پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 258

یوکرین پر روسی حملے، 5 افراد ہلاک، شہریوں کی جنگ نہ لڑنے اور ملک چھوڑنے کی کوشش، امریکہ سے امداد کا مطالبہ

0
یوکرین پر روسی حملے، 5 افراد ہلاک، شہریوں کی جنگ نہ لڑنے اور ملک چھوڑنے کی کوشش، امریکہ سے امداد کا مطالبہ
یوکرین پر روسی حملے، 5 افراد ہلاک، شہریوں کی جنگ نہ لڑنے اور ملک چھوڑنے کی کوشش، امریکہ سے امداد کا مطالبہ

سکریٹری جنرل ناٹو نے روسی صدر سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر نو فلائی زون کا نفاذ نہیں کرسکتے ورنہ بڑی جنگ ہو جائے گی

کیف: جنگ زدہ ملک یوکرین کے شہر چرنی ہیو میں روسی حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ماریوپول تھیٹر پر حملے میں کئی افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

وہیں یوکرین کے شہریوں نے جنگ لڑنے سے گریز کرتے ہوئے ہر ممکن طریقے سے ملک چھوڑنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹوں کے مطابق بچوں کے کپڑوں کے ڈبے میں چھپ کر مالدوا جانے والا ایک یوکرین کے شہری حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پکڑے گئے شخص کی گاڑی بیوی چلا رہی تھی، جبکہ 2 بچے بھی گاڑی میں موجود تھے۔ میڈیا رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے مرد کو ڈبے میں سے نکال کر واپس بھیج دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز یوکرین کے شہر چرنی ہیو میں روسی فوج کے حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ماریوپول تھیٹر پر حملے میں کئی افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

زیلنسکی کا امریکہ سے امداد کا مطالبہ

جنگ کے بعد یوکرین کے صدر نے ملکی صورتحال نائن الیون اور پرل ہاربر جیسی کہہ کر امریکی کانگریس سے امداد مانگ لی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئے 8 سو ملین ڈالر مزید امداد کا اعلان کرتے ہوئے روس کے صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ جو بائیڈن کے بیان پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے دنیا پر غلبہ کی کوشش اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔

پیوٹن نے اپنے شہریوں کو ملک کے غداروں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ روس کو تباہ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین میں آپریشن جاری رہے گا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق روس نے یوکرین کے فوج پر زہریلے ہتھیاروں سے حملہ کرکے روس کو بدنام کرنے کی سازش کا دعویٰ کیا ہے۔

قبل ازیں سکریٹری جنرل ناٹو نے روسی صدر سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر نو فلائی زون کا نفاذ نہیں کرسکتے ورنہ بڑی جنگ ہو جائے گی۔

بھگونت مان نے پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے کا لیا حلف

0
بھگونت مان نے پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے کا لیا حلف
بھگونت مان نے پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے کا لیا حلف

بھگونت مان نے کہا، ’’آپ لوگوں نے جتنا پیار دیا اس کے لئے وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔ آپ لوگوں نے پیار دیا، ساتھ دیا اور اب حکومت آپ کی ہے اور آپ سب کو ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘

کھٹکرکلاں: پنجاب کے لیفٹننٹ گورنر بی ایل پروہت نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے ریاستی صدر بھگونت مان کو آج شہید اعظم بھگت سنگھ کے آبائی ضلع پر وزیر اعلی کے عہدے کا حلف دلایا۔

مسٹر مان نے حلف دلانے کے بعد کہا کہ اس سے پہلے حلف برداری کی تقریب کرکٹ اسٹیڈیم، راج بھون میں ہوتا تھا لیکن یہاں آنے کی خاص وجہ یہ تھی کہ جنہوں نے اپنا سب کچھ نچھاور کر کے اس ملک کو آزاد کرایا، انہیں دل سے یاد تو کیا جائے۔ شہید بھگت سنگھ کے آزادی کے خواب کو گھر گھر تک پہنچانے کا عزم لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، ’’آپ لوگوں نے جتنا پیار دیا اس کے لئے وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔ آپ لوگوں نے پیار دیا، ساتھ دیا اور اب حکومت آپ کی ہے اور آپ سب کو ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ وقت کسی کی مذمت کرنے کا نہیں۔ کسی کو اقتدار کا تکبر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ تکبر آدمی کو گراتا ہے۔ جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا یا نہ دیا، میں ان کا بھی وزیر اعلی ہوں۔ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں عوام کو اپنے حساب سے فیصلہ کرنے کا حق ہوتا ہے۔ ہمیں جنہوں نے گالیاں دیں، برا بھلا کہا، ہم نے انہیں بھی معاف کیا، وقت بہت بڑی طاقت ہے۔‘‘

لکھیم پور کھیری تشدد کے کلیدی ملزم آشیش کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا اترپردیش حکومت کو نوٹس

0
لکھیم پور کھیری تشدد کے کلیدی ملزم آشیش کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا اترپردیش حکومت کو نوٹس
لکھیم پور کھیری تشدد کے کلیدی ملزم آشیش کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا اترپردیش حکومت کو نوٹس

لکھیم پور کھیری تشدد کیس میں گواہوں پر مبینہ حملے کی شکایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا

نئی دہلی: لکھیم پورکھیری تشدد معاملے میں گواہوں پر مبینہ حملہ کی شکایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔

عدالت عظمیٰ نے کلیدی ملزم آشیش مشرا کو الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ملی ضمانت کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کے بعد نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بینچ نے متوفی کسانوں کے اہل خانہ کی جانب سے کلیدی ملزم آشیش مشرا کی ضمانت مسترد کرنے کی اسپیشل لیوپٹیشن پر شنوائی کے بعد حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کے گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنا نے کی ریاستی سرکار کو ہدایت دی ۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی شنوائی 24 مارچ کو کرے گا۔

عرضی گزار- متوفی کسانوں کے اہلخانہ کے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ اتر پردیش میں لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کے ایک گواہ پر گزشتہ جمعرات کی شب کو حملہ کیا گیا تھا۔ عرضی ت گزاروں کا یہ بھی الزام ہے کہ ملزمان کی جانب سے گواہوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ گواہوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت کی واپسی کے بعد ملزمین کی جانب سے دھمکیاں

جلد سماعت کی استدعا کرتے ہوئے مسٹر بھوشن نے الزام کیا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی واپسی کے بعد ملزمین کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

مسٹر بھوشن نے کہا کہ ایسی صورت حال میں گواہوں اور عرضی گزاروں کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔ کلیدی ملزم آشیش کے علاوہ دیگر ملزمین بھی الہ آباد ہائی کورٹ میں ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر مملکت اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش کو الہ آباد ہائی کورٹ نے 10 فروری کو ضمانت دی تھی۔

کسانوں کے اہلخانہ کی جانب سے مسٹر بھوشن نے آشیش کی ضمانت کو مسترد کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ مسٹر بھوشن نے 4، 11 اور 15 مارچ کو عرضی پر جلد شنوائی کرنے کی استدعا کی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے اس معاملے کو مناسب بینچ کے روبرو شنوائی کی ہدایت دی تھی۔

متوفی کسانوں کے اہلخانہ کی قیادت کر رہے جگجیت سنگھ کی طرف سے ایڈوکیٹ مسٹربھوشن نے فروری میں اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی تھی ۔ عرضی گزار نےالہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آشیش کو ضمانت دینے کو قانونی عمل اور انصاف کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
مسٹر بھوشن سے کچھ دن پہلے ایڈوکیٹ سی ایس پانڈا اور شیو کمار ترپاٹھی نے بھی آشیش کی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی تھی۔

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں گزشتہ سال 3 اکتوبر کو مبینہ طور پرآشیش کی کارنے چار کسانوں کو کچل دیا تھا ۔ اس کے بعد بھرکے تشدد میں بی جے پی کے دو کارکنوں کے علاوہ کار ڈرائیور اور ایک صحافی کی موت ہو گئی تھی۔

مسلم ممالک میں روزی روٹی کمانے والے ہندوؤں کے بارے میں کبھی سوچا ہے کیا؟: دگوجے

0
مسلم ممالک میں روزی روٹی کمانے والے ہندوؤں کے بارے میں کبھی سوچا ہے کیا؟: دگوجے
مسلم ممالک میں روزی روٹی کمانے والے ہندوؤں کے بارے میں کبھی سوچا ہے کیا؟: دگوجے

دگ وجے سنگھ نے ‘دی کشمیر فائلز’ کے بہانے بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نفرت سے بدامنی پھیلتی ہے اور ہندو مسلم ممالک میں روزی کما رہے ہیں، کیا آپ نے کبھی ان کے بارے میں سوچا ہے؟

بھوپال: کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے آج فلم ’دی کشمیر فائلس‘ کے بہانے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ نفرت سے بدامنی پھیلتی ہے اور ہندو مسلم ممالک میں روزی روٹی کما رہے ہیں، کبھی ان کے بارے میں سوچا ہے کیا؟

اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ جب کشمیری پنڈتوں کی مہاجرت ہوئی تو اس وقت کانگریس اپوزیشن میں تھی۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی جنتا دل حکومت کو بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ مفتی محمد سعید صاحب وزیر داخلہ تھے۔ جگموہن گورنر تھے۔ پھر آپ کانگریس کو کیوں کوس رہے ہیں؟

بعد ازاں انہوں نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا، ’کیونکہ بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کانگریس سے ڈرتے ہیں۔ مقصد صرف اور صرف ملک میں نفرت پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینکنا ہے۔ نفرت سے تشدد پنپتا ہے اور ملک میں بدامنی پھیلتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی ان ہندوؤں کے بارے میں سوچا جو مسلم ممالک میں اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں‘؟

کیرالہ: کے ایس یو کی خاتون لیڈر کو ایس ایف آئی کارکنوں نے بے دردی سے پیٹا

0
کیرالہ: کے ایس یو کی خاتون لیڈر کو ایس ایف آئی کارکنوں نے بے دردی سے پیٹا
کیرالہ: کے ایس یو کی خاتون لیڈر کو ایس ایف آئی کارکنوں نے بے دردی سے پیٹا

ایس ایف آئی کے مرد کارکنوں نے ترواننت پورم لاء کالج کیمپس میں کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) کی ایک خاتون لیڈر کو بے دردی سے پیٹا، اس کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا

ترواننت پورم: اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے مرد کارکنوں کے ایک گروپ نے منگل کی رات ترواننت پورم لاء کالج کیمپس میں کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) کی ایک خاتون لیڈر کو بے دردی سے پیٹا۔

پولیس نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔ پولیس نے کہا کہ کے ایس یو کے لاء کالج یونٹ کی صدر صفنا کو طلباء کے ایک گروپ نے مارا پیٹا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔

حملے میں تین دیگر طالب علم بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کیمپس میں کالج یونین کے انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے کچھ پرتشدد واقعات کے فوراً بعد ہی کشیدگی پھیل گئی ہے۔

سری نگر تصادم: نامعلوم دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری

0
سری نگر تصادم: نامعلوم دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری
سری نگر تصادم: نامعلوم دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری

ایک پولیس ترجمان نے کہا کہ سری نگر کے نوگام علاقے میں تصادم آرائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ہے، جس کی شناخت فی الوقت معلوم نہیں ہوئی ہے

سری نگر: سری نگر کے نوگام علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم آرائی میں ایک عدم شناخت دہشت گرد مارا گیا، جبکہ آپریشن ہنوز جاری ہے۔

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ محاصرے میں کھنموہ علاقے میں سمیر بٹ نامی سرپنچ کی ہلاکت میں ملوث لشکر طیبہ سے وابستہ جنگجو بھی پھنسا ہوا ہے۔

ایک پولیس ترجمان نے کہا کہ نوگام میں تصادم آرائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ہے، جس کی شناخت فی الوقت معلوم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں آپریشن ہنوز جاری ہے۔

قبل ازیں ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے چھپنے کی اطلاع موصول ہونے پر سیکورٹی فورسز نے نوگام علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جوں ہی سیکورٹی فورسز کی ایک پارٹی نے مشکوک مقام کو گھیرے میں لے کر تلاشی آپریشن تیز کر دیا تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔

دریں اثنا ریل حکام نے اس تصادم آرائی کے پیش نظر بانہال – بارہمولہ ریل سروس کو بدھ کے روز احتیاطی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔

تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

0
تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ
تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

کرناٹک ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا اسلام کے تحت ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے۔ اسکول کے یونیفارم پر طلبہ و طالبات اعتراض نہیں کر سکتے اور ریاستی حکومت کے پاس اس بابت حکم جاری کرنے کا حق ہے

بنگلور: کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو مسلم طالبات کی جانب سے دائر ‘ان تمام عرضیوں کو خارج کر دیا، جن میں درسگاہ (کلاس) کے دوران تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عدالت عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کی جانب سے حجاب پہننا اسلام کے تحت ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے اور اسکول کے یونیفارم کا نفاذ محض ایک مناسب نظم ہے، جس پر طلبہ و طالبات اعتراض نہیں کر سکتے۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت کے پاس اس بابت حکم جاری کرنے کا حق ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رِتوراج اَوَستھی، جسٹس کرشنا ایس دیکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس بابت شنوائی کے 11 ویں دن، 25 فروری کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

قبل ازیں بنچ نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا، جس میں طلبہ و طالبات کو نافذ شدہ ’ڈریس کوڈ‘ والے کالجوں میں کلاسز (درسگاہ) میں حصہ لینے کے دوران حجاب، بھگوا شال یا کسی بھی مذہبی جھنڈے کا استعمال نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جنوری میں کرناٹک میں اڈوپی واقع ایک سرکاری کالج کی کچھ مسلم طالبات حجاب پہنچ کر کالج پہنچی تھیں، لیکن انھیں کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ اس دوران مسلم طالبات نے استدلال کیا کہ حجاب ان کے تہذیب و مذہب کا حصہ (جزء لا ینفک) ہے۔

اس معاملے کو شنوائی کے لیے پہلے جسٹس کرشن ایس دیکشت کی واحد رکنی بنچ کے سامنے فہرست بند کیا گیا تھا اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے اسے بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا تھا کہ اس میں ’بنیادی اہمیت کے سوال‘ شامل ہیں۔

حجاب پہننے کا حق آئین کی دفعہ 19 (1) (اے) کے تحت نہیں رکھا جا سکتا

اس معاملے میں مدعی علیہ یعنی ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ حجاب پہننا ‘اسلام کی ضروری مذہبی روایت کے تحت نہیں آتا ہے اور حجاب پہننے کا حق آئین کی دفعہ 19 (1) (اے) کے تحت ملی اظہارِ خیال کی’ آزادی‘ کے تحت نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

عدالت میں شنوائی کے دوران ریاستی حکومت نے یہ بھی دلیل دی کہ اس کا پانچ فروری کا حکم ایجوکیشن ایکٹ (تعلیم کے قانون) کے مطابق ہے اور حجاب پہننا عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کی جانب سے متعین کردہ آئینی اخلاقیات اور شخصی وقار کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا ہے۔

وہیں کالج اور اساتذہ نے دلیل دی کہ طلبہ کو ڈسپلن (نظم و ضبط) اور عوامی نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے متعینہ یونیفارم اختیار کرنے کے ضابطے پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

ادھر، عرضی گذاروں نے جنوبی افریقہ کے آئینی عدالت کے ایک فیصلے کا ذکر کیا جس میں عدالت نے جنوبی ہند کی ایک ہندو لڑکی کے اسکول میں نَتھ پہننے کے حق کو برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے پانچ فروری کے سرکاری حکم نامے کو بھی چیلنج کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر مسلم برادری کو ہدف بنایا گیا تھا۔

اس درمیان تنازعہ پر عدالت کے فیصلے کے پیش نظر پولیس نے منگل کو 21 مارچ تک بنگلور شہر اور کرناٹک کے کئی حصوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔

حجاب کا فیصلہ: کرناٹک میں 21 مارچ تک دفعہ 144 نافذ

0
حجاب کا فیصلہ: کرناٹک میں 21 مارچ تک دفعہ 144 نافذ
حجاب کا فیصلہ: کرناٹک میں 21 مارچ تک دفعہ 144 نافذ

کرناٹک ہائی کورٹ آج مسلم طالبات کی طرف سے ریاست کے کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی

بنگلور: کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کے مسئلے پر ہائی کورٹ کے آنے والے فیصلے کے پیش نظر پولیس نے بنگلور شہر اور کرناٹک کے کئی حصوں میں منگل سے 21 مارچ تک دفعہ 144 ( امتناعی احکام) نافذ کر دی ہے۔

ہائی کورٹ آج مسلم طالبات کی طرف سے ریاست کے کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشٹ اور جسٹس جے ایم قاضی کی تین رکنی بنچ فیصلہ سنائے گی۔

اس معاملے میں بنچ کے سامنے 11 دن تک سماعت کے بعد عدالت نے 25 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

بنچ نے سماعت کے پہلے ہی دن ایک عبوری حکم جاری کیا تھا، جس میں طالبات کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حجاب یا زعفرانی شال نہ پہنیں اور مقررہ یونیفارم کے ساتھ کالجوں کی کلاسوں میں شرکت کے دوران کوئی مذہبی پرچم استعمال نہ کریں۔

روس کے نائب وزیر دفاع سمیت 11 افراد پر امریکہ نے لگائی پابندیاں

0
روس کے نائب وزیر دفاع سمیت 11 افراد پر امریکہ نے لگائی پابندیاں
روس کے نائب وزیر دفاع سمیت 11 افراد پر امریکہ نے لگائی پابندیاں

امریکہ نے یہ کارروائی یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے سلسلے میں کی ہے، امریکی محکمہ خارجہ نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے اس بارے میں اطلاع دی ہے

واشنگٹن: امریکہ نے روس کے وزرائے دفاع، نیشنل گارڈ کے ڈائریکٹر وکٹر ولوتوف، ملٹری ٹیکنیکل کوآپریشن کے ڈائریکٹر دیمتری شوگیف اور روزو بورون ایکسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل الیگزینڈر میخائف پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکہ نے یہ کارروائی یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے سلسلے میں کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک پریس ریلیز جاری کر کے اس بارے میں اطلاع دی ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ فہرست میں روسی نائب وزرائے دفاع میں الیکسی کریووروچکو، ٹیمورایوانوف، یونس بیک یوکوروف، دیمتری بلگاکوف، یوری سادوینکوف، نکول پانکوف، رسلان تسالکوف اور گینڈی زیڈکوف شامل ہیں۔

مرکزی حکومت نے سکھ ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران کرپان پہننے کی دی اجازت

0

چند روز قبل امرتسر کے شری گورو رام داس جی ایئرپورٹ پر ایک سکھ ملازم کو کرپان پہننے کے سبب ڈیوٹی کرنے سے روک دیا گیا تھا، اس واقعے کے بعد سکھ تنظیموں نے احتجاج کیا تھا

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ہوا بازی کے ضابطوں میں ترمیم کرتے ہوئے سکھ ملازمین کو کرپان پہننے کی اجازت دے دی ہے۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینئر رکن منجندر سنگھ سرسا نے حکومت کے اس فیصلے کی اطلاع دی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔

مسٹر سرسا نے ٹوئٹر پر بیورو آف سول ایوی ایشن سکیورٹی کے ضابطوں میں کی گئی تبدیلیوں کی اطلاع فراہم کرتے ہوئے ’’پہلے ضابطوں کے مطابق سکھ ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران کرپان پہننے کی اجازت نہیں تھی اور اب ان ضابطوں میں ترمیم کی گئی ہے‘‘۔

سکھوں کو کرپان پہننے سے روکنے والے ضابطوں کے سلسلے میں سکھ رہنماؤں کے اعتراض کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نئی تبدیلیوں کے بعد اب ایئرپورٹ ٹرمینلز، قومی اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے سکھ ملازمین یا افسران کو کرپان پہننے سے نہیں روکا جائے گا۔

چند روز قبل امرتسر کے شری گورو رام داس جی ایئرپورٹ پر ایک سکھ ملازم کو کرپان پہننے کے سبب ڈیوٹی کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سکھ تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔

شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر ہرجیندر سنگھ دھامی نے اس سلسلے میں وزیر برائے ہوا بازی جیوترادتیہ سندھیا کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ کرپان سکھ برادری کی مذہبی علامت ہے، اس کی تیز نوک کی لمبائی چھ انچ سے زیادہ نہیں ہوتی۔

ائیر انڈیا نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ’’کرپان سکھ برادری کی مذہبی علامت ہے اور ہندوستان میں رجسٹرڈ ہوائی جہازوں میں سکھوں کو کرپان لے جانے کی اجازت ہندوستانی قانون میں دی گئی ہے۔