اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 252

قومی سطح پر عام ہڑتال، بینک خدمات متاثر، چار لاکھ بینک ملازمین نے لیا حصہ

0
قومی سطح پر عام ہڑتال، بینک خدمات متاثر، چار لاکھ بینک ملازمین نے لیا حصہ
قومی سطح پر عام ہڑتال، بینک خدمات متاثر، چار لاکھ بینک ملازمین نے لیا حصہ

مرکزی حکومت کی مخالف عوام معاشی پالیسیوں اور مخالف مزدور پالیسیوں کے خلاف عام ہڑتال میں عوامی شعبہ کے بینکس، پرائیویٹ بینکس، فارین بینکس، ریجنل رورل بینکس اور کواپریٹیو بینکس نے حصہ لیا

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی مخالف عوام معاشی پالیسیوں اور مخالف مزدور پالیسیوں کے خلاف سنٹرل ٹریڈ یونینس (سی ٹی یوز) اور بیشتر آزادانہ ٹریڈ یونینس کی جانب سے کی گئی مشترکہ اپیل پر تقریبا چار لاکھ بینک ملازمین نے دوسرے دن بھی مخالف ملک عام ہڑتال میں حصہ لیا۔

آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) نے اس ہڑتال کی حمایت کا فیصلہ کیا اور بینکنگ شعبہ کے مطالبات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس ہڑتال میں شمولیت اختیار کی۔ اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکس، پرائیویٹ بینکس، فارین بینکس، ریجنل رورل بینکس اور کواپریٹیو بینکس نے اس ہڑتال میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ اطلاع کے مطابق سدرن گرڈ جو چینئی سے کام کرتا ہے، متاثر رہا اور آج تقریبا 6 لاکھ چیکس جن کی مالیت 5000 کروڑ روپے ہے کلیر نہیں کئے جاسکے، کیونکہ بینکس کی برانچس ہڑتال کی وجہ سے کام نہیں کر پائیں۔ قومی سطح پر تقریبا 20 لاکھ چیکس جن کی مالیت 18000 کروڑ روپئے ہے بھی کلیر نہیں ہوسکے۔

قومی سطح پر بینک خدمات متاثر

انہوں نے دعوی کیا کہ قومی سطح پر بینک خدمات متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی آزادانہ معاشی پالیسیوں کے نام پر مرکزی حکومت ایسی پالیسیوں کو نافذ کررہی ہے جس سے امیر افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور عام غریب آدمی اس سے متاثر ہورہا ہے۔

انہوں نے کارپوریٹس کو دی گئی رعایتوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کارپوریٹس کو رعایتیں دی جارہی ہیں۔ تاہم عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ کورونا کے وقت میں حکومت نے امیر طبقہ کو کئی طرح کی رعایتیں دیں اور غریبوں کو ان کی ملازمتوں اور ذریعہ معاش سے محروم کیا گیا۔ معیشت کی سست روی جاری ہے تاہم اس کو صحیح سمت لانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ سرمایہ نکاسی، نجی کاری پالیسی کا اہم حصہ بن گئے ہیں، جس کے ذریعہ ہر عوامی شعبہ کی نجی کاری ہو رہی ہے اور اس کو پرائیویٹ شعبہ کے حوالے کیا جارہا ہے۔

عوامی شعبہ کے بینکس کو مستحکم کرنے کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ بینکنگ شعبہ میں بھی اصلاحات کے نام پر کئی بینکس کو ضم کیا جارہا ہے، ان کی نجی کاری کی جا رہی ہے۔ بینکس کے پاس فی الحال 162 کروڑ روپئے عوامی رقومات، ڈپازٹس کی شکل میں ہیں۔ عوام کی اس بچت کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دہائی میں ہم نے پرائیویٹ بینکس کے غلط انتظامات کو دیکھا اور اس کے ذریعہ عوامی جمع کی ہوئی رقم سے یہ بینکس محروم رہے۔ اسی لئے عوام کے مفاد میں عوامی شعبہ کے بینکس کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینکس کے قومیانے کی وجہ سے آج دوردراز کے علاقوں میں بھی بینکس کی برانچس قائم ہیں۔ اگر بینکس کی نجی کاری کی جائے گی تو دیہی علاقوں کے بینکس کی برانچس بند ہوجائیں گی۔ پہلے ہی بینکس کے انضمام کے بعد کئی برانچس بند ہوگئی ہیں۔

یکم اپریل سے اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، عام آدمی پر ایک اور بوجھ

0
یکم اپریل سے اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، عام آدمی پر ایک اور بوجھ
یکم اپریل سے اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، عام آدمی پر ایک اور بوجھ

ملک میں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے جا رہا ہے، اس طرح عام آدمی پر ایک اور مالی بوجھ میں اضافہ ہوجائے گ

حیدرآباد: ملک میں پٹرولیم اشیا، پکوان کے لئے استعمال ہونے والے تیل، پکوان گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اب دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ اس طرح عام آدمی پر ایک اور مالی بوجھ میں اضافہ ہوجائے گا۔

تلنگانہ میں تقریبا 40 لاکھ افراد بی پی اور ذیابیطس کا شکار ہیں۔ طرز زندگی میں تبدیلی اور دیگر وجوہات کی بنا پر لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، جس کے لئے ان کو گولی کھانا لازمی ہو جاتا ہے۔ سردی، بخار کی دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہر گھر میں ماہانہ تنخواہ میں سے کچھ رقم دواؤں کے لئے مختص کی جاتی ہے۔ تاہم یکم اپریل سے دواؤں کیلئے رکھی جانے والی رقم میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا، کیونکہ یکم اپریل سے دواؤں کی قیمتوں میں 10 تا 20 فیصد کے اضافہ کا امکان ہے۔

نیشنل فارماسیوٹیکلس پرائزنگ اتھاریٹی کی طرف سے دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کی دواؤں کی کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح تقریبا 800 اقسام کی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں کے برخلاف اس مرتبہ دواؤں کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی بھی قیمت میں 10.7 فیصد کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس مرتبہ 10.7 فیصد کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ اس سے عوام پر بوجھ عائد ہوگا۔ اضافی قیمتوں کا اثر میڈیکل آلات پر بھی پڑے گا۔ تھرمامیٹر، پلس آکسی میٹر، بی پی مشینوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔

روس کے ساتھ جنگ سے یوکرین کی معیشت کو 560 ارب ڈالر کا نقصان

0
روس کے ساتھ جنگ سے یوکرین کی معیشت کو 560 ارب ڈالر کا نقصان
روس کے ساتھ جنگ سے یوکرین کی معیشت کو 560 ارب ڈالر کا نقصان

روس کے ساتھ جنگ یوکرین کی معیشت پر بھاری پڑ گئی، یوکرین کی وزارت اقتصادیات سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یوکرین کو اب تک 560 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے

کیف: یوکرین کی معیشت کو جنگ سے 560 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور آٹھ ہزار کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئی ہیں۔ نقصانات کا یہ تخمینہ وزیر معیشت نے جاری کیا ہے۔

روس کے ساتھ جنگ یوکرین کی معیشت پر بھاری پڑ گئی۔ یوکرین کی وزارت اقتصادیات سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یوکرین کو اب تک 560 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ روسی بمباری سے 8 ہزار کلومیٹر سڑکیں تباہ ہو گئیں اور ایک کروڑ سکوائر میٹر رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

ماریوپول شہر کی 40 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، 5 ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔ ماریوپول کے میئر نے تمام شہریوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے، کیف میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی، شہر کے اطراف روسی فوج نے گھیرا مزید تنگ کردیا۔

دریں اثنا جرمن چانسلر اولاف شولز کا کہنا ہے کہ یوروپی ممالک کو یوکرین کے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے مہاجرین کو یوروپی ممالک میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ دوسری جانب جی سیون ممالک نے روس کو گیس کے بدلے روبل میں ادائیگی سے انکار کردیا۔ کریملن کا کہنا ہے کہ جو ملک روبل میں ادائیگی نہیں کرے گا اس کی گیس روک دی جائے گی۔

روس اور یوکرین کے مذاکرات کا ایک اور دور آج ترکی کے شہر استنبول میں ہوگا۔ کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے، اس لیے صدر پیوتن اور صدر زیلنسکی کی ملاقات کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے حالات کس کروٹ بیٹھیں گے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

کرناٹک: امتحان کے دوران حجاب نہ اتارا گیا تو کی جائے گی کارروائی

0

کرناٹک کے وزیر داخلہ گیانیندر نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ تمام طالبات کو اپنے حجاب اتار کر امتحان دینا چاہیے، ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے

بنگلور: کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے پیر کے روز کہا کہ کرناٹک بورڈ ایس ایس ایل سی امتحان میں شرکت سے قبل حجاب اتارنے سے انکار کرکے ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والی طالبات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

گیانیندر نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ تمام طالبات کو اپنے حجاب اتار کر امتحان دینا چاہیے۔ ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ریاستی وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے بھی کہا کہ پولیس ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کے حکومتی حکم کی خلاف ورزی پر کارروائی کرے گی۔ ریاست بھر میں 3,440 مراکز کے 48,000 ہالوں میں 8.74 لاکھ سے زیادہ طلبہ امتحان میں شریک ہو رہے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حجاب تنازع کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ حجاب ایک ضروری مذہبی عمل نہیں ہے اور ہر کسی کو یونیفارم پہننے کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے ایس ایس ایل سی امتحان میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری مگر دنیا کو امن کی ضرورت

0
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری مگر دنیا کو امن کی ضرورت
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری مگر دنیا کو امن کی ضرورت

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے، یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی یورش ہے، جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ: جب دنیا امن چاہتی ہے، تو پھر جنگ کیوں ہو رہی ہے؟ دو عالمی جنگوں کے بعد دنیا کو محسوس ہواتھا کہ حکمراں ایسی تباہ کن جنگوں سے توبہ کر لیں گے اور دوبارہ ایسی تباہیاں نہیں ہوں گی مگر ۔۔۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی یورش ہے۔ جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ اس پرانے تصور پر بھی مہر لگاتی ہے کہ دنیا امن نہیں، جنگیں چاہتی ہے اور تاریخ بار بار اس کو دوہراتی رہی ہے۔

بظاہر دنیا میں قیام امن کے لیے عالمی اداروں کے قیام اور سرحدی حد بندی کے معاہدوں سے لے کر ممالک کے نقشوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی گئی،مگر جنگیں اور تنازعات اپنی جگہ موجود رہے۔ مشرق وسطی میں ہی دیکھیں تو یہاں یکے بعد دیگرے کبھی سچ اور کبھی جھوٹ کی بنیاد پر کئی ملکوں کو کھنڈہر بنا دیا گیا۔ کئی ملکوں میں جمہوریت کے نام پر پہلے خلفشار پیدا کیا گیا اور پھر وہاں کے منتخب حکمرانوں کو تہہ و بالا کر دیا گیا۔

یوکرین کو جنگ کے خونی پنجوں سے نہیں بچایا جا سکا

اس کے علاوہ آرمینیا، ایتھوپیا، لیبیا، یمن، شام اور اب یوکرین کو جنگ کے خونی پنجوں سے نہیں بچایا جا سکا۔ امریکہ نے 2003 میں اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر محض جھوٹے پروپیگنڈے کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کر دیا۔ پوری دنیا نے امریکی جارحیت پر اُف تک نہیں کیا۔ لاکھوں عراقی لقمہ اجل بن گئے اور دنیا یوں ہی دیکھتی رہی۔

2014 میں اسی روس نے کریمیا پر حملہ کیا۔ اس حملے کے لیے بھی اقوام متحدہ سے اجازت لینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی طرح شام میں پہلے امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے یلغار کی اور پھر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے روس نے لشکر کشی کی۔ بشار الاسد ان عرب رہنماؤں میں سرفہرست تھے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے ہی عوام پر بمباری کی۔ اب حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ روس اپنے عوام کے تحفظ کو بنیاد بنا کر یوکرین پر حملہ آور ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا کو محسوس ہوا کہ حکمراں ایسی تباہ کن جنگوں سے توبہ کر لیں گے اور دوبارہ ایسی تباہیاں نہیں ہوں گی،مگر کیا ہوا؟ چند دہائیوں کے بعد ہی دوسری جنگ عظیم کے نام سے اس سے زیادہ تباہ کن جنگ چھڑ گئی، جس نے 60 ملین انسانوں کو نگل لیا، جبکہ پہلی جنگ عظیم میں یہ تعداد 40 ملین تھی۔ اسی طرح مغربی ممالک کو لگتا تھا کہ 2 ستمبر 1945 ان کی سر زمین پر جنگ کا آخری دن تھا ، مگر24 فروری 2022 کو روس نے ایک بد صورت جنگ کی شروعات کرکے ان کی اس خوش فہمی کو مٹی میں ملادیا ہے۔

کیف کے علاوہ خارکیو اور ماریوپول جیسے شہر ملبے کا ڈھیر

یوکرین پر روس کے حملوں میں دارالحکومت کیف کے علاوہ خارکیو اور ماریوپول جیسے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں میں دنیا نے تباہی و بربادی کے جو مناظر افغانستان، عراق، شام، لیبیا، سوڈان اور بوسنیا وغیرہ میں دیکھے تھے، وہی مناظر آج یوکرین کی سرزمین پر نظر آ رہے ہیں۔

یوکرین کی جانب سے مسلسل الزام لگایا جا رہا ہے کہ روسی فوج میزائل کے ساتھ ساتھ ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے اور روسی ہتھیاروں نے عام شہریوں کی جان لی ہے۔ دوسری جانب میدان جنگ سے آنے والی خبریں بتا رہی ہیں کہ روسی فوج کو بھی بڑانقصان پہنچ رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ روس اور یوکرین کی اس جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ کیوں کہ یہ جنگ صرف دو ملکوںکا باہمی تصادم یا سب سے بڑے ملک کی خود سے چھوٹے ملک کو نگل لینے کی کوشش ہی نہیں، ایک نفسیاتی جنگ اور وقار کا مسئلہ بھی ہے۔

یہ جنگ اب دو ملکوں کی سرحدوں سےکافی آگے نکل چکی ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کے تعلقات میں بھی تلخی آ گئی ہے۔ یہی دونوں ملک دنیا کو اپنی طاقت کا احساس کرانے کے لئے کبھی کسی ملک پر چڑھائی کر دیتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے ملک یا حکمراں کے کاندھے پر رکھ کر بندوق چلاتے ہیں، لیکن یورپ کی موجودہ نسل براہ راست پہلی بار خونریزی اور تباہی کے مناظر کا خود مشاہدہ کر رہی ہے۔

روس امریکہ تعلقات ٹوٹنے کے دہانے پر

روس کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر بائیڈن کے حالیہ بیان کے حوالے سے امریکی سفیر کو طلب کر لیا۔ روس کی طرف سے کہا گیا کہ بائیڈن کی وجہ سے روس امریکہ تعلقات ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں۔ جنگ کوتقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے اور روسی فوج اب یوکرین پر قبضہ کرنے کے لیے ہائپر سونک اور کروز میزائلوں سے فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ایک طرف روسی جارحیت میں شدت آتی جا رہی ہے تو دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کے ساتھ یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر اس میں ناکامی ہوئی تو اس سے تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو روس اور یوکرین کی جنگ کے درمیان بھی یہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو پہلی جنگ عظیم اور بعد میں دوسری جنگ عظیم کا سبب بنی تھی۔ اب حالات ایسے ہیں کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری محدود جنگ کسی بھی وقت دنیا کو اپنی زد میں لے سکتی ہے۔

یہ جنگ بین الاقوامی تعلقات میں کئی تبدیلیاں لائے گی

جن مغربی ملکوں کے عوام اس جنگ کو ’ناقابلِ یقین‘ تصور کرتے ہیںاور جو جنگوں اور تنازعات کو صرف باقی دنیا میں دیکھنے کے عادی ہیں، انہیں یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ آج وہ خود اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ تقریباً 77 سال تک اپنے یہاں امن اور باقی دنیا میں جنگ و شورش دیکھنے والے یورپی عوام کے وہم و گمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ ٹیلی ویژن پر نظر آنے والے مناظر ان کے گلی محلوں میں بھی برپا ہو سکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ موجودہ جنگ ایک پر امن معاہدے کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ جنگ بین الاقوامی تعلقات میں کئی تبدیلیاں لائے گی۔

اگر آج کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی طرح دنیا وسیع پیمانے پر دو دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے اور عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف ناٹو ملکوں کے ساتھ مغربی ممالک کھل کر یوکرین کے ساتھ ہیں تو دوسری طرف جوہری طاقت روس کو چین کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی پڑوسی ملک بیلاروس، ایران اور شام نے بھی روس کی حمایت کی ہے۔

عالمی جنگ کا خطرہ

ایسی صورت میں عالمی جنگ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ وہیں روسی صدر پوتن اب یوکرین سے خالی ہاتھ لوٹنے کو تیار نہیں ہیں، جبکہ یورپی یونین اور امریکہ یوکرین کو بچانا چاہتے ہیں۔اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کس طرح دو گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہےاور آنے والے دنوں میں یہ دونوں گروپ تیسری عالمی جنگ کی وجہ بن سکتے ہیں۔اگر تیسری عالمی جنگ نہ بھی ہو تو موجودہ بحران یوکرین سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

ناٹو اتحاد کو اندیشہ ہے کہ یہ صرف ایک آغاز ہے اور وہ نہیں جانتا کہ یوکرین کے بعد روسی صدر پوتن کا منصوبہ کیا ہے؟ ایسا بھی مانا جا رہا ہے کہ روس کی نظریں سابق سوویت یونین یعنی یو ایس ایس آرمیں شامل کئی سابق ریاستوں پردوبارہ قبضہ کرنے یا انھیں واپس لینے پر مرکوزہیں۔بیلاروس اور تاجکستان میں روس کی فوجی سرگرمیاں اس امکان کو تقویت دیتی ہیں کہ پوتن کا ’روس منصوبہ‘ ابھی شروع ہوا ہے۔

روس کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

روس فی الحال یوکرین یا اس کے کچھ علاقوں پر اپنا کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ کیا لٹویا، لِتھوانیا وغیرہ اس کا اگلا نشانہ ہو سکتےہیں؟ سابق سوویت یونین کی15 سابق ریاستیں ہیں جن پرقوم پرست روسی اپنا حق سمجھتےہیں اور اپنی پچھلی ناکامیوں کے لیے مغرب کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

بہر حال، اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں امن کی باتیں محض دکھاوا ہیں،تو بیجا نہ ہوگا۔ بلکہ حالات بتاتے ہیں کہ پوری دنیا’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے فارمولے چل رہی ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور دوسرے ملکوں نے یوکرین پر حملے کی پاداش میں روس پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ مگر دنیا اگر چاہتی ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے تواسے اپنےمنافقانہ طرز عمل کوچھوڑنا ہی ہو گا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

اترپردیش: یوگی اور دیگر نو منتخب اراکین اسمبلی آج حلف لیں گے

0
اترپردیش: یوگی اور دیگر نو منتخب اراکین اسمبلی آج حلف لیں گے
اترپردیش: یوگی اور دیگر نو منتخب اراکین اسمبلی آج حلف لیں گے

حکمراں جماعت کے طور پر بی جے پی کے منتخب لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں نئی ​​حکومت کی حلف برداری کے بعد اب 18 ویں اسمبلی کی تشکیل کا باقاعدہ عمل نو منتخب اراکین کی حلف برداری اور نئے اسمبلی اسپیکر کے ساتھ ہی مکمل کیا جائے گا

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور 18 ویں اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کئے گئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو سمیت اسمبلی کے دیگر تمام نو منتخب ممبران اسمبلی آج حلف لیں گے۔

گورنر کی جانب سے نو مقرر کردہ پروٹیم اسپیکر رماپتی شاستری پیر کو اسمبلی میں یوگی اور اکھلیش سمیت تمام ممبران اسمبلی کو حلف دلائیں گے۔ اس کے بعد منگل کو پروٹیم اسپیکر شاستری اسمبلی کے اسپیکر کا انتخاب کرکے 18 ویں اسمبلی کی تشکیل کا عمل مکمل کروائیں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 403 رکنی اسمبلی کے لیے حال ہی میں ختم ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 255 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔

حکمراں جماعت کے طور پر بی جے پی کے منتخب لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں نئی ​​حکومت کی حلف برداری کے بعد اب 18 ویں اسمبلی کی تشکیل کا باقاعدہ عمل نو منتخب اراکین کی حلف برداری اور نئے اسمبلی اسپیکر کے ساتھ ہی مکمل کیا جائے گا۔

اترپردیش انتخابات میں 111 ایم ایل اے جیتنے والی ایس پی ایوان میں اہم اپوزیشن پارٹی بن گئی ہے۔ وہیں ایس پی صدر اکھلیش کو پہلے ہی اپوزیشن پارٹی کا لیڈر مقرر کیا جا چکا ہے۔

’سینٹرل ایمپلائز یونائیٹڈ فرنٹ‘ نے دی 28، 29 مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال

0

سینٹرل ایمپلائز یونائیٹڈ فرنٹ‘ کی کال پر اس ہڑتال میں بینک، ایل آئی سی، بی ایس این ایل، روڈ ویز، ٹرانسپورٹ اور بجلی سمیت کئی اداروں کے ملازمین شرکت کریں گے

بیکانیر: مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف، مرکزی مزدور تنظیموں نے 28 اور 29 مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔

’سینٹرل ایمپلائز یونائیٹڈ فرنٹ‘ کی کال پر اس ملک گیر ہڑتال میں بینک، ایل آئی سی، بی ایس این ایل، روڈ ویز، ٹرانسپورٹ اور بجلی سمیت کئی اداروں کے ملازمین شرکت کریں گے۔

یہ اطلاع دیتے ہوئے ممتاز بینک ورکر لیڈر کام وائی کے شرما یوگی، ریلوے اسٹاف لیڈر انل ویاس، آئی این ٹی یو سی لیڈر ہیمنت کیراڈو، اشوک پروہت نے مشترکہ طور پر صحافیوں کو بتایا کہ پہلے دن بند کے دوران ضلع کلکٹریٹ کے سامنے ہڑتالی اہلکاروں کی ریلی کے طور پر ضلع کلکٹر احاطے کا چکر لگاتے ہوئے وہ کلکٹریٹ پہنچیں گے اور صدر جمہوریہ کو میمورنڈم سونپیں گے۔ وہیں دوسرے دن ورکر گراؤنڈ میں جلسے کا انعقاد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اس ہڑتال میں منظم اور غیر منظم شعبے کے اہلکار زیادہ سے زیادہ تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔ ٹریڈ یونینوں نے ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 میں مجوزہ ترامیم کی بھی مخالفت کی ہے۔

اس ہڑتال  میں مشترکہ فورمس میں آئی این ٹی یو سی (انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس)، اے آئی ٹی یو سی (آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس)، ایچ ایم ایس (ہند مزدور سبھا)، سی آئی ٹی وی (سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینس )، اے آئی یو ٹی یو سی (آل انڈیا یونائیٹڈ ٹریڈ یونین سینٹر)، ٹی یو سی سی (ٹریڈ یونین کوآرڈینیشن سینٹر)، ایس ای ڈبلیو اے (سیلف ایمپلائیڈ ویمنز ایسوسی ایشن) وغیرہ شامل ہیں۔

امریکی صدر نے روسی صدر کو قصائی کہہ دیا

0
امریکی صدر نے روسی صدر کو قصائی کہہ دیا
امریکی صدر نے روسی صدر کو قصائی کہہ دیا

پولینڈ میں یوکرین کے پناہ گزینوں سے ملاقات کے بعد جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ ان کا صدر پیوتن کے بارے میں کیا خیال ہے تو بائیڈن نے کہا وہ قصائی ہے

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو قصائی قرار دے دیا۔

پولینڈ میں یوکرین کے پناہ گزینوں سے ملاقات کے بعد جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ ان کا روسی صدر پیوتن کے بارے میں کیا خیال ہے تو بائیڈن نے کہا وہ قصائی ہے۔

خیال رہے کہ اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے پولینڈ میں یوکرین کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے دوران امریکی صدر نے یوکرین کے حکام کو مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ملاقات میں امریکہ نے یوکرین کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا تھا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 50 اور 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 50 اور 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 50 اور 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری، ممبئی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 113.88 روپے اور 98.13 روپے فی لیٹر

نئی دہلی: ملک میں تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اتوار کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 50 اور 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا۔ کمپنیوں نے مسلسل تیسرے دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی یہاں پٹرول 99.11 روپے اور ڈیزل 90.42 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے، جبکہ ہفتہ کو پٹرول کی قیمت 98.61 اور ڈیزل 89.87 تھی۔

تیل کمپنیوں نے 137 دن کے استحکام کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ شروع کردیا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ چھ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

اس اضافے کی وجہ سے ممبئی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 113.88 روپے اور 98.13 روپے فی لیٹر ہو گئی ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ آرہا ہے۔ لندن برینٹ کروڈ 120.65 ڈالر فی بیرل اور یو ایس کروڈ 0.23 فیصد اضافے کے ساتھ 112.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر نئی قیمتیں روزانہ صبح 6 بجے سے لاگو ہوتی ہیں۔

آج ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کچھ یوں رہیں۔

میٹرو………..پٹرول………..ڈیزل

دہلی………..99.11……..90.42
کولکتہ………108.53……93.57
ممبئی …………113.88………98.13
چنئی ………….104.90………95.00

رام پور ہاٹ قتل عام کی سی بی آئی جانچ شروع

0

کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر سی بی آئی نے رام پور ہاٹ قتل عام کی جانچ شروع کردی ہے

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر رام پور ہاٹ قتل عام کی سی بی آئی نے جانچ شروع کردی ہے۔ سی بی آئی کے سینئر افسران کی ایک ٹیم نے بوگتوئی پور کا دورہ کیا۔

سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ فارنسک ٹیم کے اہلکار بھی تھے۔

نامعلوم افراد نے 21 مارچ کو گاؤں میں 10 گھروں کو آگ لگا دی تھی، جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

تقریباً 20 ارکان پر مشتمل سی بی آئی کی ٹیم گھر کے اندر گئی جہاں سات لوگوں کی جلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔

سی بی آئی کے سینئر افسران نے کہا کہ ہم آج سے تفتیش شروع کر رہے ہیں۔ ہمیں جنگی بنیادوں پر جانچ کرنی ہے۔

سی بی آئی کی ایک یونٹ سنٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری کے سلیوتھس نے بھی تباہ شدہ مکانات کا دورہ کیا اور نمونے اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو بیر بھوم قتل کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی اور اپنی پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کے لیے 7 اپریل کی آخری تاریخ مقرر کی۔