یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا وانڈرلین نے کہا کہ اس چھٹے مرحلے میں یوروپی کمیشن نے دیگر پابندیوں کے علاوہ یہ بھی تجویز کیا ہے کہ روس سے ہر طرح کی تیل کی خریداری روک دی جائے
بروسیلز: یوکرین جنگ کے باعث یوروپی یونین نے روس پر پابندیوں کے چھٹے مرحلے میں روس سے تیل کی تمام خریداری روکنے کا اعلان کردیا۔
یہ اعلان یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا وانڈرلین نے آج اسٹراسبرگ میں جاری یوروپی پارلیمنٹ کے سیشن میں روس کے حوالے سے جاری بحث کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس چھٹے مرحلے میں یوروپی کمیشن نے دیگر پابندیوں کے علاوہ یہ بھی تجویز کیا ہے کہ روس سے ہر طرح کی تیل کی خریداری روک دی جائے۔
Finally, we now propose a ban on Russian oil.
Let´s be clear: it will not be easy.
But we simply have to work on it.We will make sure that we phase out Russian oil in an orderly fashion.
To maximise pressure on Russia, while minimizing the impact on our economies pic.twitter.com/fH2wuKN5t2
— Ursula von der Leyen (@vonderleyen) May 4, 2022
اس میں پائپ لائنوں اور دیگر تمام ذرائع سے آنے والے خام تیل، ریفائنڈ آئل اور اس کی دیگر مصنوعات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی خریداری روکنے پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔ لیکن خام تیل کی خریداری آئندہ 6 ماہ کے اندر اندر روک دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ ممبر ریاستوں کی معیشت کا بہت بڑا انحصار روس سے تیل کی خریداری پر ہے۔ لیکن یوکرین پر جارحیت کے جواب میں روس کو روکنا ضروری ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پابندیوں کے چھٹے مرحلے میں روس کے کئی بینکوں پر رقوم بھیجنے کے سوئفٹ نظام، اس کے اعلیٰ فوجی حکام اور تین ریاستی ٹی وی چینلز کی یوروپین یونین میں نشریات پر پابندی کا اعلان بھی کیا۔
