منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 205

فیڈ ریزرو کے مثبت اشاروں سے مسلسل چھٹے روز شیئر بازار ہوا گلزار

0

عالمی منڈیوں میں آنے والی تیزی کی بدولت آج مسلسل چھٹے روز شیئر بازار گلزار رہا

ممبئی: امریکی فیڈ ریزرو کی بیاج کی شرح میں اضافے کی رفتار کم ہونے کے اشاروں سے عالمی منڈیوں میں آنے والی تیزی کی بدولت آج مقامی سطح پر آئی ٹی، دھات، ریئلٹی، ٹیک اور کموڈٹیز سمیت 12 زمروں میں خریداری دیکھی گئی جس کی وجہ سے آج مسلسل چھٹے روز شیئر بازار گلزار رہا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سنسیکس 184.54 پوائنٹس یعنی 0.29 فیصد کے اضافے سے 63284.19 پوائنٹس کی نئی چوٹی پر پہنچ گیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 54.15 پوائنٹس کے اضافے سے 18812.50 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اسی طرح بی ایس ای مڈ کیپ بھی 0.62 فیصد اضافے سے 26,112.00 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.63 فیصد اضافے سے29,704.91 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای میں کل 3636 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2073 میں خریداری ہوئی 1411 میں فروخت ہوئی۔ جبکہ 152 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح، این ایس ای میں، 23 کمپنیوں میں اضافہ ہوا جبکہ باقی 27 میں گراوٹ ہوئی۔

دسمبر سے شرح سود میں اضافے کا امکان

امریکی سینٹرل بینک فیڈر ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے بدھ کے روز کہا کہ سینٹرل بینک دسمبر سے شرح سود میں اضافے کی رفتار کو کم کر سکتا ہے۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاول کے بیان سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ملا ہے۔ نیز، ہفتوں کے مظاہروں کے بعد، توقع ہے کہ چین جلد ہی کووِڈ کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرے گا۔

ان عوامل کی بدولت بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.09، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.36، جاپان کا نکئی 0.92، ہانگ کانگ کا ہینگسینگ 0.75 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

ہندوستان اور انڈونیشیا کے علما کے ساتھ بات چیت کا مقصد بین الاقوامی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے: سراج الدین قریشی

0
ہندوستان اور انڈونیشیا کے علما کے ساتھ بات چیت کا مقصد بین الاقوامی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے: سراج الدین قریشی
ہندوستان اور انڈونیشیا کے علما کے ساتھ بات چیت کا مقصد بین الاقوامی معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے: سراج الدین قریشی

انڈونیشیا کے نائب وزیر اعظم محمد محفوظ ایم ڈی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرکے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے

نئی دہلی: انڈونیشیا کے ایک اعلی سطحی وفد کے نئی دہلی کے دورے کے دوران ہندوستانی علما اور انڈونیشیائی وفد میں شامل علما کے درمیان کل یہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں مذاکرات کا اہتمام کیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان بین الاقوامی سماجی تانے بانے کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی نے آج یہاں ذرائع ابلاغ سے ملاقات کے دوران مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیائی وفد کے سربراہ نائب وزیر اعظم ڈاکٹر محمد محفوظ ایم ڈی مذاکرات میں شرکت کریں گے اور وفد میں شامل انڈونیشیائی علما بھی شرکت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال بھی کل منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کریں گے۔ ان کے علاوہ ہندوستان کی سرکردہ مسلم تنظیموں کے اہم علما بھی مذکرات میں شامل ہوکر دونوں ملکوں کے قومی اور ملی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انڈونیشیا میں آج بھی سنسکرت زبان بولی جاتی ہے

مسٹر سراج الدین قریشی نے بتایا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے رہن سہن، کھان پان اور کلچر میں کافی یکسانیت ہے۔ یہی وجہ ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کے کافی قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم ملک ہونے کے باوجود انڈونیشیا میں آج بھی سنسکرت زبان بولی جاتی ہے اور وہاں کے ہوائی اڈوں، سڑکوں یہاں تک کہ گھروں میں آج بھی مورتیاں نصب ہیں، جن کے تقدس، عظمت اور احترام کو وہاں کے عوام نے آج بھی برقرار رکھا ہے۔

مسٹر قریشی نے بتایا کہ انڈونیشیا میں منعقدہ جی 20 کی میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی نے شرکت کی تھی، جہاں سے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پرزور آواز بلند کی تھی اور انہیں اس پر بھرپور تائید ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ مذہبی علما زمین سے جڑے ہوتے ہیں اور عوام سے بہت قریب ہوتے ہیں اسی لئے علما کے درمیان مذاکرات اور گفتگو سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اچھا پیغام جائے گا۔

انڈیا اسلاملک کلچرل سینٹر کے صدر نے کہا کہ نائب وزیر اعظم محمد محفوظ ایم ڈی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرکے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

ملک میں کچھ سیاسی پارٹیوں کے بعض لیڈروں کی طرف سے الیلکشن کے دنوں میں بار بار دیے جانے والے نفرت انگیز بیان کے بارے میں سوال کئے جانے پر مسٹر قریشی نے کہا کہ کچھ لوگ سیاسی فائدے کے لئے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں جنہیں نظرانداز کئے جانے کی ضرورت ہے۔

شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط

0
شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط
شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط

گھریلو شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط ہوکر 81.68 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

ممبئی: درآمد کنندگان اور بینکروں کی فروخت کے ساتھ ہی گھریلو شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت آج انٹر بینک کرنسی مارکیٹ میں روپیہ تین پیسے مضبوط ہوکر 81.68 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

وہیں پچھلے کاروباری دن روپیہ ایک پیسہ پھسل کر 81.71 روپے فی ڈالر پر رہا تھا۔

شروعاتی کاروبار میں روپیہ 10 پیسے گراوٹ کے ساتھ 81.81 فی امریکی ڈالر پر کھلا اور سیشن کے دوران خریداری کے دباؤ میں 81.83 روپے فی ڈالر کی نچلی سطح پر لڑھکر گیا۔ اگرچہ فروخت کے باعث یہ 81.61 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ آخر میں پچھلے سیشن کے 81.71 روپے فی ڈالر کے مقابلے تین پیسے اضافے کے ساتھ 81.68 روپے فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور

0
اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور
اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور

اردو صحافت کادو سو سالہ سفر بہت سے نشیب و فراز والا رہا، مگر بیش بہا قربانیوں اور صحافتی اصولوں پر چل کر ایک عظیم اور روشن تاریخ رقم کی ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

اردو صحافت نے 27؍ مارچ 2022ء کو 200؍ سال مکمل کر لئے۔ یہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہے۔ اتنا ہی غیر معمولی اردو صحافت کا سفر بھی ہے۔ اردو صحافت نے یقیناً دو سو سال میں ایک عظیم اور شاندار تاریخ رقم کی ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اردو صحافت کی اس عظیم تاریخ میں اپنا ایک ادنیٰ سا کردار اداکر سکے۔ اگر ہم اس کے دو سو سالہ سفر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اردو صحافت نے نہ صرف اس زبان کی خدمت اور آبیاری کی ہے، بلکہ ملک و قوم کے لئے ایثار و قربانی اور جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے میں پیش پیش رہی ہے۔

جد و جہد آزادی سے لے کر حصول آزادی تک اور اس کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی تک اردو صحافت کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اردو صحافت نے ہمیشہ سیکولرازم، تفہیم ادیان، کثرت میں وحدت اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اردو صحافت کا کردار

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اردو صحافت کا کردار زیادہ تر سیکولر ہی رہا ہے۔ اگر آزادی سے پہلے کا دور دیکھیں تو مسلم لیگ کی حمایت میں اردو صحافی کم ہی نظر آئیں گے۔ جس وقت مسلمانوں کا ایک طبقہ مسلم لیگ سے وابستہ ہو گیا تھا، اس وقت بھی بیشتر اردو صحافی یا اخبارات، چاہے وہ کلکتہ کا آزاد ہند ہو، چاہے وہ انقلاب ہو، چاہے وہ دہلی سے الجمعیت ہو، یا لاہور سے زمیندار ہو یا دوسرے اخبارات ہوں، ان کا کردار قومی یکجہتی والا ہی رہا۔ وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے، مولانا آزاد کے ساتھ رہے۔

خود مولانا آزاد کا البلاغ ہو یا الہلال، انھوں نے ہندوستان کی جد و جہد آزادی کے دوران جو ذہن سازی کی، اس نے مسلمانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی، جس نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے مولوی محمد باقر نے اپنے ’دہلی اردو اخبار‘ میں 1857ء کی بغاوت کا آنکھوں دیکھا حال پیش کرنے کی کوشش کی۔

ہندوستان کی بغاوت کو انگریز حکمرانوں نے غدر قرار دے کر ایک اشتہار چھاپا، اسے جامع مسجد کے دروازوں اور کئی نمایاں مقامات پر چسپاں کیا۔ مولوی محمد باقر نے اس اشتہار کا دندان شکن جواب دیا۔ اس طرح وہ حاکم انگریزوں کی نگاہوں میں کھٹکنے لگے۔ مولوی محمد باقر کو گرفتار کیا گیا اور فرنگی جاسوسی محکمہ کے انچارج کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے حکم سے انہیں 16؍ستمبر 1857ء کو دہلی میں شہید کردیا گیا۔ اس طرح اردو کے پہلے صحافی نے جام شہادت نوش کیا اور حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اور محب وطن کی قربانی ہوئی۔ بقول شاعر؎

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

اردو کا پہلا اخبار

ہم سب جانتے ہیں کہ اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ 27؍ مارچ 1822ء کو کولکاتہ سے جاری ہوا تھا۔ اس کے مالک ہری ہردت اور مدیر سدا سکھ لال تھے۔ اس کے بعد بھی لا تعداد غیر مسلم صحافی اردو صحافت کے فروغ اور اس کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہے۔ اس کی ایک طویل فہرست ہے، جس پر تفصیل سے اور علیحدہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔

آج بھی ملک کا مقبول ترین اخبار ’انقلاب‘ ہو یا ’روزنامہ سہارا‘ یا پھر ای ٹی وی نیٹ ورک، برادران وطن اردو صحافت کے فروغ میں اپنا بھر پور تعاون پیش کر رہے ہیں۔ لہذا ہم اردو کو کسی مذہبی یا مخصوص دائرے میں قید نہیں کر سکتے۔ یہ در اصل اس ملک کی زبان ہے، اس ملک کے لوگوں کی زبان ہے، اس ملک کے ہر باشندے کی زبان ہے، یہی وہ زبان ہے جو شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک بولی اور پڑھی لکھی جاتی ہے۔ اردو صحافت کے دائرے کو بھی ہمیں اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اپنے دو سو سالہ سفر میں اردو صحافت نے کتنے نشیب و فراز دیکھے، کیسے کیسے حالات کا سامنا کیا، اردو صحافیوں نے کتنی صعوبتیں برداشت کیں، اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، ملک و قوم کی بے لوث خدمت انجام دی اور ملک کے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اقدار و روایات کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا۔ غرض یہ کہ اردو صحافت اپنے اندر ایک روشن تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ اردو صحافت کی انہیں خدمات کے اعتراف میں ملک بھر میں پورے سال مختلف مقامات پر جشن کا سلسلہ جاری رہا۔ دہلی، کلکتہ، حیدرآباد، پٹنہ،ممبئی وغیرہ میں مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔

اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن

اس سلسلے میں 30؍ مارچ 2022ء کو دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ملک کی مقتدر اور معتبر شخصیات نے اردو صحافت کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اسی طرح مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن منایا۔

دہلی میں واقع غالب اکیڈمی نے بھی اسی سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ مختلف یونیورسٹیوں، اداروں اور تنظیموں کے زیر اہتمام بھی مختلف پروگرام اور سیمینار وغیرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اخبارات، رسائل اور جرائد میں لاتعداد مضامین قلم بند کئے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان میں سب سے پر وقار اور اہم تقریب حال ہی میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت نے منعقد کی۔

اس میں ملک بھر سے نہ صرف اردو صحافیوں کو شامل کیا گیا، بلکہ دیگر زبانوں کے اہم ترین صحافیوں نے بھی شرکت کرکے نہ صرف اردو اور اردو صحافت پر تبادلہ خیال کیا، بلکہ مجموعی طور پر اردو صحافت کے ’ماضی ، حال اور مستقبل‘ اور موجودہ دور میں صحافت کے کردار پر بحث و مباحثہ کیا گیا۔

اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ

’کاروانِ اُردو صحافت‘ کے عنوان سے 13، 14؍ اور 15؍ نومبر کو منعقد سہ روزہ عالمی جشن اُردو صحافت میں ملک بھر کے سنجیدہ، فعال، وسیع تجربے کے حامل اور صحافت کو صحافتی معیارات پر برتنے والے اہل علم و قلم کی گفتگو نے اس جشن میں چار چاند لگا دئیے۔ سبھی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ واقعی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانے اور شجاعت و قربانی کی مثال قائم کرنے والی تاریخ رہی ہے۔

اگر ہم دیکھیں تو زندگی کا کوئی بھی شعبہ صحافت کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ اردو صحافت نے بھی ملک اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ یہ اردو صحافت ہی ہے جس نے ہمیشہ حقیقی تناظر میں حق اورسچ کو پیش کرنے کو ہی ترجیح دی، جو دراصل حقیقی صحافت ہے۔

باشعور سماج کی تعمیر صحافت کی اہم ذمہ داری ہے، معاشرے کو ظلم و استبداد کے اندھیروں سے نکال کر روشنی سے متعارف کرنے کا نام ہے صحافت ہے، صحافت قوموں کی فکر سازی اور نظریاتی تبدیلی میں ایک کارگر وسیلے کا کام کرتی ہے، قوموں کے عروج و زوال میں صحافت کا اہم رول ہوتا ہے، عوامی ذہن سازی اور فکر سازی میں صحافت کا کردارنا قابل فراموش رہا ہے۔ معلومات پہنچانے میں حقیقت بیانی ،سچ جھوٹ، صحیح غلط، خبر کے تمام ممکنہ زاویوں اور امکانات پر روشنی ڈالنا صحافت کا خاصہ ہوتا ہے۔

دو سو سالہ تاریخ میں اردو صحافت

اپنی دو سو سالہ تاریخ میں اردو صحافت نے ان تمام رموز و نکات کا خیال رکھا اور صحافت کے ان اصولوں کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا۔ آج بھی جبکہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ نفرت کا آتش فشاں بن چکا ہے، نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ اس کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اسلاموفوبیا سے متاثر ہو کر میڈیا میں جھوٹ اور پروپیگنڈہ پر مبنی خبریں چلائی جا رہی ہیں اور بے بنیاد کہانیاں سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں۔ یہی نہیں، کبھی مبینہ ’لو جہاد‘، کبھی ’یوپی ایس سی جہاد‘ اور کبھی ’کورونا جہاد‘ جیسے عنوانات سے مباحثے ہورہے ہیں ۔ لہذا ایسے حالات میں جب موجودہ میڈیا اپنا فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہے اردو صحافت اپنا منصبی کردار اور فرض ادا کرکے صحافت اور ملک کی خدمت میں مصروف ہے۔
بقول افتخار عارف ؎

وقت شاہد ہے کہ ہر بیعت فاسق کے خلاف
خط تنسیخ جو کھنچتا ہے، وہ ہم کھینچتے ہیں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر

0
پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر
پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر

پنجاب کے لوگوں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا لیکن اب یہ سچ ثابت ہو گیا ہے

چنڈی گڑھ: پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ریاست کے 95 فیصد سے زیادہ خاندانوں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا جس سے انہیں بڑی راحت ملے گی۔

مسٹر مان نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ لوگوں کو ہر بل پر 600 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ جس سے پہلی بار 86 فیصد گھرانوں کو بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے اور آنے والے مہینوں میں 95 فیصد سے زائد گھرانوں کو مفت بجلی کا یہ فائدہ گھریلو صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ جنہیں اب تک ہر ماہ بجلی کے بلوں کی مد میں بہت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو بھی وعدہ کرتے ہیں اسے پورا بھی کرتے ہیں۔ صاف نیت کے ساتھ کیے گئے اعمال کے نتائج ہمیشہ اچھے ہوتے ہیں۔ پنجابیوں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا لیکن اب یہ سچ ثابت ہو گیا ہے۔ اب بہت سے خاندانوں نے بجلی کی بچت بھی شروع کر دی ہے، تاکہ وہ 600 یونٹ مفت بجلی کا فائدہ اٹھا سکیں۔ اس سے بجلی کی کھپت میں بھی کمی آئے گی۔

بجلی کی پیداوار بڑھانے کا بڑا اعلان

ریاست میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کا بڑا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایس پی سی ایل۔ جھارکھنڈ میں الاٹ کی گئی پچواڑہ کے قریب کان آپریشنل ہو گئی ہے اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں اس کان سے پنجاب کو کوئلہ سپلائی کیا جائے گا، جس سے پنجاب میں بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ کان 2015 سے بند پڑی تھی اور ہماری حکومت نے اس کان کو شروع کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں جس کے نتیجے میں اب کوئلے کی سپلائی شروع ہونے جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے سرکاری عمارتوں کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے خود کفیل بنانے کے لیے کہا کہ تمام سرکاری عمارتوں میں سولر پینل لگائے جائیں گے جس سے حکومت پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی کم ہوگا اور بہت زیادہ رقم کی بچت ہوگی۔

اس موقع پر وزیر توانائی ہربھجن سنگھ ای ٹی او، چیف منسٹر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اے کے۔ وینو پرساد، پی ایس پی سی ایل بلدیو سنگھ سرن، چیئرمین کم منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح

0
فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح
فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح

فیفا ورلڈ کپ فٹبال میچ میں آسٹریلیا نے تیونس کو شکست دے کر تین قیمتی پوائنٹس حاصل کر لیے

دوحہ: مچل ڈک کے فیصلہ کن گول کی بدولت آسٹریلیا نے فیفا ورلڈ کپ فٹ بال کے میچ میں تیونس کو شکست دیکر تین قیمتی پوائنٹس حاصل کرلیے۔

آسٹریلوی ٹیم کو پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن فرانس کے ہاتھوں چار ایک کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آسٹریلیا کے دو میچوں میں تین جبکہ تیونس کا دو میچوں میں ایک پوائنٹ ہے، میچ کے دوران تیونس کو پانچ جبکہ آسٹریلیا کو دو کارنر ملے، تیونس کے کھلاڑیوں کو فاؤل پلے کا مظاہرہ کرنے پر ریفری کی جانب سے تین یلو کارڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل گروپ ڈی میں تیونس اور ڈنمارک کے درمیان میچ برابر رہا تھا۔

الجنوب فٹ بال اسٹیڈیم میں گروپ ڈی کے اسٹیج گروپ میں کھیلے جانے والے میچ کے پہلے ہاف کے23 ویں منٹ میں آسٹریلیا کی بہترین موو کے نتیجے میں مچل نے ہیڈر کے ذریعے خوبصورت گول کیا۔ ساتھی کھلاڑی نے ڈی کے باہر سے ہٹ لگائی جسے مچل نے جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلوا دی۔

40 ویں منٹ میں تیونس کے کھلاڑیوں نے جوابی وار کیا اور تیونس کے کھلاڑی کی ہٹ جو براہ راست گول میں جارہی تھی آسٹریلوی دفاعی کھلاڑی نے خوبصورتی سے کلیئر کی۔

تھوڑی دیر بعد ہی تیونس نے آسٹریلوی گول پر حملہ کیا لیکن اس کے کھلاڑی کی ہٹ گول پوسٹ کے برابر سے ہوتی ہوئی باہر چلی گئی۔ وقفے پر اسکور ایک صفر تھا۔ دوسرے ہاف میں آسٹریلوی کھلاڑیوں نے دو حملے کیے لیکن گول نہ کرسکے۔

یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ

0
یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ
یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے قابل ہے، لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہے

یروشلم: فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے اسرائیلی حکومت کو فلسطینی عوام کے خلاف "جنگ کی حکومت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین نے یورپی یونین کے ممالک سے کہا تھا کہ وہ اس حکومت میں شامل متعدد نئے وزراء کا بائیکاٹ کریں۔ کیونکہ اسرائیل کی نئی حکومت میں شامل ہونے والے فلسطینیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

العربیہ کے مطابق اشتیہ نے اخبار”الشرق” کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ فلسطین "انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں یہودی بستیوں، قتل و غارت اور قابض ریاست کے تسلط پر اسرائیل کا پیچھا جاری رکھے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "(حالیہ اسرائیلی کنیسٹ کے) انتخابات کے نتائج نے ظاہر کیا کہ اسرائیل میں امن کے لیے کوئی شراکت دار نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومتی جماعتیں امن عمل کے بارے میں ایک موقف رکھتی ہیں۔”

فلسطینی وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ امن مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مسٹر اشتیہ نے اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ دو ریاستی حل کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی ریاست کے امکان کو ختم کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب کو "اس سے سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔”

فلسطینیوں کی تعداد

فلسطینی وزیر اعظم اشتیہ نے اشارہ کیا کہ دو ریاستی حل کا متبادل "ایک ریاست ہوگی جس میں فلسطینیوں کی تعداد یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی۔ آج فلسطینیوں کی تعداد 350,000 ہے جو یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

مسٹر اشتیہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین اب بھی عرب اقدام کے مطابق دو ریاستی حل کے آپشن پر یقین رکھتا ہے۔ یہ حل "سیاسی سطح پر اب بھی ممکن ہے۔ "اشتیہ نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل جو ان کے بقول عرب ممالک اور یورپ چاہتے ہیں کا مطلب 67 کی سرحدوں پر واپسی اور پناہ گزینوں کی واپسی ہے۔” انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ "بین الاقوامی کوارٹیٹ کی موت” کے بعد ایک نئے بین الاقوامی اقدام کی ضرورت کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی صہیونی سازشوں کو ناکام کرانے پر زور دیا۔

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ "امریکی انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے قابل ہے، لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینیوں کے ساتھ کئی وعدے کیے، جیسے کہ یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنا، یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے کام کرنا، دو ریاستی حل کی بنیاد پر مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے ’اونروا‘ کی مالی مدد بحال کرنا جیسے وعدے شامل تھے۔ امریکا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ

0
بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ
بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ

اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد اور خواتین میں 9.4 فیصد ہے

نئی دہلی: ملک میں پیداواری سرگرمیوں اور زراعت پر مبنی کاموں میں تیزی کی وجہ سے موجودہ مالی سال کی جولائی-ستمبر سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد و شمار اور پروگرام کے نفاذ کی مرکزی وزارت نے جمعرات کو یہاں جاری ‘پیریوڈیکل لیبر فورس سروے جولائی-ستمبر سہ ماہی 2022’ میں کہا ہے کہ جولائی-ستمبر 2022 میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد رہی ہے۔ جولائی تا ستمبر 2021 کی سہ ماہی میں یہ تعداد 9.8 فیصد تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد اور خواتین میں 9.4 فیصد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سہ ماہی اپریل تا جون 2022 میں بے روزگاری کی شرح 7.6 فیصد تھی۔

لیبر فورس سروے میں پورے ملک سے شہری علاقوں میں 15 سال سے زیادہ عمر کی لیبر فورس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جولائی تا ستمبر 2022 کے سروے میں 5,669 شہروں اور قصبوں کے 44,358 گھرانوں کے 1,71,225 افراد کا احاطہ کیا گیا۔

دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان

0
دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان
دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان

آج ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس کی تیاری کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، ذرائع کے مطابق دہلی میں مودی-ممتا کی علیحدہ ملاقات کا بھی امکان ہے

کلکتہ: ستمبر 2023 میں G-20 سربراہی اجلاس ہندوستان میں منعقد ہونا ہے۔ اجلاس کی تیاری ہونے جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے سرکردہ رہنما شریک ہوں گے۔ کانفرنس کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ممتا بنرجی پارٹی کی چیئرپرسن کے طور پر تیاری کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گی۔ ممتا بنرجی اور وزیر اعظم مودی کے درمیان علاحدہ ملاقات کا امکان ہے۔

آج ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس کی تیاری کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دہلی میں مودی-ممتا کی علیحدہ ملاقات کا بھی امکان ہے۔

تاہم، ممتا بنرجی نے قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم ان سے الگ ملاقات کریں گے۔ اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ جی -20 سے متعلق اہم پروگراموں میں سے ایک شمالی بنگال کے سلی گوڑی-دارجلنگ میں منعقد ہونے والا ہے۔

سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد

0
سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد
سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد

سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے کے لئے معروف ماہر تعلیم محترم مبارک کاپڑی علاقۂ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے اور آپ کے بچوں کی تقدیر جگمگانے کے لیے 20 نومبر سے 23 نومبر تک سیمانچل میں اپنا تعلیمی پیغام لے کر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور تقریریں کیں

کشن گنج: تعلیم اور سماجی بیداری پر کام کرنے والی تنظیم نصیریہ فاؤنڈیشن نے بہار کے ضلع کشن گنج کے انتہائی پسماندہ علاقہ کے ایک قصبہ پناسی (کشن گنج، بہار) میں 22 نومبر 2022 بروز منگل ایک تعلیمی کیمپ منعقد کیا۔ یہ تعلیمی کیمپ جناب اخترالایمان ریاستی صدر مجلس اتحاد المسلمین بہار و رکن اسمبلی بہار کے زیر صدارت سہ روزہ سیمانچل انقلابی تعلیمی کانفرنس کا حصہ تھا۔

واضح رہے کہ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے کے لئے معروف ماہر تعلیم محترم مبارک کاپڑی (ممبئی) علاقۂ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے اور آپ کے بچوں کی تقدیر جگمگانے کے لیے 20 نومبر سے 23 نومبر تک سیمانچل میں اپنا تعلیمی پیغام لے کر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور تقریریں کیں۔

تعلیمی مجلس کا آغاز آکسفورڈ انٹرنیشنل کشن گنج کے جناب تفہیم الرحمن صاحب نے اپنے تعارفی بیان سے کیا پھر اس کے بعد جناب قاری عیسی برکاتی نے تلاوت قرآن مجید کی اور مہمانوں کو گلدستے پیش کئے گئے۔

ترقی اور کامیابی کے لئے بنیادی چیز تعلیم

اس مہم میں جن اہم مسئلوں پر بحث کی گئی ان میں سے اہم بات ممبئی سے تشریف لائے ہوئے اہم مقرر جناب مبارک کاپڑی نے باور کرانے کی کوشش کی کہ کسی بھی شخص کسی بھی ملت یا کسی بھی ملک کی ترقی اور کامیابی کے لئے بنیادی چیز تعلیم ہے۔ جس میں جتنی زیادہ تعلیم ہوگی وہ اتنا ہی ترقی یافتہ اور سر بلند ہوگا۔

جناب اختر الایمان صاحب نے کہا کہ بہت افسوس کا مقام یہ ہے کہ سیمانچل کے بچے ملک کی سبھی ریاستوں سے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اسی لیے ہمارا سیمانچل بھی تعلیمی معاشی سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے پیچھے ہے۔ آج کے زمانے میں ساری ترقی اور عزت کا انحصار تعلیم اور صرف تعلیم پر ہے۔ لہذا ہم نے اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں۔ انہیں پڑھا لکھا کر ٹیچر، پروفیسر آفیسر، قانون دان اور جج بنائیں اور سیمانچل کو ملک کا سب سے ترقی یافتہ خطہ بنائیں۔

مغربی بنگال سے سیاسی کارکن جناب جاوید اختر اور جناب ڈاکٹر صادق الاسلام نے بھی اپنی اپنی تقریروں میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیمانچل میں تعلیم زبوں حالی ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس کے سد باب کے لیے جگہ بہ جگہ اور وقتا فوقتا ایسے مہموں کی ضرورت ہے۔
مقرر خصوصی جناب مبارک کاپڑی صاحب کی تقریر کے بعد حاضرین طلباء نے کریئر سے متعلق اپنے سوالات کئے جن کا کاپڑی صاحب نے جواب دیا۔

مجلس کا اہتمام مدرسے میں ہونے کی وجہ سے مدرسہ کے طلباء نے بھی عالمیت اور فضلیت کے بعد کریئر آپشنز پر سوالات کئے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کی خدمات

نصیریہ فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اپنی نظامت کے دوران کہا کہ سائنس، آرٹس اور ہیومنٹیز جیسے تعلیمی شعبوں کی مختلف اہمیتیں ہیں اور کسی بھی فیلڈ میں مہارت کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نصیریہ فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو ایجوکیشن، ہیلتھ اور سماجی بیداری پر کئی سالوں سے کام کرتا آیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مسجد، مدرسہ، خانقاہ کے علاوہ این سی پی یو ایل کے بھی کئی تعلیمی و ٹریننگ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں میں سینکڑوں غریب سٹوڈینس کو کمپیوٹر سیوی بنانے کا کام کیا ہے۔