منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 233

بھارت بند کے پیش نظر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ

0
بھارت بند کے پیش نظر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ
بھارت بند کے پیش نظر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ

اگنی پتھ معاملے میں احتجاج کو روکنے کیلئے اے پی میں پولیس سخت حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے

حیدرآباد: فوج میں ملازمت کے خواہشمندوں کی جانب سے آج منائے جانے والے بھارت بند کے پیش نظر تلنگانہ کے اہم مانے جانے والے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

گذشتہ جمعہ کو اس اسٹیشن پر پُرتشدد احتجاج کیا گیا تھا اور ٹرینوں کو آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد پولیس کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ اگنی پتھ اسکیم پر برہم، نوجوانوں کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں میں مظاہرے کی اطلاع کے ساتھ ہی چوکسی اختیار کی گئی ہے اور سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سمیت دیگر تمام ریلوے اسٹیشنوں اور سرکاری دفاتر میں ہائی الرٹ کردیا گیا۔

سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا اور ریاپڈ ایکشن فورس کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔

اے پی میں ہائی الرٹ

اگنی پتھ معاملے میں احتجاج کو روکنے کیلئے اے پی میں پولیس سخت حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے تاکہ ریلوے اسٹیشنوں میں کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی یا پھر تشدد کو روکا جاسکے۔ ریلوے اسٹیشنوں میں آرپی ایف سمیت سویلین پولیس اور دیگر پولیس فورسس کو تعینات کرتے ہو ئے سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

پولیس نے اے پی کے بڑے شہروں جیسے وجئے واڑہ، گنٹور، وشاکھاپٹنم، تروپتی اور دیگر میں ریلوے اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے دفاتر اور آر ٹی سی بس اسٹینڈز پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ مشتبہ افراد کی تلاشی لی جارہی ہے۔

ہندوستان میں اقتدار کی جنگ نہرو سے شروع ہوئی تھی جو موجودہ بی جے پی تک چلی

0
ہندوستان میں اقتدار کی جنگ نہرو سے شروع ہوئی تھی جو موجودہ بی جے پی تک چلی
ہندوستان میں اقتدار کی جنگ نہرو سے شروع ہوئی تھی جو موجودہ بی جے پی تک چلی

مہاتما گاندھی نے وزیر اعظم کا عہدہ مسلمانوں کو اور صدر کا عہدہ ہندوؤں کو دینے کی تجویز پیش کی تھی لیکن نہرو اس پر راضی نہیں ہوئے

کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی مسلمان دل سے یہ نہیں چاہتا تھا کہ ملک تقسیم ہو، لیکن جناح اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ملک کی تقسیم ہوئی۔ تاہم محمد علی جناح یا مسلم لیگ ہی محض وہ عناصر نہیں تھے جو ملک کی تقسیم چاہتے تھے، بلکہ بعض دیگر ایسے عناصر بھی تھے جو چاہتے تھے کہ ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جائے۔

اسی لیے ان عناصر نے ملک کی تقسیم کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ جب مہاتما گاندھی پوری کوشش کر رہے تھے کہ ملک تقسیم نہ ہو، انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو یہ تجویز بھی دی تھی کہ وزیر اعظم کا عہدہ مسلمانوں کو اور صدر کا عہدہ ہندوؤں کو دیا جائے، لیکن نہرو اور ان کے ساتھی اس پر متفق نہیں تھے۔

تقسیم ہند کا تنازعہ

بہر حال ملک کی تقدیر میں جو لکھا تھا وہی ہوا اور ملک بٹ گیا۔ کئی کروڑ لوگ بے گھر ہو گئے۔ اس تقسیم کی وجہ سے پھوٹنے والے فسادات میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

تقسیم کے اس زخم کے باوجود ملک نے 90 سال بعد 15 اگست 1947 کی صبح آزادی کی پہلی کرن دیکھی اور پورے ملک نے آزادی کا جشن منانا شروع کر دیا لیکن ملک کی آزادی کا جشن اس وقت مدھم پڑ گیا جب 30 جنوری 1948 کو ناتھو رام گوڈسے نے دہلی کے برلا مندر میں گاندھی جی کو گولی مار کر ان کا قتل کر دیا۔ گوڈسے کی اس بزدلانہ حرکت کے بعد ملک میں فرقہ پرستی کا جنون تھم سا گیا اور پورا ملک گاندھی کے قتل کے سوگ میں ڈوب گیا۔

ایودھیا مندر مسجد کا تنازعہ

ایودھیا میں مندر مسجد کا تنازعہ، جو گزشتہ سو سال سے سرد پڑا تھا، 1949 میں ایک بار پھر اس وقت گرم ہوا جب بابری مسجد کے اندر رام للا کی مورتی رکھ دی گئی۔

ہندوؤں کا کہنا تھا کہ بت اپنے طور پر ظاہر ہوا جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ رات کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور مورتیاں رکھ دیں۔ جب معاملہ ضلع انتظامیہ تک پہنچا تو اس نے مسجد کو متنازعہ قرار دے کر مسجد میں تالا لگا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی ملک میں مکمل طور پر امن قائم تھا اور معاملہ صرف ایودھیا تک ہی محدود رہا۔

یوں تو ملک میں کئی جگہوں پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے، لیکن ان کا ایودھیا کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن کبھی جلوس کے راستے کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان معمولی بات چیت ہو جاتی تھی اور کبھی مقامی مسئلہ پر ہندو مسلم فسادات ہوتے تھے، لیکن کبھی کوئی فساد اس طرح نہیں ہوا کہ ملک کا ماحول خراب ہو جائے۔

وشو ہندو پریشد کا عروج

1980 کی دہائی میں ایودھیا کا معاملہ اچانک گرم ہوا اور وشو ہندو پریشد اور اس سے منسلک تنظیموں نے مسجد میں پڑے تالہ کو کھولنے اور وہاں پوجا کا حق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک شروع کی۔

80 کی دہائی میں پنجاب اور گردونواح میں خالصتان تحریک چل رہی تھی، جس کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات ہو رہے تھے۔ 1984 میں امرتسر میں دربار صاحب پر ہندوستانی فوج کی کارروائی اور پھر اندرا گاندھی کے قتل اور پھر اس کے رد عمل اور انتقام کے طور پر سکھوں کے قتل عام کی وجہ سے ایودھیا کی تحریک تیز نہ ہو سکی لیکن جب 1986 میں فیض آباد کی ایک عدالت نے تالا لگانے کا حکم دیا تو رام مندر کی تعمیر کی تحریک تیز ہو گئی۔

منڈل کمیشن

رام مندر کی تعمیر کی تحریک نے 1990 میں اس وقت ملک گیر شکل اختیار کرلی جب اس وقت کے وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو قبول کرلیا اور ملک میں محروم طبقات کے اقتدار میں حصہ داری پر مہر ثبت کر دی۔ اس رپورٹ کی منظوری کے بعد پورے ملک میں ذات پات کی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس وقت ذات پات کے تناؤ سے عام لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک بڑے ایشو کی ضرورت تھی، تب بی جے پی نے منڈل کی آگ کو بجھانے کے لیے کمنڈل کو اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا شروع ہوئی۔

لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کو جب بہار میں لالو پرساد یادو نے روک دی، تو بی جے پی نے تیسرے محاذ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی اور پھر ملک میں وسط مدتی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ (اس الیکشن کے دوران راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 کو تمل دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔)

لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا سے بی جے پی کے لیے جو ماحول تیار ہوا اس سے بی جے پی کو تقویت ملی اور پارٹی نے 120 سیٹوں پر جیت حاصل کی لیکن اقتدار میں آنے کی خواہش ادھوری ہی رہ گئی اور کانگریس پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت تشکیل دے دی۔

اتر پردیش میں بی جے پی بر سر اقتدار

تاہم، بعض ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی جس میں اتر پردیش بھی شامل تھا۔ اتر پردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے منہدم کئے جانے کے بعد ملک میں گویا فرقہ وارانہ فسادات کی آگ لگ گئی۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

19 – انیسویں قسط

20 – بیسویں قسط

21 – اکیسویں قسط

اگنی پتھ اسکیم: آندھرا پردیش میں کئی ریلوے اسٹیشن بند، سیکوریٹی میں اضافہ

0
اگنی پتھ اسکیم: آندھرا پردیش میں کئی ریلوے اسٹیشن بند، سیکوریٹی میں اضافہ
اگنی پتھ اسکیم: آندھرا پردیش میں کئی ریلوے اسٹیشن بند، سیکوریٹی میں اضافہ

اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاج کے پیش نظر آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم ریلوے اسٹیشن کو بند کردیا گیا

حیدرآباد: اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاج کے پیش نظر آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم ریلوے اسٹیشن کو بند کردیا گیا اور احتیاطی طور پر سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا۔

فوج میں بھرتی کے خواہشمندوں کی جانب سے بڑے پیمانہ پر احتجاج کے امکان سے متعلق انٹلی جنس کی اطلاع کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ حکام نے ریلوے اسٹیشنوں کو بند کردیا اور ٹرینوں کو صبح سات بجے ہی روک دیا گیا۔

مسافرین کو صبح سات بجے تک ہی اسٹیشنوں میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ وجئے واڑہ سے آنے والی تمام ٹرینوں کو روک دیا گیا یا پھر ان کے رخ کو دوواڑہ ریلوے اسٹیشن کی سمت موڑ دیا گیا۔ ہوڑہ سے چلائی جانے والی ٹرینوں کے رخ کو کوتھا والاسا کی سمت موڑ دیا گیا۔

اسی دوران گنٹور میں بھی بڑے پیمانہ پر احتجاج کے امکان سے متعلق انٹلی جنس کی اطلاع کے بعد ہائی الرٹ کردیا گیا۔ حکام نے سیکوریٹی میں اضافہ کردیا اور ٹکٹس کی جانچ کے بعد ہی مسافرین کو ریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ گنٹور میں تقریبا 20 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا جو گنٹور ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔

گنٹور ریلوے اسٹیشن کے قریب احتجاج کے سلسلہ میں واٹس اپ کی پیامات کی اطلاعات کے پیش نظر یہ ہائی الرٹ کردیا گیا۔وجئے واڑہ، کرنول، تروپتی اور دیگر بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا۔

اگنی ویروں کے لیے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں 10 فیصد سیٹیں مختص

0
اگنی ویروں کے لیے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں 10 فیصد سیٹیں مختص
اگنی ویروں کے لیے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں 10 فیصد سیٹیں مختص

قبل ازیں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت سال 2022 کے اگنی ویروں کی بھرتی میں امیدواروں کو عمر کی بالائی حد میں دو سال کی رعایت دی جائے گی

نئی دہلی: اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو اعتماد میں لینے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز میں اگنی ویروں کے لیے 10 فیصد سیٹیں مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اگنی ویروں کے پہلے بیچ کو سنٹرل پولیس فورس اور آسام رائفلز کی بھرتی میں عمر کی بالائی حد میں پانچ سال اور اس کے بعد کے بیچوں کے لیے تین سال کی رعایت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

قبل ازیں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت سال 2022 کے اگنی ویروں کی بھرتی میں امیدواروں کو عمر کی بالائی حد میں دو سال کی رعایت دی جائے گی۔ وزیر داخلہ کے دفتر کی جانب سے ہفتے کو کئے گئے ٹویٹ میں کہا گیا ’’وزارت داخلہ نے سنٹرل پولیس فورسز اور آسام رائفلز میں ہونے والی بھرتیوں میں اگنی پتھ اسکیم کے تحت چار سال مکمل کرنے والے اگنی ویروں کے لیے 10 فیصد آسامیاں مختص کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔

ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ’’وزارت داخلہ نے پولیس فورس اور آسام رائفلز میں بھرتی کے لیے اگنی ویروں کے لیے عمر کی بالائی حد میں تین سال کی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اگنی پتھ اسکیم کے پہلے بیچ کے لیے یہ رعایت پانچ سال کی ہوگی‘‘۔

واضح رہے کہ تینوں سروسز میں فوجیوں کی بھرتی کے لیے حکومت نے اگنی پتھ اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت بھرتی ہونے والوں کی مدت کار صرف چار سال ہوگی۔ اس اسکیم کے خلاف ملک بھر کے نوجوان سراپا احتجاج ہیں۔

اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ

0
اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ
اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی نئی عرضی پر اترپردیش حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو اپنا جواب/اعتراضات تین دن میں داخل کرنے کے لئے کہا ہے

نئی دہلی: کانپور تشدد کے بعد مبینہ طور پر غیرقانونی مکانات میں توڑ پھوڑ روکنے کی مانگ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت سے تین دن کے اندر جواب دینے کے لئے کہا ہے۔

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی نئی عرضی پر اترپردیش حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو اپنا جواب/اعتراضات تین دن میں داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔

سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 21 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے 13 جون کو سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی داخل کی تھی۔

اپنی عرضی میں جمعیت علمائے ہند نے قانون کے عمل کے بغیر مکانوں کو نہ ڈھانے کی ہدایت دینے اور ساتھ ہی من مانی کرنے والے افسروں پر کارروائی کی بھی مانگ کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ یوپی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ قانون کے مطابق عمل کیے بغیر کوئی اور توڑ پھوڑ نہ کرے۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ وہ توڑ پھوڑ پر روک نہیں لگا سکتی ہے۔ وہ صرف اس کارروائی کو قانون کے مطابق کرنے کے لیے کہہ سکتی ہے۔

بہار میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرے

0
بہار میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرے
بہار میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرے

اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت میں امیدواروں نے بہار کے مختلف اضلاع میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی

پٹنہ: فوج میں بحالی کیلئے اعلان کردہ اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت میں امیدواروں نے آج بہار کے سارن، گوپال گنج، جہان آباد، نوادہ، گیا، آرہ، بکسر، مونگیر اور سہرسہ سمیت کئی اضلاع میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی۔

پولیس ذرائع نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف مظاہرین سڑک سے لیکر ریلوے ٹریک پر پرتشدد مظاہرہ کررہے ہیں۔

ٹرینوں کی آمد و رفت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ آرہ جنکشن ریلوے اسٹیشن اور آس پاس پرتشدد مظاہرہ کر رہے مظاہرین کو کھدیڑنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ہیں۔ مظاہرین نے اسٹیشن پر ریلوے کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

ایسٹ سینٹرل ریلوے (ای سی آر) کے چیف رابطہ افسر کے مطابق ای سی آر کے چار ریلوے ڈویژن داناپور، پنڈت دین دیال اپادھیائے، سمستی پور اور سونپور کے 7 ریل روٹوں کو متاثر کیا گیا۔ گوپال گنج میں امیدواروں نے سدھولیا میں گورکھپور ۔ پاٹلی پتر ایکسپریس ٹرین کو آگ کے حوالے کر دیا۔

ٹرین کے کئی ڈبے پوری طرح سے جل کر خاک ہوگئے۔ اسی طرح امیدواروں نے چھپرہ میں بھی ٹرینوں میں آگ لگا دی۔

امیدواروں نے سب سے پہلے پٹنہ ۔ گیا ریل سیکشن پر جہان آباد میں صبح 6 بج کر 35 منٹ پر ٹرینیں روک دیں۔ اس کی وجہ سے ریل سیکشن پر صبح 10 بج کر 08 منٹ تک آمد و رفت متاثر رہی۔ اپ اور ڈاﺅن کی کل 5 ٹرینیں متاثر رہیں۔ اس کے بعد صبح 11:30 بجے سے بیلا اسٹیشن پر مظاہرہ شروع ہوا جس کے بعد پھر ٹرینوں کو روک دیا گیا۔

جی 7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کر لیا: زیلینسکی

0
جی 7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کر لیا: زیلینسکی
جی 7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ قبول کر لیا: زیلینسکی

مسٹر زیلنسکی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’جرمن چانسلر اولاف سکولز کی طرف سے جی 7 چوٹی کانفرنس اور نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی طرف سے نیٹو کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کا دعوت نامہ ملا ہے، جسے میں تہہ دل سے قبول کرتا ہوں‘‘

کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں جرمنی میں منعقد جی 7 چوٹی کانفرنس اور میڈرڈ میں نیٹو (شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔

مسٹر زیلنسکی نے دیر رات کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’جرمن چانسلر اولاف سکولز کی طرف سے جی 7 چوٹی کانفرنس اور نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی طرف سے نیٹو کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کا دعوت نامہ ملا ہے، جسے میں تہہ دل سے قبول کرتا ہوں‘‘۔

نیویارک ٹائمز میں پہلے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت میں لوگ یوکرین میں جاری تنازع میں اپنی دلچسپی کھو دیں گے اور ساتھ ہی اس کے لیے یورپی تنظیم کے متحد ہونے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

کانفرنسوں میں زیلنسکی کی شرکت شاید یوکرین کی موجودہ صورتحال پر لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھے گی۔

سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ

0
سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ
سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ

توانائی، یوٹیلیٹیز، تیل اور گیس اور بجلی سمیت دس گروپوں میں فروخت کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی آج مسلسل چوتھے دن گراوٹ رہی

ممبئی: عالمی مارکیٹ میں تیزی کے باوجود مقامی سطح پر توانائی، یوٹیلیٹیز، تیل اور گیس اور بجلی سمیت دس گروپوں میں فروخت کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی آج مسلسل چوتھے دن گراوٹ رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 152.18 پوائنٹس گر کر 52541.39 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 39.95 پوائنٹس گر کر 15692.15 پوائنٹس پر آگیا۔ تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کی خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ اس عرصے کے دوران مڈ کیپ 0.52 فیصد بڑھ کر 21,955.28 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 25,065.95 پوائنٹس تک پہنچ گئی۔

اس دوران بی ایس ای پر کل 3442 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1519 کی قیمتوں میں کمی 1775 میں اضافہ جبکہ 148 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 25 کمپنیاں سرخ رہیں جبکہ باقی 25 سبز نشان پر رہیں۔

بی ایس ای کے 10 گروپوں میں تیزی رہی جبکہ باقی 10 میں مندی تھی۔ اس عرصے کے دوران انرجی 0.82، ایف ایم سی جی 0.29، آئی ٹی 0.59، ٹیلی کام 0.17، یوٹیلٹیز 0.79، میٹلز 0.74، آئل اینڈ گیس 0.81، پاور 0.91، ریئلٹی 0.62 اور ٹیک گروپ 0.67 فیصد گرے۔ اسی وقت آٹو گروپ 0.90 فیصد کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا تھا۔

بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 1.31، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.08، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.14 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.50 فیصد بڑھ گیا جب کہ جاپان کا نکئی 1.14 فیصد گرا۔

گوہاٹی میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، تعلیمی ادارے بند

0
گوہاٹی میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، تعلیمی ادارے بند
گوہاٹی میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، تعلیمی ادارے بند

گوہاٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک، محکمہ موسمیات کی طرف سے شہری علاقوں میں ممکنہ زبردست بارش کی وارننگ کے پیش نظر بدھ کو تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے

گوہاٹی: گوہاٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہے اور بدھ کو تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ تاہم وقفے وقفے سے بارش سے کچھ راحت ملی ہے۔

کامروپ (میٹرو) کے ڈپٹی کمشنر پلو گوپال جھا نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ "محکمہ موسمیات کی طرف سے شہری علاقوں میں ممکنہ زبردست بارش کی وارننگ کے پیش نظر بدھ کو تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ امتحانات منعقد کئے جا سکتے ہیں۔

کامروپ-میٹرو ضلع انتظامیہ نے گوہاٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور جب بالکل ضروری ہو باہر نکلیں۔

لوگوں سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی اپیل

ضلع انتظامیہ نے آسام کے کامروپ-میٹرو ضلع میں گوہاٹی اور ملحقہ علاقوں میں پانی بھرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ "اگر آپ کی رہائش گاہ پر پانی جمع ہونے یا لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے تو براہ کرم کسی محفوظ جگہ پر چلے جائیں۔”

پانی بھرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی مدد کے لیے 1077/8638112297 فون نمبر جاری کیا گیا۔

آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ (اے ایس ڈی ایم اے) اتھارٹی نے گوہاٹی میں متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے 1070 اور 1079 نمبر جاری کیے ہیں۔ منگل کی صبح شہر کے ہاتھی گاؤں، چاندماری، زو روڈ، بیلٹولا، رکمنی گاؤں سمیت کئی علاقوں میں پانی رہائشی علاقوں اور گھروں میں داخل ہو گیا۔

دوسری جانب شدید بارشوں کے باعث مٹی کا تودہ گرنے سے چار مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہ حادثہ گوہاٹی کے مغربی بورگاؤں علاقے کے نجاراپارا میں منگل کی صبح تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔

محکمہ موسمیات نے آسام اور میگھالیہ کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ بدھ کو آسام اور میگھالیہ کے علاقوں اور اروناچل پردیش کے کچھ حصوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔

ایندھن کی درآمدات کو کم کرنا ہی ہندوستان کی اقتصادی قوم پرستی: نتن گڈکری

0
ایندھن کی درآمدات کو کم کرنا ہی ہندوستان کی اقتصادی قوم پرستی: نتن گڈکری
ایندھن کی درآمدات کو کم کرنا ہی ہندوستان کی اقتصادی قوم پرستی: نتن گڈکری

وزیر نتن گڈکری نے گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی پالیسی میں تبدیلی سے ہندوستان کے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے گا

نئی دہلی: سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی پالیسی میں تبدیلی سے ہندوستان کے کسانوں کو بااختیار بنایا جائے گا اور انہیں کاشت کار سے توانائی فراہم کرنے والا بنانے کا خواب جلد ہی پورا ہوگا۔

مسٹر گڈکری نے یہ بات منگل کی دیر شام قومی میگزین پنججنیہ اور آرگنائزر گروپ کے زیر اہتمام ماحولیات پر ایک سیمینار میں کہی۔

پروگرام میں سابق مرکزی جنگلات اور ماحولیات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر، گوا کے جنگلات اور ماحولیات کے وزیر وشواجیت رانے، ہندوستان میں نیپال کے سفیر ڈاکٹر شنکر پرساد شرما، پرمارتھ نکیتن کے آچاریہ سوامی چدانند مونی جی مہاراج اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے آل انڈیا ماحولیات کے سربراہ گوپال جی آریہ نے شرکت کی۔ پنججنیہ کے ایڈیٹر ہتیش شنکر، آرگنائزر کے ایڈیٹر پرفلا کیتکر اور بھارت پرکاش کے منیجنگ ڈائریکٹر بھارت بھوشن اروڑہ نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ان کا اعزاز کیا۔

پروگرام میں دو سیشن ماہرین ماحولیات – راجستھان سے محترمہ کشیپرا ماتھر اور اتراکھنڈ سے سچیدانند بھارتی نے بھی اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔ ماحولیاتی تحفظ میں مختلف طریقوں سے تعاون کرنے والے کچھ لوگوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔

خوردنی تیل کی درآمد پر ڈیڑھ لاکھ کروڑ کا خرچ

آخری سیشن میں مسٹر گڈکری نے پنججنیہ کے ایڈیٹر ہتیش شنکر کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہر سال فوسل فیول یعنی پٹرول، ڈیزل، مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد پر تقریباً دس لاکھ کروڑ روپے خرچ کرتا ہے۔ خوردنی تیل کی درآمد پر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ملک سے باہر جانے والے اس پیسے کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سابق سرسنگھ چالک کے ایس سدرشن کہا کرتے تھے کہ ملک کے کسان بجلی، ایندھن اور خوراک تینوں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی لیک سے ہٹ کی گئی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا لیکن انہوں نے سدرشن جی کی تعلیمات کی بنیاد پر کسانوں کے فضلے اور ان کی پیداوار سے ایتھنول بنانے کی شروعات کی۔