پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 227

سہارنپور: مشہور کاروباری حاجی اقبال کے تین مکانوں پر چلا بلڈوزر

0
سہارنپور: مشہور کاروباری حاجی اقبال کے تین مکانوں پر چلا بلڈوزر
سہارنپور: مشہور کاروباری حاجی اقبال کے تین مکانوں پر چلا بلڈوزر

پولیس انتظامیہ کے ذریعہ گینگسٹر ایکٹ کے تحت مطلوب اور فرار چل رہے حاجی اقبال کے چار میں سے تین بیٹوں کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ ان کی اب تک 130 کروڑ روپئے سے زیادہ کی ملکیت قرق کی جاچکی ہے

سہارنپور: اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں پیر کو کاروباری حاجی اقبال عرف باللا کے خلاف مختلف معاملوں میں کاروائی کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے ان کے تین عالی شان مکانوں کو بلڈوزر سے زمین دوز کردیا۔

سہارنپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے شہر کے تھانہ جنکپوری علاقے میں نیو بھگت سنگھ کالونی واقع سابق بی ایس پی ایم ایل سی اقبال کے تین مکانوں کو زمین دوز کرنے کی کاروائی کو انجام دیا۔ اتھارٹی کے وائس چیئرمین آشیش کمار اور ایس ڈی ایم صدر کنسکھ شریواستو کی قیادت میں یہ کاروائی کی گئی۔

کمار نے بتایا کہ بلڈوزر کی زد میں آئے حاجی اقبال کے تین میں سے ایک مکان کا نقشہ منظور نہیں تھا اور دو مکانوں کے منظور شدہ نقشے سے زیادہ علاقے کو گھیر کا تعمیراتی کام کرایا گیا تھا۔ اتھارٹی نے انہیں پوری طرح سے غیر قانونی بتاتے ہوئے مسمار کردیا۔ یہ مکانات ڈی ایم رہائش گاہ سے قریب ہی تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ضلع اور پولیس انتظامیہ کے ذریعہ گینگسٹر ایکٹ کے تحت مطلوب اور فرار چل رہے حاجی اقبال کے چار میں سے تین بیٹوں کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ ان کی اب تک 130 کروڑ روپئے سے زیادہ کی ملکیت قرق کی جاچکی ہے۔

نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف بلا امتیاز سختی کا مظاہرہ ناگزیر

0
نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف بلا امتیاز سختی کا مظاہرہ ناگزیر
نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف بلا امتیاز سختی کا مظاہرہ ناگزیر

نفرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف سختی کا مظاہرہ ضروری ہے، مگر اس میں امتیاز ی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ قانون کی نظر میں سب یکساں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

’یہ برسوں پہلے 1975ء کی بات ہے۔ جون کا ہی وقت تھا جب ایمرجنسی لگائی گئی تھی۔ اس میں ملک کے شہریوں سے تمام حقوق چھین لیے گئے تھے۔ ان حقوق میں سے ایک ’حق زندگی اور ذاتی آزادی‘ کا حق بھی تھا، جو آئین کی دفعہ 21؍ کے تحت تمام ہندوستانیوں کو دیا گیا ہے۔ اس وقت ہندوستان کی جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ملک کی عدالتیں، ہر آئینی ادارہ، پریس، سب کنٹرول میں تھے۔ سنسرشپ کا یہ حال تھا کہ منظوری کے بغیر کوئی چیز چھاپی نہیں جا سکتی تھی۔

ایمرجنسی کے حالات

مجھے یاد ہے جب مشہور گلوکار کشور کمار نے حکومت کی تعریف کرنے سے انکار کیا تو ان پر پابندی لگا دی گئی۔ ریڈیو پر ان کی انٹری ہٹا دی گئی۔ لیکن بہت سی کوششوں، ہزاروں گرفتاریوں اور لاکھوں لوگوں پر مظالم کے بعد بھی ہندوستانی عوام کا جمہوریت پر اعتماد متزلزل نہیں ہوا، بالکل نہیں ہوا۔ ہندوستان کے لوگوں کے لیے جمہوریت کی جو قدریں صدیوں سے چلی آرہی ہیں، جمہوری جذبہ جو ہماری رگوں میں ہے، آخرکار اس کی فتح ہوئی ہے۔ ہندوستان کے عوام نے جمہوری طریقے سے ایمرجنسی ہٹاکر جمہوریت قائم کی۔ آمرانہ ذہنیت، آمرانہ رجحان کو جمہوری طریقے سے شکست دینے کی ایسی مثال پوری دنیا میں ملنا مشکل ہے۔‘‘ وزیراعظم نریندر مودی نے چند روز پہلے کچھ اس انداز میں ایمرجنسی کے حالات کو ملک کے عوام سے واقف کروایا۔

آئین، جمہوریت، آزادی، مساوات، بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی جیسے الفاظ یقیناً ایک قوم کو مضبوط بنانے کا اہم ہتھیار ہوتے ہیں۔ ان امور کی پاسداری سے ہمارا سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے، وہیں ان پر پہرہ بٹھا دیا جائے تو ملک اور قوم کے دامن پر ایسا دھبہ لگتا ہے، جسے صاف کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے 47؍ سال پہلے اعلانیہ طور پر ملک میں جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی، اس کی یادیں ماند نہیں پڑی ہیں۔

غیر اعلانیہ ایمرجنسی

لیکن جب وزیر اعظم مودی برسوں پہلے ہندوستان کی جمہوریت پر لگے اس بد نما داغ کی یاد دلاتے ہیں تو آج کے حالات بھی نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ جسے لوگ ’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مودی نے 25؍ جون 1975ء کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کی عدالتیں، ہر آئینی ادارہ، پریس، سب کنٹرول میں تھے۔‘ اتفاق دیکھئے کہ آج ان کی حکومت پر بھی یہی الزام لگ رہے ہیں۔ میڈیا کے ایک بڑے حلقے کے بارے میں ان کالموں میں بارہا لکھا جا چکا ہے۔ عدلیہ اور آئینی اداروں کے موجودہ رویوں پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پولیس اور انتظامیہ کے کردار کو تو خود عدالتوں نے نہ جانے کتنی بار آئینہ دکھایا ہے۔ چاہے وہ فسادات کا معاملہ ہو، احتجاج اور مظاہروں کے بعد گرفتاریوں کا معاملہ ہو یا پھر سماج کے ایک طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک ہو، پولیس نے بار بار اپنے عمل سے عوام اور بالخصوص اقلیتی فرقہ کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔

نپور شرما کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ تبصرے

گستاخ رسول نپور شرما کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ تبصرے نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی سابق قومی ترجمان نپور شرما کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس خاتون کی بدزبانی نے پورے ملک میں آگ بھڑکا دی ہے۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لئے ذمہ دار صرف نپور شرما ہے۔ ہم نے اس ٹی وی بحث کو دیکھا ہے کہ انہیں کس طرح اکسایا گیا، لیکن جس طرح انہوں نے یہ سب کہا اور بعد میں کہا کہ وہ ایک وکیل ہیں، یہ شرمناک ہے۔ انہیں پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔‘

سماعت کے دوران نپور شرما کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے۔ عدالت نے اس پر کہا ’انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے یا وہ سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہیں؟ انہوں نے جس طرح سے پورے ملک میں جذبات بھڑکائے ہیں۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار صرف اکیلی یہ خاتون ہے۔‘

اسی کے ساتھ عدالت عظمیٰ نے اس پہلو کی جانب بھی اشارہ کیا کہ جس میں پولیس یا انتظامیہ قانون کی عمل آوری کے نام پر دوہرا رویہ اختیار کرتی ہے۔ اس کے لئے عدالت نے براہ راست دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ ’جب آپ دوسروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن جب یہ آپ کے خلاف ہو تو کسی کو آپ کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

کچھ سوالات حکومت سے

واضح رہے کہ 17؍ جون کو ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نپور شرما سے پوچھ گچھ کے لیے دہلی آئی تھی، لیکن مہاراشٹر پولیس کو دہلی پولیس سے کوئی تعاون نہیں ملا۔ بالآخر مہاراشٹر پولیس پانچ روز کی تگ ودو کے بعد یہاں سے لوٹ گئی تھی۔ وہیں کولکاتہ پولیس نے بھی نپور شرما کو کئی سمن جاری کئے ہیں، لیکن دہلی پولیس سے سمن کی تعمیل میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔

اب اگر سپریم کورٹ کے تبصرے پر حکومت، انتظامیہ اور پولیس سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ پورے ملک کو خطرے میں ڈالنے والی نپور شرما کو کب گرفتار کیا جائے گا؟ دوسرا یہ کہ نپور شرما کے لیے خصوصی سیکورٹی انتظامات کرنے والی دہلی پولیس کیا اب حرکت میں آئے گی؟ اس کے علاوہ نپور شرما کب ٹی وی پر آئے گی اور پھر غیر مشروط معافی مانگے گی؟ اور جس ٹی وی چینل پر نپور نے نفرت انگیز بیان دیا اس کے خلاف کب کارروائی ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سپریم کورٹ کے تبصرے کے بعد انصاف پسند حلقوں کی جانب سے اٹھا جا رہے ہیں۔

کچھ سوالات عدلیہ سے

کچھ سوالات عدلیہ سے بھی پوچھے جا سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر سپریم کورٹ کو واقعی لگتا ہے کہ نپور شرما نے اشتعال انگیز اور نا قابل معافی جرم کیا ہے تو گرفتاری کا حکم کیوں نہیں دیا؟سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا کیا مطلب نکالا جائے؟ کیوں کہ سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد بھی تا دم تحریر نپور شرما کو گرفتار نہیں کیا گیا، مگر مشہور فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر کی گرفتاری اور پھر اسے ضمانت نہ ملے، اس کے لئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا میدان میں ہیں۔ حکومت زبیر پر شکنجہ کسنے کے لیے عدالت میں پورا زور لگا رہی ہے، اس کی ضمانت عرضیاں خارج ہو رہی ہیں، جسے ایک فلمی سین کے ساتھ چار سال پرانے ٹویٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سوالات کے جوابات بھلے ہی ابھی نہ ملیں، مگر پورے ملک میں آئین کی بالادستی قائم رہنے یا نہ رہنے پر بحث و مباحثہ ضرور ہوگا۔

عوام میں اعتماد بحال کرنا آئینی اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری

بہر حال، آئینی اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند عوام میں اعتماد بحال کریں۔ قانون کی نظر میں اگر زبیر نے اشتعال پھیلایا اور دو فرقوں کے مابین منافرت کو ہوا دی تو یقیناً اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، مگر اس کے ساتھ ہی قانون کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسی کارروائی ان لوگوں کے خلاف بھی ہو رہی ہے، جو کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی بات کرتے ہیں، ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں، مقدس مذہبی شخصیات کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو کیمروں کے سامنے خونریزی کا حلف دلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی لبادہ اوڑھ کر ادے پور جیسے واقعات کو انجام دینے والے بھی سزا کے مستحق ہیں۔

عدلیہ ہی نہیں، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو بھی ملک میں نفرت کی اس چنگاری کو آگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسے عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی جو دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، سماج میں منافرت اور اشتعال پیدا کریں۔ نہ تو کوئی قانون اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

( مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

اس مضمون میں بیان کئے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ہمس لائیو کی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہوں۔

چینل نے معافی مانگ لی، بی جے پی لیڈروں کو بھی معافی مانگنی چاہئے: کانگریس

0
چینل نے معافی مانگ لی، بی جے پی لیڈروں کو بھی معافی مانگنی چاہئے: کانگریس
چینل نے معافی مانگ لی، بی جے پی لیڈروں کو بھی معافی مانگنی چاہئے: کانگریس

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس فرضی ویڈیو کے ذریعے مسٹر گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خبر کے ساتھ ویڈیو نشر کرنے والے ٹی وی چینل نے معافی مانگ لی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ اس کے سابق صدر راہل گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے کے لئے فرضی ویڈیو نشر کرنے والے ٹی وی نیوز چینل نے معافی مانگ لی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے جن لیڈروں نے اس ویڈیو کو آگے بڑھایا انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ بصورت دیگر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس فرضی ویڈیو کے ذریعے مسٹر گاندھی کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خبر کے ساتھ ویڈیو نشر کرنے والے ٹی وی چینل نے معافی مانگ لی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس ملک میں اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں، اس ویڈیو کی تشہیر کرنے والے لیڈروں کو بھی بروقت معافی مانگنی چاہیے ورنہ انہیں عدالتوں میں جانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ یہ فرضی ویڈیو بی جے پی لیڈر ہرش وردھن راٹھوڑ نے بھی شیئر کی ہے جو مرکزی حکومت میں اطلاعات و نشریات کے وزیر تھے۔ پارٹی کے ان لیڈروں نے یہ کام سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اب انہیں اس حرکت پر معافی مانگنی پڑے گی۔

ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک شخص کے خلاف راجستھان میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کچھ دوسرے چینلز کو بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کانگریس لیڈر کی شبیہ کو خراب کرنے کی ایسی کوشش کی گئی تو ایسا کرنے والوں کی کئی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے انتخاب میں 12 اراکین غیر حاضر، 3 نے ووٹ دینے سے کیا گریز

0
مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے انتخاب میں 12 اراکین غیر حاضر، 3 نے ووٹ دینے سے کیا گریز
مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے انتخاب میں 12 اراکین غیر حاضر، 3 نے ووٹ دینے سے کیا گریز

مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے انتخاب میں تین ممبران دو سماج وادی پارٹی کے اراکین ابو عاصم اعظمی، رئیس شیخ اور مجلس اتحاد المسلمین کے رکن فاروق شیخ نے ووٹ دینے سے گریز کیا، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے بارہ اراکین اسبلی ایوان سے غیر حاضر رہے اور انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا

ممبئی: بی جے پی کے ایم ایل اے راہل نارویکر 164 ووٹ حاصل کرکے مہاراشٹر اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہوئے، جب کہ ان کے مخالف شیوسینا رکن اسمبلی راجن سالوی کو صرف صرف 107 ووٹوں کو حاصل کرکے شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔ اس انتخاب میں تین ممبران دو سماج وادی پارٹی کے اراکین ابو عاصم اعظمی، رئیس شیخ اور مجلس اتحاد المسلمین کے رکن فاروق شیخ نے ووٹ دینے سے گریز کیا، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے بارہ اراکین اسبلی ایوان سے غیر حاضر رہے اور انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔

غیر حاضر رہنے والوں میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سات دو بی جے پی، ایک کانگریس اور ایک مجلس کے ارکین اسمبلی شامل ہیں، جبکہ شیوسینا کے رکن اسمبلی رمیش لٹکے بھی ایوان میں موجود نہیں تھے حال ہی میں انکی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔

غیر حاضر رہنے والے این سی پی کے اراکین اسمبلی میں، 1. نواب ملک، 2. انیل دیش مکھ (دونوں منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے تحت جیل میں مقید ہیں) 3. نیلش لنکے 4. دلیپ موہتے 5. دتاترے بھرانے 6. ببن شندے 7. انالی بنسودے شامل ہیں جبکہ بی جے پی جو اراکین غیر حاضر تھے انکے نام . لکشمن جگتاپ اور مکتا تلک ہے۔ اسی طرح سے کانگریس رکن اسمبلی پرنیتی شندے جو سابق مرکزی وزیر سشیل کمار شندے کی دختر ہے وہ اور مجلس کے دیگر رکن اسمبلی مفتی اسماعیل بھی غیر حاضر تھے۔ واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لے سکتے۔

مہاراشٹرا اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 288 ہیں۔

افغانستان: مدرسے میں بم دھماکہ سے 10 افراد زخمی

0

افغانستان کے ایک مدرسے میں بم دھماکہ ہونے سے کم از کم 10 افراد زخمی ہوگئے، حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی

کابل: افغانستان میں صوبہ ننگرہار کے ایک مدرسے میں ہونے والے بم دھماکہ میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوگئے۔

میڈیا کی رپورٹوں میں ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دھماکہ گزشتہ رات ضلع رودت میں واقع ایک مدرسہ میں ہوا۔ دھماکہ بارودی مواد سے کیا گیا تھا۔

زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ادے پور: کنہیا لال قتل کے چار ملزمین کو دس دن کے این آئی اے ریمانڈ پر بھیجا گیا

0

کنہیا لال قتل کے بعد ملزمین کے تار دوسرے ملکوں سے بھی جڑے ہونے کی وجہ سے اس معاملے کی جانچ این آئی اے کو سونپ دی گئی

جے پور: ادے پور کنہیا لال قتل معاملے کے چار ملزمین کو آج یہاں قومی تحقیقی ایجنسی (این آئی اے) کو دس دن کے لئے ریمانڈ پر سونپ دیا گیا۔

این آئی اے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان اس معاملے کے اہم ملزم ریاض اختر اور غوث محمد اور دو دیگر ملزم محسن اور آصف کو دوپہر ایک بجے کے بعد این آئی اے کے اسپیشل کورٹ میں لے کر آئی اور انہیں کورٹ میں پیش کیا گیا۔ جہاں عدالت نے ملزمین کو 12 جولائی تک این آئی اے حراست میں بھیج دیا گیا۔

پیشی کے بعد جب این آئی اے ملزمین کورٹ سے لے کر جا رہی تھی، تبھی مشتعل وکیلوں نے ملزمین کے ساتھ دھکا مکی ،کپڑے اور بال کھینچنے کی کوشش کی۔ اس دوران کورٹ احاطے میں پولیس کا بڑی تعداد میں دستہ تعینات کیا ہوا تھا لیکن جب ملزمین کو گاڑی میں بٹھانے لگے کچھ ان تک پہنچ گئے اور ان کے ملزمین کے بال اور کپڑے کھینچنے کی کوشش ہوئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ 28 جون کو کنہیا لال کے قتل کے بعد ملزمین کے تار دوسرے ملکوں سے بھی جڑے ہونے کی وجہ سے اس معاملے کی جانچ این آئی اے کو سونپ دی گئی۔

ملک میں ہو رہے پرتشدد واقعات کی ذمہ دار ہے نوپور شرما: سپریم کورٹ

0

جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ نوپور شرما کو جو ایک ٹی وی پروگرام کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے ریمارکس کی وجہ سے کئی ریاستوں میں پھوٹنے والے فسادات اور پرتشدد واقعات کے لیے ملک سے معافی مانگنی چاہیے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق لیڈر نوپور شرما کی پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ تبصرے کے معاملے میں جمعہ کو سخت سرزنش کی اور کہا کہ انہیں اس کے لئے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردی والا کی تعطیلاتی بنچ نے ان سخت ریمارکس کے ساتھ، نوپور شرما کی درخواست کو خارج کر دیا جس میں ان کے خلاف ملک بھر میں درج ایف آئی آر کو دہلی منتقل کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔

جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ انہیں(نوپور شرما) جو ایک ٹی وی پروگرام کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے ریمارکس کی وجہ سے کئی ریاستوں میں پھوٹنے والے فسادات اور پرتشدد واقعات کے لیے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے اس دوران دہلی پولیس پر بھی سخت تبصرہ کیا۔ دہلی پولیس کے کام کرنے کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس کی (نوپور شرما) کی شکایت پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن کئی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود، اس (نوپور) کے خلاف ابھی تک ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

نوپور شرما کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے

بنچ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دلائل دیکھے ہیں۔ بحث کے دوران کس طرح سے دن بھر اشتعال انگیز تبصرے کئے گئے۔ اس کی ذمہ دار صرف وہی خاتون ہے۔ ایک وکیل ہونے کے ناطے اسے جس طرح اکسایا گیا وہ اور بھی شرمناک ہے۔ اسے پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

بنچ نے نچلی عدالت میں زیر غور گیان واپی مسجد تنازعہ پر بحث کرنے پر بھی متعلقہ ٹیلی ویژن چینل کے تئیں بھی ناراضگی ظاہر کی۔ اس پروگرام میں شامل ہونے والوں میں نوپور شرما بھی تھی۔

سپریم کورٹ کے سخت موقف کے بعد درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے عدالت نے قبول کر لیا۔

مہاراشٹر: ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ، فڑنویس نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر لیا حلف

0

مہاراشٹر کی سیاست میں ڈرامائی پیش رفت کے درمیان جمعرات کو شیوسینا کے باغی دھڑے کے لیڈر ایکناتھ شندے نے بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ڈرامائی پیش رفت کے درمیان جمعرات کو شیوسینا کے باغی دھڑے کے لیڈر ایکناتھ شندے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا اور خود حکومت میں شامل نہ ہونے کے اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اور سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔

گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے راج بھون میں شام 7.30 بجے منعقدہ ایک تقریب میں مسٹر شندے اور مسٹر فڑنویس کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

مسٹر شندے آج ہی گوا سے واپس آئے تھے اور مسٹر فڑنویس کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی تھی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا اور اس کے فوراً بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مسٹر فڑنویس نے مسٹر شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے پر رضامندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود حکومت میں شامل نہیں ہوں گے لیکن وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت کے کاموں میں مکمل تعاون کریں گے۔

ان کے بیان کے بعد پارٹی صدر جگت پرکاش نڈا نے دہلی میں کہا کہ مسٹر فڑنویس کو حکومت میں شامل ہونا چاہئے۔ مسٹر نڈا نے بتایا کہ پارٹی نے مسٹر فڑنویس کو نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کی ہدایت دی ہے۔

بی جے پی کے سابق صدر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹویٹر پر کہا، "بی جے پی صدر جے پی نڈا جی کے کہنے پر مسٹر دیویندر فڑنویس جی نے بڑا دل دکھایا ہے اور ریاست مہاراشٹر اور عوام کے مفاد میں حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ کی مبارکبادی

مسٹر شاہ نے کہا، ’’ مسٹر فڑنویس کا یہ فیصلہ مہاراشٹر کے تئیں ان کی حقیقی وفاداری اور خدمت کا عکاس ہے۔ اس کے لیے میں انہیں تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”

مسٹر کوشیاری نے انہیں آج شام حلف لینے کی دعوت دی تھی۔ قابل غور ہے کہ مسٹر شندے شیوسینا سے بغاوت کرنے کے بعد پارٹی کے 39 ایم ایل ایز کے ساتھ تقریباً ایک ہفتے سے آسام کی راجدھانی گوہاٹی کے ایک ہوٹل میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ گجرات کے سورت میں کچھ باغی ایم ایل اے کے ساتھ ٹھہرے تھے۔ یہ ایم ایل اے کل رات گوہاٹی سے گوا آئے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مسٹر شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر قائدین نے مسٹر شندے اور مسٹر فڑنویس کو ان کی نئی ذمہ داری کے لئے نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کی ہے۔

آئی جے یو نے صحافی محمد زبیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا

0
آئی جے یو نے صحافی محمد زبیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا
آئی جے یو نے صحافی محمد زبیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا

آئی جے یو کے رہنماؤں نے محمد زبیر کی گرفتاری کے انداز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ زبیر کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کیے بغیر گرفتار کیا گیا

حیدرآباد: انڈین جرنلسٹس یونین (آئی جے یو) نے بدھ کے روز آلٹ نیوز کے شریک بانی اور صحافی محمد زبیر کی گرفتاری پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

آئی جے یو کے صدر کے سرینواس ریڈی اور جنرل سکریٹری بلویندر سنگھ نے آج یہاں جاری ہونے والے بیان میں کہا کہ سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم بیرون ملک جاکر اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے عہد نامے پر دستخط کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف ملک کے اندر موجود ایک صحافی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آئی جے یو کے رہنماؤں نے زبیر کی گرفتاری کے انداز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ زبیر کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کیے بغیر گرفتار کیا گیا۔

آئی جے یو کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ صحافی محمد زبیر نے ملک میں گردش کرنے والی جھوٹی خبروں کی حقیقت کو بے نقاب کرکے حکومت سے دشمنی مول لی ہے۔ محمد زبیر کی گرفتاری سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی حکومت سچائی ظاہر کرنے اور لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں کس قدر خائف ہے۔

کنہیا لال قتل کیس کی تحقیقات اب این آئی اے کرے گی: گہلوت

0
کنہیا لال قتل کیس کی تحقیقات اب این آئی اے کرے گی: گہلوت
کنہیا لال قتل کیس کی تحقیقات اب این آئی اے کرے گی: گہلوت

کنہیا لال قتل کیس میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کرنے والے پانچ پولیس اہلکاروں تیج پال، نریندر، شوکت، وکاس اور گوتم کو آوٹ آف ٹرم ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

جے پور: راجستھان کے اُدے پور میں کنہیا لال قتل کیس کی تحقیقات اب نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کرے گی۔

وزیر اعلی اشوک گہلوت کی طرف سے آج یہاں ادے پور کے واقعہ پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ مسٹرگہلوت نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں بتایا کہ آج ادے پور واقعہ پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ ہوئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ بنیادی طور پر دہشت پھیلانے کے مقصد سے کیا گیا۔ دونوں ملزمان کے دوسرے ممالک میں بھی رابطہ ہونے کی معلومات سامنے آئی ہے۔ اس واقعہ میں یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے لہذا اب مزید تفتیش این آئی اے کرے گی جس میں راجستھان اے ٹی ایس مکمل تعاون کرے گی۔

ادے پور واقعہ میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری

انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ پوری ریاست میں امن و امان کو یقینی بنائے اور گڑبڑی پیدا کرنے کی کوششوں پر سختی سے کارروائی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ادے پور واقعہ میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کرنے والے پانچ پولیس اہلکاروں تیج پال، نریندر، شوکت، وکاس اور گوتم کو آوٹ آف ٹرم ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام فریقوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔

میٹنگ سے پہلے مسٹر گہلوت نے میڈیا سے کہا، "یہ واقعہ بہت بڑا ہے، گھناؤنا ہے، میں نے کل بھی کہا تھا کہ جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور اسی لیے ہم نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے، ایس آئی ٹی نے کل رات سے ہی اپنا کام شروع کر دیا ہے، جے پور پہنچتے ہی لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے میٹنگ کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہم اس بات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔