پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 205

گجرات کے موربی میں قتل کے لیے بی جے پی کی بدعنوانی ذمہ دار: سسودیا

0
گجرات کے موربی میں قتل کے لیے بی جے پی کی بدعنوانی ذمہ دار: سسودیا
گجرات کے موربی میں قتل کے لیے بی جے پی کی بدعنوانی ذمہ دار: سسودیا

آج ایک پریس کانفرنس میں مسٹر سسودیا نے کہا کہ موربی میں بی جے پی کی بدعنوانی کی وجہ سے سینکڑوں لوگ اور معصوم بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور بی جے پی واس کے لیڈر اس پر خاموش ہیں

نئی دہلی: دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ گجرات کے موربی حادثے میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے یہ واضح ہے کہ یہ حادثہ نہیں قتل ہے اور اس کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بدعنوانی ہے۔

آج ایک پریس کانفرنس میں مسٹر سسودیا نے کہا کہ موربی میں بی جے پی کی بدعنوانی کی وجہ سے سینکڑوں لوگ اور معصوم بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور بی جے پی واس کے لیڈر اس پر خاموش ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ موربی پل کی تعمیر نو کا ٹھیکہ گھڑی بنانے والی کمپنی کو کیوں دیا گیا؟ جبکہ اس کمپنی نے کبھی پل نہیں بنایا۔ اسے پل بنانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اتنے بڑے اور اہم کام کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے کسی کمپنی کو کیوں دیا گیا؟

ایف آئی آر میں کمپنی اور کمپنی کے مالک کا نام کیوں نہیں؟

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اس کا جواب دینا چاہئے کہ ٹینڈر جاری کئے بغیر کسی ناتجربہ کار کمپنی کو ایسا ٹھیکہ دینے کے لئے کس نے کتنے پیسے کھائے؟ پل کو آٹھ ماہ میں دوبارہ تعمیر کیا جانا تھا۔ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے پانچ مہینے میں ہی ایک ناقص پل بنا کر شروع کر دیا۔

بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ اس نے اس کمپنی اور اس کے مالکان سے کتنا چندا لیا ہے اور اس کمپنی کے مالکان کی بی جے پی لیڈروں کے کن لیڈران سے قربت ہے؟ اتنے بڑے حادثے اور اتنی اموات کے باوجود درج کی گئی ایف آئی آر میں کمپنی اور کمپنی کے مالک کا نام کیوں نہیں ہے؟ انہیں کیوں اور کس کے دباؤ میں بچایا جا رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ گجرات کے موربی میں ہوئے حادثے سے پورا ملک ہل گیا۔ اس حادثے میں سینکڑوں لوگ اور معصوم بچے مارے گئے۔ پچھلے دو دنوں میں سامنے آنے والے حقائق سے صاف ہے کہ یہ حادثہ نہیں قتل ہے اور اس حادثے کے پیچھے بی جے پی کی بدعنوانی ہے۔

مسٹر سسودیا نے کہا کہ بی جے پی کو ان پانچ سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ کیونکہ یہ 150 لوگ اور معصوم بچے حادثے سے نہیں مرے بلکہ قتل ہوئے ہیں۔

جاپان میں ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے سرٹیفکیٹ اسکیم

0
جاپان میں ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے سرٹیفکیٹ اسکیم
جاپان میں ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے سرٹیفکیٹ اسکیم

ایک سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جاپانی عوام کی اکثریت ہم جنس پرست جوڑوں کی حامی ہے، سال 2021 میں کیے گئے سروے کے مطابق 57 فیصد لوگ اس کے حق میں ہیں جبکہ 37 فیصد اس کے خلاف

ٹوکیو: جاپان نے ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے ایک پارٹنرشپ سرٹیفکیٹ اسکیم شروع کی ہے جس سے انہیں پہلی بار کچھ عوامی خدمات کے لیے شادی شدہ جوڑوں کے طور پر مانا جاسکتا ہے۔

کچھ لوگوں کو امید ہے کہ یہ جاپان بھر میں مساوات کو اپنانے کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔ جاپان اس وقت ترقی یافتہ ممالک کے جی-7 گروپ میں واحد ملک ہے جو ہم جنس یونینوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

اکثریت ہم جنس شادی کی حامی

ایک سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جاپانی عوام کی اکثریت ہم جنس شادی کی حامی ہے۔ سال 2021 میں جاپان کے سماجی نشریاتی ادارے این ایچ کے کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 57 فیصد لوگ اس کے حق میں ہیں جبکہ 37 فیصد اس کے خلاف۔

وسیع حمایت کے باوجود، جاپان میں اوساکا کی ایک ضلعی عدالت نے اس سال کے شروع میں فیصلہ سنایا تھا کہ ہم جنس شادی پر موجودہ پابندی آئینی تھی۔ اس کے بعد اکتوبر میں، حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک مقامی نمائندے نوبورو وتنبے نے ہم جنس شادی کو قابل نفرت قرار دیا تھا۔ ان تبصروں کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اساہی سنبن نیوز سائٹ کے مطابق، ٹوکیو میٹروپولیٹن ایریا میں شروع کی جارہی اسکیم کو پہلی بار سال 2015 میں اس کے ایک ضلع میں قائم کیا گیا تھا، جو میٹروپولیٹن علاقے کے مغرب میں مزید نو وارڈز اور چھ شہروں تک پھیل گئی تھی۔ نئی میٹروپولیٹن وسیع اسکیم دارالحکومت کے تمام علاقوں اور 1.4 کروڑ لوگوں تک پہنچے گی۔

جاپان میں آٹھ دیگر صوبوں میں متعارف کرائی گئی پارٹنرشپ سرٹیفکیٹ ہاؤسنگ، ادویات اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں ہم جنس پرستوں کو شادی شدہ جوڑوں کی طرح برتاؤ کرنے کی اجازت دے گی، لیکن یہ گود لینے، وراثت اور میاں بیوی کے ویزا جیسے امورمیں مدد نہیں کرے گی۔

ٹوکیو میں رہنے یا کام کرنے والا 18 سال سے زیادہ عمر کا کوئی بھی فرد اس کے لئے درخواست دے سکتا ہے، جس میں جمعہ تک 137 درخواستیں جمع کی جاچکی ہیں۔

ہماچل پردیش: کانگریس اقتدار میں آتے ہی ہر سال ایک لاکھ نوکریاں دے گی: پرینکا

0
ہماچل پردیش: کانگریس اقتدار میں آتے ہی ہر سال ایک لاکھ نوکریاں دے گی: پرینکا
ہماچل پردیش: کانگریس اقتدار میں آتے ہی ہر سال ایک لاکھ نوکریاں دے گی: پرینکا

پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ جس دن ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت بنے گی، کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا

شملہ: کانگریس کی اسٹار کمپینر اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ جس دن ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت بنے گی، کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جو کہہ رہی ہے وہ کرکے دکھائے گی۔

پیر کو منڈی کے پڈل گراؤنڈ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ اگر ریاست میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو وہ ہر سال ایک لاکھ نوکریاں اور پانچ سالوں میں پانچ لاکھ نوکریاں دے گی۔

اس سے قبل ریلی میں پہنچنے سے پہلے انہوں نے بابا بھوت ناتھ مندر میں ماتھا ٹیکا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہر پانچ سال بعد حکومت بدلنے کی جو روایت آپ نے بنائی ہے اسے مت بدلیں۔ یہ ایک اچھی روایت ہے۔ اس سے لیڈروں کا دماغ درست رہتا ہے۔ ہماچل ثقافت اور روایات کی ریاست ہے۔

محترمہ گاندھی نے الزام لگایا کہ گجرات سے لے کر ہماچل پردیش تک عوام بی جے پی کی ناکام پالیسیوں سے ناراض ہیں۔ بی جے پی کی قیادت والی حکومتوں کی پالیسیاں صرف اپنے صنعتکار دوستوں کے لیے ہیں۔ کسانوں کو اپنی فصلوں کی قیمتیں مقرر کرنے کا حق نہیں ہے۔ ان کا فیصلہ صنعتکار کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کو ہوشیار رہنا ہوگا۔ یہ سیاست ہماچل پردیش میں پچھلے پانچ سالوں سے چل رہی ہے۔ کیا آپ انہیں مزید پانچ سال دیں گے؟ کیا بی جے پی نے آپ سے کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں؟

ہماچل پردیش میں سرکاری محکموں میں 63 ہزار آسامیاں خالی

انہوں نے سابق وزیر اعلی ویربھدر سنگھ کے کاموں کو بھی گنوایا اور کہا کہ بی جے پی کے وزیر اعلی منڈی ضلع سے ہیں لیکن انہوں نے یہاں کچھ نہیں بنایا، صرف خود غرضی کی سیاست کی ہے۔ چھتیس گڑھ میں کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ حکومت کے قیام کے پہلے ہی دن پورا ہوگیا۔ ہماچل پردیش میں سرکاری محکموں میں 63 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ انہیں بھرا نہیں جارہا ہے، اس پر حکومت نے فوج میں بھرتی کی اگنی ویر اسکیم لا کر نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ دودھ، دہی، آٹا، سرسوں کے تیل اور سیب کے باغات کی پیکنگ میٹریل پر ٹیکس عائد کیا گیا۔

انہوں نے کانگریس امیدواروں کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اندرا کو ہماچل پردیش سے پیار اور لگاؤ ​​تھا۔ گاؤں گاؤں میں ان کی دادی کی باتیں ہوتی ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ملک کی سیاست بدل گئی۔ آج پیسہ اور میڈیا کا غلبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماچل پردیش کی تشکیل ہورہی تھی تو کئی لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔ بہت سے لوگ کہتے رہے کہ پہاڑی ریاست نہیں چلے گی۔ محترمہ اندرا گاندھی اور یشونت سنگھ پرمار نے ہماچل پردیش بنایا۔ یہاں وقف کرنے کی روایت ہے۔ ہماچل کے لوگوں میں خوداری ہے، روایت ہے، وہ اسے بدل نہیں سکتے۔ پانچ سال حکومت بدلنے کی روایت بہت اچھی ہے۔ لیڈروں کو ان کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔

قبل ازیں محترمہ واڈرا نے اسٹیج پر محترمہ اندرا گاندھی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد گجرات کے موربی میں ہونے والے حادثے پر غم کا اظہار کیا اور اسٹیج پر ہی خاموشی اختیار کرتے ہوئے مرنے والوں کی روحوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

ہندوستانی ریلوے کل سے پیپر لیس ہو جائے گی

0
ہندوستانی ریلوے کل سے پیپر لیس ہو جائے گی
ہندوستانی ریلوے کل سے پیپر لیس ہو جائے گی

ریلوے کی وزارت نے آج یہاں کہا کہ ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستانی ریلوے نے منگل سے فائلوں کو ڈیجیٹائز کرکے اپنے پورے کام کاج کو پیپر لیس بنانے اور ای-آفس سسٹم کے ذریعے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے

نئی دہلی: ہندوستانی ریلوے کل سے اپنے کام کاج کو پیپر لیس کرنے جا رہا ہے۔ ملک بھر میں ریلوے کی ہر فائل اور دستاویز اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے چلائے جائیں گے۔

ریلوے کی وزارت نے آج یہاں کہا کہ ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستانی ریلوے نے منگل سے فائلوں کو ڈیجیٹائز کرکے اپنے پورے کام کاج کو پیپر لیس بنانے اور ای-آفس سسٹم کے ذریعے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

گزشتہ سال 15 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب سے متاثر ہو کر حکومت نے ستمبر-اکتوبر 2021 میں ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا تاکہ ارد گرد صفائی کو یقینی بنایا جا سکے، التوا کو کم کیا جا سکے اور کام کی جگہوں پر کام کے کلچر کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس خصوصی مہم کی کامیابی سے حوصلہ پاتے ہوئے، اس سال ستمبر میں، حکومت نے اس مہم کے سیکوئل کو ’خصوصی مہم 2.0‘ کے نام سے دوبارہ شروع کیا۔ اس میں صفائی اور گڈ گورننس کو مزید فروغ دینے اور بہتر ورک کلچر کے ذریعے اعلیٰ اہداف کا تعین کیا گیا۔

خصوصی مہم 2.0 کے تحت وزارت ریلوے نے اپنے کام کاج کے میدان میں اعلیٰ معیارات قائم کیے ہیں اور اس میں پورے ریلوے نظام کو شامل کیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے نے اپنے تمام 7337 اسٹیشنوں کو سووچھ مہم میں شامل کیا ہے۔ اسٹیشنوں کی مشینوں سے صفائی ستھرائی پر خصوصی زور دیا گیا۔ ریل گاڑیوں اور اسٹیشنوں (بشمول بڑے اسٹیشنوں تک جانے والی ریلوے لائنوں) کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے ساتھ پلاسٹک اور دیگر کچرے کو جمع کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اوپر سے نیچے تک تمام ملازمین کا خاکہ تیار

دو اکتوبر سے، وزارت ریلوے نے 9000 سے زائد صفائی مہمات چلائی ہیں، جس میں اس کے اسٹیشن، دفاتر، ورکشاپس، پروڈکٹی وٹی یونٹس اور دیگر محکموں کو شامل کیا گیا ہے اور 100 فیصد ہدف حاصل کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ دستی فائلوں اور تقریباً 30 ہزار ای فائلوں کی نشاندہی کی گئی اور ان کا جائزہ لیا گیا۔ اوپر سے نیچے تک تمام ملازمین کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے اور تمام زیر التوا معاملوں کو نمٹا دیا گیا ہے۔ ان میں وی آئی پی/ ایم پی/ ایم ایل اے حوالہ جات، پارلیمانی حوالہ جات، ریاستی حکومت/وزیر اعظم کے دفتر کے حوالہ جات شامل ہیں۔

اب تک تقریباً 80 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ خصوصی مہم 2.0 کے 20 دنوں میں، ریلوے کی وزارت نے 3000 سے زیادہ وی آئی پی حوالہ جات، 160 ریاستی حکومت کے حوالہ جات اور دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ عوامی شکایات کا ازالہ کیا ہے۔ یونٹس کے سینئر ترین افسران آپریشن کی سخت نگرانی کر رہے ہیں۔ مہم کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے وہ اپنے متعلقہ دفاتر کے باقاعدہ دورے کر رہے ہیں۔ 33 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا کباڑ فروخت کرے 16 ہزار مربع فٹ جگہ خالی کرائی گئی۔ صفائی کی بیداری کے لیے نکڑ ناٹک کا انعقاد کیا گیا۔

مہم کے دوران کئی دیگر اقدامات بھی کیے گئے جیسے آن لائن عمل کے لیے آئی ٹی ایپلی کیشن کی ترقی، وی آئی پی (ایم پی/ایم ایل اے) حوالوں کو نمٹانا اور پارلیمانی حوالوں کو حل کرنا جیسے کہ سیکشن 377 کے تحت زیرو آور کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے اٹھائے گئے معاملے۔

آئی ٹی ایپلی کیشن میں کئی نکات شامل

وی آئی پی حوالوں کی نگرانی کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ آئی ٹی ایپلی کیشن میں کئی نکات شامل ہیں، جیسے حوالہ جات کی رجسٹریشن (اپ لوڈنگ)، یونٹس/افسران کو بھیجنا، ان کے جوابات کی وصولی، متعلقہ یونٹ کے ذریعے پروسیس کی تکمیل اور وزیر ریلوے/ایم او ایس/جواب جی ایم/ ڈی آر ایم وغیرہ کی طرف سے جاری کردہ ایم آئی ایس رپورٹس کی تعداد بھی موضوع /وی آئی پی/ریاست/یونٹ (ڈائریکٹوریٹ/زونل ریلوے وغیرہ)/وقت کی مدت کے تناظر میں درج کی جا سکتی ہے۔

یہ سسٹم متعلقہ حکام کو ہفتہ وار ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے اس معاملے کے بارے میں یاد دلاتا ہے۔ وزراء/افسران صرف ایک بٹن پر کلک کرکے عوامی نمائندے کو دیئے گئے جواب کے بارے میں اطلاع دے سکتے ہیں۔

اسی طرح پارلیمانی ریفرنسز کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے ایک اور ماڈیول بھی تیار کیا گیا ہے جس میں وی آئی پی ریفرنسز کی نگرانی کے لیے ایم آئی ایس کی تمام خصوصیات شامل ہیں۔ ان دونوں درخواستوں کی ترقی نے وزارت ریلوے کو ان حوالوں سے نمٹنے کے قابل بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ ’ریل مدد پورٹل‘ کے ذریعے بھی عوامی شکایات کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس میں شکایات کو حقیقی وقت میں نمٹایا جا سکتا ہے۔ اس میں زیر التوا معاملات کی نگرانی اور ان شکایات کو نمٹانا بھی ممکن ہوسکے گا۔

کیف: یوکرین کے دارالحکومت سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

0
کیف: یوکرین کے دارالحکومت سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
کیف: یوکرین کے دارالحکومت سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

خبر کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازوں کے بعد شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں

کیف: یوکرین کے دارالحکومت میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازوں کے بعد شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے عینی شاہدوں کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ آج صبح کیف سے دھماکوں کی متعدد آوازیں سُنی گئی ہیں۔ خبر کے مطابق تقریباً 10 دھماکوں کی آوازوں کے بعد شہر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

یوکرین کے شمالی، مشرقی اور مرکزی علاقوں سے بھی میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خارکیف بلدیہ مئیر ایہور تیریخوف نے کہا ہے کہ شہر کے اہم انفراسٹرکچر کو 2 میزائلوں کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ روس نے یوکرین کو 8 اکتوبر کے کیرچ پُل دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے بعد سے یوکرین پر حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ روسی فوجیوں سے 24 فروری کو یوکرین پر حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے عصمت دری کی متاثرہ کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر لگائی روک

0
سپریم کورٹ نے عصمت دری کی متاثرہ کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر لگائی روک
سپریم کورٹ نے عصمت دری کی متاثرہ کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر لگائی روک

تلنگانہ کی ایک عدالت نے عصمت دری کے مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، لیکن ریاست کی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز عصمت دری معاملے کی جانچ کے دوران ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کرائے جانے کو غیر سائنسی، پدرانہ، صنفی امتیاز اور متاثرہ کو دوبارہ اذیت پہنچانے والا قرار دیتے ہوئے اس طریقہ کار پر فوری طور پر روک لگانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور ہیما کوہلی کی بنچ نے مرکزی حکومت کو ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ پر فوری روک لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے جانچ کرنے والے کو قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عصمت دری متاثرین کا ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ نہ کروایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمام ریاستوں کے پولیس سربراہوں کو اپنے حکم کی کاپی بھیجنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے دیا ہے۔

تلنگانہ کی ایک عدالت نے عصمت دری کے مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، لیکن ریاست کی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے پیر کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی طرف سے مجرموں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو قانونی قرار دیا۔

’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں

سپریم کورٹ نے اس کیس کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ تفتیش کا یہ عمل ایک غلط عقیدہ پر مبنی ہے، جو متاثرہ کو دوبارہ اذیت دیتا ہے۔ عدالت عظمیٰ بار بار تحقیقات کا ایسا طریقہ اختیار کرنے کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہے۔

جسٹس چندر چوڑ، جنہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا، نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کا چلن آج بھی جاری ہے۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس عدالت نے عصمت دری اور جنسی زیادتی کے معاملات میں ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کے عمل کی بار بار مذمت کی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا ’’نام نہاد ٹیسٹ کے لئے کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ اس سے خواتین کو بار بار تکلیف ہوتی ہے۔ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ غلط عقیدے پر مبنی ہے کہ ایک جنسی طور پر فعال خاتون کی عصمت دری نہیں کی جا سکتی۔ سچائی سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں

0
ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں
ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں پرامن، آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کل 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں

شملہ: ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں پرامن، آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کل 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 7235 دیہی علاقوں اور 646 شہری علاقوں میں ہیں۔

یہ اطلاع ہفتہ کو یہاں چیف الیکشن آفیسر منیش گرگ نے دی۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ 1625 پولنگ سٹیشن کانگڑا ضلع میں اور سب سے کم 92 لاہول اسپتی ضلع میں ہیں۔ ریاست میں تین معاون پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں دھرم شالہ کے سدھ باڑی، بیجناتھ کے بڈبھنگل اور کسولی کے ڈھلون شامل ہیں۔ کانگڑا ضلع کے دھرم شالہ اسمبلی حلقہ کے تحت سدھ باڑی پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ 1511 ووٹر ہیں جبکہ کنور میں کم از کم 16 ووٹر ہیں۔ ریاست میں دور دراز پولنگ اسٹیشن بھی ہیں، جہاں تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ سے 14 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔

دور افتادہ چمبا ضلع میں، ڈلہوزی اسمبلی حلقہ کے تحت منولا پولنگ اسٹیشن میں سب سے زیادہ 1459 ووٹر ہیں جبکہ بھرمور کے کیونار میں صرف 84 ووٹر ہیں۔ قبائلی اسمبلی حلقہ بھرمور کا چک بٹوری ایک ایسا ہی پولنگ اسٹیشن ہے جہاں پولنگ پارٹی کو پہنچنے کے لیے 14 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا

0
یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا
یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا

مسٹر کولیبا نے کہا کہ آج مجھے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا فون آیا۔ میں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کرنے اور اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری طور پر بند کرے

کیف: یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر روس کو ‘کامی کاز’ ڈرون فراہم کر رہا ہے، جنہیں روسی فوج نے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔

تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کی اور واضح کیا کہ اس نے روس کو ڈرون سمیت کوئی ہتھیار نہیں بھیجا ہے۔

مسٹر کولیبا نے جمعہ کو دیر گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "آج مجھے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا فون آیا۔ میں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کرنے اور اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری طور پر بند کرے۔”

روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر ایک بار پھر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ تازہ ترین حملوں سے یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور کیف اور ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کو بجلی کی غیر معمولی کمی کا سامنا ہے۔

یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے حملوں میں ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے ہیں، جو اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عبداللہیان نے الزامات کی تردید کی

ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر امیر عبداللہیان نے روس کے یوکرین میں استعمال کے لیے ڈرون فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے روس سے اسلحہ لیا اور انہیں ہتھیار بھی دیے لیکن یوکرین جنگ کے دوران ہتھیاروں کا تبادلہ نہیں ہوا۔

یوکرین نے جمعہ کو کہا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے ستمبر کے وسط سے اب تک 300 سے زیادہ روسی ڈرون مار گرائے ہیں، جن کی شناخت ایک ایرانی ساختہ ڈرون ‘شاہد 136’ کے طور پر کی گئی ہے۔

شئیر بازار تیزی کے ساتھ بند

0
شئیر بازار تیزی کے ساتھ بند
شئیر بازار تیزی کے ساتھ بند

عالمی بازار میں ملے جلے رجحان کے درمیان شئیر بازار گراوٹ سے ابھرتے ہوئے آج تیزی کے ساتھ بند ہوا

ممبئی: عالمی بازار میں ملے جلے رجحان کے درمیان میٹلز، ریئلٹی، آئل اینڈ گیس اور پاور سمیت 17 گروپوں میں خریداری کی بدولت شئیر بازار گراوٹ سے ابھرتے ہوئے آج تیزی کے ساتھ بند ہوا۔

بی ایس ای کا 30 شیئروں والا حساس انڈیکس سینسیکس 212.88 پوائنٹس مضبوط کر 59756.84 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 80.60 پوائنٹس چڑھ کر 17736.95 پر پہنچ گیا۔ اس مدت کے دوران بی ایس ای کا مڈ کیپ 0.44 فیصد بڑھ کر 25,151.71 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.41 فیصد چڑھ کر 28,866.12 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3549 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1832 کے حصص سبز جبکہ 1586 سرخ نشان پر رہے جبکہ 131 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 38 کمپنیاں خریداری ہوئی جبکہ باقی 12 میں فروخت ہوئی۔

بی ایس ای میں ٹیک اور آئی ٹی گروپ کے 0.48 فیصد تک گراوٹ کو چھوڑ کر 17 گروپوں میں تیزی رہی۔ اس دوران میٹلز 3.02، رئیلٹی 2.95، کموڈٹیز 1.37، انرجی 1.14، ہیلتھ کیئر 0.69، انڈسٹریلس 0.60، ٹیلی کام 1.07، یوٹیلٹیز 1.85، بینکنگ 0.57، کیپٹل گڈز 0.73، کنزیومر ڈیوریبلز 0.73، آئل یاینڈ گیس 1.39 اور پاور گروپ کے شیئر 1.84 فیصد مضبوط ہوئے۔

بین الاقوامی سطح پر ملا جلا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.20 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.72 فیصد بڑھا جبکہ جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.62، جاپان کا نکئی 0.32 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ اس عرصے کے دوران 0.55 فیصد گرا۔

اروند کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے: دیویندر سنگھ

0
اروند کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے: دیویندر سنگھ
اروند کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے: دیویندر سنگھ

دیویندر سنگھ نے کہا کہ یہ بیان دے کر مسٹر کیجریوال نے آئین کی توہین کی ہے، جب کہ وہ خود ایک آئینی عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر ایک سیکولر ملک پر ہندو شاونزم مسلط کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے سیکولر اقدار اور آئین کے بنیادی اصولوں کی ناقابل معافی توہین ہے

چنڈی گڑھ: پنجاب قانون ساز اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر بیر دیویندر سنگھ نے جمعرات کو الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کرنسی نوٹوں پر گنیش لکشمی کی تصویر لگانے کی اپیل کر کے آئین کی توہین کی ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کل کہا تھا کہ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت کو بہتر بنانے اور ملک کی خوشحالی کے لیے دیوتاؤں کا آشیرواد حاصل کرنے کے لیے کرنسی نوٹوں پر گنیش-لکشمی کی تصویریں چھاپی جانی چاہییں۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ بیان دے کر مسٹر کیجریوال نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ وہ خود ایک آئینی عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر ایک سیکولر ملک پر ہندو شاونزم مسلط کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے سیکولر اقدار اور آئین کے بنیادی اصولوں کی ناقابل معافی توہین ہے۔

کیجریوال کی گرفتار کا مطالبہ

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسٹر کیجریوال کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف آئین کی سیکولر روح کی توہین کا معاملہ درج کیا جانا چاہئے۔

سابق ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ اگر مسٹر کیجریوال واقعی اس تجویز پر سنجیدہ ہیں تو ملک کی خوشحالی کے لیے وہ خود سب سے پہلے اپنے گالوں اور ماتھے پر دیوی دیوتاؤں کے ٹیٹو لگائیں اور اپنے ایم ایل اے ،ممبران اسمبلی اور اراکین سے بھی ایسا کروائیں۔ ۔ورنہ ایسی تجاویز دینا بند کریں۔

دریں اثنا کانگریس کے لیڈر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوہ نے کل ٹویٹ کرکے الزام لگایا تھا کہ مسٹر کیجریوال کے چہرے سے نقاب اتر چکا ہے اور سچ سامنے آگیا ہے۔ اب دکھاوے کے لیے بھی مکھوٹے کی ضرورت نہیں رہی۔ مسٹر کیجریوال اپنا اصلی رنگ دکھا رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے خود کو ایک وفادار ہندو ثابت کرنے کی کوشش میں مسٹر کیجریوال واقعی ملک کے سماجی اور سیکولر ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسے شرمناک اور بدقسمتی قرار دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ دیکھیں پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان اس پر کیا کہتے ہیں۔