پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 270

اویسی پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مکمل تفشیش کی جائے: نواب ملک

0

کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی اور کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے

ممبئی: مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی پر ہوئے حملے کی مکمل تفشیش کی جائے۔ ایسا مطالبہ آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس نے کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان و مہاراشٹرا کے کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ نیز اتر پردیش حکومت کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

نواب ملک نے کہا کہ اتر پردیش میں انتخابی مہم کے لیے آنے والے تمام لیڈروں کے تحفظ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے۔ اس لئے فوری طور پر اترپردیش کے ڈی جی پی کو ریاست میں آنے والے تمام اسٹار پرچارکوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے کا حکم دینا چاہئے۔

مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر اظہار خیالات

انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے گواہان مسلسل منحرف ہو رہے ہیں۔ یقینی طور پر گواہان کا یہ انحراف کسی نہ کسی طور پر ملزمین کو بچانے کی کوشش کے طور پر ہے۔ لیکن اس کے ذریعے ملک کی حفاظت میں شہید ہونے والے ہیمنت کرکرے کی قربانی پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے سرکاری وکیل اور ان سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لہٰذا عدالت کو چاہئے کہ وہ ان تمام معاملات کا نوٹس لے۔

واضح رہیکہ اس سے قبل ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر و سابق وزیر نسیم خان نے ان گواہان کے اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اور انسداد دہشت گرد دستے کے سربراہ سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ چونکہ اب اس معاملے کی تفشیش این آئ اے ضرور کر رہی ہے لیکن ابتدائ ایام میں کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر ملزمین کو اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا اور گواہان کے بیانات بھی اے ٹی ایس نے ہی درج کیا تھا۔

لہذا گواہان کا تحفظ اور انکے بیانات کے عدالت میں اندراج کی ذمہ داری اے ٹی ایس کی ہی ہے۔ لہذا اس پر سنجیدگی سے کاروائی کی جائے جس کے بعد اے ٹی ایس نے عدالت میں افسران کی موجودگی کی درخواست دی تھی جس کی سماعت التواء میں پڑی ہے۔

اترپردیش: اسدالدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ

0

چھجارسی ٹول پلازے پر گاڑی سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے

غازی آباد: اترپردیش کے ضلع ہاپوڑ کے تلکونہ تھانہ علاقے کے نیشنل ہائی وے ۔9 پر چھجارسی ٹول پلازے پر گاڑی سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اویسی کی قافلے میں چار گاڑیاں شامل تھیں۔

موصول اطلاع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اویسی یوپی کے ضلع میرٹھ کے کٹھور اسمبلی حلقے میں اپنی امیدوار کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کے بعد دہلی واپس لوٹ رہے تھے۔ ان کے قافلے میں چار گاڑیاں سوار تھیں۔ جب ان کا قافلہ این ایس 9 کے چھجاری ٹول پلازہ پر پہنچا کہ اچانک بائیک سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ گاڑی ایم آئی ایم لیڈر کی گاڑی پر لگی۔

حملہ آروں نے تقریبا 4 راؤنڈ فائرنگ کی اور ہتھیار موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس ضمن میں پولیس کی جانب سے فی الحال کوئی جانکاری نہیں مل سکی ہے۔

وہیں اسدالدین اویسی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’کچھ دیر پہلے چھجارسی ٹول پلازے پر مری گاڑی پر 4 راؤنڈ فائر کی گئی۔  فائرنگ کے وقت موقع پر 3-4 لوگ تھے اور فائرنگ کرنے کے وہ موقع سے فرار ہوگئے۔ ملزمین ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ میری گاڑی پنکچر ہو گئی، لیکن میں دوسری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ ہم سب محفوظ ہیں۔ الحمدللہ

کشتواڑ میں المناک سڑک حادثہ 6 افراد ہلاک

0

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ایک المناک سڑک حادثے میں 6 افراد کی موت

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے کیشون علاقے میں جمعرات کی شام کو ہوئے ایک المناک ٹریفک حادثے میں 6 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔

پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ کشتواڑ کے کیشون علاقے میں جمعرات کی شام کو ایکو گاڑی زیر نمبر (JK17-5089) ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر گہری کھائی میں جا گری جس کی وجہ سے اس میں سوار چھ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور 26 آر آر سے وابستہ اہلکار فوری طور پر جائے موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو علاج و معالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال پہنچایا تاہم وہاں پر موجود ڈاکٹروں نے اُنہیں مردہ قرار دیا۔

مہلوکین کی شناخت لطیف احمد راتھر ولد عبدالصمد، رحمن بٹ ولد احمد بٹ، عرفان احمد ولد غلام حیدر شیخ، غلام حسن ولد محمد بٹ، عطا محمد ولد احمد بٹ اور زبیر احمد ولد عطا ساکنان نرگرینا کے بطور ہوئی ہے۔

پولیس نے اس ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 16/22 کے تحت ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔

دریں اثنا حادثے پر سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے رنج و غم کا اظہا رکرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مغربی بنگال میں اسکول، کالج پھر سے کھل گئے

0

کووڈ پروٹوکول کے مطابق مغربی بنگال میں اسکولوں میں کلاس آٹھ سے 12 کے طلبا کے لئے آف لائن تعلیم پھر سے شروع کی گئی

کولکتہ: مغربی بنگال میں جمعرات کو تعلیمی اداروں کے پھر سے کھلنے پر مختلف طبقات کے طلبا اپنی کلاسیں شروع کرچکے ہیں۔

کووڈ پروٹوکول کے مطابق ریاست میں اسکولوں میں کلاس آٹھ سے 12 کے طلبا کے لئے آف لائن تعلیم پھر سے شروع کی گئی۔ طلبا نے ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال کرکے اسکولوں اور کالجوں میں گئے۔

اسکولوں میں آٹھ سے 12 ویں جماعت کے طلبا کی آف لائن تعلیم شروع کردی گئی۔ اسکولوں میں تھرمل اسکیننگ اور سینی ٹائزر کا استعمال کرنے کے بعد ہی داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے لئے اسکول اسٹاف داخلہ گیٹ پر تعینات کئے گئے ہیں۔ دن کے دوران اکادمی سرگرمیوں کے لئے کالجوں، یونیورسٹیوں، تکنیکی کالجوں، انڈسٹر ی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس اور پولی ٹیکنک اور دیگر انسٹی ٹیوشنوں کو بھی کھول دیا گیا۔

کورونا کی صورتحال میں بہتری کے بعد ریاست کی وزیر اعلی ممتابنرجی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ ریاست میں کلا س آٹھ سے 12 تک کے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو جمعرات کو پھر سے کھولا جائے گا۔

ریاستی حکومت نے کہا کہ پرائمری کلاسوں کو پھر سے کھولنے پر تھوڑا رک کر غور کیا جائے گا۔ فی الحال جمعرات کو پانچ سے آٹھ تک کی کلاسوں کے طلبا کے لئے تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 16 مارچ 2020 میں کووڈ کے پھیلاؤ کے بعد تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 16 نومبر 2021 کو آ ف لائن کلاسیں پھر سے کھولی گئی تھیں۔ حالانکہ انہیں کووڈ انفیکشن کے پھیلاؤ کے بعد تین جنوری سے پھر سے بند کردیا گیا تھا۔

لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا

0
لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا
لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا

کسانوں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان ‘ووٹ کی چوٹ’ کے اپنے پروگرام کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے

لکھیم پور کھیری: لکھیم پور کھیری قتل کیس میں بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا استعفیٰ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ ورون گاندھی نے اس پر کہا کہ مرکزی حکومت اجے مشرا کو تحفظ دے رہی ہے، آخر حکومت اس سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ یہ سوال بی جے پی لیڈر اور ایم پی ورون گاندھی نے دینک بھاسکر کو دیے گئے انٹرویو میں اٹھایا ہے۔

کسانوں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان ‘ووٹ کی چوٹ’ کے اپنے پروگرام کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ سمجھنا چاہئے کہ کسانوں کی تحریک ابھی ملتوی ہوئی ہے، ختم نہیں۔

کسانوں کو ابھی تک حکومت کی طرف سے کئی مسائل پر جواب نہیں ملا

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’’جمہوریت میں ہر عوامی تحریک کی اپنی طاقت ہوتی ہے، اس کا اپنا اثر ہوتا ہے۔ جے پی تحریک سے لے کر انا کی تحریک تک ہر بار یہ ثابت ہوا ہے کہ عوامی تحریک میں حکومت بدلنے کی طاقت بھی ہے اور قیادت کا نیا افسانہ بنانے کی بھی طاقت ہے۔ کسانوں کو ابھی تک حکومت کی طرف سے کئی مسائل پر جواب نہیں ملا ہے۔

ان مسائل کو گنتے ہوئے انہوں نے ایم ایس پی پر قانونی ضمانت، لکھیم پور واقعہ میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا استعفیٰ نہ دینے کا مسئلہ اٹھایا۔ گاندھی نے سوال اٹھایا کہ مرکزی حکومت انہیں تحفظ دے کر کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟

معاوضہ اور کسانوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ ان کا مطالبہ ابھی بھی جاری ہے۔ اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کسانوں کو دوبارہ نظر انداز کیا تو کسانوں کی تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

بی جے پی کے سات سے آٹھ ایم ایل اے ترنمول میں شامل ہونا چاہتے ہیں: ممتا بنرجی

0

اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے بعد سے ہی ایک کے بعد ایک ممبران اسمبلی بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں لوٹنے لگے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر مکل رائے تھے۔

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی میں ایک اور بڑی پھوٹ کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سات سے آٹھ اور بی جے پی ممبران اسمبلی ترنمول کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ترنمول لیڈر نے واضح کیا ہے کہ انہیں ٹیم میں لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 

ممتا بنرجی نے پارٹی کے تنظیمی انتخابات سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’جیسے ہی میں یہاں آئی ہوں مجھے بتایا گیا ہے بی جے پی کے مزید سات یا آٹھ ممبران اسمبلی ہماری پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں‘‘۔ وہ ریاست کی ترقی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ان سب کا خیر مقدم ہے۔”

مکل رائے سمیت کل پانچ ایم ایل اے نے پارٹی تبدیل کرلی

اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے بعد سے ہی ایک کے بعد ایک ممبران اسمبلی بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں لوٹنے لگے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر مکل رائے تھے۔

اس کے علاوہ حکمران پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے راجیو بنرجی اور سبیاساچی دتہ جیسے لیڈر بھی ترنمول کانگریس میں واپس آئے ہیں۔ مکل رائے سمیت کل پانچ ایم ایل اے نے پارٹی تبدیل کرلی ہے۔ 

بی جے پی کو امید تھی کہ مکل رائے کے خلاف دل بدلو قانون کے تحت کارروائی کے بعد ناراض ممبران اسمبلی پارٹی چھوڑنے سے باز رہیں گے مگر بی جے پی کی حکمت عملی ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ممتا بنرجی کے اس دن کے ریمارکس کے بعد یہ واضح ہے کہ بی جے پی کے اندر رسہ کشی جاری ہے۔

ہیڈ ماسٹر اور ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل

0

اسکول میں طلبا کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں مگر مغربی بنگال کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے

کلکتہ: اسکول میں طلبا کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر مغربی بنگال کے ندیا ضلع کے کرشنا نگر کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور اسکول ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ بنگال میں 8 ویں جماعت سے 3 فروری سے اسکول کھل رہے ہیں۔ اس سے قبل دونوں اساتذہ کے درمیان لڑائی سے والدین حیران ہیں۔

مبینہ طور پر ہیڈ ماسٹر پر عرصہ دراز سے مختلف کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ جب اسکول کے دیگر اساتذہ احتجاج کرنے گئے تو ہیڈ ماسٹر نے انہیں طرح طرح سے دھمکیاں دینی شروع کردی۔ اساتذہ کو ٹرانسفر کی دھمکی بھی دے رہے تھے۔

بدھ کے روز، اسکول میں جغرافیہ ٹیچر نیمائی مجمدار نے الزام لگایا کہ انھوں نے اپنے کچھ ضروری کاغذات جو کافی دنوں سے ہیڈ ماسٹر کے پاس ہیں کو لینے گئے تو انہوں نے انکار کردیا۔

بدھ کو اساتذہ نے ہیڈ ماسٹر کے دفتر کے سامنے پوسٹر لے کر احتجاج بھی کررہے تھے۔ مبینہ طور پر اس وقت ہیڈ ماسٹر نے احتجاج کرنے والے ٹیچروں پر حملہ کر دیا۔ دونوں اساتذہ کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی، تھپڑوں اور گھونسوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میڈیا کے سامنے آپس میں لڑ پڑے۔ دونوں کو کسی طرح روک لیا گیا۔

https://www.facebook.com/mynewstodayindia/videos/612997369787993/

جغرافیہ کے استاد نے کہا کہ یہ ہیڈ ٹیچر کافی عرصے سے مختلف کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل بھی ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ 

تاہم، اسکول کے ہیڈ ماسٹر منورنجن بسواس نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کوئی دستاویزات روک رکھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس استاد کا کیا مطالبہ تھا”۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی۔ ہیڈ ماسٹر نے استاد کے خلاف بدتمیزی کی شکایت کی ہے۔

ریلوے میں گروپ ڈی بھرتی کے لئے صرف ایک امتحان کرانے کا مطالبہ

0
ریلوے میں گروپ ڈی بھرتی کے لئے صرف ایک امتحان کرانے کا مطالبہ
ریلوے میں گروپ ڈی بھرتی کے لئے صرف ایک امتحان کرانے کا مطالبہ

ریلوے میں گروپ ڈی ملازمین کی بھرتی کے لیے صرف ایک امتحان کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بہار اور اتر پردیش میں اسٹوڈنٹس کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

نئی دہلی: ہندوستانی ریلوے میں این ٹی پی سی کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ آج ایوان بالا راجیہ سبھا میں اٹھایا گیا اور ریلوے میں گروپ ڈی ملازمین کی بھرتی کے لیے صرف ایک امتحان کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بہار اور اتر پردیش میں اسٹوڈنٹس کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

بجٹ اجلاس کے دوران آج صبح جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ اور ملیشیا میں سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور پھر ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھی گئیں۔

اب وقفہ صفر صرف آدھے گھنٹے کا

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے اراکین سے اپیل کی کہ وہ کورونا پروٹوکول پر عمل کریں اور مقررہ نشستوں پر ہی بیٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ایوان بالا راجیہ سبھا اور ایوان زیریں لوک سبھا کی کارروائی دو مختلف شفٹوں میں چل رہی ہے۔ ایوان بالا پہلی شفٹ میں اور ایوان زیریں دوسری شفٹ میں ہو رہی ہے۔ وقت کی پابندیوں کی وجہ سے ایوان بالا کی کارروائی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت اب وقفہ صفر صرف آدھے گھنٹے کا ہوگا۔

وقفہ صفر کے دوران نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی ڈاکٹر فوزیہ خان نے ریلوے میں بھرتی کے لیے بہار میں مشتعل طلباء کا مسئلہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سشیل کمار مودی نے کہا کہ 1.25 کروڑ طلباء نے این ٹی پی سی امتحان کے لیے درخواست دی تھی۔

گروپ ڈی کی بھرتی کے لیے دو امتحانات لینے کا کوئی جواز نہیں

انہوں نے کہا کہ گروپ ڈی کی بھرتی کے لیے دو امتحانات لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ آئی اے ایس یا آئی پی ایس کے لیے بھرتی نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف ایک ٹیسٹ لیا جانا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امتحانی نتائج میں سات لاکھ طلباء کے نام آئے ہیں جبکہ زیادہ تر طلباء کے نام دو بار آئے ہیں۔ اس لیے وزیر ریلوے کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیے بغیر مزید 3.5 لاکھ طلبا کے نتائج کا اعلان کیا جانا چاہیے۔

بہار اور اتر پردیش میں اسٹوڈنٹس کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ

اس امتحان کے نتیجے میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے کہا کہ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پریاگ راج میں طلباء کو گھروں میں گھس کر مارا پیٹا گیا اور اس دوران بہار اور اتر پردیش میں 1000 اسٹوڈنٹس کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جنہیں فوری طور پر واپس لیا جائے۔

فرانس میں کووڈ پابندیاں آج سے ہٹائی جائیں گی

0
فرانس میں کووڈ پابندیاں آج سے ہٹائی جائیں گی
فرانس میں کووڈ پابندیاں آج سے ہٹائی جائیں گی

فرانس میں وبائی مرض کورونا وائرس کی صورتحال میں بہتری، اب باہر ماسک پہننا لازمی نہیں

پیرس: فرانس میں وبائی مرض کورونا وائرس کی صورتحال میں بہتری کے باعث اس سے متعلقہ پابندیوں کو ہٹانے کا پہلا مرحلہ بدھ سے شروع ہو گیا ہے۔

اس کے تحت اب باہر ماسک پہننا لازمی نہیں ہے۔ تاہم بڑے آؤٹ ڈور اور گھریلو اجتماعات میں ابھی بھی ماسک پہننا ہوگا۔ ہفتے میں تین دن گھر سے کام کرنے کی اجازت بھی واپس لے لی گئی ہے۔

کھیل اور ثقافتی تقریبات کے لیے زائرین کی تعداد پر بھی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

اسی سلسلے میں 16 فروری سے پابندیاں ہٹانے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ اس دوران کلب، کنسرٹ ہال، اسٹیڈیم، سینما گھر اور ٹرانسپورٹ کھول دیے جائیں گے اور وہاں کھانے پینے کی اجازت ہوگی۔

عام عوام کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے: کیجریوال

0

مسٹر کیجریوال نے ایک ٹویٹ کر کے کہا ’’کورونا کے دور میں لوگوں کو بجٹ سے بہت امید تھی۔ بجٹ نے لوگوں کو مایوس کیا۔

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ اس کورونا وبا کے وقت بجٹ سے لوگوں کو بہت امید تھی، لیکن عام عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔

مسٹر کیجریوال نے ایک ٹویٹ کر کے کہا ’’کورونا کے دور میں لوگوں کو بجٹ سے بہت امید تھی۔ بجٹ نے لوگوں کو مایوس کیا۔ عام عوام کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ مہنگائی کم کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے‘‘۔

 

عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے کہا ’’کورونا سے متاثر عام لوگوں کو کوئی راحت نہیں ہے۔ صنعتکاروں کو ٹیکس میں رعایت، عوام کو نہیں۔

کسان کو ایم ایس پی کی گارنٹی نہیں۔ پہلے دو کروڑ نوکریوں کا جھوٹ بولا، اب 60 لاکھ نوکریوں کا بڑا جھوٹ۔ واہ رے مودی جی، آپ نے وندے بھارت کے نام پر 400 ٹرینیں سرمایہ داروں کو دے کر ’دھندے بھارت‘ کر دی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ’درگتی‘ کے بعد اب ’پی ایم گتی شکتی مشن‘ شروع ہوگا۔ بجٹ کی دستیابی ملک کے سرکاری اثاثوں کی فروخت ہے۔ سپوت جائیداد بڑھاتے ہیں، کپوت جائیداد بیچتے ہیں‘‘۔