پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 257

مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا، یوکرین سے لائے گئے طلباء کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے

0
مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا، یوکرین سے لائے گئے طلباء کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے
مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا، یوکرین سے لائے گئے طلباء کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے

سپریم کورٹ نے 4 مارچ کو مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ وہ یوکرین میں پھنسے شہریوں کے خدشات پر غور کرے، مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا، یوکرین سے واپس لائے گئے طلباء کے مستقبل کی تعلیم جاری رکھنے کے متبادل پر غور کر رہی ہے

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے پیر کے روز سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ جنگ زدہ یوکرین سے ’آپریشن گنگا‘ کے تحت واپس لائے گئے تقریباً 22,500 میڈیکل طلباء کے مستقبل کی تعلیم جاری رکھنے کے متبادل پر غور کر رہی ہے۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال اوردیگر فریقین کے دلائل سننے کے بعد یوکرین سے طلباء کو وطن واپس لانے اور ان کی مستقبل کی تعلیم کے سلسلے میں ظاہر کردہ خدشات سے متعلق دو عرضیوں کو نمٹا دیا۔

مسٹر وینوگوپال نے بینچ کو بتایا کہ حکومت نے 22,500 طلباء کو واپس لانے کا ایک بہت بڑا کام مکمل کرلیا ہے اور اب وہ ان کے مستقبل کی تعلیم سے متعلق خدشات کو دور کرنے کی کوشش پر غور کر رہی ہے۔

عرضی گزار وکیل وشال تیواری نے بینچ کے رو برو استدعا کی تھی کہ طلباء کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اور انہیں یہاں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

مسٹر تیواری کے علاوہ یوکرین کے اوڈیسا میں نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ آہانہ نے یوکرین سے ہندوستانی طلباء کو نکالنے کے لیے مرکزی حکومت کو ضروری ہدایات جاری کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 4 مارچ کو مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ وہ یوکرین میں پھنسے شہریوں کے خدشات پر غور کرے۔ مرکزی حکومت نے یوکرین کی مختلف یونیورسٹیوں سے طلباء کو واپس لانے کے لیے ’آپریشن گنگا‘ شروع کیا تھا۔

وزارت خارجہ نے پہلے کہا تھا کہ یوکرین اور پڑوسی ممالک پولینڈ، جمہوریہ سلواکیہ، ہنگری، رومانیہ اور مالڈووا میں سفارت خانے کے افسروں نے 26 فروری کو شروع کئے گئے ’آپریشن گنگا‘ کے تحت ہندوستانی شہریوں کو نکالنے میں روسی زبان بولنے والے افسروں کے ساتھ کوششیں کی تھیں۔

کورونا کی وجہ سے فوج میں بھرتی کا عمل متاثر: وزارت دفاع

0
کورونا کی وجہ سے فوج میں بھرتی کا عمل متاثر: وزارت دفاع
کورونا کی وجہ سے فوج میں بھرتی کا عمل متاثر: وزارت دفاع

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھرتی کے معاملے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال فورسز کی طرف سے 90 سے 100 بھرتی ریلیوں کا نظم کیا جاتا ہے۔

نئی دہلی: حکومت نے آج کہا کہ کووڈ کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے سال 2020 اور 2021 میں مسلح فوج میں بھرتی کا عمل متاثر ہوا ہے۔

وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ نے پیر کو راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے بھرتی ریلیوں کا انعقاد متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی ایک بڑی تعداد بھرتی ریلیوں میں حصہ لیتی ہے اس لیے کووڈ کی وجہ سے پچھلے سالوں کی طرح ان کا انعقاد نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایئر فورس اور نیوی میں آن لائن بھرتی کا عمل جاری ہے اور بڑی تعداد میں افسران کو بھرتی کیا گیا ہے۔

جب ان سے مسلح افواج میں خواتین کے جنگی کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کہیں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور جہاں کچھ سوالات ہیں ان کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھرتی کے معاملے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال فورسز کی طرف سے 90 سے 100 بھرتی ریلیوں کا نظم کیا جاتا ہے۔ اس میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ملک کا کوئی بھی ضلع اس سے اچھوت نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور ایک ریلی میں کم از کم 6 سے 8 اضلاع کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

جب مسلح افواج میں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افسران کے اعداد و شمار کے بارے میں پوچھا گیا تو مسٹر بھٹ نے کہا کہ ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم مودی کی دعوت پر 2 اپریل سے ہندوستان کے دورے پر

0

وزیر اعظم کے دفتر سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی دعوت پر 2 اپریل کو ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں

یروشلم؍ نئی دہلی: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 2 اپریل سے ہندوستان کے دورے پر آئیں گے۔

وزیر اعظم کے دفتر سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی دعوت پر 2 اپریل کو ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی ٹویٹ کیا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر اپنے پہلے سرکاری دورے پر ہندوستان کا دورہ کرنے کے لئے بہت پرجوش ہوں۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے قیام کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر ہوگا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ 2 اپریل 2022 سے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہندوستان کے دورے پر ہوں گے۔

اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے گزشتہ سال اکتوبر میں گلاسگو میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔ اس دوران مسٹر مودی نے اسرائیل کے وزیر اعظم کو ہندوستان کے سرکاری دورے پر آنے کی دعوت دی تھی۔

نفتالی بینیٹ ہند میں یہودی برادری کے ارکان سے بھی کریں گے ملاقات

اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانا ہے اور اس دورے کا اہتمام دونوں ممالک کے درمیان 30 سالہ تعلقات کی یاد میں کیا گیا ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنما جدت، معیشت، ترقی اور تحقیق، زراعت اور دیگر بہت سے متعلقہ شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر بات کریں گے۔ دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم مسٹر مودی کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور ملک میں یہودی برادری کے ارکان سے ملاقات کریں گے۔

مسٹر بینیٹ کے حوالے سے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی نے ہند ۔ اسرائیل تعلقات کو دوبارہ شروع کیا جو تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ دو بالکل مختلف ثقافتوں کا تعلق ہے، خواہ ہندوستانی ہو یا اسرائیلی، دونوں کی جڑیں گہری ہیں اور دونوں بامعنی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم ہندوستانیوں سے سیکھ سکتے ہیں اور ہم اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ہم مل کر اختراع اور ٹیکنالوجی، سیکورٹی اور سائبر کے ساتھ ساتھ زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔

این بیرن سنگھ ایک بار پھر بنیں گے منی پور کے وزیر اعلیٰ

0

مسٹر بیرن سنگھ کو منی پور میں وزیر اعلیٰ کے طور پر دوسری میعاد ملنے کے ساتھ ہی محترمہ سیتا رمن نے ایک گلدستہ پیش کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی

امپھال: نونگ تھومبم بیرن سنگھ کو اتوار کو متفقہ طور پر دوسری بار منی پور بھارتیہ جنتا پارٹی لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔

بی جے پی کی مرکزی مشاہد اور مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یہاں پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں پارٹی قانون سازوں کی میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیا۔

حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد نگراں وزیر اعلی کے طور پر خدمات انجام دینے والے مسٹر سنگھ نے اس شمال مشرقی ریاست میں پہلی بار مکمل اکثریت کے لئے بی جے پی کی قیادت کی۔ وہ سال 2017 میں منی پور میں بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔

بطور سابق صحافی اور فٹ بالر مسٹر سنگھ کو منی پور میں وزیر اعلیٰ کے طور پر دوسری میعاد ملنے کے ساتھ ہی محترمہ سیتا رمن نے ایک گلدستہ پیش کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔

اس عہدے کے مضبوط دعویدار ٹی بسواجیت نے بھی بی جے پی کے دیگر ایم ایل ایز کے ساتھ مسٹر سنگھ کو مبارکباد دی۔ 10 مارچ کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد، بی جے پی کو اندرونی اختلافات دور کرنے کے لیے بظاہر وزیر اعلی کے اعلان میں دس دن کی تاخیر کرنی پڑی۔

بی جے پی حکومت کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے ہمت دکھانی ہوگی: راوت

0
بی جے پی حکومت کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے ہمت دکھانی ہوگی: راوت
بی جے پی حکومت کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے ہمت دکھانی ہوگی: راوت

کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت نے کہا ہے کہ پنڈتوں کا قتل عام ہوا ہے، ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے ہمت دکھانی ہوگی

دہرادون: فلم ’دی کشمیر فائلز‘ پر سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت نے کہا ہے کہ پنڈتوں کا قتل عام ہوا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے ہمت دکھانی ہوگی۔

مسٹر راوت نے ہفتہ کو کہا کہ سال 1990 میں کشمیر میں وحشیانہ مظالم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ جس طرح کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر قتل کیا گیا، ان کا قتل عام کیا گیا، خواتین پر ظلم کیا گیا، انہیں اپنا گھر بار اور گاؤں چھوڑنا پڑا، اپنی سرزمین چھوڑنی پڑی جس کی یادیں آج بھی ان کے ذہنوں میں نقش ہیں۔ ’دی کشمیر فائلز‘ اس کی ایک سازش ہے، اس پر سیاسی تنازعہ کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس وقت پارلیمنٹ میں تھا اور ہم نے ان واقعات کو مسلسل اٹھایا۔ اس وقت کے گورنر جگموہن کی غلط پالیسیوں، اس وقت کی مرکزی حکومت جس میں مفتی محمد سعید وزیر داخلہ تھے، ان کی تاریخی غلطیوں پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ سخت گیر دہشت گردوں کو رہا کر دیا گیا۔

سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے اپیل کی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ سمیت کشمیر کی قوم پرست قیادت کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس کے لیے ماحول پیدا کریں اور کشمیری پنڈت بھائیوں کو کشمیر واپس آنے کی ترغیب دیں، ان کی جائیدادیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

یوکرین: میکولائیو میں فوجی بیرکس پر روسی حملے میں درجنوں یوکرینی فوجی ہلاک

0

یوکرین کے جنوبی شہر میکولائیو میں فوجی بیرکس میں 200 فوجی موجود تھے، روس کی جانب سے ہونے والے تازہ حملے میں کم از کم 100 فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ

کیف: یوکرین کے شہر میکولائیو میں فوجی بیرکس پر روس کے تازہ حملے میں درجنوں یوکرینی فوجی ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے جنوبی شہر میکولائیو میں فوجی بیرکس میں 200 فوجی موجود تھے، روس کی جانب سے صبح سویرے ہونے والے حملے میں کم از کم 100 فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب روس کے فوجی حکام نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں پہلی بار ہائپر سونک میزائل سے حملہ کیا گیا جس سے ایک اسلحہ ڈپو تباہ ہو گیا ہے۔

یوکرین، تائیوان کے جلو میں ویڈیو لنک پر امریکی اور چینی صدور کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

0
یوکرین، تائیوان کے جلو میں ویڈیو لنک پر امریکی اور چینی صدور کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب سے دو گھنٹے ویڈیو لنک پر بات کی جس میں جو بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر چین نے روس کا ساتھ دیا تو نہ صرف اسے امریکہ بلکہ پوری دنیا کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا

واشنگٹن/بیجنگ: امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین میں فوجی کارروائی کے معاملے پر روس کا ساتھ دیا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے جب کہ چینی صدر نے بھی جو بائیڈن کو تائیوان کے معاملے پر باز رہنے کا کہا۔

امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب سے دو گھنٹے ویڈیو لنک پر بات کی جس میں جو بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر چین نے روس کا ساتھ دیا تو نہ صرف اسے امریکہ بلکہ پوری دنیا کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ چین پر بھی پابندیاں عائد کرسکتا ہے

اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ روس کی طرح امریکہ چین پر بھی پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔

ویڈیو لنک پر بات چیت میں چینی صدر نے زور دیا کہ یوکرین کے بحران کی اصل وجہ سمجھنے کے لیے امریکہ اور ناٹو روس سے مذاکرات کریں اور روس اور یوکرین کے سکیورٹی تحفظات دور کیے جائیں۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ بلاتفریق پابندیوں سے روس میں عام عوام کو مسائل برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

چینی صدر زوردیا کہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کی جائے

صدر شی نے زوردیا کہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کی جائے جب کہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ دور سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو رکاوٹیں حائل ہیں وہ نہ صرف دور نہیں کی گئیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک ہے کہ امریکہ میں بعض افراد تائیوان میں آزادی پسند قوتوں کو غلط سگنلز دے رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان معاملے کو مناسب انداز سے حل نہ کیا گیا تو اس کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر تباہ کن اثرات ہوں گے، امریکہ چین کے اسٹریٹجک ارادوں کو غلط رنگ دے رہا ہے، اختلافات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم انہیں مینیج کرنا چاہیے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ تائیوان پر امریکہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور اس میں تبدیلی کی بہت ہی کم امید ہے۔

روسی تیل کی درآمد پر بائیڈن انتظامیہ بھارت کے رابطے میں: وائٹ ہاؤس

0
روسی تیل کی درآمد پر بائیڈن انتظامیہ بھارت کے رابطے میں: وائٹ ہاؤس
روسی تیل کی درآمد پر بائیڈن انتظامیہ بھارت کے رابطے میں: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی سے جمعہ کو جب ان رپورٹوں پر امریکی ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان یوکرین جنگ پر پابندیوں کے درمیان رعایتی قیمتوں پر روسی تیل خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی پابندیوں کے درمیان بائیڈن انتظامیہ روسی خام تیل کی درآمد کے اپنے فیصلے کو واپس لینے کے لیے ہندوستانی لیڈروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی سے جمعہ کو جب ان رپورٹوں پر امریکی ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان یوکرین جنگ پر پابندیوں کے درمیان رعایتی قیمتوں پر روسی تیل خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کئی ممالک روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر متفق نہیں ہیں۔

محترمہ ساکی نے کہا ’’ٹھیک ہے، ہم نے نہیں کیا ہے جب کہ ہم نے تیل کی روسی درآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ لیا ہے۔ ہر ملک نے یہ فیصلہ نہیں لیا ہے اور ہم اسے مانتے ہیں‘‘۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یورپ سمیت کئی ممالک کے پاس روسی تیل اور گیس درآمد کرنے کی اقتصادی وجوہات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ مختلف سطحوں پر ہندوستانی لیڈروں سے رابطے میں ہے۔

جو کام آتنک وادی نہ کر سکے وہ اگنی ہوتری نے کردیا

0
جو کام آتنک وادی نہ کر سکے وہ اگنی ہوتری نے کردیا
جو کام آتنک وادی نہ کر سکے وہ اگنی ہوتری نے کردیا

کشمیر میں جو لڑائی چل رہی تھی وہ ہندوستانیت اور دہشت کے درمیان تھی، جس پر پاکستان نواز دہشت گرد ایک اسلامی تحریک کا لیبل لگانا چاہتے تھے، تاکہ مسلم ممالک میں ہمدردی کی لہر پیدا کر سکیں، اس کے باوجود۔۔۔

کشمیر کے علاحدگی پسندوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ کشمیر میں چل رہی دہشت گردانہ تحریک پر ہندو مسلم کا لیبل لگا دیا جائے لیکن کشمیر کے سیکڑوں سال پرانے کلچر اور باہمی بھائی چارے کو وہ کبھی برباد نہیں کر سکے۔ 1990ء کی دہائی میں پاکستان کے اشارے پر کشمیری پنڈتوں پر حملے کرکے انھوں نے کشمیر کے مسئلے کو ہندو مسلم قضیہ میں بدلنے کی سب سے مذموم کوشش کی تھی۔ اس وقت وادی کے مظلوم مسلمان اپنے ہندو بھائیوں پر ہو رہے مظالم کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے رہے، کیونکہ وہ تو پہلے ہی سے دہشت گردوں کے نشانے پر تھے۔ عالم یہ تھا کہ کسی بھی مسلمان کے گھر میں دہشت گرد گھس جاتے تھے اور وہاں جو لڑکی پسند آتی تھی اس سے نکاح کرنے کے لئے ماں باپ پر دباؤ ڈالتے تھے اور انکار کرنے پر گولی کا نشانہ بنا دیتے تھے۔

کوئی بھی کشمیری مسلمان ہندوستان کی حمایت میں زبان کھولے تو اس کو موت کے گھاٹ اتارتے وقت دہشت گرد ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔ دہشت گردوں کی ہندوستانی مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے چرار شریف جیسی عبادت گاہ کو جلانے میں بھی ایک پل کی تاخیر نہیں کی۔ مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں قتل کیا کہ قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے لگی۔ دہشت گردوں نے ہندوستانی افواج پر حملہ کئے تو کشمیر کی پولیس پر بھی حملے کرنے میں کوئی امتیاز نہیں کیا۔ کشمیر کی پولیس میں کام کرنے والے مسلم نو جوانوں کو مسجدوں اور گھروں کے قریب گھیر گھیر کر مارا، مسلمان پولیس والوں کا خون بہاتے وقت دہشت گردوں کو نہ تو اسلام کا خیال آیا اور نہ مسلمانوں کا۔

کشمیر کے لئے ہندو بھی اپنی جان دیتے رہے اور مسلمان بھی اپنا خوں لٹاتے رہے

ظاہر ہے کہ کشمیر میں جو لڑائی چل رہی تھی وہ ہندوستانیت اور دہشت کے درمیان تھی، جس پر پاکستان نواز دہشت گرد ایک اسلامی تحریک کا لیبل لگانا چاہتے تھے، تاکہ مسلم ممالک میں ہمدردی کی لہر پیدا کر سکیں۔ اس کے باوجود دہشت گرد کشمیر کی لڑائی کو ہندو مسلم قضیہ میں تبدیل نہیں کرسکے۔ کشمیر کے لئے ہندو بھی اپنی جان دیتے رہے اور مسلمان بھی اپنا خوں لٹاتے رہے۔

ہمارے جیسے مسلمانوں کے لئے تو کشمیر ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہمیشہ سے تھا۔ یہاں پر بتاتا چلوں کہ 1980ء میں (جب میں لکھنوٴ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کر رہا تھا) تو مجھے ایران کے اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر مختلف علماء، پروفیسرس اور اسٹوڈنٹس کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا۔ وہاں دنیا بھر سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ اسلامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے جشن وہاں جا بجا ہو رہے تھے۔ اسلامی انقلاب کی سالگرہ کا اختتامی جشن تہران یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔

اس میں تقاریر کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے سلسلے میں قرار داد پیش کی جا رہی تھی تو پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے میاں طفیل احمد کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ اس میں کشمیر کے مسئلے کو بھی شامل کیا جائے جس کے بعد میں کھڑا ہوگیا اور میں نے کہا کہ نہیں کشمیر اس قرار داد کا حصہ نہیں بن سکتا کیوں کہ ہم بھارت کے سات کروڑ مسلمان اپنا کشمیر پاکستان کو دینا نہیں چاہتے (اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی آبادی سات کروڑ کے قریب تھی) میری طرف سے اعتراض کئے جانے کے بعد کشمیر کا مسئلہ اس قرار داد میں شامل نہیں ہو سکا۔

ہندو مسلم منافرت پھیلانے والے "دی کشمیر فائلس”

ظاہر ہے کہ مجھ سے یہ بات نہ تو بھارت سرکار نے کہنے کے لئے کہا تھا نہ میں کسی آفیشل ڈیلی گیشن کا حصہ تھا۔ میں نے اس لئے مخالفت کی کہ مجھے لگتا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوئوں اور مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ کا ایک قضیہ ہے۔ مگر اب کشمیر فائلس نام کی ایک فلم کے ذریعہ فلمساز وویک اگنی ہوتری نے ساری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کشمیر ہندوستانیت کی دہشت گردی سے جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ہندو اور مسلم قضیہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کو ہر وہ آدمی بڑھاوا دے رہا ہے جو ہندو مسلم منافرت پھیلانے پر یقین رکھتا ہے۔

ابھی تک ہندوستانی مسلمان اور ہندوستانی ہندو کشمیر کے معاملے کو دہشت گردی سے جوڑ کر دیکھتے تھے، مگر اب اس فلم کے ذریعہ ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ جیسے کشمیر کا مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ ہے اور کشمیری پنڈتوں کو دہشت گردوں نے نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ جیسے مقامی مسلمانوں نے ان کو وادی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، جبکہ سچ تو یہ ہے دہشت گردوں نے ہندوئوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔

ہندو مسلم منافرت کی کوشش

اصل بات تو یہ ہے کہ دہشت گرد یہی چاہتے ہیں کہ دنیا کشمیر کے معاملے کو ہندو مسلم قضیہ کی طرح دیکھے۔ وہ تو یہ کام نہیں کر سکے البتہ وویک اگنی ہوتری اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں نے یہ کام بہت آسانی سے کردیا۔ ویسے میں نے یہ فلم نہیں دیکھی اور نہ دیکھوں گا کیونکہ اس فلم کی نمائش کے دوران باقاعدہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں اور اس فلم کے ذریعہ ملک میں ہندو مسلم منافرت کو فروغ دیا جا رہاہے اور چونکہ میرا تعلق اس طبقے سے ہے جو ہندو مسلم اتحاد پر یقین رکھتا ہے، تو میرے لئے ممکن نہیں کہ ایک ایسی فلم دیکھوں جو وطن کو جوڑنے نہیں توڑنے کے لئے بنائی گئی ہے۔

ہولی کے اس مبارک موقع پر آئیے ہم سب دعا کریں کہ سماج میں نفرت پھیلا کر سیاسی اور معاشی فائدے اٹھانے والوں کے منصوبے بھی ہولی کی آگ میں جل کر خاک ہوں اور ہر طرف محبت کا رنگ پھیلے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ: پیس پارٹی

0
حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ: پیس پارٹی
حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ: پیس پارٹی

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر ہندوستانی کا آئینی حق ہے اور جمہوریت میں یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا، آر ایس ایس نے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا ایشو اچھال کر مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کا کام کر رہی ہے

پرتاپ گڑھ: حجاب کی روایت ہندوستان کی ثقافت کا ایک جز ہے، قدیم زمانہ سے یہاں خواتین حجاب کا استعمال کرتی آ رہی ہیں، جس کو جمہوریت میں آئینی آزادی حاصل ہے۔ ادھر بی جے پی جب سے اقتدار پر قابض ہوئی ہے، اس نے ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقے کے مذہبی معاملے میں مداخلت کی جو سازش شروع کی ہے۔

اب جبکہ ادھر پانچ صوبوں کے انتخابات سے قبل اپنے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا معاملہ سامنے لاکر جو طول دیا ہے کہ اب اس کی افواہ پھیلا کر آئندہ 2024 کے پارلیمانی انتخاب کو متاثر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ جبکہ آئین میں سبھی کو مساوی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے پریس کو جاری ریلیز میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

حجاب کا ایشو لاکر اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام شروع

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی چار صوبوں کے اسمبلی انتخاب میں کامیابی کے بعد، ان کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ عوام کو ترقیاتی کام کے برعکس فرقہ وارانہ بنیاد پر زیادہ متاثر کیا جا سکتا ہے، جس کے لئے اس نے ابھی سے حجاب کا ایشو لاکر اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی کو معلوم ہے کہ مسلمان حجاب کے ایشو پر مشتعل ہوگا، تو اس کا فائدہ اس کو حاصل ہوگا اور پولرائزیشن کی سیاست کامیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر ہندوستانی کا آئینی حق ہے اور جمہوریت میں یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا ایشو اچھال کر مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کا کام کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوش نہیں بلکہ ہوش کے ساتھ آئینی طور پر اس کا مقابلہ کریں۔ جمہوریت میں قانون سب سے اعلی ہے اور اس کے استعمال کی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی آئین اجازت نہیں دیتا۔ بی جے پی اب صرف حجاب کے سہارے 2024 کے پارلیمانی انتخاب کو متاثر کرنا چاہتی ہے۔ پیس پارٹی آئینی حقوق کے لئے سپرم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔