اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 247

خلیج تعاون کونسل نے اسرائیل کے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی

0
خلیج تعاون کونسل نے اسرائیل کے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی
خلیج تعاون کونسل نے اسرائیل کے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی

خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نایف الحجرف نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی پولیس کے حملے کی سخت مذمت کی 

دوحہ: خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سکریٹری جنرل نایف الحجرف نے جمعہ کو یروشلم کے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی پولیس کے حملے کی مذمت کی ہے۔

کویتی خبر رساں ایجنسی کونا نے اپنی رپورٹ میں الحجرف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے، "سینکڑوں کی تعداد میں نمازی یا تو زخمی ہوئے ہیں یا اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ذریعہ حراست میں لیے گئے ہیں۔” یہ فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ رویوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔”

جے سی سی کے سیکرٹری جنرل نے فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اسلام کے اس مقدس مقام کے تئیں احترام کا رویہ اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اس خطے کی سلامتی پر توجہ دینے کی بھی اپیل کی۔

جمعہ کو فلسطینی میڈیا نے اطلاع دی کہ اسرائیلی پولیس نے یروشلم کی مسجد الاقصی پر چھاپہ مارا، جو اسلام کا تیسرا سب سے بڑا مقدس مقام ہے۔ اس دوران پولیس نے بھیڑ پر قابو پانے کے لیے ربڑ کی گولیوں، نوائس بموں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 340 سے زائد فلسطینی زخمی

0
اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 340 سے زائد فلسطینی زخمی
اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 340 سے زائد فلسطینی زخمی

اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 340 سے زائد فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع، فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پولیس نے یروشلم کی مسجد الاقصیٰ پر چھاپہ مارا جو اسلام کا تیسرا سب سے بڑا مقدس مقام ہے

غزہ: یروشلم اور ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 340 سے زائد فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع فلسطینی ہلال احمر ایمرجنسی سروس نے دی ہے۔

ہلال احمر نے جمعہ کی دیرشب بتایا، ’’ہلال احمر نے یروشلم اور ویسٹ بینک میں 344 فلسطینیوں کو امداد فراہم کی ہے۔

تنظیم کے مطابق ان میں سے 154 یروشلم میں زخمی ہوئے ہیں۔

جمعہ کو فلسطینی میڈیا نے اطلاع دی کہ اسرائیلی پولیس نے یروشلم کی مسجد الاقصیٰ پر چھاپہ مارا جو اسلام کا تیسرا سب سے بڑا مقدس مقام ہے۔ اس دوران پولیس نے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے ربڑ کی گولیوں، شور بموں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ممتا بنرجی سے ملاقات کے بعد دیوچا پچامی میں کوئلہ کان کے خلاف مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا

0
ممتا بنرجی سے ملاقات کے بعد دیوچا پچامی میں کوئلہ کان کے خلاف مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا
ممتا بنرجی سے ملاقات کے بعد دیوچا پچامی میں کوئلہ کان کے خلاف مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا

ممتا بنرجی سے ملاقات کے بعد بیر بھوم ضلع کے دیوچا پچامی میں حصول اراضی کے کارکنان نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم تحریک جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے

کلکتہ: وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات کے بعد بیر بھوم ضلع کے دیوچا پچامی میں حصول اراضی کے کارکنان نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم تحریک جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے۔ اس لئے ہم نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر تحریک واپس نہیں لی جا رہی ہے بلکہ جاری رہے گی۔

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کو دیوچا پچامی کے مظاہرین سے ملاقات کی۔ اس کے بعد جمعرات کو مظاہرین کی میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے دیوچا پچامی کوئلہ کان پراجیکٹ میں تعطل کو دور کرنے کے لیے مظاہرین سے براہ راست بات چیت کی ہے۔ گزشتہ بدھ کو وزیراعلیٰ نے تقریباً چالیس منٹ تک مظاہرین کے ساتھ میٹنگ کی۔ وزیراعلیٰ نے مظاہرین کے مطالبات تحمل سے سنا۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات میں چیف سیکرٹری بھی موجود تھے۔ ممتا بنرجی نے پراجیکٹ کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے مظاہرین پر واضح کر دیا ہے کہ دیوچا پچامی پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران کسی کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔

زمین دینے سے ہچکچانے والوں کے ایک وفد کا ریاستی سیکریٹریٹ نو بنو کا دورہ

دیوچا پچامی پراجیکٹ کے لیے زمین دینے سے ہچکچانے والوں کے ایک وفد نے بدھ کو ریاستی سیکریٹریٹ نو بنو کا دورہ کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے ان میں سے 9 سے بات کی۔ 40 منٹ کی ملاقات میں وفد نے وزیراعلیٰ کو چار نکات بتائے۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد انہوں نے مظاہرین کی جانب سے یہ مسئلہ بھی اٹھایا۔ ملاقات کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سے براہ راست بات کر کے منصوبے کے بارے میں ان کی غلط فہمیوں کو دور کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گاؤں واپس آنے کے بعد باقی رہائشیوں کو بھی یہی بات بتائیں گے۔ اس کے بعد مظاہرین انتظامیہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ زمین دینے سے گریزاں لوگوں کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دیوچا پچامی پروجیکٹ کے لیے کل 3400 ایکڑ اراضی درکار ہے۔ جس علاقے میں یہ منصوبہ تیار کیا جانا ہے وہاں تقریباً ساڑھے چار ہزار خاندان رہتے ہیں۔ ان میں سے 1906 لوگوں نے زمین دینے کی اجازت دی ہے۔ 3400 ایکڑ میں سے 1000 ایکڑ زمین حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ زمینداروں کی رضامندی سے 756.17 ایکڑ زمین حاصل کرنا ممکن ہوا۔ ریاستی حکومت کو امید ہے کہ بدھ کو وزیراعلیٰ کے ساتھ میٹنگ کے بعد دھرنا کا مرحلہ واپس لینے کے بعد باقی زمین مظاہرین کے حوالے کر دی جائے گی۔

نندی گرام میں ترنمول کے دو گروپ آمنے سامنے

0
نندی گرام میں ترنمول کے دو گروپ آمنے سامنے
نندی گرام میں ترنمول کے دو گروپ آمنے سامنے

مظاہرین نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے ممتا بنرجی کو ہرانے میں یہاں اہم کردار ادا کیا تھا اور بی جے پی کے ساتھ سودا کررکھا تھا ان لوگوں کو ہی پارٹی میں ا ہمیت دی جارہی ہے اور پارٹی کے بے لوث ورکرو ں اور لیڈروں کو نظرانداز کردیا گیا ہے

کلکتہ: نندی گرام میں ترنمول کانگریس کی سابق راجیہ سبھا رکن ڈولا سین کی موجودگی میں ترنمول کانگریس کے ورکروں نے ہنگامہ آرائی اور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے ممتا بنرجی کو ہرانے میں یہاں اہم کردار ادا کیا تھا اور بی جے پی کے ساتھ سودا کررکھا تھا ان لوگوں کو ہی پارٹی میں ا ہمیت دی جارہی ہے اور پارٹی کے بے لوث ورکرو ں اور لیڈروں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔

نندی گرام پنچایت سمیتی کے شریک صدر ابو طاہر اور ان کے حامیوں نے تنظیمی میٹنگ میں مدعو نہ کیے جانے پر جمعرات کو نندی گرام بازار میں احتجاج کیا۔ اس وقت ایم پی ڈولا سین موجود تھیں۔ مظاہرین نے ڈولا سین کی گاڑی کو روک دیا بعد میں پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

طاہر نے کہا کہ جن لوگوں کو آج نندی گرام میں ترنمول کی تنظیمی میٹنگ کے لیے بلایا گیا تھا، وہی لوگ تھے جنہوں نے اسمبلی انتخابات کے دوران ممتا بنرجی کو ہرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور بی جے پی میں شامل ہوکر ان کا جھنڈا تھامے ہوئے تھے۔ میں نے احتجاج کیا تو ہمیں میٹنگ میں بلایا گیا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ”طاہر نے مزید کہا،“ ہم ٹیم کو منظم طریقے سے کریں گے۔ میں کلکتہ جا کر دیدی کو سب کچھ بتاؤں گا۔”

نندی گرام میں ابو سفیان گروپ سب سے زیادہ طاقتور

جمعرات کو دوپہر 2 بجے نندی گرام نمبر 1 میں واقع ترنمول دفتر میں اسمبلی حلقہ کی قیادت کے ساتھ میٹنگ بلائی گئی۔ الزام ہے کہ طاہر سمیت کئی فرنٹ لائن لیڈروں کو نہیں بلایا گیا۔ اس کی وجہ سے آج صبح سے احتجاج ہورہا تھا۔ مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے بلاک صدر سودیش داس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ترنمول کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نندی گرام میں ابو سفیان گروپ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

طاہر کا الزام ہے کہ سفیان کی وجہ سے نندی گرام میں ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نندی گرام میں سفیان کے لوگوں کی وجہ سے ہارنا پڑا۔ اس کے بعد بھی قیادت ان لیڈروں کو مسلط کر رہی ہے۔ طاہر نے یہ بھی کہا کہ وہ سفیان شبیر کی سرگرمیوں کے بارے میں کالی گھاٹ میں پارٹی لیڈر سے شکایت کریں گے۔ تاہم ڈولا سین نے کہا ہے کہ پارٹی میں اختلاف رائے ہوتے ہیں۔لیکن احتجاج کی بات غلط ہے۔

دھرم سنسد: مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد: دہلی پولیس

0
دھرم سنسد: مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد: دہلی پولیس
دھرم سنسد: مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد: دہلی پولیس

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں قومی راجدھانی میں منعقد ‘دھرم سنسد’ پروگرام میں مسلم کمیونٹی کے خلاف نسل کشی کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں

نئی دہلی: دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں قومی راجدھانی میں منعقدہ ‘دھرم سنسد’ پروگرام میں مسلم کمیونٹی کے خلاف قتل عام کی اپیل کرنے کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ اس لیے اس سے متعلق معاملہ بند کر دیا گیا ہے۔

ساؤتھ ایسٹ دہلی کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس ایشا پانڈے نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے دہلی پولیس کا موقف پیش کیا ہے۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ شکایت کی بنیاد پر متعلقہ ویڈیو کلپس اور دیگر مواد کی مکمل چھان بین کی گئی۔

تحقیقات میں الزام کے مطابق ایسے حقائق سامنے نہیں آئے ہیں جن کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کسی خاص برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ حلف نامہ میں تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پروگرام میں کسی خاص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے کسی طرح کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔

حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے اپنی طرف سے شکایت کو بے بنیاد اور فرضی قرار دیتے ہوئے کیس بند کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 19 دسمبر کو گووند پوری میٹرو اسٹیشن کے قریب بنارسی داس آڈیٹوریم میں ہندو یووا واہنی کی جانب سے منعقدہ دھرم سنسد پروگرام میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ دہلی پولیس کے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ پروگرام میں کسی گروہ، برادری، نسل، مذہب یا عقیدے کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا۔

حلف نامے میں دہلی پولیس نے کہا ہے کہ تقریر میں وہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے، جن سے یہ مطلب نکالا جائے کہ کسی بھی مذہب، ذات یا نسل کے درمیان ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

مدھیہ پردیش: مسلم وفد نے وزیر داخلہ سے ملاقات کی

0

ڈاکٹر مشرا نے وفد سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کی نشاندہی کرنے میں حکومت کا تعاون کریں

بھوپال: مدھیہ پردیش کے دو ضلعوں کے کچھ حصوں میں پھیلے تشدد کے درمیان آج مسلم سماج کے ایک وفد نے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد ڈاکٹر مشرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شہر قاضی کی قیادت میں آئے والے مسلم وفد نے انہیں ایک میمورنڈم سونپا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے مسلم وفد سے ملاقات میں ان کے تمام خدشات کو حل کیا۔ انہیں اس بات پر بھی یقین دلایا کہ بے قصور لوگوں کا استحصال نہیں کیا جائےگا، لیکن قصورواروں کو بخشا بھی نہیں جائےگا۔

ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ انہوں نے وفد سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کی نشاندہی کرنے میں حکومت کا تعاون کریں۔

اس سے پہلے صبح ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ مسجدوں پر سی سی ٹی وی کی بھوپال شہر قاضی کی پہل اچھی ہے۔ اگر کسی قدم سے شبہ دور ہوتا ہے اور باہمی یقین بڑھتا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔

بھوپال کے قاضی اور کئی مسلم تنظیموں نے سماج کے سبھی اراکین سے اپیل کی تھی کہ مسجدوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرا لگوایا جانا چاہئے، تاکہ اگر کوئی سماج دشمن عناصر کوئی حرکت کرے تو اس کا ریکارڈ رہے۔ ڈاکٹر مشرا اسی پہل پر تبصر ہ کررہے تھے۔

کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی: وزیر داخلہ

0
کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی: وزیر داخلہ
کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں فیصلہ مقامی انتظامیہ کرے گی: وزیر داخلہ

ڈاکٹر مشرا نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں مقامی سطح پر فیصلہ ہوگا، جیسے حالات ہوں گے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا،جہاں ڈھیل دینی ہوگی، وہاں دیں گے

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے آج کہا کہ کھرگون میں نافذ کرفیو کے سلسلے میں مقامی انتظامیہ فیصلہ کرے گی۔

ڈاکٹر مشرا نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ کھرگون میں کرفیو کے سلسلے میں مقامی سطح پر فیصلہ ہوگا۔ جیسے حالات ہوں گے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔جہاں ڈھیل دینی ہوگی، وہاں دیں گے۔

وزیر داخلہ نے میڈیا میں آئی ان خبروں کی بھی تردید کی کہ تشدد سے دوچار علاقوں میں کئی گھر بکائی ہیں اور لوگ وہاں سے منتقل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی منتقلی کی خبر افواہ ہے۔ جس گھر کا ذکر ہوا ہے اس پر واقعہ کے پہلے بکاؤ لکھا ہوا تھا۔ ضلع میں اس وجہ سے کہیں منتقلی نہیں ہوئی ہے۔

70 لوگ جیل میں، 20 سے زیادہ سے پوچھ تاچھ جاری

تشدد کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ 70 لوگ جیل جا چکے ہیں اور 20 سے زیادہ سے پوچھ تاچھ چل رہی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کئی تہوار آ رہے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے سبھی ضلع الرٹ موڈ پر ہیں۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے احتیاط کے طور پر سبھی وزرا کو اپنے اپنے چارج والے ضلعوں میں نظام پر نظر رکھنے کی ہدایت دی ہیں۔

کھرگون فسادات: ایف آئی آر کے بعد دگوجے کے سوال، کیا جمہوریت ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی

0
کھرگون فسادات: ایف آئی آر کے بعد دگوجے کے سوال، کیا جمہوریت ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی
کھرگون فسادات: ایف آئی آر کے بعد دگوجے کے سوال، کیا جمہوریت ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی

کھرگون فسادات پر اپنے متنازعہ ٹویٹ کے بعد مسٹر سنگھ پر بھوپال، گوالیار، نرمدا پورم اور ستنا میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں

بھوپال: کانگریس کے سینئر رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ نے کھرگون فسادات کے معاملوں میں متنازعہ ٹویٹ کی وجہ سے خود پر کئی مقامات پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سوال کیا ہے کہ کیا اس ملک میں اب سوال پوچھنا گناہ ہوگیا ہے اور کیا جمہوریت اب ایک طرفہ نظریہ سے چلے گی۔

مسٹر سنگھ نے آج اپنے سلسلے وار ٹویٹ میں کہا، ’’مجھے کھرگون کے فسادات کے سلسلے میں متعدد ویڈیو اور تصویریں ملی تھیں۔ میرے جاننے والوں نے متعدد تصویریں اور ویڈیو کے ساتھ اس تصویر کو بھی شیئر کیا تھا۔ میں نے اپنے ٹویٹ میں اس بنیاد پر کسی بھی مذہبی مقام پر ہتھیار لے کر جھنڈا لگانے کے جواز پر سوال کیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی کی شکایت پر میرے خلاف تمام دفعات میں کیس درج کئے گئے۔

حالانکہ اس تصویر کے بارے میں مجھے جیسے ہی معلومات ملی کہ یہ سال 2017 میں بہار مظفرپور کا ہے، میں نے فوراً اپنا ٹویٹ ڈلیٹ کردیا، لیکن میرے سوال کھرگون فسادات کے بارے میں جوں کے توں رہے۔

ایک طبقے کے خلاف بن رہے ایسے ماحول پر سوال نہیں کرسکتے؟

اس کے بعد مسٹر سنگھ نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ اس ملک میں اب سوال پوچھنا بھی گناہ ہوگیا ہے اور کیا اپوزیشن لیڈر کے طور پر وہ اپنے ملک، ریاست کے عوام کے ایک طبقے کے خلاف بن رہے ایسے ماحول پر سوال نہیں کرسکتے؟

انہوں نے کہا کہ کیا بغیر نوٹس اور بغیر جانچ پرکھ کے اپنے مخالفین پر بلڈوزر حملہ صحیح ہے؟اور کیا جمہوریت اب ایک طرفہ سیاسی نظریے سے ہی چلے گی؟

کھرگون فساد پر اپنے متنازعہ ٹویٹ کے بعد مسٹر سنگھ پر بھوپال، گوالیار، نرمدا پورم اور ستنا میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

دباؤ میں چل رہے شیئر بازار سبز نشان کے ساتھ کھلا

0
دباؤ میں چل رہے شیئر بازار سبز نشان کے ساتھ کھلا
دباؤ میں چل رہے شیئر بازار سبز نشان کے ساتھ کھلا

سبز نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا

ممبئی: دباؤ میں چل رہے شیئر بازار نے بدھ کے روز تیزی کے ساتھ دن کی شروعات کی۔ جہاں بی ایس ای سینسیکس 334.37 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 58910.74 پوائنٹس پر کھلا، وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 69.6 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 17,599.90 پوائنٹس پر کھلا۔

مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا

سبز نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 102.3 پوائنٹس بڑھ کر 25140.01 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 175.77 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29,617.44 پوائنٹس پر کھلا۔

منگل کو بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 388.20 پوائنٹس گر کر 58576.37 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 144.65 پوائنٹس گر کر 17530.30 پوائنٹس پر آگیا تھا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح گزشتہ روز بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں پر بھی فروخت کا غلبہ رہا۔ مڈ کیپ 1.45 فیصد گر کر 25037.71 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.47 فیصد گر کر 29,441.67 پوائنٹس پر رہا تھا۔

مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ

0
مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ
مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ

 مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ دگ وجے سنگھ کا ایک مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے والے نوجوان کی تصویر کے ساتھ کیا گیا ٹویٹ مدھیہ پردیش کا نہیں ہے

بھوپال: کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ایک ٹویٹ کے ساتھ ایک متنازعہ تصویر پوسٹ کرنے کے بعد آج پھر سے سرخیوں میں آگئے، جس پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور دیگر کے ردعمل ظاہر کرنے پر مسٹر دگ وجے نے ٹویٹ ہٹا دیا۔

ٹویٹ میں ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے لکھا ’’کیا تلوار لاٹھی لیکر کسی مذہبی مقام پر جھنڈا لگانا مناسب ہے؟ کیا کھرگون انتظامیہ کو اسلحہ لے کر جلوس نکالنے کی اجازت تھی؟ کیا جنہوں نے پتھر پھینکنے چاہے وہ جس مذہب کے ہوں، سبھی کے گھروں پر بلڈوزر چلیں گے؟ شیوراج مت بھولئے آپ نے غیر جانبدار ہوکر حکومت چلانے کا حلف لیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پوسٹ کئے گئے فوٹوں میں نظر آرہا ہے کہ کچھ بھگوا دھاری نوجوان ہاتھوں میں بھگوا اور تلوار لیکر ایک مذہبی مقام پر جھنڈا لگا رہے ہیں۔

شیوراج کا ردعمل

اس کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ مسٹر سنگھ نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ مدھیہ پردیش کا نہیں ہے۔ مسٹر دگ وجے سنگھ کا یہ ٹویٹ ریاست میں مذہبی جنون پھیلانے کی اور ریاست کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کی سازش ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر دگ وجے سنگھ نے سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی کی بات سنے بغیر کارروائی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک کے کسی قانون یا قاعدے میں بلڈوزر کلچر کی کوئی گنجائش ہے؟ اگر آپ نے غیر قانونی طور پر بلڈوزر چلانا ہے تو مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آئین میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کام کرنا غیر آئینی ہے۔