پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 212

گیان واپی معاملہ: شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ

0
گیان واپی معاملہ: شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ
گیان واپی معاملہ: شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ

ہندو فریق کی جانب سے پانچ خواتین نے گیان واپی احاطے میں شرنگار گوری اور دیگر دیوی۔دیوتاؤں کی مستقل پوجا کی اجازت دینے کے مطالبے کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے

وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گیان واپی معاملہ پر ضلع عدالت میں جمعرات کو سماعت کے دوران ہندو فریق نے گیان واپی مسجد احاطے کے اندر وضو خانے (حوض) میں موجود شیولنگ/فوارے اور ہندو علامتی نشانات سمیت دیگر اشیاء کی کاربن ڈیٹنگ کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کاربن ڈیٹنگ تکنیک سے کوئی چیز کتنی قدیم ہے اس بات کا تعین کیا جاتاہے۔ ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر اجئے کرشن وشویش نے اس معاملے میں سماعت کی اگلی تاریخ 29 ستمبر طے کی ہے۔

ملحوظ رہے کہ گیان واپی احاطے میں ویڈیو گرافی سروے کے دوران مسجد کے اندر موجود حوض کے درمیان میں گنبد نما پتھر کے حصے کو ہندو فریق نے شیولنگ ہونے کا دعوی کیا تھا جب کہ مسلم فریق کا دعوی ہے کہ یہ حوض میں لگا فوارہ ہے جیسا کہ ہر مسجد کے حوج میں فوارہ ہوتا ہے۔

سماعت کو 8 ہفتے کے لئے موخر کرنے کی مسلم فریق کی اپیل

آج کی سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے عدالت سے اپیل کی گئی کہ سماعت کو 08 ہفتے کے لئے موخر کردیا جائے تاکہ عدالت کے سابقہ فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی جاسکے۔ عدالت نے مسلم فریق کے اس مطالبے کو خارج کردیا اور سماعت کی اگلی تاریخ 29 ستمبر طے کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ضلع عدالت نے گذشتہ 12 ستمبر کو اس مقدمے کی سماعت کے جواز پر سوالیہ نشان لگانے والی مسلم فریق کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے مقدمہ کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔مسلم فریق نے سول پروسیزر کوڈ کے آرڈو 7 وصول 11 کے تحت ہندو فریق کی عرضی کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے مسلم فریق کی دلیل کو خارج کرتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ مقدمہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے ایکٹ سے پابند نہیں ہے۔ لہذا اس پر سماعت جاری رہے گی۔ ہندو فریق کی جانب سے پانچ خواتین نے گیان واپی احاطے میں شرنگار گوری اور دیگر دیوی۔دیوتاؤں کی مستقل پوجا کی اجازت دینے کے مطالبے کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ریکارڈ، 80.79 روپے فی ڈالر

0
روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ریکارڈ، 80.79 روپے فی ڈالر
روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ریکارڈ، 80.79 روپے فی ڈالر

سود کی شرح میں مسلسل تیسری بار 0.75 فیصد اضافے کی وجہ سے آج انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ہوئی

ممبئی: سود کی شرح میں مسلسل تیسری بار 0.75 فیصد اضافے کی وجہ سے دنیا کی اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کے دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے دباؤ کے تحت آج انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 83 پیسے کی کمی ہوئی۔

اسی طرح گزشتہ کاروباری روز روپیہ 22 پیسے کم ہوکر 79.96 روپے فی ڈالر پر آگیا تھا۔

کاروبار کے آغاز پر روپیہ 31 پیسے کی کمی سے 80.27 روپے فی ڈالر پر کھلا اور خرید کی وجہ سے 80.95 روپے فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگیا۔ تاہم فروخت کے باعث یہ بھی 80.27 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر رہا۔ آخر کار یہ پچھلے سیشن میں 79.96 روپے فی ڈالر کے مقابلے میں 83 پیسے گر کر 80.79 روپے فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) نے مسلسل تیسری بار شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اگلی میٹنگ میں شرح سود میں اضافے کا عندیہ دیا ہے جو امریکا میں 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا کی بڑی کرنسیوں کے مقابلے روپے میں بڑی گراوٹ ہوئی ہے اور ڈالر دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ

0
نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ
نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ

جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے 9ویں اور 10ویں کلاس کے لئے اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کی جانچ کررہی سی بی آئی سے سوال کیا ہے کہ اس نے اب تک کتنی غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف کیا ہے

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے 9ویں اور 10ویں کلاس کے لئے اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کی جانچ کررہی سی بی آئی سے سوال کیا ہے کہ اس نے اب تک کتنی غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف کیا ہے۔

جسٹس گنگولی نے کہا کہ چوں کہ اس وقت ان دونوں جماعتوں کے لئے حکومت اساتذۃ کی بحالی کرنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ سی بی آئی نے اب تک کتنے غیرقانونی طریقے سے نوکری حاصل کرنے والوں کی شناخت کی ہے۔ کمیشن کے کاغذات دیکھ کر کتنے غیر قانونی طریقے سے روزگار لینے والوں کی شناخت ہوئی ہے۔

اسکول سروس کمیشن کے وکیل نے کہا کہ سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے، کئی لوگ حراست میں ہیں اور تفتیش جاری ہے، وہ اصل تعداد بتا سکیں گے۔ جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے جواب دیا کہ سی بی آئی کو فوری طور پر ایک مختصر رپورٹ پیش کرنی چاہئے کہ کتنی غیر قانونی تقرریاں کی گئی ہیں۔ کمیشن کے وکیل نے کہا کہ غیر قانونی بھرتیوں کی اصل تعداد بتانا بہت مشکل ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک یہ کہنا مشکل ہے کہ پردے کے پیچھے کتنی غیر قانونی بھرتیاں ہوئی ہیں۔ میرٹ لسٹ شائع ہوئی، ہائی جمپ لگانے والوں سے پوچھ گچھ کی جائے تو ہی معاملہ واضح ہو گا۔‘‘

عدالت میں 17 غیر قانونی تقرریوں کی شناخت

جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے کہا کہ ویں-دسویں جماعت کے اساتذہ کی تقرری میں عدالت میں 17 غیر قانونی تقرریوں کی شناخت ہوچکی ہے۔ سی بی آئی اور کمیشن دونوں کو 17 غیر قانونی بھرتیوں کے بارے میں اصل معلومات فراہم کرنی چاہئے۔ عدالت نے سی بی آئی اور کمیشن کو 28 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت نے کہا کہ تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد غیر قانونی تقرریوں کی تعداد بتائی جائے۔ عدالت اس بنیاد پر تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کر دے گی۔ ہائی کورٹ ان لوگوں کی تقرری کرے گی جو محروم اہلیت کی ویٹنگ لسٹ میں ہیں۔ مدھیہ شکشا پریشد جمعہ (23 ستمبر) تک کلاس IX-X کے لیے کس کی تقرری کی فہرست پیش کرے گی۔

مختار انصاری کو 7 سال قید کی سزا اور 37 ہزار روپے جرمانہ

0
مختار انصاری کو 7 سال قید کی سزا اور 37 ہزار روپے جرمانہ
مختار انصاری کو 7 سال قید کی سزا اور 37 ہزار روپے جرمانہ

جیلر نے سابق ایم ایل اے مختار انصاری کے خلاف عالم باغ پولیس اسٹیشن میں جانے سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کرایا تھا جسے عدالت سے صحیح قرار دیا ہے

لکھنؤ: نچلی عدالت کے فیصلے کو خارج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بدھ کو شہ زور لیڈر سابق ایم ایل اے مختار انصاری کو جیل میں جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں 7 سال کی قید اور 37 ہزار روپئے مالی جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی ہے۔

جسٹس دنیش کمار سنگھ کی سنگل بنچ نے جیلر کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا خاطی قرار دیا ہے۔ جیلر نے سابق ایم ایل اے کے خلاف عالم باغ پولیس اسٹیشن میں جانے سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کرایا تھا جسے عدالت سے صحیح قرار دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے جیلر ایس کے اوستھی نے مختار پر دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

جیلر کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق جیل میں مختار انصاری سے ملنے آئے افراد کی تلاشی لینے کی ہدایت دینے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اتنا ہی نہیں مختار نے جیلر کے ساتھ گالم گلوج کر اس پر پستول پر تان دی تھی۔

ایک اسپیشل ایم پی۔ ایم ایل اے عدالت نے شواہد کی کمی کی وجہ سے مختار کو بری قرار دیا تھا جس کے بعد ریاستی حکومت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل داخل کی تھی۔

اپنے فیصلے میں جسٹس سنگھ نے کہا ہے ’دلائل سننے اور موجود شواہد کو دیکھتے ہوئے موجود عرضی قبول کی جاتی ہے اور اسپیشل جج، ایم پی /ایم ایل اے،ا ڈیشنل سیشن جج، لکھنؤ کورٹ کے فیصلے کو خارج کیا جاتا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم جواب دہندہ کو تعزیرات ہند کی دفعات 353،504،506 کے تحت خاطی قرار دیا جاتا ہے‘۔

کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا ایمس میں انتقال

0
کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا ایمس میں انتقال
کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا ایمس میں انتقال

کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو نے تقریباً 40 دن تک بیماری سے لڑنے کے بعد آج آخری سانس لی

نئی دہلی: گزشتہ ایک ماہ سے بھی زیادہ وقت سے بیمار کامیڈی کنگ سے مشہور کامیڈین راجو شریواستو کا بدھ کو یہاں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں انتقال ہوگیا ان کی عمر 58 سال تھی۔

پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ راجو شریواستو کو خرابی صحت کی وجہ سے 10 اگست کو ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ اسپتال میں کافی وقت تک ان کی حالت تشویشناک رہی اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔ انہوں نے تقریباً 40 دن تک بیماری سے لڑنے کے بعد آج آخری سانس لی۔

راجو شریواستو بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ تھے اور پارٹی لیڈروں سے ملنے یہاں آئے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی طبیعت یہیں بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں ایمس میں داخل کرایا گیا۔

اپوزیشن کی تحریک کو روندنا، بی جے پی کا تاناشاہی رویہ: مایاوتی

0
اپوزیشن کی تحریک کو روندنا، بی جے پی کا تاناشاہی رویہ: مایاوتی
اپوزیشن کی تحریک کو روندنا، بی جے پی کا تاناشاہی رویہ: مایاوتی

اپوزیشن جماعت کو عوام کے مسائل اٹھانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہ دینا حکومت کے تاناشاہی رویہ کو ظاہر کرتا ہے

لکھنؤ: اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے ریاست کی یوگی حکومت پر تاناشاہی رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے منگل کو کہا کہ اپوزیشن جماعت کو عوام کے مسائل اٹھانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہ دینا حکومت کے تاناشاہی رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اراکین نے پیر کو مہنگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی مخالفت میں ایس پی دفتر سے اسمبلی ہاوس تک پیدل مارچ نکالنے کی کوشش کی تھی۔ پولیس نے اس کی اجازت نہ لینے کا حوالہ دیتے ہوئے ایس پی صدر اکھلیش یادو کی قیادت میں ایس پی اراکین اسمبلی کو راج بھون سے پہلے ہی روک کر انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا تھا۔

مایاوتی نے حکومت کے اس رویہ کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا ’اپوزیشن پارٹیوں کو حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں و اس کی بربریت و ظلم و زیادہ وغیرہ کو لے کر دھرنا۔ مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دینا بی جے پی حکومت کی نیا تاناشاہی رویہ ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی بات بات پر مقدمے و لوگوں کی گرفتار اور مخالفت کو کچلنے کی بنا سرکاری تاثر کافی مہلک ہے۔

یوگی حکومت پر تحریکات کو کچلنے کا الزام

انہوں نے یوگی حکومت پر تحریکات کو کچلنے کا الزام لگاتے ہوئے اس رویہ کی مذمت کی۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی میں طلبہ کی تحریک پر پولیس کاروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ’اسی ضمن میں الہ آباد یونیورسٹی کے ذریعہ فیس میں یکمشت بھاری اضافہ کرنے کی مخالفت میں طلبہ کی تحریک کو جس طرح کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نامناسب اور قابل مذمت ہے۔ بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ یوپی حکومت اپنی آمریت کو چھوڑ کر طلبہ کے واجب مطالبات پر ہمدردانہ طور سے غور کرے۔

مایاوتی نے بی جے پی کو اپوزیشن میں رہنے کے دوران بات بات پر اسمبلی کے سامنے سڑک جام کرنے کا ان کا ماضی بھی یاد دلایا۔ انہوں نے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا ’مہنگائی، بے روزگار، غریبی، بدحال سڑک، تعلیم، نظم ونسق وغیرہ کے تئیں یوپی حکومت کی لاپرواہی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ نہ کرنے دینے و ان پر ’دمن چکر‘ سے پہلے بی جے پی ضرور سوچے کی اسمبلی ہاوس کے سامنے بات بات پر سڑک جام کر کے عام زندگی مفلوج کرنے کا ان کی ایک سفاک تاریخ ہے۔

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات: عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری

0
ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات: عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری
ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات: عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں ضلع کانگڑا کے فتح پور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے سابق ایم پی ڈاکٹر راجن سوشانت کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اماکانت ڈوگرا نگروٹا بگواں کو امیدوار بنایا گیا ہیں۔ منیش ٹھاکر کو سرمور کے پاونٹا صاحب اور لاہول اسپتی سے سدرشن جسپا کو ٹکٹ دیا گیا ہے

شملہ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے آج اس سال ہونے والے ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی۔

اے اے پی نے پہلی فہرست میں چار لیڈروں کو میدان میں اتارا ہے۔ ان میں ضلع کانگڑا کے فتح پور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے سابق ایم پی ڈاکٹر راجن سوشانت کو ٹکٹ دیا ہے۔ اماکانت ڈوگرا نگروٹا بگواں کو امیدوار بنایا گیا ہیں۔ منیش ٹھاکر کو سرمور کے پاونٹا صاحب اور لاہول اسپتی سے سدرشن جسپا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

پارٹی تمام 68 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ پارٹی نے ٹکٹوں کی تقسیم پر ایک نئی پہل کی ہے۔ ابھی تمام سیٹوں کا فیصلہ نہیں ہوا، جہاں ٹکٹ ہولڈرز کی تعداد زیادہ نہیں، آج فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے اے پی کی توجہ ہماچل پردیش سے زیادہ گجرات پر ہے، لیکن پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں حکمران بی جے پی اور کانگریس سے آگے رہنا چاہتی ہے۔ کانگریس کی جانب سے اپنائے گئے طریقہ کار کے تحت ٹکٹ کے خواہشمند قائدین سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں لیکن ابھی تک پہلی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے۔

بی جے پی میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر غوروفکر جاری ہے۔ اس پر فیصلہ علاقائی اور ذات پات کے مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، لیکن اے اے پی ٹکٹ کی تقسیم میں آگے آئی ہے۔ پارٹی کو اب تک سات لاکھ سے زائد ممبران ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بڑے چہرے نہیں مل سکے ہیں۔

چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری

0
چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری
چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 578.51 پوائنٹس یعنی 0.98 فیصد چھلانگ لگا کر 59719.74 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 194 پوائنٹس یعنی 1.1 فیصد چھلانگ لگا کر 17816.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا

ممبئی: عالمی منڈیوں کے مثبت رجحان کے درمیان مقامی سطح پر چوطرفہ خریداری کے سبب سینسیکس اور نفٹی میں آج مسلسل دوسرے دن اضافہ کا سلسلہ جاری رہا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 578.51 پوائنٹس یعنی 0.98 فیصد چھلانگ لگا کر 59719.74 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 194 پوائنٹس یعنی 1.1 فیصد چھلانگ لگا کر 17816.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی خریداری کی وجہ سے بی ایس ای کا مڈ کیپ 1.65 فیصد بڑھ کر 25,940.10 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 1.01 فیصد بڑھ کر 29,442.79 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای میں 3602 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2109 میں خریداری ہوئی، جبکہ 1364 میں فروخت ہوئی اور 129 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 42 کمپنیاں سبز رہیں جبکہ باقی آٹھ سرخ نشان پر رہیں۔

شرح سود میں اضافہ کرنے کی قیاس آرائی

افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے سویڈن کے مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرنے اور اسی ہفتے فیڈ ریزرو اور بینک آف انگلینڈ، بینک آف جاپان سمیت کئی مرکزی بینکوں کے ذریعہ شرح سود میں اضافہ کرنے کی قیاس آرائی کے درمیان عالمی سطح پر سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری میں احتیاط برت رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.02 فیصد، جاپان کے نکئی میں 0.44 فیصد، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.16 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.22 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.48 فیصد گراوٹ درج ہوئی۔

دریں اثناء، گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے مضبوط حوصلے کی وجہ سے، بی ایس ای کے تمام 19 گروپوں میں اضافہ ہوا۔ اس مدت کے دوران ہیلتھ کیئر 2.81، کنزیومر ڈیوربلز 2.17، کموڈٹیز 1.29، سی ڈی 1.47، فنانشل سروسز 1.29، انڈسٹریز 1.10، ٹیلی کام 1.06، آٹو 1.59، بینکنگ 1.25، میٹلز 1.34 اور ریئلٹی 1.53 فیصد کا اضافہ ہوا۔

سنجے راوت کی عدالتی حراست میں 14 دن کی توسیع

0
سنجے راوت کی عدالتی حراست میں 14 دن کی توسیع
سنجے راوت کی عدالتی حراست میں 14 دن کی توسیع

سنجے راوت کی گورے گاؤں میں پترا چاول کی تعمیر نو میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ان کی عدالتی تحویل میں 14 دن کی توسیع کر دی گئی

ممبئی: ممبئی کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے پیر کو شیوسینا لیڈر اور ایم پی سنجے راوت کی گورے گاؤں میں پترا چاول کی تعمیر نو میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ان کی عدالتی تحویل میں 14 دن کی توسیع کر دی۔

مسٹر راوت کی ضمانت کی عرضی خصوصی عدالت میں زیر التوا ہے، جو اب بدھ کو سماعت کے لیے آئے گی۔

مسٹر راوت کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے یکم اگست کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں 8 اگست کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد اس کی بیوی ورشا سے بھی اس معاملے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

مسٹر راوت شیوسینا کے صدر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے قریبی ساتھی ہیں۔

شیئر بازار میں گراوٹ کا سلسلہ ختم، سینسیکس اور نفٹی میں نصف فیصد تک اضافہ

0
شیئر بازار میں گراوٹ کا سلسلہ ختم، سینسیکس اور نفٹی میں نصف فیصد تک اضافہ
شیئر بازار میں گراوٹ کا سلسلہ ختم، سینسیکس اور نفٹی میں نصف فیصد تک اضافہ

سینسیکس اور نفٹی میں آج گزشتہ تین دنوں کی گراوٹ کو روکتے ہوئے نصف فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا

ممبئی: عالمی منڈیوں میں کمزور رجحان کے باوجود مقامی سطح پر توانائی، ایف ایم سی جی، مالیاتی خدمات اور آٹو سمیت دس زمروں میں خریداری کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی میں آج گزشتہ تین دنوں کی گراوٹ کو روکتے ہوئے نصف فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا انڈیکس سنسیکس 300.44 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 59141.23 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 91.40 پوائنٹس بڑھ کر 17622.25 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، بی ایس ای کی درمیانی درجے اور چھوٹی کمپنیوں میں فروخت کا دباؤ رہا ، جس کی وجہ سے مڈ کیپ 0.16 فیصد گر کر 25,517.81 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 0.17 فیصد گر کر 29,149.78 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس عرصے کے دوران بی ایس ای میں کل 3749 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 1715 میں اضافہ، 1899 میں گراوٹ درج ہوئی اور 135 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

بی ایس ای کے دس گروپ خریداری کی بدولت مضبوط رہے جبکہ بقیہ 9 گروپ سرخ نشان پر رہے۔ اس عرصے کے دوران انرجی 0.33، ایف ایم سی جی 0.98، فنانشل سروسز 0.58، آئی ٹی 0.30، آٹو 0.78، بینکنگ 0.34، آئل اینڈ گیس 0.35 اور ٹیک گروپ میں 0.43 فیصد کا اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ٹیلی کام 1.13، یوٹیلٹیز 0.58، کیپٹل گڈز 0.71، میٹلز 1.25، پاور 0.52 اور ریئلٹی گروپ میں 0.99 فیصد گراوٹ درج ہوئی۔

دریں اثناء، بین الاقوامی سطح کے انڈیکس میں گراوٹ کا دور جاری رہا۔ اس دوران برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.62 فیصد، جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.93 فیصد، جاپان کا نکی 1.11، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.04 اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.35 فیصد گراوٹ درج کی گئی۔