اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 245

ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات خود بخود نہیں ہوتے بلکہ کروائے جاتے ہیں

0
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات خود بخود نہیں ہوتے بلکہ کروائے جاتے ہیں
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات خود بخود نہیں ہوتے بلکہ کروائے جاتے ہیں

اگردوسرے کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا ہی اپنی عقیدت کا اظہار ہے، تو پھر ایسی عقیدت کس کام کی؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

معروف سماجی کارکن او رسبکدوش آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’میں پچھلے کئی سال سے ’کمیونٹی تشدد‘ کا مطالعہ کر رہا ہوں اور یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ فسادات ہوتے نہیں، بلکہ کروائے جاتے ہیں۔ میں نے ایک آئی اے ایس کے طور پر بہت سے فسادات دیکھے ہیں۔ اگر فساد چند گھنٹے سے زیادہ چلے تو مان لیں کہ یہ انتظامیہ کی رضامندی سے چل رہا ہے۔ ‘‘ان کا مزید کہنا ہے کہ ’فساد برپا کرنے کے لیے تین چیزیں بہت ضروری ہیں۔ نفرت پیدا کرنا، بالکل اس طرح جیسے کسی فیکٹری میں کوئی چیز بنتی ہے۔ دوسرا، فسادات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تقسیم۔ تیسرا ہے پولیس کی غفلت یا ملی بھگت، جس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔‘

اسی طرح سابق آئی پی ایس افسران جولیو ریبیرو اور وبھوتی نارائن رائے نے بھی فسادات میں پولیس کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک اور سابق آئی پی ایس افسر سریش کھوپڑے فسادات روکنے کے لئے مہاراشٹر کے بھیونڈی میں کئے گئے تجربے کے لئے مشہور ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے ’ممبئی جل رہا تھا پر بھیونڈی کیوں نہیں‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کسی بھی فساد کو روکنے کے لئے خفیہ سروس کا ہونا بھی ضروری ہے، لیکن پولیس کا یہ محکمہ بالکل ناکارہ سا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔ لیکن اس تجربہ سے ہمارے پاس معلومات آنے لگی اور صرف فساد ہی نہیں بلکہ جرائم بھی کم ہوئے‘۔

فرقہ وارانہ فسادات انتظامیہ کی بڑی ناکامی

وہیں وبھوتی نارائن رائے نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’فرقہ وارانہ فسادات کو انتظامیہ کی بڑی ناکامی کے طور پر لینا چاہیے۔ جو لوگ پولیس میں کام کرتے ہیں وہ اسی معاشرے سے آتے ہیں جس میں فرقہ واریت کا وائرس پنپتا ہے، ان کے اندر وہ تمام تعصبات، نفرتیں، شکوک و شبہات ہوتے ہیں جو ان کے فرقہ میں کسی دوسری کمیونٹی کے بارے میں ہوتے ہیں۔‘ رائے نے شہر میں فسادات، کرفیو پر مبنی ایک ناول بھی لکھا۔ جس میں انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح سیاست کے ذریعے ملک کے دو بڑے مذہبی طبقوں میں عدم اعتماد پیدا کیا جاتا ہے۔

اب ذرا حال ہی میں پیش آنے والے سلسلہ وار واقعات پر نظر ڈالیں۔ کرناٹک سے لے کر راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش تک اور اتراکھنڈ سے لے کر بنگال، بہار، جھارکھنڈ اور ملک کی راجدھانی دہلی تک فرقہ وارانہ تشدد کا ایک ہی ’پیٹرن‘ نظر آتا ہے۔ ایک ایک کرکے آپ ان واقعات کو دیکھتے جائیں اور مذکورہ بالا افسران کے تبصرے اور تجربے کو سامنے رکھیں۔ اس دوران پولیس کا کیا رول ہونا چاہئے اور پولیس نے ہر جگہ کیا کیا ہے، اس کو بھی مد نظر رکھیں۔ کیوں کہ اگر تعصب کی عینک اتار کر ایمانداری سے ان سلسلہ وار واقعات کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً ہر جگہ ان ناخوشگوار واقعات کا ایک ہی سبب نظر آتا ہے۔

مذہبی جلوس سے فرقہ وارانہ تشدد کی شروعات

جہاں جہاں بھی فرقہ وارانہ تشدد یا کشیدگی کے واقعات رونما ہوئے ہیں، ان کی شروعات مذہبی جلوس، اشتعال انگیز نعرے بازی، دوسرے مذہب کی عبادت گاہوں کے سامنے ہنگامہ آرائی، ہتھیاروں کی کھلی نمائش، ترشول اور تلواریں لہرا کر دوسروں کو مشتعل کرنے، مذہبی مقامات پر حملے اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے سے ہوئی ہے۔ 2 اپریل کو راجستھان کے کرولی میں ٹھیک افطار کے وقت مسجد کے سامنے سے اشتعال انگیز نعروں کے ساتھ ایک مذہبی ریلی نکالی گئی، نتیجہ تشدد کی شکل میں سامنے آیا۔

کئی ریاستوں میں رام نومی کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد

اس کے بعد 10 اپریل کو ملک کی کئی ریاستوں میں رام نومی کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد برپا ہوا۔ مدھیہ پردیش کا کھرگون فرقہ وارانہ تشدد کے بعد جل اٹھا۔ یہاں بھی رام نومی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس کے دوران ہوئے تشدد کے بعد کرفیو نافذ کرنا پڑا اور پھر حکومت نے یکطرفہ کارروائی کرکے جمہوری اقدار اور آئین کی دھجیاں اڑا دیں۔ یہاں ایک شخص کی موت بھی ہو گئی۔ اسی طرح بنگال کے ہاوڑہ شیو پور پولیس اسٹیشن کے تحت پی ایم بستی علاقے کے قریب مذہبی جلوس کے دوران ہنگامہ ہو گیا۔

اسی دن گجرات کے آنند، ہمت نگر اور دوارکا میں رام نومی کے جلوس کے دوران دو فرقوں کے درمیان ہوئے تصادم میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ جھارکھنڈ کے لوہردگا میں بھی رام نومی کے جلوس کے دوران تصادم ہو گیا، جس میں 15 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان بھی رام نومی اور کھانے پینے کے مسئلہ پر تشدد ہو گیا۔ ادھر کرناٹک کے کولار میں بھی رام نومی کے جلوس کے دوران پتھراؤ ہوا، جس کے بعد ماحول کچھ خراب ہوا۔

رام نومی کے موقع پر مسجد پر زعفرانی جھنڈا

بہار کے مظفر پور میں بھی رام نومی کے موقع پر مسجد پر زعفرانی جھنڈا زبردستی لہرایا گیا۔ اس کے بعد 16 اپریل کو دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ میں ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران دو فرقوں کے مابین تصادم ہو گیا۔ اسی طرح اتراکھنڈ کے بھگوان پور میں بھی ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران تشدد بھڑک اٹھا۔ آندھرا پردیش کے کرنول میں بھی ہنومان جینتی جلوس کے دوران دو فرقوں میں جھڑپ ہو گئی۔ اسی دن کرناٹک کے اولڈ ہبلی میں بھی تشدد اور ہنگامہ کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ یہاں بھی وہی عوامل کار فرما تھے، جو باقی جگہوں پر نظر آئے۔ یعنی پچھلے کچھ عرصہ سے انتخابی فائدے کے لیے مذہبی منافرت کی جو چنگاری لگائی گئی ہے، اس کی آگ میں اب عام لوگ جھلس رہے ہیں۔

ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ مذہبی جلوس کے نام پر دوسروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھگوان رام کا جلوس نکالا جاتا ہے، لیکن یہ ان علاقوں میں نکالا جاتا ہے، جہاں دوسرے مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ بھگوان رام کا جلوس ان کی پوجا کرکے نہیں، بلکہ دوسرے مذاہب، دوسرے فرقوں کو گالی دے کر اور خوفزدہ کرکے نکالا جاتا ہے۔ یہ کیسی مذہبی عقیدت ہے کہ جو دوسرے کے مذہبی جذبات کو بھڑکائے، ان کے مذہبی مقامات اور مقدس ہستیوں کو نشانہ بنائے؟ اگر یہی مذہبی عقیدت ہے تو پھر یہ کس کام کی؟

گنگا جمنی تہذیب کی روایت دم توڑتی نظر آ رہی ہے

اگر دیکھا جائے تو ملک میں فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی عدم برداشت نے اب اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر لی ہیں کہ کثرت میں وحدت اور گنگا جمنی تہذیب کی روایت دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ باتیں صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں کہ یہاں سبھی مذاہب اور فرقوں کے لوگ شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔ ہندوستان کی تکثیریت دنیا کے لئے ایک نمونہ تھی اور دنیا کے سامنے ہم اپنی اسی انفرادیت پر رشک کر سکتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ملک کا ماحول ایسا ہی تھا، لیکن اب یہ گزرے زمانے کی باتیں لگی ہیں۔ اگرچہ ذات برادری، لسانی اور فرقہ واریت کے نام پر فسادات ہمیشہ ہوتے رہے، لیکن ان کا اثر محدود رہا۔ ماضی میں رونما ہونے والے المناک واقعات کو معاشرے پر ایک بدنما داغ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس طرح کے واقعات پر مختلف حلقوں کی جانب سے شرمندگی و ندامت کا اظہار کیا جاتا تھا، لیکن اب سب کچھ بدل چکا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی سے فرقہ پرستوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر

ملک کا ایک بڑا طبقہ ان واقعات پر یا تو خاموش نظر آ رہا ہے یا پھر وہ بھی خوفزدہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن اور حیران کن یہ ہے کہ پولیس، انتظامیہ، حکومت اور حکمراں سب تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ان کی اس خاموشی سے ہی ان واقعات کا سلسلہ دراز ہوا ہے۔ سیاستدانوں کے بیانات، دھرم کے نام پر ہونے والی سلسلہ وار ’سنسد‘، مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، ان کی نسل کشی کی اپیلوں سے فرقہ پرستوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں۔

ان طاقتوں کے خلاف یا تو کارروائی ہی نہیں ہو رہی ہے، یا پھر ہوتی ہے تو برائے نام۔ اگر اس ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں مزید جھلسنے سے بچانا ہے تو حکومت، پولیس، انتظامیہ اور سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے رواداری، غیر جانبداری اور انصاف پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور قانون کی بالادستی کو قائم کرنا ہوگا۔ وہیں مذہبی جنون پر سوار طاقتوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ تشدد، ظلم اور قتل و غارت گری سے کبھی بھی اپنے مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں ([email protected])
مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی لیکن دوسروں کی سہولیت کا بھی رکھیں خیال: یوگی

0

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ہر کسی کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کی آزادی ہے، لیکن مائیک کی آواز احاطے سے باہر نہیں آنی چاہئے

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ ہر کسی کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کی آزادی ہے۔ لیکن مائیک کی آواز احاطے سے باہر نہیں آنی چاہئے اور بغیر اجازت کسی مذہبی جلوس کو نہیں نکالا جانا چاہئے۔

یوگی نے جمعرات کو یہاں اعلی سطحی ٹیم 9 کی میٹنگ میں کہا کہ اپنی مذہبی نظریہ کے مطابق ہر کسی کو عمل و عبادت کی آزادی ہے پہلے کی اجازت سے ہی جہاں مائیک لگے ہیں وہاں مائیک کا استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن یہ یقینی بنایا جائے کہ مائیک کی آواز اس احاطے سے باہر نہ جائے۔ دیگر لوگوں کو کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے۔ نئے مقامات پر نئے مائیک لگانے کی اجازت نہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شوبھا یاترا یا مذہبی جلوس بغیر اجازت کے نہ نکالی جائے۔ اجازت دینے سے قبل آرگنائزر سے امن و امان کو قائم رکھنے کے ضمن میں حلف لیا جائے۔ کسی قسم کے ہتھیاروں کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ ماحول خراب ہوا تو ہر سطح پر جواب دہی طے کی جائے گی۔

بارہ مولہ تصادم: لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد ہلاک، 3 فوجی اور ایک شہری زخمی، آپریشن جاری: پولیس

0
بارہ مولہ تصادم: لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد ہلاک، 3 فوجی اور ایک شہری زخمی، آپریشن جاری: پولیس
بارہ مولہ تصادم: لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد ہلاک، 3 فوجی اور ایک شہری زخمی، آپریشن جاری: پولیس

بارہ مولہ تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں 3 فوجی اور ایک عام شہری زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

سری نگر: شمالی کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے مالوا علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین تصادم آرائی میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ آپریشن ہنوز جاری ہے۔

اس تصادم میں ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں 3 فوجی اور ایک عام شہری زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ایک پولیس ترجمان نے کہا کہ بارہمولہ انکاؤنٹر میں لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ آپریشن ابھی جاری ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک دہشت گرد کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کیا گیا۔

قبل ازیں پولیس ذرائع نے بتایا کہ شمالی ضلع بارہ مولہ کے مالوا علاقے میں ملی ٹینٹوں کے چھپے ہونے کی ایک خاص اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے جمعرات علی الصبح اس علاقے کو محاصرے میں لے کر دہشت گرد مخالف آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ خود کو سلامتی عملے کے گھیرے میں پا کر ملی ٹینٹوں نے سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند گولیاں برسا کر فرار ہونے کی بھر پور سعی کی تاہم حفاظتی عملے کی کارگر حکمت عملی نے اُنہیں فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے آس پاس علاقوں کو پوری طرح سے سیل کرکے فرار ہونے کے سبھی راستوں پر پہرے بٹھا دئے ہیں۔

جانسن ہندوستان کے دو روزہ دورے پر احمد آباد پہنچے

0
جانسن ہندوستان کے دو روزہ دورے پر احمد آباد پہنچے
جانسن ہندوستان کے دو روزہ دورے پر احمد آباد پہنچے

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہندوستان کے دورے پر آئے مسٹر جانسن آج گجرات میں مختلف پروگراموں میں شرکت کے بعد رات کو دارالحکومت نئی دہلی پہنچیں گے

احمد آباد: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہندوستان کے دو روزہ دورے پر آج صبح احمد آباد پہنچے۔ مسٹر جانسن کا ہوائی اڈے پر گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت اور وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے استقبال کیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہندوستان کے دورے پر آئے مسٹر جانسن آج گجرات میں مختلف پروگراموں میں شرکت کے بعد رات کو دارالحکومت نئی دہلی پہنچیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کا جمعہ کی صبح راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبال کیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر خراج عقیدت پیش کرنے راج گھاٹ جائیں گے۔ اس کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر ان سے ملاقات کریں گے۔ وہ صبح 11 بجے حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ میں شرکت کریں گے۔

میٹنگ میں دونوں رہنما روڈ میپ 2030 کے نفاذ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے بارے میں ایک وژن پیش کریں گے۔ وہ باہمی مفادات کے پیش نظر مختلف علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے اور دونوں رہنماؤں کے پریس بیانات بھی ہوں گے۔ مسٹر جانسن جمعہ کی رات 10:30 بجے اپنے آبائی ملک روانہ ہوجائیں گے۔

دہلی ہائی کورٹ میں جہانگیر پوری انسداد تجاوزات مہم کے خلاف درخواست پر سماعت

0
دہلی ہائی کورٹ میں جہانگیر پوری انسداد تجاوزات مہم کے خلاف درخواست پر سماعت
دہلی ہائی کورٹ میں جہانگیر پوری انسداد تجاوزات مہم کے خلاف درخواست پر سماعت

دہلی ہائی کورٹ نے جہانگیر پوری علاقے میں انسداد تجاوزات مہم کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو یہاں جہانگیر پوری علاقے میں انسداد تجاوزات مہم کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری میں 16 اپریل کو ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے تھے، جس میں نو افراد زخمی ہوئے تھے۔

شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی) نے کہا تھا کہ جہانگیر پوری میں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پولیس سے سیکورٹی فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

رکن پارلیمنٹ اویسی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پہنچے، پولیس نے روکا

0
رکن پارلیمنٹ اویسی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پہنچے، پولیس نے روکا
رکن پارلیمنٹ اویسی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پہنچے، پولیس نے روکا

لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی بدھ کی شام شمال مغربی دہلی کے تشدد زدہ علاقے جہانگیر پوری پہنچے، لیکن پولیس نے ان کو علاقے میں لگائی ناکہ بندی سے آگے جانے نہیں دیا

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اور لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی بدھ کی شام شمال مغربی دہلی کے تشدد زدہ علاقے جہانگیر پوری پہنچے، لیکن پولیس نے ان کو علاقے میں لگائی ناکہ بندی سے آگے جانے نہیں دیا۔

اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد کے درمیان میڈیا سے بات کرتے ہوئے، مسٹر اویسی نے سوال کیا ’’علاقے میں بغیر اطلاع کے مکانات کیوں گرائے گئے‘‘۔

واضح رہے کہ جہانگیر پوری علاقے میں ہنومان جینتی کے موقع پر جلوس پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعے کے بعد آج صبح پولیس نے علاقے سے تجاوزات ہٹانے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کیا۔ تاہم سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد تجاوزات ہٹانے کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ عدالت اس معاملے کی سماعت جمعرات کو کرے گی۔

ایم پی اویسی نے یہ بھی سوال کیا کہ جلوس بغیر اجازت کیوں نکالا گیا اور لوگوں نے ہتھیاروں کے ساتھ اس میں کیسے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی اس کارروائی سے کئی لوگوں کی روزی روٹی چھن گئی ہے۔ یہ قدم غلط ہے اور ہندوستان کے اصول و ضوابط کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن لوگوں پر کارروائی کی گئی وہ غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا اور بنگلہ دیشی ہیں۔

شیئر بازار میں دو دنوں کی گراوٹ کے بعد تیزی واپس

0
شیئر بازار میں دو دنوں کی گراوٹ کے بعد تیزی واپس
شیئر بازار میں دو دنوں کی گراوٹ کے بعد تیزی واپس

آج شیئر بازار پچھلے دو دنوں کی گراوٹ سے نکل کر ایک فیصد سے زیادہ کی تیزی پر رہا بی ایس ای کا تیس شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 574.35 پوائنٹس بڑھ کر 57,037.50 پوائنٹس کے ساتھ 57 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح کو عبور کر گیا

ممبئی: عالمی بازار کے ملے جلے رجحان کے درمیان مقامی سطح پر آٹو، توانائی اور تیل اور گیس سمیت تیرہ گروپوں میں ہوئی خریداری سے آج شیئر بازار پچھلے دو دنوں کی گراوٹ سے نکل کر ایک فیصد سے زیادہ کی تیزی پر رہا بی ایس ای کا تیس شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 574.35 پوائنٹس بڑھ کر 57,037.50 پوائنٹس کے ساتھ 57 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح کو عبور کر گیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 177.90 پوائنٹس مضبوط ہوکر 17,136.55 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بھی خریداری ہوئی۔ اس دوران مڈ کیپ 0.45 فیصد بڑھ کر 24,559.73 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.36 فیصد بڑھ کر 28,973.23 پوائنٹس پر رہا۔

اس دوران بی ایس ای میں کل ملاکر 3510 کمپنیوں کے شیئروں میں کاروبار ہوا جن میں سے 1732 میں تیزی، 1664 میں گراوٹ رہی جبکہ 114 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 38 کمپنیاں سبز جبکہ 12 سرخ نشان پر رہیں۔

بی ایس ای کے 13 گروپوں میں خریداری جبکہ باقی چھ میں فروخت ہوئی۔ آٹو 2.21، توانائی 2.19، بیسک میٹریلس 0.75، سی ڈی جی ایس 1.10، ایف ایم سی جی 0.95، ہیلتھ کیئر 1.11، آئی ٹی 1.09، ٹیلی کام 1.40، کنزیومر ڈیوربلز 0.84، آئل اینڈ گیس 1.85، ریئلٹی 0.57 فیصد اور ٹیک گروپ کے شیئر میں 1.45 فیصد کا اضافہ ہوا۔

بیرون ملک مارکٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.44 فیصد، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.13 اور جاپان کا نکئی 0.86 فیصد بڑھا، جب کہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 0.40 اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 1.35 فیصد کی کمی ہوئی۔

جہانگیر پوری میں فسادات بی جے پی نے کروائے: عآپ

0
جہانگیر پوری میں فسادات بی جے پی نے کروائے: عآپ
جہانگیر پوری میں فسادات بی جے پی نے کروائے: عآپ

عآپ لیڈر آتشی نے ٹویٹ کیا کہ جہانگیر پوری فسادات کا مرکزی ملزم ایک بی جے پی لیڈر ہے، بی جے پی کو دہلی کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ بی جے پی غنڈوں کی پارٹی ہے

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے منگل کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر جہانگیر پوری میں فسادات کرانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فسادات کا مرکزی ملزم بی جے پی لیڈر ہے۔

عآپ لیڈر آتشی نے ٹویٹ کیا کہ جہانگیر پوری فسادات کا مرکزی ملزم ایک بی جے پی لیڈر ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی امیدوار سنگیتا بجاج کو الیکشن لڑانے میں اہم کردار ادا کیا اور بی جے پی میں فعال کردار ادا کیا۔ اس سے صاف ہے کہ فسادات بی جے پی نے کروائے۔ بی جے پی کو دہلی کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ بی جے پی غنڈوں کی پارٹی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران دو برادریوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے تھے۔ اس میں کچھ پولیس اہلکاروں سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے۔ پولیس نے اس معاملے میں اب تک تقریباً 25 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں سے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کا آغاز سبز نشان کے ساتھ

0
اسٹاک مارکیٹ کا آغاز سبز نشان کے ساتھ
اسٹاک مارکیٹ کا آغاز سبز نشان کے ساتھ

مڈ کیپ اور سمال کیپ میں بھی ہرے نشانات کے ساتھ اوپن اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھا گیا

ممبئی: دباؤ کا شکار اسٹاک مارکیٹ نے منگل کو دن کی شروعات تیزی کے ساتھ کی۔ جہاں بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا سینسیکس 215.03 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 57381.77 پوائنٹس پر کھلا۔ وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 85.3 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 17،258.95 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مڈ کیپ اور سمال کیپ میں بھی ہرے نشانات کے ساتھ اوپن اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 161.45 پوائنٹس بڑھ کر 24,908.80 پر اور سمال کیپ 162.17 پوائنٹس بڑھ کر 29,385.98 پر کھلا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس پیر کو 1172.19 پوائنٹس گر کر قریب ایک ماہ کی کم ترین سطح پر اور 58 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 57,166.74 پوائنٹس پر آگیا تھا۔ اسی طرح، نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 302.00 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 17,173.65 پر تھا۔

بائیڈن یوکرین پر تبادلہ خیال کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کریں گے ویڈیو کال

0
بائیڈن یوکرین پر تبادلہ خیال کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کریں گے ویڈیو کال
بائیڈن یوکرین پر تبادلہ خیال کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کریں گے ویڈیو کال

بائیڈن امریکی اتحادیوں کے ساتھ ایک ویڈیو کال کریں گے تاکہ یوکرین کی حمایت اور روس پر پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن منگل کو امریکی اتحادیوں کے ساتھ ایک ویڈیو کال کریں گے تاکہ یوکرین کی حمایت اور روس پر پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کو ایک پریس ریلیز میں کہا، "صدر نے یوکرین کے لیے ہماری مسلسل حمایت اور روس کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں پر بات کرنے کے لیے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ایک محفوظ ویڈیو کال کا مطالبہ کیا۔”

اس سے پہلے دن میں، امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ روس پر امریکی پابندیوں کے اگلے مرحلے میں روس کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو نشانہ بنایا جائے گا۔