پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 213

جھنجھنو میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی گئی

0
جھنجھنو میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی گئی
جھنجھنو میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی گئی

جھنجھنو ضلع کے کجرا گاؤں میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کو توڑنے کا معاملہ سامنے آیا ہے

جھنجھنو: راجستھان کے جھنجھنو ضلع کے کجرا گاؤں میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مجسمے کو توڑنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کل رات توڑ پھوڑ کی گئی اس مجسمے کے معاملے میں گاؤں کے مکیش گرجر نے ذمہ داری لی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مکیش گرجر کی جانب سے مجسمے کو توڑنے سے پہلے اسٹیٹس بھی لگائی گئی تھی۔ مکیش گرجر نے واٹس ایپ اسٹیٹس کے بعد مورتی توڑنے کی دھمکی دی تھی۔ مورتی کو توڑنے کے بعد مکیش گرجر کی طرف سے دھمکی بھی دی گئی کہ کوئی روک سکتا ہے تو روک لے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گاؤں کے لوگ بڑی تعداد میں جائے واقع پر جمع ہوگئے اور کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس سلسلے میں گاؤں والوں نے پیلانی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اس مجسمے کی تعمیر سابق کابینہ وزیر پدم شری آنجہانی شیش رام اولا نے 1990 میں کروائی تھی۔ کجرا گرام پنچایت کے سرپنچ کے نمائندے منجیت سنگھ تنور نے بتایا کہ دیر رات تقریباً 10 بجے گاؤں میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی مورتی کو کچھ سماج دشمن عناصر نے توڑ پھوڑ کی۔ جس کے بعد گاؤں والوں نے سرپنچ کو اطلاع دی۔ سرپنچ نے جائے واقع پر موجود پیلانی پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی۔

میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ

0
میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ
میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں ججوں کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی اور آئین سازی کے بنیادی اصول ہیں

جبل پور: نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے آج میڈیا پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے بارے میں رپورٹنگ کرتے وقت زیادہ محتاط رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ججوں کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی اور آئین سازی کے بنیادی اصول ہیں۔

یہاں منعقدہ ‘جسٹس جے ایس ورما میموریل لیکچر’ میں مہمان خصوصی کے طور پر اپنے خطاب میں مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ایک مضبوط، منصفانہ اور آزاد انصاف کا نظام جمہوری اقدار کے پنپنے اور موثر ہونے کی یقینی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت بلاشبہ بہترین ترقی ہے جب تمام آئینی ادارے مکمل ہم آہنگی میں ہوں اور اپنے مخصوص شعبہ تک محدود ہوں‘‘۔

پہلے ‘جسٹس جے ایس ورما میموریل لیکچر’ میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس سنجے کشن کول نے کلیدی خطبہ دیا۔ راجستھان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مسٹر ورما کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ کے طور پر اپنی بہت سی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ان کے دور کو عدالتی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

وشاکھا کیس میں جسٹس ورما کے تاریخی فیصلے

سماج پر دور رس اثرات کے حامل کئی فیصلے سنانے کے لیے جسٹس ورما کی ستائش کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ وشاکھا کیس میں ان کے تاریخی فیصلے نے کام کی جگہ پر خواتین کے جنسی ہراسانی سے مناسب تحفظ کے لیے ایک پورے نظام کی تشکیل کی راہ ہموار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنجہانی جسٹس جگدیش شرن ورما کو ان کے راہ نما فیصلوں اور نظریات کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے شہریوں کو بااختیار بنایا اور حکومت کو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اداروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کے قابل بنایا۔

جسٹس مسٹر ورما کے ہندوستان میں وفاقیت سے لے کر سیکولرازم اور صنفی مساوات تک کے قوانین کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ان کی زندگی اور ان کے خیالات ہمیں اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔

کانگریس کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ بنام بی جے پی کی ‘پارٹی توڑو’ مہم

0
کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا' بنام بی جے پی کی 'پارٹی توڑو' مہم
کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا' بنام بی جے پی کی 'پارٹی توڑو' مہم

2024 کے عام انتخابات کے لئے ماحول تیار ہو چکا ہے، ہر کوئی اپنے مطابق سیاسی مہرے بٹھانے میں مصروف ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

2024ء کے عام انتخابات کے لئے ماحول تیار ہے، ہر جماعت اور اتحاد اپنے مطابق سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہے۔ کوئی تنہا خم ٹھوکنے کو تیار ہے۔ کوئی علاقائی سطح پر صد فیصد کامیابی کے دعوے کر رہا ہے، تو کوئی اپنی ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ جیت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہیں کچھ ماہر سیاستداں اور بڑے سیاسی کھلاڑی وزیر اعظم کے عہدے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس دوران کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ نے سب کا دھیان اپنی طرف کھینچا ہے۔

وہیں دوسری جانب مختلف ریاستوں میں علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں میں بی جے پی کی توڑ پھوڑ مہم سے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی اس توڑ پھوڑ مہم کو ’آپریشن لوٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کچھ ریاستوں میں بی جے پی کا یہ آپریشن کامیاب رہا ہے تو کچھ ریاستوں میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریس بھی بار بار اس کا شکار ہوئی ہے۔ اس سب کے درمیان راہل گاندھی نے ایک بار پھر پارٹی میں نئی جان پھونکنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

بھارت جوڑو یاترا کا آغاز

مشن 2024ء کیلئے ملک کے جنوبی سِرے کنیا کماری سے کانگریس پارٹی کی جانب سے بھارت جوڑو یاترا زور و شور سے شروع ہوئی ہے۔ کنیا کماری سے سری نگر تک پانچ ماہ سے زیادہ طویل عرصے تک چلنے والی ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے کانگریس کے لیڈران اور کارکنان انتہائی پرجوش ہیں۔ راہل اور کارکنان کے چہرے پر ایک چمک نظر آ رہی ہے اور ان کے ساتھی قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا ملک کے انتہائی جنوبی کنارے کنیا کماری سے شروع ہوئی ہے جس کی قیادت راہل گاندھی کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی 3؍ ہزار 570؍ کلومیٹر کی یہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ ملک کی 12؍ ریاستوں اور مرکز کے 2؍ زیر انتظام علاقوں سے ہوکر گزرے گی۔

اس دوران پارٹی کم از کم 100؍ پارلیمانی حلقوں میں براہ راست پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ جبکہ دیگر پارلیمانی حلقوں کے لئے بھی اس نے پورا منصوبہ تیار کیا ہے جسے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔ کانگریس نے راہل گاندھی سمیت 118؍ ایسے لیڈروں کا انتخاب کیا ہے، جو کنیا کماری سے کشمیر تک کے پورے سفر میں ان کے ساتھ ہوں گے۔

تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہونے والی یہ یاترا کیرالہ کے ترواننت پورم، کوچی اور نیلمبور تک جائے گی۔ اس کے بعد یہ کرناٹک کے میسور، بیلاری، رائچور، تلنگانہ کے وقارآباد، مہاراشٹر کے ناندیڑ، مدھیہ پردیش میں جلگاؤں جمود، اندور پہنچے گی۔ یہاں سے راجستھان میں الور،کوٹا، دوسہ، اتر پردیش میں بلند شہر، دہلی، ہریانہ میں امبالا، پنجاب میں پٹھان کوٹ ہوتے ہوئے جموں اور سری نگر پہنچے گی، جہاں یاترا کا اختتام ہوگا۔

کانگریس کے سینئر لیڈران نے ’بھارت جوڑو‘ یاترا کے آغاز سے پہلے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول ختم کرنے اور سب کو آپس میں جوڑنے کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس یاترا سے نفرت کو کم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوششیں کرکے نفرت کا ماحول ختم نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

بھارت جوڑو یاترا ایک اچھی پہل

راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ ایک اچھی پہل ہے۔ کیونکہ اس وقت کانگریس پارٹی کی حالت خستہ ہے اور وہ اپنے سب سے خراب دور سے گزر رہی ہے۔ اس یاترا سے یقیناً پارٹی میں نئی جان پھونکنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی یہ یاترا لوگوں کے درمیان جانے، ان کے مسائل اور رجحان کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران ریاستی اور قومی سطح کے لیڈران کے ذریعہ کانگریس چھوڑنے کے سلسلہ نے پارٹی کارکنان کو مایوس کر دیا تھا۔ ان میں یہ احساس گھر کر گیا کہ کانگریس پارٹی میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور شاید پارٹی کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ایسی مایوسی کے عالم میں راہل گاندھی کی یہ کوشش کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔

گاندھی جی نے پورے ہندوستان کا معائنہ کیا

سیاسی جماعتوں اور اہم سیاستدانوں کے ذریعہ مختلف ناموں سے ’یاترائیں‘ نکالی جاتی رہی ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جد و جہد آزادی کے علمبردار اور مجاہد آزادی گوپال کرشن گوکھلے نے مہاتما گاندھی سے کہا تھا کہ اگر آپ ہندوستان کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو پورے ہندوستان کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا۔ پھر گاندھی جی نے فقیرانہ لباس پہن کر ہندوستان کا معائنہ کیا اور ہندوستانیوں کی زمینی حقیقت اور حالت زار دیکھی۔ جس کے بعد انہوں نے ہندوستان کو انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرانے کا بیڑہ اٹھایا۔

آزاد ہندوستان میں معروف سماجوادی لیڈر چندر شیکھر نے1983ء میں چار ہزار کلومیٹر کا پیدل سفر طے کیا تھا۔ ان کی پد یاترا تامل ناڈو میں کنیا کماری سے دہلی کے راج گھاٹ تک چلی۔ اس دوران انہیں ملک کے تمام مسائل کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ سنیل دت نے امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک طویل پد یاترا کی۔ 1987ء میں انہوں نے پنجاب میں عسکریت پسندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بمبئی سے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل تک دو ہزار کلومیٹر کا سفر کیا۔ ان مشہور سیاست دانوں کے علاوہ این ٹی راما راؤ، ایل کے اڈوانی، وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور جگموہن ریڈی کی یاتراؤں نے مختلف ذرائع سے ہندوستان کو سمجھنے کی کوشش کی۔

آپریشن لوٹس کا معاملہ

ایک طرف جہاں کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا جاری ہے۔ وہیں دوسری جانب حکمراں بی جے پی کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن جماعتوں میں انتشار پیدا کرنے اور ان میں توڑ پھوڑ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔ حال ہی میں گوا میں اہم اپوزیشن کانگریس کے 11؍ میں سے 8؍ اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ دگمبرکامت اور اپوزیشن لیڈر مائیکل لوبو بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں ’آپریشن لوٹس‘ کی چرچہ تیز ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے آپریشن لوٹس کا معاملہ دہلی میں زور و شور سے اٹھا، جب عام آدمی پارٹی نے اسے مسئلہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی ان کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عام آدمی پارٹی نے پریس کانفرنس میں اپنے چار ایم ایل اے کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ جنہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں نے ان سے رابطہ کیا اور پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اس کے بدلے میں ایم ایل اے نے 20؍ سے 25؍ کروڑ روپے دینے کو کہا تھا۔ ویسے 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی لوگوں کی زبان پر’ آپریشن لوٹس‘ کا لفظ آگیا۔

آپریشن لوٹس جمہوریت کے لیے خطرہ

کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ آپریشن لوٹس کے ذریعے بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو توڑتی ہے اور اپوزیشن کی حکومتوں کو گراتی ہے۔ کرناٹک، مدھیہ پردیش، اروناچل پردیش وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ اگرچہ بی جے پی ’آپریشن لوٹس‘ کے حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ حالیہ کچھ واقعات کو دیکھیں تو بی جے پی کی تردید بے معنی سی لگتی ہے۔ بہت سے سیاسی تجزیہ کار اور اپوزیشن جماعتیں ’آپریشن لوٹس‘ کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیتی ہیں۔

ایسے پس منظر میں کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ اہمیت کی حامل ہے۔ ظاہری طور پر اس یاترا کا آغاز اچھا ہوا ہے اور عوام کا ردعمل بھی حوصلہ افزا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کی نکتہ چینوں کے رویوں میں بھی ہلکی ہلکی تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس اور راہل گاندھی اپنے اس مشن میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد کے بغیر اپوزیشن 2024ء کی جنگ نہیں لڑ سکتی۔ لیکن ان جماعتوں میں اتنے اختلافات ہیں کہ آج تک سبھی اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہو سکی ہیں۔ ایسے میں راہل گاندھی کے علاوہ نتیش کمار، شرد پوار، ممتا بنرجی اور تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر میں سے کس کے نام پر اتفاق ہوتا ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

بی جے پی کی تحریک شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس شرانگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی

0
بی جے پی کی تحریک شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس شرانگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی
بی جے پی کی تحریک شرانگیزی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس شرانگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا: ممتا بنرجی

بی جے پی پر ایجی ٹیشن کے نام پر ’افراتفری‘ پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ممتا نے کہا کہ ”پولیس اگر چاہتی تو گولی چلا سکتی تھی۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ یہ مطلوب نہیں ہے۔ پولیس کافی حد تک روکے ہوئے تھی۔ تاہم انتظامیہ بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج بی جے پی کے گزشتتہ دنوں کے احتجاج کے طریقے کار کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جس طریقے سے حالات پید ا کئے اور جس طریقے سے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اس کو روکنے کیلئے پولیس گولی بھی چلاسکتی تھی۔ لیکن ان کی حکومت کسی بھی تحریک میں رخنہ ڈالنے کے حق میں نہیں ہے۔ مگر بی جے پی نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ پولیس کافی منظم ہے۔

بدھ کو ممتا نے مشرقی مدنی پور کے تملوک میں ایک انتظامی میٹنگ میں شرکت کی۔ مشرقی مدنی پور کے کانتی سے ہی اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کا تعلق ہے۔ انہیں نوبنو مہم سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

منگل کو بی جے پی کی نوانا مہم کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا نے کہا کہ میں تحریک میں رکاوٹ ڈالنے کے حق میں نہیں ہوں۔ لیکن تحریک کے نام پر تھیلوں میں بم لائے گئے، بندوقیں لائی گئیں۔ لوگوں کو دوسری ریاستوں سے لاکر ہوڑہ اسٹیشن پر ریلوے کی محفوظ پناہ گاہ میں چھپا دیا گیا۔ بی جے پی نے بدمعاشی کے لیے نوانا مہم شروع کی تھی۔

منگل کو بی جے پی کی مہم کو پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا۔ ہوڑہ، سنترا گاچھی اور کالج اسٹریٹ میں بی جے پی کی تین ریلیوں اور بعد میں لال بازار میں چوتھی ریلی کو بھی روک دیا گیا۔ بی جے پی کا کوئی جلوس نوبنو کے قریب نہیں پہنچ سکا۔

بی جے پی قیادت نے اس سلسلے میں کلکتہ پولیس پر غیر ضروری جبر کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہاں تک الزام لگایا کہ پولیس نے ریاستی وزیر اعلیٰ اور پولیس وزیر ممتا کے کہنے پر بی جے پی لیڈروں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے بدھ کو اس کا جواب دیا کہ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے دیوجیت (کلکتہ پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر دیوجیت چٹرجی کو کیسے مارا۔ جو زخمی ہے اور ایس ایس کے ایم اسپتال کے ووڈ برن وارڈ میں زیر علاج ہے)۔ اس کا آپریشن ہونا چاہیے! لیکن اس کے بعد بھی پولیس نے گولی نہیں چلائی۔

بی جے پی پر ایجی ٹیشن کے نام پر ’افراتفری‘ پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ممتا نے کہا کہ ”پولیس اگر چاہتی تو گولی چلا سکتی تھی۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ یہ مطلوب نہیں ہے۔ پولیس کافی حد تک روکے ہوئے تھی۔ تاہم انتظامیہ بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ پوجا سے پہلے نوبنو مہم نے کاروبار کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ درگا پوجا قریب ہے اس پوجا سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ وہ بی جے پی کی مہم سے متاثر ہوئے ہیں۔ پوجا بازار کو تباہ کر دیا گیا ہے۔’ ممتا نے کہا کہ بی جے پی کی تحریک نے بھی سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی ہے اور میں کسی بھی طرح سے سرکاری کام میں رکاوٹ برداشت نہیں کروں گی۔

اترپردیش میں الکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار، مفت رجسٹریشن کی تجویز

0
اترپردیش میں الکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار، مفت رجسٹریشن کی تجویز
اترپردیش میں الکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار، مفت رجسٹریشن کی تجویز

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر تیار مسوہ پالیسی کے تحت الکٹرک گاڑی کی کل قیمت میں حکومت کی جانب سے 15 فیصد کی رعایت کی تجویز ہے

لکھنؤ: اس دہائی کے آخر تک ایندھن سے چلنی والی گاڑیوں کی جگہ پوری طرح سے الکٹرک گاڑیوں کا استعمال یقینی بنانے کے لئے ہندوستان حکم کے ہدف کو حاصل کرنے میں قائدانہ کردار نبھانے کے لئے اترپردیش حکومت نے الکٹرک گاڑی پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔

آفیشیل ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ جلد ہی مجوزہ پالیسی کو نافذ کرنے سے پہلے کی کارروائی پوری کر کے حکومت کے ذریعہ اسے عمل میں لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر تیار مسوہ پالیسی کے تحت الکٹرک گاڑی کی کل قیمت میں حکومت کی جانب سے 15 فیصد کی رعایت کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ حکومت الکٹرک گاڑیوں کے رجسٹریشن پر بھی کوئی فیس نہیں لے گی۔ قابل ذکر ہے کہ گاڑی کی قیمت میں 15 فیصدی کی رعایت اور مفت رجسٹریش کی تجویز کو اگر منظوری ملتی ہے تو اس سے گاڑی کی بازار قیمت میں کافی کمی آ جائے گی۔ ایک افسر نے بتایا کہ الکٹرک گاڑیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے حکومت نے ممکنہ صارفین کو ان گاڑیوں کے استعمال سے متعلق سبھی سہولیات دستیاب کرانے پر دھیان دیا ہے۔

الکٹرک گاڑی کی پالیسی

انہوں نے بتایا کہ ان میں قیمت اور چارجنگ سمیت دیگر انفراسٹرکچر سہولیات کا نیٹ ورک تیار کرنا شامل ہے۔ جس سے ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کا استعمال چھوڑنے میں گاڑی چلانے والوں کو پش و پیش کا شکار نہ ہونا پڑے۔ الکٹرک گاڑی کی پالیسی کے مسودے میں اس دہائی کے آخر تک (2030) سے پہلے اگلے 08 سالوں میں الکٹرک گاڑیوں سے جڑی انفراسٹرکچر ضروری سہولیات کو تیار کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

مجوزہ پالیسی میں الکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے لئے چارجنگ پوائنٹ اور سروس سنٹر سمیت دیگر سہولیات کے لئے ایکوفرینڈلی سسٹم تیار کرنے کے لئے 5000 کروڑ روپئے سے زیادہ کی سرمایہ کرنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ اس سے ریاست میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملے گا۔

پالیسی میں چارجنگ اسٹیشن کے لئے شہروں میں ہر 09 کلو میٹر پر اور ایکسپریس وے پر 25 کلو میٹر کی دوری طے کی گئی ہے۔ پالیسی میں ریاستی حکومت نے 2030 تک سبھی سرکاری گاڑیوں کو الکٹرک گاڑی میں تبدیل کرنے کا ہدف طے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی پر بریک، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ ہوئے بند

0
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی پر بریک، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ ہوئے بند
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی پر بریک، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ ہوئے بند

اسٹاک مارکیٹ میں چار دن تک جاری رہنے والی تیزی پر بریک، سینسیکس 224 پوائنٹس اور نفٹی 66 پوائنٹس گراوٹ

ممبئی: عالمی سطح سے منفی اشارے ملنے سے گھریلو سطح پر آئی ٹی، ٹیک، تیل اور گیس جیسے بڑے گروپوں میں فروخت نے آج چار دن تک جاری رہنے والے منافع کو بریک لگا دی اور سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔

بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 224.11 پوائنٹس گر کر 60346.97 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 66.30 پوائنٹس گر کر 18003.75 پر آگیا۔ گراوٹ کا اثر چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں پر بھی نظر آیا، جہاں بی ایس ای مڈ کیپ 0.10 فیصد گر کر 26225.31 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.01 فیصد گر کر 29892.37 پوائنٹس پر آ گیا۔

بی ایس ای پر کل 3611 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 1789 میں کمی جبکہ 1685 بڑھنے میں کامیاب رہیں۔ اس دوران 137 کمپنیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بی ایس ای میں شامل گروپوں سے گراوٹ میں رہنے والوں میں آئی ٹی 3.28 فیصد، ٹیک 2.85 فیصد، آئل اینڈ گیس 0.90 فیصد اور سی ڈی 0.83 فیصد شامل ہیں۔ فائدے میں رہنے والوں میں دھاتیں 1.91 فیصد، بینکنگ 1.28 فیصد، فنانس 0.93 فیصد، بنیادی مواد 1.18 فیصد شامل ہیں۔

افغانستان میں روسی سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء پر عائد کی پابندی

0
افغانستان میں روسی سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء پر عائد کی پابندی
افغانستان میں روسی سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء پر عائد کی پابندی

کابل میں 5 ستمبر کو روسی سفارت خانے کے قونصل خانے کی عمارت کے نزدیک دھماکہ ہوا تھا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گردانہ حملے میں سفارتی مشن کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے

ماسکو/کابل: افغانستان میں روسی سفارت خانے نے منگل کو کہا کہ اس نے ویزا اور دستاویزات کے اجراء پر پابندی عائد کر دی ہے، لیکن وہ پہلے سے منظور شدہ دستاویزات جاری کرنے کے متبادل پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیٹروں سے کہا کہ وہ فی الحال ذاتی طور پر قونصل خانے کے شعبہ میں نہ آئیں۔

سفارت خانے نے کہا کہ روسی شہری ہنگامی صورت حال میں قونصلر امداد کے لیے فون پر رابطہ کر سکتے ہیں: +93-798-023-793

کابل میں 5 ستمبر کو روسی سفارت خانے کے قونصل خانے کی عمارت کے نزدیک دھماکہ ہوا تھا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گردانہ حملے میں سفارتی مشن کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔ وزارت نے کہا کہ روسی سفارت خانہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے جو دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امید کا اظہار کیا کہ حملے کے ذمہ داروں اور مجرموں کو جلد از جلد پکڑ لیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف عالمی محاذ بنانے کی بات کی: اسرائیلی وزیر دفاع

0
اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف عالمی محاذ بنانے کی بات کی: اسرائیلی وزیر دفاع
اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف عالمی محاذ بنانے کی بات کی: اسرائیلی وزیر دفاع

بینی گینٹز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی اور مشترکہ سلامتی کے چینلجز جن میں ایرانی دھمکیاں بھی شامل ہیں کا مقابلہ کرنے کیلئے فومی عالمی متحد محاذ کی تشکیل کی ضرورت کی بھی بات کی

تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں ایران کی دھمکیوں کے خلاف ایک متحدہ بین الاقوامی محاذ تشکیل دینے کی بات کی ہے۔

بینی گینٹز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی اور مشترکہ سلامتی کے چینلجز جن میں ایرانی دھمکیاں بھی شامل ہیں کا مقابلہ کرنے کیلئے فومی عالمی متحد محاذ کی تشکیل کی ضرورت کی بھی بات کی۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں ایرانی وزیر دفاغ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے شام میں فوجی مقامات کو میزائل فیکٹریوں میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران نے یمن اور لبنان میں بھی فوجی صنعتیں بنانا شروع کردی ہیں جن کو روکنا ضروری ہوگیا ہے۔ ”ٹائمز آف اسرائیل” کی رپورٹ کے مطابق بینی گینٹز نے کہا شام میں فوجی تنصیبات لبنان میں حزب اللہ اور خطے میں دوسرے ایرانی دھڑوں کیلئے۔ انھوں نے کہا کہ شام کی فوجی تنصیبات لبنانی حزب اللہ اور خطے میں موجود دیگر ایرانی دھڑوں کے فائدے کے لیے درست نشانہ لینے والے میزائل بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

ایران کی یمن اور لبنان میں جدید صنعتوں کی تعمیر

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے حال ہی میں یمن اور لبنان میں بھی جدید صنعتوں کی تعمیر شروع کی ہے جن کو روکنا ضروری ہے۔ نئی قائم ہونے والی یہ مقامات، جن میں شام کے شمال مغربی شہر ”مصیاف“ کے قریب کا سائنسی تحقیقی مرکز بھی شامل ہیں، اسرائیل اور خطے کیلئے ممکنہ خطرہ ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب شام کی سرزمین کے اندر اور دمشق اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے قریب اہم ایرانی فوجی ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملے بڑھ رہے ہیں۔ان حملوں کا ہدف ایران کی جانب سے ہتھیاروں، گولہ بارود، فضائی اور دفاعی ڈرونز کی شام کو منتقلی اور حما کے قریب مصیاف سمیت کئی شامی شہروں میں گوداموں میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کو روکنا ہے۔

یاد رہے 2011 میں شام کی جنگ کے آعاز سے اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام پر سینکڑوں فضائی حملے کئے ہیں۔

ان حملوں میں شامی فوج کے ٹھکانوں اور ایرانی اور لبنانی حزب اللہ کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل شاذ و نادر ہی شام میں کئے جانے والے اپنے حملوں کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسری طرف ایران بھی شام میں اپنی فوجی موجودگی اور مستحکم پوزیشن کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

‘آپ’ حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال

0
'آپ' حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال
'آپ' حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ گجرات میں اگر آپ کی حکومت بنتی ہے تو وہ گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی سے پاک اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی

احمد آباد: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ گجرات میں اگر آپ کی حکومت بنتی ہے تو وہ گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی سے پاک اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی۔

منگل کو گجرات کے احمد آباد میں ایک پریس کانفرنس میں مسٹر کیجریوال نے گجرات کے لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی کی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ میں پچھلے کئی مہینوں سے گجرات میں گھوم کر یہاں کے لوگوں سے مل رہا ہوں۔

انہوں نے کئی ٹاؤن ہال میٹنگ کرکے تاجروں، صنعت کاروں، وکلاء، کسانوں اور آٹو ڈرائیوروں کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقات کی۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ گجرات میں بہت کرپشن ہے۔ کسی بھی سرکاری محکمے میں پیسے دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نچلی سطح پر بھی بدعنوانی ہے اور حکومت پر بڑے گھپلوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے خلاف کچھ کہتے ہیں تو وہ ڈرانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ اگر گجرات میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ہم ریاست کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ان کی حکومت میں کرپشن میں ملوث ہوا تو سیدھا جیل جائے گا۔ یہ ہم نے پنجاب میں کیا۔ جب ہمارے کسی وزیر نے کوئی اونچ نیچ کی تو اسے سیدھا جیل بھیج دیا گیا۔

اب گجرات کا کوئی پیسہ سوئس بینک میں نہیں جائے گا

ہندوستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی پارٹی نے اپنے وزیر کو اٹھا کر جیل بھیج دیا ہو۔ عوام جو ٹیکس حکومت کو دیتے ہیں اس کی ایک ایک پائی عوام پر خرچ کی جائے گی اور چوری بند ہو جائے گی۔ اب گجرات کا کوئی پیسہ سوئس بینک میں نہیں جائے گا۔ اب گجرات حکومت کا کوئی پیسہ ارب پتیوں میں تقسیم نہیں ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سرکاری دفاتر میں ہر شخص کا ہر کام رشوت دیے بغیر ہوگا۔ کسی کو بھی کام کروانے کے لیے سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم ایسا انتظام کریں گے کہ حکومت کا کوئی ملازم آپ کے گھر آئے اور کام کرے۔ ہم نے دہلی میں اس طرح کے انتظامات کیے ہیں۔

اے اے پی کنوینر نے کہا کہ گجرات کے اندر وزراء، سیاست دانوں اور بڑے لوگوں کے تمام کالے دھندے بند کئے جائیں گے۔ گجرات میں پیپر لیک ہونے کا عمل روکیں گے۔ پچھلے 10 سالوں میں جتنے پیپرز لیک ہوئے ہیں، ان تمام کیسز کی تحقیقات کی جائیں گی۔

مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری

0
مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری
مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 321.99 پوائنٹس بڑھ کر 60115.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 103 پوائنٹس بڑھ کر 17936.35 پر پہنچ گیا

ممبئی: عالمی سطح سے ملے مثبت اشاروں کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر آئی ٹی، ٹیک، رئیلٹی، یوٹیلٹیز اور بیسک میٹیریلز میں ہوئی فریداری کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی رہی اور اس دوران خریداری کے بدولت سینسیکس 60 ہزار سے تجاوز کرنے میں کامیاب رہا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 321.99 پوائنٹس بڑھ کر 60115.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 103 پوائنٹس بڑھ کر 17936.35 پر پہنچ گیا۔ بی ایس ای پر مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ ہوا، مڈ کیپ 0.89 فیصد اضافے کے ساتھ 26167.43 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1 فیصد اضافے کے ساتھ 29528.74 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای پر، تمام گروپس میں تیزی رہی جس میں آئی ٹی 1.30 فیصد، ٹیک 1.16 فیصد، ریئلٹی 2.23 فیصد، سی ڈی 1.40 فیصد اور یوٹیلٹیز 1.70 فیصد شامل تھے۔ بی ایس ای پر کل 3759 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2165 میں اضافہ اور 1428 میں کمی جبکہ 166 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔