منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 231

حزب اختلاف کے امیدوار یشونت سنہا نے صدارتی انتخاب میں کاغذات نامزدگی داخل کیا

0
حزب اختلاف کے امیدوار یشونت سنہا نے صدارتی انتخاب میں کاغذات نامزدگی داخل کیا
حزب اختلاف کے امیدوار یشونت سنہا نے صدارتی انتخاب میں کاغذات نامزدگی داخل کیا

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی اپیل پر بلائی گئی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں مسٹر سنہا کو صدارتی انتخاب میں مشترکہ اپوزیشن امیدوار کے طور پر چنا گیا تھا

نئی دہلی: صدارتی انتخاب کے لئے اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا کاغذات نامزدگی داخل کیا۔

مسٹر سنہا اپوزیشن کے کئی لیڈروں کے ساتھ آج پارلیمنٹ ہاؤس گئے اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل کے دفتر میں صدارتی انتخاب کے لیے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔

مسٹر سنہا کے ساتھ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار، کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے سینئر رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری، ڈی ایم کے کے تروچی شیوا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر راجہ سنگھ بھی موجود تھے۔ پرفل پٹیل اور دیگر کئی سینئر لیڈران بھی موجود تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی اپیل پر بلائی گئی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں مسٹر سنہا کو صدارتی انتخاب میں مشترکہ اپوزیشن امیدوار کے طور پر چنا گیا تھا۔ تاہم عام آدمی پارٹی، تلنگانہ راشٹرا سمیتی، شرومنی اکالی دل، وائی ایس آر کانگریس اور بیجو جنتا دل کے رہنماؤں نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ مسٹر سنہا سابق وزیر اعظم مسٹر اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔

حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے جھارکھنڈ کے سابق گورنر اور قبائلی رہنما دروپدی مرمو کو صدارتی انتخابات کے لیے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ محترمہ مرمو پہلے ہی اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر چکی ہیں۔

صدارتی انتخاب 18 جولائی کو ہونا ہے اور ووٹوں کی گنتی 21 جولائی کو ہوگی۔

تلنگانہ میں قبائلیوں کی پرگتی بھون یاترا میں کشیدگی، پولیس کا لاٹھی چارج

0
تلنگانہ میں قبائلیوں کی پرگتی بھون یاترا میں کشیدگی، پولیس کا لاٹھی چارج
تلنگانہ میں قبائلیوں کی پرگتی بھون یاترا میں کشیدگی، پولیس کا لاٹھی چارج

تلنگانہ کے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع کے راماگوڑم میں قبائلیوں کی جانب سے پرگتی بھون یاترا کے پروگرام میں قبائلیوں کی پولیس کے ساتھ بحث و تکرار ہوگئی جس کے بعد بعض قبائلیوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا

حیدرآباد: تلنگانہ کے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع کے راماگوڑم میں قبائلیوں کی جانب سے پرگتی بھون یاترا کے پروگرام میں کشیدگی پھیل گئی۔ اراضیات کے مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے شروع کردہ اس پروگرام میں پولیس نے آج صبح رکاوٹ پیدا کی۔ رامناپیٹ سے 200 افراد اراضیات کے مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ حیدرآباد کے لئے روانہ ہوئے۔

انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اراضیات کے مسائل کے حل تک وہ اس پروگرام کو جاری رکھیں گے۔ رامناگوڑم سے حیدرآباد کی سمت پدیاترا کرنے والے کئی قبائلیوں کو اشواراو پیٹ کے حدود میں حراست میں لے لیاگیا جس کے نتیجہ میں کشیدگی پھیل گئی۔

قبائلیوں کی پولیس کے ساتھ بحث و تکرار ہوگئی جس کے بعد بعض قبائلیوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا۔ ان احتجاجیوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے ان کی اراضیات کے مسائل ہیں جن کو ہنوز حل نہیں کیا گیا ہے۔ رامناگوڑم کے سرپنچ کی قیادت میں قبائلیوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا تھا جس کے حصہ کے طور پر چلو پرگتی بھون پدیاترا نکالی گئی تھی۔

باغی ارکان اسمبلی کو ممبئی لوٹنا ہی ہوگا: سنجے راؤت

0

شیوسینا کی نااہلیت کی عرضی پر 16 باغی ارکان اسمبلی کو نوٹس دینے والے ڈپٹی اسپیکر نرہری جروال کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مسٹر راؤت نے ٹویٹ کیا، ’’ارکان اسمبلی گوہاٹی میں لمبے وقت تک نہیں رہ پائیں گے اور انہیں ممبئی کی چوپاٹی لوٹنا ہوگا۔‘‘

ممبئی: شیوسینا رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے آسام کے گوہاٹی میں ڈیرا ڈالے ہوئے باغی ارکان اسمبلی پر طنز کیا اور کہا کہ انہیں دیر سویر ممبئی لوٹنا ہی ہوگا۔

شیوسینا کی نااہلیت کی عرضی پر 16 باغی ارکان اسمبلی کو نوٹس دینے والے ڈپٹی اسپیکر نرہری جروال کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مسٹر راؤت نے ٹویٹ کیا، ’’ارکان اسمبلی گوہاٹی میں لمبے وقت تک نہیں رہ پائیں گے اور انہیں ممبئی کی چوپاٹی لوٹنا ہوگا۔‘‘

اس دوران شیوسینا کے باغی رہنما ایکناتھ شندے نے 40 سے زیادہ ارکان اسمبلی کا ایک بڑا گروپ بنا لیا ہے۔ ان کی بغاوت سے ریاست میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے لئے خطرے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔

وہیں برسراقتدار شیوسینا کانگریس این سی پی نے ان سبھی واقعات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے شامل ہونے کا الزام لگایا ہے۔

گراوٹ میں ہوئی خریداری سے شیئر بازار میں تیزی

0
گراوٹ میں ہوئی خریداری سے شیئر بازار میں تیزی
گراوٹ میں ہوئی خریداری سے شیئر بازار میں تیزی

بین الاقوامی سطح سے ملنے والے مثبت اشاروں کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر گراوٹ کی وجہ سے خریداری کی وجہ سے گزشتہ ہفتے شیئر بازار میں تیزی

ممبئی: بین الاقوامی سطح سے ملنے والے مثبت اشاروں کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر گراوٹ کی وجہ سے خریداری کی وجہ سے گزشتہ ہفتے شیئر بازار میں تیزی رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 1367.56 پوائنٹس بڑھ کر 52727.98 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 325.95 پوائنٹس بڑھ کر 15619.45 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بڑی کمپنیوں کے ساتھ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بھی خریداری کا زور رہا، جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 507.23 پوائنٹس بڑھ کر 21803.16 پوائنٹس اور اسمال کیپ 387.45 پوائنٹس اوپر اٹھ کر 24251.33 پوائنٹس پر رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار اس وقت جس سطح پر ہے اس سے اگلے ہفتے میں بھی خریداری دیکھنے کو مل سکتی ہے لیکن چھوٹے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار ایک دن خریداری کرکے ایک یا دو دن دوبارہ فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جس سے چھوٹے سرمایہ کار نقصان ہو سکتا ہے۔

ممتاز سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواڑ کو گجرات پولیس نے کیا گرفتار

0
ممتاز سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواڑ کو گجرات پولیس نے کیا گرفتار
ممتاز سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواڑ کو گجرات پولیس نے کیا گرفتار

تیستا سیتلواڑ کو گجرات پولیس نے 2002 کے گجرات فسادات کے بارے میں مبینہ طور پر غلط معلومات دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے

ممبئی: مشہور سماجی اور حقوق انسانی کی کارکن تیستا سیتلواڑ کو گجرات پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے ممبئی میں ان کے گھر سے، 2002 کے گجرات فسادات کے بارے میں مبینہ طور پر غلط معلومات دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ جس کے بعد انھیں مقامی سنتاکروز پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، بعد ازاں اطلاع کے مطابق گجرات پولیس انھیں اپنے ساتھ لیکر احمد آباد روانہ ہو گئی ہے۔ تیستا سیتلواڑ کے شوہر جاوید آنند نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے یو این آئی سے کہا کہ ابھی دوسری کوئی تفصیلات کا علم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ تیستا سیتلواڑ کی یہ گرفتاری سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے فوری ایک دن بعد ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مودی کے خلاف تحقیقات کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے اور درخواست گزاروں نے اس معاملے کی کئی سالوں سے پیروی کرتے ہوئے "عمل کا غلط استعمال” کیا ہے، نیز گجرات پولیس کی یہ کاروئی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے ایک نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں تیستا سیتلواڈ پر 2002 کے گجرات فسادات کے بارے میں پولیس کو بے بنیاد معلومات دینے کا الزام لگانے کے چند گھنٹے بعد ہوئی ہے۔

گجرات فسادات میں 1200 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں

عیاں رہے کہ تیستا سیتلواڑ برسوں سے گجرات فسادات کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے قانونی لڑائی لڑ رہی ہیں، اس فساد میں 1200 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کی جانب سے 2002 کے گجرات کے مسلم مخالف تشدد میں مقدمہ درج کرنے سے نچلی عدالت کی طرف سے انکار کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے ایک دن سے بھی کم وقت کے بعد، گجرات کی پولیس نے درخواست گزاروں میں سے ایک تیستا سیتلواڑ کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے جو دعویٰ کیا وہ بے گناہوں کو جیل بھیجنے کی سازش تھی۔

عیاں رہے کہ اس سے قبل، گجرات کے دو آئی پی ایس افسران، سنجیو اور آر بی سری کمار بھی ملزم ہیں، پہلے ہی ایک اور معاملے میں جیل میں ہیں، اب اس فہرست تیستا سیتلواڑ بھی شامل ہو گئی ہیں۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں 468 (دھوکہ دہی کے مقصد سے جعلسازی)، 471 (جعلی دستاویز یا الیکٹرانک ریکارڈ کو حقیقی کے طور پر استعمال کرنا)، 120 (بی) (مجرمانہ سازش)، 194 (جھوٹے ثبوت دینا یا گھڑنا) شامل ہیں۔

ذکیہ جعفری کی درخواست

اہم بات یہ ہے کہ پولیس کی ایف آئی آر میں سپریم کورٹ کے جمعہ، 24 جون کے فیصلے کے ایک حصے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ذکیہ جعفری کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تشدد کے پیچھے ایک بڑی سازش کو ایس آئی ٹی کی جانب سے مسترد کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا: "ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ریاست گجرات کے ناراض عہدیداروں اور دوسروں کے ساتھ مل کر ایسے انکشافات کرکے سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ان کے اپنے علم میں غلط تھے … حقیقت میں، تمام اس طرح کے غلط استعمال میں ملوث افراد کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔”

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج دیے گئے اپنے ایک انٹرویو دیتے ہوئے سیتلواڑ پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن کی طرف سے چلائی جانے والی این جی او نے "گجرات فسادات کے بارے میں بے بنیاد معلومات فراہم کیں” اور اس پر ذکیہ جعفری کو اکسانے کا الزام لگایا – جو اس مقدمے کی سرکردہ درخواست گزار ہے جسے جمعہ کو سپریم کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔

"میں نے فیصلے کو بہت غور سے پڑھا ہے۔ فیصلے میں تیستا سیتلواڑ کے نام کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ وہ این جی او جو اس کے ذریعے چلائی جا رہی تھی – مجھے اس این جی او کا نام یاد نہیں ہے – نے پولیس کو فسادات کے بارے میں بے بنیاد معلومات دی تھیں،‘‘

اترپردیش میں 21 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ

0
اترپردیش میں 21 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ
اترپردیش میں 21 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ

اترپردیش حکومت نے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 21 افسران کا تبادلہ کردیا

لکھنؤ: اترپردیش حکومت نے ہفتہ کو انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 21 افسران کا تبادلہ کردیا۔ پانچ اضلاع کو نئے ایس پی ملے ہیں وہیں پانچ ویٹنگ لائن میں رکھے گئے سینئر افسران کو بھی نئی تعیناتی دی گئی ہے۔

آفیشیل ذرائع کے مطابق سونبھدر، مئو، سیتاپور، سدھارتھ نگر اور سلطانپور کو نئے ایس پی ملے ہیں جبکہ وارانسی دیہات میں بھی نئے ایس پی کی تعیناتی کی گئی ہے۔ لکھنؤ کمشنریٹ میں ڈپٹی کمشنر امت کمار آنند کو سدھارتھ نگر کا ایس پی بنایا گیا ہے وہیں سومین ورما کا ٹرانسفر سلطانپور کے ایس پی کے عہدے پر کیا گیا ہے۔ سدھارتھ نگر کے موجود ایس پی یش ویر سنگھ کو اسی عہدے پر سونبھدر بھیجا گیا ہے جبکہ مئو کے ایس پی کا تبادلہ سیتاپور کے ایس پی کے طور پر کیا گیا ہے۔ علی گڑھ میں 38ویں واہنی پی اے سی کے کمانڈنٹ اویناش پانڈے کو مئو کاایس پی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیتاپور ڈپٹی انسپکٹر آف پولیس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راکیش پرکاش سنگھ کا تبالہ مرزاپور رینج کے ڈی آئی جی کے طور پر کیا گیا ہے۔ میرٹھ میں 44ویں واہنی پی اے سی کے کمانڈنٹ سوریہ کانت ترپاٹھی کو ایس پی دیہات وارانسی بنایا گیا ہے۔ اب اس پر کام کررہے امت ورما کو ایس آئی ٹی دفتر میں ڈی آئی جی کا عہدہ دیا گیا ہے۔ اڈیشنل کمشنر آف پولیس وارانسی کمشنریٹ سبھاش چندر دوبے کا ٹرانسفر آمدورفت ڈائرکٹوریٹ میں ڈی آئی جی کے طو ر پرکیا گیا ہے۔

اجودھیا کے نئے ڈی آئی جی

اجودھیا ڈویژن کے ڈی آئی جی کویندر پرتاپ سنگھ کو اسی عہدے پر پی اے سی دفتر بھیجا گیا ہے۔ سونبھدر میں ڈی آئی جی اور ایس پی کی ذمہ داری سنھال رہے امریندر پرتاپ سنگھ اب اجودھیا کے نئے ڈی آئی جی ہونگے۔ بستی کے ڈی آئی جی مودک راجیش کا تبادلہ سی بی سی آئی ڈی کردیا گیا ہے۔ مرزاپور کے ڈی آئی جی آر کے بھاردواج بستی رینج کے نئے ڈی آئی جی نامزد کئے گئے ہیں۔

باندہ میں چترکوٹ دھام کے ڈی آئی جی ایس کے بھگت کو لکھنؤ واقع پولیس ہیڈکوارٹر میں ڈی آئی جی بھون اور کلیان کا عہدہ دیا گیا ہے وہیں سلطان پور میں ایس پی اور ڈی آئی جی کا کردار نبھا رہے وپن کمار مشرا کو چترکوٹ دھام ڈویژن میں ڈی آئی جی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پانچ ویٹنگ میں رکھے گئے آئی پی ایس کو بھی نئی تعیناتی ملی ہے۔ تعیناتی کے لئے منتظر انسپکٹر جنرل آف پولیس اپرنا کمار کو آئی جی پی اے سی ، سنٹرل زون لکھنؤ کے عہدے پر بھیجا گیا ہے جبکہ آئی جی ویٹنگ ڈی کے ایجلرسن کو 112 دفتر کا آئی جی بنایا گیا ہے۔اڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (ویٹنگ) پرکاش ڈی کو یوپی آواس کارپوریش میں چیئرمین و مینیجنگ ڈائرکٹر بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ذکی احمد (ویٹنگ) کو سیتا پور پی ٹی سی میں اڈیشنل ڈائرکٹرجنرل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ راجا شریواستو کی جگہ لیں گے جنہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس املہ دفتر، ڈائرکٹر جنرل کے عہدےپر بھیجا گیا ہے۔ ایک دیگر ایس پی سچیندر پٹیل کا ٹرانسفر کمانٹنڈنٹ 44ویں واہنی پی اے سی میرٹھ کے طور پر کیا گیا ہے۔

اگنی پتھ کے خلاف متحدہ کسان مورچہ کا مظاہرہ

0

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہوگی، لہٰذا اسے منسوخ کرکے پرانے بھرتی کے عمل کو نافذ کیا جائے

حصار: متحدہ کسان مورچہ نے آج اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہوگی، لہٰذا اسے منسوخ کرکے پرانے بھرتی کے عمل کو نافذ کیا جائے اور تمام بھرتیوں میں زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں تین سال کی رعایت دی جائے۔ کیونکہ تین سال سے بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں۔

مظاہرین نے اگنی پتھ کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات کو منسوخ کرنے اور گرفتار نوجوانوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

منی سیکرٹریٹ میں مظاہرے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سے صدر مملکت کو یادداشت بھیجی گئی۔

اس کے ساتھ ہی مورچہ لیڈروں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔

مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے کو این سی پی کی مکمل حمایت: اجیت پوار

0
مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے کو این سی پی کی مکمل حمایت: اجیت پوار
مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے کو این سی پی کی مکمل حمایت: اجیت پوار

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے جمعرات کو کہا کہ این سی پی کے تمام ایم ایل ایز اور ایم پی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں

ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے جمعرات کو کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے تمام ایم ایل ایز اور ایم پی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔

جمعرات کو وائی وی چوہان کمپلیکس میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے پارٹی ایم ایل ایز اور ایم پیز کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کے بعد مسٹر پوار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دو ایم ایل اے میٹنگ میں موجود نہیں تھے کیونکہ وہ سرکاری دورے پر تھے۔

مسٹر پوار نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کو بچانا تمام پارٹیوں کی ذمہ داری ہے اور ہم سبھی پارٹیاں حکومت کے بحران کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈھائی برسوں میں تمام ممبران اسمبلی کو ترقی کے لئے فنڈ میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے درمیان آج جو بھی واقعہ چل رہا ہے، یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ایکناتھ شندے کو اپنے لیڈروں سے بات کرنی چاہئے تھی

انہوں نے کہا کہ اگر ایکناتھ شندے کے ذہن میں کچھ تھا تو انہیں اپنے لیڈروں سے بات کرنی چاہئے تھی اور اس کا کوئی حل ضرور نکلتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے ممبران اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے نہ ملنے کا الزام لگایا وہ غلط ہے کیونکہ دو سال سے کورونا وائرس (کووڈ-19) کا مسئلہ تھا۔ ملک کے پانچ مشہور وزرائے اعلیٰ میں ان کا نام ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ مسٹر راوت نے بیان دیا ہے کہ اگر مسٹر شندے 24 گھنٹے میں واپس آجائیں اور مسٹر ٹھاکرے سے بات کریں تو ان کے مطالبات پر غور کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر شندے نے مطالبہ کیا تھا کہ شیوسینا کو کانگریس اور این سی پی سے اتحاد توڑ کر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانی چاہیے۔ اس پر مسٹر پوار نے کہا کہ وہ مسٹر راوت کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت تشکیل دی گئی تھی تو ہمارے ساتھ کل 170 ایم ایل اے تھے۔ کانگریس اور این سی پی سیکولر پارٹیاں ہیں اور شیو سینا کے بارے میں سبھی جانتے ہیں لیکن جب حکومت بنی تھی تو این سی پی صدر شرد پوار نے کہا تھا کہ کوئی بھی پارٹی ترقیاتی کاموں کے لیے کام کرے گی اور کسی بھی انتخابی حلقے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شیوسینا میں بغاوت میں بی جے پی کا کوئی کردار ہے تو انہوں نے کہا کہ اب تک ایسا نہیں لگتا۔

انہوں نے کہا کہ تین پارٹیوں کی حکومت ہے، اس میں اختلافات کا امکان ہے لیکن اگر مسٹر شندے کو کوئی مسئلہ تھا تو انہیں پارٹی لیڈروں سے بات کرنی چاہئے تھی۔

شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج، کارپوریٹرس اور ایم پی بھی شندے کے حق میں

0
شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج، کارپوریٹرس اور ایم پی بھی شندے کے حق میں
شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج، کارپوریٹرس اور ایم پی بھی شندے کے حق میں

ادھو ٹھاکرے کو ایک اور چیلنج کا سامنا ہے، ایکناتھ شندے نے 400 سابق کارپوریٹروں، ایم ایل اے اور ایم پی کی فہرست تیار کی ہے، ان افراد کا ان کے ساتھ شامل ہونے کا امکان ہے

ممبئی: شیوسینا سربراہ اور مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو ایک اور جھٹکا لگ سکتا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق باغی لیڈر ایکناتھ شندے نے 400 سابق کارپوریٹروں، ایم ایل اے اور ایم پی کی فہرست تیار کی ہے، ان افراد کا ان کے ساتھ شامل ہونے کا امکان ہے۔

مہاراشٹر میں آنے والے بلدیاتی انتخابات میں غالب ہونا شیوسینا کے لیے ایک اور چیلنج ہے جو کہ تین سے چار ماہ میں ہوں گے۔

واضح رہے کہ شیوسینا کے ایم ایل اے کی ایک بڑی تعداد کو اپنے حلقے میں لانے کے انتظام کے بعد، باغی لیڈر ایکناتھ شندے نے کم از کم 400 سابق کارپوریٹروں اور چند ایم ایل اے اور ایم پیز کی ایک فہرست بنائی ہے جن کے نئی حکومت میں شامل ہونے کے بعد ان کی طرف آنے کی امید ہے۔

ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ یہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت شیوسینا کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہو سکتا ہے اور مانسون کے بعد تین سے چار ماہ میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کے لیے ایک چیلنج پیدا کرے گا۔

انتخابات میں تاخیر کے اسباب

ان میں سے زیادہ تر کارپوریشنوں کی شرائط مارچ میں ختم ہو گئیں اور انتخابات میں تاخیر کورونا وائرس وبائی بیماری اور بعد میں ادھو ٹھاکرے کی سرجری اور ان کی تاخیر سے صحت یابی کی وجہ سے ہوئی۔

دریں اثنا، شندے کے بیٹے سریکانت کے علاوہ، جو کلیان سے رکن پارلیمنٹ ہیں، کئی لوک سبھا ممبران اسمبلی بھی شندے کے ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔ یہاں تک کہ واشیم کی ایم پی بھاونا گاولی، جو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے پریشانی کا سامنا کر رہی ہیں، نے مبینہ طور پر ادھو سے کہا ہے کہ انہیں بی جے پی کے ساتھ جانا چاہیے۔

ذرائع نے بتایا کہ شندے کا گروپ ممبئی میٹرو پولیٹن علاقہ کے ایک اہم رکن اسمبلی کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش کر رہا ہے جو جمعرات کو ایک شادی کی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ، ایکناتھ شندے کے دھڑنے میں شامل ہونے والے ایم ایل اے میں سے ایک ایم ایل اے یامنی یشونت جادھو ہیں۔ ان کے شوہر اور تحلیل شدہ بی ایم سی باڈی کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرپرسن یشونت جادھو بھی شندے کیمپ میں گئے ہیں۔ انہیں بھی انکم ٹیکس اور سی ڈی کی انکوائری کا سامنا ہے۔

سینسیکس اور نفٹی میں تیزی آئی واپس

0
سینسیکس اور نفٹی میں تیزی آئی واپس
سینسیکس اور نفٹی میں تیزی آئی واپس

ایشیائی بازاروں سے زبردست خریداری کے باعث آج سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا

ممبئی: ایشیائی بازاروں سے زبردست حمایت حاصل کرتے ہوئے مقامی سطح پر چوطرفہ خریداری کی وجہ سے آج سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا۔ ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 443.19 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 52 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے اوپر52265.72 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 143.35 پوائنٹس بڑھ کر 15556.65 پر آگیا۔

بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بڑی کمپنیوں کے مقابلے خریداری کا زورزیادہ رہنے سے شیئر بازار کو تقویت ملی ہے۔ اس دوران مڈ کیپ 1.40 فیصد بڑھ کر 21474.82 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.18 فیصد بڑھ کر 24136.33 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای میں کل 3434 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2094 میں خریداری جبکہ 1211 میں فروخت ہوئی، وہیں 129 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اسی طرح این ایس ای میں 45 کمپنیوں میں تیزی جبکہ باقی میں گراوٹ کا رجحان رہا۔

بی ایس ای میں آئل اینڈ گیس اور انرجی گروپ کی 0.47 فیصد تک کی گراوٹ کے علاقہ باقی 17 گروپوں میں اضافہ ہوا۔ اس دوران، آٹو 4.42، سی ڈی جی ایس 2.40، ہیلتھ کیئر 1.39، انڈسٹریلز 1.48، آئی ٹی 1.87، ٹیلی کام 1.81، کیپٹل گڈز 1.28، ریئلٹی 1.59 اور ٹیک گروپ کے حصص میں 1.85 فیصد اضافہ ہوا۔

ایشیائی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا۔ جاپان کا نکی 0.08، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.26 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 1.62 فیصد بڑھ گیا۔ دوسری جانب، برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.17 فیصد اور جرمنی کے ڈیکس میں 1.01 فیصد کی کمی ہوئی۔