اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 233

پاکستان نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی امریکی رپورٹ خارج کی

0
پاکستان نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی امریکی رپورٹ خارج کی
پاکستان نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی امریکی رپورٹ خارج کی

امریکی کمیشن کی بین الاقوامی مذہبی آزادی پر 2022 کی رپورٹ نے پاکستان کو ‘خصوصی تشویش کا ملک’ کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے کی سفارش کی ہے

اسلام آباد: پاکستان کی وزارت خارجہ نے ملک میں خراب ہوتی مذہبی آزادی پر مبنی امریکی رپورٹ کو ’’من مانی‘‘ اور ’’سبجیکٹیو‘‘ تشخیص قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے ہفتہ وار میڈیا بیان میں کہا کہ اس طرح کی رپورٹس کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ نوعیت کے اعتبار سے یک طرفہ ہیں اور تخلیقی وابستگی کے عنصر سے خالی ہیں۔

مسٹر احمد نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹ اکثر زمینی حقیقت اور ملک کی کوششوں کو پوری طرح سے پیش نظر نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت ہم نے دیکھا ہے کہ ایسی رپورٹس ہمیشہ یک طرفہ ہوتی ہیں۔ آپ ان رپورٹس میں مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے مسائل اور مختلف حالات کے تناظر اور انہیں پیش کرنے کے طریقے میں کچھ دوہرے معیارات واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

مسٹر احمد نے کہا کہ پاکستان عالمگیر نوعیت کے انسانی حقوق کے احترام کے لیے پرعزم ہے۔ یہ ملک میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے احترام کو یقینی بنانے کے لئے تہہ دل سے وقف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے لیے متعدد اصلاحات کی ہیں اور وہ ان معاملات پر اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ تعمیری طور پر جڑا ہوا ہے۔

امریکی کمیشن کی بین الاقوامی مذہبی آزادی پر 2022 کی رپورٹ نے پاکستان کو ‘خصوصی تشویش کا ملک’ کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں ملک پر بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے ذریعہ بیان کردہ مذہبی آزادی کی منظم اور سنگین خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

گستاخ رسول آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آئین کے پاسدار جیل بھیجے جارہے ہیں: کلیم الحفیظ

0
گستاخ رسول آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آئین کے پاسدار جیل بھیجے جارہے ہیں: کلیم الحفیظ
گستاخ رسول آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آئین کے پاسدار جیل بھیجے جارہے ہیں: کلیم الحفیظ

مسٹر کلیم الحفیظ نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ آئین کا مذاق اڑانے والے اور ملک کی شبیہ خراب کرنے والے تو اپنے بنگلوں میں عیش کررہے ہیں اور آئینی حق کا استعمال کرکے احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیجا جارہا ہے

نئی دہلی: موجودہ حکومت میں جمہوریت کا قتل کیا جارہا ہے۔ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کی گئی اور ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مجلس کے ذمہ داران کو کل سارے دن پولیس کسٹڈی میں رکھا گیا اور آج عدالت نے ضمانت دینے کے بجائے جیل بھیج دیا، جبکہ گستاخی کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے عدالت کے ذریعے جیل بھیجے جانے کا حکم سنانے کے بعد کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیشہ آئین کے دائرے میں رہ کر بات کرنے والے قائد مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی پر جھوٹی ایف آئی آر کرائی جارہی ہے۔ دہلی میں بھی مجلس کے کارکنان کو مقامی پولیس ہراساں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ہم اللہ کے رسول کی محبت میں جیل جارہے ہیں۔ ہم کوئی چور یا ڈاکو نہیں ہیں۔ یہ ہمارے لیے نصیب کی بات ہے۔ لیکن اس سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ حکومت اے آئی ایم آئی ایم کی طاقت سے خوف کھاتی ہے۔اسی لیے تو اس نے چند مٹھی بھر لوگوں کو احتجاج تک نہیں کرنے دیا۔ کسی جمہوری ملک میں پر امن احتجاج کرنا عوام کا حق ہے۔

موجودہ حکومت انگریزوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے

صدر مجلس نے کہا کہ موجودہ حکومت میں آئین کی نہیں بلکہ شاہ کی چلتی ہے۔ یہ حکومت انگریزوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ عوام کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ لیکن ہندوستان کی انصاف پسند عوام چپ بیٹھنے والی نہیں ہے وہ گستاخان رسول کو سزا دلوانے تک اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

مسٹر کلیم الحفیظ نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ آئین توڑنے والے اور ملک کی شبیہ خراب کرنے والے تو اپنے بنگلوں میں عیش کررہے ہیں اور آئینی حق کا استعمال کرکے احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیجا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا رسول کی شان میں گستاخی کرنے والے ہندوستانی عوام کے دشمن ہیں۔

انھوں نے مسلمانوں کا تو دل ہی دکھایا ہے لیکن ملک کی معیشت کو بربادی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ ہمارے جیل جانے سے کسی کا جرم کم نہیں ہوجاتا۔ دنیا سب دیکھ رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو اس کا حساب دینا ہوگا۔

کلیم الحفیظ نے مجلس کے وابستگان سے اپیل کی کہ وہ ہمت نہ ہاریں۔ بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اپنا پر امن احتجاج جاری رکھیں، اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو جیل بھرو آندولن بھی شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کل یعنی 9 جون کو مجلس دہلی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی جس کی پولیس نے اپنی دی ہوئی پرمیشن کینسل کردی تھی اور پارٹی کے 30 ذمہ داران کو جس میں دہلی کے صدر بھی تھے گرفتار کرلیا تھا۔ آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انھیں جیل بھیج دیا۔ اب اگلی سنوائی 13 جون کو ہوگی۔

جیل جانے والوں میں صدر کے علاوہ راجیو ریاض، انور اقبال نقوی، سرتاج عالم، اصغر انصاری، فہمید حسن، سمیر خان، شاہدعلی خان، شاہنواز ہندوستانی، محمد شاہد وغیرہ تھے۔ تین لوگوں افضل آفریدی، حاجی انتظار پردھان اور فخرالدین کو کل شام رہا کردیا گیا تھا۔

انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے

0
انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے
انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے

ایودھیا کے باشندے پہلے بابری مسجد کو سیتا رسوئی مسجد کہتے تھے

ایودھیا میں واقع ہنومان گڑھی میں مسجد کے انہدام کی جھوٹی خبر کے بعد ایودھیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کا پہلا واقعہ اس لیے ہوا کہ انتہا پسند مسلمانوں کا گروپ بابری مسجد کے اندر ٹھہرا ہوا تھا اور مسجد ہی میں سب کو مار دیا گیا تھا، اسی لیے خود بابری مسجد بھی متنازعہ ہو گئی۔

خاص بات یہ ہے کہ اس وقت تک ایودھیا کے باشندے بابری مسجد کو سیتا رسوئی مسجد کہتے تھے۔ تاہم اس وقت تک انگریز ملک پر قابض ہو چکے تھے، اس لیے معاملہ انگریزوں کے ہاتھ میں پہنچ چکا تھا۔

انگریزوں نے مسلمانوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جب کہ ہندوؤں کو مسجد کے باہر پوجا کرنے کی اجازت تھی

1859 میں انگریزوں نے مسلمانوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے اور ہندوؤں کو مسجد کے باہر خاردار تاروں سے گھیر کر پوجا کرنے کی اجازت دی تھی۔ 1877 میں مسجد کے متولی سید محمد اصغر نے انگریزوں سے مسجد کے بیرونی احاطے میں رام چبوترہ کی تعمیر کی شکایت کی جس کے بعد انگریزوں نے ایک ٹیم بھیجی لیکن اس معاملے میں مداخلت نہیں کی۔ اس پلیٹ فارم پر ہندوؤں نے بھجن کیرتن کرنے لگے اور معاملہ کچھ دنوں کے لیے ٹھنڈا ہوگای۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ میں ہندو اور مسلمان متحد ہوگئے

سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ معاملہ صرف ایودھیا تک محدود تھا کیونکہ 1857ء میں انقلاب کا بگل بج چکا تھا اور ہندو مسلم اتحاد کا پرچم لہراتے ہوئے سب انگریزوں کے خلاف محاذ تیار کرچکے تھے۔

جھانسی کی رانی لکشمی بائی، تانتیا ٹوپے، نانا صاحب پیشوا، بیگم حضرت محل، کنور سنگھ، منگل پانڈے، مولانا احمد اللہ شاہ اور مولانا فضل حق خیرآبادی جیسے لوگوں نے انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن کئی ریاستوں اور چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا مگر بہت سارے راجواڑوں اور چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے اس جنگ میں انگریزوں ک ہیا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ہم آزادی کی پہلی جنگ نہیں جیت سکے۔

ہزاروں ہندوستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ہزاروں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، بعض کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت بننے والے بہادر شاہ ظفر کو انگریز حکمرانوں نے گرفتار کر کے رنگون بھیج دیا۔

انگریزوں کے خلاف انقلاب کا بگل

چند ہائیوں کے بعد ایک بار پھر ہندوستانیت کی لہر نے طوفان کی شکل اختیار کر لی اور بیسویں صدی کے دوسری دہائی میں ایک بار پھر انگریزوں کے خلاف انقلاب کا بگل بجادیا گیا۔

اس بار بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خاں، رام پرساد بسمل، راج گرو، نیتا جی سبھاش چندر بوس، راجہ مہندر پرتاپ، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اور مولانا حسرت موہانی جیسے نام اس جدوجہد میں شامل رہے۔

تقسیم ہند

ہندوستانی انقلابیوں کی دوسری جماعت کانگریس کی قیادت میں کھڑی ہوی اور پھر مہاتما گاندھی کی شکل میں ہندوستانیوں کو ایک مسیحا ملا اور ہم 1947 میں آزاد ہوئے لیکن انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ہم سب کے سینے پر ایک زخم لگ گیا اور اس خوبصورت ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اس کام کو مذہب کے نام پر انجام دیا گیا اور ملک کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے محمد علی جناح کو اپنا ایجنٹ بنایا۔

حیرت کی بات ہے کہ ملک کی تقسیم جیسے اہم فیصلے میں ملک کے ہندو اور مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ صرف جناح اور مسلم لیگ کی آواز پر ملک دو حصوں میں تقسیم ہوا، جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کی تقسیم کے بارے میں رائے عامہ جاننے کے لیے ریفرنڈم کرایا جاتا۔

کئی ممتاز مسلم اداروں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی

خاص بات یہ تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مذہبی رہنما اور سنی مسلمانوں کی ایک عظیم شخصیت بھی قیام پاکستان کی مخالفت میں تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مولانا آزاد اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ لاکھوں مسلمان تھے۔

ان کے علاوہ سنی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے معروف مذہبی رہنما مولانا حسین احمد مدنی بھی پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتے رہے۔ دوسری طرف شیعہ طبقے کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے اسٹیج سے بڑے بڑے شیعہ علمائے کرام ملک کی تقسیم کی مخالفت کر رہے تھے۔

سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ اللہ بخش سمرو بھی جناح کے دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے سندھ میں اس وقت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ اسمبلی کو بتایا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ملک کی تقسیم نہیں چاہتے ہیں، ان کے علاوہ احرار تحریک کے سرکردہ رہنما سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے۔

اس وقت ملک کے 4 کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آل انڈیا مومن کانفرنس کی جانب سے ملک کی تقسیم کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ لیکن انگریزوں نے اس احتجاج پر توجہ نہیں دی، انگریز پاکستان کے قیام کے خلاف اٹھنے والی آواز کو نظر انداز کر رہے تھے تاکہ انہیں یہ لگے کہ متحدہ اور وسیع ہندوستان مستقبل میں مغربی ممالک کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔

اس سے پہلے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا

تقسیم ہند سے پہلے انگریزوں اور ان کے اتحادیوں نے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا اور وہ سمجھ چکے تھے کہ اپنے مخالفین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا برطانوی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں ہے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

19 – انیسویں قسط

20 – بیسویں قسط

آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو 6 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد بری

0
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو 6 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد بری
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو 6 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد بری

میدنی نگر، پلامو ضلع سول کورٹ کے ایم پی ایم ایل اسپیشل کورٹ کے مجسٹریٹ ستیش کمار منڈا کی عدالت نے آج آر جے ڈی سربراہ و بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو جی آر کیس نمبر 2676/2021 کے معاملے میں ڈیڑھ ماہ کی سزا و چھ ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی ہے

رانچی: جھارکھنڈ میں مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی معاملے میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے آج غلطی کا اقرار کیا لیکن 6ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد انہیں معاملے سے بری کردیا گیا۔

میدنی نگر، پلامو ضلع سول کورٹ کے ایم پی ایم ایل اسپیشل کورٹ کے مجسٹریٹ ستیش کمار منڈا کی عدالت نے آج آر جے ڈی سربراہ و بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو جی آر کیس نمبر 2676/2021 کے معاملے میں ڈیڑھ ماہ کی سزا و چھ ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

مسٹر یادو یہ سزا پہلے ہی کاٹ چکے ہیں اس لئے آج انہیں جرمانہ ادا کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اس معاملے میں گڑھوا کے اس وقت کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر سبھاش سنگھ نے لالو پرساد یادو و ہیلی کاپٹر کے ڈرائیور کے خلاف گڑھوا تھانے میں نامزد ایف آئی آر گڑھوا تھانہ کیس نمبر 101/2009 بتاریخ 7 اپریل 2009 کو درج کرایا تھا۔

جھارکھنڈ میں مثالی ضابطہ اخلاق کی خلا ف ورزی

مسٹر یادو پر الزام تھا کہ مورخہ 7 اپریل 2009 کو 12:53 بجے دن میں گڑھوا گووند ہائی اسکول کے میدان میں وہ بغیر اجازت کے راشٹریہ جنتادل کے عام اجلاس میں ہیلی کاپٹر اتارا تھا اور مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس معاملے میں لالو پرساد یادو نے آج عدالت میں اپنی غلطی قبول کی۔ عدالت نے لالو پرساد یادو کو ڈیڑھ ماہ کی سزا و چھ ہزار روپے کا جرمانہ لگایاہے۔

واضح رہے کہ لالو پرساد یادو ڈیڑھ ماہ کی سزا اس معاملے میں قبل میں ہی کاٹ چکے ہیں۔ آج انہیں اس کیس سے رہا کیا گیا۔ لالو پرساد یادو اس معاملے میں مارچ 2018 سے مئی 2018 تک سزا قبل میں ہی کاٹ چکے ہیں۔ لالو پرساد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 188, 279, 290,291/34 اور 127 (3) آر پی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

لالو پرساد یادو کی جانب سے وکیل دھیریندر پرساد سنگھ نے پیروی کی۔ وہیں حکومت کی جانب سے اے پی پی اویناش شکلا حکومت کا موقف رکھا۔ ادھر کورٹ کے باہر لالو پرساد یادو کے حامیوں کا ہجوم امڈ پڑا۔ لالو پرساد یادو کا دیدار کرنے کیلئے لوگوں کی نگاہی ٹکی رہیں۔

پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر

0
پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر
پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر

معروف سیاسی و علمی و ادبی رہنما پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے اردو دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں

پٹنہ: جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے معروف رہنما و پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبئہ اردو کے سابق صدر اور بہار قانون ساز کونسل میں جنتا دل یونائٹیڈ کے ڈپٹی لیڈر پروفیسر اسلم آزاد کا آج ایمس پٹنہ میں لگ بھگ گیارہ بجے دن میں انتقال ہوگیا۔

وہ ان دنوں سخت علیل چل رہے تھے۔ پروفیسر آزاد کو گزشتہ سال کورونا ہوا تھا جس کے بعد ان کی صحت میں بتدریج گراوٹ آتی رہی۔ گزشتہ دنوں دہلی کے گنگا رام اسپتال اور میکس اسپتال میں ایڈمٹ کرایا گیا تھا۔ گنگا رام اسپتال میں قریب بیس دنوں تک ایڈمٹ رہنے کے بعد واپس پٹنہ آگئے تھے۔ جہاں ان کی رہائش گاہ حرمت اپارٹمنٹ، پھلواری شریف میں رہ کر انکا علاج ڈاکٹر وجئے پرکاش کے یہاں ہو رہا تھا مگر انکی صحت میں خاطر خواہ کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ تین دن قبل ان کو ایمس پٹنہ میں ایڈمٹ کرایا گیا۔ جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا۔ انکے بیٹے پروفیسر آفتاب اسلم کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی گاﺅں مولا نگر، سیتامڑھی میں کل صبح میں ہوسکتی ہے۔ اردو دنیا کیلئے یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔

پروفیسر اسلم آزاد بحیثیت استاد شعبئہ اردو پٹنہ یونیورسٹی

پروفیسر اسلم آزاد اردو فکشن تنقید کا ایک معتبر نام تھا، انہوں نے بحیثیت استاد شعبئہ اردو پٹنہ یونیورسٹی میں لمبی خدمات انجام دیں۔ 1978 میں پروفیسر اسلم آزاد شعبئہ اردو سے منسلک ہوئے، 1990 میں پہلی بار شعبئہ اردو کے صدر مقرر ہوئے، اس کے بعد کئی مرتبہ صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز رہے۔ 2014 میں شعبہ اردو سے سبکدوش ہوئے، اسلم آزاد نے کئی ادبی سرمایہ بھی چھوڑا جن میں اردو ناول آزادی کے بعد، عزیز احمد بحیثیت ناول نگار، قرةالعین حیدر بحیثیت فکشن نگار، آنگن ایک تنقیدی مطالعہ، اردو کے غیر مسلم شعراء وغیرہ شامل ہے۔ اسلم آزاد شاعر کی حیثیت سے بھی منفرد شناخت رکھتے تھے، ان کا شعری مجموعہ "نشاط کرب” مقبول عام ہوا۔

پروفیسر اسلم آزاد کا سیاسی سفر

پروفیسر اسلم آزاد کا سیاسی سفر 1983 سے شروع ہوا، مختلف پارٹیوں کے انتخابی نشان پر میدان میں بھی اترے مگر کامیاب نہیں ہوئے، پھر 2006 میں جنتا دل یونائٹیڈ میں شامل ہوئے اور 11 مئی 2006 سے 2012 تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن رہے۔ کونسل میں جنتا دل یونائٹیڈ کے ڈپٹی لیڈر بھی ہوئے، جب تک آپ ایوان میں رہے مسلم مسائل کو بے باکی سے اٹھاتے رہے۔ نتیش کمار ان کی ادبی صلاحیت کے معترف تھے اور انہیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے.

ان کے انتقال سے بہار سمیت ملک بھر کے اردو دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں ان کے شاگرد رشید سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر اظہار احمد، امارت شرعیہ پٹنہ کے نائب صدر مفتی ثناءالہدیٰ قاسمی، مولانا انیس الرحمان قاسمی، شہاب ظفر اعظمی، سنی وقف بورڈ کے چیئر مین الحاج ارشاد اللہ، امن چین کے مدیر اعلیٰ سید مشتاق احمد، ڈاکٹر سرور عالم ندوی، ڈاکٹر محمد صادق حسین، ڈاکٹر مسعود احمد کاظمی، ڈاکٹر محمد منہاج الدین، مولانا محمد عارف حسین سمیت دیگر کے نام قابل ذکر ہیں۔

شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کی شروعات

0
شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کی شروعات
شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار کی شروعات

بی ایس ای مڈ کیپ 42.72 پوائنٹس بڑھ کر 22607.19 پر اورا سمال کیپ 90.73 پوائنٹس بڑھ کر 26,156.03 پر کھلا

ممبئی: شیئر بازار میں بدھ کو تیزی کے ساتھ کاروبار شروع ہوا۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) سینسیکس 238.17 پوائنٹس اوپر اٹھ کر 55345.51 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 58.6 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 16,474.95 پر کھلا۔

سبز نشانات کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 42.72 پوائنٹس بڑھ کر 22607.19 پر اورا سمال کیپ 90.73 پوائنٹس بڑھ کر 26,156.03 پر کھلا۔

واضح رہے کہ بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس منگل کو 567.98 پوائنٹس گر کر 55107.34 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 153.20 پوائنٹس گر کر 16416.35 پوائنٹس پر آگیا تھا۔

پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کے بعد کویت میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ

0
پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کے بعد کویت میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ
پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کے بعد کویت میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ

ناصر الملتیری نے کہا کہ ہم پیغمبر اسلام کی توہین پر ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہم نے کویتی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اسے قبول نہ کریں

کویت سٹی/نئی دہلی: پیغمبر اسلام کے بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے معطل عہدیداروں کے قابل اعتراض ریمارکس پر اسلامی ممالک میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد کویت کی سپر مارکیٹوں میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔

الاردیہ کوآپریٹو سوسائٹی میں ہندوستانی مصالحے، چائے اور دیگر مصنوعات کو پلاسٹک کی چادروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور ان مصنوعات کو کویت سٹی سے باہر لے جایا جا رہا ہے۔ سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) ناصر الملتیری نے کہا کہ ہم پیغمبر اسلام کی توہین پر ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہم نے کویتی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اسے قبول نہ کریں۔ دیگر خلیجی ممالک نے بھی بی جے پی کے نکالے گئے کارکن نوین جندل اور سابق ترجمان نوپور شرما کے بیانات کی مذمت کی۔

کویتی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ہندوستانی سفیر سی بی جارج کو طلب کرکے اس ریمارکس پر احتجاج کیا۔ مسٹر جارج نے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ایشیا امور سے ملاقات کی۔ انہوں نے سرکاری احتجاجی خط مسٹر جارج کے حوالے کیا۔ خط میں کویت کی صریح ناپسندیدگی اور حکمراں بی جے پی لیڈر کے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بیانات کی مذمت کی گئی ہے۔

کویتی وزارت خارجہ نے کہا کہ کویت نے بی جے پی کے پارٹی عہدیداروں کی معطلی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

کویت میں ہندوستانی سفارت خانے کے سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بیانات کسی بھی طرح حکومت ہند کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا قوی اندیشہ: اختر الایمان

0
بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا قوی اندیشہ: اختر الایمان
بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا قوی اندیشہ: اختر الایمان

بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے اختر الایمان نے کہا کہ اردو مترجمین اور نائب اردو مترجمین کی بحالی کو موجودہ حکومت نے ایک مسئلہ اور ایک معمہ بنا رکھا ہے

پٹنہ: بہار میں اردو ٹرانسلیٹر کی بحالی میں بدعنوانی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اور بہار اسمبلی کے رکن و فلور لیڈر اختر الایمان نے کہا کہ اردو مترجمین اور نائب اردو مترجمین کی بحالی کو موجودہ حکومت نے ایک مسئلہ اور ایک معمہ بنا رکھا ہے۔

آج یہاں جاری ایک ریلیز میں انہوں نے کہا کہ مورخہ 12 فروری 2022 کو بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن کے مکتوب نمبر 520 کے ذریعہ 182 اردو ٹرانسلیٹر کو کامیاب قرار دے کر لیٹر جاری کیا گیا اور 3/4 مارچ 2022 کو تمام امیدواروں کی کونسلنگ بھی کی گئی اور دو چار کو چھوڑ کر سب کو درست قرار دیا گیا اور کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ ہی مزید کوئی کاغذ مانگا گیا۔ جس کی وجہ سے سارے امیدوار مطمئن تھے کہ ان کی ملازمت ہوگئی۔ لیکن مورخہ26 اپریل 2022 کو بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن نے غیر متوقع طور پر اپنے مکتوب نمبر 1547 کے ذریعہ مزید 308 اردو امیدواروں کو 13/14/12 مئی 2022 کونسلنگ کے لیے بلایا گیا۔

تقریبا سو امیدواروں کی بحالی مسترد

معتبر ذرائع سے اطلاع ملی کہ پہلی لسٹ کے تقریبا ایک سو امیدواروں کی بحالی کو مسترد کردیا گیا اور اس کی کوئی وجہ نا تو اخبار میں دی گئی نہ امیدوار کو بتائی گئی نہ ہی کمیشن کے ویب سائٹ پر ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن نے 3 جون 2022 اپنے مکتوب نمبر 2099 کے ذریعہ 149 کامیاب اردو ٹرانسلیٹر کی فہرست جاری کی۔ جب کہ 182 اردو مترجمین کے عہدے پر بحالی کی جانی ہے آخر 33 امیدواروں کی لسٹ کیوں نہیں شائع کی گئی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کمیشن کس ضابطے کے تحت امیدواروں کو کامیاب اور ناکام قرار دے رہا ہے وہ اپنی پالیسی اور پیمانہ کیوں نہیں ظاہر کرتا ہے۔

مسٹر اختر الایمان نے کہا کہ جس انداز سے بحالی کی کارروائی کی جا رہی ہے اس میں شفافیت نظر نہیں آتی ہے۔ بعض امیدواروں نے ان سے مل کر بتایا کہ میرا نام پہلی میرٹ لسٹ میں شامل ہے اور میں نے سارے کاغذات بھی پیش کر دیے ہیں اس کے باوجود میرا نام بلا وجہ بتائے کامیاب امیدواروں کی لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کونسل ہند کے ناظم اعلی ڈاکٹر اسلم جاوداں نے بھی مجھ سے مل کر اسٹاف سلیکشن کمیشن کے بحالی کے طور طریقے میں شفافیت پر سوال کھڑا کیا ہے۔

اردو آبادی میں بے چینی اور مایوسی کی لہر

انہوں نے اسلم جاوداں کے مطابق دعوی کیا کہ ڈاکٹر عشرت صبوحی پہلی لسٹ میں کامیاب قرار دی گئیں ان کے سارے کاغذات بھی درست پائے گئے۔ لیکن دوسری لسٹ نکال کر ان کو ناکام قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح سے محمد افروز نہال کو دوسری لسٹ کے ذریعے کونسلنگ میں بلایا گیا ان کے بھی سارے کاغذات درست تھے لیکن فائنل لسٹ میں ان کا نام نہیں دیا گیا اور نہ کوئی وجہ بتائی گئی ۔اس طرح کے درجنوں معاملات اردو آبادی کو پریشان کئے ہوئے ہیں اور اس میں بے چینی اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن تمام معاملات کو الجھا کر کورٹ میں پہنچا دینا چاہتا ہے، تاکہ یہ بحالی رک جائے اور اردو آبادی کے نوجوان بے روزگار ہی رہ جائیں۔

مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر نے وزیر اعلی بہار سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی سنگینی اور نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر اس کی بحالی میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ وگرنہ اس کے منفی اثرات سے بچا نہیں جا سکتا ہے۔

شیئر بازار میں دباؤ کے ساتھ کاروبار کا آغاز

0
شیئر بازار میں دباؤ کے ساتھ کاروبار کا آغاز
شیئر بازار میں دباؤ کے ساتھ کاروبار کا آغاز

شیئر بازار نے منگل کو گراوٹ کے ساتھ کاروبار شروع کیا، بی ایس ای مڈ کیپ 47.46 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 22692.37 پر اور اسمال کیپ 2.87 پوائنٹس گر کر 26,237.57 پر کھلا۔

ممبئی: شیئر بازار نے منگل کو گراوٹ کے ساتھ کاروبار شروع کیا۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا سینسیکس 302.14 پوائنٹس گر کر 55373.18 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 99.95 پوائنٹس گر کر 16469.60 پر کھلا۔

سرخ نشان کے ساتھ کھلے شیئر بازار میں مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں گراوٹ نظر آئی۔ بی ایس ای مڈ کیپ 47.46 پوائنٹس کے دباؤ کے ساتھ 22692.37 پر اور اسمال کیپ 2.87 پوائنٹس گر کر 26,237.57 پر کھلا۔

واضح رہے کہ بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس پیر کو 93.91 پوائنٹس اتر کر 55675.32 پوائنٹس پر آگیا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 14.75 پوائنٹس پھسل کر 16,569.55 پوائنٹس پر رہ گیا۔

اہانت رسول معاملہ: معطلی کافی نہیں جیل ضروری: مایاوتی

0
اہانت رسول معاملہ: معطلی کافی نہیں جیل ضروری: مایاوتی
اہانت رسول معاملہ: معطلی کافی نہیں جیل ضروری: مایاوتی

اہانت رسول ؐ کے سلسلے میں ملک وبیرون ملک میں جاری مذمتی بیانات کے بعد آج سابق یوپی وزیر اعلی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’ملک میں سبھی مذاہب کا احترام ضروری ہے۔ کسی بھی مذہب کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال مناسب نہیں

لکھنؤ: اہانت رسول کے سلسلے میں بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے بیان پر جاری چو طرفہ تنقید کے درمیان بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے پیر کو بی جے پی ترجمان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ’صرف ان کو معطل کرنے یا نکالنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ انہیں سخت قوانین کے تحت جیل بھیجا جانا چاہئے۔

اہانت رسول ؐ کے سلسلے میں ملک وبیرون ملک میں جاری مذمتی بیانات کے بعد آج سابق یوپی وزیر اعلی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’ملک میں سبھی مذاہب کا احترام ضروری ہے۔ کسی بھی مذہب کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال مناسب نہیں۔ اس معاملے میں بی جے پی کو بھی اپنے لوگوں پر سخت سے شکنجہ کسنا چاہئے۔ صرف ان کو معطل یا نکالنے سے کام نہیں چلے بلکہ ان ان کی سخت قوانین کے تحت جیل بھیجنا چاہئے‘۔

انہوں نے اپنے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا ’اتنا ہی نہیں بلکہ کانپور میں ابھی حال ہی میں جو پرتشدد واقعہ پیش آیا ہے۔ اس کی تہہ تک جانا بہت ضروری ہے۔ بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ اس تشدد کے خلاف ہو رہی پولیس کاروائیوں میں بے قصور افراد کا پریشان نہ کیا جائے‘۔

قابل ذکر ہے کہ کچھ دنوں قبل بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی ڈبیٹ میں نبی آخر الزماں کے شان میں گستاخی کی تھی۔جس کے خلاف یوپی کے ضلع کانپور میں پر امن مظاہرے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں پولیس شرپسند عناصر کے خلاف لگاتار کاروائی کررہی ہے۔ وہیں اہانت رسول کا معاملہ بین الاقوامی شکل اختیار کرگیا اور چور طرفہ مذمت و تنقید کے بعد بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کردیا۔