پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 203

شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط

0
شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط
شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط

گھریلو شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت روپیہ تین پیسے مضبوط ہوکر 81.68 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

ممبئی: درآمد کنندگان اور بینکروں کی فروخت کے ساتھ ہی گھریلو شیئر بازار میں جاری تیزی کی بدولت آج انٹر بینک کرنسی مارکیٹ میں روپیہ تین پیسے مضبوط ہوکر 81.68 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

وہیں پچھلے کاروباری دن روپیہ ایک پیسہ پھسل کر 81.71 روپے فی ڈالر پر رہا تھا۔

شروعاتی کاروبار میں روپیہ 10 پیسے گراوٹ کے ساتھ 81.81 فی امریکی ڈالر پر کھلا اور سیشن کے دوران خریداری کے دباؤ میں 81.83 روپے فی ڈالر کی نچلی سطح پر لڑھکر گیا۔ اگرچہ فروخت کے باعث یہ 81.61 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ آخر میں پچھلے سیشن کے 81.71 روپے فی ڈالر کے مقابلے تین پیسے اضافے کے ساتھ 81.68 روپے فی ڈالر پر پہنچ گیا۔

اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور

0
اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور
اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور

اردو صحافت کادو سو سالہ سفر بہت سے نشیب و فراز والا رہا، مگر بیش بہا قربانیوں اور صحافتی اصولوں پر چل کر ایک عظیم اور روشن تاریخ رقم کی ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

اردو صحافت نے 27؍ مارچ 2022ء کو 200؍ سال مکمل کر لئے۔ یہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہے۔ اتنا ہی غیر معمولی اردو صحافت کا سفر بھی ہے۔ اردو صحافت نے یقیناً دو سو سال میں ایک عظیم اور شاندار تاریخ رقم کی ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اردو صحافت کی اس عظیم تاریخ میں اپنا ایک ادنیٰ سا کردار اداکر سکے۔ اگر ہم اس کے دو سو سالہ سفر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اردو صحافت نے نہ صرف اس زبان کی خدمت اور آبیاری کی ہے، بلکہ ملک و قوم کے لئے ایثار و قربانی اور جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے میں پیش پیش رہی ہے۔

جد و جہد آزادی سے لے کر حصول آزادی تک اور اس کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی تک اردو صحافت کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اردو صحافت نے ہمیشہ سیکولرازم، تفہیم ادیان، کثرت میں وحدت اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اردو صحافت کا کردار

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اردو صحافت کا کردار زیادہ تر سیکولر ہی رہا ہے۔ اگر آزادی سے پہلے کا دور دیکھیں تو مسلم لیگ کی حمایت میں اردو صحافی کم ہی نظر آئیں گے۔ جس وقت مسلمانوں کا ایک طبقہ مسلم لیگ سے وابستہ ہو گیا تھا، اس وقت بھی بیشتر اردو صحافی یا اخبارات، چاہے وہ کلکتہ کا آزاد ہند ہو، چاہے وہ انقلاب ہو، چاہے وہ دہلی سے الجمعیت ہو، یا لاہور سے زمیندار ہو یا دوسرے اخبارات ہوں، ان کا کردار قومی یکجہتی والا ہی رہا۔ وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے، مولانا آزاد کے ساتھ رہے۔

خود مولانا آزاد کا البلاغ ہو یا الہلال، انھوں نے ہندوستان کی جد و جہد آزادی کے دوران جو ذہن سازی کی، اس نے مسلمانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی، جس نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے مولوی محمد باقر نے اپنے ’دہلی اردو اخبار‘ میں 1857ء کی بغاوت کا آنکھوں دیکھا حال پیش کرنے کی کوشش کی۔

ہندوستان کی بغاوت کو انگریز حکمرانوں نے غدر قرار دے کر ایک اشتہار چھاپا، اسے جامع مسجد کے دروازوں اور کئی نمایاں مقامات پر چسپاں کیا۔ مولوی محمد باقر نے اس اشتہار کا دندان شکن جواب دیا۔ اس طرح وہ حاکم انگریزوں کی نگاہوں میں کھٹکنے لگے۔ مولوی محمد باقر کو گرفتار کیا گیا اور فرنگی جاسوسی محکمہ کے انچارج کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے حکم سے انہیں 16؍ستمبر 1857ء کو دہلی میں شہید کردیا گیا۔ اس طرح اردو کے پہلے صحافی نے جام شہادت نوش کیا اور حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اور محب وطن کی قربانی ہوئی۔ بقول شاعر؎

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

اردو کا پہلا اخبار

ہم سب جانتے ہیں کہ اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ 27؍ مارچ 1822ء کو کولکاتہ سے جاری ہوا تھا۔ اس کے مالک ہری ہردت اور مدیر سدا سکھ لال تھے۔ اس کے بعد بھی لا تعداد غیر مسلم صحافی اردو صحافت کے فروغ اور اس کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہے۔ اس کی ایک طویل فہرست ہے، جس پر تفصیل سے اور علیحدہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔

آج بھی ملک کا مقبول ترین اخبار ’انقلاب‘ ہو یا ’روزنامہ سہارا‘ یا پھر ای ٹی وی نیٹ ورک، برادران وطن اردو صحافت کے فروغ میں اپنا بھر پور تعاون پیش کر رہے ہیں۔ لہذا ہم اردو کو کسی مذہبی یا مخصوص دائرے میں قید نہیں کر سکتے۔ یہ در اصل اس ملک کی زبان ہے، اس ملک کے لوگوں کی زبان ہے، اس ملک کے ہر باشندے کی زبان ہے، یہی وہ زبان ہے جو شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک بولی اور پڑھی لکھی جاتی ہے۔ اردو صحافت کے دائرے کو بھی ہمیں اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اپنے دو سو سالہ سفر میں اردو صحافت نے کتنے نشیب و فراز دیکھے، کیسے کیسے حالات کا سامنا کیا، اردو صحافیوں نے کتنی صعوبتیں برداشت کیں، اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، ملک و قوم کی بے لوث خدمت انجام دی اور ملک کے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اقدار و روایات کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا۔ غرض یہ کہ اردو صحافت اپنے اندر ایک روشن تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ اردو صحافت کی انہیں خدمات کے اعتراف میں ملک بھر میں پورے سال مختلف مقامات پر جشن کا سلسلہ جاری رہا۔ دہلی، کلکتہ، حیدرآباد، پٹنہ،ممبئی وغیرہ میں مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔

اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن

اس سلسلے میں 30؍ مارچ 2022ء کو دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ملک کی مقتدر اور معتبر شخصیات نے اردو صحافت کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اسی طرح مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن منایا۔

دہلی میں واقع غالب اکیڈمی نے بھی اسی سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ مختلف یونیورسٹیوں، اداروں اور تنظیموں کے زیر اہتمام بھی مختلف پروگرام اور سیمینار وغیرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اخبارات، رسائل اور جرائد میں لاتعداد مضامین قلم بند کئے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان میں سب سے پر وقار اور اہم تقریب حال ہی میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت نے منعقد کی۔

اس میں ملک بھر سے نہ صرف اردو صحافیوں کو شامل کیا گیا، بلکہ دیگر زبانوں کے اہم ترین صحافیوں نے بھی شرکت کرکے نہ صرف اردو اور اردو صحافت پر تبادلہ خیال کیا، بلکہ مجموعی طور پر اردو صحافت کے ’ماضی ، حال اور مستقبل‘ اور موجودہ دور میں صحافت کے کردار پر بحث و مباحثہ کیا گیا۔

اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ

’کاروانِ اُردو صحافت‘ کے عنوان سے 13، 14؍ اور 15؍ نومبر کو منعقد سہ روزہ عالمی جشن اُردو صحافت میں ملک بھر کے سنجیدہ، فعال، وسیع تجربے کے حامل اور صحافت کو صحافتی معیارات پر برتنے والے اہل علم و قلم کی گفتگو نے اس جشن میں چار چاند لگا دئیے۔ سبھی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ واقعی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانے اور شجاعت و قربانی کی مثال قائم کرنے والی تاریخ رہی ہے۔

اگر ہم دیکھیں تو زندگی کا کوئی بھی شعبہ صحافت کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ اردو صحافت نے بھی ملک اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ یہ اردو صحافت ہی ہے جس نے ہمیشہ حقیقی تناظر میں حق اورسچ کو پیش کرنے کو ہی ترجیح دی، جو دراصل حقیقی صحافت ہے۔

باشعور سماج کی تعمیر صحافت کی اہم ذمہ داری ہے، معاشرے کو ظلم و استبداد کے اندھیروں سے نکال کر روشنی سے متعارف کرنے کا نام ہے صحافت ہے، صحافت قوموں کی فکر سازی اور نظریاتی تبدیلی میں ایک کارگر وسیلے کا کام کرتی ہے، قوموں کے عروج و زوال میں صحافت کا اہم رول ہوتا ہے، عوامی ذہن سازی اور فکر سازی میں صحافت کا کردارنا قابل فراموش رہا ہے۔ معلومات پہنچانے میں حقیقت بیانی ،سچ جھوٹ، صحیح غلط، خبر کے تمام ممکنہ زاویوں اور امکانات پر روشنی ڈالنا صحافت کا خاصہ ہوتا ہے۔

دو سو سالہ تاریخ میں اردو صحافت

اپنی دو سو سالہ تاریخ میں اردو صحافت نے ان تمام رموز و نکات کا خیال رکھا اور صحافت کے ان اصولوں کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا۔ آج بھی جبکہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ نفرت کا آتش فشاں بن چکا ہے، نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ اس کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اسلاموفوبیا سے متاثر ہو کر میڈیا میں جھوٹ اور پروپیگنڈہ پر مبنی خبریں چلائی جا رہی ہیں اور بے بنیاد کہانیاں سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں۔ یہی نہیں، کبھی مبینہ ’لو جہاد‘، کبھی ’یوپی ایس سی جہاد‘ اور کبھی ’کورونا جہاد‘ جیسے عنوانات سے مباحثے ہورہے ہیں ۔ لہذا ایسے حالات میں جب موجودہ میڈیا اپنا فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہے اردو صحافت اپنا منصبی کردار اور فرض ادا کرکے صحافت اور ملک کی خدمت میں مصروف ہے۔
بقول افتخار عارف ؎

وقت شاہد ہے کہ ہر بیعت فاسق کے خلاف
خط تنسیخ جو کھنچتا ہے، وہ ہم کھینچتے ہیں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر

0
پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر
پنجاب کے 86 فیصد گھرانوں کے بجلی کے بل صفر

پنجاب کے لوگوں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا لیکن اب یہ سچ ثابت ہو گیا ہے

چنڈی گڑھ: پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ریاست کے 95 فیصد سے زیادہ خاندانوں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا جس سے انہیں بڑی راحت ملے گی۔

مسٹر مان نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ لوگوں کو ہر بل پر 600 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ جس سے پہلی بار 86 فیصد گھرانوں کو بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے اور آنے والے مہینوں میں 95 فیصد سے زائد گھرانوں کو مفت بجلی کا یہ فائدہ گھریلو صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ جنہیں اب تک ہر ماہ بجلی کے بلوں کی مد میں بہت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو بھی وعدہ کرتے ہیں اسے پورا بھی کرتے ہیں۔ صاف نیت کے ساتھ کیے گئے اعمال کے نتائج ہمیشہ اچھے ہوتے ہیں۔ پنجابیوں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو جائے گا لیکن اب یہ سچ ثابت ہو گیا ہے۔ اب بہت سے خاندانوں نے بجلی کی بچت بھی شروع کر دی ہے، تاکہ وہ 600 یونٹ مفت بجلی کا فائدہ اٹھا سکیں۔ اس سے بجلی کی کھپت میں بھی کمی آئے گی۔

بجلی کی پیداوار بڑھانے کا بڑا اعلان

ریاست میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کا بڑا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایس پی سی ایل۔ جھارکھنڈ میں الاٹ کی گئی پچواڑہ کے قریب کان آپریشنل ہو گئی ہے اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں اس کان سے پنجاب کو کوئلہ سپلائی کیا جائے گا، جس سے پنجاب میں بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ کان 2015 سے بند پڑی تھی اور ہماری حکومت نے اس کان کو شروع کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں جس کے نتیجے میں اب کوئلے کی سپلائی شروع ہونے جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے سرکاری عمارتوں کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے خود کفیل بنانے کے لیے کہا کہ تمام سرکاری عمارتوں میں سولر پینل لگائے جائیں گے جس سے حکومت پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی کم ہوگا اور بہت زیادہ رقم کی بچت ہوگی۔

اس موقع پر وزیر توانائی ہربھجن سنگھ ای ٹی او، چیف منسٹر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اے کے۔ وینو پرساد، پی ایس پی سی ایل بلدیو سنگھ سرن، چیئرمین کم منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح

0
فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح
فیفا ورلڈ کپ میں مچل ڈک نے آسٹریلیا کو دلائی فتح

فیفا ورلڈ کپ فٹبال میچ میں آسٹریلیا نے تیونس کو شکست دے کر تین قیمتی پوائنٹس حاصل کر لیے

دوحہ: مچل ڈک کے فیصلہ کن گول کی بدولت آسٹریلیا نے فیفا ورلڈ کپ فٹ بال کے میچ میں تیونس کو شکست دیکر تین قیمتی پوائنٹس حاصل کرلیے۔

آسٹریلوی ٹیم کو پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن فرانس کے ہاتھوں چار ایک کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آسٹریلیا کے دو میچوں میں تین جبکہ تیونس کا دو میچوں میں ایک پوائنٹ ہے، میچ کے دوران تیونس کو پانچ جبکہ آسٹریلیا کو دو کارنر ملے، تیونس کے کھلاڑیوں کو فاؤل پلے کا مظاہرہ کرنے پر ریفری کی جانب سے تین یلو کارڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل گروپ ڈی میں تیونس اور ڈنمارک کے درمیان میچ برابر رہا تھا۔

الجنوب فٹ بال اسٹیڈیم میں گروپ ڈی کے اسٹیج گروپ میں کھیلے جانے والے میچ کے پہلے ہاف کے23 ویں منٹ میں آسٹریلیا کی بہترین موو کے نتیجے میں مچل نے ہیڈر کے ذریعے خوبصورت گول کیا۔ ساتھی کھلاڑی نے ڈی کے باہر سے ہٹ لگائی جسے مچل نے جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلوا دی۔

40 ویں منٹ میں تیونس کے کھلاڑیوں نے جوابی وار کیا اور تیونس کے کھلاڑی کی ہٹ جو براہ راست گول میں جارہی تھی آسٹریلوی دفاعی کھلاڑی نے خوبصورتی سے کلیئر کی۔

تھوڑی دیر بعد ہی تیونس نے آسٹریلوی گول پر حملہ کیا لیکن اس کے کھلاڑی کی ہٹ گول پوسٹ کے برابر سے ہوتی ہوئی باہر چلی گئی۔ وقفے پر اسکور ایک صفر تھا۔ دوسرے ہاف میں آسٹریلوی کھلاڑیوں نے دو حملے کیے لیکن گول نہ کرسکے۔

یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ

0
یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ
یورپ سے فلسطینی وزیر اعظم کا اسرائیلی وزراء کے بائیکاٹ کا مطالبہ

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے قابل ہے، لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہے

یروشلم: فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے اسرائیلی حکومت کو فلسطینی عوام کے خلاف "جنگ کی حکومت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین نے یورپی یونین کے ممالک سے کہا تھا کہ وہ اس حکومت میں شامل متعدد نئے وزراء کا بائیکاٹ کریں۔ کیونکہ اسرائیل کی نئی حکومت میں شامل ہونے والے فلسطینیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

العربیہ کے مطابق اشتیہ نے اخبار”الشرق” کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ فلسطین "انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں یہودی بستیوں، قتل و غارت اور قابض ریاست کے تسلط پر اسرائیل کا پیچھا جاری رکھے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "(حالیہ اسرائیلی کنیسٹ کے) انتخابات کے نتائج نے ظاہر کیا کہ اسرائیل میں امن کے لیے کوئی شراکت دار نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومتی جماعتیں امن عمل کے بارے میں ایک موقف رکھتی ہیں۔”

فلسطینی وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ امن مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مسٹر اشتیہ نے اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ دو ریاستی حل کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی ریاست کے امکان کو ختم کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب کو "اس سے سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔”

فلسطینیوں کی تعداد

فلسطینی وزیر اعظم اشتیہ نے اشارہ کیا کہ دو ریاستی حل کا متبادل "ایک ریاست ہوگی جس میں فلسطینیوں کی تعداد یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی۔ آج فلسطینیوں کی تعداد 350,000 ہے جو یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

مسٹر اشتیہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین اب بھی عرب اقدام کے مطابق دو ریاستی حل کے آپشن پر یقین رکھتا ہے۔ یہ حل "سیاسی سطح پر اب بھی ممکن ہے۔ "اشتیہ نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل جو ان کے بقول عرب ممالک اور یورپ چاہتے ہیں کا مطلب 67 کی سرحدوں پر واپسی اور پناہ گزینوں کی واپسی ہے۔” انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ "بین الاقوامی کوارٹیٹ کی موت” کے بعد ایک نئے بین الاقوامی اقدام کی ضرورت کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی صہیونی سازشوں کو ناکام کرانے پر زور دیا۔

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ "امریکی انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے قابل ہے، لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینیوں کے ساتھ کئی وعدے کیے، جیسے کہ یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنا، یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے کام کرنا، دو ریاستی حل کی بنیاد پر مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے ’اونروا‘ کی مالی مدد بحال کرنا جیسے وعدے شامل تھے۔ امریکا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ

0
بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ
بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ

اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد اور خواتین میں 9.4 فیصد ہے

نئی دہلی: ملک میں پیداواری سرگرمیوں اور زراعت پر مبنی کاموں میں تیزی کی وجہ سے موجودہ مالی سال کی جولائی-ستمبر سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد و شمار اور پروگرام کے نفاذ کی مرکزی وزارت نے جمعرات کو یہاں جاری ‘پیریوڈیکل لیبر فورس سروے جولائی-ستمبر سہ ماہی 2022’ میں کہا ہے کہ جولائی-ستمبر 2022 میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد رہی ہے۔ جولائی تا ستمبر 2021 کی سہ ماہی میں یہ تعداد 9.8 فیصد تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد اور خواتین میں 9.4 فیصد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سہ ماہی اپریل تا جون 2022 میں بے روزگاری کی شرح 7.6 فیصد تھی۔

لیبر فورس سروے میں پورے ملک سے شہری علاقوں میں 15 سال سے زیادہ عمر کی لیبر فورس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جولائی تا ستمبر 2022 کے سروے میں 5,669 شہروں اور قصبوں کے 44,358 گھرانوں کے 1,71,225 افراد کا احاطہ کیا گیا۔

دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان

0
دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان
دہلی میں مودی اور ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات کا امکان

آج ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس کی تیاری کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، ذرائع کے مطابق دہلی میں مودی-ممتا کی علیحدہ ملاقات کا بھی امکان ہے

کلکتہ: ستمبر 2023 میں G-20 سربراہی اجلاس ہندوستان میں منعقد ہونا ہے۔ اجلاس کی تیاری ہونے جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے سرکردہ رہنما شریک ہوں گے۔ کانفرنس کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ممتا بنرجی پارٹی کی چیئرپرسن کے طور پر تیاری کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گی۔ ممتا بنرجی اور وزیر اعظم مودی کے درمیان علاحدہ ملاقات کا امکان ہے۔

آج ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس کی تیاری کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دہلی میں مودی-ممتا کی علیحدہ ملاقات کا بھی امکان ہے۔

تاہم، ممتا بنرجی نے قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم ان سے الگ ملاقات کریں گے۔ اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ جی -20 سے متعلق اہم پروگراموں میں سے ایک شمالی بنگال کے سلی گوڑی-دارجلنگ میں منعقد ہونے والا ہے۔

سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد

0
سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد
سیمانچل میں تعلیمی انقلابی مہم کے تحت نصیریہ فاؤنڈیشن میں تعلیمی مجلس منعقد

سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے کے لئے معروف ماہر تعلیم محترم مبارک کاپڑی علاقۂ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے اور آپ کے بچوں کی تقدیر جگمگانے کے لیے 20 نومبر سے 23 نومبر تک سیمانچل میں اپنا تعلیمی پیغام لے کر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور تقریریں کیں

کشن گنج: تعلیم اور سماجی بیداری پر کام کرنے والی تنظیم نصیریہ فاؤنڈیشن نے بہار کے ضلع کشن گنج کے انتہائی پسماندہ علاقہ کے ایک قصبہ پناسی (کشن گنج، بہار) میں 22 نومبر 2022 بروز منگل ایک تعلیمی کیمپ منعقد کیا۔ یہ تعلیمی کیمپ جناب اخترالایمان ریاستی صدر مجلس اتحاد المسلمین بہار و رکن اسمبلی بہار کے زیر صدارت سہ روزہ سیمانچل انقلابی تعلیمی کانفرنس کا حصہ تھا۔

واضح رہے کہ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے کے لئے معروف ماہر تعلیم محترم مبارک کاپڑی (ممبئی) علاقۂ سیمانچل میں تعلیمی انقلاب لانے اور آپ کے بچوں کی تقدیر جگمگانے کے لیے 20 نومبر سے 23 نومبر تک سیمانچل میں اپنا تعلیمی پیغام لے کر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور تقریریں کیں۔

تعلیمی مجلس کا آغاز آکسفورڈ انٹرنیشنل کشن گنج کے جناب تفہیم الرحمن صاحب نے اپنے تعارفی بیان سے کیا پھر اس کے بعد جناب قاری عیسی برکاتی نے تلاوت قرآن مجید کی اور مہمانوں کو گلدستے پیش کئے گئے۔

ترقی اور کامیابی کے لئے بنیادی چیز تعلیم

اس مہم میں جن اہم مسئلوں پر بحث کی گئی ان میں سے اہم بات ممبئی سے تشریف لائے ہوئے اہم مقرر جناب مبارک کاپڑی نے باور کرانے کی کوشش کی کہ کسی بھی شخص کسی بھی ملت یا کسی بھی ملک کی ترقی اور کامیابی کے لئے بنیادی چیز تعلیم ہے۔ جس میں جتنی زیادہ تعلیم ہوگی وہ اتنا ہی ترقی یافتہ اور سر بلند ہوگا۔

جناب اختر الایمان صاحب نے کہا کہ بہت افسوس کا مقام یہ ہے کہ سیمانچل کے بچے ملک کی سبھی ریاستوں سے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اسی لیے ہمارا سیمانچل بھی تعلیمی معاشی سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے پیچھے ہے۔ آج کے زمانے میں ساری ترقی اور عزت کا انحصار تعلیم اور صرف تعلیم پر ہے۔ لہذا ہم نے اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں۔ انہیں پڑھا لکھا کر ٹیچر، پروفیسر آفیسر، قانون دان اور جج بنائیں اور سیمانچل کو ملک کا سب سے ترقی یافتہ خطہ بنائیں۔

مغربی بنگال سے سیاسی کارکن جناب جاوید اختر اور جناب ڈاکٹر صادق الاسلام نے بھی اپنی اپنی تقریروں میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیمانچل میں تعلیم زبوں حالی ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس کے سد باب کے لیے جگہ بہ جگہ اور وقتا فوقتا ایسے مہموں کی ضرورت ہے۔
مقرر خصوصی جناب مبارک کاپڑی صاحب کی تقریر کے بعد حاضرین طلباء نے کریئر سے متعلق اپنے سوالات کئے جن کا کاپڑی صاحب نے جواب دیا۔

مجلس کا اہتمام مدرسے میں ہونے کی وجہ سے مدرسہ کے طلباء نے بھی عالمیت اور فضلیت کے بعد کریئر آپشنز پر سوالات کئے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کی خدمات

نصیریہ فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اپنی نظامت کے دوران کہا کہ سائنس، آرٹس اور ہیومنٹیز جیسے تعلیمی شعبوں کی مختلف اہمیتیں ہیں اور کسی بھی فیلڈ میں مہارت کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نصیریہ فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو ایجوکیشن، ہیلتھ اور سماجی بیداری پر کئی سالوں سے کام کرتا آیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مسجد، مدرسہ، خانقاہ کے علاوہ این سی پی یو ایل کے بھی کئی تعلیمی و ٹریننگ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں میں سینکڑوں غریب سٹوڈینس کو کمپیوٹر سیوی بنانے کا کام کیا ہے۔

انڈونیشیا میں منعقد جی 20 اجلاس حسب روایت نشستن، گفتن، برخاستن

0

انڈونیشیا میں منعقد جی 20؍ ممالک کا اہم اجلاس بھی حسب روایت ’نشستن، گفتن، برخاستن‘ تک ہی محدود رہا

ڈاکٹر یامین انصاری

دنیا میں قیام امن کے مقصد سے 24؍ اکتوبر 1945ء کو اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کے منشور یا چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔ بنیادی انسانی حقوق کا احترام بحال کریں گے اور انسانی اقدار کی قدرومنزلت کریں گے۔ مرد و عورت کے حقوق برابر ہوں گے اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔ ایسے حالات پیدا کریں گے کہ معاہدوں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔ لہذا یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔ ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔

شروع میں اقوام متحدہ کے صرف 51؍ ممبر تھے، بعد میں ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ موجودہ وقت میں اس کے 193؍ رکن ممالک جنرل اسمبلی کے ارکان ہیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکہ ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں رائے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے علاوہ بھی بہت سے عالمی ادارے، گروپس اور تنظیمیں ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ ان کا قیام بھی دنیا میں امن اور تحفظ، بھائی چارہ، ہمسایوں اور قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات، ترقی و خوشحالی اور عالمی سطح پر اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کی بہتری کے لئےگتھیوں کو سلجھانا ان کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

اب ذرا ہم اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک رکن ممالک، بالخصوص سلامتی کونسل کے ممبر ممالک جن پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو حالات اس کے بر عکس نظر آئیں گے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں بہت سارے کام ہو رہے ہیں، لیکن یہ ادارہ دنیا میں ہونے والے کئی اہم انسانی المیوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی طرح ایک تنظیم جی 20؍ ہے۔ اس میں دنیا کے 19؍ ممالک شامل ہیں، جبکہ یورپی یونین کو ایک ملک کے طور پر اس میں شامل کرکے اسے ’جی20؍ ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جی 20؍ دنیا کی بڑی معیشتوں کی تنظیم ہے، جو 80؍ فیصد جی ڈی پی پر مشتمل ہے۔ جی 20؍ کا مقصد عالمی معیشت کے حوالے سے بنیادی امور پر تبادلہ خیال کرنا اور دنیا کو درپیش معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس کے اراکین میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کناڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، روس، ہسپانیہ، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ یہ گروپ بھی کس حد تک اثر انداز رہا ہے یا مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہا ہے، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔

حال ہی میں انڈونیشیا کے ساحلی سیاحتی شہر بالی میں جی 20؍ کا سالانہ سربراہی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یوکرین پر روس کے حملے جاری ہیں۔ دونوں ہی ممالک جی 20؍ میں شامل ہیں۔ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بڑے مسئلے کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ یہاں تک کہ اس جنگ کے عالمی جنگ میں تبدیل ہو جانے کے خطرات عالمی سطح پر برقرار ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا کے تقریباً سبھی اہم ممالک کے اس اجلاس میں اس مسئلہ کا کوئی ٹھوس اور پائیدار حل نکالنے کی کوشش کی جاتی، مگر حسب سابق یہ اجلاس بھی نشستن، گفتن، برخاستن تک ہی محدود رہا۔

اس اجلاس میں اجتماعی طور پر ایسا کوئی فیصلہ تو نہیں ہونا تھا جس کے اثرات عالمی سیاست و معیشت پر پڑتے، اس کے باوجود عالمی رہنمائوں کی باہمی ملاقات اور براہِ راست تبادلۂ خیال پر پوری دُنیا کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ یوکرین بحران تھا۔ امریکہ کی کوشش بھی تھی کہ اس اجلاس میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کی جائے، مگر امریکہ اِس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ عالمی سطح پر روس یوکرین جنگ پر تشویش کا اظہار تو کیا جارہا ہے، لیکن کھلے الفاظ میں کوئی بھی ملک روس کی مذمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اسی طرح امریکہ چاہتا ہے کہ روس کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے، بالخصوص روس سے تیل اور گندم کی خریداری پر پابندی عائد کر دی جائے، تاکہ روس پر دبائو بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے یورپی ممالک بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس یوکرین جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی سے امریکہ اور یورپ کے باشندے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے حوالے سے چین نے جہاں روس کی مذمت سے گریز کیا ہے، وہیں کھلی حمایت بھی نہیں کی ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے چین اور امریکہ کی سرد جنگ سے معاملات روس اور امریکہ کش مکش میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ روسی صدر ولادیمر پوتن نے جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کی، حالانکہ روسی وفد کی قیادت وزیر خارجہ نے کی۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی بھی اجلاس میں شامل نہیں ہوئے، مگر انھوں نے اجلاس کو آن لائن خطاب کیا۔ کل ملا کر اگر ہم دیکھیں تو اس اجلاس کا اہم واقعہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات رہی۔ ایک طرف جہاں چینی صدر سے ملاقات سے قبل امریکی صدر مستقل چین کے عزائم کے خلاف باتیں کرتے رہے تھے۔ پھر بھی چین اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کے باوجود دونوں سربراہوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

وہیں دوسری جانب اس اجلاس نے تقریباً 20؍ ماہ سے ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کی برف کو پگھلنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ وزیر اعظم مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے دوران عشائیہ کی میز پر ملاقات کی اور گفتگو کی۔ اگرچہ یہ پہلے سے طے شدہ ملاقات نہیں تھی، محض غیر رسمی ملاقات تھی، مگر دونوں رہنماؤں نے خوشگوار ماحول میں تقریباً تین چار منٹ تک بات کی۔

دونوں کے درمیان 24؍ ماہ بعد یہ پہلی روبرو ملاقات تھی، جو کیمروں میں قید ہوئی۔ اس سے قبل مودی اور جن پنگ ستمبر 2022ء میں بھی سمرقند میں ایک ساتھ تھے، لیکن ان کے درمیان کسی ملاقات یا بات چیت کی کوئی تصویر سامنے نہیں آئی۔ بالی سے پہلے، دونوں رہنماؤں نے نومبر 2019ء میں برازیلیا میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کی تھی۔

تاہم اس کے بعد پہلے کورونا اور پھر مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے کا راستہ بند کردیا۔ یہی نہیں، جون 2020ء میں ہندوستان اور چین کے درمیان وادی گلوان تنازع اور اس میں 20؍ ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت نے بات چیت کے امکانات کو بند کر دیا۔

ویسے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سرحدی کشیدگی کے درمیان دونوں سربراہوں کی ملاقات ہوئی ہے اور رشتوں پر جمی برف پگھلنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اس سے قبل 2017ء میں ڈوکلام سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں رہنماؤں نے جولائی 2017ء میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میںبھی جی 20؍ کے اجلاس کے دوران ملاقات کی تھی۔

یہی نہیں، اس ملاقات کے بعد اپریل 2018ء میں وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ پہلے ووہان اور پھر مہابلی پورم میں آگے بڑھا۔ لیکن 2019ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ سلسلہ تقریباً تین سال سے رک گیا ہے۔

لہذا بالی میں ہوئی چھوٹی اور غیر رسمی ملاقاتوں نے یقیناً بند دروازے کھولنے میں مدد کی ہے۔ بہر حال، یہ خوش آئند ہے کہ آئندہ برس کے جی 20؍ سربراہی اجلاس کی میزبانی ہندوستان کو ملی ہے۔ ایسے میں امید کی جا سکتی ہے کہ چین، امریکہ اور روس جیسی بڑی معیشتوں کی میزبانی کرکے عالمی سطح پر ہندوستان کو اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی دنیا میں قیام امن میں ہندوستان اپنا اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ بقول احمد فراز؎
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

(مضمون نگارانقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ

0
موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ
موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی پیاز اور انڈے کی قیمتوں میں اضافہ

گزشتہ کئی مہینوں سے کلکتہ اور آس پاس کے بازاروں میں پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلو تھی، اب یہ بڑھ کر 45 سے 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے

کلکتہ: موسم سرما ابھی کلکتہ میں شروع نہیں ہوا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں سبزیوں، آلو اور پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے کلکتہ اور آس پاس کے بازاروں میں پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلو تھی۔ اب یہ بڑھ کر 45 سے 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ کلکتہ کے مختلف بازاروں میں کچھ اچھی کوالٹی کی پیاز 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ گڑیا، مانک تلہ سمیت مختلف بازاروں میں اس قیمت پر پیاز فروخت ہو رہی ہے۔

پیاز کے تھوک فروشوں کا کہنا ہے کہ دیگر ریاستوں سے پیاز کی درآمد میں کمی سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چند روز سے جاری بارش کے باعث پیاز کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بہت جلد اس اضافی قیمت میں کمی کا امکان نہیں ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کو پیاز کی برآمد میں اضافہ بھی پیاز کی درآمد میں کمی کی ایک وجہ ہے۔

دوسری جانب مرغی کے گوشت کی قیمت بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ کلکتہ میں کٹے ہوئے چکن کا گوشت کم از کم 220 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ کہیں قیمت 230 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ شادی اور پکنک کا موسم ابھی شروع ہونے والا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ مرغی کے گوشت کے ساتھ مرغی کے انڈوں کی قیمت میں بھی ہوشربا اضافہ پرچون مارکیٹ میں انڈے کا ہر ٹکڑا ساڑھے چھ سے سات روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔