منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 198

جیو ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں توسیع، مزید 10 شہروں میں 5 جی لانچ

0
جیو ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں توسیع، مزید 10 شہروں میں 5 جی لانچ
جیو ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں توسیع، مزید 10 شہروں میں 5 جی لانچ

اس موقع پر جیو کے ایک ترجمان نے کہا، "ہمیں 4 ریاستوں کے 10 شہروں میں جیو ٹرو 5 جی خدمات شروع کرنے پر فخر ہے

نئی دہلی: دس شہروں میں ایک ساتھ جیو ٹرو 5 جی لانچ کرکے جیو نے اپنے 5جی نیٹ ورک کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ ان 10 شہروں میں اتر پردیش کے چار، آندھرا پردیش، کیرالہ اور مہاراشٹر کے دو دو شہر شامل ہیں۔ پیر کو آگرہ، کانپور، میرٹھ، پریاگ راج، تروپتی، نیلور، کوزی کوڈ، تھریسور، ناگپور اور احمد نگر نے جیو کے ٹرو 5 جی نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کی۔ ریلائنس جیو ان میں سے زیادہ تر شہروں میں 5G خدمات شروع کرنے والا پہلا اور واحد آپریٹر بن گیا ہے۔

ان 10 شہروں میں جیو صارفین کو ‘جیو ویلکم آفر’ کے تحت مدعو کیا جائے گا اور مدعو کئے گئے جیو صارفین کو 9 جنوری سے بغیر کسی اضافی لاگت کے 1 Gbps+ رفتار اور لامحدود ڈیٹا ملے گا۔

اس موقع پر جیو کے ایک ترجمان نے کہا، "ہمیں 4 ریاستوں کے 10 شہروں میں جیو ٹرو 5 جی خدمات شروع کرنے پر فخر ہے۔ ہم نے پورے ملک میں حقیقی 5G رول آؤٹ کو تیز کر دیا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر جیو صارف نئے سال میں جیو ٹرو 5 جی ٹیکنالوجی کے فوائد سے لطف اندوز ہو۔

جن شہروں میں جیو ٹرو 5 جی شروع کیا گیا ہے وہ اہم سیاحت اور کاروباری مقامات کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے بڑے تعلیمی مراکز ہیں۔ جیو کی ٹرو 5G خدمات کے آغاز کے ساتھ، خطے کے صارفین کو ای گورننس، تعلیم، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، گیمنگ، صحت کی دیکھ بھال، زراعت، آئی ٹی اور ایس ایم ایزکے علاوہ ایک بہترین ٹیلی کام کے شعبوں میں ترقی کے بہت سے مواقع ملیں گے۔ ن

ہم اتر پردیش، آندھرا پردیش، کیرالہ اور مہاراشٹر کی ریاستی حکومتوں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس سیکٹر کو ڈیجیٹل بنانے کی ہماری کوششوں میں مسلسل تعاون کیا ہے۔

چین میں کورونا کی خوفناک لہر، تیسرے سب سے بڑے صوبے میں 90 فیصد لوگ وائرس سے متاثر

0
چین میں کورونا کی خوفناک لہر، تیسرے سب سے بڑے صوبے میں 90 فیصد لوگ وائرس سے متاثر
چین میں کورونا کی خوفناک لہر، تیسرے سب سے بڑے صوبے میں 90 فیصد لوگ وائرس سے متاثر

اعداد و شمار کے مطابق 9 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی والے صوبے ہینان کے میں تقریباً 8 کروڑ 85 لاکھ لوگ اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں

بیجنگ: چین کے تیسرے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے میں تقریباً 90 فیصد لوگ کووِڈ۔ 19 سے متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ ملک کو کورونا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کی خوفناک لہر کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق وسطی صوبے ہینان کے ہیلتھ کمیشن کے ڈائریکٹر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 6 جنوری 2023 تک صوبے میں کووِڈ انفیکشن کی شرح 89.0 فیصد پہنچ گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق 9 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی والے صوبے ہینان میں تقریباً 8 کروڑ 85 لاکھ لوگ اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 19 دسمبر کو بخار کے کلینک کا دورہ کرنے والے شہریوں کی تعداد عروج پر تھی جب کہ اس کے بعد اس میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا گیا۔

چین گزشتہ مہینے لاک ڈاؤن، قرنطینہ اور بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ ختم کرنے کے اپنے فیصلے کے بعد کیسز میں اضافے کی صورتحال سے دوچار ہے جب کہ کووڈ پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا اور ملک بھر میں غیر معمولی مظاہروں کو جنم دیا۔

مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندی ختم

چین نے گزشتہ روز 3 سال کے طویل عرصے بعد بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندیوں کو ختم کردیا جب کہ نیم خود مختار شہر ہانگ کانگ میں سفری پابندیوں میں نرمی کردی گئی اور سرحد کو کھولا جارہا ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں ملک میں نئے سال قمری کے جشن کی تقریبات کے بعد انفیکشن میں اضافہ ہونے کے خدشات ہیں جب کہ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے ملنے جائیں گے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے اگلے دو ماہ میں چین کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ چین سے تقریباً 7 ہزار افراد ہانک کانگ کا سفر کریں گے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق چھٹیوں سے قبل سفر کے دوران سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ہفتے کے روز 3 کروڑ 47 لاکھ افراد نے اندرون ملک سفر کیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ چین کی جانب سے دسمبر کے اوائل میں کووڈ پابندیوں میں نرمی کے بعد سے گزشتہ ہفتے میں ایک لاکھ 20 ہزار لوگ متاثر ہوئے اور 30 کی موت ہوئی۔
لیکن بیجنگ نے گزشتہ ماہ کووڈ 19 اموات کی تعریف کو محدود کردیا اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ لازمی نہ رہنے کے بعد اس وقت حاصل ہونے والا ڈیٹا اب وبا کی حقیقی صورتحال کا پیمانہ اور عکاس نہیں ہے۔

ہماچل پردیش میں ڈیزل ہوا مہنگا، ویٹ میں تین روپے کا اضافہ

0
ہماچل پردیش میں ڈیزل ہوا مہنگا، ویٹ میں تین روپے کا اضافہ
ہماچل پردیش میں ڈیزل ہوا مہنگا، ویٹ میں تین روپے کا اضافہ

ہماچل پردیش میں ڈیزل کی قیمت 83 روپے سے بڑھ کر 86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی

شملہ: ہماچل پردیش میں سکھوندر سنگھ سکھو کی قیادت میں نو منتخب کانگریس نے ڈیزل پر 3.01 روپے فی لیٹر ویٹ بڑھا کر عوام کو بڑا جھٹکا دیا ہے، جس کی وجہ سے تمام قسم کی خدمات مہنگی ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس حکومت میں آج ہی کابینہ کی توسیع کی گئی تھی اور کابینہ میں سات نئے وزراء کے علاوہ چھ چیف پارلیمانی سکریٹری اور پارلیمانی سکریٹریز کو شامل کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اس کے ساتھ ہی ڈیزل پر ویٹ بڑھا کر عام لوگوں کو جھٹکا دیا۔ اس کی وجہ سے ریاست میں ڈیزل کی قیمت 83 روپے سے بڑھ کر 86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ویٹ میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے شملہ میں واقع مرکزی حکومت کی تمام عمارتی جائیدادوں پر یکم اپریل سے ٹیکس وصول کرنے کی بھی تیاری کر لی ہے۔ شہر میں میونسپل کارپوریشن کے ریڈار پر ایسی 184 عمارتیں ہیں۔ یہ ٹیکس تین کیٹیگریز میں لگایا جائے گا۔ کارپوریشن کی تمام خدمات حاصل کرنے والی عمارتوں کو 75 فیصد، جزوی خدمات حاصل کرنے والی عمارتوں کو 50 فیصد اور کوئی خدمات حاصل نہ کرنے والی عمارتوں کو بھی 33.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کارپوریشن نے کئی سالوں سے ان عمارتوں کی ملکیت نہیں لی تھی۔

سروس ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ

ان عمارتوں میں انگریزوں کے دور میں تعمیر کی گئی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ سال 1950 کے وقت تعمیر ہونے والی ایسی تمام عمارتوں پر اب ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ بجلی کے میٹروں اور نقشوں سے پرانی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ کب تعمیر ہوئیں۔

کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر بی آر۔ شرما کا کہنا ہے کہ اس سال سے کارپوریشن نے سروس ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیکس ان عمارتوں سے وصول کیا جائے گا جن میں کارپوریشن بجلی، پانی، کچرا اٹھانے سمیت اپنی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ اس کے لیے افسران کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔ شہر میں 1950 سے پہلے بننے والی عمارتوں کو اب ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے کے بعد سرکاری ملازمین کو پرانی پنشن بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اس وعدے کو کسی بھی قیمت پر پورا کرے گی اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کو ایسے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے بہت بڑی رقم درکار ہوگی اور وہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے، اضافی ٹیکس لگا کر اور سروس چارجز میں اضافہ کرکے اسے عوام سے وصول کرے گی۔

ڈیزل پر ویٹ میں اضافہ اس سمت میں اختیار کی جانے والی حکومت کی حکمت عملی کا محض ایک اشارہ ہے۔

میانمار میں گاڑی پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت، 23 زخمی

0
میانمار میں گاڑی پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت، 23 زخمی
میانمار میں گاڑی پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت، 23 زخمی

میانمار کے نی پیتا میں ایک چھ پہیہ گاڑی کے پلٹنے سے پانچ خواتین کی جائے واقع پر ہی موت ہوگئی

یانگون: وسطی میانمار کے نی پیتا میں ایک چھ پہیہ گاڑی کے پلٹنے سے پانچ خواتین کی موت ہو گئی اور 23 دیگر زخمی ہو گئے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق حادثہ پرانی ینگون منڈالے ہائی وے پر نی پیتا میں یزین زرعی یونیورسٹی کے قریب ہفتے کی شام اس وقت پیش آیا جب گاڑی کا دائیں سامنے کا ٹائر پھٹ گیا، جس سے مسافر گاڑی سڑک سے پھسل کر پلٹ گئی۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ "پانچ خواتین کی جائے واقع پر ہی موت ہوگئی۔” انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت گاڑی میں 30 سے ​​زائد افراد سوار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت گاڑی ٹاٹکون قصبہ سے آرہی تھی اور پینیمانا شہر کی طرف جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں 10 مرد اور 13 خواتین شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے ہسپتال بھیجا گیا ہے۔

ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹھوڑی، سر اور سینے پر چوٹیں آئی ہیں۔ لیکن ان کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ پولیس نے ڈرائیور کے خلاف تیز رفتاری اور لاپروائی سے گاڑی چلانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی

0
پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی
پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا، "بھارت جوڑو یاترا تپسیا ہے، اس تپسیا کے ذریعے میں ملک سے ڈر، خوف اور نفرت کو ختم کرنے کا کام کر رہا ہوں

کروکشیتر: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کو تپسیا بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس تپسیا کے ذریعہ وہ کنیا کماری سے کشمیر تک نفرت اور خوف کے ماحول کو ختم کرکے بھائی چارے اور ہم آہنگی کو بڑھانے کا کام کررہے ہیں اور کروڑوں لوگ ان کی یاترا میں شامل ہو رہے ہیں۔

مسٹر گاندھی نے ہریانہ میں کروکشیتر کے قریب سامنا میں بھارت جوڑو یاترا کے درمیان اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسان، مزدور، چھوٹے تاجر سبھی تپسوی ہیں لیکن ان کی تپ کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور شخصی پوجا کی حمایتی تنظیم کی حکومت میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "بھارت جوڑو یاترا تپسیا ہے۔ اس تپسیا کے ذریعے میں ملک سے ڈر، خوف اور نفرت کو ختم کرنے کا کام کر رہا ہوں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس شخصی پوجا کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے لیے شخصی پوجا اہم ہے اور کسی تپ اور تپسیا سے ان کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

کانگریس تپسوی تنظیم

کانگریس کو تپسوی تنظیم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں تپسیا سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ لیکن بی جے پی میں پوجا کو اہمیت دی جاتی ہے اور آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جو اپنی پوجا چاہتی ہے۔ اس لیے آر ایس ایس کو بھارت جوڑو یاترا نکال کر ہی جواب دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس یاترا میں لاکھوں لوگ تپسیا کر رہے ہیں۔

بی جے پی اور کانگریس کے درمیان بنیادی فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس میں تپسیا کا احترام کیا جاتا ہے جبکہ بی جے پی میں پوجا کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بی جے پی ڈرا دھمکا کر آگے بڑھنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس بغیر کسی خوف کے تپسیا کرکے آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے ہاتھ کے نشان کو بھی خوف سے آزادی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا نشان بے خوفی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سے گرو نانک دیو، مہاتما بدھ، بھگوان شیو کے ہاتھوں کی پوزیشن بھی بے خوفی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ملک کے لوگوں کو سچائی سے روشناس کرانا ہے۔ کانگریس کو یاترا کا فائدہ ملے یا نہ ملے، لیکن اس کا مقصد نفرت نہ کرو۔ یہ یاترا اس معاشی ناہمواری اور تمام دولت جو دو چار لوگوں کے ہاتھوں میں دے کر مہنگائی میں اضافہ کیا جارہا ہے اس کے خلاف ہے۔ یاترا کا پیغام ہر جگہ پہنچ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یاترا میں لگاتار لوگ جمع ہورہے ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور ہریانہ میں یاترا کو جو پذیرائی مل رہی ہے وہ حیرت انگیز ہے اور عوام کے جوش و خروش سے یہ واضح ہے کہ کانگریس مدھیہ پردیش، ہریانہ میں حکومت بنائے گی اور عوام کے سوالات کو حل کرے گی۔

کسانوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور

مسٹر گاندھی نے کسانوں کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی بتاتے ہوئے ان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنی پالیسیوں سے ان پر حملہ کر رہی ہے، اسے روکا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جہاں بھی کانگریس کی حکومت آئے گی وہاں کسانوں کو تحفظ ملے گا اور ان کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کم از کم سہارا قیمت-ایم ایس پی کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہزاروں بچوں سے ملے اور اس دوران انہیں احساس ہوا کہ ملک کے بچوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بچوں سے وہ ملے ان میں 90 فیصد بچوں نے کہا کہ وہ انجینئر، ڈاکٹر، وکیل، آئی اے ایس وغیرہ بننا چاہتے ہیں۔ ملک میں اتنی نوکریاں نہیں ہیں، اس لیے انہیں لگا کہ بچوں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور ان کے خوابوں کو توڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے لیے فیکٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے، فوڈ پروسیسنگ اداروں اور چھوٹی صنعتوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں بڑی تعداد میں نوکریاں دی جا سکیں لیکن یہاں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو ختم کیا گیا ہے۔

ہنر مندی کی ترقی کا احترام ضروری

کانگریس لیڈر نے کہا، ”جو چھوٹے تاجر ہیں ان کے کام کو مارا جا رہا ہے۔ اگر چھوٹی صنعتوں کو زندہ رکھا جاتا، انہیں ٹیکنالوجی سے جوڑا جاتا تو ملک میں ایک نیا صنعتی انقلاب آتا اور لاکھوں ملازمتوں کے دروازے کھلتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہنر مندی کی ترقی کا احترام ضروری ہے اور جب بڑھئی، کسان، لوہار کو ان کے کام کے لئے احترام دیا جائے گا تو بڑی تعداد میں روزگار پیدا ہوگا اور میڈ ان انڈیا ایک تحریک بن جائے گی۔

چھتیس گڑھ میں خوف کے ماحول کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہاں کچھ معاملات ہو سکتے ہیں، لیکن وہاں کی حکومت کی پالیسی خوف اور تقسیم کی نہیں ہے۔ کچھ مسائل ہیں، وہ حل ہو جائیں گے، لیکن اگر اگر کوئی کمی نظر آئی تو وہ خود وہاں جائیں گے اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

مدھیامک امتحانات: ہر سنٹر پر تین تین سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے: بورڈ

0

بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ مدھیامک امتحانات کے سوالیہ پرچے کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

کلکتہ: ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ کے بعد سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ نے مدھیامک امتحانات کے دوران پرچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور پرچہ لیک نہ ہو اس کے لئے ہر امتحانی مرکز میں کم از کم تین سی سی ٹی وی نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بورڈ کے ذرائع کے مطابق بنیادی طور پر ان تین کمروں میں کم از کم تین سی سی ٹی وی لگائے جائیں جن کے ذریعے امیدوار داخل ہوتے ہیں، ہیڈ ماسٹر کے کمرے اور اس کمرے میں جہاں سوالیہ پرچے رکھے جاتے ہیں۔ بورڈ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن اسکولوں میں یہ انتظامات نہیں ہوسکیں گے وہاں سے سنٹر کو ختم کردیا جائے گا۔ بورڈ کے مبصر امتحانات سے قبل ان مراکز کا دورہ کریں گے۔

سوالیہ پرچے کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں

عام طور پر سیکنڈری بورڈ ضلع انتظامیہ کی مدد سے سی سی ٹی وی کے ذریعے صرف حساس مراکز کی نگرانی کرتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ بورڈ عملاً تمام امتحانی مرکز کو سی سی ٹی وی کے دائرے میں لارہی ہے۔ بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ سوالیہ پرچے کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بورڈ کے صدر رامانوجا گنگوپادھیائے نے کہا کہ ہم نے ہر اسکول میں کم از کم تین سی سی ٹی وی لگانے کی ہدایت دی ہے۔ تاکہ اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہمارے پاس مناسب ثبوت موجود ہوں گے۔

ماضی میں امتحانات ختم ہونے سے قبل ہی سوالیہ پرچہ مختلف سوشل سائٹس لیک ہوتے رہے ہیں۔ اس کے مدنظر بورڈ نے سوالیہ پرچوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ امتحان مکمل ہونے تک کوئی بھی طالب علم سوالیہ پرچہ گھر نہیں لے جاسکتا ہے۔ اسے پورا امتحان ختم ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جب تک پورا امتحان ختم نہ ہو جائے کوئی بھی امیدوار سنٹر سے سوالیہ پرچہ نہیں لے جا سکتا۔ اگر کوئی امیدوار جلد امتحان ختم کرتا ہے اور امتحانی مرکز سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے جانے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، اگر اجازت دے دی جائے تو بھی امیدوار کو متعلقہ اساتذہ کے پاس سوالیہ پرچہ جمع کرنا ہوگا۔ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن پہلے ہی اس سلسلے میں رہنما خطوط جاری کردیا ہے۔

امتحان فروری کے آخری ہفتے سے شروع ہوگا

مدھیامک امتحان فروری کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والا ہے۔ بورڈ کا اندازہ ہے کہ اس بار امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ مدھیامک شکشا پریشد کے صدر رامانوج گنگوپادھیائے نے کہا کہ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ سوالیہ پرچہ کی تصویریں لی جاتی ہیں اور سوشل سائٹس پر غلط معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ ہم اس غلط معلومات کو روکنا چاہتے ہیں، اسی لیے ہماری طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسکول یا امتحانی مرکز میں توڑ پھوڑ کرنے سے سخت کارروائی ہوگی

اس کے علاوہ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر امتحان کے دوران امیدوار کسی بھی وجہ سے اسکول یا امتحانی مرکز میں توڑ پھوڑ کرتا ہے تو بورڈ سخت کارروائی کرے گی۔ عموماً امتحان کے اختتام کے دن مختلف اسکولوں میں توڑ پھوڑ اور بدنظمی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔اور اس بار بورڈ نے سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو اسکول کے طلبہ اس طرح کی توڑ پھوڑ یا افراتفری کے واقعات کا سبب بنیں گے، ان کے مدھیامک کے نتائج شائع نہیں کیے جائیں گے۔ مدھیہ شکشا پریشد مختلف اسکولوں کو گائیڈ لائن بھیج رہی ہے۔

بورڈ کے صدر رامانوجا گنگوپادھیائے نے کہا کہ اگر کسی بھی اسکول میں ایسا واقعہ پیش آتا ہے، تو ہمیں ویڈیو کو جیو ٹیگ کرنے کے ساتھ تحریری شکل میں شکایت درج کرنی چاہیے۔ ہم اس اسکول کے نتائج کو شائع نہیں کریں گے۔

بورڈ کے صدر نے کہا کہ جب تک حصہ لینے والے اسکول امتحانی مرکز کو معاوضہ ادا نہیں کرتے اور افسوس کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک اس اسکول کا نتیجہ روک دیا جائے گا، تاہم نتیجہ کب تک روکا جائے گا، اس بارے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بورڈ کے صدر نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس معاملے میں مزید تادیبی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

پنجاب کے 12 سرکاری اسکول معروف شخصیات کے نام سے منسوب

0
پنجاب کے 12 سرکاری اسکول معروف شخصیات کے نام سے منسوب
پنجاب کے 12 سرکاری اسکول معروف شخصیات کے نام سے منسوب

پنجاب حکومت نے گزشتہ ماہ سرکاری اسکولوں کا نام معروف شخصیات کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 12 سرکاری اسکولوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں

چنڈی گڑھ: پنجاب کی حکومت نے مجاہد آزادی، شہید فوجیوں اور معروف مصنفین کی عزت افزائی کرنے اور آنے والی نسلوں کو ان کے بارے میں جانکاری فراہم کرانے کے مقصد سے ریاست کے 12 سرکاری اسکولوں کا نام بدل کر ان معروف شخصیات کے نام پر رکھا ہے۔

ریاست کے تعلیم کے وزیر ہرجوت سنگھ بینس نے بدھ کو یہاں بتایا کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ ماہ سرکاری اسکولوں کا نام معروف شخصیات کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 12 سرکاری اسکولوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

اسکولوں کی فہرست

ان میں برنالا ضلع میں انکھی، ریاستی پرائمری اسمارٹ اسکول دھولا، بھٹنڈا ضلع میں شہید کرتار سنگھ سرابھا، گورنمنٹ پرائمری اسکول ہریجن بستی کوٹ پھٹا اور "شہید ادھم سنگھ” گورنمنٹ پرائمری سکول ادھم سنگھ نگر، فتح گڑھ صاحب ضلع میں ‘شہید ملکیت سنگھ’ گورنمنٹ سیکنڈری اسکول پوہلوماجرا، ضلع گورداسپور میں ‘شہید لانس نائک راجندر سنگھ’ گورنمنٹ ہائی اسکول پبرالی کلاں، ہوشیار پور ضلع میں ‘شہید بختابر سنگھ’ گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول حاجی پور اور ‘شہید صوبیدار راجیش کمار’، گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول کلیچ پور کلوتاں، پٹیالہ ضلع روڑکی میں فریڈم فائٹر ‘بھائی نانو سنگھ’ پٹھانیہ میموریل گورنمنٹ سیکنڈری اسکول ہردوشرن، ضلع ملیرکوٹلا ‘شہید گرپریت سنگھ باجوہ’گورنمنٹ پرائمری اسکول بڈیشے اور ضلع امرتسر میں ‘شہید ریشم سنگھ’ گورنمنٹ پرائمری اسکول گرونانک پورہ رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں 10 لاکھ غیر مسلم ووٹرز کا اضافہ: رپورٹ

0
پاکستان میں 10 لاکھ غیر مسلم ووٹرز کا اضافہ: رپورٹ
پاکستان میں 10 لاکھ غیر مسلم ووٹرز کا اضافہ: رپورٹ

نادرا نے اب تک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 44 لاکھ 30 ہزار افراد کو رجسٹر کیا ہے جن میں عیسائی، ہندو، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں

اسلام آباد: پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کی تعداد 44 لاکھ 30 ہزار ہو گئی ہے جو کہ 2018 میں 36 لاکھ 30 ہزار اور 2013 کے عام انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں میں 27 لاکھ 70 ہزار تھی۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اقلیتی ووٹرز کے تازہ ترین اعداد و شمار کا انکشاف نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے سینیٹر کامران مائیکل کی قیادت میں ایک بین المذاہب وفد کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے دوران کیا۔ چیئرمین نادرا نے وفد کو بتایا کہ نادرا نے اب تک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 44 لاکھ 30 ہزار افراد کو رجسٹر کیا ہے جن میں عیسائی، ہندو، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

مشاورتی اجلاس میں سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر دانش کمار، سینیٹر انور لال ڈین، سینیٹر کرشنا بائی، رکن قومی اسمبلی عامر نوید جیوا اور رکن صوبائی اسمبلی شکیل مارکس کھوکھر نے شرکت کی۔
بین المذاہب وفد نے چیئرمین نادرا کو شناختی کارڈ کے حصول میں اپنی برادریوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

طارق ملک نے وفد کے ارکان کو بتایا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہری کے حقوق جتنے ہی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں نے ریاست کے سیاسی و سماجی استحکام، ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کیا ہے، انہیں معاشرے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔

تمام شہری کو ملک میں برابر کے حقوق حاصل ہیں

انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور ہم سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں، پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 20 تمام شہریوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے اور اپنے مذہبی امور چلانے کی آزادی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شہریوں کی شناخت کا محافظ ہونے کے ناطے نادرا اپنی ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی رجسٹریشن کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا ملک میں اقلیتوں کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ’آئیڈنٹِٹی ایمپاورمنٹ‘ کے عنوان سے ایک خصوصی رجسٹریشن مہم شروع کر رہا ہے۔

مشاورتی اجلاس اور مذکورہ مہم کا مقصد اقلیتی برادریوں کے افراد میں شناخت کے حصول کے لیے بیداری پیدا کرنا ہے کیونکہ یہ انہیں اپنے سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کا استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اقلیتی رجسٹریشن کی 7 روزہ مہم

اقلیتی رجسٹریشن کی 7 روزہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے طارق ملک نے کہا کہ ایک سال قبل بطور چیئرمین نادرا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے دیگر مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کی رجسٹریشن میں رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ طارق ملک نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ’انکلوسیو رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ‘ بنایا ہے تاکہ کوئی فرد رہ نہ جائے، علاوہ ازیں اقلیتی گروہوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پہلی بار شناختی کارڈ کا اجرا مفت کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اگر میاں بیوی بائیو میٹرک تصدیق فراہم کریں تو نکاح نامہ پیش کیے بغیر بھی شادی کی رجسٹریشن کی جا سکتی ہے، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی سہولت کے لیے حلف نامے کی بنیاد پر طلاق بھی نادرا میں رجسٹر کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا نے لوگوں کو ادارے کی پالیسی اور طریقہ کار کے بارے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہیلپ لائن شروع کی ہے جسے وزارت انسانی حقوق کی ہیلپ لائن کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

انہوں نے نادرا رجسٹریشن مراکز میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے خصوصی کاؤنٹر اور ترجیحی بنیاد پر سہولت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہوئے، اسرائیلی فوج نے ایک 15 سالہ فلسطینی کو شہید کر دیا

0
اسرائیلی وزیر مسجد اقصی میں زبردستی داخل ہوئے، اسرائیلی فوج نے ایک 15 سالہ فلسطینی کو شہید کر دیا
اسرائیلی وزیر مسجد اقصی میں زبردستی داخل ہوئے، اسرائیلی فوج نے ایک 15 سالہ فلسطینی کو شہید کر دیا

فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو خراب کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے

بیت المقدس: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامر بن گویر نے مقبوضہ مشرقی القدس میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ وہیں اسرائیلی فوج نے بیت الحم میں ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکے کو شہید کر دیا۔

اشتعال انگیز اقدامات کے ساتھ پہچانے جانے والے انتہائی دائیں بازو کے بن گویر 5 سال بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے پہلے اسرائیلی وزیر ہیں۔ بن گویر صبح سویرے اسرائیلی پولیس کی سخت حفاظت میں حرم شریف میں داخل ہوئے۔ اشتعال انگیز اقدامات کے ساتھ پہچانے جانے والے انتہائی دائیں بازو کے بن گویر 5 سال بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے پہلے اسرائیلی وزیر ہیں۔

اسرائیلی سیاست دان کی مسجد الاقصیٰ کی حیثیت کی خلاف ورزی اور اسے فلسطینیوں کی طرف سے حملے کے طور پر تصور کردہ یہ کاروائی عبرانی کیلنڈر کے مطابق "تیویت” کے مہینے کی 10 تاریخ کو سر انجام دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کا انتباہ

فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو خراب کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔ فلسطینی سرکاری ایجنسی WAFA کی خبر کے مطابق فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو رودینے نے اسرائیل کی طرف سے یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ میں تورات کی تلاوت کی اجازت دینے اور عبادت گاہ کے لیے جگہ کا تعین کرنے کی جاری دھمکیوں پر بیان دیا۔

مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی آبادکاری کی سرگرمیوں اور ہر روز فلسطینیوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ اقصیٰ میں تمام مذاہب کو مساوی حقوق دینے کے خطرات پر زور دیتے ہوئے ابو رودین نے زور دے کر کہا کہ مسجد ِ اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو بگاڑ نے کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اس کا مطلب اعلان جنگ ہوگا۔

فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں دہیشہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بولا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید

دریں اثنا اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے بیت الحم میں ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکے کو شہید کر دیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں دہیشہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بولا ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ چھاپے کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے سینے میں گولی لگنے سے 15 سالہ فلسطینی عدیم عیاد شہید ہوگیا۔

دوسری جانب فلسطین نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم (اسرائیلی) قابض افواج کی طرف سے بیت الحم کے جنوب میں واقع دہیشا پناہ گزین کیمپ پر وحشیانہ حملے کے دوران شہید ہونے والے بچے عدیم عیاد (15 سال) کے خلاف سزائے موت کے گھناؤنے جرم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک فلسطینی بچے کا قتل اسرائیل کے ماورائے عدالت قتل اور فلسطینی بچوں کو نشانہ بنانے کی کاروائی کا ایک حصہ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بینجمن نتان یا ہو کی حکومت علاقے میں کیے جانے والے تمام مظالم، جرائم اور خلاف ورزیوں اور ان کے اثرات کی ذمہ دار ہے اور اس سے اسرائیل کے قابض ریاست میں مزید جرائم کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

فیس بک میں 2023 کی پہلی بہت بڑی تبدیلی

0
فیس بک میں 2023 کی پہلی بہت بڑی تبدیلی
فیس بک میں 2023 کی پہلی بہت بڑی تبدیلی

دنیا کا مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ فیس بک کے اندر چیٹس کے آپشن کو ختم کیا گیا

واشنگٹن: فیس بک دنیا کی پہلی سوشل میڈیا ایپ تھی جس میں ایپ کے اندر چیٹس کے آپشن کو ختم کیا گیا۔

فیس بک دنیا کا مقبول ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک ہے مگر اس کی موبائل ایپ پر چیٹ کے لیے میسنجر کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ مگر 2023 اس حوالے سے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلی کا سال ثابت ہونے والا ہے۔

2014 میں فیس بک نے ایپ کے اندر چیٹنگ کے فیچر کو ختم کرکے چیٹس کے لیے ایک الگ ایپ میسنجر پیش کی۔ یہ طریقہ کار کام بھی کرگیا اور واٹس ایپ کے بعد میسنجر کو دنیا کی دوسری بڑی میسجنگ ایپ تصور کیا جاتا ہے۔

مگر اب میٹا نے فیس بک کے اندر چیٹنگ کے فیچر کو پھر واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے نئے فیچرز کے بارے میں بتانے والے ٹوئٹر صارف Matt Navarra نے اس نئے چیٹ آپشن کا اسکرین شاٹ ٹویٹ کیا۔ اس اسکرین شاٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک ایپ میں رائٹ سائیڈ پر swipe کرکے چیٹس تک رسائی ممکن ہوگی اور میسنجر ایپ کو اوپن کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ نیا فیچر اس وقت محدود صارفین کو دستیاب ہے اور ممکنہ طور پر آنے والے مہینوں میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ صارفین کے لیے بہت اہم فیچر ہے کیونکہ وہ چیٹ اور میسجز کو فیس بک ایپ سے نکلے بغیر ہی دیکھ کر جواب دے سکیں گے۔

اسی طرح فون کی اسٹوریج کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ میسنجر ایپ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔