اتوار, مئی 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 235

ملک کی بگڑتی ہوئی حالت اور عوام کی ترجیحات

0
ملک کی بگڑتی ہوئی حالت اور عوام کی ترجیحات
ملک کی بگڑتی ہوئی حالت اور عوام کی ترجیحات
تحریر: عابد انور

ملک کے حالات جوں جوں دگرگوں ہوتے جارہے ہیں، اسی طرح نفرت، عداوت، اشتعال انگیزی، نفرت انگیز بیانات اور تقاریر میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک پوری طرح جنگل راج کی گرفت میں ہے۔ جہاں ایک طبقہ کو ہر ناجائز کام کرنے کی آزادی، ظلم روا رکھنے کی کھلم کھلا چھوٹ اور نظام کو مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی غیر قانونی کارروائی کی غیر معلنہ اجازت ہے۔ اس طرح کے حالات کو جنگل راج نہیں کہا جائے گا تو پھر کیا کہا جائے گا۔

ملک میں کسی دن بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آتا جس سے اندازہ ہو یہاں انسانیت زندہ ہے۔ یہاں کا نظام پوری طرح سے انسانیت سے مبرا ہوچکا ہے اور جو بھی انسانیت کی بات کرتا ہے اسے زنداں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا نظر نہیں آتا جسے ملک کی فکر ہو، بلکہ فکر کرنے والوں کی زندگی دشوار گزار بنانے کے لئے دن رات تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں۔

ظلم کے خلاف آواز ٹھانے والوں کی تعداد دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے

فسطائی طاقتوں کے خلاف جو بھی آواز اٹھاتا ہے اس کے گھر سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس والوں کو بھیج دیا جاتاہے۔ اس کے پیچھے میڈیا کو پاگل کتے کی طرح چھوڑ دیا جاتاہے جو بغیر کسی ثبوت کے کردار کشی شروع کردیتے ہیں اور وہ سب کچھ ڈھونڈ لیتے ہیں جو چھاپہ مارنے والوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے ظلم کے خلاف آواز ٹھانے والوں کی تعداد دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے۔ اگر ہندوستان میں اکثریتی فرقہ ظالم نہیں ہے تو کم از کم ظلم کی خاموش حمایت ضرور کرتا ہے۔

آج تک کسی خالص ہندو گروپ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، اکا دکا آواز آتی بھی ہے تو  وہ ظلم اور میڈیا کے شور میں دفن ہوجاتی ہے۔ اگر یہاں کے ہندو انصاف پسند ہوتے تو کسی انتہا پسند ہندوؤں (جسے مٹھی بھر کہا جاتا ہے) کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف گالی گلوج کریں، ان کی مساجد پر بھگوا جھنڈا لہرائیں، مساجد کی بے حرمتی کریں۔

ہندوؤں کے انصاف پسند اور بھائی چارہ کا اندازہ

ہندوؤں کے انصاف پسند اور بھائی چارہ کا اندازہ لگانا ہو تو آپ فساد زدہ علاقہ کا دور کریں۔ فساد زدہ علاقہ میں مسلمانوں کے گھر، عبادت گاہ آپ کو جلے ہوئے ملیں گے جب کہ ہندوؤں کے گھر محفوظ ملیں گے۔ جہاں بھی مخلوط آبادی ہے وہاں ہندو محفوظ ہوتا ہے جب کہ مسلمان غیر محفوظ، فروری 2020 کے دہلی فسادات علاقہ کا جن لوگوں نے دورہ کیا ہوگا تو دیکھا ہوگا ایک گھر (مسلمان کا) جلا ہوا ہے لیکن اس کے متصل دوسرا (ہندو کا) گھر محفوظ ہے۔ تیسرا مسلمان کا گھر جلا ہوا ہے اور چوتھے گھر ہندو کا محفوظ ہے۔

ہندو اگر چاہتے تو وہ سامنے آکر مسلمانوں کا گھر بچا سکتے تھے لیکن کہا یہاں تک گیا ہے کہ فسادیوں کی رہنمائی ہندو پڑوسی نے کی تھی۔ باہر سے آنے والے فسادی ہندو کو کیا معلوم کہ گھر کس کا ہے، مسلمان کا ہے یا ہندو، کا ہے۔ فساد کے دوران ہندو پڑوسی ہی فسادیوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور مسلمانوں کے گھر، دکان اور ان کے ادارے کو تباہ و برباد کرنے میں فسادیوں کی مدد کرتے ہیں۔

دہلی فسادزدہ علاقہ کا دورہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ کیوں کہ سارا سسٹم ہندو زدہ (ہندوتوا کا شکار) ہوچکا ہے اس لئے ان سے کسی انصاف یا رحم کی امید کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ کسی بھی ملک کے ہر شہری کو سب سے زیادہ امید عدالتوں سے ہوتی ہے اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے ہر طرح کی ناانصافیوں اور ظلم کے خلاف عدالت کا سہارا لیتے ہیں لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے یہ راستہ بھی تقریباً مسدود ہوچکا ہے۔

عدالت کا سخت تبصرہ فیصلے میں کبھی تبدیل نہیں ہوتا

بابری مسجد فیصلہ عوام کے سامنے ہے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے فیصلے اور بعض عرضیوں پر عدالت کی خاموشی سے اس طرح کی غیر معلنہ ذہنیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ عدالت اپنے تبصرے میں حکومت، پولیس اور نظام کے خلاف سخت بات کہتی  ہے لیکن یہ سخت تبصرہ فیصلے میں کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر متعصب میڈیا کی نفرت انگیز مہم کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند کی عرضی پر تقریباً ایک درجن سماعت ہونے کے بعد بھی اب تک حتمی سماعت نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی عدالت نے میڈیا کے خلاف کوئی ہدایت جاری کی ہے۔ البتہ عدالت نے میڈیا کے خلاف سخت تبصرے کئے، نفرت کی آلودگی پھیلانے والا قرار دیا، اسی طرح دہلی فسادات میں پولیس کے کردار پر سخت تبصرہ کیا، شرجیل امام اور عمر خالد اور خالد سیفی کے معاملے میں بھی عدالت نے سخت تبصرے کرتے ہوئے پولیس کے رول پر سوالیہ نشان لگایا لیکن عدالت کا یہ تبصرہ عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں اور خالد سیفی کی ضمانت میں تبدیل نہیں ہوا۔

پولیس کو پھٹکار تو لگائی جاتی ہے لیکن سزا نہیں سنائی جاتی

مطلب صاف ہے کہ یہ تو ہیڈ لائن بن جاتی ہے کہ پولیس کو پھٹکار لگائی گئی لیکن اسی پولیس کو کسی بے گناہ کو پھنسانے کیلئے عدالت سزا نہیں دیتی۔ ایسی صورت میں انصاف کا دروازہ بھی بند ہوتا نظر آرہا ہے کہ مسلمان کس پر بھروسہ کریں، کس سے منصفی چاہیں، کس کے سامنے اپنی فریاد پیش کریں۔

اس وقت متھرا، بنارس کے گیان واپی مسجد اور تاج محل کا معاملہ چل رہا ہے جب کہ اس پر پہلے سپریم کورٹ کا رخ سامنے آچکا ہے لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ہی ضلع جج کو سماعت کے لئے کہہ دیا۔ جب کہ عبادت گاہ قانون 1991 موجود ہے۔ جس کی رو سے 15 اگست  1947 میں جو بھی عبادت گاہ کی صورت حال تھی وہ برقرار رکھی جائے گی اس کے باوجود نچلی عدالت کا سماعت کرنا غیر منصفانہ ذہنیت کی علامت ہے۔ اگر عدالت منصفانہ ہوتی تو سب سے پہلے سروے رپورٹ کو لیک کرنے والوں کو سزا دیتی، میڈیا پر کارروائی کرتی جو غیر مصدقہ لیک رپورٹ کے سہارے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔

یہ گھناؤنا کھیل سسٹم کے سہارے اس وقت کھیلا جارہا ہے جب ملک کی حالت تمام سطحوں پر نازک ہے، بھکمری، تعلیم، سماجی سطح میں بے تحاشہ گراوٹ، میڈیا کی آزادی کی رینک میں ذلت آمیز حد تک زوال، انصاف پر لوگوں کے اعتماد کا متزلزل ہونا، 80 فیصد لوگوں کے خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنا، پینے کے پانی عدم دستیابی، معاشی حالت بے حد خراب ہونا، ملک پر بڑھتا بیرونی قرض، پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ داغدار ہونا اور لوگوں کا ہندوستانی شہریت ترک کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کی صورت حال کس قدر خراب ہے۔

ہندوستان میں عدم مساوات کی تازہ ترین صورت حال

ڈوئچے ویلے سے وابستہ جاوید اختر کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چوٹی کے ایک فیصد آبادی کی آمدنی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ سب سے کم ترین آمدنی والی 10 فیصد آبادی کی آمدنی مسلسل گھٹ رہی ہے۔

وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) نے ہندوستان میں عدم مساوات کی تازہ ترین صورت حال کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر آمدنی میں عدم مساوات کی خلیج کو دور نہ کیا گیا تو سماجی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف کا حصول مشکل تر ہوجائے گا۔ یوں تو ہندوستان  میں لوگوں کی گھریلو حالت، ضروریات تک ان کی رسائی، خاطر خواہ پانی کی سپلائی اور صفائی ستھرائی میں بہتری آئی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق آمدنی میں پائی جانے والی خلیج نیز غربت او رروزگار کی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری کی ضرورت ہے۔

بھارت میں 15 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے سے بھی کم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دس فیصد افراد کی  ماہانہ آمدنی 25 ہزار روپے ہے۔ ایک ارب 30 کروڑ سے زیادہ آبادی والے بھارت میں 15 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے یا 64 ڈالر سے بھی کم ہے۔ چوٹی کے ایک فیصد افراد ملک کی قومی آمدنی کا 5 سے 7 فیصد کماتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پریشان کن بات یہ ہے کہ ان ایک فیصد افراد کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ سب سے کم ترین سطح کے 10 فیصد افراد کی آمدنی مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ بھارت کے ‘نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے‘ کے مطابق دیہی اور شہری علاقوں میں لوگوں کی آمدنی میں کافی فرق ہے۔ یہ اس لحاظ سے باعث تشویش ہے کیونکہ ملک کی بڑی آبادی شہروں کے مقابلے دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔

ماہرین سماجیات کہتے ہیں کہ عدم مساوات اور غربت ایسے عناصر ہیں جو سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کی مختلف صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ سن 2022 کے ایک مطالعے کے مطابق بھارت میں ایک ملازم کی اوسط سالانہ تنخواہ تین لاکھ 87 ہزار 500 روپے یعنی تقریباً 32 ہزار 840 روپے ماہانہ ہے جو کہ تقریباً 422 ڈالر کے برابربنتی ہے۔ لیکن یہ دیگر ملکوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ مثلاً امریکہ میں اوسطاً ماہانہ تنخواہ 4457 ڈالر اور روس میں 1348 ڈالر ہے۔

ہندوستان میں ماسٹر ڈگری والے بھی بھیک مانگنے پر مجبور

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اوسطاً کم ماہانہ تنخواہ کی وجہ سے ہی بہت سے ممالک سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور کسٹمر سروس کی ملازمتوں کے لیے بھارت میں آؤٹ سورسنگ کرتے ہیں۔ بھارت میں بہت سے افراد تکنیکی لحاظ سے مہارت یافتہ ہیں اور وہ انگلش بھی بول سکتے ہیں لہذا غیر ملکی کمپنیوں کو اس سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔

ہندوستان میں سماجی غیر آہنگی، عدم مساوات اور بے روزگاری کی صورت حال یہ ہے کہ پڑھے لکھے، ماسٹر ڈگری والے، انجینئرنگ کرنے والے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تین لاکھ 72 ہزار بھکاریوں میں سے 21 فیصد سینئر سیکنڈری اسکول پاس ہیں، تین ہزار سے زائد کے پاس پروفیشنل ڈپلوما ہے اور 410 کے پاس ماسٹرز ڈگری اور انجینئرنگ کی ڈگریاں ہیں۔

ملک میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد

ہندوستان نے 2011ء کی مردم شماری پر مبنی ’نان ورکرز بائی مین ایکٹیویٹی، ایجوکیشن لیول اینڈ سیکس‘ کے حوالے سے پچھلے دنوں اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ملک میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار ہے۔ ان میں 21 فیصد یعنی تقریباً 78 ہزار بھکاری سینئر سیکنڈری اسکول امتحان یا بارہویں درجہ پاس ہیں جب کہ تقریباً تین ہزار کے پاس تکنیکی ڈپلوما یا سرٹیفکیٹ ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں بھیک مانگنا اور بھیک دینا جرم ہیں تاہم مذہبی اور سماجی روایات کے باعث اس لعنت کو ختم کرنے کی تمام تر حکومتی کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ کیوں کہ حکومت میں عزم کی کمی ہے، انصاف کرنا اس کے خون میں شامل نہیں۔ کام کرنے آنے والوں کو پریشان کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

اس معاملے میں صرف نظام کو قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ قصوروار یہاں کے عوام ہیں جو قاتل، زانی، بدعنوان، بے ایمان، رشوت خور اور وحشی اور درندہ صفت رہنما کو منتخب کرتے ہیں۔ عوام کی ترجیحات کبھی بھی انصاف پسند حکمرانوں کو منتخب کرنے کی نہیں رہیں۔ ان کو روزگار، تعلیم، سماجی حیثیت، خوش حال زندگی اور منصفانہ معاشرہ نہیں چاہئے بلکہ وہ نفرت کی مہم چلانے والے رہنماؤں پر جان چھڑکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں عوام ووٹ دیتے نہیں ہیں بلکہ ووٹ فروخت کرتے ہیں اور تمام ناانصافیوں پر خاموش رہتے ہیں۔

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

ٹی وی چینلوں کے نفرت انگیز مباحثوں میں نام نہاد مسلم ایکسپرٹ کی شرکت

0
ٹی وی چینلوں کے نفرت انگیز مباحثوں میں نام نہاد مسلم ایکسپرٹ کی شرکت
ٹی وی چینلوں کے نفرت انگیز مباحثوں میں نام نہاد مسلم ایکسپرٹ کی شرکت

ٹی وی چینلوں پر خاص ایجنڈے کے تحت ہونے والی بحث و مباحثوں میں شرکت کا آخر کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی نام نہاد ’مسلم ایکسپرٹ‘ یہ بتا سکتا ہے کہ ان مباحثوں کا حاصل کیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ملک میں صحافت کے معیار اور اس کی معتبریت پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں، اب نیوز چینلوں پر ہونے والے مباحثے سماج اور صحافت کے دامن پر بد نما داغ بن گئے ہیں۔ چینلوں کے ذریعہ جلتی آگ میں گھی ڈالا جا رہا ہے۔ یہ مباحثے عام شہری کو بیدار اور باشعور بنانے کی بجائے ان کے اندر نفرت اور زہر بھر نے کا کام کر رہے ہیں۔ ان مباحثوں میں کوئی مدلل بات کی بجائے ہنگامہ برپا نظر آتا ہے، معنی خیز بحث سے زیادہ شور سنائی دیتاہے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا عام بات ہو گئی ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن اور پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ ٹی وی مباحثے اب مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کا آسان ذریعہ بن گئے ہیں۔ پارٹیوں کے ترجمان اور سیاستدانوں کے درمیان ہونے والی بحث و مباحثہ اور تکرار تو سمجھ میں آتی ہے، مگر مذہبی لبادہ پہن کر اسلام اور مسلمانوں کے مسائل پر بحث کرنے والے نام نہاد ’ایکسپرٹس‘ نے نہ صرف مباحثوں کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ہے، بلکہ مذہبی معاملات کو سڑک چھاپ بحثوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ لوگ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام کرنے والے چینلوں اور ان کے اینکروں کے آلہ کار بھی بن گئے ہیں۔ ان سب سے زیادہ ملک و قوم کے لئے خطرناک بات یہ ہے کہ اکثر نیوز چینل ایک منظم طریقے سے فرقہ پرست طاقتوں کی آواز بن چکے ہیں اور ان کے ’پرچارک‘ نظر آتے ہیں۔

یہ مباحثے ملت کی توقیر کا سبب بن رہے ہیں یا پھر تذلیل کا؟

حال ہی میں ان ٹی وی مباحثوں کے دوران کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے بعد متعدد سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اور یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا یہ مباحثے کسی مہذب معاشرے کے لئے سود مند ہیں؟ کیا ان سے سماج کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟ کیا ان ٹی وی مباحثوں سے عام ہندوستانی کا کچھ بھلا ہو رہا ہے؟ کیا عام شہریوں میں بنیادی مسائل کے تئیں کوئی بیداری پیدا ہو رہی ہے؟ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا خاص طور پر مذہبی معاملات پر ہونے والی بحثوں سے ملک اور ملت کو کیا حاصل ہوا ہے؟ یہ مباحثے ملت کی توقیر کا سبب بن رہے ہیں یا پھر تذلیل کا؟ کیا مذہبی امور پر ان بحثوں میں شامل ہونے والے پینلسٹ اپنا موقف مضبوطی کے ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں؟ کیا ان ’مسلم ایکسپرٹس‘ کو ان ٹی وی مباحثوں میں شامل ہونا چاہئے؟ اور ان نام نہاد ماہرین کو کس نے ٹی وی پر بحث کے لئے مامور کیا ہے؟ کیوں کہ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نام نہاد مسلم دانشور اور ماہرین فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے آلہ کار بن چکے چینلز و اینکرس کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ٹی وی کے مباحثوں میں مقدس مذہبی شخصیات پر کیچڑ اچھالی جا رہی ہے

در اصل یہ بحث و مباحثے ہنگامہ، شور شرابہ، تو تو میں میں، گالی گلوچ اور ٹی آر پی کے کھیل سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ بحث کے معیار کی بات کون کرے، دشنام طرازی اور ایک دوسرے کی تذلیل سے ہوتے ہوئے اب بات مذہب اور مقدس مذہبی شخصیات کی توہین تک پہنچ چکی ہے۔ یہ شاید انتہا ہے کہ ٹی وی کے مباحثوں میں مقدس مذہبی شخصیات پر کیچڑ اچھالی جا رہی ہے۔

ان سب کے لئے جتنے ذمہ دار چینل اور ان کے اینکر ہیں، اس سے کہیں زیادہ قصور وار وہ نام نہاد ’مسلم ایکسپرٹس‘ ہیں جو ٹی وی پر اپنے چہرے چمکانے کے لئے اور سستی شہرت اور دولت حاصل کرنے کے مقصد سے ان مباحثوں میں شامل ہوتے ہیں۔ کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جن ٹی وی مباحثوں میں وہ شامل ہوئے ہیں اور مسلم مسائل پر جو گفتگو ہوئی ہے، ان سے ملک و ملت کو کتنا فائدہ ہوا؟ کیا وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا موقف بہتر طریقے سے رکھنے میں کامیاب ہو گئے؟ کیا انہیں اپنی بات دلائل اور مضبوطی کے ساتھ رکھنے کا پورا موقع دیا گیا؟

نہاری کی دکان چلانے والا ایک شخص بحیثیت ’مسلم اسکالر‘ اکثر نیوز چینلوں پر نظر آتا ہے

ایسا نہیں ہے کہ ان مباحثوں میں شامل ہونے والے سبھی ’مسلم ایکسپرٹس‘ سستی شہرت اور چند پیسوں کے لئے ٹی وی کی بحثوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن سے راقم الحروف بخوبی واقف ہے اور یقیناً وہ لوگ اپنا موقف پیش کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ میں نے کافی عرصہ پہلے نیوز چینلوں کی بحث دیکھنے اور اس میں شامل ہونے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، مگر چند روز پہلے کسی نے بتایا کہ دہلی میں نہاری کی دکان چلانے والا ایک شخص کرتا پائجامہ اور ٹو پی پہن کر بحیثیت ’مسلم اسکالر‘ شام کو اکثر نیوز چینلوں پر نظر آتا ہے، یہ تو ایک مثال ہے۔ درجنوں چینلوں کو درجنوں کے حساب سے ’مسلم ماہرین‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں ان چینلوں کو اپنا ایجنڈہ سیٹ کرنے میں جو بھی مددگار نظر آتا ہے، وہ اس کو بحث میں شامل ہونے کے لئے بلالیتے ہیں۔ جب بحث و مباحثے کا یہ معیار ہو، تو پھر اس میں باشعور اور سمجھدار لوگوں کے شامل ہونے کا کیا مطلب ہے۔

مباحثوں میں شامل ہونے سے فی الحال کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہئے

میرے خیال سے انہیں نہ صرف چینلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے، بلکہ ان چینلوں کو اپنا احتجاج درج کرواتے ہوئے مباحثوں میں شامل ہونے سے فی الحال کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان ٹی وی مباحثوں کا خاص مقصد اسلام اور مسلمانوں کی تذلیل ہے۔ اب کھلے عام یا تو اینکر یا پھر دشنام طرازی کے لئے بلائے گئے دیگر پینلسٹ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بلا جھجھک نا زیبا تبصرے کرتے ہیں اور جب کوئی مسلم اس کا جواب دینا چاہتا ہے تو یہ بحث فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ صحافت کے تمام اخلاقی اصولوں اور اقدار و روایات بالائے طاق رکھ دئے جاتے ہیں۔

ٹی وی کے یہ مباحثے مسلمانوں کے حق میں بالکل بھی نہیں ہیں

جب ان نام نہاد ’مسلم ایکسپرٹس‘ کے خلاف سوشل میڈیا یا سماج میں کوئی مہم چلتی ہے تو دلیل دی جاتی ہے کہ اگر ہم نہیں جائیں گے تو ہماری بات دوسروں تک نہیں پہنچے گی۔ یہ در اصل اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کا ایک حربہ ہے۔ جیسا میں نے پہلے بھی کہا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ جن مباحثوں میں وہ شامل ہوئے ہیں، وہ واقعی با معنی، با مقصد تھے اور کیا ان کو ایمانداری کے ساتھ اپنی بات رکھنے کا موقع دیا گیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹی وی کے یہ مباحثے مسلمانوں کے حق میں بالکل بھی نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کا موقف پیش کرنے کے لئے چینلوں کے اسٹوڈیو نہیں سجائے جاتے ہیں۔ بلکہ ان کی تذلیل اور رسوائی کا اسٹیج تیار کیا جاتا ہے۔

بہر حال ان مسلم پینلسٹ کو چاہئے کہ وہ بیک وقت ایک ساتھ کچھ عرصہ کے لئے ان مباحثوں کا بائیکاٹ کر دیں اور کسی بھی چینل پر اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرے میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیں، پھر آپ دیکھیں گے کہ ان چینلوں اور اینکروں کے ذریعہ سجائی جانے والی نفرت اور فرقہ پرستی کی دکانیں بند ہو جائیں گی۔ عام ناظرین تک بھی یہ اپنا ایجنڈہ پہنچانے میں ناکام ہو جائیں گے۔

مسلم پینلسٹ کو مشورہ

ٹی وی مباحثوں میں شامل ہونے والے مسلم پینلسٹ اگر واقعی اپنی بات ایمانداری کے ساتھ عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو وہ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور غیر جانبدار صحافیوں کے ذریعہ چلائے جانے والے یو ٹیوب چینلوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔ جہاں وہ اردو کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں بھی اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ آج کل ان کی رسائی بھی نیوز چینلوں سے کم نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ محض چند پیسوں اور سستی شہرت کے لئے چینلوں اور فرقہ پرست نیوز اینکروں کی نفرت انگیز مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان چینلوں کا مقصد دیگر پینلسٹ کے ذریعہ اسلام اور مذہبی شخصیات کے خلاف تبصرہ کرکے مسلم پینلسٹ کو مشتعل کرنا اور عام مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہوتا ہے۔ یہی فرقہ پرستوں کا اصل ایجنڈہ بھی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ دونوں ہی فرقوں کے پینلسٹ مذہبی امور میں معمولی جانکاری رکھتے ہیں، مگر بحث کے دوران بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مسلم پینلسٹ ان مباحثوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیں یا اگر پھر بھی جاتے ہیں تو کم از کم پوری تیاری اور مضبوطی کے ساتھ اپنی بات رکھیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں۔

کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو محفوظ طریقے سے آباد کیا جائے: کجریوال

0
کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو محفوظ طریقے سے آباد کیا جائے: کجریوال
کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو محفوظ طریقے سے آباد کیا جائے: کجریوال

کشمیری پنڈت بہادری کے ساتھ کشمیر میں واپس آ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنا گھر بسایا۔ لیکن اب ان کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا ہے جو 90 کی دہائی میں ہوا تھا

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے بدھ کو کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے لیکن اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔

کجریوال نے آج کہا کہ مرکزی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ کشمیری پنڈتوں کو محفوظ بنائے۔ اس سال سرکاری ملازم راہل بھٹ سمیت 16 کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے۔ کشمیری پنڈت آج بہت غمزدہ ہیں۔ ان کی حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ انہیں دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ کشمیری پنڈت بہادری کے ساتھ کشمیر میں واپس آ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنا گھر بسایا۔ لیکن اب ان کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا ہے جو 90 کی دہائی میں ہوا تھا۔ ان کے گھروں اور دفاتر میں گھس کر سڑکوں پر چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر انسانی ہے۔ یہ انسانیت اور ملک کے خلاف ہے۔ اسے روکنے کے لیے کوئی کچھ نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ جب کشمیری پنڈت بھائی بہن اس پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو انہیں اپنی کالونی میں بند کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ آواز نہ اٹھا سکیں۔ وہ لوگ اپنے کسی قریبی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر جب اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

کشمیر میں رہنے والے ہندو اور مسلمان سب مل جل کر رہنا چاہتے ہیں

یہ کیسا انصاف ہے؟ چاہے وہ سرکاری ملازم راہل بھٹ ہوں، سری نگر کے کیمسٹ ایم ایل بندرو ہوں یا اسکول ٹیچر رجنی بالا، اس سال 16 کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے۔ یہ سب کشمیری معاشرے کا حصہ ہیں۔ کشمیر کا عام آدمی چاہتا ہے کہ کشمیر میں رہنے والے ہندو اور مسلمان سب مل جل کر رہیں اور خوشی سے رہیں لیکن دہشت گرد قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ وہ ایک ساتھ رہیں۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کا اتحاد دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

کجریوال نے کہا کہ کشمیری پنڈت آج کشمیر واپس آنا چاہتے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے لیے کشمیر ان کی جائے پیدائش ہے۔ جب کوئی اپنا آبائی وطن چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں رہنے کے لیے جاتا ہے تو وہاں خواہ وہ کتنی ہی سہولتیں دے لیکن اس کا گھر اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اپنی مٹی اپنی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک الگ تعلق ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کشمیری پنڈت ٹرک ڈرائیوروں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ سامان منتقل کیا جا سکے۔ انہیں کشمیر چھوڑ کر جموں یا کسی دوسری ریاست میں جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وقت ایک بار پھر لوٹ رہا ہے جو 90 کی دہائی میں تھا۔ اب یہ زندگی میں دوسری بار کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہم انہیں تحفظ نہیں دے سکے۔ میرا مطالبہ ہے کہ انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کی آواز کو دبانا نہیں چاہیے، یہ ان کی جائے پیدائش ہے۔ انہیں کشمیر میں آباد ہونے کا حق ملنا چاہیے۔ میں مرکزی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو بسانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

بجلی کے معاملے میں خود کفیل ہوا بہار، این پی جی سی کی تیسری یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع

0
بجلی کے معاملے میں خود کفیل ہوا بہار، این پی جی سی کی تیسری یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع
بجلی کے معاملے میں خود کفیل ہوا بہار، این پی جی سی کی تیسری یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر راج کمار پانڈے نے آج بتایا کہ تیسری یونٹ سے 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہورہی ہے جس سے بہار کو 561 میگاواٹ بجلی ملنے لگی ہے

اورنگ آباد: بہار میں اورنگ آباد ضلع کے نبی نگر اور بارون بلاک کی سرحد پر واقع این ٹی پی سی لمیٹیڈ کی مکمل ملکیت والی کمپنی نبی نگر پاور جنریٹنگ کمپنی کے تیسرے یونٹ سے آج بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر راج کمار پانڈے نے آج بتایا کہ تیسری یونٹ سے 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہورہی ہے جس سے بہار کو 561 میگاواٹ بجلی ملنے لگی ہے۔ تیسری یونٹ کے چالو ہونے کے ساتھ ہی نبی نگر پاور جنریٹنگ کمپنی کا یہ پہلا پروجیکٹ ہو گیا ہے اور اس سے اب 1980 میگا واٹ بجلی کی پیداوار ہونے لگی ہے۔

اس سے بہار کو سالانہ 162 کروڑ روپے کی بچت ہوگی

مسٹر پانڈے نے بتایا کہ این پی جی سی کی نبی نگر پروجیکٹ کی تما م تینوں یونٹوں سے کمرشیل بجلی پیداوار شروع ہونے سے بہار کو 1683 میگا واٹ بجلی ملنے لگی ہے۔ چیف ایگزیکٹو افسر نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کی تعمیر پر قریب 18000 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے اور یہ ریاست بہار کی ترقی میں معاون ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بجلی پروجیکٹوں کے مقابلے اس پروجیکٹ سے پیدا شدہ بجلی بہار کو سستی شرح پر مل رہی ہے۔ اس سے بہار کو سالانہ 162 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔

چیف ایگزیکٹو افسر نے بتایا کہ این پی جی سی سے پیدا ہونے والی بجلی اس لئے بھی سستی ہے کیوں کہ یہ ملک کا پہلا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی سے تیار پاور پروجیکٹ ہے۔ اس میں کوئلے کی کھپت کم ہوتی ہے۔

عام طور پر ایک یونٹ بجلی کی پیداوار میں 600 گرام کوئلے کی کھپت ہوتی ہے جبکہ سپر کریٹیکل پاور پروجیکٹ میں 550 سے 560 گرام کوئلے کی کھپت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این پی جی سی کے کول لنکیج سی سی ایل کے کوئلہ کانوں سے ہیں جو دو سو سے ڈھائی سو کیلومیٹر کے اندر واقع ہیں۔ اس طرح سے اتنے نزدیک سے کوئلہ آنے کی وجہ سے ڈھلائی کا خرچ بھی کم ہو جاتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر ایک یونٹ میں روزانہ 9000 ٹن کوئلے کی کھپت ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بہار کی ترقی میں میل کا پتھر ثابت ہو گا۔

منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جا سکتا: عالمی ادارہ صحت

0
منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جا سکتا: عالمی ادارہ صحت
منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جا سکتا: عالمی ادارہ صحت

ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر برائے یورپ ہینس کلوز نے کہا ’’ابھی تک ہم نہیں جانتے کہ کیا ہم منکی پوکس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر کنٹرول کر پائیں گے

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو ابھی تک اس بات پر یقین نہیں ہے کہ منکی پوکس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

یہ باتیں ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر برائے یورپ ہینس کلوز نے ​​کہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ابھی تک ہم نہیں جانتے کہ کیا ہم اس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر کنٹرول کر پائیں گے۔ اس کے لیے ہمیں واضح رابطے، کمیونٹی کارروائی، متعدی کے دوران آئسولیشن میں رہنے، نئے معاملوں کا مؤثر طریقے سے پتہ لگانے اور نگرانی کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اب تک منکی پوکس کے لیے انہیں اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں جو کورونا وائرس کی وبا کے دوران لاگو کیے گئے تھے، کیونکہ وائرس اسی طرح نہیں پھیلتا۔ انہوں نے کہا “آنے والے مہینوں میں بہت سے تہوار اور بڑی پارٹیاں ہونے والی ہیں، ایسی صورتحال میں یہ مزید پھیل سکتا ہے‘‘۔

ترکی: پولیس نے استنبول میں 50 مظاہرین کو کیا گرفتار

0
ترکی: پولیس نے استنبول میں 50 مظاہرین کو کیا گرفتار
ترکی: پولیس نے استنبول میں 50 مظاہرین کو کیا گرفتار

استنبول کے تقسیم اسکوائر میں 2013 کے حکومت مخالف مظاہروں کی سالگرہ کے موقع پر تقریباً 50 مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لیا ہے

انتاکیا: پولیس نے ترکی میں استنبول کے تقسیم اسکوائر میں 2013 کے حکومت مخالف مظاہروں کی سالگرہ کے موقع پر احتجاج کرنے والے 50 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مظاہرین کی وکیل زبیدہ چاپر نے کہا کہ ’’تقریباً 50 مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔  میڈیکل رپورٹس آنے کے بعد انہیں سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ جنرل کے حوالے کر دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو تقسیم اسکوائر پر مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے طلباء کو پولیس نے مارا پیٹا ہے۔

واضح رہے کہ ترک۔عثمانی دور کے تقسیم فوجی بیرکوں کی تعمیر نو اور تقسیم اسکوائر کے قریب غازی پارک میں درختوں کی کٹائی کے خلاف 31 مئی 2013 کو مظاہروں نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد یہ احتجاج جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں بدل گیا۔ مظاہروں کو ترکی کے نصف صوبوں اور یورپ میں مقیم ترک شہریوں کی حمایت حاصل تھی۔

یوگی کا ودھان سبھا فنڈ کو 3 کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ کرنے کا اعلان

0
یوگی کا ودھان سبھا فنڈ کو 3 کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ کرنے کا اعلان
یوگی کا ودھان سبھا فنڈ کو 3 کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ کرنے کا اعلان

سالانہ بجٹ پر بحث کے جواب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ایوان کے اراکین کی خواہش کے مطابق میں ودھان سبھا فنڈ کو 5 کروڑ کرنے کا اعلان کرتا ہوں

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو اراکین اسمبلی کے لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ (ودھان سبھا فنڈ) کو 3 کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ سالانہ کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔

سالانہ بجٹ پر بحث کے جواب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ایوان کے اراکین کی خواہش کے مطابق میں ودھان سبھا فنڈ کو 5 کروڑ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ حکومت ریاست کی 25 کروڑ عوام کے فلاح کے لئے کام کرنے کو پرعزم ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے فروری 2020 میں لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ میں اضافہ کیا گیا تھا جب اسے 2 کروڑ سے بڑھا کر تین کروڑ کیا گیا تھا۔ اور اس سے پہلے سال 2018 میں 1.5 کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ روپئے فی سال کیا گیا تھا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کورونا منجمنٹ کے لئے ریاستی حکومت نے سال 2020 میں لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو معطل کردیا تھا۔

متھرا شاہی مسجد عیدگاہ میں سروے کمیشن بھیجنے کی مطالبے والی عرضی

0
متھرا شاہی مسجد عیدگاہ میں سروے کمیشن بھیجنے کی مطالبے والی عرضی
متھرا شاہی مسجد عیدگاہ میں سروے کمیشن بھیجنے کی مطالبے والی عرضی

شاہی مسجد عیدگاہ سے وابستہ مقدموں کے ایک مدعی نے مسجد میں سروے کمیشن بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے مقامی عدالت میں نظر ثانی کی عرضی داخل کر کے نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے

متھرا: اترپردیش کے ضلع متھرا میں شری کرشن جنم بھومی کی 13.37 ایکڑ زمین کے ایک حصبے میں تعمیر شاہی مسجد عیدگاہ سے وابستہ مقدموں کے ایک مدعی نے مسجد میں سروے کمیشن بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے مقامی عدالت میں نظر ثانی کی عرضی داخل کر کے نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مدعی اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کے خازن دنیش چندر شرما کے وکیل دیپک شرما نے بتایا کہ مقدمے کے تحت اے ڈی جے (ہفتم) سنجے چودھری کی عدالت میں پیش نظر ثانی عرضی میں کہا گیا ہے کہ نچلی عدالت کے سول جج سینئر ڈویژن کا حکم شواہد کے خلاف ہے اور اس نے سروے کمیشن کی تشکیل کا حکم جاری نہ کرکے بڑی بھول کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرضی میں کہا گیا ہے کہ نچلی عدالت سول جج سینئر ڈویژن کو سروے کمیشن کی تعیناتی کرنے کا اختیار تھا لیکن عدالت نے اپنے اختیار کا استعمال نہیں کیا۔ لہذا اس کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے 16 (گا) کے تحت داخل عرضی کو منظور نہ کر کے بڑی بھول کی ہے۔ اس لئے متعلقہ عدالت کا حکم خارج کئے جانے کے لائق ہے اور عرضی منظور کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ 13 مئی کو داخل درخواست میں مدعی کے ذریعہ دعوی کیا گیا تھا کہ مسجد میں مندر کے نشان موجود ہیں۔ جنہیں مدعی علیہ مسخ یا خراب کرسکتے ہیں۔ اس لئے کمیشن سرے بھیجنے کی اپیل کی گئی تھی۔ شرما نے بتایا کہ ضلع جج نے متعلقہ معاملے میں اگلی سماعت کے لئے 8 جولائی کی تاریخ طے کی ہے۔

گیان واپی سروے رپورٹ میڈیا میں لیک ہونے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

0
گیان واپی سروے رپورٹ میڈیا میں لیک ہونے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ
گیان واپی سروے رپورٹ میڈیا میں لیک ہونے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

گیان واپی مسجد معاملے کی ویڈیو گرافی کے فوٹیج میڈیا میں لیک ہونے کے بعد ہندو فریق نے عدالت کو یہ لفافے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے

وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد معاملے کی ویڈیو گرافی فوٹیج میڈیا میں لیک ہونے سے پیدا تنازع کے درمیان مدعی فریق کی چار خواتین نے ضلع عدالت کے ذریعہ انہیں فراہم کی گئی ویڈیو گرافی کی سی ڈی اور فوٹو واپس کرنے کے لئے منگل کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

ہندو فریق کے یہ مدعین سیل بند لفافے لے کر ضلع عدالت پہنچی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اور فوٹو گراف والے یہ لفافے ابھی سیل بند ہیں۔ انہیں کھولا نہیں گیا ہے۔ ویڈیو گرافی کے فوٹیج میڈیا میں لیک ہونے کے بعد ہندو فریق نے عدالت کو یہ لفافے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہندو فریق کے وکیل سبھاش نندن چترویدی نے بتایا کہ ضلع جج وجئے کرشن وشویش نے اس درخواست پر 4 جولائی کو ہی سماعت کی بات کہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ سیل بند لفافوں کو مدعین اپنے پاس ہی رکھیں۔ اس درمیان ہندو فریق کے ایک مدعی راکھی سنگھ کی جانب سے عدالت میں منگل کو ایک عرضی داخل کی گئی جس میں ویڈیو گرافی سروے کی سی ڈی لیک ہونے کے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ضلع عدالت نے پیر کو گیان واپی مسجد ویڈیو گرافی کی سی ڈی اور فوٹو گرافی ہندو فریق کے مدعین کو فراہم کرنے ساتھ ہی ان سے یہ حلف نامہ بھی لیا تھا کہ وہ اسے لیک نہیں کریں گے لیکن کچھ ہی وقت بعد ویڈیو گرافی کے فوٹیج چینلوں پر ترسیل ہونے لگے۔

عدالت عرضی پر 4 جولائی کو سماعت کرے گی

عدالت عرضی پر چار جولائی کو سماعت کرے گی۔ ضلع عدالت مسجد احاطے میں شرنگار گوری پوجا استھل پر درشن پوجن کرنے سے متعلق ہندو فریق کی عرضی کے جواز پر سماعت کررہی ہے۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی نے کود آف سول پروسیزر آرڈر 07وصول 11کے تحت اس مقدمے پر سماعت نہ کرنے کی دلیل دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کے پیش نظر یہ سماعت کے قابل نہیں ہے۔

مالدہ ضلع: بنگال کی سب سے بڑی مسجد ”آدینہ مسجد“ کو متنازع بنانے کی کوشش

0
مالدہ ضلع: بنگال کی سب سے بڑی مسجد ”آدینہ مسجد“ کو متنازع بنانے کی کوشش
مالدہ ضلع: بنگال کی سب سے بڑی مسجد ”آدینہ مسجد“ کو متنازع بنانے کی کوشش

بی جے پی لیڈروں نے آدینہ مسجد کا دورہ کرکے دعویٰ کیا کہ آدیناتھ مندر کو منہدم کرکے اس مسجد کی تعمیر کی گئی تھی

کلکتہ: مالدہ ضلع کے پانڈوا میں واقع تاریخی ”آدینہ مسجد“ کو لے کر بی جے پی نے ایک نیا تنازع شروع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسجد مندر کو منہدم کرکے تعمیر کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو بی جے پی لیڈر رتیندر باسو، مقامی ممبر اسمبلی چن موئے دیو برمن اور کچھ دیگر بی جے پی لیڈروں نے مسجد کا دورہ کیا۔ اس کے بعد رتیندرا بوس نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر پوسٹ کرکے یہ دعویٰ کیا کہ مسجد کی تعمیر لگے پتھر کے نقش و نگار سے واضح ہے کہ یہ مسجد آدیناتھ مندر کو منہدم کرکے تعمیر کیا گیا ہے۔

آدینہ مسجد مغربی بنگال کی سب سے بڑی مسجد ہے جو مالدہ ضلع کے گزول تھانے کے پانڈوا میں واقع ہے۔ آدینہ مسجد مالدہ ضلع کے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگ یہاں آتے ہیں۔ مگر اب بی جے پی قیادت نے مسجد کو لے کر ایک نئے تنازع کو جنم دیدیا ہے۔ رتیندرا بوس نے مسجد کا دورہ کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ آدینہ مسجد کے فرش کے نیچے آدیناتھ مندر موجود ہے۔ جیتو سردار نے اس مندر کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دی۔ یہ تاریخ بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ وہ انگریزوں اور مسلم حکمرانوں سے مندر کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو ئے تھے۔ جب میں نے کل مقامی ممبر اسمبلی شری چنموئے دیو برمن کے ساتھ آدینہ کے متنازع مقام کا دورہ کیا تو مجھے اس کے ثبوت مل گئے ہیں۔

آدینہ مسجد سلطان سکندر شاہ کے دور میں تعمیر کی گئی تھی

یہ مسجد بنگال سلطنت کے الیاس شاہی خاندان کے دوسرے سلطان سکندر شاہ کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ مسجد تاریخی شہر پانڈوا میں واقع ہے، جو بنگال سلطنت کا سابق دارالحکومت تھا۔ پانڈوا سلطنت کے دور میں ایک ترقی پذیر اور کاسموپولیٹن تجارتی مرکز تھا۔ دینا (فارسی میں جمعہ) مسجد پورے برصغیر کی سب سے بڑی مسجد تھی جب یہ 1374 میں مکمل ہوئی تھی۔ بادشاہ الیاس شاہ کا بیٹا سکندر شاہ تھا۔ 1342 میں، الیاس نے دہلی سلطنت سے آزادی کا اعلان کرنے کے بعد آزاد بنگال سلطنت (1342-1538) کے پہلے حکمران بنے۔

باپ بیٹے نے دہلی کے سلطان فیروز شاہ تغلق کی 1353 اور 1359 میں بنگال کو ضم کرنے کی فوجی مہمات کے خلاف کامیابی سے مزاحمت کی۔ امریکی مؤرخ رچرڈ ایٹن کے مطابق، سکندر نے اپنی بادشاہی کا کامیابی سے دفاع کرنے کے بعد بڑی ایک یادگار تعمیر کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ایک جرمن مستشرق اور کلکتہ مدرسہ کے پرنسپل، ہنری فرڈینینڈ بلوچمین نے اپنی 1873 کی کتاب، Contributions to the Geography and History of Bengal میں بھی اس حقیقت کے طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

مسجد کی بیرونی دیوار کے چند حصوں میں ہاتھیوں اور رقص کی شکلوں کی طرح نقش و نگار ہیں۔ مورخین نے اس سے متعلق لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ معماروں نے قبل از اسلام بنائے گئے پتھروں کا استعمال کیا ہے یا مسجد پہلے سے موجود کھنڈر کی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ مسجد پر لکھی تحریروں میں سکندر شاہ کو ”بلند سلطان” اور ”وفاداروں کا خلیفہ” قرار دیا گیا ہے۔ سلطان کو مکہ کی سمت دیوار کے ساتھ منسلک ایک مقبرے میں دفن کیا گیا تھا۔