منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 204

کانگریس اور مسلمان: تین ریاستوں کے انتخابی نتائج کے تناظر میں

0

تین ریاستوں کے انتخابی نتائج تین سیاسی جماعتوں کے حق میں آئے ہیں، ساتھ ہی کانگریس اور مسلمانوں کے لئے ایک خاص پیغام بھی دیا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حال ہی میں تین ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں۔ ان انتخابات پر سبھی کی نظریں مرکوز تھیں۔ ان میں دو ریاستوں گجرات اور ہماچل پردیش کی اسمبلیوں کے لئے انتخاب ہوئے، جبکہ دہلی میں کارپوریشن کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ انتخابی سیاست میں یوں تو ہر انتخاب کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، مگر یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت اور رائے دہندگان کا کون سا طبقہ ان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ دہلی، گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج نے اس پہلو کو بہت حد تک واضح کر دیا ہے۔

دہلی میں جہاں عام آدمی پارٹی نے کارپوریشن میں بی جے پی کے 15 سالہ تسلط کو ختم کیا، وہیں گجرات میں 27 سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی بی جے پی نے جیت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ ہماچل پردیش کی روایت رہی ہے کہ یہاں ہر پانچ سال کے بعد اقتدار تبدیل ہوتا ہے۔ لہذا یہاں کانگریس نے اپنے سب سے خراب دور میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، اس لئے وہ مبارکباد کی مستحق تو ہے، مگر اس کامیابی کا اصل سہرہ ریاست کے عوام کے سر جاتا ہے۔

کانگریس اور مسلمانوں کے لیے خاص پیغام

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ تین ریاستوں کے انتخابی نتائج تین سیاسی جماعتوں کے حق میں آئے ہیں۔ ساتھ ہی ان نتائج نے کانگریس اور مسلمانوں کے لئے ایک خاص پیغام بھی دیا ہے۔

کانگریس کے لئے یہ پیغام ہے کہ اگر اس کے لیڈران نے انتخابات کے دوران اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو شکست در شکست کا سلسلہ توڑنے میں اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے پیغام یہ ہے کہ اب اگر انھوں نے سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسی طرح منتشر رہے تو ان کے ووٹ بالکل بے وقعت ہو کر رہ جائیں گے اور کوئی بھی سیاسی جماعت ان کو کوئی اہمیت نہیں دے گی۔

دہلی اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج تو حسب توقع ہی رہے ہیں، مگر گجرات کے نتائج نہ صرف حیران کن بلکہ کانگریس اور مسلمانوں کے لئے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 27؍ سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی بی جے پی کا ریکارڈ جیت درج کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔

جبکہ الیکشن سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ گجرات کے حالات اس مرتبہ بی جے پی کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی نے وہ کر دکھایا جس کی توقع کسی نے نہیں کی تھی۔ شدید اقتدار مخالف لہر کے باوجود وہ ریاست کی 182؍ میں سے 156؍ اسمبلی سیٹیں جتنے میں بی جے پی کامیاب ہو گئی۔ جبکہ کانگریس کی کارکردگی گجرات کی تشکیل سے لے کر اب تک کے 42 سال میں سب سے خراب رہی ہے۔ وہ حکومت مخالف لہر کا فائدہ اُٹھانے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی۔

بی جے پی کی کامیابی حیران کن

کانگریس کو اب بی جے پی سے سیکھ لینا چاہئے کہ وہ کس طرح چھوٹے سے چھوٹا الیکشن بھی بڑے سے بڑے الیکشن کی طرح لڑتی ہے۔ بی جے پی نے ہر وہ قدم اُٹھایا جس سے اسے فتح کی ضمانت مل سکتی تھی۔

انتخابی ضابطہ ٔ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے گجرات پر سرکاری نوازشوں اور اعلانات کی خوب برسات ہوئی۔ اس کے بعد انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں سرکاری نوازشوں کی خوب زور شور سے تشہیر کی گئی۔ طاقت اور وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا، غیر معمولی توانائی صرف کی گئی اور ایسا ہر موضوع اُٹھانے کی کوشش کی گئی جس سے گجرات کے برگشتہ عوام کو اپنی جانب متوجہ کیا جا سکے۔ ورنہ انتخابات سے پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ گجرات کے عوام بی جے پی سے بیزار ہو چکے ہیں۔

ریاست میں سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں کا مسئلہ ہو، مقابلہ جاتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کا معاملہ ہو، موربی پل حادثہ ،جس نے 135؍ افراد کی جان لے لی، زہریلی شراب کا سانحہ جس میں 42؍ افراد فوت ہوئے، کورونا دَور کی عوامی بے بسی، کئی قسم کے آندولن اور مہنگائی، نیز بے روزگاری جیسے بحران کے باوجود بی جے پی کی کامیابی حیران کن ہے۔

کیا یہ کانگریس کی بے حسی کا نتیجہ ہے یا اس کی انتخابی عدم دلچسپی، یا پھر عام آدمی پارٹی اور دیگر جماعتوں نے کانگریس کا کھیل بگاڑ دیا؟ ان سب پہلوؤں پر کانگریس کو سوچنا بھی چاہئے اور جواب بھی دینا چاہئے۔ کانگریس کو بتانا چاہئے کہ گجرات میں شدید اقتدار مخالف لہر کا فائدہ اُٹھانے میں وہ کیوں ناکام رہی؟

گجرات اسمبلی میں پہنچنے والے واحد مسلم

گجرات کے انتخابی نتائج مسلمانوں کے تعلق سے بھی حیران کن ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 182؍ رکنی اسمبلی میں اس بار صرف ایک مسلم امیدوار کامیاب ہوا ہے۔ کانگریس کے امیدوار عمران کھیڑا والا نے جمال پور کھڈیا سے بی جے پی کے امیدوار بھوشن بھٹ کو 13؍ ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ وہ اس بار اسمبلی میں پہنچنے والے واحد مسلم رکن اسمبلی ہوں گے۔

ریاست میں تقریباً 11 فیصد مسلم رائے دہندگان ہیں، لیکن صرف ایک امیدوار کامیاب ہوسکا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ریاست کے تقریباً 11؍ فیصد مسلم ووٹر ریاست کی ایک درجن سے زائد سیٹوں پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 182؍ رکنی گجرات اسمبلی میں 30؍ نشستیں ایسی ہیں، جہاں مسلمانوں کی آبادی 15؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ جہاں مسلمان کسی بھی امیدوار کی جیت یا شکست کو یقینی بناسکتے ہیں۔ 20؍ سیٹوں پر مسلمانوں کی تعداد 20 فیصد سے بھی زائد ہے۔

تاہم ،حیران کن بات یہ ہے کہ 10؍ میں سے 8؍ مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی، جہاں مسلمانوں کی تعداد 26؍ سے 48؍ فیصد تک ہے۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں سہ فریقی مقابلے اور ووٹوں کی زبردست تقسیم کی وجہ سے ریاست کے مسلم اکثریتی علاقے بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔

عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین

عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کی زبردست انتخابی مہم نے مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنایا۔ عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں نے مسلم حلقوں کے روایتی ووٹ میں زبردست تقسیم کی، اس طرح بی جے پی ان سیٹوں پر بھی کامیاب ہوگئی، جہاں اس کا کوئی امکان نہیں تھا۔

اگر ہم مسلم امیدواروں کی بات کریں تو اس بار کانگریس، عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین نے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا۔ دوسری طرف بی جے پی کی طرف سے کوئی مسلم امیدوار میدان میں نہیں تھا۔ کانگریس نے جہاں چھ مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا، وہیں مجلس اتحاد المسلمین نے 13؍ مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے، جبکہ ’ آپ‘ نے بھی تین مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیئے تھے۔ لیکن کانگریس کے علاوہ ایک بھی کسی بھی پارٹی کا امیدوار جیت حاصل نہیں کر سکا۔ مسلمانوں نے کانگریس کے علاوہ ہر پارٹی کے مسلم امیدواروں کو تقریباً مسترد کر دیا۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات کا جائزہ

اگر ہم گزشتہ اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو کانگریس کے تین مسلم امیدوار الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچے تھے۔ مسلم اکثریتی آبادی والی 17 سیٹوں میں سے 12؍ پر بی جے پی نے جیت درج کی ہے۔ یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں 6؍ زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر مسلم اکثریتی دریا پور سیٹ پر 10؍ سال سے کانگریس کا قبضہ تھا، جہاں کانگریس کے امیدوار غیاث الدین شیخ بی جے پی کے کوشک جین سے شکست کھا گئے۔ غیاث الدین شیخ کو تقریباً بی جے پی کے امیدوا رسے 6؍ ہزار ووٹوں سے شکست ملی، جبکہ اسی سیٹ پر عام آدمی پارٹی سے ایک مسلم امیدوار تاج محمد قریشی کو چار ہزار 164؍ ووٹ ملے، مجلس کے امیدوارحسن خان کو 1771؍ ووٹ ملے۔

روایتی طور پر مسلمانوں کو بی جے پی کا ووٹر نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے میں یہ بات حیران کن ہے کہ بی جے پی نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ لہذا سوال اٹھتا ہے کہ آخر بی جے پی نے انتخابی جیت کا ایسا کیا فارمولہ تیار کیا ہے کہ اس نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی اپنا جھنڈا لہرانا شروع کر دیا ہے۔

آخر مسلمان کس الجھن کا شکار ہیں؟ ان کے ووٹ کیوں تقسیم ہو رہے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہے؟ اگر یہ بی جے پی کی حکمت عملی ہے تو وہ اس میں کامیاب کیسے ہو رہی ہے؟ ان سبھی پہلوؤں پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ گجرات کے علاوہ دہلی کے کچھ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کامیاب ہوئی ہے۔

[email protected] (مضمون نگار ’انقلاب‘ دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش

0
کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش
کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش

ملک ارجن کھڑگے کے کانگریس صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش میں پہلی جیت آنے والے وقت میں پارٹی کو نئی توانائی دینے میں مددگار ثابت ہوگی

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ مسٹر ملک ارجن کھڑگے کے کانگریس صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش میں پہلی جیت آنے والے وقت میں پارٹی کو نئی توانائی دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

کانگریس کے ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے چیف آبزرور مسٹر بگھیل نے یہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے دھواں دار مہم چلائی اور ہماچل پردیش کے لوگوں نے ان کی طرف سے دی گئی 10 ضمانتوں پر بھروسہ کیا۔ اس جیت میں ہماچل کے لوگوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کارکنان بشمول ایم پی راجیو شکلا، تمام قومی سکریٹریوں، ریاستی پارٹی لیڈروں اور عہدیداروں نے دن رات اپنا حصہ ڈالا ہے۔

گجرات میں چونکا دینے والے نتائج

انہوں نے کہا کہ پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ اب لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ جلد ہوگی اس میں اراکین اسمبلی سے رائے لی جائے گی۔ اس کے بعد اعلی کمان کو اس سے واقف کرایا جائے گا، ریاست میں جلد نئی حکومت بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔ مودی کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے بھی بی جے پی کو اتنی سیٹیں نہیں ملیں۔ مسٹر بگھیل نے کہا کہ انہوں نے بھی گجرات میں بھی انتخابی مہم چلائی لیکن یہ صورتحال زمین پر نظر نہیں آئی۔

انہوں نے ریاست کی بھانو پرتاپ پور اسمبلی سیٹ پر جیت کو ریاستی حکومت کے چار سال کے کام پر عوام کی مہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آنجہانی منوج منڈاوی کے علاقے کے لوگوں کے خاندانی تعلقات نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی نے اپنے چیف الیکشن منیجر کو ذمہ داری سونپی اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ نے ان پر ذاتی حملے کیے، سرو آدیواسی سماج سے بھی مدد کی خبریں ملتی رہیں لیکن اس کے باوجود بی جے پی اپنا ووٹ بینک نہیں بڑھا سکی۔

ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شاندار کامیابی

0
ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شاندار کامیابی
ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شاندار کامیابی

کیجریوال نے کہا، ایم سی ڈی انتخابات میں اس شاندار جیت کے لیے دہلی کے لوگوں کا شکریہ اور تمام کو بہت بہت مبارکباد۔ اب ہم سب کو مل کر دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہے

نئی دہلی: دہلی کی حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کے 250 وارڈوں میں سے 134 پر کامیابی حاصل کی ہے اور اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی اے اے پی نے 15 سال سے اقتدار میں رہنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جیت کے بعد ٹویٹ کیا اور دہلی کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور دہلی کی بہتری کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے آشیرواد مانگا۔ مسٹر کیجریوال نے کہا، ’’اس شاندار جیت کے لیے دہلی کے لوگوں کا شکریہ اور تمام کو بہت بہت مبارکباد۔ اب ہم سب کو مل کر دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہے۔

دہلی ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق تمام 250 وارڈوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس الیکشن میں اے اے پی نے 134 سیٹیں جیتی ہیں، بی جے پی نے 104 سیٹیں جیتی ہیں اور کانگریس کو نو سیٹوں سے مطمئن ہونا پڑا ہے۔ دیگر جماعتوں نے تین نشستیں جیتی ہیں۔

دہلی کے لوگوں کو مبارکباد

جیت کے بعد اے اے پی ہیڈکوارٹر پہنچے مسٹر کیجریوال نے کہا، "دہلی کے لوگوں نے 15 سال پرانی بدعنوان بی جے پی کو کارپوریشن سے ہٹاکر اے اے پی حکومت کو اکثریت دی ہے جس کے لئے عوام کا شکریہ۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ دہلی کے لوگوں نے مجھے دہلی کی صفائی، بدعنوانی کو دور کرنے، پارک کو ٹھیک کرنے سمیت کئی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ میں آپ کے اس اعتماد کو قائم رکھنے کی دن رات کوشش کروں گا۔ میں دہلی کے لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ اتنی بڑی اور شاندار جیت کے لیے دہلی کے لوگ تبدیلی کے لیے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

خیال رہے کہ اس سال دہلی میونسپل کارپوریشن دہلی کی تین میونسپل کارپوریشنوں کو ملا کر دوبارہ تشکیل دی گئی ہے۔ اس سے پہلے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے الگ الگ میئر ہوا کرتے تھے لیکن اب صرف ایک میئر کا انتخاب کیا جائے گا۔ وارڈوں کی حد بندی اسی سال کی گئی تھی۔ پہلے کل 272 وارڈ تھے، حد بندی کے بعد ان کی تعداد 250 رہ گئی ہے۔

اس سال کے شروع میں ایم سی ڈی کے پھر سے ایک ہونے کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا۔ 4 دسمبر کو ہوئے انتخابات میں صرف 50.48 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ کل ملاکر 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 73 لاکھ لوگوں نے ووٹ ڈالا۔

دہلی ریاستی الیکشن کمیشن کے ذریعہ شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی دہلی کے خوشحال علاقوں میں میونسپل انتخابات میں سب سے کم پولنگ دیکھی گئی۔ دیہی علاقوں اور شمال مشرقی دہلی کے کچھ حصوں میں، جہاں 2020 میں فسادات ہوئے تھے، سب سے زیادہ پولنگ کا فیصد دیکھا گیا۔

اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری

0
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری

گھریلو سطح پر مسلسل پانچویں بار ریپو ریٹ بڑھانے کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج گراوٹ کا رجحان جاری رہا

نئی دہلی: عالمی سطح سے موصول ہونے والے منفی اشاروں کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک کی جانب سے گھریلو سطح پر مسلسل پانچویں بار ریپو ریٹ بڑھانے کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج گراوٹ کا رجحان جاری رہا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 215.68 پوائنٹس گر کر 62410.68 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 82.25 پوائنٹس گر کر 18560.50 پوائنٹس پر آگیا۔ اس دوران درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں بھی فروخت کا رجحان جاری رہا جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 0.41 فیصد گر کر 26101.29 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.44 فیصد گر کر 29759.79 پوائنٹس پر آگیا۔

بی ایس ای میں شامل زیادہ تر گروپس نے سرخ نشان دکھایا جس میں یوٹیلٹی، رئیلٹی، پاور، آئی ٹی، ٹیک، بینکنگ، مالیاتی خدمات، دھاتیں، آٹو اور سی ڈی نمایاں طور پر شامل ہیں۔ فائدہ میں صرف ایف ایم سی جی، انڈسٹریل، سی جی اور آئل اینڈ گیس گروپس شامل تھے۔

بی ایس ای میں کل 3641 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 1981 سرخ نشان میں جبکہ 1518 سبز نشان میں دیکھی گئیں۔ 142 میں کوئی تبدیلی نہیں۔

عالمی سطح پر امریکی مارکیٹ کے علاوہ تمام اہم انڈیکس گراوٹ کا شکار رہے۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.20 فیصد، جرمنی کا ڈیکس 0.35 فیصد، جاپان کا نکئ 0.72 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 3.22 فیصد اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.40 فیصد رہا۔

بابری مسجد کی شہادت کی 30 ویں برسی پر اذان دی گئی

0

سعید نوری نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کو تین دہائی ہوگئیں، لیکن ہمارے احتجاج کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہیگا

ممبئی: آج اجودھیا میں مسمار کی گئی تاریخی اہمیت کی حامل بابری مسجد کی شہادت کی 30/ویں برسی پر ممبئی سمیت مہاراشٹر کے متعدد شہروں میں جگہ جگہ اذانیں دے کر احتجاج اور اس کے بعد تشدد میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اس موقع پر رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری نے کہا کہ مسجد کی شہادت کو تین دہائی ہوگئیں، لیکن ہمارے احتجاج کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہیگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین عشرے سے ہر سال 6 دسمبر کو ممبئی سمیت مہاراشٹر کے مالیگاوں، بھیونڈی، ممبرا، اورنگ آباد اور دیگر شہروں میں بابری مسجد کی برسی پر سہ پہر پونے چار بجے اذانیں دی جاتی ہیں، کیونکہ اس وقت مسجد کو شہید کردیا گیا تھا۔

آج جنوبی ممبئی کے اکثریتی علاقہ مینارہ مسجد پر ٹھیک چار بجکر 45 منٹ پر پہلی اذان دی گئی۔ اس کے بعد نواب ایاز مسجد اور مانڈوی پوسٹ آفس کے نزد اور پھر آخر میں مولانا جوہر چوک بھنڈی بازار پر اذان دی گئی، جس کی قیادت رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری نے کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے عقیدے کے مطابق ایک بار مسجد جہاں تعمیر ہوگئی، وہ تاقیامت وہیں رہیگی۔ اس لیے ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔

انہوں نے گیان واپی مسجد کے مقدمہ پر تبصرہ نہ کرتے ہوئے کہا کہ آج 6 دسمبر ہے اور ہم اس کی شہادت اور شہداء کی یاد منا رہے ہیں اور انہیں ایصال ثواب پیش کیا جارہا ہے۔ اس موقع ایک بڑی تعداد میں احتجاجی موجود تھے۔

پریکشا پہ چرچا 2023 کی چھٹی تقریب میں حصہ لینے کی دھرمیندر پردھان کی اپیل

0

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک منفرد انٹر ایکٹو پروگرام – پریکشا پہ چرچا کا تصور پیش کیا

نئی دہلی: تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے آج طلبا، اساتذہ اور والدین کو ‘‘پریکشا پہ چرچا 2023’’ کی چھٹی تقریب میں حصہ لینے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی پانے کا موقع حاصل کرنے کی دعوت دی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک منفرد انٹر ایکٹو پروگرام – پریکشا پہ چرچا کا تصور پیش کیا جس میں ملک بھر کے اور بیرون ملک سے بھی طلبا، والدین، اساتذہ ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے امتحانات سے پیدا ہونے والے تناؤ پر قابو پانے پر بات چیت کر سکیں تاکہ زندگی کو اتسو کے طور پر منایا جا سکے۔

اس تقریب کا انعقاد پچھلے پانچ برسوں سے وزارت تعلیم کے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کا محکمہ کامیابی کے ساتھ کرتا آ رہا ہے۔ درجہ نہم 9 سے یازدہم 11 تک کے اسکولی طلبا، اساتذہ اور والدین کا انتخاب ایک آن لائن تخلیقی تحریری مقابلے کے ذریعے کیا جائے گا۔

پورٹلhttps:nnovateindia.mygov.in/ppc-2023 نیچے دئیے گئے موضوعات کے گلدستے سے متعلق 25 نومبر 2022 سے رجسٹریشن کے لئے لائیو ہے اور یہ 30 دسمبر 2022 تک کھلا رہے گا۔

مائی گوو پر مقابلوں کے ذریعے منتخب ہونے والے تقریباً 2050 طلبا، اساتذہ اور والدین کو پی پی سی کٹس اور این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر کی جانب سے توصیفی سند دی جا سکتی ہے۔

بہار کو پسماندہ ریاست بنانے میں نتیش کمار کا بڑا ہاتھ : چراغ

0

چراغ پاسوان نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاست کو پسماندہ ریاست بنانے میں موجودہ وزیر اعلیٰ مسٹر کمار کا بڑا ہاتھ ہے

چھپرا: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی-رام ولاس) کے صدر-کم-جموئی کے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاست کو پسماندہ ریاست بنانے میں موجودہ وزیر اعلیٰ مسٹر کمار کا بڑا ہاتھ ہے.

مسٹر پاسوان نے اتوار کو سارن ضلع کے پرسا تھانہ علاقہ کے ماڈرگاؤں میں شری رام اسپورٹس گراؤنڈ میں منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں آج تک سوئی کی ایک فیکٹری تک نہیں لگی ہے۔ حکومت صرف شراب بند کرنے کا ڈرامہ کررہی ہے۔ جب کہ حکومت کے من پسند لوگ غیر قانونی طور پر شراب کا کاروبار کر رہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام تباہ ہوچکا ہے۔ جس پر موجودہ حکومت توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار جنہوں نے پہلے تمام گاﺅں میں شراب کی دکانیں اور بھٹیاں کھولی تھیں، اچانک خود کو صاف ستھرے امیج میں بدلنے کے لئے شراب بندی کا نعرہ لگا کر بہار کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بہار فرسٹ بہار ی فرسٹ کے نعرے کے ساتھ نئے بہار کی تعمیر کی مہم شروع کی ہے۔اس موقع پر سیکڑوں لوگ ایل جے پی میں شامل ہوئے۔

سونیا گاندھی بھی ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں ہو سکتی ہیں شامل

0

محترمہ سونیا گاندھی 8 دسمبر کی شام یا 9 دسمبر کی صبح کوٹا آ سکتی ہیں اور یہاں پر ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں حصہ لے سکتی ہیں

کوٹا: کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی بھی راہل گاندھی کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں شامل ہو سکتی ہیں اور اس کے لیے ان کے کوٹا آنے کا امکان ہے۔

کوٹا سٹی کانگریس کے صدر رویندر تیاگی نے آج بتایا کہ محترمہ سونیا گاندھی 8 دسمبر کی شام یا 9 دسمبر کی صبح کوٹا آ سکتی ہیں اور یہاں پر ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں حصہ لے سکتی ہیں۔ محترمہ سونیا گاندھی کی سالگرہ 9 دسمبر کو ہے اور وہ اپنی سالگرہ بیٹے راہل گاندھی کے ساتھ منا سکتی ہیں۔

مسٹر راہل گاندھی کا 8 دسمبر کو کوٹہ سے جھالواڑ کا سفر کرتے ہوئے جگ پورہ میں رات کے قیام کا پروگرام ہے۔ اور اگلے دن 9 دسمبر کو وہ ضلع بوندی کے لیے روانہ ہوں گے اور اس دن وہ نیا پورہ علاقے میں واقع امید کلب میں دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 9 دسمبر کو کیشاورائی پاٹن کے قریب گڈلی پھاٹک میں رات کا قیام کریں گے۔

بھارت جوڑو یاترا ‘میں کئی دیگر کانگریسی لیڈروں کے بھی شامل ہونے کی امید

مسٹر تیاگی نے بتایا کہ ‘بھارت جوڑو یاترا ‘میں شامل ہونے کے لئے محترمہ سونیا گاندھی کے کوٹہ آنے کے پروگرام کے پیش نظر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت 8 دسمبر کو کوٹا آ سکتے ہیں اور ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں محترمہ سونیا گاندھی کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ، اس دن ‘ بھارت جوڑو یاترا ‘میں کئی دیگر کانگریسی لیڈروں کے بھی شامل ہونے کی امید ہے، جن میں ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا ، چند مرکزی قائدین اور ریاستی کانگریس کے سینئر لیڈران اور وزراء شامل ہیں۔

حالانکہ محترمہ سونیا گاندھی نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی حتمی پروگرام نہیں بنایا ہے، لیکن محترمہ سونیا گاندھی کے دورہ کوٹا اور راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شرکت کے حوالے سے آج شام یا کل کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ مسٹر تیاگی نے بتایا کہ اگر محترمہ گاندھی کوٹا آتی ہیں تو 9 دسمبر کو ان کا یوم پیدائش کوٹا میں ہی منایا جائے گا۔

واضح رہے کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 4 دسمبر کو مدھیہ پردیش سے ضلع جھالواڑ کے چنوالی کے راستے راجستھان میں داخل ہوگی۔ اس دن مسٹر راہل گاندھی چنولی میں ہی رات کا آرام کریں گے اور چیف منسٹر اشوک گہلوت نے جمعہ کے روز وہاں کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ نکڑ سبھا 6 دسمبر کو ہیریاکھیڈی میں منعقد ہوگی۔

ملک میں تین ریاستوں میں کورونا انفیکشن کے نئے معاملے درج

0

کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے 18 ایکٹو کیسز کے اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد بڑھ کر 1,643 ہوگئی

نئی دہلی: ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران دو ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا انفیکشن کے نئے معاملے سامنے آئے ہیں اور دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال معاملات میں کمی آئی ہے۔

کورونا کے سب سے زیادہ نئے کیس کرناٹک میں (18) اور دہلی (چار) میں آئے ہیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے ہفتہ کو کہا کہ صبح 7 بجے تک 219.93 کروڑ سے زیادہ ویکسین دی گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا کے 75 ایکٹو کیسز میں کمی کے بعد ان کی تعداد کم ہو کر 4597 ہو گئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 251 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اسی عرصے میں 325 افراد اس انفیکشن سے نجات حاصل کرچکے ہیں جن کل تعداد 4,41,37,942 ہو گئی ہے۔ ملک میں صحت یابی کی شرح 98.80 فیصد ہے۔

اسی عرصے میں کورونا وبا کے انفیکشن سے ایک مریض کی جان جانے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 5,30,627 ہو گئی ہے۔ ایکٹو کیس کی شرح 0.1 فیصد ہے اور موت کی شرح 1.19 فیصد ہے۔

قومی راجدھانی میں کورونا انفیکشن

قومی راجدھانی میں کورونا انفیکشن کے چار فعال کیسوں میں اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد 31 ہو گئی ہے۔ اس بیماری سے چھٹکارا پانے والوں کی تعداد 19,80,432 ہوگئی ہے۔ ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 26,518 ہو گئی ہے۔

کیرالہ میں 18 فعال کیسوں کی کمی کے ساتھ، ان کی کل تعداد کم ہو کر 1,614 ہو گئی ہے۔ کورونا وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 67 لاکھ 53 ہزار 364 ہو گئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 71 ہزار 500 ہے۔

کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے 18 ایکٹو کیسز کے اضافے کے ساتھ ان کی کل تعداد بڑھ کر 1,643 ہوگئی ہے۔ اس سے چھٹکارا پانے والوں کی کل تعداد 40,29,394 ہوگئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 40,303 پر مستحکم ہے۔

مہاراشٹر میں، 13 ایکٹو کیسز کم ہو کر 360 پر آ گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران 72 افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد اس سے نجات پانے والوں کی مجموعی تعداد 79 لاکھ 87 ہزار 133 ہو گئی ہے۔ ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 1,48,407 پر مستحکم ہے۔

گجرات اسمبلی انتخابات: پہلے مرحلے میں 57 فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے جانے کی توقع

0

گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تقریباً 57.75 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا

گاندھی نگر: گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو سوراشٹرا-کچھ اور جنوبی گجرات کے 19 اضلاع کی 89 سیٹوں کے لیے ہوئے تقریباً 57.75 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے ختم ہوگئی۔ مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد بھی کئی بوتھوں پر ووٹروں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور قواعد کے مطابق ووٹ ڈالنے کے بعد ہی ای وی ایم مشینوں کو سیل کیا جائے گا۔ اس سے ووٹنگ فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

امریلی میں سب سے کم 52.73 فیصد پولنگ

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے بتایا کہ ووٹنگ فیصد کی گنتی اور مرتب کرنے کا کام ابھی جاری ہے۔ شام 5 بجے تک رائے دہندگان کا ابتدائی اوسط تخمینہ ٹرن آؤٹ 57.75 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاپی ضلع میں زیادہ سے زیادہ 72.32 فیصد، ڈانگ میں 64.84، نرمدا میں 68.09 فیصد، گیر سومناتھ میں 60.46 فیصد، کچھ میں 54.91، جام نگر 53.98، جوناگڑھ 54.95، دیو بھومی دوارکا 59.11، نواساری 65.91، پوربندر 53.84، بوٹاد 57.15، بھاو نگر 57.81، موربی 61.96، راجکوٹ 55.93، ولساڈ 65.24، سورت 57.83، سریندر نگر 60.71 اور امریلی میں سب سے کم 52.73 فیصد پولنگ ہوئی۔

چیف الیکٹورل آفیسر پی بھارتی نے کہا کہ پہلے مرحلے کے لیے 1,06,963 ملازمین/ افسروں کو تعینات کیا گیا تھا، جن میں 27,978 ریٹرننگ افسران اور 78,985 پولنگ عملہ شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 19 اضلاع کی 89 نشستوں کے لیے کل 2,39,76,670 ووٹر اہل تھے، جن میں 1,24,33,362 مرد، 1,15,42,811 خواتین اور 497 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔ ان میں سے 57.75 فیصد سے زائد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں اور عملے کے تمام ضروری انتظامات اور الیکشن میں استعمال ہونے والے ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی (34324 BUs، 34324 CUs اور 38,749 VVPATs) کا استعمال کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 65-موربی سیٹ پر 17 امیدوار ہونے سے 02 بیلٹ یونٹ تھے، جب کہ سورت کے 163-لمبایت حلقے میں 44 امیدوار ہونے سے تین بیلٹ یونٹ تھے۔