اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 244

ہندوستان کے خلاف جھوٹ پھیلانے پر 10 ہندوستانی، چھ پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی

0

اس حکم میں ہندوستان کے جن یوٹیوب چینلوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سینی ایجوکیشن ریسرچ، ہندی میں دیکھو، ٹیکنیکل یوگیندرا، آج تے نیوز، ایس بی بی نیوز، ڈیفنس نیوز 24×7، دی اسٹڈی ٹائم، تازہ ترین اپڈیٹس، ایم آر ایف ٹی وی لائیو اور تحفظ دین انڈیا کے نام ہیں

نئی دہلی: اطلاعات و نشریات کی وزارت نے ہندوستان کی قومی سلامتی، بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات اور امن و امان کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے معاملے میں 16 یوٹیوب چینلز پر پیر کو پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت کے بیان کے مطابق ان میں 10 ہندوستان اور چھ پاکستان سے چلائے جا رہے چینل ہیں۔

ریلیز کے مطابق یہ کارروائی انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت فراہم کردہ ہنگامی اختیارات کے تحت کی گئی ہے۔ یہ چینل خبریں شائع کرتے تھے اور انہیں کل 68 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چین ہندوستان میں خوف کا ماحول پیدا کرنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کو خراب کرنے کے لیے غلط اور غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلاتے تھے۔ ممنوعہ پاکستانی چینلز میں آج تک پاکستان، ڈسکور، پوائنٹ ریئلٹی چیکس، قیصر خان، دی وائس آف ایشیا اور بول میڈیا بول شامل ہیں۔ انہیں کل 26 کروڑ 28 لاکھ 41 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے اور ان کے شامل صارفین کی تعداد 17 لاکھ سے زیادہ ہے۔

اس حکم میں ہندوستان کے جن یوٹیوب چینلوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سینی ایجوکیشن ریسرچ، ہندی میں دیکھو، ٹیکنیکل یوگیندرا، آج تے نیوز، ایس بی بی نیوز، ڈیفنس نیوز 24×7، دی اسٹڈی ٹائم، تازہ ترین اپڈیٹس، ایم آر ایف ٹی وی لائیو اور تحفظ دین انڈیا کے نام ہیں۔ انہیں تقریباً 42 کروڑ 21 لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے اور ان سے جڑے صارفین کی کل تعداد 25 لاکھ 54 ہزار سے زیادہ ہے۔

وزارت نے تحفظ دین میڈیا سروسز انڈیا کے نام سے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ اس اکاؤنٹ سے جڑے لوگوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

سپریم کورٹ آرٹیکل 370 پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے راضی

0
سپریم کورٹ آرٹیکل 370 پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے راضی
سپریم کورٹ آرٹیکل 370 پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے راضی

آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اگست 2019 کے فیصلے کے خلاف قریب دو درجن عرضیاں دائر کی گئی تھیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے قانون کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت کرنے پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ وہ عرضیوں کو جولائی میں فہرست بند کرنے کی کوشش کرے گا۔

چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی بینچ نے سینئر وکیل شیکھر نفڑے اور پی چدمبرم کی اپیل پر کہا کہ عرضیوں پر پانچ ججوں کی بینچ سماعت کرے گی۔

سینئر وکیل مسٹر نفڑے اور چدمبرم نے خصوصی تذکرے کے دوران عرضیوں پر اگلے ہفتے سماعت کی اپیل کی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جولائی میں عرضیوں پر سماعت کرنے کے لئے فہرست بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

جسٹس رمن نے اگلے ہفتے سماعت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عرضیوں کو پانچ ججوں کی بینچ کے سامنے فہرست بند کیا جانا ہے۔ چونکہ ان پر سماعت کرنے والی بنیادی بینچ کے کچھ جج سبکدوش ہو چکے ہیں، لہذا اسے پھر تشکیل دینا ہوگا۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اگست 2019 کے فیصلے کے خلاف قریب دو درجن عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔

مبارکپور اعظم گڑھ کے جامعہ اشرفیہ میں بھی چل گیا یوگی کا بلڈوزر

0
مبارکپور اعظم گڑھ کے جامعہ اشرفیہ میں بھی چل گیا یوگی کا بلڈوزر
مبارکپور اعظم گڑھ کے جامعہ اشرفیہ میں بھی چل گیا یوگی کا بلڈوزر

جامعہ اشرفیہ میں 30 سال پرانی ٹیچر کالونی کو آج اچانک اور غیر متوقع طور پر یوگی سرکار کے بلڈوزر نے توڑنا شروع کر دیا

اترپردیش: یوگی سرکار کا بلڈوزر اچانک اور غیر متوقع طور پر آج جامعہ اشرفیہ مبارک پور پہنچ گیا اور یونیورسٹی کیمپس میں 30 سال پرانی اساتذہ کالونی کو یہ کہتے ہوئے تباہ کرنا شروع کر دیا کہ یہ سرکاری بہا کی زمین پر بنی ہے۔ اس کارروائی سے وہاں افراتفری مچ گئی۔

تحصیل افسران اور پولیس کی نفری بھی بلڈوزر کے ہمراہ تھی، جب کہ کالونی مکمل طور پر بند تھی اور تمام اساتذہ رمضان المبارک کی چھٹیوں پر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے، اس کالونی کے مختلف فلیٹس میں صرف ان کا ہی لاکھوں مالیت کا سامان بند تھا۔ تقریباً دو درجن اساتذہ تعلیم کے دوران اپنے بال بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

دو سال کی کورونا وبا اور عام تعطیل کی وجہ سے تمام طلباء بھی موجود نہیں تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان کے چندے کے لیے تمام ذمہ داران بھی دوسرے شہروں میں چلے گئے ہیں۔

بنارس میں موجود ناظم اعلیٰ حاجی سرفراز احمد کو جب اس کارروائی کی اطلاع ملی تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے تحصیل حکام سے ایک دن کے لیے کارروائی روکنے کی اپیل کی تو ان کی بات ٹھکرا دی گئی۔ سب سے پہلے ٹیچرز کالونی کے بغل میں بنائے گئے ایک ملازم شمیم ​​احمد عرف سونو کا فلیٹ گرا دیا گیا اور اسے اپنے فلیٹ سے سامان بھی ہٹانے کا موقع نہیں دیا گیا۔

جامعہ کے ذمہ داران کے آنے تک کارروائی روک دی گئی

یونیورسٹی کے نگراں ماسٹر فیاض احمد نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو انہیں نظرانداز کرتے ہوئے سب کو مسمار کرنے والے مقام سے ہٹا دیا گیا تاہم اس سے پہلے کہ بلڈوزر دو منزلہ کالونی پر منتقل ہوتا لوگوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہو گئی اور ان کے ذریعے تحریری طور پر اجتماعی درخواست دینے کے بعد جامعہ کے ذمہ داران کی آمد تک کارروائی روک دی گئی۔

اس حوالے سے ناظم اعلیٰ حاجی سرفراز احمد نے بتایا کہ جس زمین پر ٹیچرز کالونی بنائی گئی ہے، اس کی رجسٹریشن تقریباً 50 سال قبل ہوئی تھی اور ہم نے مغرب کی طرف جانے والے راستے کے لیے 10 فٹ چھوڑ کر کالونی بنائی ہے۔ اس راستے کے بعد ایک نالہ تھا جس پر لینڈ مافیا نے کاغذات میں دھاندلی اور نقشہ بدل کر قبضہ کر لیا۔ نالے کو پل بنا کر یونیورسٹی کیمپس کے اندر بہا کو دھکیل دیا، جس کی اطلاع ملنے پر جامعہ کی جانب سے مقامی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر دیا گیا ہے جو زیر غور ہے۔ لیکن آج کی کارروائی میں اس کیس کا نوٹس تک نہیں لیا گیا اور نہ ہی کارروائی سے قبل ادارے کو کوئی نوٹس دیا گیا۔

سبھی فرقہ وارانہ فسادات 1857 کے بعد شروع ہوئی جس کا بیج انگریز حکمرانوں نے بویا تھا

0
سبھی فرقہ وارانہ فسادات 1857 کے بعد شروع ہوئی جس کا بیج انگریز حکمرانوں نے بویا تھا
سبھی فرقہ وارانہ فسادات 1857 کے بعد شروع ہوئی جس کا بیج انگریز حکمرانوں نے بویا تھا

برطانوی حکمراں ہندو مذہبی رہنماؤں کو بلاکر انہیں مسلمانوں کے خلاف اور مولویوں کو ہندوؤں کے خلاف بولنے کے لیے پیسے دیتے تھے

بابری مسجد تنازعہ

بہت سے مسلم انتہا پسند ایودھیا میں ہنومان گڑھی کے قریب ایک مسجد کے انہدام کی افواہ کو ایک بڑے فرقہ وارانہ تنازعہ میں بدلنے پر بضد تھے۔ ان انتہا پسندوں کی قیادت مولوی محمد صالح اور شاہ غلام حسین کر رہے تھے جو ہنومان گڑھی کے قریب مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے پر بضد تھے۔ نواب واجد علی شاہ نے انہیں منانے کی بہت کوشش کی۔

نواب نے اس تنازعہ کے حل کی ذمہ داری سلطان پور کے گورنر آغا علی خان اور اس کے وزیر راجہ مان سنگھ کو دی لیکن کوئی حل نہ نکلا اور 26 جولائی 1855 کو مولوی صالح اور شاہ غلام کی قیادت میں جوشیلے مسلمانوں کا ایک گروپ ایودھیا پہنچے۔ ایودھیا پہنچنے کے بعد وہ سب بابری مسجد کے احاطے میں ٹھہر گئے۔

ایودھیا کے لوگوں کو جب مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ملی تو ہزاروں لوگ جمع ہو گئے اور ان لوگوں پر حملہ کر دیا جس میں بہت سے لوگ مارے گئے اور باقی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ اس واقعہ کا اثر اودھ کے دوسرے شہروں میں بھی ہوا اور کئی مقامات پر کشیدگی پھیل گئی اور کچھ انتہا پسند عناصر نے مسلمانوں کو اکسانا شروع کر دیا۔

علماء کی کمیٹی نے تشدد کی حمایت نہیں کی

اودھ کے علاقے امیٹھی کے رہنے والے مولوی امیر علی امیٹھاوی کی قیادت میں بہت سے مسلمان جمع ہوئے اور بابری مسجد کے اندر مارے گئے مسلمانوں کا بدلہ لینے اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اودھ حکومت نے انہیں منانے کی بہت کوشش کی۔ یہاں تک کہ 30 اگست 1855 کو علمائے کرام کی ایک ٹیم کو ایودھیا بھیجا گیا تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے۔

علمائے کرام کی اس کمیٹی نے مسجد کے انہدام کو بے بنیاد قرار دیا لیکن کہا کہ ایودھیا میں مرنے والوں کے لواحقین کو خون (مالی معاوضہ) دیا جائے، لیکن علمائے کرام کی اس رپورٹ کو مولوی امیر علی نے مسترد کر دیا اور مسلمانوں کو جہاد پر جانے کے لیے اکسایا۔

ویب سائٹ انڈین ہسٹری کلیکٹیو میں ویلے سنگھ نے اس تنازعہ پر لکھا ہے کہ "ایودھیا میں جاری مسجد کے تنازعہ سے انگریزوں کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کو یہ توقع تھی کہ ایودھیا کا معاملہ اتنا حساس ہو جائے گا کہ پورے اودھ پر حملہ ہو جائے گا اور اس قدر خون بہے گا۔” اسی لیے انہوں نے واجد علی شاہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ امیر علی کو قابو نہ کر سکے تو انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا جائے گا۔

واجد علی شاہ کے امن مذاکرات

اس معاملے کو حل کرنے کے لیے واجد علی شاہ نے امیر علی کے سامنے تجویز پیش کی کہ وہ ایودھیا میں ایک اور مسجد بنائیں گے اور اپنی طرف سے مکہ اور مدینہ بھیجیں گے، لیکن امیر علی کے ان سب باتوں کو مان لینے کے بعد بھی جہاد کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم اس وقت کے عظیم سنی علمائے کرام مولوی سعد اللہ اور مفتی محمد یوسف اور شیعہ مذہبی رہنما مولانا سید احمد نے امیر علی کے نعرہ جہاد کی مذمت کی اور اسے غیر اسلامی مہم قرار دیا۔

واجد علی شاہ نے جنگ کے ذریعہ امیر علی کا جہاد روک دیا

لیکن امیر علی پر کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اپنے ساتھیوں سمیت 5 نومبر 1855 کو لکھنؤ سے ایودھیا کے لیے روانہ ہوگئے۔ واجد علی شاہ نے شیخ حسین علی کو ایک بار پھر راضی کرنے کے لیے بھیجا لیکن وہ راضی نہ ہوئے۔

جب وہ چند میل دور چلے گئے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ کر جنرل بارلو کی قیادت میں انگریز فوج ردولی کے قریب اس کے سامنے آگئی جس کے بعد دونوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں امیر علی کے 400 سپاہی اور انگریزوں کے 80 سپاہی مارے گئے۔

واجد علی شاہ نے ایودھیا تنازعہ کو اودھ میں نہیں پھیلنے دیا، پھر بھی اس واقعے کے تین ماہ کے اندر ہی 11 فروری 1856ء کو انگریزوں نے واجد علی شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے دی نیشن میں شائع اپنے ایک مضمون میں ہندو مسلم تنازعہ کے بارے میں لکھا ہے کہ "1857 تک ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی مذہبی تنازعہ نہیں تھا۔

ہندو مسلمانوں کے ساتھ عید مناتے تھے تو مسلمان ہندوؤں کے ساتھ ہولی اور دیوالی

ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بہت سے ایسے اختلافات ضرور تھے جن سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق کیا جاتا تھا۔ جیسے ہندو مندر جاتے تھے اور مسلمان مسجدوں کو جاتے تھے لیکن ان کے درمیان کوئی دشمنی نہیں تھی۔ دراصل ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے مددگار ہوتے تھے۔ اگر ہندو مسلمانوں کے ساتھ عید مناتے تھے تو مسلمان ہندوؤں کے ساتھ ہولی اور دیوالی میں شامل ہوتے تھے۔

مسلم حکمران جیسے مغل، نواب اودھ، نواب مرشداآباد، اور ٹیپو سلطان وغیرہ سبھی کا رویہ مذہبی طور پر غیر جانبدارانہ تھا، یہاں تک ان میں سے بہت سے لوگ رام لیلا تک کا اہتمام کیا کرتے تھے اور ہولی، دیوالی وغیرہ میں بھی حصہ لیتے تھے۔

جس طرح غالب اپنے ہندو دوست منشی شیو نارائن ارم اور ہرگوپال وغیرہ کو خطوط لکھتے تھے۔ اس وقت کے ہندو اور مسلمان بے حد قربت نظر آتی تھی۔

ہندو اور مسلمان مل کر برطانوی سامراج کے خلاف جنگیں کیں

1857 میں جب بغاوت ہوئی تو ہندو اور مسلمان مل کر برطانوی سامراج کے خلاف جنگیں کیں، اس سے برطانوی حکومت کو اتنا دھکا لگا کہ بغاوت کو دبانے کے بعد "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” کی پالیسی کو اپنایا۔

تمام مذہبی فسادات 1857 کے بعد شروع ہوئے جو برطانوی حکمرانوں کے ذریعے رچے گئے تھے۔ وہ ہندو مذہبی رہنماؤں کو بلایا کرتے تھے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بولنے کے لیے پیسے دیتے تھے۔ ساتھ ہی ہندوؤں کے خلاف بولنے کے لیے مولویوں کو بھی مال دیتے تھے۔ اس طرح ہماری سیاست میں فرقہ وارانہ زہر کی آمیزش ہوگئی۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

19 – انیسویں قسط

قرض فراہم کرنے والے ایپس سے ہوشیار رہنے کا تلنگانہ پولیس کا مشورہ

0
قرض فراہم کرنے والے ایپس سے ہوشیار رہنے کا تلنگانہ پولیس کا مشورہ
قرض فراہم کرنے والے ایپس سے ہوشیار رہنے کا تلنگانہ پولیس کا مشورہ

اپنے بیداری کے پیام میں پولیس نے کہا کہ کئی ایپس، فون پر قرضوں کی پیشکش کررہے ہیں۔ عوام جو قرض کے ضرورت مند ہیں، ان اپیس کو اپنے فون میں موجود تمام افراد کے فون نمبرات تک رسائی کی اجازت دے رہے ہیں

ٓ حیدرآباد: ایپس کے ذریعہ دیئے جانے والے قرض کے معاملات میں اضافہ کے پیش نظر تلنگانہ پولیس نے عوام کو ایسے ایپس سے چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اپنے بیداری کے پیام میں پولیس نے کہا کہ کئی ایپس، فون پر قرضوں کی پیشکش کررہے ہیں۔ عوام جو قرض کے ضرورت مند ہیں، ان اپیس کو اپنے فون میں موجود تمام افراد کے فون نمبرات تک رسائی کی اجازت دے رہے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے قرض کے لئے بھاری سود وصول کیا جارہا ہے۔ اگر کوئی بھی شخص قرض کی رقم کی ادائیگی میں ناکام ہوتا ہے یا پھر اس میں تاخیر کرتا ہے تو وہ اس کے فون میں محفوظ تمام افراد سے رابطہ کرتے اور ان کو ایس ایم ایس کرتے ہوئے اسے ہراساں کررہے ہیں۔ پولیس نے گوگل پے پر دستیاب ایسے قرض فراہم کرنے والے تقریبا 100 فرضی ایپس کے نام جاری کئے ہیں۔

تلنگانہ پولیس نے حال ہی میں بیشتر کمپنیوں کے خلاف معاملات درج کئے ہیں جو غیر قانونی طور پر قرض کی ایپس کے ذریعہ فراہمی کے کاروبارمیں ملوث ہیں۔ پولیس نے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جو اس کاروبار میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ان ایپس کے ذریعہ قرض کی ادائیگی کے بعد کمپنی کے اگزیکٹیوز کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بعض افراد نے خودکشی بھی کرلی ہے۔مختصر وقفہ کے بعد دوبارہ ایسے ایپس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس نے بعض متاثرین کی شکایت کی بنیاد پر ان کے خلاف معاملات درج کئے ہیں۔

کولگام جھڑپ میں جیش سے وابستہ دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے: آئی جی کشمیر

0
کولگام جھڑپ میں جیش سے وابستہ دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے: آئی جی کشمیر
کولگام جھڑپ میں جیش سے وابستہ دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے: آئی جی کشمیر

آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ مہلوک پاکستانی ملی ٹینٹ سال 2018 سے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سرگرم تھے

سری نگر: جنوبی ضلع کولگام کے مرہامہ گاوں میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین تصادم میں دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے۔

آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ مہلوک پاکستانی ملی ٹینٹ سال 2018 سے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سرگرم تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ملی ٹینٹ جنوبی ضلع کولگام کے مرہامہ گاوں میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر فوراً ا س علاقے کو محاصرے میں لے کر اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے کارروائی شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر دہشت گردوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔

موصوف ترجمان کے مطابق کچھ عرصے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو ملی ٹینٹ مارے گئے جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔

دریں اثنا آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ مرہامہ کولگام تصادم میں جیش سے وابستہ دو پاکستانی ملی ٹینٹ مارے گئے۔

مہلوکین کی شناخت

انہوں نے مہلوکین کی شناخت سلطان پٹھان اور زبی ا ﷲ ساکنان پاکستان کے بطور کی ۔

آئی جی کشمیر نے مزید کہا کہ دونوں سال 2018 سے شوپیاں اور کولگام بیلٹ میں سرگرم تھے اور اُن کی ہلاکت سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔

علاوہ ازیں پولیس نے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔

نندی گرام: بدعنوانی کے الزام میں ترنمول کانگریس کا لیڈر گرفتار

0

نندی گرام بلاک نمبر 1 کے داؤد پور گرام پنچایت کے سربراہ شمس الاسلام کو مالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

کلکتہ: نندی گرام سے ترنمول کانگریس کے ایک لیڈر کو سرکاری اداروں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور سرکاری پروجیکٹوں کی رقم میں غبن کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

نندی گرام بلاک نمبر 1 کے داؤد پور گرام پنچایت کے سربراہ شمس الاسلام کو مالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے بی ڈی او کے الزامات کی بنیاد پر گرام پنچایت سربراہ شیخ شمس الاسلام کو گرفتار کر لیا ہے۔ نندی گرام پولیس نے ان کے خلاف غیر ضمانتی دفعہ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے تین کارکنان نے شمس الاسلام پر بھی الزامات لگائے۔ اور ان کی گرفتاری کے بعد ترنمول کانگریس کے تینوں ارکان کو مبینہ طور پر دھمکیاں مل رہی ہیں۔ سردار کے پیروکار موٹر سائیکلوں کے ساتھ گھر میں گھوم رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے گرفتاری کے خلاف آج، ہفتہ کی صبح ٹائروں کو آگ لگا دی۔

داؤد پور کے ترنمول کانگریس کے سربراہ پر کوآپریٹو بینک میں کام کرتے ہوئے سال بہ سال بھتے لینے اور سرکاری پروجیکٹوں سے کروڑوں روپے کا غبن کرنے کا الزام تھا۔

شمس الاسلام کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ درج

شمس الاسلام کو جمعہ کی رات گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر طویل عرصے سے کرپشن کے الزامات ہیں۔ ان پر 100 دن کے کام میں کرپشن سے لے کر درختوں کی کٹائی سے رقم غبن کرنے کا الزام ہے۔ یہاں تک کہ کچھ دن پہلے پنچایت کے تین ممبران نے کلکتہ ہائی کورٹ میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

گرام پنچایت کے کل 12 ممبران۔ ان میں سے 9 چیف کے حق میں ہیں۔ باقی تین چیف کے خلاف ہیں۔ تینوں نے کرپشن کے الزامات کو منظر عام پر لایا۔ عباس شیخ گرام پنچایت کے رکن ہیں۔ انہوں نے پنچایت سربراہ کی بدعنوانی کے خلاف بی ڈی او سے شکایت کی۔ بی ڈی او کی جانچ کے بعد ہی کرپشن کا معاملہ سامنے آیا۔

پلوامہ: دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا آر پی ایف افسر چھ روز بعد دم توڑ گیا

0
پلوامہ: دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا آر پی ایف افسر چھ روز بعد دم توڑ گیا
پلوامہ: دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا آر پی ایف افسر چھ روز بعد دم توڑ گیا

پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا آر پی ایف افسر چھ دنوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد آج صبح یہاں ایک ہسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گیا

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) افسر چھ دنوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ہفتے کی صبح یہاں ایک ہسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پلوامہ کے کاکہ پورہ میں پیر کے روز اپنے ساتھی کے ساتھ پستول بردار دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا آر پی ایف سب انسپکٹر دیو راج ہفتے کی صبح یہاں شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

بتادیں کہ کاکہ پورہ پلوامہ میں 18 اپریل کو ہونے والے اس حملے میں آر پی ایف کے ایک اور اہلکار کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی تھی جس کی شناخت سریندر سنگھ کے بطور ہوئی تھی۔

پولیس نے اس ضمن میں پہلے ہی ایک کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہیں۔

یوکرین مذاکرات کے لیے امریکہ نے 40 ممالک کو دعوت نامے بھیجے

0
یوکرین مذاکرات کے لیے امریکہ نے 40 ممالک کو دعوت نامے بھیجے
یوکرین مذاکرات کے لیے امریکہ نے 40 ممالک کو دعوت نامے بھیجے

جرمنی میں یوکرین پر ہونے والے دفاعی مذاکرات میں شرکت کے لیے تقریباً 40 ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ 20 سے زیادہ ممالک نے پہلے ہی شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے

واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے اگلے ہفتے جرمنی میں یوکرین پر ہونے والے دفاعی مذاکرات میں شرکت کے لیے تقریباً 40 ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ 20 سے زیادہ ممالک نے پہلے ہی شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے یہ اطلاع دی۔

مسٹر کربی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "تقریباً 40 ممالک کو شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ 20 سے زیادہ مدعو ممالک نے آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اس لیے ہم اس اجلاس کا اہتمام کر رہے ہیں۔”

کربی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن 26 اپریل کو جرمنی میں یوکرین کے دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس کے لیے اپنے متعدد ہم منصبوں کی میزبانی کریں گے۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 45 فلسطینی زخمی

0
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن

ہلال احمر کے مطابق صبح سے ہی فلسطینی نمازیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں

غزہ: ہلال احمر نے کہا کہ جمعہ کی صبح سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 45 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلال احمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "مغربی کنارے میں نابلس شہر کے قریب بیت اور بیت دجان کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 45 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔”

دریں اثنا، یروشلم میں مسجد الاقصی میں پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے استعمال سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ ہلال احمر کے مطابق صبح سے ہی فلسطینی نمازیوں اور اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

جمعہ کو اسرائیلی پولیس نے کہا کہ حماس کے جھنڈے والے نقاب پوشوں سمیت سینکڑوں فلسطینیوں نے ٹیمپل ماؤنٹ پر بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلائی تھی۔ مظاہرین پتھر پھینک رہے تھے، پٹاخے چلا رہے تھے اور رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔