہے، اس کے بعد ظالمانہ موت سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔

جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر کا ٹویٹ

ہندوستان اور بھوٹان میں جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر نے ہندی میں منگیشکر کے مشہور نغمےکے جز کو ٹویٹ کیا، "میری آواز ہی پہچان ہے، گر یاد رہے…” ہندوستان کی صدائے سامری لتا منگیشکر، گلوکارہ اور موسیقی ہنر کی 92 برس کی عمر میں موت ہو گئی۔ ایک لیجنڈ، ایک ناقابل تلافی آواز اور سات دہائیوں کے لیے موسیقی کا مرکز! بہت افسوسناک خبر، ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ خراج عقیدت لتا منگیشکر جی‘۔

بنگلہ دیش کا اظہار تعزیت

بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید، وزیر اعظم شیخ حسینہ اور پارلیمنٹ کی اسپیکر شرمین چودھری نے لتا منگیشکر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو الگ الگ تعزیتی پیغامات میں مسٹر عبد الحمید اور محترمہ شیخ حسینہ نے گلوکارہ کی آتما کی شانتی کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

92 برس کی عمر میں بھارت رتن لتا منگیشکر چار ہفتوں تک زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد بالآخر اتوار کے روز یہ جنگ ہار گئیں اور 29 دن بعد ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں آج صبح 8.12 بجے انتقال کر گئیں۔

آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال

0
آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال
آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال

مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیدا ہونے والی لتا 8 جنوری سے بریچ کینڈی ہسپتال میں تھیں۔ انہیں کووڈ انفیکشن کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ آج صبح انکا انتقال ہوگیا۔

ممبئی: جادو بھری آواز، بے مثال آواز، منفرد آواز، لاجواب آواز، قابل احترام آواز، کوئل سی آواز، کانوں میں شہد گھولتی آواز، آواز کی ملکہ اور آواز کی دیوی، اس طرح کے اور جتنے بھی القاب ہو سکتے ہیں انہیں جمع کیجئے، ایک تصویر بنایئے، جو تصویر بنے گی وہ لتا منگیشکر کی ہوگی لیکن افسوس کہ اب وہ آواز ہمارے درمیان نہیں رہی اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔

آج صبح انکا ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ 8 جنوری سے بریچ کینڈی ہسپتال میں تھیں۔ انہیں کووڈ انفیکشن کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

لتا منگیشکر کی پیدائش

لتا منگیشکر 28 ستمبر 1929 کو ایک متوسط ​​مراٹھی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیدا ہونے والی لتا پنڈت دیناناتھ منگیشکر کی بڑی بیٹی تھیں۔ اس کا پہلا نام ‘ہیما’ تھا، لیکن پیدائش کے پانچ سال بعد اس کے والدین نے اس کا نام ‘لتا’ رکھا۔ لتا اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ مینا، آشا، اوشا اور ہردے ناتھ اس سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد تھیٹر آرٹسٹ اور گلوکار تھے اور وہ ایک معروف نام تھے۔

جب لتا منگیشکر سات سال کی تھیں تو وہ مہاراشٹر آئیں۔ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ تھیٹر آرٹسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ لتا بچپن سے ہی گلوکارہ بننا چاہتی تھیں۔ لتا کے والد کو کلاسیکی موسیقی کا بہت شوق تھا۔ اس لیے وہ لتا کے فلموں میں گانے کے خلاف تھے۔ ان کے والد کا انتقال 1942 میں ہوا۔ اس کے بعد ان کے خاندان کی مالی حالت خراب ہو گئی اور خاندان کو چلانے کے لیے لتا نے مراٹھی اور ہندی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرنے شروع کر دیے۔

لتا منگیشکر کی پہلی کمائی

لتا منگیشکر کو پہلی بار اسٹیج پر گانے کے 25 روپے ملے۔ وہ اسے اپنی پہلی کمائی سمجھتی تھی۔ لتا نے پہلی بار 1942 میں مراٹھی فلم ‘کتی ہنس’ کے لیے گایا۔ لتا منگیشکر کی پوری زندگی اپنے خاندان کے لیے وقف تھی۔ گھر کے تمام افراد کی ذمہ داری اس پر تھی اس لیے شادی کا خیال آنے پر بھی وہ اس پر عمل نہ کر سکی۔ لتا منگیشکر کو 2001 میں سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔

اسدالدین اویسی پر قاتلانہ حملہ منصوبہ بند سازش کا حصہ: صدر مسلم مجلس

0

آل انڈیا مسلم مجلس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اسدالدین اویسی صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اسدالدین اویسی صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک منصوبہ سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ بی جے پی کی یوگی حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری، کمرتوڑ مہنگائی، کمزوروں پر ظلم، لاقانونیت، بدانتظامی اور کسان مخالف پالیسیوں کے باعث بی جے پی کو الیکشن میں ہار کا خوف ستارہا ہے۔ اسی لئے وہ انگریزوں کی لڑاؤ اور حکومت کردکی پالیسی اپنا رہی ہے اور الیکشن کو ہندومسلم بناکر شکست سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

انہوں نے دعوی کیا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ مسلسل فرقہ وارانہ تقریریں کرکے ماحول بگاڑنے کا کام کرہے ہیں اور بار بار کیرانہ اور مظفر نگر کی تکرار کررہے ہیں۔ اویسی صاحب پر حملہ بھی اسی نفرت انگیز مہم کا حصہ ہے۔

یہ حملہ صرف دونوں جوانوں کے شیطانی دماغوں کی کارستانی نہیں ہے بلکہ اس کے تار ہری دوار اور پریاگ راج کی دھرم سنسند سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اسکی تحقیقات کرائی جائے اور قصورواروں کو سخت سزادی جائے۔

بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی

0
بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی
بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی

بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے کانگریس کا ٹکٹ کٹ کرنے سے دلبرداشتہ پارٹی کے سینئر لیڈر گوری یادو کی طبیعت اچانگ بگڑنے پر انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا

بارہ بنکی: اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے کانگریس کا ٹکٹ کٹ کرنے سے دلبرداشتہ پارٹی کے سینئر لیڈر گوری یادو کی طبیعت اچانگ بگڑنے پر ہفتہ کی صبح انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔

ملحوظ رہے کہ کانگریس نے گوری یادو کو بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے پہلے اپنا امیدوار بنایا تھا۔ لیکن کنہیں وجوہات سے پارٹی قیادت نے ان کا ٹکٹ کاٹ کر روحی ارشد کو اپنا امیدوار بنا دیا۔ اس بات سے دلبرداشتہ گوری یادو کی طبیعت کل اچانک بگڑ گئی۔

حالت زیادہ خراب ہونے پر مقامی ڈاکٹروں نے انہیں لکھنؤ ریفر کردیا۔ ان کے اہل خانہ نے مسٹر یادو کو لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹکٹ ملنے سے قبل ہی مسٹر یادو نے علاقے میں انتخابی مہم کا آغاز کردیا تھا۔ بعد میں ٹکٹ کٹنے سے وہ اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ اس صدمے کو جھیل نہیں سکے اور طبیعت بگڑ گئی۔

ان کے بیٹے انوراگ پرکاش کے مطابق پارٹی کا اچانک ٹکٹ تبدیل کئے جانے سے مسٹر یادو کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اور انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس تعلق سے کانگریس لیڈروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج

0
اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج
اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج

بی ایس پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران یوگی کے سامنے گورکھپور صدر سیٹ سے خواجہ شمس الدین کو پارٹی کا امیدوار بنایا

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے گورکھپور صدر سیٹ سے خواجہ شمس الدین کو پارٹی کا امیدوار بنایا ہے۔

بی ایس پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری امیدواروں کی فہرست میں شمس الدین کا نام بھی شامل ہے۔ پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں شامل پوروانچل کے 10 اضلاع کی 54 اسمبلی سیٹوں کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔

چھٹے مرحلے کے لئے الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ہی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ بی ایس پی کی فہرست میں شامل اہم سیٹوں میں گورکھپور شہر کے علاوہ کشی نگر ضلع کی فاضل نگر سیٹ سے پارٹی کے امیدوار کے طور پر سنتوش تیواری کا نام شامل ہے۔ تیواری اس سیٹ پر ایس پی امیدوار سوامی پرساد موریہ کو چیلنج پیش کریں گے۔ موریہ نے حال ہی میں یوگی کابینہ سے استعفی دے کر بی جے پی چھوڑ ایس پی کی رکنیت حاصل کی ہے۔

بی ایس پی نے گورکھپور کی چلوپار سیٹ سے راجندر سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ سنگھ اس سیٹ پر بی ایس پی کے قدآور رہنما رہے و حال ہی میں ایس پی میں شامل ہوئے ونئے شنکر تیواری کے سامنے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ ونئے شنکر تیواری اس سے پہلے بی ایس پی کی ٹکٹ پر ہی ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔

فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت

0
فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت
فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت

فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت ملنے سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو کوسٹ گارڈ کی ورک فورس میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی

منیلا: فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب پہننے کی اجازت مل گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلپائن کوسٹ گارڈ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس نے ایک نئی ڈریس پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس میں خواتین اہلکاروں کے یونیفارم میں حجاب کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ خواتین اہلکاروں کے یونیفارم میں حجاب کی شمولیت سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو کوسٹ گارڈ کی ورک فورس میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے پر گزشتہ ہفتے سے عمل درآمد شروع ہوگیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس وقت فلپائن کوسٹ گارڈ میں ایک ہزار آٹھ سو پچاس مسلم اہلکار ہیں، جن میں سے دو سو خواتین ہیں۔

دریں اثنا جانب فلپائن میں مسلمانوں کے قومی کمیشن نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔