منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 270

کانپور: سٹی بس اور ای رکشہ تصادم میں 6 افراد ہلاک، 11 زخمی

0
کانپور: سٹی بس اور ای رکشہ تصادم میں 6 افراد ہلاک، 11 زخمی
کانپور: سٹی بس اور ای رکشہ تصادم میں 6 افراد ہلاک، 11 زخمی

کانپور میں ایک بے قابو سٹی بس کے ای رکشہ کی زد میں آنے سے کم از کم چھ افراد ہلاک اور 11 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔

کانپور: اتر پردیش میں کانپور کے بابو پوروا علاقے میں ایک بے قابو سٹی بس کے ای رکشہ کی زد میں آنے سے کم از کم چھ افراد ہلاک اور 11 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کانپور میں حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور ضلع انتظامیہ کو زخمیوں کے مناسب علاج کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے واقعہ کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایات دی ہیں۔

پولیس ذرائع نے پیر کو بتایا کہ اتوار کی دیر رات ایک ای بس گھنٹہ گھر سے ٹاٹ مل چوراہے کی جانب تیز رفتاری سے آ رہی تھی کہ ایک ای رکشہ سے ٹکرانے کے بعد ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا اور بس ڈیوائیڈر کو پار کرکے مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کو روندتے ہوئے ایک ڈمپر سے ٹکرا گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں شبھم سونکر (26)، ٹوئنکل (25)، ارسلان (24) اور اجیت کمار (60) کے علاوہ دو دیگر افراد کی موت ہوگئی۔ حادثے میں زخمی دیگر گیارہ افراد کو ہالیٹ اسپتال اور ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کے بعد ڈرائیور بس چھوڑ کر فرار ہو گیا تاہم بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پلوامہ اور چرار شریف میں جاری جھڑپوں میں جیش کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر

0

پلوامہ اور چرار شریف میں رات بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں جیش کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

سری نگر: پلوامہ اور چرار شریف میں رات بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں جیش کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ملی ٹینٹ جنوبی ضلع پلوامہ کے نائرہ گاؤں اور وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر فوراً ان علاقوں کو محاصرے میں لے لیا اور اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے کارروائی شروع کی۔

انہوں نے کہا کہ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر ملی ٹینٹوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی، چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق نائرہ پلوامہ اور چرار شریف میں رات بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں جیش کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد مارے گئے۔

اُن کے مطابق تصادم کی جگہ مہلوک ملی ٹینٹوں کی نعشیں برآمد کرکے اُن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔

دریں اثنا آئی جی کشمیر وجے کمار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے 12 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم آرائیوں میں لشکر طیبہ اور جیش سے وابستہ 5 ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نائرہ پلوامہ میں جیش کا انتہائی مطلوب کمانڈر زاہد وانی اور پاکستانی دہشت گرد کو مار گرایا گیا۔

جیش کمانڈر زاہد وانی کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کے لئے بڑی کامیابی

اُن کے مطابق جیش کمانڈر زاہد وانی کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کو متعدد کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا۔

آئی جی کشمیر کے مطابق پاکستانی دہشت گرد کی شناخت کفیل عرف چھوٹو کے بطور ہوئی ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج کا کہنا ہے کہ کفیل نامی پاکستانی ملی ٹینٹ سال 2020 سے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں سرگرم تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان دو جھڑپوں میں مارے گئے مزید تین ملی ٹینٹوں کی شناخت اور ان کی تنظیمیں وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں پولیس نے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے۔ کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔

افغانستان: طالبان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں: اقوام متحدہ

0
افغانستان: طالبان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں: اقوام متحدہ
افغانستان: طالبان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں ہر لڑکی اور عورت کے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرے اور اس کو برقرار رکھے۔

جنیوا: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے اتوار کو طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں ہر لڑکی اور عورت کے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرے اور اس کو برقرار رکھے۔

مسٹر گوٹریس نے ٹوئٹر پر کہا ’’افغانستان میں، خواتین اور لڑکیوں کو ایک بار پھر تعلیم، روزگار اور مساوی انصاف کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا، "عالمی برادری کا حصہ بننے اور حقیقی عزم کا مظاہرہ کرنے کے لیے طالبان کو بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کی پاسداری کرنا چاہیے جو ہر لڑکی اور عورت سے متعلق ہیں۔”

افغانستان گزشتہ سال اگست کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد سے خشک سالی اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس سال 97 فیصد آبادی کے غربت کی لکیر سے نیچے آنے کی توقع ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ ہم انہیں اخلاقی لحاظ سے تنہا نہیں چھوڑ سکتے، خاص طور پر علاقائی اور عالمی سلامتی اور خوشحالی کے تناظر میں۔ انہیں (افغان عوام) امن کی ضرورت ہے، انہیں امید کی ضرورت ہے، انہیں مدد کی ضرورت ہے۔”

بائیڈن کو یوکرین کے بجائے امریکی سرحد کی حفاظت کرنی چاہئے: ٹرمپ

0
بائیڈن کو یوکرین کے بجائے امریکی سرحد کی حفاظت کرنی چاہئے: ٹرمپ
بائیڈن کو یوکرین کے بجائے امریکی سرحد کی حفاظت کرنی چاہئے: ٹرمپ

ٹرمپ نے کہا ’’امریکہ میں ہر کوئی اس بات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ سرحد کی حفاظت کیسے کی جائے، لیکن ہمارے لیے اس وقت دنیا کی سب سے اہم سرحد یوکرین نہیں بلکہ امریکہ ہے۔

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کو یوکرین کے ارد گرد کے حالات کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دینا چاہئے اور اس کے بجائے امریکی سرحد کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

ٹرمپ نے کہا ’’امریکہ میں ہر کوئی اس بات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ سرحد کی حفاظت کیسے کی جائے، لیکن ہمارے لیے اس وقت دنیا کی سب سے اہم سرحد یوکرین نہیں بلکہ امریکہ ہے۔ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کرتے۔ لوگوں کو امریکی سرحد پر آنے دیں، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کون ہیں۔”

ٹرمپ نے اصرار کیا کہ امریکی صدر کا اولین فرض امریکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے، لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ اس کے بجائے دوسرے ممالک پر ’حملے‘ کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا، ’’انہیں (مسٹر بائیڈن) اس ملک پر حملہ روکنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے مسٹر بائیڈن مشرقی یوروپ میں سرحد کی حفاظت کے لیے کوئی فوجی بھیجیں، انہیں ٹیکساس میں ہماری سرحد کی حفاظت کے لیے فوج بھیجنی چاہیے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مسٹر بائیڈن تیسری عالمی جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں۔

مدارس کے خلاف بی جے پی کے دو وزراء کے بیانات غیر آئینی اور غیر جمہوری: عبدالقیوم انصاری

0
مدارس کے خلاف بی جے پی کے دو وزراء کے بیانات غیر آئینی اور غیر جمہوری: عبدالقیوم انصاری
مدارس کے خلاف بی جے پی کے دو وزراء کے بیانات غیر آئینی اور غیر جمہوری: عبدالقیوم انصاری

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ملحقہ مدارس کے حوالے سے بی جے پی کے دو وزراء کا بیان ہندوستان کے آئین کی دفعہ۔29,30،30(A) اور جمہوری قدروں کے منافی

پٹنہ: بی جے پی کے دو وزراء نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ملحقہ مدارس کے سلسلے میں جو بیان دیا ہے وہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ۔29,30،30 (A) اور جمہوری قدروں کے منافی ہے۔ یہ بات بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیرمین عبدالقیوم انصاری نے آج یہاں جاری پریس بیان میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور تمام ملحقہ مدارس ہندوستان کے آئین کی دفعہ 29،30،30(A) میں دیئے گئے اختیارات کے تحت قائم کئے گئے ہیں۔ بہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے یونیسف کے تعاون سے نیا نصاب تعلیم مرتب کیا ہے۔ جس میں درجہ تحتاتیہ تا وسطانیہ (1 سے 8) تک ایس سی ای آر ٹی کے نصاب کو شامل کیا ہے اور درجہ فوقانیہ سے مولوی (9-12) میں این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی کتابوں کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ایسا کہنا کہ مدرسوں میں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے کہ غیر منصفانہ ہے۔

فوقانیہ میں اول مقام حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو 10 ہزار

مسٹر نتیش کمار وزیراعلیٰ بہار نے مدرسوں کے اساتذہ کو ساتویں شرح تنخواہ دی ہے۔ نئے اساتذہ کو شرح تنخواہ دی ہے۔ ای پی ایف، پنشن منصوبہ نافذ کیا گیا ہے۔ تمام مدرسوں میں مڈ ڈے میل، سائیکل، اسٹائپن، پوشاک، مدرسوں میں حوصلہ افزائی منصوبہ کے تحت فوقانیہ (میٹرک) میں اول مقام حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو 10 ہزار، مولوی (انٹر) میں اول مقام حاصل کرنے والی طالبات کو 15 ہزار دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو ڈیجیٹل کیا گیا ہے۔ مدرسہ بورڈ میں دو سرور نصب کیا گیا ہے۔ مدرسہ میں آن لائن رجسٹریشن، آن لائن امتحان فارم بھرنے، آن لائن نتیجہ شائع کرنے، آن لائن مارکشیٹ جاری کرنے، مدرسہ بورڈ میں درخواست دینے کیلئے بار کوڈ مشین لگایا گیا ہے۔

ان تمام باتوں کے مدنظر مورخہ 9 ستمبر 2021 کو مسٹر نریندر مودی وزیراعظم کے محکمہ اقلیتی فلاح، حکومت ہند نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور ہندوستان کے تمام بورڈوں کے ذمہ داروں اور محکمہ اقلیتی فلاح کے تمام صوبہ کے سکریٹری کو بلا کر مدارس میں دیئے جا رہے تعلیم کا جائزہ لیا گیا۔ جس میں محترمہ رینوکا کمار محکمہ اقلیتی فلاح حکومت ہند نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے نصاب تعلیم اور نظام کو پورے ہندوستان کیلئے رول ماڈل قرار دیا۔

حکومت ہند نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو رول ماڈل قرار دیا

3 دسمبر 2021 کو جناب انوپ کمار (سبکدوش آئی اے ایس) افسر چیئر مین نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹ نے پورے ہندوستان کے بورڈوں اور اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ میٹنگ کر کے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے رول ماڈل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر نریندر مودی وزیراعظم ہند کی حکومت نے ان تمام باتوں کی معلومات فراہم کرانے کے بعد بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں تمام مدرسوں میں پردھان منتری جن ویکاس یوجنا نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت بہار کے سبھی مدرسوں میں کمرے کی تعمیر، بیت الخلا ء کی تعمیر،پانی کا انتظام کیا جانا ہے۔ساتھ ہی حکومت ہند کے ذریعہ 1128 زمرے کے مدارس میں کمپیوٹر فراہم کرائے گئے ہیں۔

اب مدرسوں میں سائنس کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جائے گی

محکمہ اقلیتی فلاح، حکومت ہند نے تمام مدرسوں میں تین تین سائنس اساتذہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب مدرسوں میں سائنس کے نصاب کے مطابق طلبا و طالبات کو تعلیم دی جائے گی۔ ساتھ ہی وزیراعظم ہند کا منشا ہے کہ مدارس میں قرآن کے ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے۔

اس کے مد نظر مدرسہ بورڈ نے بہار کے سبھی مدرسوں میں سائنس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسی صورت میں بی جے پی وزرا کے ذریعہ اس طرح کا غیر منصفانہ بیان دینا وزیراعظم نریندر مودی کے منشا کے مخالف ہے۔وزیراعظم ہند کا نعرہ ہے کہ سب کا ساتھ، سب کا ویکاس، سب کا وشواس۔

پنجاب میں اگر ’عاپ‘ کی حکومت بنتی ہے تو اگلے پانچ سال تک ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا: کیجریوال

0
پنجاب میں اگر ’عاپ‘ کی حکومت بنتی ہے تو اگلے پانچ سال تک ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا: کیجریوال
پنجاب میں اگر ’عاپ‘ کی حکومت بنتی ہے تو اگلے پانچ سال تک ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا: کیجریوال

اگر پنجاب میں عاپ کی حکومت بنتی ہے تو آئندہ پانچ برسوں میں ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور 24 گھنٹے مفت بجلی دی جائے گی

نئی دہلی/جالندھر: عام آدمی پارٹی (عاپ) کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ہفتہ کو کہا کہ اگر پنجاب میں عاپ کی حکومت بنتی ہے تو آئندہ پانچ برسوں میں ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور 24 گھنٹے مفت بجلی دی جائے گی۔

مسٹر کیجریوال نے پنجاب کے جالندھر میں تاجروں کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں شہروں کی ترقی کے لئے 11 نکاتی ایجنڈے پر کام کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ اگر پنجاب میں آپ کی حکومت بنتی ہے تو اگلے پانچ سالوں میں ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب میں بھی چھاپے بند کریں گے، موجودہ انڈسٹری کے مسائل حل کریں گے اور نئی صنعتیں لگانے کے لیے انسینٹیو دیئے جائیں گے۔ شہروں کے صفائی ستھرائی کے نظام کو ٹھیک کریں گے۔ 24 گھنٹے مفت بجلی اور 24 گھنٹے پینے کا پانی فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کی طرح پنجاب میں بھی ڈور اسٹیپ ڈلیوری شروع کی جائے گی اور بجلی کے تار زیر زمین کئے جائیں گے۔ اسپتال اور کلینک کو بہتر بنایا جائے گا اور اس میں تمام علاج مفت ہوگا۔ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے، بازار کی سڑکیں اور پارکنگ ٹھیک کی جائے گی۔ آپ نے 26 سال کانگریس کو اور 19 سال بادل خاندان کو دے کر دیکھا ہے۔ اب ان کے پاس کوئی نیا کام نہیں ہے۔ ہم نئے ہیں، ہمارے پاس توانائی، منصوبے اور اچھے ارادے ہیں۔ ہمیں پانچ سال دیکر دیکھ لیجئے۔ ہم نے دہلی میں لوگوں کا دل جیتا ہے، ہمیں آپ کا بھی دل جیتنا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا “میں بہت چھوٹا آدمی ہوں، میری عمر اور تجربہ کم ہے۔ ہم دہلی میں حکومت چلا رہے ہیں۔ دہلی کے اسکول اب بہت اچھے ہو گئے ہیں۔ اس بار سرکاری اسکولوں کا بارہویں کا نتیجہ 99.6 فیصد آیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں سوچا گیا تھا۔ آپ دوسری ریاستوں پر ایک نظر ڈال سکتے ہیں۔ کہیں 45 فیصد، کہیں 50 فیصد، کہیں 55 فیصد نتائج آتے ہیں۔ ہمارے سرکاری اسکولوں کے بچوں کے داخلے آئی آئی ٹی میں ہو رہے ہیں۔ اس بار 350 بچوں کے ایڈمیشن ہوئے ہیں۔ ہمارے بچے نیٹ کلیئر کر رہے ہیں، وکالت کر رہے ہیں اور اب ہمارے سرکاری اسکولوں کے بچے روانی سے انگریزی بولنے لگے ہیں۔ دہلی کے اسکولوں کے اندر اصل قوم کی تعمیر ہو رہی ہے۔ ہم نے اسپتالوں کو بہتر بنایا ہے‘‘۔

فرضی پاسپورٹ معاملے میں دہلی سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد گرفتار

0
فرضی پاسپورٹ معاملے میں دہلی سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد گرفتار
فرضی پاسپورٹ معاملے میں دہلی سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد گرفتار

پولیس نے ہریانہ کے ضلع فتح آباد کے ٹوہانہ اسمبلی حلقہ میں پولیس والوں کی ملی بھگت سے متعدد باہری لوگوں کے فرضی پاسپورٹ بنانے کے معاملے میں دہلی سے ایک ہی خاندان کے چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

حصار: پولیس نے ہریانہ کے ضلع فتح آباد کے ٹوہانہ اسمبلی حلقہ میں پولیس والوں کی ملی بھگت سے متعدد باہری لوگوں کے فرضی پاسپورٹ بنانے کے معاملے میں دہلی سے ایک ہی خاندان کے چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے پہلے اس معاملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 23 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس اس معاملے میں تھائی لینڈ میں گرفتار گینگسٹر کالا رانا کو فتح آباد لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دہلی سے پولیس نے جن چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان میں مغربی دہلی کے رہنے والے سندیپ سنگھ، اس کی بیوی امندیپ کور، سندیپ کے والد سردار سنگھ اور ماں نریندر کور نیز منموہن سنگھ اور اس کی بیوی گرپریت کور شامل ہیں۔ سال 2018 اور 2021 میں ٹوہانہ سے بنائے گئے 70 پاسپورٹ کو چیک کیے جانے پر ان میں سے 57 جعلی پائے گئے تھے۔

اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سال 2020 میں مقدمہ درج کرکے 23 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ستمبر 2021 میں ایک دوسرا مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزمان نے یہ پاسپورٹ بنانے کے لیے ایک ہی موبائل نمبر کا استعمال کیا۔ صرف آدھار کارڈ کا تبادلہ ہوا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گینگسٹر رنجیت عرف چیتا کا پاسپورٹ بھی ٹوہانہ سے تیار ہوا تھا۔

وسطی ضلع گاندربل میں ٹی آر ایف کے تین دہشت گرد اعانت کار گرفتار، اسلحہ ضبط: پولیس کا دعویٰ

0
وسطی ضلع گاندربل میں ٹی آر ایف کے تین دہشت گرد اعانت کار گرفتار، اسلحہ ضبط: پولیس کا دعویٰ
وسطی ضلع گاندربل میں ٹی آر ایف کے تین دہشت گرد اعانت کار گرفتار، اسلحہ ضبط: پولیس کا دعویٰ

جموں و کشمیر پولیس نے وسطی ضلع گاندربل میں ایک دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد ٹی آر ایف سے وابستہ لشکر طیبہ سے وابستہ تین دہشت گرد اعانت کاروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سری نگر: جموں و کشمیر پولیس نے وسطی ضلع گاندربل میں دہشت گردوں کے ایک ماڈیول کو بے نقاب کرکے لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف سے وابستہ تین دہشت گرد اعانت کاروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گاندربل پولیس نے فوج کی 24 آر آر اور سی آر پی ایف کی 115 بٹالین کے ہمراہ ضلع کے شہامہ علاقے میں ایک ناکہ چیکنگ کے دوران تین دہشت گرد اعانت کاروں کو گرفتار کرکے ان کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کیا۔

ترجمان نے گرفتار شدگان کی شناخت فیصل منظور ولد منظور احمد لون ساکن براری پورہ شوپیاں، اظہر یعقوب ولد محمد یعقوب گنائی ساکن زائی پورہ شوپیاں اور ناصر احمد ڈار ولد محمد ایوب ڈار ساکن کولگام کے بطور کی ہے۔

انہوں بیان میں کہا کہ گرفتار شدہ دہشت گرد اعانت کاروں کی تحویل سے دو چینی ساخت کے پستول، تین پستول میگزین، پندرہ گولیاں، دو گرینیڈ اور تین موبائل فون بر آمد کئے گئے۔

موصوف ترجمان نے بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران گرفتار شدگان نے لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف سے اپنی وابستگی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن گاندربل میں ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس ضمن میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں ملے فروغ

0
ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں ملے فروغ
ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں ملے فروغ

الیکٹرک گاڑیو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان ای وی کنورزن کا بھی بازار تیار ہو رہا ہے۔ اس شعبہ میں کام کرنے والی کمپنی گوگواے 1 نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑی میں تبدیل کرنے کے لئے ای وی کنورزن بنانے والی کمپنیوں نے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سے اس پر بھی ای وی کی طرح جی ایس ٹی لگانے اور اس آلے کو فروغ دینے والی پالیسیوں کو عام بجٹ میں شامل کرنے کی اپیل کی ہے۔

الیکٹرک گاڑیو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان ای وی کنورزن کا بھی بازار تیار ہو رہا ہے۔ اس شعبہ میں کام کرنے والی کمپنی گوگواے 1 نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے ای وی کنورزن کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔

پرانی گاڑیوں کو پھر سے چلانا ہوسکتا ہے ممکن

ای وی کنورزن سے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی پرانی گاڑیوں کو پھر سے چلانا ممکن ہوسکتا ہے۔ گوگواے 1 نے موٹر سائکل کے لئے ملک میں پہلی آر ٹی او کے ذریعہ تصدیق شدہ الیکٹرک کنورزن کٹ لانچ کی ہے۔ کمپنی ہائیبرڈ اور کمپلیٹ کنورزن کٹ کے ذریعہ سے موجودہ دوپہیا، تپہیا اور کاروں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی سے لیس کرتی ہے۔

کمپنی کے بانی شری کانت شندے نے یہاں کہا کہ موجودہ نظام میں کمپنی کو ہر ریاست میں وہاں کے محکمہ ٹرانسپورٹ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اس سے بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ منظوری کے مرکوز نظام ہونے سے ای وی کنورزن کے عمل کو تیز کرنا ممکن ہوگا۔

الیکٹرک کنورزن سے گاڑی کی عمر بڑھ سکتی ہے

مسٹر شندے نے کہا کہ ہندوستان میں زیادہ تر لوگ اپنی گاڑی کو اپنی زندگی بھر کا ساتھ مانتے ہیں اور اسے بیچنا نہیں چاہتے۔ ایسے میں الیکٹرک کنورزن سے گاڑی کی عمر بڑھ سکتی ہے اور اسے پانچ سے سات سال تک اور چلانا ممکن ہوسکتا ہے۔ حکومت کو اس شعبہ میں بھی سبسڈی اور تعاون پالیسیوں کی سمت میں قدم بڑھانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کنورزن کٹ پر 18 فیصد کی شرح سے جی ایس ٹی لگتا ہے۔ وہیں نئی گاڑی پر جی ایس ٹی پانچ فیصد ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت کنورزن کٹ پر بھی جی ایس ٹی کی شرح کم کریں، جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے دوپہیا گاڑی کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرے گی۔

اورنگ زیب کی مسلمانوں سے جنگ اور شیواجی کی مسلم دوستی کی تاریخی حقیقت

0
اورنگ زیب کی مسلمانوں سے جنگ اور شیواجی کی مسلم دوستی کی تاریخی حقیقت
اورنگ زیب کی مسلمانوں سے جنگ اور شیواجی کی مسلم دوستی کی تاریخی حقیقت

تمام مغل حکمرانوں میں سب سے زیادہ متنازعہ حکومت اورنگ زیب کی تھی۔ یہ خیال غلط ہے کہ اورنگ زیب ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے اور یہ کہ انہوں نے مندروں کو منہدم کیا۔ بعض مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے بہت سے مندروں کی تعمیر کرائی یا زمین فرہم کی۔

یہ غلط ہے کہ اورنگ زیب ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے

 امریکی مورخ تروشاک کے مطابق انگریزوں نے "تفرقہ ڈال کر حکومت کرنے” کی پالیسی کے تحت ایسی باتوں کی دانستہ تشہیر کی۔ میرے خیال میں اورنگ زیب نے کسی خاص مذہب کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے جسے کو اپنے لیے خطرہ محسوس کیا اسے تباہ کر دیا، چاہے وہ گرو تیغ بہادر اور ان کے بچے ہوں یا وہ ان کے حقیقی بھائی کیوں نہ ہوں۔ اقتدار کو جس سے بھی خطرہ محسوس ہوا اورنگ زیب نے اسے راستے سے ہٹا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے صوفی بزرگ اور فارسی کے عظیم شاعر سرمد کے قتل میں بھی یک لخت تاخیر نہیں کی۔ جنوب میں بیجاپور اور گولکنڈہ کی مسلم سلطنتوں سے ان کی جھڑپیں ہوئیں۔ شمال مغربی سرحدوں پر، اورنگ زیب کو بھکو یوسفزئی جیسے مسلم جنگجوؤں اور خٹک قبیلے کے سربراہ اور پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک نے بھی للکارا اور مغل افواج کے ساتھ جنگ ​​ہوئی۔

جنگ و جدال سے بھرپور اورنگ زیب کا 49 سالہ دور حکومت

اگر مراٹھی فوجوں کی طرف سے ان کی مخالفت کی گئی تو دہلی کے آس پاس آباد سیدوں (جن کو سادات بارہا کہا جاتا تھا) نے اورنگ زیب کے خلاف بغاوت جاری رکھی۔ اورنگ زیب ان طاقتوں کو دبا نہیں سکے اور اورنگ زیب کی ساری زندگی جنگوں میں گزری۔

اورنگ زیب کا سب سے بڑا ٹکراؤ مراٹھی سورما شیواجی کے ساتھ تھا۔ اس ٹکراؤ کو بہت سے لوگ ہندو مسلم تنازعہ کی نظر سے دیکھتے ہیں، جب کہ شیواجی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھا۔

شیواجی کے دادا مالوجی بھونسلے سلطنت احمد نگر کے نظام ملک عنبر کے کمانڈر تھے اور ان کی قیادت میں ملک عنبر کی فوجوں نے مغل حکمرانوں کے خلاف بہت سی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کامیابیوں سے خوش ہو کر ملک عنبر نے مالوجی بھونسلے کو اپنا وزیراعظم مقرر کیا اور انہیں راجہ کا خطاب دیا۔

شیواجی کی مسلمانوں سے گہری دوستی

مالوجی بھونسلے کو ایک مشہور صوفی بزرگ اور فقیر "شاہ شریف” کی درگاہ سے بہت عقیدت تھی۔ جب ان کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے تو انہیں لگا کہ ان کے ان دونوں بیٹوں کی پیدائش شاہ شریف کی دعاؤں سے ہوئی ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک بیٹے کا نام شاہ جی اور دوسرے کا نام شریف جی رکھا۔ شیواجی مالوجی کے بڑے بیٹے شاہ جی کا بیٹا تھا۔

شیواجی خود بھی بڑے سیکولر تھے۔ وہ ایک صوفی بزرگ "یعقوب بابا” کے مرید بھی تھے۔ لیکن یہ ان کے سیکولر ہونے کا واحد ثبوت نہیں ہے بلکہ مسلمان قدم قدم پر ان کی زندگی میں شامل تھے۔ ان کے توپ خانے کا انچارج ایک مسلمان جرنیل تھا جس کا نام ابراہیم خان تھا۔ شیواجی کی سب سے بڑی طاقت اس کی بحریہ تھی (جو اس وقت کی جدید ترین سمندری قوت تھی) جس کی کمان بھی شیواجی نے دولت خان نامی ایک مسلمان کے ہاتھ میں دے رکھی تھی۔

اس کے علاوہ ایک فوجی جنرل شیواجی کا ایک انتہائی قابل اعتماد کردار تھا، جس کا نام سید بلال تھا، جس نے اورنگ زیب کی فوج کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ پتہ نہینہ جانے فرقہ پرست عناصر اس حقیقت سے کیوں کر بے خبر ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ سپاہیوں پر مبنی شیواجی کی فوج میں 66000 مسلمان تھے۔

بھارت میں ہندو مسلم اتحاد کی مضبوط جڑیں

شیواجی کی لڑائیوں کو ہندو مسلم لڑائیوں کی شکل میں دیکھنے والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ قاضی حیدر نامی ایک مسلمان شیواجی کا پرسنل سیکرٹری اور ایلچی تھا اور سید ابراہیم ان کے سیکورٹی افسر تھے۔ ان کے علاوہ شیواجی کے پرسنل اسسٹنٹ مداری بھی ایک مسلمان تھا۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب شیواجی اورنگ زیب کے بلانے پر آگرہ گئے اور وہاں دھوکہ دہی سے قید کرلیے گئے تو انہیں اور ان کے 9 سالہ بیٹے کو قلعے کے مسلمان عملے نے قلعے کی قید سے فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ ان تمام حقائق کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اہل وطن جان سکیں کہ ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔

اسی لیے ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان پر حکومت کرنے والے حکمرانوں نے مذہب کی جنگ نہیں لڑی بلکہ اقتدار حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے کے لیے جنگیں لڑیں۔ اورنگ زیب کو ہی دیکھ لیں، وہ اپنے دونوں بیٹوں اکبر شاہ اور شاہ عالم کی بغاوت کے ذمہ دار تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب شہزادہ اکبر شاہ نے اپنے والد اورنگ زیب کے خلاف بغاوت کی تو انہیں مراٹھا حکمران شیواجی کے بیٹے چھترپتی سمبھاجی نے پناہ دی جو اورنگ زیب کے سخت مخالف تھے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط