پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 206

ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کے ساتھ لکشمی گنیش کی تصویر ہو: اروند کیجریوال

0
ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کے ساتھ لکشمی گنیش کی تصویر ہو: اروند کیجریوال
ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کے ساتھ لکشمی گنیش کی تصویر ہو: اروند کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ ہندوستانی کرنسی کے ایک طرف مہاتما گاندھی کی تصویر ہے۔ یہ جوں کی توں رکھی جائے، لیکن دوسری طرف گنیش جی اور لکشمی جی کی تصویر لگائی جائے

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستانی کرنسی پر ایک طرف مہاتما گاندھی اور دوسری طرف لکشمی گنیش جی کی تصویر لگائی جائے۔ مسٹر کیجریوال نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستانی معیشت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے ڈالر کے مقابلے روپیہ دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ان سب چیزوں کا خمیازہ عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے آزادی کے 75 سال بعد بھی ہندوستان کو ترقی پذیر اور غریب ملک سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بنے۔ اس کے لیے بہت محنت اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بڑی تعداد میں سکول اور اسپتال کھولنے ہوں گے۔ ہمیں بہت بڑے پیمانے پر بجلی اور سڑک کا انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔ لیکن کوششیں تب ہی ثمر آور ہوتی ہیں جب ہمیں دیوی دیوتاؤں کا آشیرواد حاصل ہو۔ ہم کئی بار دیکھتے ہیں کہ کوششیں تو ہو رہی ہیں، لیکن نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ اس وقت لگتا ہے کہ دیوی دیوتاؤں کا آشیرواد ہو تو کوششیں پھلنے لگتی ہیں اور اس کے نتائج آنے لگتے ہیں۔

گنیش جی اور لکشمی جی کی پوجا

انہوں نے کہا کہ دیوالی پر ہم سب نے گنیش جی اور لکشمی جی کی پوجا کی۔ ہم سب نے بھگوان سے خوشی اور سکون کی پرارتھنا کی۔ ہم سب نے اپنے اپنے خاندان اور ملک کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تاجر اور صنعت کار اپنے کمرے میں لکشمی جی اور گنیش جی کی مورتی ضرور لگاکر رکھتے ہیں اور ہر صبح کام شروع کرنے سے پہلے ان کی پوجا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ ہندوستانی کرنسی کے ایک طرف مہاتما گاندھی کی تصویر ہے۔ یہ جوں کی توں رکھی جائے، لیکن دوسری طرف گنیش جی اور لکشمی جی کی تصویر لگائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا ایک مسلم ملک ہے۔ انڈونیشیا میں 85 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور وہاں دو فیصد سے بھی کم ہندو ہیں لیکن وہاں ان کے نوٹ پر گنیش جی کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔

ملکارجن کھڑگے کے لئے کانگریس کی صدارت چیلنج مگر ’بھارت جوڑو یاترا’ سے راہیں ہموار

0
ملکارجن کھڑگے کے لئے کانگریس کی صدارت چیلنج مگر ’بھارت جوڑو یاترا’ سے راہیں ہموار
ملکارجن کھڑگے کے لئے کانگریس کی صدارت چیلنج مگر ’بھارت جوڑو یاترا’ سے راہیں ہموار

اگر کھڑگے کے سامنے چیلنجز زیادہ ہیں تو ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی کامیابی کے پیش نظر ان کے لئے یہ وقت موزوں اور مناسب بھی ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حال ہی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے صدور کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ کانگریس سے ملکارجن کھڑگے، سماجوادی پارٹی سے اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل سے لالو پرساد یادو اور بی جے پی سے جے پی نڈا۔ فرق یہ ہے کہ کانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے صدور دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں اور یہ باضابطہ انتخاب کرواکر نہیں، بلکہ ان کے ناموں کا اعلان کرکے دوبارہ صدر بننے کی رسم ادائیگی کی گئی۔

کانگریس پر بھلے ہی کنبہ پروری یا ایک ہی خاندان کی پارٹی کا الزام لگتا رہے، مگر اس بات کا اعتراف ان کے حریفوں کو بھی کرنا چاہئے کہ کانگریس نے پورے انتخابی عمل کے ذریعہ ملکارجن کھڑگے کو اپنا صدر بنایا ہے۔ وہ میڈیا جسے عرف عام میں آج کل ’گودی میڈیا‘ کہا جاتا ہے، جو سرکار کی خوشنودی حاصل کرنے کے سبب کانگریس کو خاطر میں نہیں لاتا، وہ بھی اس انتخابی عمل کو اپنے یہاں جگہ دینے پر مجبور ہوا۔

کانگریس کا صدارتی انتخاب

شاید یہ پہلا موقع ہوگا جب کانگریس کا صدارتی انتخاب اس حد تک موضوع بحث بنا کہ وہ نیوز چینل بھی کسی نہ کسی زاویے سے کوریج کے لئے دوڑ پڑے جو اپوزیشن کی خبروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جبکہ باقی تینوں سیاسی جماعتوں کے صدور کے ناموں کے اعلان کی بس اطلاع دی گئی۔ اگرچہ کانگریس کے صدر کے انتخاب کے دوران جتنا ہو سکتا تھا، منفی پہلو تلاش کرکے پارٹی کی شبیہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ خیر، کھڑگے کو ایسے وقت میں کانگریس کی کمان ملی ہے، جب ان کے سامنے چیلنج ہی چیلنج ہیں۔ ان کے صدر بننے کے بعد یہی سوال سب سے اہم ہے کہ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی کانگریس کو کھڑگے کیسے دوبارہ اس کا کھویا ہوا وقار دلائیں گے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکارجن کھڑگے کو پارٹی صدر کا عہدہ اپنی سیاسی بصیرت، جد و جہد اور محنت کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ کانگریس کے صدارتی انتخاب کا عمل شروع ہونے سے پہلے تک ان کا نام خبروں میں نہیں تھا۔ راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت اس دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ انھیں پارٹی صدر بنا کر کانگریس نے ایک مسئلہ حل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، مگر گہلوت ’ایک شخص ایک عہدہ‘ کی روایت پر عمل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ راجستھان کے وزیر اعلی کے ساتھ ساتھ پارٹی کا صدر بھی بن جانا چاہتے تھے۔ لیکن کھڑگے کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

ایک شخص ایک عہدہ

انھوں نے ایک شخص ایک عہدے کو قبول کیا اور عمر رسیدہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے کانگریس کے صدرکا انتخاب لڑنے پر آمادگی ظاہر کی۔ وہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے، جو ایک اہم اور بڑا عہدہ مانا جاتا ہے۔ اس عہدہ سے استعفیٰ دینے میں اُنہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ انھوں نے اشوک گہلوت کی طرح ایک ساتھ دو عہدوں پر بنے رہنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بھی ایسے وقت میں اُنہوں نے پارٹی کے صدر کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا جب پارٹی کی صدارت کانٹوں بھرا تاج تصور کیا جا رہا ہے۔ پارٹی میں داخلی انتشار اپنے شباب پر ہے۔ انتخابی سیاست میں بار بار ناکامی ہاتھ آ رہی ہے۔ کہیں کہیں جیت کر بھی ہار جانے کی وجہ سے کانگریس کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔

کھڑگے کے سامنے گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات اہم چیلنج

حکمراں جماعت حصول اقتدار کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اور کانٹوں بھرے راستے پر چل کر کھڑگے کانگریس کو منزل کی طرف لے جاتے ہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ کھڑگے کے سامنے فوری طور پر گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات اہم چیلنج ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان میں اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان جاری رسہ کشی کو کس طرح وہ حل کرتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جسے سونیا گاندھی سے لے کر راہل اور پرینکا تک سب ناکام ہو چکے ہیں۔

کھڑگے کے سامنے یہ بھی کسی چیلنج سے کم نہیں کہ 24؍ سال کے بعد ان کی شکل میں ایک غیر گاندھی صدر پارٹی کو ملا ہے۔ انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہوگا کہ پارٹی پر گاندھی خاندان کی گرفت ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ لہذا کھڑگے کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اب پارٹی پر گاندھی خاندان کا نہیں، ان کا اثرورسوخ اور ان کی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ اگرچہ وہ غیر گاندھی صدر ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اُنہیں گاندھی خاندان کا اعتبار حاصل ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کھڑگے پارٹی کے قدآور، تجربہ کار اور بے داغ کردار کے حامل سیاستداں ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے بھی اُن کے تعلقات بہتر مانے جاتے ہیں۔ اِس وقت کانگریس جن حالات سے گزر رہی ہے، ایسے میں گاندھی خاندان کے علاوہ اگر کوئی پارٹی کو بحران سے نکال سکتا تھا، تو اس کے لئے کھڑگے سے بہتر کوئی دوسرا متبادل نظر بھی نہیں آتا ہے۔

کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں نئی روح

نچلی سطح پر کانگریس تنظیم کے لیے کام کرنے والے کارکنوں میں جوش و خروش کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے کارکنوں کو مستقبل کے بارے میں کچھ امید پیدا ہو سکے۔ ملکارجن کھڑگے یقیناً کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں نئی روح پھونکے، نئی اور پرانی نسل کے لیڈروں میں تال میل اور افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے لیڈران سے بہتر تعلقات کا فائدہ 2024ء کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ہی نہیں، اپوزیشن کو بھی ہو سکتا ہے۔ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات کو ان کے دور اقتدار کے سب سے بڑے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر آئندہ انتخاب میں بی جے پی کچھ کمزور ہوتی ہے اور اپوزیشن جماعتیں بہتر پوزیشن حاصل کرتی ہیں تو ایسے میں ملکارجن کھڑگے اہم کڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ زمین سے جڑے ہوئے سیاستداں ہیں اور پارٹی کے ساتھ کم و بیش پانچ دہائیوں سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی سے بھی ظاہر ہے کہ پارٹی کے اندر بھی وہ سب کے لئے قابل احترام ہیں۔ ان کی عمر کو اب تک ان کا منفی پہلو کہا جا رہا ہے۔ لیکن تہی عمر اور ان کا لمبا سیاسی تجربہ ان کے آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے میں سب سے بڑا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کھڑگے کا طویل سیاسی تجربہ کانگریس کے لیے بہت کام آسکتا ہے۔

کھڑگے کی قائدانہ صلاحیت کا امتحان

اس وقت صرف دو ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومت ہے۔ ہماچل پردیش اور گجرات اسمبلی انتخابات کے بعد 2023ء میں ان کی آبائی ریاست کرناٹک سمیت نو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ لہذا کھڑگے کی قائدانہ صلاحیت کا امتحان کانگریس کی انتخابی کامیابی کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کانگریس کے 51؍ سال بعد ایک دلت لیڈر پارٹی صدر کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ چونکہ گجرات، ہماچل پردیش اور کرناٹک کے انتخابات میں دلت رائے دہندگان کا اہم کردار ہے، اس لیے مذکورہ تمام انتخابات میں ملکارجن کھڑگے سے توقعات بہت زیادہ ہوں گی۔ گجرات میں 24؍ سال سے بی جے پی کی حکومت ہے، جب کہ ہماچل میں بھی بی جے پی کا قبضہ ہے۔ بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس کو بھی دونوں ریاستوں میں عام آدمی پارٹی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اروند کیجریوال جس طرح سے گجرات میں سرگرم ہیں، وہ کانگریس کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی

بہر حال، یہ صحیح ہے کہ کھڑگے کو مشکل وقت میں پارٹی کی قیادت ملی ہے، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اب پارٹی کے پاس کھونے کے لئے بہت زیادہ کچھ نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے کانگریس میں یقیناً نئی روح پھونک دی ہے۔ ابھی تک تمل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک میں اس یاترا کا تقریباً ڈیڑھ ماہ پورا ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں پارٹی کارکنان میں نیا جوش و خروش پیدا ہوا ہے اور صرف پارٹی ہی نہیں، عوام کے اندر بھی کانگریس کے تئیں اعتماد بحال ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کھڑگے کے سامنے چیلنجز زیادہ ہیں تو بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی کے پیش نظر ان کے لئے یہ وقت موزوں اور مناسب بھی ہے۔ کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی صدر کا یہ انتخاب نہ صرف کانگریس میں نئی تازگی لا سکتا ہے، بلکہ ملک کے سیاسی نظام کے لیے ایک نقطہ آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نے پارٹی کے اندر داخلی جمہوریت کی ضرورت کو دوبارہ قائم کیا ہے اور دیگر جماعتوں پر ایسے تنظیمی انتخابات کرانے کے لیے مثبت دباؤ بنادیا ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرہیں) [email protected]

ایس ایس سی گھوٹالہ: سی بی آئی نے 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

0
ایس ایس سی گھوٹالہ: سی بی آئی نے 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
ایس ایس سی گھوٹالہ: سی بی آئی نے 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

سنٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ایس ایس سی گھوٹالہ معاملے میں مدھیامک بورڈ کے سابق صدر کلیان موئے گنگوپادھیائے سمیت کل 12 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے

کلکتہ: دیوالی کے بعد سی بی آئی ایک بار پھر سرگرم ہوگئی۔ سنٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ایس ایس سی گھوٹالہ معاملے میں مدھیامک بورڈ کے سابق صدر کلیان موئے گنگوپادھیائے سمیت کل 12 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔ اس میں سبریش بھٹاچاریہ، ایس پی سنہا بھی سی بی آئی کی ملزمین کی فہرست میں شامل ہیں۔

ایس ایس سی بھرتی بدعنوانی کے ایک اور معاملے میں، سی بی آئی نے پہلے پارتھو چٹرجی اور 16 دیگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ 2016 میں کلاس گیارہویں اور بارہویں کی بھرتیوں میں بدعنوانی کے الزامات لگے تھے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے منگل کو 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔ چارج شیٹ آج علی پور کی عدالت میں پیش کی گئی۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں ایس ایس سی کے کچھ اہلکاروں کے علاوہ کچھ ایجنٹ کے نام بھی شامل ہیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی سمیت کئی دفعات میں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سی بی آئی نے پوجا کی تعطیلات سے پہلے پارتھو چٹرجی اور ارپیتا مکھرجی کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ اس سے قبل سی بی آئی نے مدھیامک بورڈ کے سابق صدر کو ستمبر کے وسط میں گرفتار کیا تھا۔ 15 ستمبر کو کلیان موئے کو نظام پلس میں بلایا گیا اور 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ کلیان موئے جرح کے دوران سی بی آئی کے کئی سوالوں کے جواب نہیں دے سکے۔ پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ پارتھا چٹرجی کے ساتھ ان کے تعلقات کا بھی ثبوت ملے ہیں۔

سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں پر جانبداری برتنے کا الزام غلط نہیں

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ شانتنو سین نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کی چارج شیٹ کے بارے میں کہا کہ یہ تحقیقات کا حصہ ہے۔ ہمیں زیر التواء معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری پارٹی نے کہا ہے کہ ہم بدعنوانی کے خلاف کارروائی پر یقین رکھتے ہیں۔ گجرات کے ایک وزیر کو ریپ کے الزامات کے باوجود کابینہ میں رکھا گیا ہے۔ ہماری حکومت نے سابق وزیر تعلیم کے خلاف 6 دن کے اندر کارروائی کی۔ اس کے علاوہ ہم تحقیقاتی ایجنسی کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائیں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سی بی آئی ایف آئی آر میں نام آنے کے باوجود بی جے پی لیڈروں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہے۔ ایسے میں سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا جانا غلط نہیں ہے۔

دوسری جانب ریاستی بی جے پی لیڈر شیامک بھٹاچاریہ نے چارج شیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کروڑوں روپے برآمد ہورہے ہیں، متوفی کے اکاؤنٹ میں رقم کہاں سے مل رہی ہے، کہیں اسکول ٹیچر کے اکاؤنٹ میں رقم پائی جارہی ہے۔ کروڑ روپے، یہ رقم کہاں سے آئے ہیں؟ یہ سوالات پوچھے جائیں گے۔ تفتیش بطور تفتیش جاری رہے گی۔ لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ 350,000 اسامیوں پر کب تقرری ہوگی؟

سابق امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

0
سابق امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال
سابق امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

مسٹر ایش کارٹر نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں فروری 2015 سے جنوری 2017 تک پینٹاگون کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دی تھیں

واشنگٹن: امریکہ کے سابق وزیر دفاع ایش کارٹر کا پیر کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 68 برس تھی۔

نیوز چینل سی این این نے منگل کو اپنی رپورٹ میں مسٹر کارٹر کے اہل خانہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔

مسٹر کارٹر نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں فروری 2015 سے جنوری 2017 تک پینٹاگون کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

بھیلواڑہ: پٹاخے پھینکنے سے منع کرنے پر نوجوان کو چاقو مار کر زخمی کر دیا

0
بھیلواڑہ: پٹاخے پھینکنے سے منع کرنے پر نوجوان کو چاقو مار کر زخمی کر دیا
بھیلواڑہ: پٹاخے پھینکنے سے منع کرنے پر نوجوان کو چاقو مار کر زخمی کر دیا

ضلع بھیلواڑہ کے حمیر گڑھ تھانہ علاقہ میں سوروپ گنج میں پٹاخے پھینکنے سے منع کرنے پر کچھ لوگ خفا ہو گئے اور نوجوان پر چاقو سے مسلسل تین وار کیا

بھیلواڑہ: راجستھان میں بھیلواڑہ ضلع کے حمیر گڑھ تھانہ علاقہ میں سوروپ گنج میں پٹاخے پھینکنے سے منع کرنے پر کچھ لوگ خفا ہو گئے اور نوجوان پر چاقو سے مسلسل تین وار کیا، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ حملے میں زخمی نوجوان کو علاج کے لئے ضلع اسپتال میں داخل کروایا گیا۔

ملنے والی اطلاع کے مطابق سوروپ گنج کے رہنے والے درگا شنکر ستھار (22) نے ضلع اسپتال میں علاج کے درمیان بتایا کہ دیوالی کی رات آٹھ بجے گاؤں میں کچھ لوگ، ادھر ادھر پٹاخے پھینک رہے تھے۔ ہم انھیں سمجھانے گئے، لیکن وہ نہیں سمجھے اور انھوں نے درگاشنکر پر چاقو سے وار کر دیا۔ سات آٹھ ٹانکے آئے۔

درگاشنکر نے کہا کہ وہ حملہ کرنے والوں کو شکل سے جانتے ہیں، نام سے نہیں جانتے۔ اسے علاج کے لئے مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ میں داخل کروایا گیا۔ ادھر، دیوالی کی خوشیوں کے درمیان چاقو بازی کے اس واقع سے لوگ سہم اٹھے۔ حمیر گڑھ کی پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

ہندوستان کو متحد کرنا بھارت جوڑو یاترا کا مقصد: راہل

0
ہندوستان کو متحد کرنا بھارت جوڑو یاترا کا مقصد: راہل
ہندوستان کو متحد کرنا بھارت جوڑو یاترا کا مقصد: راہل

راہل گاندھی کی پد یاترا اب تک 4 ریاستوں میں مکمل ہو چکی ہے، بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ہندوستان کو متحد کرنا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نفرت اور تشدد پھیلا رہے ہیں

حیدرآباد: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ان کی بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ہندوستان کو متحد کرنا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نفرت اور تشدد پھیلا رہے ہیں۔ یہ یاترا ان کے نظریات، تشدد اور نفرت کے خلاف ہے راہل گاندھی نے اس یاترا پر عوام کے بہتر رد عمل پر ان سے اظہار تشکر کیا اور تمام کو دیوالی کی مبارکباد بھی پیش کی۔

کانگریس کے سابق صدر نے کرناٹک کے رائچور سے تلنگانہ میں اپنی یاترا کے داخل ہونے کے بعد تلنگانہ کے تلنگانہ کے نارائن پیٹ ضلع کے مکتھل حلقہ میں خطاب کیا۔ تلنگانہ کانگریس کے کئی لیڈروں اور کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ تلنگانہ میں داخل ہونے کے بعد کرناٹک پی سی سی کے لیڈر شیو کمار نے تلنگانہ کانگریس کے سربراہ ریونت ریڈی کو قومی پرچم سونپا۔

راہل گاندھی کی پد یاترا اب تک 4 ریاستوں میں مکمل ہو چکی ہے۔ تلنگانہ میں داخل ہونے والے راہل گاندھی کو دیکھنے کے لیے عوام کی بڑی تعداد جمع تھی۔ ان کی یاترا پر کافی بہتر عوامی ردعمل دیکھا گیا۔ جگہ جگہ ان کا استقبال کیا گیا ۔راہل گاندھی نے اتوار کے بعد تین دن کا وقفہ لیں گے۔ راہل گاندھی، اے آئی سی سی صدر کی حیثیت سے ملکارجن کھرگے کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے 24 سے 26 اکتوبر تک یاترا سے وقفہ لیں گے۔

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا تلنگانہ میں داخل

ریاست میں راہل کی یاترا 12 دن تک جاری رہے گی۔ 12 دنوں میں 375 کلومیٹر راہل گاندھی پیدل چلیں گے اور 7 لوک سبھا و 17 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کریں گے۔ بھارت جوڑو یاترا 31 اکتوبر کو شمس آباد کے راستہ حیدرآباد میں داخل ہوگی۔ یکم اور 2 نومبر کو وہ کوکٹ پلی اور بی ایچ ای ایل کے راستے سنگا ریڈی ضلع جائیں گے۔

تلنگانہ میں ان کی یاترا میں بڑی تعداد میں کانگریس کے لیڈران اور کارکنان شریک ہیں۔ راہل گاندھی، ہر دن تقریبا 20 تا 25 کلومیٹر پیدل چلیں گے اور عوام سے ملاقات کریں گے۔ وہ دانشوروں کے ساتھ ساتھ مختلف ذاتوں، طبقات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات، سیاستدانوں، کھلاڑیوں، تاجروں اور فلمی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔

راہل گاندھی اس تلگو ریاست میں عبادت گاہوں میں بھی جائیں گے اور بین عقائد کے اجتماعات میں بھی حصہ لیں گے۔ ان کی اس یاترا کا آغاز 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیاکماری سے ہوا تھا۔ انہوں نے کیرل، اے پی، کرناٹک میں اپنی یاترا پوری کرلی ہے اور اب وہ تلنگانہ میں یاترا پر ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران پولیس نے مکتھل کے کئی علاقوں میں ٹریفک پر پابندیاں عائد کر دیں۔

بھگوان رام کے نظریات کی پیروی سبھی ہندوستانیوں کا فریضہ: نریندر مودی

0
بھگوان رام کے نظریات کی پیروی سبھی ہندوستانیوں کا فریضہ: نریندر مودی
بھگوان رام کے نظریات کی پیروی سبھی ہندوستانیوں کا فریضہ: نریندر مودی

مودی نے یہاں دیپ اتسو کا افتتاح کرنے سے پہلے رام کتھا پارک میں بھگوان رام کی علامتی راج ابھیشیک کرنے کے بعد اپنے خطاب میں یہ باتیں کہیں

اجودھیا: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اترپردیش میں شری رام نگری اجودھیا میں چھٹے دیپ اتسو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہر ہندوستانی کے عقیدے کا مرکز شری رام کے اقدار کو فرض منصبی قرار دیا۔ انہوں نے ملکی باشندوں سے اپیل کی کہ رام فریضے۔ جذبے سے منھ نہیں موڑتے ہیں بھگوان رام کے اقدار۔نظریات پر چلنا سبھی ہندوستانیوں کا فریضہ ہے۔

مودی نے یہاں دیپ اتسو کا افتتاح کرنے سے پہلے رام کتھا پارک میں بھگوان رام کی علامتی راج ابھیشیک کرنے کے بعد اپنے خطاب میں یہ باتیں کہیں۔ وزیر اعظم مودی نے موجودہ حالات میں شری رام کے نظریات کی عملی نوعیت کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا ’رام کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتے۔ رام ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑتے۔ اس لئے رام ہندوستان کے اس جذبے کا مظہر ہے جو مانتی ہے کہ ہمارے حقوق ہمارے فرائض سے خود واضح ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ بھگوان رام نے وعدوں میں، اپنے نظریات میں، اپنی حکمرانی میں، اپنے نظم و نسق میں جن اقدار کو قائم کیا وہ ‘سب کا ساتھ-سب کا وکاس’ کی تحریک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھگوان رام کی اقدار بھی ‘سبکا وشواس-سبکا پرایاس’ کی بنیاد ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ’جب شری رام کا ابھیشیک ہوتا ہے، تو بھگوان رام کے اقدار و نظریات مزید پختہ ہو جاتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بھگوان رام آج بھی ہندوستان میں لوگوں کے عقیدے کا مرکز ہیں اور عام آدمی کی زندگی میں عملی اور مثالی ہیں۔ مودی نے کہا ’بھگوان رام کو ’مریادا پرشوتم‘ کہا جاتا ہے۔ مریادا عزت اور احترام کا درس دیتی ہے اور عزت کا احساس جس کی اپیل کرتی ہے وہ فرض شناشی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں دن تیزی کا سلسلہ جاری

0
اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں دن تیزی کا سلسلہ جاری
اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں دن تیزی کا سلسلہ جاری

عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں دن بھی تیزی مقامی سطح پر جاری ہے

ممبئی: عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کے باوجود توانائی، ایف ایم سی جی، آئی ٹی، یوٹیلٹیز، آئل اینڈ گیس، پاور اور ٹیک سمیت بارہ گروپوں میں خرید کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں دن بھی تیزی مقامی سطح پر جاری ہے۔

بی ایس ای کا 30 حصص پر مشتمل حساس انڈیکس سینسیکس 95.71 پوائنٹس بڑھ کر 59202.90 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 51.70 پوائنٹس بڑھ کر 17563.95 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس، بی ایس ای کی درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں فروخت ہوئی۔ مڈ کیپ 0.30 فیصد گر کر 24,993.32 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.01 فیصد گر کر 28,738.71 پوائنٹس پر آگیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل 3555 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1649 کی خریدی ہوئی جبکہ 1770 کی فروخت ہوئی اور 136 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 35 کمپنیاں بڑھیں جبکہ باقی 15 میں کمی ہوئی۔

بی ایس ای کے بارہ گروپوں میں تیزی کا رجحان ہے۔ اس عرصے کے دوران کموڈٹیز 0.88، انرجی 1.39، ایف ایم سی جی 0.82، آئی ٹی 1.20، ٹیلی کام 0.90، یوٹیلیٹیز 1.66، میٹلز 0.85، آئل اینڈ گیس 1.69، پاور 1.50 اور ٹیک گروپ میں 1.19 فیصد اضافہ ہوا۔ بینکنگ 0.59، کیپٹل گڈز 0.52، کنزیومر ڈیوربلز 0.78، ریئلٹی 0.17 اور سروسز گروپ 0.56 فیصد گرے۔

بین الاقوامی منڈیوں کا رجحان منفی رہا۔ اس دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.25، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.74، جاپان کا نکی 0.92، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.40 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.31 فیصد گر گیا۔

کورونا وائرس اب بھی بین الاقوامی صحت کی ایمرجنسی: عالمی ادارہ صحت

0
کورونا وائرس اب بھی بین الاقوامی صحت کی ایمرجنسی: عالمی ادارہ صحت
کورونا وائرس اب بھی بین الاقوامی صحت کی ایمرجنسی: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے کووڈ-19 سے متعلقہ پیچیدگیوں اور کووڈ-19 کے بعد کے حالات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔ خاص طور پر کورونا وائرس کے مکمل اثرات کے تناظر میں جو ابھی تک پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آئے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ شمالی نصف کرہ میں آنے والے موسم سرما میں یہ وباء مزید پھیل سکتی ہے

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا کہ کووڈ 19 اب بھی بین الاقوامی تشویش کی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی (پی ایچ ای آئی سی) ہے، جو ڈبلیو ایچ او کی سب سے زیادہ الرٹ کی سطح ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا شروع ہونے کے بعد سے ہفتہ وار اموات کی تعداد تقریباً اپنی کم ترین سطح پر ہونے کے باوجود یہ اعلان کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز ایمرجنسی کمیٹی نے گزشتہ ہفتے اپنے سہ ماہی جائزہ اجلاس کے بعد بدھ کے روز کہا کہ کووِڈ- 19 کے سنگین معاملوں میں کمی اور ہفتہ وار اموات کی تعداد میں کمی کے باوجود کووڈ-19 سے ہونے والی اموات دیگر تنفساتی وائرس کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

کووڈ-19 کے بعد کے حالات کے بارے میں انتباہ

عالمی ادارہ صحت نے کووڈ-19 سے متعلقہ پیچیدگیوں اور کووڈ-19 کے بعد کے حالات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔ خاص طور پر کورونا وائرس کے مکمل اثرات کے تناظر میں جو ابھی تک پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آئے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ شمالی نصف کرہ میں آنے والے موسم سرما میں یہ وباء مزید پھیل سکتی ہے۔

دریں اثناء، کووڈ-19 کی عالمی نگرانی میں موجودہ خلاء سے وائرس کی ابتدائی شناخت اور تشخیص میں رکاوٹ آئی ہے۔ وائرس کی جانچ جاری رکھنے کی توقع کے ساتھ، کمیٹی نے کہا کہ مستقبل کی مختلف حالتوں کی جینیاتی اور اینٹی جینک خصوصیات کی ابھی بھی قابل اعتماد پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ آنے والی مختلف حالتوں سے موجودہ ویکسین اور علاج کے لیے چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔

ہیلتھ ریگولیشن کمیٹی نے سفارش کی کہ مستقبل میں تین اہم ترجیحات ہونی چاہئیں: نگرانی کو مضبوط بنانا اور خطرے والے گروپوں کی ٹیکہ کاری کے اہداف کو حاصل کرنا؛ سستی علاج تک رسائی میں اضافہ جاری رکھنا؛ اور وبائی مرض سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا۔

جہاںگیر پوری دہلی فرقہ وارانہ تصادم کے ملزم نور عالم کو ملی ضمانت

0
جہانگیر پوری دہلی فرقہ وارانہ تصادم کے ملزم نور عالم کو ملی ضمانت
جہانگیر پوری دہلی فرقہ وارانہ تصادم کے ملزم نور عالم کو ملی ضمانت

جمعیۃ علماء ہند کی قانونی چارہ جوئی کی مدد سے جہاںگیر پوری دہلی فرقہ وارانہ تصادم کے ملزم نور عالم کو روہنی کورٹ نے ضمانت دیدی

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی قانونی چارہ جوئی کی مدد سے جہاںگیر پوری دہلی فرقہ وارانہ تصادم کے ملزم نور عالم کو روہنی کورٹ نے ضمانت دیدی۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ شیخ انعام الحق کو بھی جمعیۃ کی کاوش سے ضمانت ملی ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃ علمائے ہند نے جاری ایک ریلیز میں دی ہے۔

نور عالم کے سلسلے میں معزز حج ستیش کمار نے جمعیۃ کے وکیل ایڈوکیٹ محمد عبدالغفار، ایڈوکیٹ محمد نوراللہ اور محمد سرتاج کے اس استدلال کو سنجیدگی سے سنا کہ ملزم کا مبینہ جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مقامی پولیس نے صرف اپنے کیس کو سلجھانے کے لیے ملزم کو ایف آئی آر میں پھنسایا ہے اور ملزم 17.04.2022 سے عدالتی تحویل میں ہے۔ اب جب کہ ملزم کے بارے میں تحقیق مکمل ہوگئی ہے، اسے ضمانت دیدی جائے۔ اس کے برعکس ریاست کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے ملزم کی ضمانت کی شدید مخالفت کی۔

فریقین کی بحث سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ ملزم سے تفتیش پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ بھی داخل کر دی گئی ہے، اب ٹرائل مکمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ اس درمیان ملزم کو عدالتی تحویل میں رکھنے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔ کچھ شریک ملزمان کو دہلی کی معزز ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے اور کچھ کو اس عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔ لہذا ان حقائق اور حالات میں، درخواست گزار/ملزم نور عالم کو 25,000 روپے زر ضمانت پر ضمانت دی جاتی ہے۔

دہلی فساد میں کئی لوگوں کو عدالت نے بری کردیا ہے

مقدمات اور اس سے متعلق معاملات کے ذمہ دار مولانا نیاز احمد فاروقی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے صدر محترم مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں اول دن سے دہلی فساد 2020 اور جہانگیر پوری تشدد 2022 کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔ دہلی فساد میں بہت سارے لوگوں کو عدالت نے بری بھی کردیا ہے۔ خدا کی ذات سے امید ہے کہ بے قصور افراد جلد رہا ہوں گے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک میں عین افطار کے وقت شرپسندوں نے جہانگیر پوری جامع مسجد پر حملہ کردیا تھا، جس کے بعد تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ اس سلسلے میں دہلی پولیس نے بڑی تعداد میں غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے مسلم نوجوانوں کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ جن میں سے ضرورت مند خاندانوں کی طرف سے جمعیۃ علماء ہند عدالتی چارہ جوئی کررہی ہے۔