پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 232

امریکہ میں آرتھوڈوکس پیرشوں نے یوکرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی منصوبہ کا آغاز کیا

0
امریکہ میں آرتھوڈوکس پیرشوں نے یوکرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی منصوبہ کا آغاز کیا
امریکہ میں آرتھوڈوکس پیرشوں نے یوکرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی منصوبہ کا آغاز کیا

روسی سینٹ جان دی بیپٹسٹ کیتھیڈرل کے ریکٹر آرچ پرائسٹ وکٹر پوٹاپوف نے کہا کہ کپڑوں اور دیگر انسانی امداد کے ساتھ کنٹینر پہلے ہی یورپ بھیجا جا چکا ہے جہاں سے یہ یوکرین جائے گا

واشنگٹن: امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تین آرتھوڈوکس پیرشوں (کیتھولک چرچ) نے یوکرین میں جنگ متاثرین کے لیے ایک مشترکہ انسانی امداد کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

روسی سینٹ جان دی بیپٹسٹ کیتھیڈرل کے ریکٹر آرچ پرائسٹ وکٹر پوٹاپوف نے کہا ’’کچھ ہفتے پہلے ہم نے استعمال کپڑے، خراب نہ ہونے والی خوردنی اشیاء جمع کرنے کی مہم شروع کی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں روسی اور یوکرائنی ماننے والوں کے ساتھ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں دو دیگر پیرش (کیتھولک چرچ)، سینٹ اینڈریو یوکرین چرچ اور امریکہ کے آرتھوڈوکس چرچ کے سینٹ نکولس کیتھیڈرل بھی اس منصوبے میں شامل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کپڑوں اور دیگر انسانی امداد کے ساتھ کنٹینر پہلے ہی یورپ بھیجا جا چکا ہے جہاں سے یہ یوکرین جائے گا۔ اب تینوں پیرش دوسرے کنٹینر کے لیے سامان جمع کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ہمارے پیرشین ہمیں مدد بھیجتے رہتے ہیں۔ ہم ان کوششوں کو جاری رکھتے ہیں اور جب تک ممکن ہو ہم اسے جاری رکھیں گے۔ مسیحی ہونے کے ناطے ہمارا بنیادی مقصد دعا کرنا اور اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق سب کچھ کرنا ہے۔

حکومت راہل کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے: کانگریس

0
حکومت راہل کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے: کانگریس
حکومت راہل کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے: کانگریس

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے صحافیوں سے کہا کہ مسٹر گاندھی نے ہر مسئلے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اس لیے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے مسٹر گاندھی کو ہراساں کر رہی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی چین کی دراندازی، کسان، بے روزگاری، مہنگائی جیسے مسائل اجاگر کر کے حکومت کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں، اس لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا استعمال کر کے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ای ڈی کی طرف سے مسٹر گاندھی کو دوسرے دن پوچھ گچھ کے لئے بلائے جانے سے پہلے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہا کہ مسٹر گاندھی نے ہر مسئلے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لیے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے مسٹر گاندھی کو ہراساں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی دو سال سے چینی دراندازی، کسانوں، نوجوانوں کے بے روزگاروں، غریبوں، مہنگائی اور قبائلیوں کے مسائل اٹھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت انہیں پریشان کررہی ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ کانگریس عوام کے مسائل اٹھائے، اس لیے وہ کانگریس کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

حکومت کی عوامی مسائل کو اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی سازش

کانگریس ترجمان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کو اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی سازش کر رہی ہے۔ اگر عوامی سوال اٹھانا جرم ہے تو کانگریس بار بار اس جرم کا ارتکاب کرے گی اور مودی حکومت کے دولت مندوں کے مفادات کے کاموں میں رکاوٹ بنتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کانگریس کی آواز کو دبانے کے لئے پورا دن سازش کی۔ اپنے 40، 50 وزیروں کو اسی کام میں لگایا، پسندیدہ ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعے کانگریس مخالف خبریں دن بھر نشر کرتے رہے۔ اپوزیشن میں رہ کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف جو بھی لیڈر آواز اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف ایجنسیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی یہ لیڈر حکومت کے کہنے پر کام کرتے ہیں یا بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں، ان کے خلاف تمام کارروائی ختم ہو جاتی ہے۔

اترپردیش: مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا سپریم کورٹ سے رجوع

0
اترپردیش: مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا سپریم کورٹ سے رجوع
اترپردیش: مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا سپریم کورٹ سے رجوع

ایک جانب جہاں فساد میں مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاریاں ہوئیں وہیں دوسری جانب گذشتہ تین دنوں سے کانپور، پریاگ راج (الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین بوس کردیا گیا

نئی دہلی: اترپردیش میں گذشتہ تین دنوں سے جاری غیر قانونی انہدامی کاروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃ علمائے ہند نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں دی ہے۔

ریلیز کے مطابق نوپور شرما اور نوین جندال کی جانب سے توہین رسول ﷺ کئے جانے بعد کانپور شہر میں احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فساد پھوٹ پڑا تھا۔ ایک جانب جہاں فساد میں مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاریاں ہوئیں وہیں دوسری جانب گذشتہ تین دنوں سے کانپور، پریاگ راج (الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین بوس کردیا گیا۔

داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں۔ اس ضمن میں آج جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں دو عبوری درخواستیں (انٹریم اپلیکشن) داخل کی ہیں، یہ درخواستیں جہانگیر پوری، کھرگون معاملے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن میں داخل کی گئی ہیں، اس پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 21/ اپریل 2022 کو ریاست اترپردیش سمیت مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، گجرات اور دہلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ کی جانے والی انہدامی کارروائی پر جواب طلب کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی پر نوٹس کے بعد بھی انہدامی کارروائی

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل عبوری درخواست میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ماضی میں انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے۔ نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاکر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔

عبوری عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے۔ نیز اترپردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ1958 /کی دفعہ 10/ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے۔ اسی طرح اترپردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15/ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے اس کے باوجود بلڈوز چلایا جارہا ہے۔

اترپردیش حکومت کی غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی شروع

عرضداشت میں مزید دعوی کیا کیا گیا ہیکہ اترپردیش حکومت نے قوانین کو بالائے طاق رکھ کر غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی شروع کردی ہے جس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ لہذا عدالت اترپردیش حکومت کو حکم جاری کرے کہ انہدامی کارروائی کو فوراً روکے اور اگر انہیں غیر قانونی عمارتوں کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانون کے مطابق کرے اور قانون کا تقاضہ ہیکہ پہلے نوٹس دی جائے اور اس کے بعد اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے۔

عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کرکے دوسرے ہی دن سخت پولیس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے۔ نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں۔ فی الحال سپریم کورٹ میں گرمیوں کی تعطیلات چل رہی ہیں، جمعیۃ کے وکلاء صارم نوید اور کامران جاوید نے سپریم کورٹ رجسٹری سے درخواست کی ہیکہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن تعطیلاتی بینچ کے روبرو جلد ازجلد سماعت کے لیئے پیش کی جا ئے۔

ہندوستانی ریلوے کی نئی اسکیم ‘اسٹارٹ اپس فار ریلوے’ کا آغاز

0
ہندوستانی ریلوے کی نئی اسکیم 'اسٹارٹ اپس فار ریلوے' کا آغاز
ہندوستانی ریلوے کی نئی اسکیم 'اسٹارٹ اپس فار ریلوے' کا آغاز

ریلوے کے وزیر نے کہا کہ اس اسکیم میں ہندوستانی ٹیلنٹ کو حلول تیار کرنے کے آئیڈيا سے لے کر پیداوار تک اور پھر بڑے پیمانے پر پیداوار سے لے کر ریلوے میں یقینی خریداری کے لیے مارکیٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی اور مدد دی جائے گی

نئی دہلی: ریلوے نے آج یہاں ایک نئی اختراعی پالیسی ‘اسٹارٹ اپس فار ریلوے’ کا اعلان کیا، جس کا مقصد تجدید کاری کے لیے نئے تکنیکی حل دریافت کرنا ہے، جس میں اسٹارٹ اپ کو آئیڈیا سے پروڈکشن تک کی لاگت کا 50 فیصد تک کی مالی مدد فراہم کرنے اور مارکیٹ تک یقینی رسائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ریلوے کے وزیر اشونی وشنو نے آج یہاں ریل بھون میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں اختراعی پالیسی کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ریلوے کے وزیر مملکت راؤ صاحب دانوے پاٹل اور محترمہ درشنابین زردوش ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔ پروگرام میں ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر وی کے ترپاٹھی، بورڈ کے ارکان اور دیگر افسران موجود تھے۔

مسٹر وشنو نے ریلوے کی جدت طرازی سے متعلق ایک نیا پورٹل لانچ کیا اور اس کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے نے تکنیکی تجدید کاری کے لیے ایک جامع مطالعہ کیا ہے اور تقریباً 160 مسائل کی نشاندہی کی ہے جن کا تکنیکی حل ابھی تک تلاش کرنا باقی ہے۔ اس لیے، خیال یہ ہے کہ اس راستے پر ایسے اسٹارٹ اپس کو شامل کرکے آگے بڑھیں جو نئے تکنیکی حل پیش کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ریلوے کو درپیش 160 مسائل میں سے 11 اہم مسائل

وزیر موصوف نے کہا کہ اس منصوبے میں ریلوے کو درپیش 160 مسائل میں سے 11 اہم مسائل – ٹوٹی ہوئی پٹری کا پتہ لگانا، ریلوے ٹریک کے تناؤ کی نگرانی کا نظام، مضافاتی خدمات میں دو ٹرینوں کے درمیان فاصلہ طے کرنے والے ہیڈ وے سسٹم کی اپ گریڈیشن، خودکار ٹریک انسپیکشن سسٹم، جدید ایلسٹومرک پیڈز کا بھاری ڈیزائن، تھری فیز الیکٹرک انجنوں کے ٹریکشن موٹرز کے آن لائن مانیٹرنگ سسٹم کی ترقی، نمک جیسی ہلکی اشیاء کی نقل و حمل کے لیے ہلکی ویگنیں، مسافروں کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تجزیے کے آلات، ٹریک کلیننگ مشین، پوسٹ ٹریننگ ریپیٹیشن ایپ اور ریموٹ سینسنگ جیومیٹکس اور پلوں کے معائنہ کے GIS کے لیے جدید ترین تکنیکی حل تلاش کرنے کے لیے منتخب اسٹارٹ اپس کو ایک سے ڈیڑھ سال کا وقت دیا جائے گا۔ انہیں مرحلہ وار 1.5 کروڑ روپے تک کی امداد دی جائے گی، جو لاگت کا 50 فیصد تک ہوگی۔

ریلوے کے وزیر نے کہا کہ اس اسکیم میں ہندوستانی ٹیلنٹ کو حلول تیار کرنے کے آئیڈيا سے لے کر پیداوار تک اور پھر بڑے پیمانے پر پیداوار سے لے کر ریلوے میں یقینی خریداری کے لیے مارکیٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی اور مدد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب تک 102 یونیکارن تیار ہو چکے ہیں۔ ملک کے نوجوانوں میں جوش و خروش ہے اور ریلوے ان کی توانائی کو بروئے کار لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی ہنر ملک میں ایسے تکنیکی حل تیار کرے گا جنہیں بیرون ملک برآمد کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چار پانچ سالوں میں ہندوستانی ریلوے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔

متنازعہ تبصرہ پر لیڈر کے خلاف بی جے پی کی کارروائی کے بعد احتجاج کا کوئی مطلب نہیں: نتیش

0
متنازعہ تبصرہ پر لیڈر کے خلاف بی جے پی کی کارروائی کے بعد احتجاج کا کوئی مطلب نہیں: نتیش
متنازعہ تبصرہ پر لیڈر کے خلاف بی جے پی کی کارروائی کے بعد احتجاج کا کوئی مطلب نہیں: نتیش

نتیش نے کہا کہ ایک خاص کمیونیٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے متنازعہ تبصرہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کا اپنے لیڈر کے خلاف کاروائی کئے جانے کے بعد کسی احتجاج کا کوئی مطلب نہیں ہے

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کہا کہ حال ہی میں ٹیلی ویژن چینل پر مباحثے کے دوران ایک خاص کمیونیٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے متنازعہ تبصرہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا اپنے لیڈر کے خلاف کاروائی کئے جانے کے بعد کسی احتجاج کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

مسٹر کمار نے سموار کو یہاں ”جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ“ پروگرام کے بعد بی جے پی ترجمان رہیں نوپور شرما کے بیانات سے متعلق نامہ نگاروں کے سوال پر کہا کہ ”اس سلسلے میں بی جے پی نے کاروائی کی ہے۔ کچھ مقامات پر مظاہرے بھی ہوئے۔ جیسے ہی اس دن مجھے اس طرح کے واقعہ کا علم ہوا، میں دوسری چیزوں کا ریویو کررہا تھا لیکن اسے چھوڑ کر میں نے فوراً چیف سکریٹری سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو طلب کیا اور کہا کہ فورا ً اسے دیکھئے اور بہار میں کہیں اس طرح کی بات نہ ہو۔ اگر کوئی بات ہوتی ہے تو اسے سنجیدگی سے دیکھیں۔“

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی بیان دیا ہے تو اس پر کاروائی ہوگی۔ اس کے بعد بھی کچھ ہورہا ہے تو اس پر ضرور دھیان رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کتنا بھی اچھا کیجئے لیکن کچھ لوگ ہوتے ہیں جو جان ۔ بوجھ کر جھگڑا کروانا چاہتے ہیں۔ بہار میں کوئی ایسی صورتحال نہیں ہے۔ سب ٹھیک ہے، نارمل ہے۔

مسٹر کمار نے رانچی میں ہوئے واقعے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ افسران کی پورے معاملے پر نظر رہے۔ کہیں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس پر کاروائی ہونی چاہئے۔ یہ حکومت کا کام ہے۔ ہم لوگوں کے یہاں کوئی واقعہ ہوتاہے تو فورا ً کاروائی ہوتی ہے۔

یہاں کے وزیر کے ساتھ وہاں جو کچھ ہوا ہے، اس سے متعلق یہاں سے ساری باتیں کہی گئی ہیں۔ یہ ان کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ سب کچھ دیکھیں۔ کسی کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی کرنا اچھی بات نہیں ہے۔

پریاگ راج: امن پسند مظاہرین کو بلڈوزر سے سزا دے رہی ہے حکومت: اکھلیش

0
پریاگ راج: امن پسند مظاہرین کو بلڈوزر سے سزا دے رہی ہے حکومت: اکھلیش
پریاگ راج: امن پسند مظاہرین کو بلڈوزر سے سزا دے رہی ہے حکومت: اکھلیش

اکھلیش یادو نے ٹویٹ کر کہا ‘یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے اور دنیا کی جانب سے سخت تبصرہ آیا وہ سیکورٹی کے گھیرے میں ہیں اور پرامن مظاہرین کو بغیر قانونی چارہ جوئی اور جانچ پڑتال کے بلڈوزر سے سزا دی جارہی ہے

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے اترپردیش کے ضلع پریاگ راج میں گذشتہ جمعہ کو ہوئے مظاہرے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد جاوید احمد عرف جاوید پمپ کے گھر کو بلڈوزر سے اتوار کو زمین دوز کئے جانے کی کاروائی کو تفریقانہ قرار دیتے ہوئے اسے انصاف کے خلاف بتایا۔

پریاگ راج میں مقامی انتظامیہ کے ذریعہ جاوید کے گھر کو غیر قانونی تعمیر کا نتیجہ بتا کر اسے منہدم کرنے کی کاروائی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اکھلیش نے اس کاروائی کے پیچھے حکومت کی منشی پر سوال کھڑے کئے ہیں۔

انہوں نے ٹویٹ کر کہا ‘یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے اور دنیا کی جانب سے سخت تبصرہ آیا وہ سیکورٹی کے گھیرے میں ہیں اور پرامن مظاہرین کو بغیر قانونی چارہ جوئی اور جانچ پڑتال کے بلڈوزر سے سزا دی جارہی ہے۔ اس کی اجازت نہ ہماری تہذیب دیتی ہے، نہ مذہب، نہ قانون، نہ آئین۔

پرامن مظاہرے کے جمہوری حق کی توہین

قابل ذکر ہے کہ خلدآباد تھانہ علاقے میں واقع جاوید کی رہائش گاہ کو پریاگ راج دیولپمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو اتھارٹی کی منظوری کے بغیر بنائے جانے کے الزام میں مسمار کردیا۔ اس معاملے میں ایس پی کی جانب سے جاری بیان میں بھی اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں پوری دنیا میں اترپردیش کی بدنامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پرامن مظاہرے کے جمہوری حق کی توہین کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ‘بی جے پی حکومت کو بغیر قانونی چارہ جوئی کے کسی کے مکان۔ دوکان کو بلڈوزر سے گرانا، نامعلوم کے نام پر معصوموں کی گرفتاری، مخصوص سماج کو خاطی ٹھہرانے کی کوششیں وغیرہ کی اجازت نہ تو ہماری تہذیب، نہ مذہب۔قانون اور نہ ہی آئین دیتا ہے۔ اس کے پیش نظر انہوں نے ریاست کی گورنر سے مانگ کیا ہے کہ وہ حالات کا خود نوٹس لے کر فوری سخت کاروائی کئے جانے کی ہدایت دیں جس سے ریاست میں امن و امان اور حکومت کی من مانی اور اقتدار کے غلط استعمال پر پابندی لگ سکے۔

بی جے ہی کی نفرت کی سیاست

انہوں نے دلیل دی کہ نظم و نسق بنائے رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جس میں وہ پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ہر شعبے میں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جھوٹے، قصے کہانیاں گڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اکھلیش نے کہا ‘یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بی جے ہی کی سیاست اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی ہدایت پر نفرت اور سماج کو تقسیم کرنے کی رہتی ہے۔

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ حال ہی میں خوفناک عدم امن و امان کے واقعات پیش آئے ہیں اس کے پیچھے وہی سیاست ہے۔ بی جے پی بگڑے بول سے ایک بڑا سماج دلبرداشتہ ہوا۔ بی جے پی حکومت نے اس مایوس کن تنازع کے اختتام اور متعلقہ فریق کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس سے بحران کی کھائی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔

جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے وہ سیکورٹی کے گھیرے میں

ریاست کے نائب وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی کا رویہ اب بھی انصاف کے مطابق نہیں دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کی وجہ سے ملک میں حالات بگڑے اور دنیا بھر سے سخت تبصرے آئے وہ سیکورٹی کے گھیرے میں ہے اور بغیر جانچ پڑتال کے روان کی مانند’ راکششی بلڈوزر’ سے رام راجیہ کچلا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین جمہوریت، سماج واد کے ساتھ سیکولرزم کو منظوری دیتا ہے۔ یہ سبھی مذاہب کا احترام کرنے کا بھروسہ دیتا ہے۔ اترپردیش گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔ ہم تمام تیوہاروں کو ایک ساتھ مل کر پوری ہم آہنگی کے ساتھ مناتے ہیں اورسماجی کاموں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس یکتا کو توڑنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔

مان حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر مودی کو ہڑپنے نہیں دے گی: عآپ

0
مان حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر مودی کو ہڑپنے نہیں دے گی: عآپ
مان حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر مودی کو ہڑپنے نہیں دے گی: عآپ

پارٹی ہیڈکوارٹر سے جاری ایک بیان میں ترجمان مالویندر سنگھ کانگ نے کہا کہ پارٹی پنجاب کے تاریخی تعلیمی اداروں پر قبضہ کرنے کی نریندر مودی حکومت کی سوچ کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑے گی

چنڈی گڑھ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے اتوار کو کہا کہ بھگونت مان کی حکومت پنجاب یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر ہڑپنے کی اجازت نہیں دے گی۔

پارٹی ہیڈکوارٹر سے جاری ایک بیان میں ترجمان مالویندر سنگھ کانگ نے کہا کہ پارٹی پنجاب کے تاریخی تعلیمی اداروں پر قبضہ کرنے کی نریندر مودی حکومت کی سوچ کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑے گی۔

انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کو پنجاب سے چھیننے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی پر پنجاب ریاست کا آئینی، جذباتی اور تاریخی حق ہے۔

مسٹر کانگ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی عظیم پنجاب کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس ادارے نے عالمی سطح پر نام کمایا ہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد پنجاب کی اس وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے پہلے شملہ اور پھر پنجاب کے دارالحکومت چنڈی گڑھ میں قائم کیا گیا۔ لہٰذا پنجاب یونیورسٹی پر صرف اور صرف پنجاب کا حق ہے اور کوئی بھی مرکزی حکومت پنجاب سے یہ ورثہ نہیں چھین سکتی۔

پنجاب یونیورسٹی پر اب مودی حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس اور شرومنی اکالی دل پر پنجاب کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے، وراثت کو برباد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب پر طویل عرصے تک حکومت کرنے والی ان جماعتوں نے ریاست کی تمام یونیورسٹیوں کو برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر مالی طور پر کمزور کی گئی پنجاب یونیورسٹی پر اب مودی حکومت ایک سازش کے تحت قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی سینٹرلائزیشن کی کوششوں کے خلاف 9 جون کو دس طلبہ تنظیموں نے ریلی نکالی تھی اور اس دوران پنجاب پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ پنجاب اسٹوڈنٹس یونین (للکار) کے طلباء رہنماؤں نے آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس مسئلے پر لاعلمی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور پوری ریاست کے طلباء سمیت سماج کے مختلف طبقوں سے یونیورسٹی کو بچانے کی جنگ لڑنے کے لئے ایک ساتھ آنے کی اپیل کی۔

نازیبا ریمارکس: تشدد بھڑکانے والوں کو ممتا کی سخت وارننگ

0
نازیبا ریمارکس: تشدد بھڑکانے والوں کو ممتا کی سخت وارننگ
نازیبا ریمارکس: تشدد بھڑکانے والوں کو ممتا کی سخت وارننگ

محترمہ بنرجی نے ٹویٹ کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے گناہوں کی سزا عام آدمی کب تک برداشت کرے گا؟

کولکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو ہوڑہ ضلع کے کچھ حصوں میں عام زندگی کو متاثر کرنے والوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

محترمہ بنرجی نے ٹویٹ کیا کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ ہوڑہ ضلع میں دو دنوں سے پرتشدد واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کچھ سیاسی جماعتوں کا ہاتھ ہے، جو چاہتے ہیں کہ ریاست میں تشدد پھوٹ پڑے، لیکن میں ایسے لوگوں پر واضح کردینا چاہتی ہوں کہ ایسی حرکتیں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے گناہوں کی سزا عام آدمی کب تک برداشت کرے گا؟

قابل ذکر ہے کہ پیغمبر اسلام کے خلاف بی جے پی لیڈروں کے نازیبا ریمارکس اور انہیں پارٹی سے نکالے جانے کے بعد بھی ملک میں اور خاص طور پر اتر پردیش اور دارالحکومت دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اس کا اثر مغربی بنگال میں بھی نظر آیا اور ان لیڈروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے ہوڑہ ضلع کے کئی حصوں میں ہائی وے ٹریفک اور ریل گاڑیوں کو روک دیا۔ جمعہ کو ان مظاہروں کے پرتشدد ہونے کے بعد ہوڑہ ضلع انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی اور ضلع کے تشدد سے متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل کر دیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی کا ذکر

0
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی کا ذکر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی کا ذکر

جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے کہا کہ اس سال "تجویز میں پہلی بار ہندی زبان کے ساتھ ساتھ بنگالی اور اردو زبانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ/نئی دہلی: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی کثیر لسانی تجویز میں پہلی بار ہندی زبان کا ذکر کیا گیا ہے اور ہندوستان نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

اینڈورا نے یہ تجویز 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی اور ہندوستان سمیت 80 سے زائد ممالک نے اس تجویز کی توثیق کی۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے کہا کہ اس سال "تجویز میں پہلی بار ہندی زبان کے ساتھ ساتھ بنگالی اور اردو زبانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ "یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ میں کثیر لسانی کو حقیقی روح کے ساتھ اپنایا جائے اور ہندوستان اس مقصد کو حاصل کرنے میں اقوام متحدہ کی حمایت کرے گا۔”

مسٹر تریمورتی نے اس بات پر زور دیا کہ کثیر لسانی کو اقوام متحدہ کی بنیادی اقدار میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کثیر لسانی کو ترجیح دینے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستان 2018 سے اقوام متحدہ کے شعبہ عالمی مواصلات کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے اور ہندی زبان میں مرکزی دھارے کی خبروں اور ملٹی میڈیا مواد کے لیے اضافی بجٹ میں تعاون کر رہا ہے۔

مسٹر تریمورتی نے کہا کہ ان کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ‘اقوام متحدہ میں ہندی’ پروجیکٹ 2018 میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ہندی زبان میں اقوام متحدہ کی رسائی کو بڑھانا اور لاکھوں ہندی بولنے والوں میں عالمی مسائل کے بارے میں پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ بیداری پھیلانا ہے۔

پورنیہ ضلع: اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک

0
پورنیہ ضلع: اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک
پورنیہ ضلع: اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک

کشن گنج ضلع کے مہین گاؤں پنچایت کے نونیا گاؤں کے کچھ لوگ اپنی بیٹی کو تلک چڑھانے کے لیے پورنیہ ضلع کے بیسا بلاک کے چنکی تاراباڑی گئے تھے

پورنیہ: بہار میں پورنیہ ضلع کے انگڑھ تھانہ علاقے میں اسکارپیو کے تالاب میں گرنے سے آٹھ افراد ڈوب گئے۔

پولیس ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ کشن گنج ضلع کے مہین گاؤں پنچایت کے نونیا گاؤں کے کچھ لوگ اپنی بیٹی کو تلک چڑھانے کے لیے پورنیہ ضلع کے بیسا بلاک کے چنکی تاراباڑی گئے تھے۔

اسکارپیو پر سوار لوگ جمعہ کو دیر رات واپس لوٹ رہے تھے کہ موڑ کے قریب اسکارپیو بے قابو ہوکر تالاب میں گر گئی۔ اسکارپیو کے پیچھے بیٹھے دو افراد کسی طرح شیشہ توڑ کر باہر نکلے۔ اس واقعہ میں آٹھ افراد تالاب میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت گنگا پرساد یادو، تانڈو لال یادو، کرن لال یادو، امرچند یادو، کالی چرن یادو، رام کشن یادو، گلاب چند یادو اور مانک لال کے طور پر کی گئی ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کشن گنج بھیج دیا گیا ہے۔