منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 196

پٹھان نے مچایا دھمال، بڑھائے گئے 300 شو

0
پٹھان نے مچایا دھمال، بڑھائے گئے 300 شو
پٹھان نے مچایا دھمال، بڑھائے گئے 300 شو

فلم پٹھان ہندی، تمل اور تیلگو فارمیٹس کو ملاکر اب دنیا بھر میں کل 8000 اسکرین پر ریلیز ہوئی ہے

نئی دہلی: تنازعہ میں گھری بالی ووڈ انڈسٹری کے سپر اسٹار اداکار شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون کی بہت زیادہ انتظار والی فلم ’پٹھان‘ سنیما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے اور فلم شائقین کو کافی پسند آرہی ہے۔

فلم کا پہلا شو دیکھنے کے بعد شائقین کو یہ فلم کافی پسند آئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’پٹھان‘ باکس آفس پر دھمال مچائے گی اور فلم کے پہلے شوکے بعد اگجیبیٹرس کو 300 اسکرین بڑھانی پڑی۔ جو کہ غیر معمولی قدم ہے۔ اس طرح سے اب 8000 اسکرین پر شاہ رخ خان کی فلم ’پٹھان‘ دکھائی جا رہی ہے۔

فلم پٹھان ہندی، تمل اور تیلگو فارمیٹس کو ملاکر اب دنیا بھر میں کل 8000 اسکرین پر ریلیز ہوئی ہے۔ اس میں 5,500 گھریلو اسکرین اور 2,500 اسکرین شامل ہے۔ یہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کسی ہندی فلم کی اب تک کی سب سے بڑی ریلیز ہے۔ شاہ رخ خان کی فلم کو ملک اور غیر ملک میں 7700 اسکرین پر ریلیز کی گئی تھی۔

فلم ’پٹھان‘ آدتیہ چوپڑا کے بلند نظر جاسوس برہمانڈ کا ایک حصہ ہے اور اس میں سپر اسٹار شاہ رخ خان، دیپکا پادوکون اور جان ابراہم اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سعودی عرب سری لنکا کے دو لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرے گا

0
سعودی عرب سری لنکا کے دو لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرے گا
سعودی عرب سری لنکا کے دو لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرے گا

مسٹر نانایاکارا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سعودی عرب نے 2022 میں 54000 سری لنکن باشندوں کو روزگار دیا تھا

کولمبو: سری لنکا کے محنت و غیر ملکی روزگار کے وزیر مانوشا نانایاکارا نے منگل کو کہا کہ سعودی عرب اس سال سری لنکا کے دو لاکھ کارکنوں کو روزگار فراہم کرے گا۔

مسٹر نانایاکارا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سعودی عرب نے 2022 میں 54000 سری لنکن باشندوں کو روزگار دیا تھا۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے باشندوں کی طرف سے بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم سری لنکا کے لیے غیر ملکی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بیرون ملک مقیم سری لنکا کے کارکنوں نے 2022 میں تقریباً 3.8 ملین ڈالر سری لنکا بھیجے تھے۔ یہ اطلاع سنٹرل بینک آف سری لنکا کے ڈیٹا سے حاصل کی گئی ہیں۔

وہ شہر جہاں سے کورونا پھیلا: 3 سال بعد ووہان کی رونقیں بحال

0
وہ شہر جہاں سے کورونا پھیلا: 3 سال بعد ووہان کی رونقیں بحال
وہ شہر جہاں سے کورونا پھیلا: 3 سال بعد ووہان کی رونقیں بحال

3 سال لاک ڈاؤن میں رہنے کے بعد نئے چینی سال کے موقع پر ووہان شہر میں جشن کی تقریبات اس انداز میں منائی گئیں جیسے یہاں سے وبا کا گزر کبھی ہوا ہی نہیں تھا

ووہان: کورونا وائرس کی سنہ 2020 میں وبا جس چینی شہر ووہان سے شروع ہوئی تھی، وہ ووہان اب ایک بار پھر سے تفریحی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، ووہان میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نئے چینی سال کے آغاز کا جشن منایا اور بالآخر شہر کھلنے پر شکر ادا کیا۔

اردو نیوز کے مطابق چین میں صفر کورونا پالیسی کے خاتمے کے بعد جہاں دیگر شہروں میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں وہیں ووہان شہر کو بھی ہر قسم کی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

3 سال لاک ڈاؤن میں رہنے کے بعد نئے چینی سال کے موقع پر ووہان شہر میں جشن کی تقریبات اس انداز میں منائی گئیں جیسے یہاں سے وبا کا گزر کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ جنوری 2020 میں کورونا کے کیسز سامنے آنے کے بعد ووہان پہلا شہر تھا جہاں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ کورونا کی ابتدا اسی شہر سے ہوئی تھی۔

صفر کورونا پالیسی

کورونا وبا نے دنیا کو ایک طرح سے تباہ کرکے رکھ دیا تھا، لاکھوں افراد کی موت واقع ہوئی اور عالمی معیشت ہل کر رہ گئی، ایسے میں چین نے ووہان شہر کو مکمل طور پر بند کر کے رکھ دیا تھا اور ملک بھر میں صفر کورونا پالیسی نافذ کر دی تھی۔

اس پالیسی کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج کے بعد گذشتہ ماہ چین نے عوامی دباؤ میں آکر پالیسی ختم کرتے ہوئے کورونا سے متعلق پابندیاں ہٹا دی ہیں۔ نئے چینی سال کی تقریبات کے موقع پر ووہان کی مارکیٹیں اور سڑکیں شہریوں سے بھری ہوئی نظر آئیں اور اس دوران کچھ افراد نے ماسک بھی نہیں پہنے ہوئے تھے۔

ووہان میں کورونا پابندیاں ختم

تین سال میں پہلی مرتبہ نئے قمری سال کے موقع پر ووہان میں موجود بدھ مت کی ایک قدیم عبادت گاہ گویووان کو بھی عوام کے لیے کھولا گیا جہاں شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ کورونا پابندیاں ختم ہونے پر ووہان کے شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ تین سال کے تعطل کے بعد ان کے لیے زندگی معمول پر واپس آ رہی ہے۔

ووہان کے شہریوں کو وہ وقت یاد ہے جب جنوری 2020 میں آدھی رات کو شہر کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 76 دنوں کے لیے ووہان کا باقی دنیا سے رابطہ مکمل منقطع ہو کر رہ گیا تھا جبکہ شہری کورونا کے خوف سے اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہے گئے تھے اور اسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ نہیں رہی تھی۔

ووہان شہر میں سرگرمیاں تو بحال ہوگئی ہیں لیکن گوشت کی مرکزی مارکیٹ ابھی بھی بند ہے جسے کورونا وائرس کی شروعات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ مارکیٹ جہاں کبھی خریداروں کا رش لگا ہوتا تھا تین سال بعد بھی ویران پڑی ہے جہاں کڑی نگاہ رکھنے کے لیے پولیس کی گاڑی مسلسل موجود ہوتی ہے۔

ٹی آر پی کی بھوک میں اور خاص ایجنڈے کے تحت نیوز چینل اور اینکر نفرت کے مشتہر؟

0
ٹی آر پی کی بھوک میں اور خاص ایجنڈے کے تحت نیوز چینل اور اینکر نفرت کے مشتہر؟
ٹی آر پی کی بھوک میں اور خاص ایجنڈے کے تحت نیوز چینل اور اینکر نفرت کے مشتہر؟

سپریم کورٹ نے یہ تو محسوس کر لیا کہ نیوز چینل اور اینکرنفرت پھیلانے میں پیش پیش ہیں، اب انتظار اس بات کاہے کہ کب یہ پابند سلاسل ہوتے ہیں. نہ معلوم "خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد”

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری۔۔۔۔

ہندوستان میں صحافت کی ایک روشن تاریخ رہی ہے۔ پہلی جنگ آزادی سے لے کر حصول آزادی تک اور آزادی کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی تک میں ہندوستانی صحافت کا نمایاں رول رہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ کچھ برسوں میں جس طرح سماجی اقدار و روایات زوال پذیر ہوئی ہیں، اسی طرح صحافت نے بھی اپنے اصول و اقدار کو پامال کیا ہے۔ اس کا خمیازہ اس طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جس کے لئے صحافت آنکھ، کان اور زبان کا کام کرتی ہے۔

آج میڈیا میں کمزور، محکوم اور مظلوم طبقہ کی آواز کو اٹھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ افسوس، ملک کی عدالت عظمیٰ کو ایک بار نہیں، کئی بار میڈیا بالخصوص نیوز چینلوں کو آئینہ دکھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ملک کے مختلف حلقوں نے بھی بار بار نیوز چینلوں کی نفرت انگیزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ راقم الحروف نے بھی اس موضوع پر متعدد مضامین قلم بند کئے ہیں۔ اس کے علاوہ آئے دن نفرت انگیز نیوز چینلوں اور ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام کرنے والے نیوز اینکروں کے خلاف باقاعدہ مقدمے درج ہوئے، پولیس تھانوں میں شکایتیں درجج ہوئیں، مگر بے حس اور بے لگام نیوز اینکروں کی نفرت انگیزی ہنوز جاری ہے۔ صحافت کے بنیادی اصول اور اقدار سے تو جیسے ان کا کوئی واسطہ ہی نہیں۔

ان نیوز چینلوں کے ذریعہ کسی خاص ایجنڈے پر کام کرنے کے سبب صحافت کا وقار سب سے زیادہ مجروح ہوا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ ٹی آر پی کی بھوک میں ان چینلوں نے بے شرمی ،بے حیائی اور بے ایمانی کی سبھی سرحدوں کو عبور کر دیا ہے۔ آج دنیا میں ہندوستانی صحافت کو کیا مقام حاصل ہے، وہ ہر سال ہونے والی درجہ بندی سے ظاہر ہو جاتا ہے۔

نیوز چینلوں کو سیاسی پشت پناہی

پچھلے کچھ برسوں کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ مختلف عدالتوں نے نیوز چینلوں کے غیر ذمہ دارانہ رویہ پر کئی بار سختی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عدالتوں نے کئی بار انتباہ بھی دیا ہے، لیکن نیوز چینلوں کی من مانی جاری ہے۔ ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آنے سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں کہیں نہ کہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور دوسرا یہ کہ مقتدر طبقے کی چاپلوسی کرنے کے سبب ان لوگوں کو اب عدلیہ کا خوف بھی نہیں رہا۔

وہیں دوسری طرف حالیہ کچھ برسوں کے دوران آزاد اور غیر جانبدار میڈیا ہاؤسز یا صحافیوں کو سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ دباؤ میں لانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ ملک میں غیر اعلانیہ سینسر شپ نافذ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میڈیا کے اس طبقہ کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور منافرت کو ہوا دینے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے ایک بڑے طبقے میں میڈیا کے حوالے سے شدید برہمی اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر روز شام ہوتے ہی نیوز چینلوں پر کیسے نفرت کا بازار سج جاتا ہے اور کھلے عام ہندو اور مسلمان کے نام پر مباحثے ہوتے ہیں۔

ایک ایجنسی کے سروے کے مطابق ٹی وی چینلوں پر شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک ہونے والے مباحثوں میں 70؍ فیصد مذہبی معاملات، فرقہ وارانہ اور پاکستان کے داخلی معاملات پر بحثیں کی جاتی ہیں۔ اکثر نیوز چینلوں پر تو یہ غیر ضروری بحثیں روز کا معمول بن گئی ہیں۔ ان بحثوں کی حساسیت اور سنجیدگی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اینکروں کی زبان کا معیار کیا ہوتا ہے اور ان کے ساتھ بیٹھنے والے پینلسٹ سماج کے کس طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان چینلوں پر ملک کے اہم مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور تعلیم وغیرہ پر شاذ و نادر ہی گفتگو نظر آتی ہے۔ اسی لئے آج ٹی وی چینلوں پر خبروں کی پیشکش اور ان کے پیش کرنے والوں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ صحافت کی بنیادی اقدار اور ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کے پلیٹ فارم پر جس طرح نفرت پر مبنی مباحثوں کا سیلاب آیا ہے وہ یقیناً پورے ملک اور سماج کے لئے تشویشناک کا باعث ہے۔

سپریم کورٹ کے سوالات کی بوچھار

سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے سماج میں نفرت پھیلانے اور اشتعال انگیزی کرنے والے نیوز چینلوں کی سخت سرزنش کی تھی اور اب ان نیوز چینلوں کے بدزبان اینکروں کے خلاف سخت رخ اختیار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس جوزف اور جسٹس ناگرتنا کی بنچ نے ٹی وی چینلوں کے بدزبان اور اشتعال انگیزی کرنے والے اینکروں کو آئینہ دکھایا ہے۔ جسٹس جوزف نے سماج میں نیوز چینلوں کی وجہ سے پھیلتی نفرت اور اشتعال انگیزی کے معاملے پر گزشتہ سال ستمبر میں سماعت کے دوران حکومت اور نیوز چینلوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر سوالات کی بوچھار کردی تھی۔ اس مرتبہ نیوز چینلوں کے اینکروں کو کھری کھری سنائی۔

نیوز چینلوں کی نفرت انگیزی پر قدغن لگانے کے لئے جمعیۃ علما ہند اور کچھ دوسرے لوگوں نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی (این بی ایس ا ے) کے وکیل کو کٹہرے میں کھڑے کرتے ہوئے سخت سوال کئے۔ عدالت نے پوچھا کہ اب تک کتنے نیوز چینلوں کے کتنے اینکروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور انہیں شو سے ہٹایا گیا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ملنے پر جسٹس جوزف سخت برہم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کی جانب سے ہمیں یہ کہا جارہا ہے کہ اس نے گزشتہ 4؍ ماہ میں ایک بھی اینکر پر کارروائی نہیں کی ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا اسے ایک بھی اینکر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا؟ کیا ان کے پروگراموں میں آپ کو ایک لفظ بھی قابل اعتراض نظر نہیں آیا؟ اس کے بعد جسٹس جوزف حکومت اور این بی ایس اے دونوں پر سخت نالاں ہوئے۔

نفرت انگیز بیان بازی سماج کے لئے بہت بڑا خطرہ

انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز بیان بازی سماج کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ آج کل نیوز چینل صرف اور صرف ٹی آر پی کے لئے کام کررہے ہیں اور اس کے لئے وہ سماج میں موجود خلیج کو مزید گہرا کررہے ہیں۔ ہم آنکھیں بند کرکے یہ سب نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں کارروائی کرنی پڑے گی۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ پرنٹ میڈیا کے پاس پریس کونسل آف انڈیا جیسا معتبر اورغیر جانبدار ادارہ ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی خبروں اور مواد کو ریگو لیٹ کرلیتا ہے، لیکن الیکٹرانک میڈیا کے پاس ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے اس لئے اتنی شدید قسم کی اشتعال انگیزی ہو رہی ہے اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔

بنچ نے حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سماج میں بڑھتی نفرت میں نیوز چینلوں کے رول کے تئیں حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان معاملات میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے اور جو اینکر کھل کر اشتعال انگیزی کررہے ہیں انھیں کھلی چھوٹ بھی دی جارہی ہے۔ ہم آزادی اظہار رائے کی ہر قیمت پر حفاظت کرنا چاہتے ہیں، لیکن کس قیمت پر؟ ان چینلوں اور اینکرس کی اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز بیان بازی کی قیمت پر؟ ہم تو انہیں روکنے کے لئے اقدامات کریں گے، لیکن حکو مت کو بھی ہمارا ساتھ دینا ہوگا تاکہ سماج میں منظم طریقے سے پھیلائی جارہی نفرت کو ختم کیا جاسکے۔

اس طرح عدالتوں نے اب تک نیوز چینلوں، ان کے رپورٹروں، مباحثوں اور اینکروں کو تو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے، مگر ان کے مالکان کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے اگر نیوز چینلوں کے مالکان اور اس کے اعلیٰ عہدیداران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے تو اس نفرت انگیزی پر کافی حد تک قدغن لگ سکتی ہے۔ کیوں کہ کوئی اینکر یا رپورٹر چینل کے مالک یا ایڈیٹر سے اوپر نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف اینکر کی مرضی سے نہیں ہو سکتا کہ ہر روز سماج اور فرقوں کو بانٹنے والے مباحثے کرے اور اپنی مرضی سے جب چاہے کسی پینلسٹ کی آواز بند کر دے اور کسی کو مسلسل بولتے رہنے دے۔ لہذا عدالت کو آئندہ اس پہلو پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کل ملا کر سپریم کورٹ نے یہ تو محسوس کر لیا ہے کہ یہ نیوز چینل اور اینکر نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہیں، اب انتظار ہے کب یہ پابند سلاسل ہوتے ہیں۔
(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایٹر ہیں) [email protected]

تریپورہ ہائی کورٹ کی مرکزی حکومت کو این بی ایف سی کے اثاثوں کو فروخت کرنے کی ہدایت

0
تریپورہ ہائی کورٹ کی مرکزی حکومت کو این بی ایف سی کے اثاثوں کو فروخت کرنے کی ہدایت
تریپورہ ہائی کورٹ کی مرکزی حکومت کو این بی ایف سی کے اثاثوں کو فروخت کرنے کی ہدایت

جسٹس گوڑ نے کہا کہ این بی ایف سی کمپنیوں کی جائیدادوں کو فروخت کیا جانا چاہئے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو جمع کرنے والوں کو واپس کیا جانا چاہئے

اگرتلہ: تریپورہ ہائی کورٹ نے ریاست اور مرکزی حکومت کو عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والی غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سی) کے اثاثوں کو فروخت کرنے اور رقم جمع کرنے والوں کو واپس لوٹانے کی ہدایت دی۔

قائم مقام چیف جسٹس ٹی امرناتھ گوڈ کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے یہ ہدایت دی۔ جسٹس گوڑ نے کہا کہ این بی ایف سی کمپنیوں کی جائیدادوں کو فروخت کیا جانا چاہئے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو جمع کرنے والوں کو واپس کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے حکم دیا، "تریپورہ میں این بی ایف سی کی تمام جائیدادوں کو منسلک (اٹیچ) کریں اور کرک کی گئی املاک کو میڈیا میں وسیع پیمانہ پر تشہیر کرکے اسے نیلامی کے لئے رکھا جائے۔

عدالت نے کہا کہ نیلامی ٹینڈر کے ذریعے ہوگی۔ ساتھ ہی ذاتی موجودگی اور ای نیلامی کے ذریعے بھی نیلامی ہوگی۔ نیلامی کے لیے ایک عالمی اشتہار ہونا چاہیے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا حساب لیا جائے اور رقم کی تقسیم کے لیے منصوبہ بنایا جائے۔

اسپین نے سنسنی خیز مقابلہ جیت کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی

0
اسپین نے سنسنی خیز مقابلہ جیت کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی
اسپین نے سنسنی خیز مقابلہ جیت کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی

کوچ میکس کالڈاس کی ٹیم اب 24 جنوری کو کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا کا سامنا کرے گی

بھونیشور: اسپین نے اتوار کو سنسنی خیز کراس اوور مقابلے میں ملائیشیا کو 2-2 (شوٹ آؤٹ 4-3) سے شکست دے کر ایف آئی ایچ مردوں کے ہاکی ورلڈ کپ 2023 کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی۔

کلنگا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں اسپین کی جانب سے فیصل ساری (34ویں) اور شیلو سلویریئس (48ویں) نے ملائیشیا کی جانب سے گول کیے جبکہ اسپین کی جانب سے کپتان مارک میرالس (40ویں) اور جیسپرٹ زیویئر (41ویں) نے گول کئے۔ میرالیس نے بھی شوٹ آؤٹ میں اسپین کی جانب سے دو گول کیے جبکہ زیویئر جیسپرٹ اور جورڈی بوناسٹری نے ایک ایک گول کیا۔ شوٹ آؤٹ میں ملائیشیا کی جانب سے فرحان اشری، فیصل اور سہیمی عرفان شاہمی واحد گول اسکورر تھے۔

کوچ میکس کالڈاس کی ٹیم اب 24 جنوری کو کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا کا سامنا کرے گی۔

اسپین 2018 ورلڈ کپ میں اپنے پول میں آخری نمبر پر رہا تھا۔ کالڈاس کی ٹیم نے کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اس بار میچ کا جارحانہ آغاز کیا لیکن ملائیشیا کی دفاعی لائن نے انہیں کافی دیر تک کھاتہ نہیں کھولنے دیا۔ اسپین کو پہلے اور 11ویں منٹ میں پنالٹی کارنر بھی ملے جس کا وہ فائدہ نہ اٹھا سکی۔

دوسرے کوارٹر سے سکون سے گزرنے کے بعد اسپین کو تیسرے کوارٹر کے دوسرے ہی منٹ میں پنالٹی کارنر بھی ملا لیکن میچ کا پہلا گول 34ویں منٹ میں فیصل کی ہاکی سے ہوا۔

اسپین نے ملائیشیا کی برتری کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہنے دیا کیونکہ 40ویں منٹ میں کپتان میرالس نے پنالٹی اسٹروک کو گول میں بدل دیا۔ اگلے ہی منٹ زیویئر نے فیلڈ گول کر کے اسپین کو 2-1 کی برتری دلا دی۔

چوتھے کوارٹر میں داخل ہوتے ہی ملائیشیا ایک گول سے پیچھے تھا۔ سلوریئس نے 48ویں منٹ میں فیلڈ گول کر کے ایشین ٹیم کا اسکور برابر کر دیا۔

میرالس کو 56 ویں منٹ میں گرین کارڈ پر باہر جانا پڑا اور اسپین دو منٹ بعد پنالٹی کارنر کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔ جس کے نتیجے میں میچ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں چلا گیا۔

پنالٹی شوٹ آؤٹ کی پہلی پانچ کوششوں کے بعد اسکور 3-3 سے برابر رہا۔ کپتان میرالس آگے آئے اور اپنی چھٹی کوشش پر گول کیا جبکہ فرحان ملائیشیا کے لیے ہدف سے چوک گئے اور اسپین کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا۔

توہین مذہب کی اجازت دینے پر سویڈن کے خلاف ترکیہ کا شدید ردعمل

0
توہین مذہب کی اجازت دینے پر سویڈن کے خلاف ترکیہ کا شدید ردعمل
توہین مذہب کی اجازت دینے پر سویڈن کے خلاف ترکیہ کا شدید ردعمل

وزارت خارجہ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں سویڈن کے سفیر کو ہفتے کے روز اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے مذموم مظاہرے کی ملک کی اجازت پر طلب کیا

انقرہ: سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں توہین مذہب کی اجازت دینے پر ترکیہ نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سویڈن کے سفیر کو طلب کر لیا۔

ترک میڈیا کے مطابق جمعہ کو وزارت خارجہ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں سویڈن کے سفیر کو ہفتے کے روز اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے مذموم مظاہرے کی ملک کی اجازت پر طلب کیا۔

سفیر اسٹافن ہیرسٹروم کو بتایا گیا کہ ترکی اس اشتعال انگیز عمل کی شدید مذمت کرتا ہے، جو کہ ہیٹ اسپیچ تقریر کے مترادف ہے، اور اسٹاک ہوم کا مؤقف ناقابل قبول ہے۔

ترکیہ کی حکومت نے کہا کہ سزا یافتہ نسل پرست راسموس پالوڈن مسلم مخالف جذبات رکھتا ہے، اور انقرہ اشتعال انگیز عمل کی مذمت کرتا ہے، جو واضح نفرت انگیز جرم ہے۔

ترکیہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی اجازت دینے پر سویڈن کا رویہ ناقابل قبول ہے، توقع ہے کہ سویڈن حکومت ایسے اقدامات کو روکے گی اور اجازت واپس لے گی۔

ترکیہ حکومت کا مؤقف تھا کہ جمہوری حقوق کی آڑ میں مقدس اقدار کی توہین کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، واضح رہے کہ ترکیہ اور سویڈن کے درمیان نیٹو میں شمولیت سے متعلق اختلافات چل رہے ہیں۔

افغانستان کی خواتین کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے: اقوام متحدہ

0
افغانستان کی خواتین کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے: اقوام متحدہ
افغانستان کی خواتین کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے: اقوام متحدہ

افغانستان حکام نے حال ہی میں اگلی اطلاع تک ملک بھر میں طالبات کے لیے یونیورسٹیوں کو بند کر دیا ہے اور لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول میں حصہ لینے سے روک دیا ہے

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے افغانستان کی حالت کا جائزہ زمینی سطح پر لینے کے لئے چار دنوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس ملک کو یوں ہی نہیں چھوڑنا چاہئے اور کئی بنیادی حقوق سے محروم وہاں کی جدوجہد کرنے والی خواتین کو عالمی حمایت اور مدد فراہم کرائی جانی چاہئے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد، اقوام متحدہ کی صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے یونٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس اور اقوام متحدہ کے سیاسی، امن سازی کے امور اور امن آپریشنز محکمہ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل خالد خیاری نے افغانستان کا چار روزہ دورہ کیا ہے۔

یہ دورہ وہاں کی صورت حال کا جائزہ لینے، حقیقی حکام کو شامل کرنے اور افغانستان کے رہنے والے عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے اہم ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے حکام نے کابل اور قندھار کے حکام کے ساتھ میٹنگ کی اور حال ہی میں قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے لئے خواتین کے کام کرنے پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بارے میں خبردار کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ ایک ایسا اقدام ہے جو لاکھوں کمزور افغانوں کی مدد کرنے والی کئی تنظیموں کے کام کو کمزور کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ افغانستان حکام نے حال ہی میں اگلی اطلاع تک ملک بھر میں طالبات کے لیے یونیورسٹیوں کو بند کر دیا ہے اور لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کی آمد و رفت کی آزادی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔زیادہ تر کام کے شعبوں سے خواتین کو باہر رکھا گیا ہے۔ خواتین کو پارک، جم اور حمام کا استعمال کرنے پر بھی پابندی ہے۔

محترمہ آمنہ نے کہا، ”میرا پیغام بہت واضح ہے۔ یہ پابندیاں افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کو ان کے گھروں تک محدود کر دیتی ہے، ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور کمیونٹیز کو ان کی خدمات سے محروم کرتی ہیں۔“

محترمہ باہوس نے کہا، ”ہم نے غیر معمولی مزاحمت دیکھی ہے، افغانستان کی خواتین نے ہمیں ان کی ہمت اور عوامی زندگی سے مٹائے جانے کے خلاف مزاحمت کرنے کے اپنے جذبے سے تعارف کرایا۔ وہ اپنے حقوق کے لئے وکالت کرنا اور لڑنا جاری رکھیں گی اور ایسا کرنے میں ان کی حمایت ضرور کرنی چاہیے۔“

لنکڈاِن ڈیٹا کے مطابق سعودی عرب کے ان شعبو‌ں میں ملازمتیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں

0
لنکڈاِن ڈیٹا کے مطابق سعودی عرب کے ان شعبو‌ں میں ملازمتیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں
لنکڈاِن ڈیٹا کے مطابق سعودی عرب کے ان شعبو‌ں میں ملازمتیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں

لنکڈاِن پریس ریلیز کے مطابق سعودی عرب جس طرح ڈیجیٹل انقلاب سے گزر رہا ہے، اس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ڈیٹا اور آٹومیشن کے شعبوں میں ملازمتیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں، اس لیے ہر دس میں چار ملازمتیں سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا انالسز اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں ہو رہی ہیں

ریاض: کاروبار سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنکڈاِن ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے کئی شعبے ہیں جن میں سعودی عرب میں ملازمتیں بڑھ گئی ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق لنکڈاِن ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ ماحولیات اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سعودی عرب میں ایسے شعبے ہیں جن میں ملازمتوں کے مواقع بہت تیزی سے بڑھے ہیں۔

نئے جاری کردہ لنکڈاِن ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیلز، ٹیکنالوجی، اور پائیداری ایسے شعبے ہیں جن میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ تیزی سے بھرتیاں ہو رہی ہیں۔ اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیوں میں بھرتی کے سلسلے میں ماحولیات کا عنصر ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور ماحولیاتی مینیجر ایسی جاب ٹائٹل ہے جسے مملکت میں سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں جن 10 سر فہرست شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع بڑھے ہیں، ان میں سیلز ریپریزنٹیٹو، ایچ آر کے ماہرین، اور ویب سائٹس کے بیک اِنڈ دیولپرز بھی شامل ہیں۔

ماحولیات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی آپریشنز ایسا شعبہ ہے جسے کمپنیاں بہت توجہ دے رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی مینیجرز کی جاب بھی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہے۔

دیگر اہم شعبوں میں ڈینٹل اسسٹنٹس، ٹیلنٹ ایکوزیشن اسپیشلسٹ (یعنی کمپنیوں کے لیے درکار بہترین ٹیلنٹ کو پرکھنے اور ان کا انتخاب کرنے والے)، اور کنٹریکٹ ماہرین بھی شامل ہیں۔

لنکڈاِن پریس ریلیز کے مطابق سعودی عرب جس طرح ڈیجیٹل انقلاب سے گزر رہا ہے، اس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ڈیٹا اور آٹومیشن کے شعبوں میں ملازمتیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں، اس لیے ہر دس میں چار ملازمتیں سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا انالسز اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں ہو رہی ہیں۔

کساد بازاری کے خطرے کے باعث اسٹاک مارکیٹ گر گئی

0
کساد بازاری کے خطرے کے باعث اسٹاک مارکیٹ گر گئی
کساد بازاری کے خطرے کے باعث اسٹاک مارکیٹ گر گئی

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 187.31 پوائنٹس یا 0.31 فیصد گر کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 60858.43 پوائنٹس پر آگیا

ممبئی: امریکی صارفین کی مانگ کے کمزور اعداد و شمار پر دنیا میں ایک بار پھر مندی کا خطرہ منڈلانے کے خدشے کے پیش نظر عالمی بازار کے غوطہ لگانے سے سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر یوٹیلٹیز، پاور سی ڈیز، انرجی اور ایف ایم سی جی سمیت بارہ گروپوں میں فروخت سے شیئر بازار کی گزشتہ مسلسل دو دنوں کی تیزی آج تھم گئی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 187.31 پوائنٹس یا 0.31 فیصد گر کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 60858.43 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 57.50 پوائنٹس یا 0.32 فیصد گر کر 18710 پوائنٹ پر آگیا۔

اس دوران بڑی کمپنیوں کی طرح درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں بھی فروخت ہوئیں۔ اس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 0.06 فیصد گر کر 25,171.93 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.24 فیصد گر کر 28,773.27 پوائنٹس پر آگیا۔ بی ایس ای پر کل 3626 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جن میں سے 1927 فروخت ہوئے 1585 خریدے گئے جبکہ 114 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

اسی طرح این ایس ای میں 34 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی، جبکہ 15 میں تیزی آئی جبکہ ایک میں استحکام رہا۔
بی ایس ای میں 12 گروپس میں کمی درج کی گئی۔ اس عرصے کے دوران یوٹیلٹیز 1.23، پاور 1.02، کموڈٹیز 0.41، سی ڈی 0.69، انرجی 0.69، ایف ایم سی جی 0.83، فنانشل سروسز 0.11، ہیلتھ کیئر 0.37، ٹیلی کام 0.64، آٹو 0.49، بینکنگ 0.380 فیصد اور باقی گروپ میں 0.35 فیصد کمی ہوئی۔

عالمی سطح پر گراوٹ کا رجحان رہا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.65، جرمنی کا ڈیکس 0.88، جاپان کا نکئ 1.44 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.12 فیصد گرا جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.49 فیصد بڑھ گیا۔