منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 206

انڈونیشیا میں منعقد جی 20 اجلاس حسب روایت نشستن، گفتن، برخاستن

0

انڈونیشیا میں منعقد جی 20؍ ممالک کا اہم اجلاس بھی حسب روایت ’نشستن، گفتن، برخاستن‘ تک ہی محدود رہا

ڈاکٹر یامین انصاری

دنیا میں قیام امن کے مقصد سے 24؍ اکتوبر 1945ء کو اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کے منشور یا چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔ بنیادی انسانی حقوق کا احترام بحال کریں گے اور انسانی اقدار کی قدرومنزلت کریں گے۔ مرد و عورت کے حقوق برابر ہوں گے اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔ ایسے حالات پیدا کریں گے کہ معاہدوں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔ لہذا یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔ ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔

شروع میں اقوام متحدہ کے صرف 51؍ ممبر تھے، بعد میں ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ موجودہ وقت میں اس کے 193؍ رکن ممالک جنرل اسمبلی کے ارکان ہیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکہ ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں رائے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے علاوہ بھی بہت سے عالمی ادارے، گروپس اور تنظیمیں ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ ان کا قیام بھی دنیا میں امن اور تحفظ، بھائی چارہ، ہمسایوں اور قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات، ترقی و خوشحالی اور عالمی سطح پر اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کی بہتری کے لئےگتھیوں کو سلجھانا ان کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

اب ذرا ہم اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک رکن ممالک، بالخصوص سلامتی کونسل کے ممبر ممالک جن پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو حالات اس کے بر عکس نظر آئیں گے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں بہت سارے کام ہو رہے ہیں، لیکن یہ ادارہ دنیا میں ہونے والے کئی اہم انسانی المیوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی طرح ایک تنظیم جی 20؍ ہے۔ اس میں دنیا کے 19؍ ممالک شامل ہیں، جبکہ یورپی یونین کو ایک ملک کے طور پر اس میں شامل کرکے اسے ’جی20؍ ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جی 20؍ دنیا کی بڑی معیشتوں کی تنظیم ہے، جو 80؍ فیصد جی ڈی پی پر مشتمل ہے۔ جی 20؍ کا مقصد عالمی معیشت کے حوالے سے بنیادی امور پر تبادلہ خیال کرنا اور دنیا کو درپیش معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس کے اراکین میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کناڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، روس، ہسپانیہ، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ یہ گروپ بھی کس حد تک اثر انداز رہا ہے یا مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہا ہے، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔

حال ہی میں انڈونیشیا کے ساحلی سیاحتی شہر بالی میں جی 20؍ کا سالانہ سربراہی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یوکرین پر روس کے حملے جاری ہیں۔ دونوں ہی ممالک جی 20؍ میں شامل ہیں۔ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بڑے مسئلے کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ یہاں تک کہ اس جنگ کے عالمی جنگ میں تبدیل ہو جانے کے خطرات عالمی سطح پر برقرار ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا کے تقریباً سبھی اہم ممالک کے اس اجلاس میں اس مسئلہ کا کوئی ٹھوس اور پائیدار حل نکالنے کی کوشش کی جاتی، مگر حسب سابق یہ اجلاس بھی نشستن، گفتن، برخاستن تک ہی محدود رہا۔

اس اجلاس میں اجتماعی طور پر ایسا کوئی فیصلہ تو نہیں ہونا تھا جس کے اثرات عالمی سیاست و معیشت پر پڑتے، اس کے باوجود عالمی رہنمائوں کی باہمی ملاقات اور براہِ راست تبادلۂ خیال پر پوری دُنیا کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ یوکرین بحران تھا۔ امریکہ کی کوشش بھی تھی کہ اس اجلاس میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کی جائے، مگر امریکہ اِس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ عالمی سطح پر روس یوکرین جنگ پر تشویش کا اظہار تو کیا جارہا ہے، لیکن کھلے الفاظ میں کوئی بھی ملک روس کی مذمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اسی طرح امریکہ چاہتا ہے کہ روس کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے، بالخصوص روس سے تیل اور گندم کی خریداری پر پابندی عائد کر دی جائے، تاکہ روس پر دبائو بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے یورپی ممالک بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس یوکرین جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی سے امریکہ اور یورپ کے باشندے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے حوالے سے چین نے جہاں روس کی مذمت سے گریز کیا ہے، وہیں کھلی حمایت بھی نہیں کی ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے چین اور امریکہ کی سرد جنگ سے معاملات روس اور امریکہ کش مکش میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ روسی صدر ولادیمر پوتن نے جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کی، حالانکہ روسی وفد کی قیادت وزیر خارجہ نے کی۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی بھی اجلاس میں شامل نہیں ہوئے، مگر انھوں نے اجلاس کو آن لائن خطاب کیا۔ کل ملا کر اگر ہم دیکھیں تو اس اجلاس کا اہم واقعہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات رہی۔ ایک طرف جہاں چینی صدر سے ملاقات سے قبل امریکی صدر مستقل چین کے عزائم کے خلاف باتیں کرتے رہے تھے۔ پھر بھی چین اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کے باوجود دونوں سربراہوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

وہیں دوسری جانب اس اجلاس نے تقریباً 20؍ ماہ سے ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کی برف کو پگھلنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ وزیر اعظم مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے دوران عشائیہ کی میز پر ملاقات کی اور گفتگو کی۔ اگرچہ یہ پہلے سے طے شدہ ملاقات نہیں تھی، محض غیر رسمی ملاقات تھی، مگر دونوں رہنماؤں نے خوشگوار ماحول میں تقریباً تین چار منٹ تک بات کی۔

دونوں کے درمیان 24؍ ماہ بعد یہ پہلی روبرو ملاقات تھی، جو کیمروں میں قید ہوئی۔ اس سے قبل مودی اور جن پنگ ستمبر 2022ء میں بھی سمرقند میں ایک ساتھ تھے، لیکن ان کے درمیان کسی ملاقات یا بات چیت کی کوئی تصویر سامنے نہیں آئی۔ بالی سے پہلے، دونوں رہنماؤں نے نومبر 2019ء میں برازیلیا میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کی تھی۔

تاہم اس کے بعد پہلے کورونا اور پھر مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے کا راستہ بند کردیا۔ یہی نہیں، جون 2020ء میں ہندوستان اور چین کے درمیان وادی گلوان تنازع اور اس میں 20؍ ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت نے بات چیت کے امکانات کو بند کر دیا۔

ویسے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سرحدی کشیدگی کے درمیان دونوں سربراہوں کی ملاقات ہوئی ہے اور رشتوں پر جمی برف پگھلنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اس سے قبل 2017ء میں ڈوکلام سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں رہنماؤں نے جولائی 2017ء میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میںبھی جی 20؍ کے اجلاس کے دوران ملاقات کی تھی۔

یہی نہیں، اس ملاقات کے بعد اپریل 2018ء میں وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ پہلے ووہان اور پھر مہابلی پورم میں آگے بڑھا۔ لیکن 2019ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ سلسلہ تقریباً تین سال سے رک گیا ہے۔

لہذا بالی میں ہوئی چھوٹی اور غیر رسمی ملاقاتوں نے یقیناً بند دروازے کھولنے میں مدد کی ہے۔ بہر حال، یہ خوش آئند ہے کہ آئندہ برس کے جی 20؍ سربراہی اجلاس کی میزبانی ہندوستان کو ملی ہے۔ ایسے میں امید کی جا سکتی ہے کہ چین، امریکہ اور روس جیسی بڑی معیشتوں کی میزبانی کرکے عالمی سطح پر ہندوستان کو اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی دنیا میں قیام امن میں ہندوستان اپنا اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ بقول احمد فراز؎
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

(مضمون نگارانقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ

0
موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ
موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ

گزشتہ کئی مہینوں سے کلکتہ اور آس پاس کے بازاروں میں پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلو تھی، اب یہ بڑھ کر 45 سے 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے

کلکتہ: موسم سرما ابھی کلکتہ میں شروع نہیں ہوا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں سبزیوں، آلو اور پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے کلکتہ اور آس پاس کے بازاروں میں پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلو تھی۔ اب یہ بڑھ کر 45 سے 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ کلکتہ کے مختلف بازاروں میں کچھ اچھی کوالٹی کی پیاز 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ گڑیا، مانک تلہ سمیت مختلف بازاروں میں اس قیمت پر پیاز فروخت ہو رہی ہے۔

پیاز کے تھوک فروشوں کا کہنا ہے کہ دیگر ریاستوں سے پیاز کی درآمد میں کمی سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چند روز سے جاری بارش کے باعث پیاز کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بہت جلد اس اضافی قیمت میں کمی کا امکان نہیں ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کو پیاز کی برآمد میں اضافہ بھی پیاز کی درآمد میں کمی کی ایک وجہ ہے۔

دوسری جانب مرغی کے گوشت کی قیمت بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ کلکتہ میں کٹے ہوئے چکن کا گوشت کم از کم 220 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ کہیں قیمت 230 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ شادی اور پکنک کا موسم ابھی شروع ہونے والا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ مرغی کے گوشت کے ساتھ مرغی کے انڈوں کی قیمت میں بھی ہوشربا اضافہ پرچون مارکیٹ میں انڈے کا ہر ٹکڑا ساڑھے چھ سے سات روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ

0
پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ
پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ

جس طرح دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے سامنے مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح صحافیوں کو بھی انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے—–

ڈاکٹر یامین انصاری

کسی بھی جمہوری ملک کے چار ستون نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس نظام کا چوتھا ستون میڈیا کو کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ چوتھے ستون یعنی صحافت سے وابستہ لوگ بھی نظام کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ یہاں میڈیا کے نظام کا حصہ ہونے کا مطلب یہ قطعی نہیں لیا جانا چاہئے کہ وہ ملک کے نظام یا حکومت کے مطابق کام کرے۔ کیوں کہ صحافت کوئی پیشہ نہیں، بلکہ ایک خدمت ہے، ایک مشن ہے۔ ایک سچا صحافی وہ ہے جو حق بینی اور حق گوئی کا علمبردار رہے۔

اس مضمون میں در اصل بحث اس پر نہیں کرنا ہے کہ صحافت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، اس کی اقدار و روایات کیا ہیں، بلکہ گفتگو یہ کرنی ہے کہ ملک و قوم کی خدمات انجام دینے والے صحافیوں کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے سامنے مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح صحافیوں کو بھی انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کا مسئلہ

کسی جمہوری ملک میں جس طرح پہلے تین ستونوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، اتنا مضبوط چوتھے ستون یعنی میڈیا یا اس سے وابستہ افراد کے تحفظ کو نہیں بنایا گیا۔ کئی مرتبہ جھگڑے فساد، جنگ و جدال اور مختلف قسم کے خطرات کے درمیان کام کرنے والے صحافی بے یار و مددگار نظر آتے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر حملے کو نظام پر براہ راست حملہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پہلو پر دنیا بھر کی تنظیمیں اور حکومتیں گفتگو کرتی ہیں اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مختلف رائے اور مشورے سامنے آتی ہیں، مگر زمینی سطح پر ایسا کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ بقول زبیر رضوی؎

سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں
لوگ اپنے بند کمروں میں پڑے سوتے رہے

دنیا بھر کے صحافیوں کے تحفظ، آزادانہ صحافت کو یقینی بنانے اور انھیں بنیادی حقوق و انصاف کی فراہمی کے لئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال 2؍ نومبر کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اس سال صحافیوں کی سلامتی کے لئے ایکشن پلان کی دسویں سالگرہ بھی منارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2006ء سے 2020ء تک رپورٹنگ اور معلومات عوام تک پہنچانے کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 1200؍ سے زائد صحافی ہلاک ہوئے، جبکہ ہر دس میں سے نو معاملوں میں قاتلوں کو سزا نہیں ملی۔ اس میں خواتین صحافیوں کی حالت اور بھی دگرگوں ہے۔

صحافی شیریں ابو عاقلہ کا قتل

مئی 2022ء میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح اسرائیلی فوجیوں نے الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انکشاف ہوا کہ شیریں کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے نہیں، بلکہ اسرائیلی فوج نے ہی قتل کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک عالمی سروے کے مطابق 73؍ فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھیں صحافتی فرائض کے دوران دھمکیوں اور توہین آمیز رویہ کا سامنا رہتا ہے۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ 2016ء سے 2020ء کے دوران تقریباً 400؍ صحافیوں کو ان کی ڈیوٹی کے وقت قتل کیا گیا اور 2020ء میں 274؍ صحافیوں کو قید کیا گیا جو کہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد بنتی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی ایک عالمی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اپنی رپورٹ میں 2021ء کے دوران ہندوستان اور میکسیکو کو صحافیوں کے لئے مہلک ترین ملک قرار دیا تھا۔ اگرچہ صحافت کسی مخصوص زبان یا خطے تک محدود نہیں ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے سبب برصغیر میں ایک اردو صحافی نے سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ جنھیں ہم مولوی محمد باقر کے نام سے جانتے ہیں۔

اردو صحافت کے پہلے شہید صحافی

مولوی محمد باقر کو 16؍ ستمبر 1857ء کو دہلی دروازے کے سامنے توپ کا گولہ مار کر شہید کردیا گیا۔ بعض جگہ گولی مار کر شہید کرنے کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ اس طرح مولوی محمد باقر اردو صحافت کے پہلے شہید صحافی تھے، جنھیں انگریزوں نے انوکھی سزا سنائی تھی۔

صحافیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی یا ان کے قتل کی وارداتیں تو دنیا بھر میں ہوتی ہی رہتی ہیں، اس کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے قاتلوں اور ان پر ظلم کرنے والوں کو سزائیں بھی نہیں ملتیں۔ پچھلے دنوں یونیسکو نے کہا کہ دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے بیشتر معاملوں میں قصورواروں کو سزائیں نہیں ملتیں۔ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے مطابق 2020ء اور 2021ء میں کم از کم 117؍ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم، یونیسکو، نے حال ہی میں جاری ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دنیا بھر میں ہلاک کر دیے جانے والے صحافیوں کے بیشتر معاملوں میں قصوروار سزا سے بچ جاتے ہیں۔ تنظیم نے صحافیوں کے خلاف جرائم کے لیے استثنا کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر یعنی 2؍ نومبر 2022ء کو جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ صحافیوں کے قتل کے لیے عالمی سطح پر استثنا کی شرح ’حیران کن حد تک بلند‘ ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے لیے استثنا ناقابل قبول حد تک بہت زیادہ یعنی 86؍ فیصد ہے۔

اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ

یونیسکو نے صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی مناسب تفتیش اور ان کے مرتکب افراد کی شناخت اور سزا کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے نے ایک بیان میں کہا کہ ’اگر غیر حل شدہ مقدمات کی اتنی حیران کن تعداد موجود ہو تو اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا‘۔ صحافیوں کو قتل کرنے والے افراد کی بڑی تعداد قتل کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یعنی سی پی جے گلوبل امیونٹی انڈیکس 2022ء کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران عالمی سطح پر کام کرنے والے 263؍ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا گیا اور تقریباً 80؍ فیصد واقعات میں مجرموں کو کوئی سزا نہیں ملی۔

صومالیہ اس سنگین جرم کے حوالے سے مسلسل آٹھویں سال انڈیکس میں سرفہرست ہے۔ شام، جنوبی سوڈان، افغانستان اور عراق بالترتیب انڈیکس میں سرفہرست ہیں۔ یہ یکم ستمبر 2012ء سے 31؍ اگست 2022ء تک کے واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے پہلے زیادہ تر ممالک انڈیکس میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی تاریخ کے تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور کمزور قوانین صحافیوں کے قاتلوں کو سزا سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

میانمار کی فوجی حکومت

میانمار اور میکسیکو کی ہی اگر مثال لیں تو میانمار کی فوجی حکومت نے فروری 2021ء کی بغاوت اور جمہوریت کو معطل کرنے کے بعد آزاد رپورٹنگ کو دبانے کے لیے درجنوں صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا اور ریاست مخالف اور جھوٹی خبروں کے قوانین کا استعمال کیا۔ یہاں کم از کم تین صحافی مارے گئے ہیں، جبکہ میکسیکو اور برازیل میں صحافیوں کو پہلے ہی جرائم، بدعنوانی اور ماحولیاتی مسائل پر تنقیدی رپورٹنگ کے لیے مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ میکسیکو کی پوزیشن اس انڈیکس میں سب سے زیادہ سنجیدہ ممالک میں سے ایک ہے۔ سی پی جے نے گزشتہ ۱۰؍ سال میں صحافیوں کے 28؍ حل نہ ہونے والے قتل ریکارڈ کیے ہیں۔

بہر حال، اس مسئلہ پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نواز اور ہندوستان کی تازہ اصطلاح ’گودی میڈیا‘ کو چھوڑ دیں تو واقعی خطرات کا سامنا کرنے والے دنیا بھر کے صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کی بے حد ضرورت ہے۔ملک و بیرن ملک کی تنظیموں اور اداروں کو چاہئے کہ صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں پرہونے والے مظالم کی تحقیقات اور مقدمات کے لئے پختہ عزم کا اظہار کریں۔ ورنہ بقول شاعر؎

تجھے شناخت نہیں ہے مرے لہو کی کیا
میں روز صبح کے اخبار سے نکلتا ہوں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

پوری نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا لیا جائزہ

0
پوری نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا لیا جائزہ
پوری نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا لیا جائزہ

مسٹر پوری نے کہا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس ایک ماحول دوست عمارت بن رہا ہے۔ اس کے فن تعمیر کے کچھ حصے ہندوستان کے قدیم ثقافتی ورثے سے متاثر ہیں

نئی دہلی: مرکزی ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہفتہ کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔

ٹویٹر پر زیر تعمیر عمارت کی کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے مسٹر پوری نے کہا کہ ’عمارت کا تعمیراتی کام اچھی طرح سے جاری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ نیا پارلیمنٹ ہاؤس ایک ماحول دوست عمارت بن رہا ہے۔ اس کے فن تعمیر کے کچھ حصے ہندوستان کے قدیم ثقافتی ورثے سے متاثر ہیں۔

مسٹر پوری نے اس زیر تعمیر عمارت کو "جدیدیت اور روایت کا سنگم” قرار دیا ہے۔

حکام نے کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر میں چار ہزار سے زائد لوگ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اس کی تعمیر کا کام جلد مکمل ہونے کی امید ہے۔

پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں ہی بنائے جانے والے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا ہال میں 888 اور راجیہ سبھا میں 384 سیٹوں کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے مشترکہ اجلاس کے لیے بنائے جانے والے ہال میں 1272 نشستوں کا انتظام ہوگا۔

نئی عمارت میں ممبران پارلیمنٹ کے لیے علیحدہ دفاتر، ڈیجیٹل سہولیات، ایک عظیم الشان آئینی ہال، ممبران پارلیمنٹ کے بیٹھنے کے لئے بڑا ہال، لائبریری، کمیٹیوں کے اجلاسوں کے لیے کئی چھوٹے کمرے، کھانے کے کمرے اور پارکنگ کی سہولیات ہوں گی۔

اس نئی عمارت کی تعمیری لاگت کا تخمینہ تقریباً 971 کروڑ روپے ہے۔

پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار

0
پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار
پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار

مصدق ملک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار ہے، اس حوالے سے روس کو توانائی کی ضروریات کے حوالے سے خط لکھ چکے ہیں

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان روس سے گیس اور تیل خریدنے کیلئے تیار ہے، اس حوالے سے روس کو توانائی کی ضروریات کے حوالے سے خط لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر پابندی لگنے والا کوئی کام نہیں کریں گے، ٹاپی منصوبے کو آگے لیکر جائیں گے۔

وزیر مملکت پٹرولیم نے کہا کہ ٹاپی 8 ارب ڈالرز کا طویل المدتی منصوبہ ہے، جس کے تحت تقریبا 1.4 ارب مکعب فٹ گیس درآمد کی جاسکے گی۔ انھوں نے بتایا کہ اس سال گیس کا بہت بڑا شارٹ فال ہوگا، جنوری اور فروری کیلئے ایک ایک اضافی ایل این جی کارگوز کا بندوبست کرلیا ہے، سردیوں میں گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیاد پر گیس دیں گے۔

مسٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ حکومت میں آئے تو پاکستان کمرشل بنیادوں پر ڈیفالٹ کرچکا تھا۔

یوکرین کے صدر کا روس پر ‘توانائی دہشت گردی’ کا الزام

0
یوکرین کے صدر کا روس پر 'توانائی دہشت گردی' کا الزام
یوکرین کے صدر کا روس پر 'توانائی دہشت گردی' کا الزام

یوکرین کے صدر کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران یوکرین کے ایک تہائی پاور اسٹیشن مبینہ طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اسی وجہ سے یوکرین کی حکومت کو شہریوں سے کم سے کم بجلی استعمال کرنے کی درخواست کرنا پڑی

کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر ’توانائی کی دہشت گردی‘ کا سہارا لینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے روسی فوجیوں کو مدد ملتی ہے۔

صدر زیلنسکی کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران یوکرین کے ایک تہائی پاور اسٹیشن مبینہ طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اسی وجہ سے یوکرین کی حکومت کو شہریوں سے کم سے کم بجلی استعمال کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔ جمعرات کو اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یوکرین کے توانائی کی تنصیبات پر روسی حملوں کے بعد 4.5 ملین لوگ بجلی کے بغیر اندھیرے میں رہ رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں روس نے یوکرین میں بجلی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکام نے بڑے جنوبی شہر کھیرسن سے روسی فوجیوں کے انخلاء کی پیش گوئی کی ہے۔

صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ آج رات تقریباً 45 لاکھ صارفین کو عارضی طور پر توانائی کی فراہمی سے منقطع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی افواج کا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اس کی ’کمزوری‘ کی علامت ہے کیونکہ روسی فوج اگلے مورچوں پر زیادہ زمین پر قبضہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے توانائی کی دہشت گردی کا سہارا لینا ہمارے دشمن کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یوکرین کو میدان جنگ میں نہیں ہرا سکتے، اس لیے وہ ہمارے لوگوں کو اس طرح توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ وہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ہم ترکی کے شکر گزار اور ممنونِ احسان ہیں: امریکہ

0
ہم ترکی کے شکر گزار اور ممنونِ احسان ہیں: امریکہ
ہم ترکی کے شکر گزار اور ممنونِ احسان ہیں: امریکہ

نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ روس کی، یوکرینی اناج کی برآمد سے متعلق، اقوام متحدہ بحیرہ اسود اناج سمجھوتے کی طرف واپسی ہمارے لئے باعثِ مسرت ہے۔ ہم، سمجھوتے کو بحال رکھنے کے لئے ادا کردہ کردار پر ترکی کے شکر گزار ہیں

واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے ہم، اناج راہداری سمجھوتے کو بحال رکھنے کے لئے ادا کردہ کردار پر ترکی کے شکر گزار ہیں۔

ترکی میڈیا کے مطابق امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے معمول کی پریس کانفرنس سے خطاب میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ روس کی، یوکرینی اناج کی برآمد سے متعلق، اقوام متحدہ بحیرہ اسود اناج سمجھوتے کی طرف واپسی ہمارے لئے باعثِ مسرت ہے۔ ہم، سمجھوتے کو بحال رکھنے کے لئے ادا کردہ کردار پر ترکیہ کے شکر گزار ہیں۔ مسٹر پرائس نے کہا ہے کہ ‘اناج راہداری سمجھوتہ’ دنیا کے لئے ناگزیر اہمیت رکھتا ہے۔ ہم، اس سمجھوتے کی طفیل اس وقت تک یوکرین سے 10 ملین میٹرک ٹن اناج نکال چُکے ہیں۔

انہوں نے اناج کی ترسیل کے دوبارہ آغاز کے لئے ترکیہ کی کوششوں کی طرف توجہ مبذول کروائی اور ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ”ہم اپنے ترک اتحادیوں کی کوششوں کو تہہ دِل سے سراہتے ہیں۔ ہم نے ترکی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنے جذبہ احسان مندی سے آگاہ کیا ہے”۔

نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے تیار کیا لیکن سمجھوتے کو عملی شکل ترکی کی طرف سے سنجیدہ سطح کے تعاون اور بعد ازاں یوکرین اور روس کے اتفاق سے مِلی۔ اس سمجھوتے کو دوبارہ پٹری پر چڑھانے کی وجہ سے ہم سیکرٹری جنرل انتونیو گٹیرس اور ترکیہ کے شکر گزار اور ممنونِ احسان ہیں۔

اگر گجرات میں حکومت بنتی ہے تو کانگریس ایل پی جی سلنڈر 500 روپے میں دے گی: کھڑگے

0
اگر گجرات میں حکومت بنتی ہے تو کانگریس ایل پی جی سلنڈر 500 روپے میں دے گی: کھڑگے
اگر گجرات میں حکومت بنتی ہے تو کانگریس ایل پی جی سلنڈر 500 روپے میں دے گی: کھڑگے

کانگریس نے گجرات کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ ایل پی جی سلنڈر 500 روپے میں دے گی اور کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے ساتھ بجلی مفت فراہم کی جائے گی

نئی دہلی: کانگریس نے گجرات کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ ایل پی جی سلنڈر 500 روپے میں دے گی اور کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے ساتھ بجلی مفت فراہم کی جائے گی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ریاستی اسمبلی کے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے کے بعد کہا کہ گجرات کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور ووٹر کانگریس کو واحد آپشن سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گجرات کے لوگوں کا کانگریس پر اعتماد بڑھ گیا ہے اور سات کروڑ گجراتی بہنیں اور بھائی تبدیلی کا آپشن صرف کانگریس کو سمجھتے ہیں۔ گجرات پردیش کانگریس بھی ریاست کے لوگوں کے جذبات کے مطابق کام کر رہی ہے اور اس کے لیے اس نے آٹھ وعدوں کا اعلان کیا ہے۔

مسٹر کھڑگے نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ گجرات کانگریس نے حکومت سازی پر عوام کو راحت فراہم کرنے کے لئے جن آٹھ وعدوں کا اعلان کیا ہے ان میں "500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر، 300 یونٹ تک بجلی مفت، 10 لاکھ روپے تک کا علاج اور ادویات مفت شامل ہیں۔ کسانوں کے لیے تین لاکھ روپے تک کے قرضوں کی معافی، سرکاری ملازمتوں میں کنٹریکٹ سسٹم بند اور 300 روپے کا بے روزگاری الاؤنس، تین ہزار سرکاری انگلش میڈیم اسکول کھولنے، کوآپریٹو سوسائٹی میں دودھ پر پانچ روپے فی لیٹر سبسڈی اور کورونا کی وجہ سے جان گنوانے والے تین لاکھ افراد کے لواحقین کو چار لاکھ روپے کا معاوضہ بھی شامل ہے۔

چھتیس گڑھ کے سینئر صحافی رمیش نیر کا انتقال

0
چھتیس گڑھ کے سینئر صحافی رمیش نیر کا انتقال
چھتیس گڑھ کے سینئر صحافی رمیش نیر کا انتقال

سینئر صحافی اور کئی سرکردہ اخبارات کے ایڈیٹر رمیش نیر کا آج 82 برس کی عمر میں علاج کے دوران انتقال ہوگیا

رائے پور: چھتیس گڑھ کے سینئر صحافی اور کئی سرکردہ اخبارات کے ایڈیٹر رمیش نیر کا آج انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریباً 82 برس تھی۔

مسٹر نیر کی طبیعت گزشتہ کئی دنوں سے ناساز تھی، علاج کے دوران شام کو ان کا انتقال ہوگیا۔ مسٹر نیر کا شمار ریاست کے تجربہ کار اور نامور صحافیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی موت سے چھتیس گڑھ میں صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا۔

مسٹر نیر کو ہندی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی یکساں عبور حاصل تھا۔ انہوں نے ہندی کے ساتھ ساتھ انگریزی اخبارات میں بھی کام کیا۔ مسٹر نیر نے یگدھرما، نوبھارت، دینی بھاسکر، دیش بندھو، سمویت شیکھر جیسے اخبارات کے ساتھ ساتھ چنڈی گڑھ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار دی ٹریبیون اور نئی دہلی سے شائع ہونے والی چوتھی دنیا کے ایڈیٹر بھی رہے۔

مسٹر نیر کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ چھتیس گڑھ کے فخر اور ملک کے نامور صحافی نیر کی موت صحافت کے میدان میں ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے قلم سے ریاست کے مفاد کے لیے کام کیا۔‘‘

سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر صحافی اور ہندی گرنتھ اکیڈمی کے سابق صدر مسٹر نیر کا انتقال صحافت کی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ ایشور آنجہانی کی آتما کو شانتی دے اور سوگوار خاندان کو اس مشکل گھڑی میں صبر و جمیل عطا فرمائے۔

شیئر بازار میں گراوٹ

0
شیئر بازار میں گراوٹ
شیئر بازار میں گراوٹ

شیئر بازار میں آج مسلسل چار دنوں کی تیزی کا خاتمہ ہوگیا

ممبئی: عالمی مارکیٹ میں ملے جلے رجحان کے درمیان مقامی سطح پر ٹیلی کام، آئی ٹی، آٹو، رئیلٹی اور ٹیک سمیت 14 گروپوں میں فروخت سے شیئر بازار میں آج مسلسل چار دنوں کی تیزی کا خاتمہ ہوگیا۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے 215.26 پوائنٹس گر کر 60906.09 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 62.55 پوائنٹس گر کر 18082.85 پوائنٹس پر آگیا۔

اسی طرح بڑی کمپنیوں کے ساتھ درمیانی کمپنیوں میں فروخت کا رجحان رہا تاہم چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں تیزی رہی۔ مڈ کیپ 0.12 فیصد گر کر 25,591.11 پوائنٹس جبکہ اسمال کیپ 0.23 فیصد بڑھ کر 28,956.28 پوائنٹس پر پہنچ گئی۔

اس مدت کے دوران بی ایس ای پر 14 گروپس فروخت ہوئے جبکہ باقی پانچ میں تیزی رہی۔ سی ڈی 0.49، آئی ٹی 0.55، ٹیلی کام 1.31، یوٹیلٹیز 0.63، آٹو 0.75، بینکنگ 0.36، کیپٹل گڈز 0.44، کنزیومر ڈیوریبلز 0.40، پاور 0.65، ریئلٹی 1.01 اور ٹیک گروپ 1.00 فیصد کم ہوئے۔

بین الاقوامی سطح پر ملا جلا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.18 فیصد، جرمنی کا ڈیکس اور جاپان کا نکئی 0.06 فیصد گرا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 2.41 فیصد اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 1.15 فیصد بڑھ گیا۔