منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 197

انسانیت کی اتحاد کے لئے مذہب کا کردار: ایک تجزیہ

0

ہندو صحیفوں میں کئی حوالے ہیں جو سورۃ اخلاص کے جیسے یا مماثل معنی ہیں

تحریر: ڈاکٹر حفیظ الرحمن

قرآن پاک اور ہندو صحیفوں سے ملتی جلتی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جنہیں آج عام لوگوں کی زندگیوں میں مذہبی اتحاد، امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے قرآنی آیات اور ہندو صحیفے کے کچھ ویدوں، منتروں کے درمیان ان مماثلتوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے جو یہ بتاتا ہے کہ دونوں کیسے انسانی اقدار اور روحانی اتحاد کو بحال کرنے کے لیے بنی نوع انسان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

کیونکہ تمام راستے ایک ہی خدا کی طرف لے جانے کا دعوی کرتے ہیں اور وہی مالک، خالق اور ساری دنیا کا پالنے والا ہے۔ ہم اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ کوئی اسے عربی میں اللہ، رحمان یا رحیم کہتا ہے تو کوئی فارسی میں اسے خدا اور پروردگار کہتا ہے۔ کوئی انگلش میں اسے گوڈ یا لارڈ کہتا ہے اور ہندو اسے ایشور یا پرماتما کہتے ہیں، وغیرہ۔ اس کی اطاعت مختلف نظر آتی ہے، لیکن نیت، عقیدت اور ہدف ایک ہے۔ سنسکرت کا ایک مشہور محاورہ جو ہندو متن ’مہا اُپ نشیدا‘ میں پایا جاتا ہے،’ واسودھایو ا کٹمبکم‘، جس کا مطلب ہے دنیا ایک خاندان ہے۔ اسی سلسلے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے۔ الخلق عیال اللہ کا مطلب ہے تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے۔

اسلام میں خدا کا تصور

اسلام میں ’خدا کا تصور اسلام‘ کے مطابق خدا کی بہترین اور جامع تعریف قرآن پاک کی سورہ اخلاص میں دی گئی ہے۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت کی نماز میں سورۃ اخلاص اور سورۃ فاتحہ دونوں پڑھتے ہیں۔ ترجمہ: سورہ اخلاص: کہہ دو وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔ (القرآن 112: 1-4)

ہندو صحیفوں میں کئی حوالے ہیں جو سورۃ اخلاص کے جیسے یا مماثل معنی ہیں۔ کہو: وہ اللہ ایک ہے۔ (القرآن 112:1)۔ اس کا ایک معنی ہے جو بہت ملتا جلتا ہے: ’ایکم ایوادیتیم‘ وہ ایک سیکنڈ کے بغیر صرف ایک ہے۔ (چندوگیا اپنشد 6:2:1)۔ اللہ ابدی؍ لازوال؍ مطلق۔ نہ وہ جنتا ہے، نہ وہ جنا جاتا ہے۔ (القرآن ١١٢:2-3)۔ اسی کے جیسے معنی گیتا میں ہیں: ’وہ جو غیر پیدائشی ہے، ابتدا سے ہے، تمام جہانوں کے اعلیٰ رب کے طور پر جانا جا تا ہے۔‘ (بھگود گیتا 10:3) اور اس کے نہ والدین ہیں اور نہ رب۔‘ (شویتاشواترا اپنشد 6:9) 3۔ اور اس کے برابر کوئی نہیں۔ (القرآن 112:4) اسی طرح کا پیغام شویتاشوتارا اُپنشد اور یجروید میں دیا گیا ہے: ’نا تسیہ پرتیما استی‘ ،’اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔‘ (شویتاشواترا اپنشد 4:19 اور یجروید ٣٢:3)۔ یاد رکھیں، ہندو ویدانت کا برہما سترا ہے: ’ایکم برہم، دویتیا نیستے نہ ناستے کنچن‘ پرماتما؍ ایشور ایک ہی ہے دوسرا نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں ہے، ذرا بھی نہیں ہے‘۔ ’صرف ایک ہی خدا ہے، دوسرا نہیں، ہر گز نہیں، ہر گز نہیں، کم از کم نہیں۔‘

ہندو مت اور اسلام

قرآن بھی توحید کی تلقین کرتا ہے۔ لہذا آپ کو ہندو مت اور اسلام کے درمیان خدا کے تصور میں بھی مماثلت نظر آئے گی، جیسا کہ اوپر خدا کی وحدانیت کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ یہاں گایتری منتر اور سورہ فاتحہ کے درمیان مماثلت کی وضاحت ضروری ہے۔ سورہ فاتحہ قرآن پاک کی ابتدائی سورت ہے، جو ہر نماز کا لازمی حصہ ہے۔

ترجمہ سورہ فاتحہ: سب طرح کی تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم والاہے۔ انصاف کے دن کا مالک ہے۔ اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہم کو سیدھے رستے چلا۔ ان لوگوں کے راستے جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا، نہ ان کے جن پر غصہ ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے۔ آمین۔

قرآن اور وید کے درمیان اس مماثلت کا مشاہدہ کرنے کے بعد، انبیاء کے قول اور ہندوستانی ہندو صحیفوں کے درمیان بہت سی مشترکہ بنیادوں کو متحد پایا۔ قرآن کی ابتدائی سورت کو قرآن کی ماں کہا جاتا ہے، جبکہ گایتری منتر کو ویدوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ ہر نماز میں قرآن شروع کرنے والی سورت لازمی ہے ،جبکہ ہمارے ہندو بھائی اپنے دن کا آغاز گایتری منتر سے کرتے ہیں اور یہ ہمارے مذاہب اور دعاؤں کی خوبصورتی ہے کہ ہم صرف اپنے لیے دعا نہیں کرتے، بلکہ جب ہم رحم مانگتے ہیں تو بنی نوع انسان اور پوری انسانیت کے لیے دعا کرتے ہیں۔

قرآن اور بنی نوع انسان

قرآن کریم کی کچھ اور آیات بنی نوع انسان کے اتحاد کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اتحاد اور بھائی چارہ ایک ہی جہاز کے بحری ہیں، جو ساحلوں پر امن لاتے ہیں۔ قرآن بنی نوع انسان کو ان کی اصل کی وحدت، ان کے خالق کی وحدت اور ان کے مقصد کی وحدت کی یاد دلاتا ہے۔ بنی نوع انسان ایک بھائی چارہ ہے۔ اور اس اتحاد کو حقیقی زندگی میں حاصل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اگر قرآن مسلمانوں کے بھائی چارے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا مقصد بھی باقیوں کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ وسیع تر اتحاد کے حصول کے لیے کوشش کرنا ہے۔ اتحاد ہر موضوع کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ کسی برے مقصد کے لیے ہے، تو یہ عذاب اور بربا دی کا سبب تا ہے۔ اگر یہ کسی اچھے مقصد کے لیے ہے، تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے اچھا ہے۔ اسلام بنی نوع انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اتحاد کا حتمی مقصد مکمل طور پر امن کا حصول، پرورش اور اسے برقرار رکھنا ہے، اور یہ عظیم مقصد صرف خدا کے سامنے پوری طرح سر تسلیم خم کرنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بنی نوع انسان کے اتحاد کو تنظیم کے ہر طبقے پر تلاش کیا جانا چاہئے۔ فرد سے فرد، خا ندان سے خاندان، برادری سے برادری اور ملک سے ملک تک۔

قرآن میں اتحاد اور بھائی چارہ:

’’مزید یہ حقیقت ہے کہ تمہاری یہ قوم ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس تم (خاص طور پر) میری عبادت کرو۔ پھر بھی انہوں نے مختلف مسائل پر اپنے اندر تفرقہ پیدا کیا۔ (یاد رکھو) ہر ایک کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔ (21:92-93 قرآن)۔ تقسیم سے بچیں۔ آئیے آپ ایک ایسی قوم کے طور پر ابھریں جو عوام کی فلاح و بہبود کی دعوت دیتی ہے، تسلیم شدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہناتی ہے، اور ممنوعہ طریقوں پر مؤثر طریقے سے پابندی لگاتی ہے۔ ایسی قومیں ہی اصل کامیابی حاصل کرنے والی ہیں۔ مزید یہ کہ ان قوموں کی طرح نہ بنیں جو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہیں اور اچھی طرح سے طے شدہ رہنما اصولوں کے حصول کے باوجود تنازعات میں پڑ جاتی ہیں۔ (3: 104-105) ۔قرآن بھی کہتا ہے…. اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت کے مجموعہ سے پیدا کیا اور تمہیں نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے سے ملو۔ تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو (خدا کی) عبادت میں سب سے بہتر ہو۔ (49:13)

دنیا کے مشہور انسان دوست فارسی شاعر شیخ سعدی شیرازی کے عالمی بھائی چارے کے حوالے سے خوبصورت اشعار، جس کے انگریزی ترجمے کے ساتھ اقوام متحدہ کی یو این او بلڈنگ نیویارک کی دیوار پر لکھا گیا ہے۔ ’بنی آ دم اعضا ی یک دیگر اند، آدم کے تمام بیٹے ایک دوسرے کے اعضاء ہیں، ایک جوہر سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ایک عضو پر کوئی آفت آجائے تو دوسرے اعضاء آرام سے نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ دوسروں کی پریشانیوں پر ہمدردی کا اظہار نہیں کرتے تو آپ انسان کہلانے کے لائق نہیں ہیں ۔‘

رومی تمام انسانوں کو محبت اور بھائی چارے کو پھیلانے کے لیے اپنے ارد گرد آنے کی تاکید کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو پکارتے ہیں؛ آؤ، آؤ تم جو بھی ہو، آوارہ، عبادت گزار، عاشق، تم جو بھی ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا کارواں مایوسی کا نہیں۔ آؤ، چاہے تم نے ہزار بار نذر توڑ دی ہو۔ پھر سے آؤ، آؤ اور آؤ۔

خواجہ غریب نواز

اسی سلسلے میں برصغیر پاک و ہند کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ غریب نواز اجمیر نے کہا ہے، محبت سب کے لئے، بغض کسی سے نہیں۔ انہوں نے اپنے شاگردوں اور پیروکاروں کو مزید نصیحت کی کہ ’زمین کے جیسا فضل ، سورج جیسی سخاوت اور دریا جیسی مہمان نوازی‘۔ تاہم ان کے شاگردوں اور جانشینوں نے اپنے مرشد کے اس پیغام کو مضبوطی سے تھام لیا اور ان کی درسگاہیں عالمگیر محبت اور وابستگی کو پھیلانے کا مرکز بن گئیں۔ ان کے جا نشیں حضرت نظام الدین اولیاء اکثر اپنے پیروکاروں کو یاد دلاتے تھے کہ ’اگر لوگ آپ کے راستے میں کانٹے بچھائیں تو آپ ان کے راستے میں پھول ڈال دیں، ورنہ سارا راستہ کانٹوں سے بھر جائے گا۔‘

مشہور شاعر جگر مرادآبادی نے بھی خوب کہا ہے۔؎

اُن کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

سوامی وویکانند جو دنیا کے مشہور مذہبی رہنما اور مفکر ہیں، وہ کتنی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں’محبت زندگی ہے اور نفرت موت ہے۔‘

(مضمون نگار اسلامی ا سکالر اور صوفی پیس فاؤنڈیشن کے بانی ہیں) [email protected]

’دھرم سنسد‘ کی اشتعال انگیزی پرسپریم کورٹ سخت اور موہن بھاگوت کے بیانات

0

دھرم سنسد‘ میں اشتعال انگیزی پرسپریم کورٹ کے سخت تبصرے اور موہن بھاگوت کے بیانات میں بھلے ہی کوئی مماثلت نہیں، مگر۔۔۔
ع۔ اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا ایک انٹرویو ان دنوں موضوع بحث ہے۔ انھوں نےیہ انٹرویو آر ایس ایس کے ہی ترجمان ہفت روزہ ’آرگنائزر‘ کو دیا ہے۔ اس انٹرویو میں انھوں نے بہت سے موضوعات پر بات کی ہے، لیکن مذہبی امور، ہندو اور مسلمانوں کے حوالے سے انھوں نے جو باتیں کی ہیں، وہ قابل غور ہیں۔ اگرچہ اس مضمون میں ’دھرم سنسد‘ میں اشتعال انگیزی پر سپریم کورٹ کے تبصروں پر گفتگو کرنا ہے، بھاگوت کے انٹرویو پر نہیں، مگر ان کی باتوں کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو ان کے تار بھی وہیں جا کر ملتے ہیں۔ کیوں کہ بھاگوت نے کچھ باتیں تو براہ راست کی ہیں، لیکن بہت سی باتوں میں کچھ پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔

جیسے بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندو سماج تقریباً ایک ہزار سال سے حالت جنگ میں ہے۔ غیر ملکی لوگ، غیر ملکی اثر و رسوخ اور غیر ملکی سازشیں، ان سے جنگ جاری ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ اگر آپ لڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو عزم کرنا ہوگا۔ ہندو مذہب، ہندو ثقافت، ہندو سماج کی سلامتی کا سوال ہے، اس کے لیے لڑائی جاری ہے۔ اس لڑائی میں لوگوں میں ’کٹرتا‘ یا سخت گیری آئے گی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، پھر بھی اشتعال انگیز بیانات آئیں گے۔ بھاگوت نے ان چند جملوں میں ہی اپنے لوگوں اور دوسرے لوگوں کو ایک پیغام دے دیا ہے۔ اپنے لوگوں کو جو پیغام دیا ہے، شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ ’دھرم سنسد‘ جیسے پروگرام کھلے عام کئے جا رہے ہیں، ان میں ایک فرقہ کے خلاف زہر افشانی کی جا رہی ہے، لوگوں کو حلف دلایاجا رہا ہے، مارنے کاٹنے کی باتیں ہو رہی ہیں، پھر بھی کسی کے خلاف کوئی کارروالی نہیں ہو رہی ہے۔

ملک میں فرقہ وارانہ فسادات

نتیجتاً سپریم کورٹ کو سخت تبصروں کے ساتھ پولیس کی سرزنش کرنی پڑ رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں بار بار اس کے ثبوت بھی ہمارے سامنے آتے رہے ہیں اور ملک کا ماحول بھی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ حالات سازگار نہیں ہیں۔ خود مرکزی حکومت نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 2017ء سے 2021ء کے درمیان ملک میں فرقہ وارانہ یا مذہبی فسادات کے 2900؍ سے زیادہ واقعات درج کئے گئے۔ این سی آر بی کے ذریعہ مختلف گروپوں، ہجوم یا ہجوم کے ذریعہ ہلاک یا زخمی ہونے والے لوگوں کے بارے میں کوئی علیحدہ ڈیٹا جمع نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ اعداد و شمار حالات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔


اگست 2021ء اور دسمبر 2021ء میں دہلی اور ہری دوار میں ’دھرم سنسد‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں کھل کر مسلمانوں کے قتل عام کی بات کی گئی۔ ہندو یووا واہنی کے پروگرام میں سدرشن ٹی وی کے سریش چوہانکے نے وہاں موجود لوگوں کو ملک کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے قتل عام کا حلف دلایا تھا۔ اسی دوران ہری دوار میں بھی یتی نرسنگھا نند اور اس کے ساتھیوں نے مسلمانوں کے خلاف اکثریتی طبقہ کو ہتھیار اٹھانے کیلئے اکساتے ہوئے زبردست زہرافشانی کی تھی۔ اس کے ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئے۔ ملک کے ایک طبقہ نے اپنی فکرمند کا اظہار بھی کیا، نفرت کے سوداگروں کو روکنے اور ان پر کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔اس کے باوجود تقریباً چھ ماہ کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ پولیس کی سختی اور خوف کا یہ عالم ہے کہ ان کے سامنے ایک فرقہ کے لوگوں کو مارنے کاٹنے کی باتیں کی جاتی رہیں، اور وہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کی راجدھانی میں ہوئی ’دھرم سنسد‘ کے معاملے میں 2022ء میں سپریم کورٹ کی سخت نصیحت کے باوجود دہلی پولیس نے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔

سپریم کورٹ کا دہلی پولیس کے جواب پر مایوسی کا اظہار

پچھلے سال اپریل میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا تھا کہ وہ عدالت کے سامنے ایک بہتر حلف نامہ پیش کرے۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کے جواب پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ عدالت کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا تھا جب ایک ہفتہ قبل دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ دہلی میں منعقدہ ’دھرم سنسد‘ میں کسی بھی فرقہ کے خلاف کوئی اشتعال انگیز بیان نہیں دیا گیا ہے۔

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اس نے الزامات کی اچھی طرح سے جانچ کی اور’ دھرم سنسد‘ کے ویڈیو اور دیگر مواد کو دیکھا اور پایا کہ کسی بھی کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز تقریر نہیں کی گئی۔ جب پولیس پہلے ہی اشتعال انگیزی اور قتل و غارت گری کی باتیں کرنے والوں کو کلین چٹ دے رہی ہے تو پھر اس سے کیسے ان کے خلاف کسی کارروائی کی امید کی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی ابھی تک صرف تبصروں سے ہی کام لیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عدالت عظمی نفرت کے ان سوداگروں کے خلاف براہ راست کارروائی کا حکم دے، ساتھ ہی نفرت پھیلانے میں ان لوگوں کا ساتھ دینے والے میڈیا کے اُس طبقہ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرے جو دن رات زہریلے اور فرقہ وارانہ مباحثوں کے ذریعہ ملک میں منافرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

نفرت پھیلانے والوں پر قدغن لگانا ہوگا

سپریم کورٹ نے خاص طور پر ملک کی راجدھانی دہلی میں منعقد ’دھرم سنسد‘ میں نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں ایک بار پھر دہلی پولیس کی نا اہلی اور اب تک کی کارروائی پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس سخت رویے کے بعد دہلی پولیس میں کیا تبدیلی آتی ہے، دیکھنا ہوگا۔ عدالت نے اپنے سوالوں اور رویے کے ذریعے اتنا تو صاف کیا ہے کہ وہ ’دھرم سنسد‘ میں کی گئی اشتعال انگیزی سے آنکھیں نہیں موند سکتا۔ پولیس کو اس معاملے میں کارروائی کرنی ہوگی اور نفرت پھیلانے والوں پر قدغن لگانا ہوگا۔ چیف جسٹس کی بنچ نے دھرم سنسد کے معاملے میں اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہ کرنے پر دہلی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کے خلاف توہین عدالت کا کیس چلانے کی اپیل پر شنوائی کرتے ہوئے دہلی پولیس سے نہایت سخت انداز میں پوچھا کہ دھرم سنسد 19؍ دسمبر 2021ء کو ہوئی تھی، لیکن ایف آئی آر 5؍ ماہ بعد کیوں درج کی گئی؟ اس تاخیر کی وجہ بتانے کی زحمت دہلی پولیس کے افسران کریں گے یا پھر ہم سبھی کو ایک ایک کرکے عدالت میں طلب کرلیں۔

اس کے علاوہ عدالت نے پوچھا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے 8؍ ماہ بعد بھی تفتیش میں کوئی پیش رفت کیوں نظر نہیں آرہی ہے؟ تفتیش کہاں تک پہنچی، ہمیں اس کے بارے میں بتایا جائے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ اس معاملے میں کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا؟ اور کتنے لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے؟ اس کی تفصیل بھی فراہم کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر سے دو ہفتوں میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے کہ اس معاملے میں اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں، عدالت کو بتایا جائے؟ عدالت کے اس رویے سے دہلی پولیس اور اس کے وکیل حیران تھے۔

سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی عرضی

یہی وجہ ہے کہ وہ چیف جسٹس کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی یہ عرضی تشار گاندھی کی جانب سے داخل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس اور اتراکھنڈ حکومت سے 2؍ ہفتوں میں اپنا جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ سماعت کے دوران اتراکھنڈ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنا جواب داخل کر دیا ہے اور معاملے کی سماعت کرنے والی دوسری بنچ کے پاس وقت پر جواب اور کارروائی رپورٹ داخل کر دی تھی۔ غور طلب ہے کہ 10؍ اکتوبر 2022ء کو سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت اور دہلی پولیس سے حقائق پر مبنی موقف اور کارروائی کے بارے میں حلف نامہ طلب کیا تھا۔ ساتھ ہی تشار گاندھی کی توہین عدالت کی عرضی پر بھی معلومات مانگی گئی تھی۔ بہر حال، سپریم کورٹ نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس سے امید ہے کہ اب نفرت پھیلانے والوں پر لگام لگے گی۔ مگر یہ تبھی ممکن ہے جب کچھ عملی اقدامات سامنے آئیں۔ ورنہ بقول شاعر ؎

اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

مودی حکومت اقتصادی عدم مساوات کو روکنے میں ناکام: لونڈے

0
مودی حکومت اقتصادی عدم مساوات کو روکنے میں ناکام: لونڈے
مودی حکومت اقتصادی عدم مساوات کو روکنے میں ناکام: لونڈے

مودی حکومت میں غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیر امیر تر ہوتے جارہے ہیں

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس نے منگل کو دعویٰ کیا کہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت گزشتہ نو برسوں میں تمام محاذوں پر ناکام رہی ہے۔

کانگریس کے ترجمان اتل لونڈے نے کہا کہ ‘آکسفیم’ کی رپورٹ سے یہ واضح ہے کہ ملک کے غریب عوام مودی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور امیر امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ ملک کی 40 فیصد دولت صرف ایک فیصد کے پاس ہے جبکہ 50 فیصد لوگوں کے پاس صرف تین فیصد ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ مودی حکومت ملک میں معاشی عدم مساوات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے عوام کے مفاد کے لیے پالیسیوں کو نافذ کیے بغیر سرمایہ داروں کے مفادات کو پروان چڑھایا ہے۔

اڈانی کی دولت میں ایک سال میں 46 فیصد اضافہ

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں گزشتہ ایک سال میں ارب پتیوں کی تعداد 102 سے بڑھ کر 166 ہو گئی ہے، اس کے برعکس غریب بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ نریندر مودی کے صنعتکار دوست گوتم اڈانی کی دولت میں ایک سال 2022 میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ملک کے غریب اور متوسط ​​طبقے پر امیروں سے زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے کل جی ایس ٹی کا تقریباً 64 فیصد نیچے کے 50 فیصد طبقے سے آتا ہے جبکہ صرف چار فیصد اوپر والے 10 فیصد سے آتا ہے۔

مہنگائی کی شرح میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مودی حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ ملک کے 80 کروڑ لوگوں کو راشن پر مفت اناج دے رہی ہے، یہ فخر کی بات نہیں، بدقسمتی کی بات ہے۔ مودی حکومت مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے اور لوگوں کی آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا، ”راہل گاندھی کی قیادت میں کنیا کماری سے کشمیر تک 3500 کلومیٹر کی پیدل یاترا ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں اور محنت کش لوگوں کے مسائل پر بھی بات کر رہی ہے۔ اس یاترا میں سماجی اور معاشی عدم مساوات کا مسئلہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی بنیادی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے بھی ملک میں بڑھتے ہوئے سماجی اور اقتصادی تفاوت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، لیکن مودی حکومت نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔

چین میں شرح پیدائش میں کمی

0
چین میں شرح پیدائش میں کمی
چین میں شرح پیدائش میں کمی

چینی حکومت نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1 ارب 40 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک میں افرادی قوت کے مقابلے میں شرح پیدائش میں کمی کو تجزیہ کار زیادہ خوشگوار قرار نہیں دے رہے

بیجنگ: دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں شرح پیدائش میں کمی دیکھی جارہی ہے، تجزیہ نگاروں نے اسے معاشی صورتحال کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اردو نیوز کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ملک چین میں 60 دہائیوں بعد شرح پیدائش میں کمی آئی ہے۔

چینی حکومت نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1 ارب 40 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک میں افرادی قوت کے مقابلے میں شرح پیدائش میں کمی کو تجزیہ کار زیادہ خوشگوار قرار نہیں دے رہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس تیزی سے شرح پیدائش میں کمی سے معاشی ترقی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے افرادی قوت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ بیجنگ کے نیشنل بیورو آف سٹیٹس کے مطابق 2022 کے آخر تک چین کی مجموعی آبادی ایک ارب 41 کروڑ کے لگ بھگ تھی اور 2021 کے آخر میں اس میں 8 لاکھ 50 ہزار کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس سے قبل چین کی آبادی میں 1960 میں کمی دیکھی گئی تھی جس کی وجہ ماؤ زیڈانگ کی زرعی پالیسی کو قرار دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں چین نے تیزی سے بڑھتی آبادی کے پیش نظر 1980 میں ون چائلڈ پالیسی نافذ کی، اسی طرح 2016 اور 2021 کے آغاز میں جوڑوں کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دی گئی۔

شاہنواز حسین کو سپریم کورٹ کا جھٹکا، آبرو ریزی کا مقدمہ چلے گا

0
شاہنواز حسین کو سپریم کورٹ کا جھٹکا، آبرو ریزی کا مقدمہ چلے گا
شاہنواز حسین کو سپریم کورٹ کا جھٹکا، آبرو ریزی کا مقدمہ چلے گا

سپریم کورٹ نے سابق مرکزی وزیر سید شاہنواز حسین کے خلاف مبینہ عصمت دری اور دھمکیوں کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی کو پیر کے روز مسترد کر دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سید شاہنواز حسین کے خلاف مبینہ عصمت دری اور دھمکیوں کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی کو پیر کے روز مسترد کر دیا۔ جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس دیپانکر دت کی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عرضی کو خارج کر دیا۔

عدالت عظمیٰ نے دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ نچلی عدالت کے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کو برقرار رکھنے والے ایک فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ درخواست گزار کو مجرم نہیں ٹھہرایا گیا تھا اور اس کے پاس قانون کے تحت دیگر قانونی اقدامات موجود تھے۔

ہائی کورٹ نے دہلی کی ایک خصوصی عدالت کے حکم کو مناسب ٹھہرایاتھا جس میں ایک میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس سے قبل خصوصی عدالت نے حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔

میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے 2018 میں دہلی کی ایک خاتون کی شکایت پر سابق مرکزی وزیر حسین کے خلاف جنسی ہراسانی اور دھمکی دینے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اگست میں بہار بی جے پی کے موجودہ ایم ایل سی حسین کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر عبوری روک لگا دی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے یہ کہتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے سامنے تمام زیر التواء کارروائیوں پر بھی روک لگا دی تھی کہ اس معاملے پر ابھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

نصف کرہ ارض کے ممالک کو ترقیاتی مسائل پر مل کر آواز اٹھانی چاہئے: مودی

0
نصف کرہ ارض کے ممالک کو ترقی کے مسائل پر مل کر آواز اٹھانی چاہئے: مودی
نصف کرہ ارض کے ممالک کو ترقی کے مسائل پر مل کر آواز اٹھانی چاہئے: مودی

جمعرات کو جنوبی نصف کرہ ارض کے 120 سے زائد ممالک کا پہلا سربراہی اجلاس منعقد ہوا

نئی دہلی: جنوبی نصف کرہ ارض کے 120 سے زائد ممالک کے پہلا سربراہی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ جس کی میزبانی کرتے ہوئے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپیل کی کہ وہ اپنے ترقیاتی مسائل پر ایک آواز بنیں تبھی عالمی ایجنڈے اور نظام میں ان کے مفادات کو جگہ ملے گی۔

انسانی ترقی پر مرکوز ترقی کے لیے پہلی وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ کے ورچوئل ایونٹ میں، مسٹر مودی نے 10 ممالک کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے بعد کل آٹھ سیشن ہوں گے۔

سیشن کا افتتاح

سیشن کا افتتاح کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے، ہمیں ‘ردعمل، پہچان، احترام اور اصلاح’ کا عالمی ایجنڈا بنانے کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔

سیشن کے اختتامی کلمات

سیشن کے اختتامی کلمات میں مودی نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کی قیادت کی آوازوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے انسانی مرکز ترقی ایک اہم ترجیح ہے۔ یہ ہمارے مشترکہ چیلنجوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے، بشمول ہماری ترقیاتی ضروریات کے لیے وسائل کی کمی، قدرتی آب و ہوا اور جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں بڑھتا ہوا عدم استحکام۔ اس کے باوجود ترقی پذیر ممالک مثبت توانائی اور اعتماد سے بھرپور ہیں۔

گلوبل ساؤتھ

انہوں نے کہا کہ 20ویں صدی میں ترقی یافتہ ممالک نے عالمی معیشت کو آگے بڑھایا۔ آج بیشتر ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں سست روی کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں، اگر ہم متحد ہو کر کام کریں، تو ہم عالمی ایجنڈا ترتیب دے سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کریں اور ایک مضبوط آواز ہو تاکہ ہم مل کر بیرونی حالات اور بین الاقوامی میکانزم پر انحصار کے شیطانی دائرے سے باہر نکل سکیں۔

اس سے پہلے سیشن کے افتتاحی کلمات میں مسٹر مودی نے کہا کہ ہم نے ایک مشکل سال دیکھا جس کی خصوصیات جنگوں، تنازعات، دہشت گردی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، کھاد اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ۔ موسمیاتی تبدیلی قدرتی آفات کا باعث بنی ہے اور کووڈ وبائی مرض کے طویل مدتی معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بحران کا شکار ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ عدم استحکام کب تک چلے گا۔

گلوبل گورننس

انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کا مستقبل سب سے زیادہ داؤ پر لگا ہوا ہے کیونکہ دنیا کی تین چوتھائی آبادی ہمارے ممالک میں رہتی ہے۔ اس لیے ہماری آواز بھی یکساں طور پر سنی جائے۔ جیسا کہ گلوبل گورننس کا آٹھ دہائی پرانا ماڈل بدل رہا ہے، ہمیں ایک نئی ترتیب کو تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر عالمی چیلنجز جنوبی ممالک نے پیدا نہیں کیے بلکہ وہ ہمیں متاثر کر رہے ہیں۔ ہم نے کووڈ وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور یوکرین کی جنگ کے اثرات کا تجربہ کیا ہے۔ ان چیلنجز کا حل تلاش کرنے میں نہ تو ہمارا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ہماری آواز کو کوئی جگہ ملی ہے۔

ہندوستان نے 100 سے زیادہ ممالک کو ویکسین فراہم کیں

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ گلوبل ساؤتھ کے اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے ترقیاتی تجربات کا اشتراک کیا ہے۔ ہماری ترقیاتی شراکت داری تمام جغرافیوں اور متنوع شعبوں کا احاطہ کرے گی۔ ہم نے کورونا وبائی امراض کے دوران 100 سے زیادہ ممالک کو دوائیں اور ویکسین فراہم کیں۔ ہندوستان نے ہمیشہ ہمارے مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عظیم کردار کے لیے کھڑا کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہندوستان جی 20 کی صدارت کر رہا ہے۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ ہمارا مقصد گلوبل ساؤتھ کی آوازوں کو بااختیار بنانا ہے۔ جی 20 میں ہمارا تھیم ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانی مرکز ترقی میں اتحاد کے راستے پر چلتے ہیں۔ یکجہتی کے ساتھ، ہمیں عالمی سیاسی اور مالیاتی حکمرانی کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے عدم مساوات ختم ہوگی، مواقع بڑھیں گے اور ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔

آر ایس ایس کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ: اسد الدین اویسی

0
آر ایس ایس کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ: اسد الدین اویسی
آر ایس ایس کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ: اسد الدین اویسی

موہن بھاگوت کی جانب سے آر ایس ایس سے وابستہ میگزین ’آرگنائزر‘ اور ’پنچ جنیہ‘ کو دیے گئے انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اویسی نے کہا کہ ملک کے لوگ جتنی جلدی اصل ’’داخلی دشمنوں‘‘ کی شناخت کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کو کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کا نظریہ ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے آر ایس ایس سے وابستہ میگزین ’آرگنائزر‘ اور ’پنچ جنیہ‘ کو دیے گئے انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اویسی نے کہا کہ ملک کے لوگ جتنی جلدی اصل ’’داخلی دشمنوں‘‘ کی شناخت کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

مسٹر بھاگوت نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہیں اپنی بالادستی کا دعویٰ ترک کر دینا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے پر قائم رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں اور اگر اپنے آباؤ اجداد کے عقیدے پر واپس آنا چاہیں تو واپس آ سکتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ان کی خواہش پر منحصر ہے۔ ہندوؤں میں ایسی کوئی ضد نہیں ہے۔ اسلام کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اپنی بالادستی کی سخت بیان بازی کو ترک کر دینا چاہیے۔

ہم ہندوستانی ہیں

مسٹر اویسی نے کہا کہ موہن بھاگوت کون ہے جو مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنے یا مذہب پر عمل کرنے کی ’اجازت‘ دیتے ہیں؟ ہم ہندوستانی ہیں کیونکہ اللہ ایسا ہی چاہتا ہے۔ مسٹر بھاگوت کی ہمت کیسے ہوئی کہ ہماری شہریت پر ’شرائط‘ لگائیں؟ ہم اس ملک میں اپنے عقیدے کو ’ایڈجسٹ‘ کرنے یا ناگپور میں نام نہاد برہمی لوگوں کے ایک گروپ کو خوش کرنے کے لیے نہیں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر بھاگوت کہتے ہیں کہ ہندوستان کو کوئی بیرونی خطرہ نہیں ہے لیکن سنگھ کے لوگ کئی دہائیوں سے ’’داخلی دشمنوں‘‘ اور ’’جنگ کی حالات‘‘ کا رونا رو رہے ہیں اور لوک کلیان مارگ میں ان کے خود کے سیوک کہتے ہیں کہ نہ کوئی گھسا ہے…. چین کے لیے ’چوری‘ اور ملک کے شہریوں کے لیے ’’سینازوری‘ ایسا کیوں؟ اگر ہم واقعی حالت جنگ میں ہیں تو کیا سویم سیوک حکومت پچھلے آٹھ سالوں سے سو رہی ہے؟‘‘

کیا مسٹر بھاگوت 2024 کا الیکشن لڑ رہے ہیں؟

مسٹر اویسی نے کہا کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ مذہب کے نام پر اس طرح کی نفرت اور تعصب کو برداشت نہیں کرسکتا۔ کس نے مسٹر بھاگوت کو ہندوؤں کا نمائندہ منتخب کیا ہے، کیا وہ 2024 کا الیکشن لڑ رہے ہیں، تو ان کا استقبال ہے۔

حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بہت سارے ہندو ہیں جو آر ایس ایس کی طرف سے بالادستی کے مطالبات کی آتش بیانی کو محسوس کرتے ہیں، سبھی اقلیتییں کیسا محسوس کرتی ہیں اسے رہنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے ہی ملک میں تقسیم کی صورتحال پیدا کرنے میں مصروف ہیں تو آپ دنیا میں وسودھیو کٹمبکم کی بات نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم دوسرے ممالک کے تمام مسلم لیڈروں کو گلے لگاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں ایک بھی مسلمان کو گلے لگاتے نظر نہیں آتے۔

کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب کے لیے 21 جماعتوں کو مدعو کیا

0
کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب کے لیے 21 جماعتوں کو مدعو کیا
کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب کے لیے 21 جماعتوں کو مدعو کیا

کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کو لکھے خط میں کہا کہ 30 جنوری کو ہونے والی بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب بابائے قوم مہاتما گاندھی کو وقف کی جا رہی ہے

نئی دہلی: کانگریس نے 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہوئی اور 30 جنوری کو جموں و کشمیر کے سری نگر میں ہونے والی بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے 21 ہم خیال جماعتوں کے لیڈروں کو مدعو کیا ہے۔

کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کو لکھے خط میں کہا کہ 30 جنوری کو ہونے والی بھارت جوڑو یاترا کی اختتامی تقریب بابائے قوم مہاتما گاندھی کو وقف کی جا رہی ہے۔ اس یاترا کے ذریعے نفرت اور تشدد کو ختم کرنے اور بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کا پیغام دیا گیا ہے۔ باپو نے بھی اس دن ملک میں ان برائیوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، اس لیے یہ پروگرام بابائے قوم کو وقف کیا جا رہا ہے۔

معاشی، سماجی اور سیاسی بحران

مسٹر کھڑگے نے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو لکھے خط میں کہا کہ ملک معاشی، سماجی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اب تک 3300 کلومیٹر پیدل چل کر مختلف ریاستوں کے لوگوں سے براہ راست بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر کو شروع ہونے والی یاترا 30 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ یاترا کے آغاز سے ہی ہم خیال جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور کئی جماعتوں کے لیڈروں نے اس یاترا میں شرکت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر تمام ہم خیال جماعتوں کے لیڈروں سے یاترا کی اختتامی تقریب میں شرکت کی درخواست کرتے ہیں تاکہ ہم سب متحد ہو کر تشدد اور نفرت کے خلاف لڑیں، ملک میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کی فضا قائم کریں اور آئین کو برقرار رکھنے کی سمت میں کام کر سکیں۔

سعودی عرب میں گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین کی شاندار کارکردگی

0
سعودی عرب میں گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین کی شاندار کارکردگی
سعودی عرب میں گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین کی شاندار کارکردگی

فیسٹیول کے ساتویں ایڈیشن میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان دوڑ کے آغاز سے قبل گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار خواتین نے اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا

ریاض: سعودی عرب میں ہونے والے گھڑ سواری کے مقابلے میں خواتین نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول میں ہونے والے شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان گھڑ سواری مقابلے میں 12 خواتین گھڑ سوار شریک ہوئیں۔

فیسٹیول کے ساتویں ایڈیشن میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان دوڑ کے آغاز سے قبل گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار خواتین نے اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا، اس موقع پر سعودی خواتین نے لوک فنون کا بھی مظاہرہ کیا۔

شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن دوڑ میں شرکا کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا، دوڑ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خاتون کو ارغوانی اسکارف سے نوازا گیا۔

کانگریس کا ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار

0
کانگریس کا ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار
کانگریس کا ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار

کانگریس کے ترجمان کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ ملک امرت کال سے گزر رہا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک چھوڑنے والوں کی تعداد 604 یومیہ ہوگئی ہے

نئی دہلی،: کانگریس نے ملک میں بے روزگاری اور بھوک مری کا اعداد و شمار بڑھنے جیسے دیگر کئی حالات پر تشویش کو ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ ملک امرت کال سے گزر رہا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک چھوڑنے والوں کی تعداد 604 یومیہ ہوگئی ہے جو 2014 میں 354 یومیہ تھی۔ بیرون ملک آباد ہونے والے ان افراد میں سے 7000 ایسے افراد ہیں جن کی سالانہ آمدنی 8 کروڑ سے زائد ہے۔

ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافے کی چھ بڑی وجوہات

انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر جانے والوں کی تعداد میں اضافے کی چھ بڑی وجوہات ہیں جن میں پہلی بے روزگاری ہے۔ دوسری وجہ مسلسل بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور جی ڈی پی کی گرتی ہوئی شرح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ملک کا پیسہ دوسرے ممالک میں لگا رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 28 فیصد سے زیادہ ہندوستانی غریب ہیں۔ ہندوستان میں 79 فیصد لوگ کورونا کے دور میں غریب ہو ئے ہیں۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی بھوک مری کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور افغانستان کے علاوہ ایشیا میں بھوک مری میں ہندوستان سب سے نچلی سطح پر ہے۔ اقتصادی ترقی میں خواتین کی حصہ داری میں ہندوستان دنیا کے 146 ممالک میں 135 ویں نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں میڈیا کے لئے ہندوستان کو سب سے خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا گیا ۔ پریس کی آزادی کے معاملے میں ہندوستان 180 ممالک میں 150 ویں نمبر پر ہے۔