اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 234

نوپور شرما کی گرفتاری کا اویسی نے کیا مطالبہ

0
نوپور شرما کی گرفتاری کا اویسی نے کیا مطالبہ
نوپور شرما کی گرفتاری کا اویسی نے کیا مطالبہ

صدر مجلس بیرسٹر اویسی نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی معطل قومی ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے

حیدرآباد: بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے محسن انسانیت حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی معطل قومی ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹرس دارالسلام میں پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک نے ہندوستانی سفرا کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کروایا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں بے عزت ہوگیا ہے۔ ملک کی خارجہ پالیسی برباد ہوگئی ہے۔ نوپور شرما کی معطلی کافی نہیں ہے بلکہ ان کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ نوپور شرما کو پارٹی کی اعلی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی جان بوجھ کر اپنے ترجمانوں کو ٹی وی مباحث میں بھیجتی ہے تاکہ وہ اشتعال انگیز بیانات دیں۔ کویت، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک نے شرما کے ان خیالات پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بیانات جاری کئے ہیں۔ قطر اور کویت نے ہندوستانی سفرا کو طلب کرتے ہوئے احتجاجی نوٹ انہیں حوالے کئے ہیں۔

صدر مجلس نے گزشتہ روز اس مسئلہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہمارے ملک کی ایک سفارتی ناکامی ہے۔ اس کے لئے مودی حکومت کے عناصر ذمہ دار ہیں۔ بیرسٹر اویسی نے ایک اور ٹویٹ میں واضح کیا تھا کہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ گستاخی کرنے والے حاشیہ بردار اور گڑبڑ کرنے والے عناصر ہیں جبکہ ان کا تعلق راست پارٹی سے ہے اور وہ پارٹی کے ترجمان ہیں۔

حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے بیرون ممالک کے رد عمل سے خوفزدہ

انہوں نے کہا کہ ان کی پشت پناہی کوئی اور نہیں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کرتے ہیں۔ اسی لئے پولیس نے ان میں سے کسی کو اب تک گرفتار نہیں کیا ہے۔ حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے ہی چھوٹے ساورکر نفرت پھیلا رہے ہیں۔ اگر نسل کشی کے لئے اکسانے والی گیانگ کو سزا دی جاتی تو بی جے پی کے ترجمانوں کی جانب سے محسن انسانیت حضور اکرمؐ کی شان میں ٹی وی کے مباحث میں توہین نہیں کی جاتی۔ اس طرح کی حرکت سے ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

بیرسٹر اویسی نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ مرکزی حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے بیرون ممالک کے رد عمل سے خوفزدہ ہے۔

بی جے پی نے غیر ملکی دباؤ میں اپنے ترجمانوں کو ہٹایا: کانگریس

0
بی جے پی نے غیر ملکی دباؤ میں اپنے ترجمانوں کو ہٹایا: کانگریس
بی جے پی نے غیر ملکی دباؤ میں اپنے ترجمانوں کو ہٹایا: کانگریس

رندیپ سنگھ سرجے والا نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے ممالک ہمارے سفیروں کو بلا کر ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں اور سفیر بی جے پی کے ترجمانوں کو ’ فرنج ایلی منٹ‘ کہہ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک بیرونی ملک نے ہمارے محترم نائب صدر کے اعزاز میں منعقد ضیافت منسوخ کر دی؟

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ترجمانوں کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر ملکی دباؤ میں اور اپنی جھینپ مٹانے کے لیے ہٹایا ہے۔

کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اپنے اقدامات سے ملک کی عزت کو ٹھیس پہنچا رہی ہے اور اپنی شرمندگی دور کرنے کے لیے بیرونی ممالک کے دباؤ میں اپنے ترجمان کو ہٹا رہی ہے۔ ترجمانوں کو ہٹا کر بی جے پی اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کے لیے اپنا رنگ بدل رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے ممالک ہمارے سفیروں کو بلا کر ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں اور سفیر بی جے پی کے ترجمانوں کو ’ فرنج ایلی منٹ‘ کہہ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک بیرونی ملک نے ہمارے محترم نائب صدر کے اعزاز میں منعقد ضیافت منسوخ کر دی۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی قیادت تنگ نظر سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملک کو فرقہ وارانہ پولرائزیشن کے تاریک دور میں دھکیل رہی ہے اور اسے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملک کی شبیہ پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی واقعی سنجیدہ ہے تو اس نے اپنے لیڈروں کو پارٹی سے نکال کر ان کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکانے کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی شاید یہ بھی جانتی ہے کہ ہندوستانی نژاد تقریباً 320 لاکھ لوگ بیرون ملک رہتے ہیں اور ان میں سے 150 لاکھ خلیجی ممالک میں ہیں۔ سال 2021 میں ان ہندوستانیوں نے ملک میں چھ لاکھ کروڑ روپے واپس بھیجے تھے، جو کل انکم ٹیکس سے زیادہ ہے۔

طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی

0
طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی
طالبان حکومت نے پیغمبر اسلام کے خلاف بیانات کی شدید مذمت کی

بی جے پی ترجمان کے متنازعہ ریمارکس کی مذمت میں اسلامی ممالک میں اب طالبان حکومت بھی شامل ہوگئی ہے، مبینہ بیان پر مسلم دنیا میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے

کابل/نئی دہلی: پیغمبر اسلام کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نکالے گئے ترجمان کے متنازعہ ریمارکس کی مذمت میں اسلامی ممالک میں اب طالبان حکومت بھی شامل ہوگئی ہے۔ مبینہ بیان پر مسلم دنیا میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان ہندوستان میں حکمران جماعت کے ایک لیڈر کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز الفاظ کے استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے بنیاد پرستوں کو دین اسلام کی توہین کرنے اور مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جوائنٹ سکریٹری جے پی سنگھ کی قیادت میں حکومت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے چند روز قبل کابل کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی تھی۔ ہندوستان افغانستان کے لوگوں کو گیہوں، ادویات اور کووڈ ویکسین فراہم کر رہا ہے۔ اس ٹیم نے وہاں ہندوستان کی طرف سے چلائے جارہے ترقیاتی منصوبوں کا بھی معائنہ کیا۔

بیرون ملک شدید تنقید کے بعد بی جے پی نے کہا، پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے

0
بیرون ملک شدید تنقید کے بعد بی جے پی نے کہا، پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے
بیرون ملک شدید تنقید کے بعد بی جے پی نے کہا، پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے

بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے آج یہاں ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں پارٹی کے حامیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مذاہب اور فرقوں کا احترام کریں اور کسی دوسرے مذہب اور اس کے پیروکاروں کی تذلیل یا توہین کرنے کی کوشش نہ کریں

نئی دہلی: وارانسی، کانپور اور دیگر مقامات پر بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اتوار کو کہا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہب یا اس کے پیروکاروں کی توہین کرنے کے خلاف ہے۔

بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے آج یہاں ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں پارٹی کے حامیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مذاہب اور فرقوں کا احترام کریں اور کسی دوسرے مذہب اور اس کے پیروکاروں کی تذلیل یا توہین کرنے کی کوشش نہ کریں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی مذہب کی توہین کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں یہاں ہر مذہب پروان چڑھا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہر مذہب کا احترام کرتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی مذہب اور اس مذہب کے کسی بھی فرد کی توہین کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے۔

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کسی بھی ایسے نظریے کی سختی سے مخالفت کرتی ہے جو کسی دوسرے مذہب یا فرقے کی توہین یا تذلیل کرے۔ بی جے پی ایسے کسی فلسفے یا شخص کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔

بی جے پی نے کہا کہ ہندوستان کے آئین میں ہر شہری کو اپنی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل کرنے اور ہر مذہب کا احترام کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ آج جب ہندوستان اپنی آزادی کی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے، ہم ایک عظیم ہندوستان کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں جہاں تمام شہری برابر ہوں اور ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ جہاں تمام شہری ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے تئیں پرعزم ہوں اور وہ ہندوستان کی ترقی کے فوائد سے لطف اندوز ہوسکیں۔

اس ریلیز کے ذریعے بی جے پی نے ملک اور بیرون ملک سیاسی تنقید کو بھی پرسکون کرنے کی کوشش کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے بھی حال ہی میں کاشی وشوناتھ مندر گیان واپی تنازعہ کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ہندو آباؤ اجداد کی اولاد قرار دیا تھا اور انہیں حملہ آوروں کو مندروں کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا

0
بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا
بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا

بی جے پی نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا ہے، بی جے پی نے کہا کہ پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہبی شخص کی توہین کی سختی سے مذمت کرتی ہے

نئی دہلی: بی جے پی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے خلاف کئے گئے متنازعہ ریمارکس کے معاملے پر بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما گزشتہ کچھ عرصے سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ پیغمبر اسلام کے خلاف ان کے مبینہ ریمارکس پر تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ آخرکار بی جے پی نے ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت واپس لے لی۔ بی جے پی کی سنٹرل ڈسپلنری کمیٹی نے مختلف معاملات پر پارٹی کے موقف کے برعکس پارٹی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے نوپور شرما کو فوری اثر سے پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔

پارٹی نے دہلی میڈیا کے سربراہ نوین کمار جندل کو یہ کہتے ہوئے پارٹی سے نکال دیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خیالات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں اور اس کے بنیادی عقائد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دہلی کے صدر آدیش گپتا کے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کی بنیادی رکنیت فوری طور پر ختم کر دی جاتی ہے اور آپ کو پارٹی سے نکالا جاتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے

واضح رہے کہ اس تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بی جے پی نے اتوار کو کہا کہ پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہبی شخص کی توہین کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔

دریں اثناء بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کسی بھی نظریہ کے خلاف ہے جو کسی بھی فرقہ یا مذہب کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ تاہم، بی جے پی لیڈر نے اپنے بیان میں کسی واقعہ یا تبصرہ کا براہ راست کوئی ذکر نہیں کیا۔

کانپور جھڑپ: حیات ظفر کی بیوی کا الزام، شوہر کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے پولیس

0
کانپور جھڑپ: حیات ظفر کی بیوی کا الزام، شوہر کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے پولیس
کانپور جھڑپ: حیات ظفر کی بیوی کا الزام، شوہر کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے پولیس

عدالت پہنچی حیات ظفر ہاشمی کی بیوی عظمی نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کا شوہر تشدد میں شامل نہیں تھا۔ اصلی گناہگاروں تک پہنچنے میں ناکام پولیس حیات کا نام زبردستی جوڑ رہی ہے

کانپور: اترپردیش کے ضلع کانپور میں گذشتہ کل دو گروپوں میں پیش آئے پرتشدد جھڑپ میں پولیس کے ذریعہ کلیدی ملزم کے دعوی کے ساتھ گرفتار کئے گئے حیات ظفر ہاشمی کی بیوی نے الزام لگایا ہے کہ اصلی گناہگاروں تک پہنچنے میں ناکام پولیس اس کے بے قصور شوہر کو تشدد کا بلی کا بکرا بنانا چاہتی ہے۔

بیکن گنج علاقے میں جمعہ کو پیش آئے پرتشدد واقعہ میں پولیس نے تین مقدمے درج کرتے ہوئے ہفتہ کی شام تک 24 ملزمین کو گرفتار کیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ واقعہ کے کلیدی ملزم مولانا محمد علی جوہر فینس ایسوسی ایشن کا صدر حیات ظفر ہاشمی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عدالت پہنچی ہاشمی کی بیوی عظمی نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کا شوہر تشدد میں شامل نہیں تھا۔ اصلی گناہگاروں تک پہنچنے میں ناکام پولیس حیات کا نام زبردستی جوڑ رہی ہے۔

عظمی نے کہا کہ انہیں عدالت پر پورا اعتماد ہے اور انصاف ضرور ملے گا۔ عظمی نے بتایا کہ نپور شرما کے بیان کے سلسلے میں اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے ہاشمی نے بند کی اپیل ضروری کی تھی لیکن پولیس اور اتنظامیہ کے ذریعہ اجازت نہ ملنے پر بند کو واپس لے لیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے سبھی حامیوں سے بند میں شامل نہ ہونے کی اپیل بھی کی تھی۔ جمعہ کو پورے دن حیات ظفر گھر پر ہی رہے اور باہر بھی نہیں نکلے تھے۔

کانپور تشدد: حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد گرفتار، حالات پرامن

0
کانپور تشدد: حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد گرفتار، حالات پرامن
کانپور تشدد: حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد گرفتار، حالات پرامن

پولیس اطلاع کے مطابق بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ پیغمبر محمد ؐ کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے سلسلے میں ایک گروپ مشتعل تھا اور اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد نئی سڑک پر جمع ہوا تھا۔ مظاہرین بی جے پی ترجمان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ شرپسند عناصر نے پتھر بازی شروع کردی جس کے بعد ماحول بگڑ گیا

کانپور: اترپردیش کے ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں گذشتہ کل دو گروپوں میں پیش آئے پرتشدد واقعہ کے سلسلے میں پولیس نے ابھی تک کلیدی ملزم حیات ظفر ہاشمی سمیت 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانپور کے پولیس کمشنر وجئے سنگھ مینا نے بتایا ’جمعہ کو 18 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ 6 مزید افراد کو آج گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ابھی تک شناخت کئے گئے 36 ملزمین میں سے پولیس نے 24 کو گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں کچھ سازش رچنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں ’ان کی شناخت حیات ظفر ہاشمی جو کہ ایم ایم جوہر فینس ایسوسی ایشن کا قومی صدر ہے۔ ایم ایم کے ہی ریاستی صدر جاوید احمد خان، ممبر محمد راہی اور محمد سفیان کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ انہوں نے شہر چھوڑ دیا ہے اور جاوید احمد لکھنؤ میں یوٹیوب چینل چلاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق لکھنؤ میں انہیں ٹریک کیا گیا اور کرائم برانچ کی ٹیم نے انہیں ہفتہ کو حضرت گنج علاقے سے گرفتار کرلیا۔

عدالت سے ملزمین کی 14 دنوں کو پولیس تحویل طلب کی جائے گی

انہوں نے کہا کہ 6 موبائل اور کچھ دستاویزات برآمد کئے گئے ہیں جنہیں فورنسک ٹیسٹ کے لئے بھیجا جائے گا۔ ان کے بینک اکاونٹ چیک کئے جائیں گے اور اس نکتے کی جانچ کی جائے گی آیا ان کا کسی دوسری تنظیم بشمول پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے تو نہیں ہے۔ انہیں آج عدالت میں پیش کرکے عدالت سے ان کی 14 دنوں کو پولیس تحویل طلب کی جائے گی۔

مینا نے کہا کہ ابھی تک گرفتار ملزمین نے پانچ۔چھ افراد کے نام بتائے ہیں لیکن ان ارادوں اور سازشوں کو جاننے کے لئے تفصیلی تحقیق کی جائے گی۔ عدالت سے ان کی 14 دنوں کی پولیس حراست طلب کی جائے گی تاکہ پورے نیٹ ورک کا انکشاف کیا جاسکے۔ تاکہ جو افراد بھی اس سازش کے پیچھے ہیں ان کی شناخت کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی اور یہ پیغام دینے کے لئے کہ ایسی حرکتیں قطعی برداشت نہیں کی جائیں گی شرپسند عناصر اور سازش رچنے والوں کی ملکیت کو قرق و منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پی ایف آئی نے منی پور اور مغربی بنگال میں 3/6/2022 کو اس تعلق سے بند کا اعلان کیا تھا اور ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان کا اس سے کچھ تعلق ہے۔ یہ تفتیش کا موضوع ہے اور جلد ہی اسے مکمل کرلیا جائے گا۔

متعدد ٹیمیں ملزمین کی گرفتاری کے لئے کوشاں

پولیس کمشنر نے کہا کہ متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کچھ ٹیم کانپور تشدد میں شامل افراد کی شناخت پر کام کررہی ہیں تو کچھ ملزمین کی گرفتاری کے لئے کوشاں ہیں۔ سازش کے اینگل کو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ واقعہ کے سلسلے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ افراد نے شہر کا ماحول خراب کرنے کی سازش رچی تھی۔

وہیں دوسری جانب متاثرہ علاقے میں آج حالات پرامن ہیں۔ ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر بازار مکمل طور سے بند رہے۔ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کے لئے کثیر تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ جمعہ کی دیر رات حالات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے شرپسند عناصر سے پوری سختی کے ساتھ نپٹنے کی ہدایت دی تھی۔

اس پرتشدد جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی

قابل ذکر ہے کہ پیغمبر محمدؐ کے خلاف بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے خلاف ضلع کانپور کے بیکن گنج تھانہ علاقے میں جمعہ کو اعلان کیا گیا بند و مظاہرہ دو گروپوں کے درمیان کشیدگی کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ اس پرتشدد جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی ہوئے تھے۔

اس تعلق سے جمعہ کی شام اپنے بیان میں اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (نظم نسق) پرشانت کمار نے بتایا تھا کہ متاثرہ علاقے میں اضافہ پولیس تعینات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سازش رچنے والوں اور شرپسند عناصر کے خلاف گینگسٹر کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ ان کی املاک قرق یا منہدم کی جائیں گی۔

بی جے پی ترجمان نپور شرما کے خلاف نعرے بازی کے دوران شرپسند عناصر کی پتھر بازی

پولیس اطلاع کے مطابق بی جے پی ترجمان نپور شرما کے ذریعہ پیغمبر محمد ؐ کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرے کے سلسلے میں ایک گروپ مشتعل تھا اور اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد نئی سڑک پر جمع ہوا تھا۔ مظاہرین بی جے پی ترجمان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ شرپسند عناصر نے پتھر بازی شروع کردی جس کے بعد ماحول بگڑ گیا۔ مظاہرہ دو گروپوں کے مابین پرتشدد جھڑپ کی شکل اختیار کرگیا۔ حالات اس قدر بے قابو ہوگئے کہ شرپسند عناصر کی جانب سے پتھراؤ کے ساتھ فائرنگ و بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔

اے ڈی جی پرشانت کمار کے مطابق کانپور کے بیکن گنج تھانے کے نئی سڑک علاقے میں کچھ افراد نے بازار کی دوکانیں بند کرانے کی کوشش کی جس کی دوسرے گروپ کے ذریعہ مخالفت کی گئی۔اس کی وجہ سے دونوں گروپوں میں تشدد پھوٹ پڑا اور پتھربازی شروع ہوگئی۔ اس ضمن میں اطلاع ملنے کے بعد پولیس کمشنر کے ساتھ اعلی افسران موقع پر پہنچے اور ضروری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کو حکومت نے کافی سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کے لئے اضافی پولیس فورس بشمول 12 کمپنی پی اے سی کو وہاں روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افسران بھیجے جارہے ہیں۔ وہاں جن جن بھی افراد نے پتھراؤ کیا ہے ان کی پہچان کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو وافر مقدار میں ویڈیو فوٹیج موصول ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔

مودی کے پتے پر راہل گاندھی کا طنز

0
مودی کے پتے پر راہل گاندھی کا طنز
مودی کے پتے پر راہل گاندھی کا طنز

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا، "گھر کا پتہ’ لوک کلیان مارگ رکھنے سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے گھر کا پتہ لوک کلیان مارگ ہے، لیکن مسٹر مودی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ‘لوک کلیان’ رکھنے سے لوگوں کا کوئی بھلا نہیں ہوتا۔

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا، "گھر کا پتہ’ لوک کلیان مارگ رکھنے سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پی ایم نے 6.5 کروڑ ملازمین کے حال اور مستقبل کو برباد کرنے کے لیے’ ‘مہنگائی بڑھاؤ، کمائی کم کرو‘ ماڈل کو لاگو کیا ہے۔

https://twitter.com/RahulGandhi/status/1532960456087703553?s=20&t=eDpq5fE-ZRqXXWLK87MezA

اس کے ساتھ کانگریس لیڈر نے اخباری رپورٹ کے ساتھ چھپے اعداد و شمار بھی پوسٹ کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کی شرح 40 سال میں سب سے کم سطح پر ہے۔

 گستاخ رسول بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے: ڈاکٹر ایوب سرجن

0
 گستاخ رسول بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے: ڈاکٹر ایوب سرجن
 گستاخ رسول بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے: ڈاکٹر ایوب سرجن

ڈاکٹر ایوب سرجن نے نوپور شرما کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو نوپور شرما کو ترجمان کے عہدے سے ہٹاکر ان کے خلاف کیس درج کرکے گرفتار کیا جائے

پرتاپ گڑھ: بی جے پی کی پوری سیاست فسطائیت پر منحصر ہے، ان کے پاس ملک کو آگے لے جانے والا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، صرف ایک ایجنڈا مسلمانوں و اسلام کو گالی دینا اور مساجد کو مندر قرار دے کر ملک کے ماحول کو خراب کرنا ہے۔

بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف ٹی وی ڈیبیٹ میں قابل مذمت الفاظ کا استعمال کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا کام کیا ہے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے نوپور شرما کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو نوپور شرما کو ترجمان کے عہدے سے ہٹاکر ان کے خلاف کیس درج کرکے گرفتار کیا جائے۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے جو پیغمبر اسلام کے خلاف قابل مذمت الفاظ کا استعمال کیا ہے، یہ بی جے پی حکومت کا بیان مانا جائے گا۔ عوام کی حکومت کے تئیں بڑھتی ناراضگی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بی جے پی نے مسلمانوں و اسلام کے خلاف جو مہم چلائی ہے، اسی کے ضمن میں نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف نازیبا کلمات کا استعمال کر ملک کو جو توڑنے کی سازش کی ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔

ملک توڑنے والا بیان دے کر ہندووں کو خوش نہیں کر سکتے

بی جے پی اور اس کے معاون وقت وقت پر ملک توڑنے والا بیان دے کر ہندووں کو خوش نہیں کر سکتے، یہاں کے ماحول میں سیکولرزم کی گھٹّی گھلی ہوئی ہے، ملک بہت عظیم ہے۔ ملک میں جو اس وقت مساجد کو مندر قرار دے کر ماحول کو خراب کرنے کا کام کیا جا رہا ہے، اس سے ملک وشوا گرو نہیں بن سکتا ہے۔ ملک کے لئے مسلمانوں نے قربانی دی ہے، وہ ضائع نہیں جائے گی۔ بی جے پی و اس کی معاون تنظیمیں مسلمانوں کے جذبات سے کھیل کر جو نفرت کا بیج بو رہی ہیں، اس سے عالمی سطح پر ملک کی بڑی بدنامی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوپور شرما جیسے لوگ ملک کے تئیں وفادار نہیں ہو سکتے۔ ملک کے مفاد میں شرما کے خلاف بلا تاخیر کیس درج کر گرفتار کیا جائے۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ اگر نوپور شرما کے خلاف کیس درج کر گرفتار نہیں کیا جاتا ہے، تو یہ حکومت کا بیان مانا جائے گا۔ پیس پارٹی اس کے خلاف تحریک چلا کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔

مذہبی آزادی کی رپورٹ پر بھارت نے امریکہ پر ناراضگی کا اظہار کیا

0
مذہبی آزادی کی رپورٹ پر بھارت نے امریکہ پر ناراضگی کا اظہار کیا
مذہبی آزادی کی رپورٹ پر بھارت نے امریکہ پر ناراضگی کا اظہار کیا

واشنگٹن میں مذہبی آزادی کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ ہندوستان جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ہم لوگوں اور مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں

نئی دہلی: ہندوستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ برائے 2021 کے ہندوستان کے بارے میں پائے جانے والی رپورٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست اور بدنیتی پر مبنی خیالات پر کوئی نتیجہ نہیں نکالا جانا چاہئے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں امریکی رپورٹ کے بارے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ "ہم نے امریکی محکمہ خارجہ کی 2021 کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ اور سینئر امریکی حکام کے نامکمل اور غلط معلومات پر مبنی تبصرے دیکھے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ووٹ بینک کی سیاست کھیلی جارہی ہے۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ سیاسی طور پر حوصلہ افزا معلومات اور تعصب پر مبنی آراء سے گریز کیا جائے۔‘‘

مسٹر باگچی نے کہا کہ ہندوستان فطرتا ایک تکثیری معاشرہ ہونے کے ناطے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں ہم نے نسل پرستی سے متاثر حملوں، نفرت انگیز جرائم اور بندوق سے تشدد سے متعلق مسائل کے بارے میں مسلسل اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ہندوستان میں مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں: مذہبی آزادی کی رپورٹ

واشنگٹن میں مذہبی آزادی کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ ہندوستان جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ہم لوگوں اور مذہبی مقامات پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کی ایک باڈی نے پیر کو بائیڈن انتظامیہ سے سفارش کی کہ ہندوستان کو اس کی مذہبی آزادی کی حیثیت کے تناظر میں ایک خاص تشویش والے ملک کے طور پر درجہ بندی کی سفارش کی تھی۔ ہندوستان کے علاوہ چین، پاکستان، افغانستان سمیت 11 دیگر ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔