اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 248

اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع

0
اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع
اترپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کی طرف سے دی گئی اطلاعات کے مطابق، پہلے سے طے شدہ انتخابی شیڈول کے تحت سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی

لکھنؤ: اترپردیش میں قانون ساز کونسل کی مقامی اتھارٹی کے انتخابات والے 35 حلقوں کی 36 سیٹوں کے لیے ہو رہے انتخابات میں 27 سیٹوں کے لیے منگل کو ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی۔

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کی طرف سے دی گئی اطلاعات کے مطابق، پہلے سے طے شدہ انتخابی شیڈول کے تحت سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی۔ پولنگ والے 58 اضلاع میں واقع 27 انتخاب حلقوں کے لیے 9 اپریل کو کل 120657 ووٹروں میں سے تقریباً 98 فیصد نے 739 پولنگ اسٹیشنوں پر اپنا ووٹ ڈالا تھا۔

ان نشستوں کے لیے میدان میں موجود کل 95 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج شام ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا۔ واضح رہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی کے اراکین کے علاوہ، گاؤں کی پنچایتوں، بلاک اور میونسپل کارپوریشنوں سمیت تمام اتھارٹیز کے منتخب نمائندے مقامی اتھارٹی کی نشستوں پر ووٹ ڈالتے ہیں۔

نو سیٹوں پر بی جے پی کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب

سی ای او کے دفتر نے واضح کیا کہ جن نو سیٹوں پر ووٹنگ نہیں ہوئی ہے، وہاں صرف ایک امیدوار میدان میں ہے۔ ان تمام نشستوں پر صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کی نامزدگی کی وجہ سے انہیں بلا مقابلہ منتخب قرار دیا گیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ نے ووٹوں کی گنتی کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرانے کے لیے بھرپور تیاریاں کی ہیں۔

انتظامیہ نے گنتی کے مقامات پر کسی قسم کی افراتفری نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات کیے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے لیے الگ الگ انٹری اور ایگزٹ گیٹ بنائے گئے ہیں، تاکہ گنتی کا عملہ اور امیدوار وغیرہ آ سکیں۔

گنتی کی جگہ کے ارد گرد کسی بھی قسم کی گڑبڑ سے بچنے کے لیے بیریئر پوائنٹس اور ٹریفک ڈائیورژن پوائنٹس بنائے گئے ہیں جہاں انتظامات کو سنبھالنے کی ذمہ داری متعلقہ شہر اور انچارج ٹریفک کو دی گئی ہے۔

جن نو سیٹوں پر بی جے پی کو واک اوور ملا

جن نو سیٹوں پر بی جے پی کو واک اوور ملا ہے، ان میں سے مرزا پور-سون بھدرا سیٹ پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے باضابطہ امیدوار رمیش یادو نے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار ونیت سنگھ بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

اسی طرح بداون سیٹ کے لیے ایس پی کے امیدوار ونود کمار شاکیا، غازی پور سیٹ سے بھولا ناتھ شکلا اور ہردوئی سیٹ سے رضی الدین نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔ اس وجہ سے بدایوں سیٹ سے بی جے پی کے وگیش پاٹھک، غازی پور سیٹ سے بی جے پی کے وشال سنگھ چندیل اور ہردوئی سے اشوک اگروال بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانچ کے بعد علی گڑھ ہاتھرس سیٹ پر ایس پی امیدوار جسونت سنگھ کا پرچہ نامزدگی منسوخ ہونے سے بی جے پی کے چودھری رشی پال سنگھ کی جیت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اسی طرح لکھیم پور کھیری سیٹ پر ایس پی کے انوراگ پٹیل اور متھرا ایٹہ مین پوری دونوں سیٹوں پر ایس پی کے امیدواروں کے پرچہ نامزدگی منسوخ کر دیے گئے۔

بلند شہر گوتم بدھ نگر سیٹ پر ایس پی آر ایل ڈی نے مشترکہ امیدوار کھڑا کیا تھا، لیکن آخری وقت میں اس نے اپنا نامزدگی واپس لے کر بی جے پی کے لیے آسانیاں پیدا کر دیں۔

گراوٹ کے ساتھ کھلا ہندوستانی شیئر بازار

0
گراوٹ کے ساتھ کھلا ہندوستانی شیئر بازار
گراوٹ کے ساتھ کھلا ہندوستانی شیئر بازار

گراوٹ کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ میں معمولی کمی اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 0.79 پوائنٹس گر کر 25406.36 پر اور اسمال کیپ 40 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29,920.07 پر کھلا

ممبئی: شیئر بازار منگل کو گراوٹ کے ساتھ کھلا اور کاروبار کے آغاز میں بی ایس ای سینسیکس 221.07 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 58743.50 پوائنٹس پر رہا، وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 90.1 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 17584.85 پوائنٹس پر کھاتہ کھولا۔

گراوٹ کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ میں معمولی کمی اور اسمال کیپ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 0.79 پوائنٹس گر کر 25406.36 پر اور اسمال کیپ 40 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29,920.07 پر کھلا۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس پیر کو 482.61 پوائنٹس گر کر ایک ہفتے سے زیادہ کی نچلی سطح پر 59 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے 58964.57 پوائنٹس پر آ گیا تھا۔

اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی گزشتہ روز 109.40 پوائنٹس گر کر 17674.95 پر رہا تھا۔

این سی پی نے جے این یو میں تشدد کی شدید مذمت کی

0
این سی پی نے جے این یو میں تشدد کی شدید مذمت کی
این سی پی نے جے این یو میں تشدد کی شدید مذمت کی

مہیش بھرت تاپسی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اے بی وی پی کے ذریعے ہمارے سیکولر تعلیمی اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے اور انہوں نے جے این یو کیمپس پر حملہ کیا ہے

اورنگ آباد/ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ریاستی چیف ترجمان مہیش بھرت تاپسی نے پیر کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اے بی وی پی کے ذریعے ہمارے سیکولر تعلیمی اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے اور انہوں نے جے این یو کیمپس پر حملہ کیا ہے۔ اتوار کو ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مسٹر تاپسی نے ایک ریلیز میں کہا کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اے بی وی پی کے کارکن مختلف اداروں کے طلباء پر دائیں بازو کا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اداروں کے سیکولر ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں نے ایک سے بڑھ کر ایک لیڈر، سائنسدان، منتظم اور دیگر ماہرین پیدا کیے ہیں جنہوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ وہ تمام طلباء کسی بھی رسم و رواج اور کھانے کی عادات سے قطع نظر ایک ساتھ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں ہر کوئی برابری کے اصول پر یقین رکھتا ہے اس لیے کوئی بھی کسی خاص رسم یا مذہبی اصول کو پورے معاشرے پر مسلط نہیں کر سکتا۔ ملک میں مختلف برادریوں کے لوگ امن و سکون سے رہتے ہیں۔ ان کے درمیان ظاہر کی گئی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کارکنان پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسٹر تاپسی نے کہا کہ بی جے پی سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنا چاہتی ہے اور ہندوستانی آئین کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں آمرانہ، اکثریتی حکمرانی لانا چاہتی ہے جو ہندوستانی آئین کے خلاف ہے۔

مرکزی حکومت ترقی کے بجائے مذہبی سیاست کر رہی ہے: راکیش ٹکیت

0
مرکزی حکومت ترقی کے بجائے مذہبی سیاست کر رہی ہے: راکیش ٹکیت
مرکزی حکومت ترقی کے بجائے مذہبی سیاست کر رہی ہے: راکیش ٹکیت

راکیش ٹکیت نے دھان کی خریداری کے مسئلہ پر دہلی کے تلنگانہ بھون میں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کے دھرنے میں حصہ لیا

نئی دہلی: بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی۔ انہوں نے دھان کی خریداری کے مسئلہ پر دہلی کے تلنگانہ بھون میں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کے دھرنے میں حصہ لیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لئے دہلی میں وزیر اعلی چندر شیکھر راو کے احتجاج کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت کو اس پر شرم کرنی چاہئے۔ اگر مرکزی حکومت پورے ملک سے دھان کی خریداری کی یکساں پالیسی پر عمل نہیں کرے گی تو اس سے کسانوں کو کافی نقصان ہوگا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت، عوام کی زندگیوں کے ساتھ سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے بجائے مرکزی حکومت مذہبی سیاست کررہی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہورہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت، ہندووں اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کا دورہ کریں گے اور مستقبل میں بھی کسانوں کے احتجا ج میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے ربیع کے سیزن میں پورے دھان کی خریداری کرنے کی مانگ کی ہے۔

میرٹھ: کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے ٹکر، 4 کی موت، متعدد زخمی

0
میرٹھ: کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے ٹکر، 4 کی موت، متعدد زخمی
میرٹھ: کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے ٹکر، 4 کی موت، متعدد زخمی

پولیس ذرائع نے بتایا کہ اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں ضلع باغپت باشندہ بھوشن اپنے کنبے کے ساتھ ہاپوڑ رشتے دار کے یہاں منعقد تقریب میں شرکت کرنے کے بعد اپنی کار سے واپس گھر لوٹ رہے تھے

میرٹھ: اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں اتوار کو کار موٹر سائیکل کی آمنے سامنے کی ہوئی ٹکر میں دو خواتین سمیت چار افراد کی موت ہوگئی جبکہ دیگر کئی زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ضلع باغپت باشندہ بھوشن اپنے کنبے کے ساتھ ہاپوڑ رشتے دار کے یہاں منعقد تقریب میں شرکت کرنے کے بعد اپنی کار سے واپس گھر لوٹ رہے تھے۔ راستے میں میرٹھ باغپت روڈ پر کرالی گاؤں کے نزدیک سائین مندر کے پاس سامنے سے آ رہی بائیک سے ان کی کار ٹکرانے کے بعد سڑک کنارے درخت سے ٹکرا کر پلٹ گئی۔

پولیس اور مقامی افراد نے کار سیدھی کرکے اس میں پھنسے بھوشن، بالا دیوی، مگن دیوی سمیت دیگر کار سوار اور بائیک سوار دھرمیندر و سروج کو علاج کے لئے پانچلی کھرد واق سی ایچ سی اسپتال میں داخل کرایا۔ جہاں ڈاکٹروں نے بالا دیوی، مگن دیو اور بائیک سوار انج و سروج کو مردہ قرار دے دیا۔

حالت نازک ہوتا دیکھ کر ڈاکٹروں نے بھوشن و دیگر ایک کو میرٹھ کے لئے ریفر کردیا ہے۔ جہاں انہیں ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

کولمبیا: گوریلا جنگ میں تین فوجیوں کی موت، چھ دیگر زخمی

0
کولمبیا: گوریلا جنگ میں تین فوجیوں کی موت، چھ دیگر زخمی
کولمبیا: گوریلا جنگ میں تین فوجیوں کی موت، چھ دیگر زخمی

کولمبیا کی فوج نے ایک بیان میں کہا ’’جمعہ 8 اپریل کی رات، دہشت گردوں نے سڑک پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا‘‘

بوگوٹا: کولمبیا میں اینٹی اوکیا ڈپارٹمنٹ کی ایٹوانگو میونسپلٹی کے قریب فوج کے گشت کے دوران نشانہ بناکر کیے گئے حملے میں کم از کم تین فوجی ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔

کولمبیا کی فوج نے یہ اطلاع دی ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا ’’جمعہ 8 اپریل کی رات، دہشت گردوں نے سڑک پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا‘‘۔

اس میں زخمی ہونے والے چھ جوانوں کا مقامی ہیلتھ سنٹر میں علاج کیا جا رہا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے گوریلا گروپ کولمبیا ریولوشنری آرمڈ فورسز (ایف اے آر سی) کا ہاتھ ہے۔

یہ ایک ایسا ہی گوریلا گروپ ہے، جس کی سرگرمیوں پر 2016 سے پابندی عائد ہے۔ اب یہ ایک اپوزیشن سیاسی جماعت ہے۔ اس کے باوجود گروپ کے کچھ ناراض ارکان نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

بیان میں فوج نے کہا ’’(ہم) بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غیر قانونی وسائل کا استعمال کرکے جنگ کرنے کے خلاف اٹارنی جنرل کے دفتر میں شکایات درج کرائیں گے‘‘۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ

0
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ

حکمراں جماعت کے ارکان اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان میں ہوئی ووٹنگ کے بعد عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا

اسلام آباد: نئے پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نیشنل اسمبلی میں پیر کو نئے وزیر اعظم کے لیے ووٹنگ کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

الجزیرہ نے یہ رپورٹ دی ہے اتوار کی صبح تک جاری رہنے والی کارروائی میں، حکمراں جماعت کے ارکان اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان میں ہوئی ووٹنگ کے بعد عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اسمبلی کے قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ امیدوار اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے تک کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے ہیں۔

مسٹر عمران خان اور اتحادیوں نے اعتماد کا ووٹ کھو دیا۔ انہیں تباہ حال معیشت اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کا قصوروار ٹھرایا گیا۔

جنوبی 24 پرگنہ میں سیوک پولیس سمیت دو افراد کا قتل، لوگوں کا احتجاج

0
جنوبی 24 پرگنہ میں سیوک پولیس سمیت دو افراد کا قتل، لوگوں کا احتجاج
جنوبی 24 پرگنہ میں سیوک پولیس سمیت دو افراد کا قتل، لوگوں کا احتجاج

ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے دو گروپ کے درمیان لین دین کے تنازع کی وجہ سے یہ قتل ہوا ہے، دونوں کی لاشیں آج صبح شیرپور، موگرہاٹ میں ایک فیکٹری سے برآمد ہوئیں، مقامی لوگوں کے مطابق دونوں کو گلا دبا کر گولی مار کر قتل کیا گیا

کلکتہ: جنوبی 24 پرگنہ کے ڈائمنڈ ہاربر کے تلگام میں ایک سیوک پولیس اور ایک نوجوان کا قتل کردیا گیا ہے۔ اس واقعے سے ناراض لوگوں نے گاڑی میں توڑ پھوڑ اور گاڑیوں میں آگ لگادی۔ حالات کو سنبھالنے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ مرنے والوں کی شناخت ورون چکرورتی اور مالے اداک کے طور پر ہوئی ہے۔

ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے دو گروپ کے درمیان لین دین کے تنازع کی وجہ سے یہ قتل ہوا ہے۔ دونوں کی لاشیں آج صبح شیرپور، موگرہاٹ میں ایک فیکٹری سے برآمد ہوئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں کو گلا دبا کر گولی مار کر قتل کیا گیا۔

سڑک بلاک کرنے کے بعد مشتعل ہجوم نے گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس اور فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ مشتعل ہجوم کو بھی پرسکون کیا۔

موقع پر پہنچ کر ڈائمنڈ ہاربر پولیس کے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیجیت بندیوپادھیائے اور ڈائمنڈ ہاربر کے ایس ڈی پی اوموقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کی۔ پولیس نے بتایا کہ عالم ملا نامی ایک شخص پر قتل کا الزام ہے۔ اس نے تعمیراتی سامان کی فراہمی کے نام پر بہت سے لوگوں سے رقم لی تھی۔ قتل ہونے والے دونوں افراد کافی عرصے سے ملزمان سے پیسے بھی وصول کرتے تھے۔

ورون اور مالے بار بار عالم سے رقم واپس کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ قتل اسی جھگڑے کی وجہ سے ہوا ہے۔ آج صبح ورون اور مالے نامی دو لوگ پیسے لینے فیکٹری گئے تھے۔ اس کے بعد ایسا ہوا۔ ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست

0
پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست
پاکستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان حکومت کی نظرثانی کی درخواست

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم سے کسی تفصیلی وضاحت کے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 189 اور آرٹیکل 184(3) کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ظاہر نہیں ہوتا ہے

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی قیادت والی حکومت نے ہفتہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس بحال کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ یہ عرضی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے عین قبل دائر کی گئی ہے۔

روزنامہ اخبار ‘دی ایکسپریس ٹریبیون’ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ریویو پٹیشن میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ مذکورہ معاملے میں 7 اپریل کو دیے گئے اپنے حکم پر نظرثانی کرے۔ یہ حکم غلطیوں پر مبنی ہے۔ اس لیے یہ حکم واپس لیا جانا چاہئے۔

حکومت نے کہا کہ فوری طورپر اسٹے آرڈر جاری کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم سے کسی تفصیلی وضاحت کے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 189 اور آرٹیکل 184(3) کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ظاہر نہیں ہوتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ سمجھنے میں غلطی کی ہے کہ ایوان کی کارروائی کے لیے پارلیمنٹ خودمختار، بالاتر ادارہ ہے اور وہ سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کے دائرہ اختیار میں جوابدہ نہیں ہے۔ بنابریں عدالتی حکم سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام

0
نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام
نفرت کی سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام

ایک طبقہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ملک کو خوشحالی کے راستے پر لے جانے کی سوچ رکھنے والے بہت بڑی غلط فہمی کے شکار ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج، بالخصوص یو پی کے نتیجوں نے ان طاقتوں کے لئے کھاد اور پانی کا کام کیا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر عوام کے سر پر مذہبی جنون سوار کر دیا جائے تو بے روزگاری، غربت، تعلیم اور صحت جیسے مسائل بے معنی ہیں۔

10 مارچ کو اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے سے پہلے فرقہ پرست طاقتیں کچھ کشمکش میں مبتلا تھیں۔ کیوں کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہو رہا تھا کہ شاید عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے عاجز آ چکے ہیں اور وہ بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریںگے۔ لیکن خاص طور پر یو پی کے نتیجوں نے اس گمان کو توڑ دیا۔ اسی لئے فرقہ پرست طاقتیں اب مزید بے لگام ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، وہاں ان عناصر نے اپنا کھیل شروع کر دیا ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری

کرناٹک اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے بعد راجستھان، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر وغیرہ میں ایسے غیر ضروری مسائل کو اٹھایا جا رہا ہے، جو کسی بھی صحت مند معاشرے اور ایک خوشحال ملک کی علامت نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ جب مہنگائی اور بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ جائے گی تو ملک کی معیشت اور عام شہریوں کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیوں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں، جب غربت اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ ایسے ہی خدشات اور تحفظات کا اظہار خود اس مودی حکومت کے نوکر شاہ کر رہے ہیں۔ ہمیں نفرت کی اس سیاست کے درمیان ملک کی معاشی صورت حال اور بد حال عوام کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔

ایک طرف حکومت اور سرکاری ادارے ملک کی معاشی صورت حال پر متفکر نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف فرقہ پرست طاقتیں اور شدت پسند عناصر بے لگام ہیں۔ کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش، یو پی، دہلی اور بنگال وغیرہ ریاستوں میں حال ہی میں جس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ایک خاص منصوبہ کے تحت کیا جا رہا ہے۔

مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی

نفرت کا یہ کاروبار اس قدر بے خوف اور بے لگام ہو کر کیا جا رہا ہے، جیسے انہیں پیغام دے دیا گیا ہو، کہ وہ کچھ بھی کر گزریں، ان کا کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ملک کی راجدھانی میں اور پولیس کی اجازت کے بغیر آخر کیسے نفرت کا پجاری یتی نرسنگھا نند اور اس کے ساتھی دوبارہ نفرت اور تشدد کی دکان سجانے میں کامیاب ہو گئے؟ ضمانت پر جیل سے چھوٹا ایک شخص کھلے عام پھر وہی قتل عام کی باتیں کر رہا ہے۔ ہتھیار اٹھانے کی اپیل کر رہا ہے، مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے۔ تو اس سے کیا سمجھا جائے؟ اگر حکومت کی سطح پر ایسے شر پسند عناصر کے ساتھ سختی نہیں کی جاتی ہے تو اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں حکمراں طبقہ کی حمایت حاصل ہے۔ لہذا یہ حکومت کے لئے دو کشتیوں کی سواری کرنے جیسا ہے۔

ہندوستان کی اقتصادی حالت تشویشناک

حال ہی میں ملک کےاعلیٰ نوکر شاہوں نے وزیر اعظم مودی کو متنبہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ انتباہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مفت راشن تقسیم والی اسکیموں سے کئی ریاستوں کے تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے کے سلسلہ میں ہے۔ ان نوکر شاہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہاں بھی سری لنکا اور یونان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں موجودہ حکومت بھلے ہی دعویٰ کرے کہ معاشی ترقی کے معاملے میں پوری دنیا میں ہندوستان کا ڈنکا بج رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی اقتصادی امور کے اکثر ادارے ہندوستان کی اقتصادی حالت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے معاملے میں ہندوستان دنیا کے 190 ممالک میں 117 ویں مقام پر ہے اسی طرح امریکہ اور جرمنی کی ایجنسیوں کے مطابق گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان 116 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے اور حال ہی میں اقوام متحدہ کی ’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘ بھی سامنے آئی ہے، جس میں ہندوستان دنیا کے خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ہی نہیں، بلکہ پاکستان اور جنگ زدہ فلسطین سمیت تمام چھوٹے پڑوسی ممالک سے بھی پیچھے ہے۔

’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘یعنی ’گلوبل ہیپی نیس انڈیکس 2022‘ میں ہندوستان اس بار136 ویں نمبر پر ہے 146 ملکوں میں ہندوستان کا درجہ اتنے نیچے ہے کہ افریقہ کے کچھ بیحد پسماندہ ملک بھی اس کے برابر ہیں۔ نفرت بھرے ماحول، بے تحاشہ مہنگائی اور روز افزوں بڑھتی بے روزگاری سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہندوستان کا کیا مقام ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس فرقہ پرست طاقتوں اور مذہبی جنون میں ڈوبے کچھ لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

خوشحال اور امیر ترین طبقہ کی ملک سے ہجرت

ملک میں پہلے ہی امیر اور غریب کے درمیان ایک گہری کھائی ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے اس خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایسا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک کا خوشحال اور امیر ترین طبقہ بیرون ملک ہجرت کر سکتا ہے۔ وہیں بڑے اور میٹرو شہروں میں کسی طرح اپنی زندگی گزارنے والا طبقہ گاؤں کا رخ کر سکتا ہے۔ اس سال فروری میں لوک سبھا میں بتایا گیا تھا کہ 2015 سے 2019 تک 6 لاکھ 76 ہزار ہندوستانی شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔

دیگر اطلاعات کے مطابق 2020 میں 85 ہزار 248 لوگوں نے جبکہ ستمبر 2021 تک مزید ایک لاکھ 11 ہزار 287 لوگوں نے ملک کو خیرباد کہا۔ اگر 2015 سے 19 تک کی مجموعی تعداد میں آخر الذکر 2020 اور 2021 کی تعداد کو جوڑا جائے تو 2015 سے 2021 تک کی مجموعی تعداد تقریباً 8.72 لاکھ ہوگی یعنی پونے نو لاکھ لوگ۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ اسی طرح مہنگی ہوتی شہری زندگی کے درمیان بڑے شہروں سے لوگوں کے گاؤوں کی طرف رخ کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ در اصل اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت نہ تو حکومتیں اس میں دلچسپی لے رہی ہیں اور نہ ہی میڈیا اور دیگر گروپس حکومت پر اس قسم کا دباؤ بنا رہے ہیں کہ امیر اور غریب کی خلیج کو کم کیا جائے اور مہنگائی اور بے روزگاری پر کوئی لگام لگائی جائے۔

امیروں کی تعداد میں اضافہ، غربت میں کوئی کمی نہیں

بظاہر حکمراں کتنے ہی دعوے کریں کہ غربت کے خاتمے کے لئے وہ ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود گزشتہ چند دہائیوں میں امیروں کی تعداد بڑھی ہے اور غریبوں کی غربت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ’آکسفم‘ کی ایک رپورٹ میں حال ہی میں کہا گیا تھا کہ ملک کی 10 فیصد آبادی کے پاس ملک کی 77 فیصد دولت ہے۔ یہ معاشی عدم مساوات کا ایک نمونہ ہے، جس کے لئے سرکاری پالیسیوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ مفت راشن اور دیگر سہولتوں سے وقتی راحت تو مل جاتی ہے ، لیکن یہ غربت کم کرنے کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں اور ملک کے غریب عوام کی آمدنی میں اضافے کی تدابیر کی جائیں۔

اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستوں، شدت پسند اور شر پسند عناصر پر لگام لگانا بھی نہایت ضروری ہے ۔ پہلے کورونا کے وقت اور اب سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے مذہبی امور میں رخنہ اندازی سے لے کر ان کے معاشی بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ سب حکومتوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، یقیناً اس طرح کی مہم اس ملک کو غلط سمت لے جا رہی ہے۔ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کے ایک طبقہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ملک کو خوشحالی کے راستے پر لے جایا جا سکتا ہے، وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔