پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 251

پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست

0
پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست
پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم سے کسی تفصیلی وضاحت کے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 189 اور آرٹیکل 184(3) کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ظاہر نہیں ہوتا ہے

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی قیادت والی حکومت نے ہفتہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس بحال کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ یہ عرضی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے عین قبل دائر کی گئی ہے۔

روزنامہ اخبار ‘دی ایکسپریس ٹریبیون’ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ریویو پٹیشن میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ مذکورہ معاملے میں 7 اپریل کو دیے گئے اپنے حکم پر نظرثانی کرے۔ یہ حکم غلطیوں پر مبنی ہے۔ اس لیے یہ حکم واپس لیا جانا چاہئے۔

حکومت نے کہا کہ فوری طورپر اسٹے آرڈر جاری کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم سے کسی تفصیلی وضاحت کے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 189 اور آرٹیکل 184(3) کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ظاہر نہیں ہوتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ سمجھنے میں غلطی کی ہے کہ ایوان کی کارروائی کے لیے پارلیمنٹ خودمختار، بالاتر ادارہ ہے اور وہ سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کے دائرہ اختیار میں جوابدہ نہیں ہے۔ بنابریں عدالتی حکم سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام

0
نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام
نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام

ایک طبقہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ملک کو خوشحالی کے راستے پر لے جانے کی سوچ رکھنے والے بہت بڑی غلط فہمی کے شکار ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج، بالخصوص یو پی کے نتیجوں نے ان طاقتوں کے لئے کھاد اور پانی کا کام کیا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر عوام کے سر پر مذہبی جنون سوار کر دیا جائے تو بے روزگاری، غربت، تعلیم اور صحت جیسے مسائل بے معنی ہیں۔

10 مارچ کو اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے سے پہلے فرقہ پرست طاقتیں کچھ کشمکش میں مبتلا تھیں۔ کیوں کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہو رہا تھا کہ شاید عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے عاجز آ چکے ہیں اور وہ بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریںگے۔ لیکن خاص طور پر یو پی کے نتیجوں نے اس گمان کو توڑ دیا۔ اسی لئے فرقہ پرست طاقتیں اب مزید بے لگام ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، وہاں ان عناصر نے اپنا کھیل شروع کر دیا ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری

کرناٹک اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے بعد راجستھان، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر وغیرہ میں ایسے غیر ضروری مسائل کو اٹھایا جا رہا ہے، جو کسی بھی صحت مند معاشرے اور ایک خوشحال ملک کی علامت نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ جب مہنگائی اور بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ جائے گی تو ملک کی معیشت اور عام شہریوں کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیوں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں، جب غربت اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ ایسے ہی خدشات اور تحفظات کا اظہار خود اس مودی حکومت کے نوکر شاہ کر رہے ہیں۔ ہمیں نفرت کی اس سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔

ایک طرف حکومت اور سرکاری ادارے ملک کی معاشی صورت حال پر متفکر نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف فرقہ پرست طاقتیں اور شدت پسند عناصر بے لگام ہیں۔ کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش، یو پی، دہلی اور بنگال وغیرہ ریاستوں میں حال ہی میں جس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ایک خاص منصوبہ کے تحت کیا جا رہا ہے۔

مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی

نفرت کا یہ کاروبار اس قدر بے خوف اور بے لگام ہو کر کیا جا رہا ہے، جیسے انہیں پیغام دے دیا گیا ہو، کہ وہ کچھ بھی کر گزریں، ان کا کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ملک کی راجدھانی میں اور پولیس کی اجازت کے بغیر آخر کیسے نفرت کا پجاری یتی نرسنگھا نند اور اس کے ساتھی دوبارہ نفرت اور تشدد کی دکان سجانے میں کامیاب ہو گئے؟ ضمانت پر جیل سے چھوٹا ایک شخص کھلے عام پھر وہی قتل عام کی باتیں کر رہا ہے۔ ہتھیار اٹھانے کی اپیل کر رہا ہے، مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے۔ تو اس سے کیا سمجھا جائے؟ اگر حکومت کی سطح پر ایسے شر پسند عناصر کے ساتھ سختی نہیں کی جاتی ہے تو اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں حکمراں طبقہ کی حمایت حاصل ہے۔ لہذا یہ حکومت کے لئے دو کشتیوں کی سواری کرنے جیسا ہے۔

ہندوستان کی اقتصادی حالت تشویشناک

حال ہی میں ملک کےاعلیٰ نوکر شاہوں نے وزیر اعظم مودی کو متنبہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ انتباہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مفت راشن تقسیم والی اسکیموں سے کئی ریاستوں کے تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے کے سلسلہ میں ہے۔ ان نوکر شاہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہاں بھی سری لنکا اور یونان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں موجودہ حکومت بھلے ہی دعویٰ کرے کہ معاشی ترقی کے معاملے میں پوری دنیا میں ہندوستان کا ڈنکا بج رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی اقتصادی امور کے اکثر ادارے ہندوستان کی اقتصادی حالت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے معاملے میں ہندوستان دنیا کے 190 ممالک میں 117 ویں مقام پر ہے اسی طرح امریکہ اور جرمنی کی ایجنسیوں کے مطابق گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان 116 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے اور حال ہی میں اقوام متحدہ کی ’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘ بھی سامنے آئی ہے، جس میں ہندوستان دنیا کے خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ہی نہیں، بلکہ پاکستان اور جنگ زدہ فلسطین سمیت تمام چھوٹے پڑوسی ممالک سے بھی پیچھے ہے۔

’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘یعنی ’گلوبل ہیپی نیس انڈیکس 2022‘ میں ہندوستان اس بار136 ویں نمبر پر ہے 146 ملکوں میں ہندوستان کا درجہ اتنے نیچے ہے کہ افریقہ کے کچھ بیحد پسماندہ ملک بھی اس کے برابر ہیں۔ نفرت بھرے ماحول، بے تحاشہ مہنگائی اور روز افزوں بڑھتی بے روزگاری سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہندوستان کا کیا مقام ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس فرقہ پرست طاقتوں اور مذہبی جنون میں ڈوبے کچھ لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

خوشحال اور امیر ترین طبقہ کی ملک سے ہجرت

ملک میں پہلے ہی امیر اور غریب کے درمیان ایک گہری کھائی ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے اس خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایسا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک کا خوشحال اور امیر ترین طبقہ بیرون ملک ہجرت کر سکتا ہے۔ وہیں بڑے اور میٹرو شہروں میں کسی طرح اپنی زندگی گزارنے والا طبقہ گاؤں کا رخ کر سکتا ہے۔ اس سال فروری میں لوک سبھا میں بتایا گیا تھا کہ 2015 سے 2019 تک 6 لاکھ 76 ہزار ہندوستانی شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔

دیگر اطلاعات کے مطابق 2020 میں 85 ہزار 248 لوگوں نے جبکہ ستمبر 2021 تک مزید ایک لاکھ 11 ہزار 287 لوگوں نے ملک کو خیرباد کہا۔ اگر 2015 سے 19 تک کی مجموعی تعداد میں آخر الذکر 2020 اور 2021 کی تعداد کو جوڑا جائے تو 2015 سے 2021 تک کی مجموعی تعداد تقریباً 8.72 لاکھ ہوگی یعنی پونے نو لاکھ لوگ۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ اسی طرح مہنگی ہوتی شہری زندگی کے درمیان بڑے شہروں سے لوگوں کے گاؤوں کی طرف رخ کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ در اصل اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت نہ تو حکومتیں اس میں دلچسپی لے رہی ہیں اور نہ ہی میڈیا اور دیگر گروپس حکومت پر اس قسم کا دباؤ بنا رہے ہیں کہ امیر اور غریب کی خلیج کو کم کیا جائے اور مہنگائی اور بے روزگاری پر کوئی لگام لگائی جائے۔

امیروں کی تعداد میں اضافہ، غربت میں کوئی کمی نہیں

بظاہر حکمراں کتنے ہی دعوے کریں کہ غربت کے خاتمے کے لئے وہ ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود گزشتہ چند دہائیوں میں امیروں کی تعداد بڑھی ہے اور غریبوں کی غربت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ’آکسفم‘ کی ایک رپورٹ میں حال ہی میں کہا گیا تھا کہ ملک کی 10 فیصد آبادی کے پاس ملک کی 77 فیصد دولت ہے۔ یہ معاشی عدم مساوات کا ایک نمونہ ہے، جس کے لئے سرکاری پالیسیوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ مفت راشن اور دیگر سہولتوں سے وقتی راحت تو مل جاتی ہے ، لیکن یہ غربت کم کرنے کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں اور ملک کے غریب عوام کی آمدنی میں اضافے کی تدابیر کی جائیں۔

اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستوں، شدت پسند اور شر پسند عناصر پر لگام لگانا بھی نہایت ضروری ہے ۔ پہلے کورونا کے وقت اور اب سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے مذہبی امور میں رخنہ اندازی سے لے کر ان کے معاشی بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ سب حکومتوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، یقیناً اس طرح کی مہم اس ملک کو غلط سمت لے جا رہی ہے۔ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کے ایک طبقہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ملک کو خوشحالی کے راستے پر لے جایا جا سکتا ہے، وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔

بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت اب یوپی آئی سے منسلک تمام اے ٹی ایم پر دستیاب

0
بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت اب یوپی آئی سے منسلک تمام اے ٹی ایم پر دستیاب
بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت اب یوپی آئی سے منسلک تمام اے ٹی ایم پر دستیاب

ریزرو بینک آف انڈیا کا کارڈ سے پیسہ نکالنے میں گاہکوں کے ساتھ جعلسازی روکنے کے لیے تمام بینکوں کو اے ٹی ایم سے بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کارڈ سے پیسہ نکالنے میں گاہکوں کے ساتھ جعلسازی روکنے کے لیے تمام بینکوں کو اے ٹی ایم سے بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی سہولت دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس وقت ہندوستان میں صرف چند بینک ہی یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ وہ اپنے صارفین کو یہ سہولت صرف اپنے اے ٹی ایم نیٹ ورک پر پیش کرتے ہیں۔

آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس نے جمعہ کو ممبئی میں دو ماہی مانیٹری پالیسی کے جائزے کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت اب تمام بینکوں اور یوپی آئی نیٹ ورک کا استعمال کرنے والے تمام اے ٹی ایم تک بڑھانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے کارڈ کلوننگ اور کارڈ اسکیمنگ جیسے فراڈ سے بچا جا سکے گا۔ اس سہولت میں صارفین کو یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یوپی آئی) کا استعمال کرتے ہوئے بغیر کارڈ کے کیش نکالنے کی اجازت ہوگی۔

اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس ختم کیا: جوشی

0
اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس ختم کیا: جوشی
اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس ختم کیا: جوشی

بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد ارجن رام میگھوال اور وی مرلی دھرن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جوشی نے کہا کہ مہنگائی پر بحث سے بھاگنے کے بارے میں اپوزیشن کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد، ناپسندیدہ اور قابل مذمت

نئی دہلی: پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے مہنگائی کے مسئلہ پر بحث سے بھاگنے کے اپوزیشن حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مالیات اور تخصیص بل پر بحث کے دوران اپوزیشن کو کافی موقع دیا گیا ہے۔ اور اپوزیشن کی درخواست پر ہی بجٹ اجلاس مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہوا ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد جمعرات کو یہاں پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال اور وی مرلی دھرن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جوشی نے کہا کہ مہنگائی پر بحث سے بھاگنے کے بارے میں اپوزیشن کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور ناپسندیدہ اور قابل مذمت۔

انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بجٹ اجلاس کو مقررہ وقت سے پہلے 7 اپریل تک ملتوی کرنے کے بارے میں چیئرمین سے درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی انہوں نے کانگریس کے جے رام رمیش اور ڈی ایم کے کے تروچی شیوا سے دوبارہ بات کی تاکہ یہ پوچھا جائے کہ کیا وہ پہلے بجٹ اجلاس کو ختم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ دونوں ارکان نے کہا کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود مسٹر رمیش نے ٹویٹ کرکے حکومت پر مہنگائی پر بحث سے بھاگنے کا الزام لگایا ہے۔

رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں سی بی آئی کی پہلی گرفتاری، چار افراد ممبئی سے گرفتار

0
رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں سی بی آئی کی پہلی گرفتاری، چار افراد ممبئی سے گرفتار
رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں سی بی آئی کی پہلی گرفتاری، چار افراد ممبئی سے گرفتار

سی بی آئی نے رام پور ہاٹ قتل عام کیس میں ممبئی سے چار افراد کو گرفتار کیا ہے

کلکتہ: سی بی آئی نے رام پور ہاٹ قتل عام معاملے میں ممبئی سے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سی بی آئی کے ذریعہ یہ پہلی گرفتاری ہے۔

سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم لالن شیخ کے ساتھی بپا شیخ، صابو شیخ اور دیگر دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق انہیں ان کے موبائل فون کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں ٹرانزٹ ریمانڈ پر بنگال لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سی بی آئی گرفتار شدگان کو جمعہ کی صبح رام پورہاٹ لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بوگتوئی گاؤں کا واقعہ

21 مارچ کو رام پور ہاٹ کے بوگتوئی گاؤں میں ایک کے بعد ایک گھر کو آگ لگا دی گئی۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق گرفتار بپا، سبورا، مرکزی ملزم لالن شیخ کے ساتھ اس دن گاؤں میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ساتھ شامل تھے۔ ملزمان واردات کے فوراً بعد گاؤں سے فرار ہوگئے۔ سی بی آئی کو اطلاع ملی کہ کچھ ملزم ممبئی بھاگ گئے ہیں اور وہیں چھپے ہوئے ہیں۔ اس خبر کے بعد سی بی آئی کی چھ رکنی ٹیم نے جمعرات کی صبح تلاشی مہم شروع کی۔ اس کے علاوہ موبائل فون کا ٹاور لوکیشن ٹریک بھی جاری ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی اہلکاروں نے چاروں کو دوپہر تک گرفتار کر لیا۔

بوگتوئی کیس میں درج ایف آئی آر میں بپا شیخ کا نام 13ویں اور صابو شیخ کا نام 15ویں نمبر پر ہے۔ ان کے ساتھ دو دیگر دیہاتی بھی ہیں جن کے بارے میں سی بی آئی کو یقین ہے کہ وہ اس دن کے تشدد میں ملوث تھے۔ تاہم تفتیش کار ابھی ان کے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

بوگتوئی واقعہ کی سی بی آئی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گاؤں کے کئی نوجوان ممبئی میں مزدوری کر رہے تھے۔ تفتیش کاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ ملزم ممبئی فرار ہو سکتا ہے۔ اس کے مطابق انہوں نے ممبئی میں تحقیقات شروع کر دیں۔ تفتیش کاروں کو معلوم ہے کہ ملزم رام پور ہاٹ کے اس علاقے کے کچھ لوگوں کی مدد سے ممبئی میں چھپے ہوئے ہیں۔ جس کے بعد تفتیش کاروں نے موبائل ٹاور پر چھاپہ مار کر چار افراد کو گرفتار کیا۔

راجستھان: جھالاواڑ میں دو کاروں کے ٹکرانے اور آگ لگنے سے چار افراد کی موت

0
راجستھان: جھالاواڑ میں دو کاروں کے ٹکرانے اور آگ لگنے سے چار افراد کی موت
راجستھان: جھالاواڑ میں دو کاروں کے ٹکرانے اور آگ لگنے سے چار افراد کی موت

رائے پور پولیس اسٹیشن کے مطابق یہ کاریں بدھ کی شام تقریباً 7.30 بجے اس علاقے میں جھالاواڑ-اندور ریاستی شاہراہ پر سواس پلیا کے قریب آپس میں ٹکرا گئیں اور اس کے بعد ان میں آگ لگ گئی

جھالاواڑ: راجستھان میں جھالاواڑ ضلع کے رائے پور تھانہ علاقے میں دو کاروں کے آپس میں ٹکرانے سے چار افراد کی موت اور ایک شدید طور پر جھلس گیا۔

رائے پور پولیس اسٹیشن کے انچارج مدن نے آج صبح بتایا کہ یہ کاریں بدھ کی شام تقریباً 7.30 بجے اس علاقے میں جھالاواڑ-اندور ریاستی شاہراہ پر سواس پلیا کے قریب آپس میں ٹکرا گئیں اور اس کے بعد ان میں آگ لگ گئی۔

حادثے میں مدھیہ پردیش کے ڈنگر کا رہنے والا ہری سنگھ عرف بھورا بننا (23)، راج گڑھ ضلع کے بھنگ پورہ کا رہنے والا بھوپیندر سنگھ (26) اور نیمچ ضلع کے مناسا کا رہنے والا پرکھر ویاس اور راجستھان میں جھالاواڑ ضلع کے بھوانی منڈی علاقے میں پنچھیاکھیڑی کے بھانوپرتاپ (25) کی جھلسنے سے موت ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فائر بریگیڈ کی مدد سے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا اور حادثے میں زخمی ہونے والے مدھیہ پردیش کے دیش راج کو کوٹا اسپتال کے برن یونٹ میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ہندوستانی شیئر بازار لگاتار دوسرے روز بھی سرخ نشان کے ساتھ کھلا

0
ہندوستانی شیئر بازار لگاتار دوسرے روز بھی سرخ نشان کے ساتھ کھلا
ہندوستانی شیئر بازار لگاتار دوسرے روز بھی سرخ نشان کے ساتھ کھلا

سرخ نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 91.5 پوائنٹس بڑھ کر 25267.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 114.16 پوائنٹس بڑھ کر 29810.10 پوائنٹس پر کھلا

ممبئی: ہندوستانی شیئر بازار جمعرات کو مسلسل دوسرے دن سرخ نشان کے ساتھ کھلا۔ بی ایس ای سینسیکس جمعرات کو 207.8 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 59402.61 پوائنٹس پر کھلا۔ وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے نفٹی نے 84.35 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 17723.30 پوائنٹس کے ساتھ دن کا آغازکیا۔

سرخ نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 91.5 پوائنٹس بڑھ کر 25267.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 114.16 پوائنٹس بڑھ کر 29810.10 پوائنٹس پر کھلا۔

ہندوستانی شیئر بازار میں بدھ کو بی ایس ای کا 30 حصص پر مشتمل حساس انڈیکس سینسیکس 566.09 پوائنٹس گر کر 60 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 59610.41 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 149.75 پوائنٹس گر کر 17807.65 پوائنٹس پر آگیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز بڑی کمپنیوں کے برعکس چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری سے مارکیٹ کو سہارا ملا۔ اس مدت کے دوران، بی ایس ای مڈ کیپ 0.41 فیصد بڑھ کر 25175.79 پوائنٹس اور سامال کیپ 0.38 فیصد اضافے کے ساتھ 29695.94 پوائنٹس پر رہا تھا۔

جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر

0
جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر
جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر

مسٹر جئے شنکر نے قاعدہ 193 کے تحت یوکرین کی صورتحال پر بحث کا ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کے حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کیا جائے

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے بوچا قتل عام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بدھ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

مسٹر جئے شنکر نے قاعدہ 193 کے تحت یوکرین کی صورتحال پر بحث کا ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کے حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بوچا قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر ہندوستان کی پہلی رائے یہ ہے کہ ہم اس لڑائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ خونریزی اور بے گناہوں کو مارنے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ آج کے دور میں کسی بھی تنازع کو حل کرنے کا صحیح طریقہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن گنگا ایک بڑا چیلنج تھا۔ جنگ کے دوران ہم نے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ اس کے ساتھ دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا۔ ایسا کسی ملک نے نہیں کیا۔ بقیہ ممالک آج ہماری مثال دے رہے ہیں۔ وہاں پر طلباء نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ میں یہ بات بھی ضرور کہوں گا اگر ہمارے چار وزیر نہ جاتے تو یہ کام اتنا آسانی سے نہ ہوتا۔ میں اس پورے ٹیم ورک کی تعریف کرتا ہوں۔

تین ماہ کے اندر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں: پاکستانی الیکشن کمیشن

0

الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخابی حلقوں کی تازہ حد بندی اور ضلع اور حلقے کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں کی تیاری بڑے چیلنجز ہیں، جس کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے

اسلام آباد: پاکستان کے الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی، آئینی اور دیگر چیلنجوں کے پیش نظر پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

یہ اطلاع منگل کو میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ٹویٹ کیا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد تین ماہ میں انتخابات کرانے سے نااہلی کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخابی حلقوں کی تازہ حد بندی اور ضلع اور حلقے کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں کی تیاری بڑے چیلنجز ہیں۔ جس کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق مواد کی خریداری، بیلٹ پیپرز کا بندوبست اور انتخابی عملے کی بھرتی اور تربیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی کو اسنیپ پول کرانے کی سفارش بھیج دی گئی ہے۔

شیئر بازار میں گزشتہ روز کی تیزی پر بریک، نفٹی 18 ہزار سے نیچے

0

روس پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایشیائی بازاروں میں تیزی کے باوجود مقامی سطح پر بڑی کمپنیوں میں ہوئی فروخت کے دباؤ میں آج شیئر بازار میں گزشتہ روز کی تیزی پر بریک لگ گیا اور نفٹی 18 ہزار سے نیچے بند ہوا

ممبئی: روس پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایشیائی بازاروں میں تیزی کے باوجود مقامی سطح پر ایچ ڈی ایف سی بینک، ایچ ڈی ایف سی، ریلائنس، ایس بی آئی اور ماروتی جیسی بڑی کمپنیوں میں ہوئی فروخت کے دباؤ میں آج شیئر بازار میں گزشتہ روز کی تیزی پر بریک لگ گیا اور نفٹی 18 ہزار سے نیچے بند ہوا۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 435.24 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 60176.50 پوائنٹس تک پہنچنے میں کامیاب رہا لیکن نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 96 پوائنٹس گر کر 18 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 17957.40 پر آگیا۔

تاہم بڑی کمپنیوں کے برعکس چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری ہوئی جس نے مارکیٹ کو مزید گرنے سے بچا لیا۔

اس مدت کے دوران بی ایس ای مڈ کیپ 1.28 فیصد بڑھ کر 25,072.44 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.37 فیصد بڑھ کر 29,582.49 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔بی ایس ای پر کل 3507 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2345 کے حصص سبز جبکہ 1056 کے حصص سرخ نشان پر تھے، جب کہ 106 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی مارکیٹ میں ملا جلا رجحان رہا۔ ایشیائی مارکیٹوں میں اضافہ ہوا جبکہ یورپی منڈیوں میں کمی ہوئی۔ جاپان کا نکی 0.19، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 2.10 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.94 فیصد بڑھ گیا۔