منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 268

بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی

0
بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی
بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی

بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے کانگریس کا ٹکٹ کٹ کرنے سے دلبرداشتہ پارٹی کے سینئر لیڈر گوری یادو کی طبیعت اچانگ بگڑنے پر انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا

بارہ بنکی: اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے کانگریس کا ٹکٹ کٹ کرنے سے دلبرداشتہ پارٹی کے سینئر لیڈر گوری یادو کی طبیعت اچانگ بگڑنے پر ہفتہ کی صبح انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔

ملحوظ رہے کہ کانگریس نے گوری یادو کو بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے پہلے اپنا امیدوار بنایا تھا۔ لیکن کنہیں وجوہات سے پارٹی قیادت نے ان کا ٹکٹ کاٹ کر روحی ارشد کو اپنا امیدوار بنا دیا۔ اس بات سے دلبرداشتہ گوری یادو کی طبیعت کل اچانک بگڑ گئی۔

حالت زیادہ خراب ہونے پر مقامی ڈاکٹروں نے انہیں لکھنؤ ریفر کردیا۔ ان کے اہل خانہ نے مسٹر یادو کو لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹکٹ ملنے سے قبل ہی مسٹر یادو نے علاقے میں انتخابی مہم کا آغاز کردیا تھا۔ بعد میں ٹکٹ کٹنے سے وہ اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ اس صدمے کو جھیل نہیں سکے اور طبیعت بگڑ گئی۔

ان کے بیٹے انوراگ پرکاش کے مطابق پارٹی کا اچانک ٹکٹ تبدیل کئے جانے سے مسٹر یادو کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اور انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس تعلق سے کانگریس لیڈروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج

0
اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج
اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج

بی ایس پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران یوگی کے سامنے گورکھپور صدر سیٹ سے خواجہ شمس الدین کو پارٹی کا امیدوار بنایا

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے گورکھپور صدر سیٹ سے خواجہ شمس الدین کو پارٹی کا امیدوار بنایا ہے۔

بی ایس پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری امیدواروں کی فہرست میں شمس الدین کا نام بھی شامل ہے۔ پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں شامل پوروانچل کے 10 اضلاع کی 54 اسمبلی سیٹوں کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔

چھٹے مرحلے کے لئے الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ہی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ بی ایس پی کی فہرست میں شامل اہم سیٹوں میں گورکھپور شہر کے علاوہ کشی نگر ضلع کی فاضل نگر سیٹ سے پارٹی کے امیدوار کے طور پر سنتوش تیواری کا نام شامل ہے۔ تیواری اس سیٹ پر ایس پی امیدوار سوامی پرساد موریہ کو چیلنج پیش کریں گے۔ موریہ نے حال ہی میں یوگی کابینہ سے استعفی دے کر بی جے پی چھوڑ ایس پی کی رکنیت حاصل کی ہے۔

بی ایس پی نے گورکھپور کی چلوپار سیٹ سے راجندر سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ سنگھ اس سیٹ پر بی ایس پی کے قدآور رہنما رہے و حال ہی میں ایس پی میں شامل ہوئے ونئے شنکر تیواری کے سامنے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ ونئے شنکر تیواری اس سے پہلے بی ایس پی کی ٹکٹ پر ہی ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔

فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت

0
فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت
فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت

فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت ملنے سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو کوسٹ گارڈ کی ورک فورس میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی

منیلا: فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب پہننے کی اجازت مل گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلپائن کوسٹ گارڈ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس نے ایک نئی ڈریس پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس میں خواتین اہلکاروں کے یونیفارم میں حجاب کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ خواتین اہلکاروں کے یونیفارم میں حجاب کی شمولیت سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو کوسٹ گارڈ کی ورک فورس میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے پر گزشتہ ہفتے سے عمل درآمد شروع ہوگیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس وقت فلپائن کوسٹ گارڈ میں ایک ہزار آٹھ سو پچاس مسلم اہلکار ہیں، جن میں سے دو سو خواتین ہیں۔

دریں اثنا جانب فلپائن میں مسلمانوں کے قومی کمیشن نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

اویسی پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مکمل تفشیش کی جائے: نواب ملک

0

کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی اور کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے

ممبئی: مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی پر ہوئے حملے کی مکمل تفشیش کی جائے۔ ایسا مطالبہ آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس نے کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان و مہاراشٹرا کے کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ نیز اتر پردیش حکومت کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

نواب ملک نے کہا کہ اتر پردیش میں انتخابی مہم کے لیے آنے والے تمام لیڈروں کے تحفظ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے۔ اس لئے فوری طور پر اترپردیش کے ڈی جی پی کو ریاست میں آنے والے تمام اسٹار پرچارکوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے کا حکم دینا چاہئے۔

مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر اظہار خیالات

انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے گواہان مسلسل منحرف ہو رہے ہیں۔ یقینی طور پر گواہان کا یہ انحراف کسی نہ کسی طور پر ملزمین کو بچانے کی کوشش کے طور پر ہے۔ لیکن اس کے ذریعے ملک کی حفاظت میں شہید ہونے والے ہیمنت کرکرے کی قربانی پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے سرکاری وکیل اور ان سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لہٰذا عدالت کو چاہئے کہ وہ ان تمام معاملات کا نوٹس لے۔

واضح رہیکہ اس سے قبل ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر و سابق وزیر نسیم خان نے ان گواہان کے اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اور انسداد دہشت گرد دستے کے سربراہ سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ چونکہ اب اس معاملے کی تفشیش این آئ اے ضرور کر رہی ہے لیکن ابتدائ ایام میں کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر ملزمین کو اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا اور گواہان کے بیانات بھی اے ٹی ایس نے ہی درج کیا تھا۔

لہذا گواہان کا تحفظ اور انکے بیانات کے عدالت میں اندراج کی ذمہ داری اے ٹی ایس کی ہی ہے۔ لہذا اس پر سنجیدگی سے کاروائی کی جائے جس کے بعد اے ٹی ایس نے عدالت میں افسران کی موجودگی کی درخواست دی تھی جس کی سماعت التواء میں پڑی ہے۔

اترپردیش: اسدالدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ

0

چھجارسی ٹول پلازے پر گاڑی سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے

غازی آباد: اترپردیش کے ضلع ہاپوڑ کے تلکونہ تھانہ علاقے کے نیشنل ہائی وے ۔9 پر چھجارسی ٹول پلازے پر گاڑی سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اویسی کی قافلے میں چار گاڑیاں شامل تھیں۔

موصول اطلاع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اویسی یوپی کے ضلع میرٹھ کے کٹھور اسمبلی حلقے میں اپنی امیدوار کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کے بعد دہلی واپس لوٹ رہے تھے۔ ان کے قافلے میں چار گاڑیاں سوار تھیں۔ جب ان کا قافلہ این ایس 9 کے چھجاری ٹول پلازہ پر پہنچا کہ اچانک بائیک سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ گاڑی ایم آئی ایم لیڈر کی گاڑی پر لگی۔

حملہ آروں نے تقریبا 4 راؤنڈ فائرنگ کی اور ہتھیار موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس ضمن میں پولیس کی جانب سے فی الحال کوئی جانکاری نہیں مل سکی ہے۔

وہیں اسدالدین اویسی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’کچھ دیر پہلے چھجارسی ٹول پلازے پر مری گاڑی پر 4 راؤنڈ فائر کی گئی۔  فائرنگ کے وقت موقع پر 3-4 لوگ تھے اور فائرنگ کرنے کے وہ موقع سے فرار ہوگئے۔ ملزمین ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ میری گاڑی پنکچر ہو گئی، لیکن میں دوسری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ ہم سب محفوظ ہیں۔ الحمدللہ

کشتواڑ میں المناک سڑک حادثہ 6 افراد ہلاک

0

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ایک المناک سڑک حادثے میں 6 افراد کی موت

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے کیشون علاقے میں جمعرات کی شام کو ہوئے ایک المناک ٹریفک حادثے میں 6 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔

پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ کشتواڑ کے کیشون علاقے میں جمعرات کی شام کو ایکو گاڑی زیر نمبر (JK17-5089) ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر گہری کھائی میں جا گری جس کی وجہ سے اس میں سوار چھ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور 26 آر آر سے وابستہ اہلکار فوری طور پر جائے موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو علاج و معالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال پہنچایا تاہم وہاں پر موجود ڈاکٹروں نے اُنہیں مردہ قرار دیا۔

مہلوکین کی شناخت لطیف احمد راتھر ولد عبدالصمد، رحمن بٹ ولد احمد بٹ، عرفان احمد ولد غلام حیدر شیخ، غلام حسن ولد محمد بٹ، عطا محمد ولد احمد بٹ اور زبیر احمد ولد عطا ساکنان نرگرینا کے بطور ہوئی ہے۔

پولیس نے اس ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 16/22 کے تحت ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔

دریں اثنا حادثے پر سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے رنج و غم کا اظہا رکرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مغربی بنگال میں اسکول، کالج پھر سے کھل گئے

0

کووڈ پروٹوکول کے مطابق مغربی بنگال میں اسکولوں میں کلاس آٹھ سے 12 کے طلبا کے لئے آف لائن تعلیم پھر سے شروع کی گئی

کولکتہ: مغربی بنگال میں جمعرات کو تعلیمی اداروں کے پھر سے کھلنے پر مختلف طبقات کے طلبا اپنی کلاسیں شروع کرچکے ہیں۔

کووڈ پروٹوکول کے مطابق ریاست میں اسکولوں میں کلاس آٹھ سے 12 کے طلبا کے لئے آف لائن تعلیم پھر سے شروع کی گئی۔ طلبا نے ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال کرکے اسکولوں اور کالجوں میں گئے۔

اسکولوں میں آٹھ سے 12 ویں جماعت کے طلبا کی آف لائن تعلیم شروع کردی گئی۔ اسکولوں میں تھرمل اسکیننگ اور سینی ٹائزر کا استعمال کرنے کے بعد ہی داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے لئے اسکول اسٹاف داخلہ گیٹ پر تعینات کئے گئے ہیں۔ دن کے دوران اکادمی سرگرمیوں کے لئے کالجوں، یونیورسٹیوں، تکنیکی کالجوں، انڈسٹر ی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس اور پولی ٹیکنک اور دیگر انسٹی ٹیوشنوں کو بھی کھول دیا گیا۔

کورونا کی صورتحال میں بہتری کے بعد ریاست کی وزیر اعلی ممتابنرجی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ ریاست میں کلا س آٹھ سے 12 تک کے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو جمعرات کو پھر سے کھولا جائے گا۔

ریاستی حکومت نے کہا کہ پرائمری کلاسوں کو پھر سے کھولنے پر تھوڑا رک کر غور کیا جائے گا۔ فی الحال جمعرات کو پانچ سے آٹھ تک کی کلاسوں کے طلبا کے لئے تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 16 مارچ 2020 میں کووڈ کے پھیلاؤ کے بعد تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 16 نومبر 2021 کو آ ف لائن کلاسیں پھر سے کھولی گئی تھیں۔ حالانکہ انہیں کووڈ انفیکشن کے پھیلاؤ کے بعد تین جنوری سے پھر سے بند کردیا گیا تھا۔

لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا

0
لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا
لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا

کسانوں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان ‘ووٹ کی چوٹ’ کے اپنے پروگرام کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے

لکھیم پور کھیری: لکھیم پور کھیری قتل کیس میں بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا استعفیٰ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ ورون گاندھی نے اس پر کہا کہ مرکزی حکومت اجے مشرا کو تحفظ دے رہی ہے، آخر حکومت اس سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ یہ سوال بی جے پی لیڈر اور ایم پی ورون گاندھی نے دینک بھاسکر کو دیے گئے انٹرویو میں اٹھایا ہے۔

کسانوں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان ‘ووٹ کی چوٹ’ کے اپنے پروگرام کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ سمجھنا چاہئے کہ کسانوں کی تحریک ابھی ملتوی ہوئی ہے، ختم نہیں۔

کسانوں کو ابھی تک حکومت کی طرف سے کئی مسائل پر جواب نہیں ملا

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’’جمہوریت میں ہر عوامی تحریک کی اپنی طاقت ہوتی ہے، اس کا اپنا اثر ہوتا ہے۔ جے پی تحریک سے لے کر انا کی تحریک تک ہر بار یہ ثابت ہوا ہے کہ عوامی تحریک میں حکومت بدلنے کی طاقت بھی ہے اور قیادت کا نیا افسانہ بنانے کی بھی طاقت ہے۔ کسانوں کو ابھی تک حکومت کی طرف سے کئی مسائل پر جواب نہیں ملا ہے۔

ان مسائل کو گنتے ہوئے انہوں نے ایم ایس پی پر قانونی ضمانت، لکھیم پور واقعہ میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا استعفیٰ نہ دینے کا مسئلہ اٹھایا۔ گاندھی نے سوال اٹھایا کہ مرکزی حکومت انہیں تحفظ دے کر کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟

معاوضہ اور کسانوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ ان کا مطالبہ ابھی بھی جاری ہے۔ اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کسانوں کو دوبارہ نظر انداز کیا تو کسانوں کی تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

بی جے پی کے سات سے آٹھ ایم ایل اے ترنمول میں شامل ہونا چاہتے ہیں: ممتا بنرجی

0

اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے بعد سے ہی ایک کے بعد ایک ممبران اسمبلی بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں لوٹنے لگے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر مکل رائے تھے۔

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی میں ایک اور بڑی پھوٹ کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سات سے آٹھ اور بی جے پی ممبران اسمبلی ترنمول کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ترنمول لیڈر نے واضح کیا ہے کہ انہیں ٹیم میں لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 

ممتا بنرجی نے پارٹی کے تنظیمی انتخابات سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’جیسے ہی میں یہاں آئی ہوں مجھے بتایا گیا ہے بی جے پی کے مزید سات یا آٹھ ممبران اسمبلی ہماری پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں‘‘۔ وہ ریاست کی ترقی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ان سب کا خیر مقدم ہے۔”

مکل رائے سمیت کل پانچ ایم ایل اے نے پارٹی تبدیل کرلی

اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے بعد سے ہی ایک کے بعد ایک ممبران اسمبلی بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں لوٹنے لگے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر مکل رائے تھے۔

اس کے علاوہ حکمران پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے راجیو بنرجی اور سبیاساچی دتہ جیسے لیڈر بھی ترنمول کانگریس میں واپس آئے ہیں۔ مکل رائے سمیت کل پانچ ایم ایل اے نے پارٹی تبدیل کرلی ہے۔ 

بی جے پی کو امید تھی کہ مکل رائے کے خلاف دل بدلو قانون کے تحت کارروائی کے بعد ناراض ممبران اسمبلی پارٹی چھوڑنے سے باز رہیں گے مگر بی جے پی کی حکمت عملی ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ممتا بنرجی کے اس دن کے ریمارکس کے بعد یہ واضح ہے کہ بی جے پی کے اندر رسہ کشی جاری ہے۔

ہیڈ ماسٹر اور ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل

0

اسکول میں طلبا کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں مگر مغربی بنگال کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے

کلکتہ: اسکول میں طلبا کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر مغربی بنگال کے ندیا ضلع کے کرشنا نگر کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور اسکول ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ بنگال میں 8 ویں جماعت سے 3 فروری سے اسکول کھل رہے ہیں۔ اس سے قبل دونوں اساتذہ کے درمیان لڑائی سے والدین حیران ہیں۔

مبینہ طور پر ہیڈ ماسٹر پر عرصہ دراز سے مختلف کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ جب اسکول کے دیگر اساتذہ احتجاج کرنے گئے تو ہیڈ ماسٹر نے انہیں طرح طرح سے دھمکیاں دینی شروع کردی۔ اساتذہ کو ٹرانسفر کی دھمکی بھی دے رہے تھے۔

بدھ کے روز، اسکول میں جغرافیہ ٹیچر نیمائی مجمدار نے الزام لگایا کہ انھوں نے اپنے کچھ ضروری کاغذات جو کافی دنوں سے ہیڈ ماسٹر کے پاس ہیں کو لینے گئے تو انہوں نے انکار کردیا۔

بدھ کو اساتذہ نے ہیڈ ماسٹر کے دفتر کے سامنے پوسٹر لے کر احتجاج بھی کررہے تھے۔ مبینہ طور پر اس وقت ہیڈ ماسٹر نے احتجاج کرنے والے ٹیچروں پر حملہ کر دیا۔ دونوں اساتذہ کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی، تھپڑوں اور گھونسوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میڈیا کے سامنے آپس میں لڑ پڑے۔ دونوں کو کسی طرح روک لیا گیا۔

https://www.facebook.com/mynewstodayindia/videos/612997369787993/

جغرافیہ کے استاد نے کہا کہ یہ ہیڈ ٹیچر کافی عرصے سے مختلف کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل بھی ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ 

تاہم، اسکول کے ہیڈ ماسٹر منورنجن بسواس نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کوئی دستاویزات روک رکھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس استاد کا کیا مطالبہ تھا”۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی۔ ہیڈ ماسٹر نے استاد کے خلاف بدتمیزی کی شکایت کی ہے۔