پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 196

ایران۔ سعودی عرب تعلقات، اندیشے اور امکانات

0

یہ کیسا المیہ ہے کہ آج وہ طاقتیں جنھیں اسلام اور مسلم مخالف مانا جاتا ہے، وہی ہماری صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں

ڈاکٹر یامین انصاری

ایک عرصہ سے ہم یہ جملہ لکھتے، پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اسلام کو مٹانے کے لئے بڑی بڑی طاقتیں منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے منصوبوں میں دوسرے لوگ اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں، جب ہمارے اپنے اندر کچھ کمزوریاں ہوں۔ اور ہم ان کمزوریوں اور اپنے اعمال و کردار کا محاسبہ کرنا بھول جاتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام یا مسلم دنیا کو جتنا نقصان بیرونی طاقتوں نے پہنچایا ہے، اس سے زیادہ ہمارے اپنے اعمال اور اپنے لوگوں سے اسلام کو نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت بھی اگر مسلم آبادی یا مسلم ممالک کے حالات پر نظر ڈالیں تو اس میں بیرونی طاقتوں سے زیادہ ہمارے اپنے لوگ ہی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔

قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ کہیں علاقائیت کی بنیاد پر، کہیں مسلک کی بنیاد پر، کہیں ذات پات کی بنیاد پر اور کہیں امیر و غریب کی بنیاد پر تفریق و امتیاز نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ جبکہ دعویٰ ہے کہ ہم ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں۔ اگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو بھی رہی ہیں تو ہم ان کے خلاف کیا حکمت عملی اپنا رہے ہیں؟ لکھنے، پڑھنے اور سننے سے آگے ہم نے ان سازشوں کے خلاف عملی طور پر کیا اقدامات کئے ہیں؟ اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ آج وہ طاقتیں جنھیں اسلام اور مسلم مخالف مانا جاتا ہے، وہی ہماری صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم خود اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے اقدامات کرتے، چین جیسے ملک ثالثی اور میزبانی کر رہے ہیں۔

عالم اسلام کے لئے بڑی خوشخبری

موجودہ حالات میں عالم اسلام کے لئے اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایران اور سعودی عرب جیسی دو بڑی طاقتیں اپنے تعلقات استوار کرنے پر متفق ہو جائیں۔ اپنے مفادات کی خاطر ہی صحیح، چین نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کوئی مسلم ملک نہیں کر سکا۔ اس سے پہلے عراق، بحرین اور دیگر کئی ملکوں نے کوشش کی کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو بحال کرکے نہ صرف خطے میں، بلکہ عالم اسلام میں امن قائم کیا جائے، مگر اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔ سعودی عرب اور ایران نے چین کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

عالمی برادری میں اس پیش رفت سے کافی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے نقطہ نگاہ سے اسے دیکھ رہا ہے۔ کوئی اسے چین کے ذریعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے امریکہ کو ایک پیغام دے دیا ہے۔ بہر حال، چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات میں سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العيبان اور ایران کی جانب سے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی شامل تھے۔ دونوں ملکوں نے سات سال بعد تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان مذاکرات کے بعد سعودی عرب اور ایران نے اپنے سفارتی مشن کھولنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات

اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات اور سفارت خانے کھولنے کا عمل دو مہینے کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے سکیورٹی تعاون، تجارت، معیشت، ٹیکنالوجی، سائنس، کلچر، کھیلوں اور امور نوجوانان پر 2001ء اور 1998ء میں ہونے والے معاہدوں کی بحالی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ باہمی تعلقات میں اضافے اور سفارت کاروں کی واپسی کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحالی کی خبر کو عالم اسلام میں ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی رابطے کی ویب سائٹوں پر عام لوگوں کے مثبت تبصروں کے علاوہ کئی مسلم ملکوں نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کا خیرمقدم تو کیا ہے، مگر ساتھ ہی کچھ خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کا اہم کردار ہے، مگر سعودی عرب اور ایران کی قیادتوں کی رضا مندی کے بغیر یہ ناممکن تھا۔ ایران کے موجودہ صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی عرب کے حکمراں شہزادہ محمد بن سلمان کی طرز حکمرانی میں ہی شاید یہ ممکن بھی تھا۔

سلمان اور رئیسی کے اقدامات

محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں، جن پر عالم اسلام میں مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں ان کے کچھ اقدامات کو لوگوں نے سراہا ہے تو کچھ فیصلوں پر تنقید بھی کی ہے۔ وہیں صدر ابراہیم رئیسی کے ذریعہ ایران کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کئے جانے والے اقدامات سے امید کی کرن پیدا ہوئی۔ خاص طور پر انھوں نے مختلف عرب ممالک کے ساتھ رشتوں پر جمی برف پگھلانے کی کوشش کی۔

ابراہیم رئیسی نے آتے ہی اعلان کیا تھا کہ خلیجی ملکوں سمیت ہمسایہ ریاستوں سے تعلقات میں بہتری تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خود ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بھی کہا تھا کہ ’مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔‘ اسی طرح سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایرانی صدر کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تعلقات بحالی میں چین سے زیادہ دونوں ملکوں کی قیادت کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ یعنی جب خود ٹھان لیا کہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہے تو ممکن ہو گیا۔

اس سے پہلے کشیدہ تعلقات کے حامل دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان 2021ء میں مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا، مگر مارچ 2023ء میں بغیر کسی وجہ کے تعطل کا شکار ہو گیا۔ در اصل سعودی عرب میں مختلف سنگین جرائم میں ملوث 81؍ افراد کے سرقلم کر دئے گئے۔ الزام تھا کہ اس میں ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں پھانسیوں کے بعد ایران سمیت مختلف ملکوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ایران نے مملکت میں اجتماعی پھانسیوں کو ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جس پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دوبارہ کشیدہ ہوگئے۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب سعودی عرب نے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو 2016ء میں سزائے موت دی، جس پر ایران کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ پھانسی کی مذمت میں تہران اور مشہد کے اندر واقع سعودی عرب کے سفارتی مشن پر حملے کیے گئے۔ مسلکی اعتبار سے بھی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کا مخالف مانا جاتا ہے۔

شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں مختلف تنازعات میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ یمن اور شام اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں جاری تنازعات اور انتشار کا محور یہی دونوں ملک رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور طاقت آزمائی نے پورے خطے کے امن کو تہہ و بلا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے مفادات کی خاطر امریکہ، یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں کو یہاں پنپنے دینے میں انہی دونوں ملکوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اب جبکہ عالم اسلام کی ان دو بڑی طاقتوں نے تعلقات بحالی کا فیصلہ کیا ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ نہ صرف خطہ میں، بلکہ عالم اسلام میں ایک نئی فضا قائم ہوگی۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا

0
ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا
ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا

اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو روکنے کے معاملے میں وزیر اعلی سکھویندر سکھو نے کہا کہ اگر تمام ادارے کھول دیے جائیں تو کل قرضہ 91 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گا

شملہ: ہماچل پردیش اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن وقفہ سوالات سے پہلے اپوزیشن نے ضابطہ67 کے تحت کام روکو تجویز اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایریا ڈویلپمنٹ ایم ایل اے فنڈ کی آخری قسط جاری کرنے سے متعلق ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن نے بے نتیجہ بحث کے درمیان ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بی جے پی ایم ایل اے وپن سنگھ پرمار نے کہا کہ ہمیں ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کی آخری قسط سے محروم کردیا ہے۔ اختیاری گرانٹ بھی روک دی گئی ہیں۔ مسٹر پرمار نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو ملنے والے فنڈز کے لیے نوٹس دیے گئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے دور میں ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو بڑھا کر 2 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اب مارچ آگیا ہے۔ ابھی تک تیسری قسط نہیں دی گئی۔ نو ایم ایل اے نے یہ تجویز رول 67 کے تحت دی تھی۔

موجودہ حکومت پر الزام لگاتے ہوئے مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ حکومت بدلنے کے بعد کانگریس نے یہ رقم روک لی۔ بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایم ایل اے کو ترقی کے لیے دی جانے والی رقم روک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی ذمہ داری پوری ذمہ داری سے نبھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ ​​جیرام حکومت نے ایم ایل اے کے علاقوں کی ترقی کے لئے ایم ایل اے فنڈ کا التزام کیا تھا۔ سکھو حکومت نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہیے، لیکن حکمراں جماعت کے پارلیمانی وزیر ہرش وردھن چوہان نے کہا کہ یہ تجویز اپوزیشن نے ایک گھنٹہ پہلے دی تھی۔ جس پر حکم جاری کیا جائے گا۔ جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔

اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو روکنے کے معاملے میں وزیر اعلی سکھویندر سکھو نے کہا کہ اگر تمام ادارے کھول دیے جائیں تو کل قرضہ 91 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ اگر ہم مالیاتی نظم و ضبط پر قائم نہیں رہے تو پریشانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کام روکو تجویز تب آتی ہے جب کوئی آفت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر اگنی ہوتری کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر وہ چیمبر میں بیٹھتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا۔ حکومت نظام بدل رہی ہے۔ اگر کام روکو تجویز کو ارکان اسمبلی کے فنڈز کے ساتھ جوڑتے ہیں تو یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ ہمارے ایم ایل ایز کو بھی عوام نے منتخب کیا ہے۔

نتیش نے مسلمانوں کو شب برات کی مبارک باد پیش کی

0

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شب برات کا تہوار مقدس ہے۔ اس موقع پر لوگ پوری رات بیدار رہ کر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہیں

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شب برات کے موقع پر ریاست اور ملک کے لوگوں بالخصوص مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شب برات کا تہوار مقدس ہے۔ اس موقع پر لوگ پوری رات بیدار رہ کر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہیں۔ شب برات کی دعائیں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مبارک رات پر ہم سب خدا سے دعا کریں کہ ہم سب کے درمیان محبت، ہم آہنگی بڑھے اور ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے بہار ترقی کی بلندیوں پر پہنچے۔

تحریکِ آزادی میں مردوں کے ساتھ خواتین کی قربانیاں ناقابل فراموش: شیخ عقیل احمد

0

نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیر اہتمام پرگتی میدان میں منعقدہ عالمی کتاب میلے

نئی دہلی: نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیر اہتمام پرگتی میدان میں منعقدہ عالمی کتاب میلے کے دوران 4/مارچ کو میلے کے تھیم پویلین میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘داستان جنگ آزادی’ کے عنوان سے ایک خوب صورت داستان پیش کی گئی، جس میں خصوصاً تحریک آزادی کی خواتین سپاہیوں کی قربانیوں اور ان کی غیر معمولی حب الوطنی اور جذبہ آزادی کو خراج پیش کیا گیا۔ اس داستان کے تخلیق کار و ڈائریکٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر دانش اقبال تھے، جبکہ داستان گوئی عارفہ جبین اور اظہر الدین اظہر نے کی اور میوزک آرٹسٹ کے طور پر سعادت ایثار اور سید انصرام الحق نے اپنی فنکاری کا مظاہرہ کیا۔

قبل ازاں تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ میں سب سے پہلے این بی ٹی اور خاص طورپر جناب شمس اقبال صاحب کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں، جن کی کوششوں سے کتاب میلے کے دوران یہاں کئی علمی ، ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خصوصاً اس سال جنگ آزادی کا امرت مہوتسو بھی منایا جارہا ہے، جس کے تحت بہت سی تقریبات ہوچکی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں، قومی اردو کونسل کے ذریعے پیش کی جانے والی آج کی یہ داستانِ جنگ آزادی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنگ آزادی کا جب ذکر ہوتا ہے یا اس پر لکھا جاتا ہے تو زیادہ تر مردوں کے ہی نام لیے جاتے ہیں، حالاں کہ ایک بڑی تعداد ان خواتین کی بھی ہے، جنھوں نے تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور اپنے گھربار وغیرہ کی ذمے داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے آزادی کی مختلف تحریکوں میں بھی اہم رول ادا کیا، اس داستان میں ہندوستان کی خواتین مجاہدین آزادی کے کردار پر ہی فوکس کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس داستان کو سننے کے بعد سامعین میں جوش و خروش پیدا ہوگا، وطن سے محبت میں اضافہ ہوگا، تحریک آزادی کے دنوں کے مصائب و مشکلات سے واقفیت ہوگی اور ساتھ ہی یہ سبق بھی ملے گا کہ ہم آج کے وقت میں اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کیا کرسکتے ہیں اور بطور شہری اپنی ذمے داریاں کیسے نبھا سکتے ہیں۔ انھوں نے اس داستان کے تخلیق کار و ڈائریکٹر دانش اقبال اور ان کی پوری ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پروفیسر دانش اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی میں تمام طبقات نے حصہ لیا اور سبھوں کی مشترکہ کوششوں سے ملک آزاد ہوا، ان میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل تھیں مگر ان کا تذکرہ کم ہوتا ہے ، اس لیے ہم نے ان کے مختلف واقعات کو جمع کرکے ایک داستان کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں سارے ناموں کا احاطہ نہیں ہے، کچھ چھوٹ بھی گئے ہیں جنھیں ہم آیندہ شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے یہ رقص کے ذریعے پیش کیا گیا جاچکا ہے، آج اسے داستان کے فارم میں پیش کیا جارہا ہے۔

تمام اداکاروں نے بڑی خوب صورتی سے یہ داستان پیش کی اور رانی ویلونچیار، رانی لکشمی بائی،رانی اونتی بائی، بیگم حضرت محل،بیگم نشاط موہانی، کملانہرو اور کستورباگاندھی وغیرہ کی قربانیوں کی معنی خیز جملوں، خوب صورت اور حوصلہ انگیز اشعار کے ذریعے پیش کش کو سامعین و ناظرین نے خوب پسند کیا اور داد و تحسین سے نوازا۔ اس موقعے پر کونسل کے اسٹاف کے علاوہ بڑی تعداد میں شائقین موجود تھے۔

تین ریاستوں میں بی جے پی کی جیت سے اپوزیشن کو بری طرح دھچکا: دگل

0

انتخابی نتائج سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کے چانکیہ ہیں

نئی دہلی: شمال مشرق کی تین ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت پر دہلی پردیش بی جے پی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کے ایس دگل نے آج کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو بری طرح دھچکا لگا۔

انہوں نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انتخابی نتائج سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کے چانکیہ ہیں کیونکہ جس طرح مسٹر شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے کاموں کو ملک کے شمال مشرقی علاقے میں عام لوگوں تک پہنچایا ہے۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن کو ہر جگہ دھچکا لگ رہی ہے۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ مسٹر اروند کیجریوال نے دہلی کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ صحت مند سیاست میں شفافیت ضروری ہے۔ تب ہی کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ یہ عوام سب کچھ جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سے آج دہلی میں بڑے گھپلے منظر عام پر آ رہے ہیں۔ اس سے صاف ہوگیا ہے کہ مسٹر کیجریوال اقتدار کے نہیں پیسے کے بھوکے ہیں۔ محلہ کلینک، شراب گھپلہ، دہلی جل بورڈ میں گھپلہ، اسکول کے کلاس روم میں گھپلہ سمیت دہلی حکومت کے درجنوں محکموں میں جس طرح سے بڑے گھپلے سامنے آرہے ہیں۔

مسٹر دگل نے کہا کہ مسٹر کیجریوال ہندوستانی سیاست میں واحد وزیر اعلیٰ ہیں جو بغیر کسی محکمے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ پردے کے پیچھے رہ کر گھپلوں کو پناہ دے رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر دہلی کے ریونیو کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال میں ملوث ہیں۔

وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ

0
وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ
وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ

چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اب مرکزی حکومت کی سفارش پر نہیں، بلکہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر صدر کے ذریعہ کی جائے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ جب تک کوئی قانون نہیں بن جاتا، ملک کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر کی جائے گی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اب مرکزی حکومت کی سفارش پر نہیں، بلکہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر صدر کے ذریعہ کی جائے گی۔

جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس اجے رستوگی، جسٹس انیرودھا بوس، جسٹس ہرشیکیش رائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی آئینی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے آزادانہ میکنزم قائم کرنے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقہ کار میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایگزیکٹو کی ہر قسم کی مداخلت سے دور رہنا چاہیے۔

بنچ نے کہا کہ جمہوریت کو جوڑنا اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب تمام اسٹیک ہولڈرز عوام کی مرضی کی عکاسی کرنے کے لئے انتخابی عمل کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کریں۔

بنچ نے کہا کہ ریاست کے تئیں ذمہ داری کی حالت میں کوئی شخص آزادانہ سوچ نہیں رکھ سکتا۔

سپریم کورٹ نے این جی او – ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس، اشونی کمار اپادھیائے، انوپ برنوال اور ڈاکٹر جیا ٹھاکر کی درخواست پر اپنا یہ فیصلہ سنایا۔

ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافے کے اسباب

0

اعداد و شمار تو اپنی جگہ، لیکن ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہوگا ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ تازندگی کسی دوسرے ملک میں رہے، مگر اپنے گھر اور اپنے وطن کو نہیں بھول سکتا۔ ویسے بھی کسی انسان کے لئے اپنا آبائی وطن چھوڑنا زندگی کا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے پس پشت بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ اپنا گھر بار چھوڑنے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنھیں دوسرے ملکوں میں بہتر مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ دولتمند اور ترقی یافتہ ملکوں میں بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے اپنا ملک چھوڑنے کا ارادہ کرلیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی، سماجی اور بہت سے دیگر عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ ان میں عدم تحفظ، عدم انصاف اور عدم تحمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے ملک میں ان امور پر گزشتہ کچھ برسوں کے دوران کافی تنازعہ اور مباحثہ بھی ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ہندوستانیوں کے شہریت چھوڑنے کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں تو سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ہندوستانی باشندوں کے دوسرے ملکوں کا رخ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جب ہم ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایمانداری سے اس کے ہر پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے۔

ایک طرف دعویٰ ہے کہ ہم دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم ’وشو گرو‘ بننے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اپنا وطن چھوڑنے والوں کی تعداد میں سال در سال اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی جہاں ہندوستان جاپان اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے، وہیں ایسے لوگ ہیں جو دوسرے ممالک میں ہندوستان سے زیادہ امکانات دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ دعوے کے مطابق تو جن لوگوں نے ماضی میں وطن چھوڑا ہے، انھیں واپس ہندوستان آجانا چاہئے تھا، مگر ہو اس کے برعکس رہا ہے۔

دراصل گزشتہ سال دو لاکھ 25؍ ہزار سے زیادہ شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی اور بیرون ملک میں جا کر آباد ہو گئے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک سال میں ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی یہ تعداد اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خود پارلیمنٹ میں یہ اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ۱۲؍برسوںمیں۱۶؍ لاکھ لوگ ہندوستان چھوڑ کر بیرون ملک بس گئے ہیں۔

حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2011ء سے اب تک 16؍ لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں نے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 2؍ لاکھ 25؍ ہزار 620؍ ہندوستانی وہ ہیں جنہوں نے پچھلے سال ہندوستانی شہریت چھوڑی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے 12؍ سال میں شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں 60؍ فیصد اضافہ ہوا۔ 2011ء سے اب تک ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی کل تعداد 16؍ لاکھ 63؍ ہزار 440؍ ہے۔ 2011ء میں ایک لاکھ 22؍ ہزار 819؍ ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی، جبکہ 2022ء میں یہ تعداد 60؍ فیصد بڑھ کر 2؍ لاکھ 25؍ ہزار 620؍ تک پہنچ گئی۔ 2011ء کے بعد سے ہر سال شہریت ترک کرنے والے ہندوستانیوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2012ء میں ایک لاکھ 20؍ ہزار 923؍، 2013ء میں ایک لاکھ 31؍ ہزار 405؍، 2014ء میں ایک لاکھ 29؍ ہزار 328؍، 2015ء میں ایک لاکھ 31؍ ہزار 498؍، 2016ء میں ایک لاکھ 41؍ ہزار 603؍، 2017ء میں ایک لاکھ 33؍ ہزار 49؍، 2018ء میں ایک لاکھ 34؍ ہزار 561؍، 2019ء میں ایک لاکھ 44؍ ہزار 17؍، 2020ء میں 85؍ ہزار 256؍ ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی۔ ان ہندوستانی شہریوں نے دنیا کے 135؍ مختلف ممالک کی شہریت حاصل کی ہے۔

اعداد و شمار تو اپنی جگہ، لیکن ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہوگا ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اتنی بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کے اپنی شہریت ترک کرنے سے یہ سوال بھی اٹھنا فطری ہے کہ یہ لوگ اپنی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں اور کون لوگ ہیں جو اپنی شہریت ترک کر رہے ہیں؟ کیا شہریت ترک کرنے والے سبھی لوگ بہتر مواقع یا روزگار اور ملازمتوں کے لئے دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے ہیں؟ یا کچھ صاحب ثروت لوگ بھی ہندوستان کو خیر باد کہہ رہے ہیں؟ یا پھر ملک میں بڑھتی منافرت، عدم تحفظ کا احساس اور عدم تحمل بھی اس کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے؟ پہلی نظر میں لگتا ہے کہ لوگ بہتر تعلیم اور روزگار کے لئے بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں، لیکن سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں خوشحال اور صاحب ثروت لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔

برطانیہ کی انویسٹمنٹ مائیگریشن کنسلٹنسی کمپنی ہینلے اینڈ پارٹنرز کی گزشتہ سال کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایک سال میں ہندوستان کے 8؍ ہزار کروڑ پتی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے ساتھ ہندوستان اب امیروں کی نقل مکانی کے معاملے میں سر فہرست تین ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ ہائی نیٹ ورتھ انفرادی وہ لوگ ہیں جن کے اثاثے 8؍ اعشاریہ 25؍ کرروڑ روپے (10؍ لاکھ ڈالر) یا اس سے زیادہ ہیں۔

ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں میں اگر ’کروڑ پتیوں‘ کی اتنی تعداد ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ’لکھ پتی‘ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ تاہم ایسے ’کروڑ پتی‘ لوگوں کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ در اصل جب ان صاحب ثروت لوگوں کے وطن چھوڑنے کی وجہ پر غور کریں تو اس کی بنیادی وجہ خود کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ لوگ ملک کی معاشی صورت حال اور عدم تحفظ کے احساس کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہوئے وطن چھوڑ رہے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں صحت، تعلیم اور بہتر طرز زندگی جیسی مضبوط بنیادی سہولیات بھی اس کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ جرائم کی شرح میں کمی کے سبب بھی لوگ ان ممالک کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان عام ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں پیسہ کمانے کے بعد جیسے ہی امیر لوگوں کو موقع ملتا ہے، ترقی یافتہ ممالک میں آباد ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متوسط گھرانوں کے نوجوان تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ترقی یافتہ ممالک کا رخ کررہے ہیں۔ جو نوجوان حصول تعلیم کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، ان میں سے اکثر کو اپنے اجداد کی زمین جائداد فروخت کرنا پڑتی ہے یا بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پر تقریباً 25؍ سے 30؍ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب انھیں وہیں روزگار میسر ہوتا ہے تو پھر وہ وہیں آباد ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ملک میں بڑھتے عدم تحمل کے رجحان کو بھی ایک بڑی وجہ مان رہے ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا تھا کہ وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستانی شہریوں نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنی شہریت ترک کر دی ہے۔

آخر یہ ذاتی وجہ کیا ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال پہلے مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کیا تھا۔ اس کے بعد کافی تنازعہ بھی ہوا تھا۔ خود حکمراں طبقے کی جانب سے ان لوگوں کو دوسرے ملکوں میں جانے کے مشورے دئے جانے لگے تھے۔ ایک دو معروف فلمی ہستیوں نے بھی کہا تھا کہ اب ’ملک میں ڈر لگتا ہے‘۔ اس کے بعد ان لوگوں کو اس حد تک نشانہ بنایا گیا، کہ اب کوئی دوسرا اس طرح کا اظہار نہیں کرتا۔ شاید اسی عدم برداشت کا ان شخصیات نے ذکر کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ملک سے باہر جانے والوں اور شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو اس کی کچھ تو وجوہات ہوں گی۔ جن کے بارے میں حکومت کو معلومات حاصل کرنا چاہئے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

جاوید اختر کے لئے پاکستان میں اور گئو رکشکوں کے لئے ہندوستان میں تالیاں کیوں بجیں؟

0

جب قاتلوں کی حمایت میں پنچایتیں اور زانیوں کی حمایت میں ریلیاں ہونے لگیں تو اس معاشرے کی تنزلی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

حال ہی میں دوایسے واقعات رونما ہوئے، جن پر خوب تالیاں بجائی گئیں۔ ان میں ایک واقعہ پاکستان میں اور دوسرا واقعہ ہندوستان کے ہریانہ میں پیش آیا۔ اگرچہ دونوں واقعات کی نوعیت الگ تھی اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ کا پیغام بھی مختلف تھا۔ دونوں ہی واقعات میں بنیادی فرق یہ تھا کہ جس بات پر پہلے ’یہاں‘ تالیاں بجتی تھیں، اُس بات پر ’وہاں‘ تالیاں بج رہی ہیں اور جن لوگوں کی حمایت میں پہلے ’وہاں‘ ریلیاں اور جلسے ہوتے تھے، اب اُسی طرح کے لوگوں کے لئے ’یہاں‘ ریلیاں اور پنچایتیں ہو رہی ہیں۔

ان ریلیوں اور پنچایتوں میں ٹھیک اسی طرح کی بھیڑ قاتلوں اور مجرموں کی تائید و حمایت کرتی نظر آ رہی ہے، جیسے پہلے وہاں کے جلسوں میں نعرے بلند کئے جاتے تھے اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ یعنی دونوں معاشروں میں تبدیلی آئی ہے۔ لیکن اب یہاں جس طرح کے حالات پیدا ہو رہے ہیں اور معاشرے میں نفرت کی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں، وہ کسی بھی مہذب معاشرے اور ترقی پذیر ملک کے لئے سود مند نہیں۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پہلے وہاں بھی یہ طبقہ بہت محدود تھا اور آج یہاں بھی اس طرح کی حرکتیں کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ یعنی ان حالات کو عمومی طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

حالیہ واقعات پر مختصر روشنی

جن دو واقعات کا شروع میں ذکر کیا گیا ہے، حالات و واقعات کو سمجھنے کے لئے ان پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان کا نام آتے ہی سب سے پہلے ایک دشمن ملک، دہشت گردوں کا معاون و مددگار، انتہا پسندی و شدت پسندی کا پالنہار اور ایک ناکام ریاست کا خیال ذہن میں آتا ہے اور اس میں کوئی مبالغہ آرائی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ وہاں کے عوام اور ’سول سوسائٹی‘ میں اس طرح کے رجحانات عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتے، جیسے کہ پاکستان کا نام آتے ہی ذہن میں ابھرتے ہیں۔

ادب و ثقافت، کھیل کود اور فنکاری کے شعبے سے وابستہ افراد ہمیشہ نفرت کے ماحول کے خلاف رہے ہیں اور ان کی آمد رفت بھی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی ناکامیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہیں کے لوگ پاکستان میں بیٹھ کر ہی تالیاں بجاتے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پہلے بھی پاکستانیوں کا رد عمل اسی طرح ہوتا تھا یا اب وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے عاجز آ گئے ہیں؟ یہ سوال مشہور نغمہ نگار جاوید اختر کے حالیہ بیان کے بعد ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔

فیض فیسٹیول

در اصل حال ہی میں پاکستان میں معروف شاعر فیض احمد فیض کے تعلق سے ’فیض فیسٹیول‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں ہندوستان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بھی شرکت کی۔ یہاں سوال جواب کے دوران جاوید اختر نے کہا کہ ’ہمیں ایک دوسرے پر الزام نہیں لگانا چاہیے، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، فضا گرم ہے، اسے سدھارنا چاہیے۔ ہم لوگ ممبئی کے لوگ ہیں، اور ہم نے اپنے شہر پر حملہ ہوتے دیکھا ہے۔ حملہ آور ناروے یا مصر سے نہیں آئے تھے اور وہی لوگ اب بھی آپ کے ملک میں گھوم رہے ہیں۔ لہذا، اگر یہ شکایت ایک ہندوستانی کے دل میں ہے، تو آپ کو برا نہیں لگنا چاہیے۔‘

اس کے بعد وہاں موجود پاکستانی عوام نے ان کے اس بیان پر خوب تالیاں بجائیں۔ ہندوستان میں بھی ان کے بیان کی سوشل میڈیا وغیرہ پرخوب تعریف ہوئی۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی جاوید اختر کی تعریف کرنے سے خود کو روک نہیں سکے۔ اگرچہ پاکستان کے ایک حلقے میں نہ صرف جاوید اختر بلکہ وہاں تالیاں بجانے والوں پر خوب لعن طعن کی گئی۔ کئی اہم شخصیات اور میڈیا سے وابستہ افراد کو یہ بات ناگوار گزری کہ جاوید اختر پاکستان میں آ کر ہی پاکستان کو آئینہ دکھا گئے۔ لیکن سچائی پر کوئی پردہ نہیں ڈال سکتا۔ معاملہ چاہے یہاں کا ہو یا وہاں کا، دنیا کے سامنے حقیقت آشکار ہو ہی جاتی ہے۔

ادھر ہریانہ میں ’گؤ کشی‘ یا ’گؤ رکشا‘ کے نام پر جس طرح قتل و غارتگری کا ننگا ناچ چل رہا ہے، وہ ہمارے ملک کے مستقبل اور معاشرے کے لئے کسی بھی طرح سود مند نہیں۔ کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور قانون کے رکھوالے یا تو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا پھر براہ راست یا پھر در پردہ قاتلوں اور مجرموں کی تائید و حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت، پولیس اور انتظامیہ سبھی ان حالات کی سنگینی کو نظر انداز کر رہے ہیں، مگر آنے والے وقت میں یہ حالات ملک اور معاشرے کے لئے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ نہیں ہے۔

جنید اور ناصر کا بہیمانہ قتل

در اصل 15؍ اور 16؍ فروری کے درمیان راجستھان کے بھرت پور کے رہنے والے جنید اور ناصر نامی دو مسلم نوجوانوں کا بہیمانہ قتل کر دیا گیا۔ الزام ہے کہ بجرنگ دل سے وابستہ ’گؤ رکشکوں‘ نے پہلے دونوں کو بری طرح زدو کوب کیا اور پھر مویشیوں کی اسمگلنگ کے شبہ میں بولیرو سمیت دونوں کو زندہ جلا دیا۔ دونوں کی لاشیں ہریانہ کے ضلع بھوانی کے گاؤں لوہارو کے پاس بر آمد ہوئی تھیں۔ اس پورے معاملے میں ہریانہ پولیس کا کردار بھی شک کے دائرے میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان پولیس کی لاپروائی اور بے حسی بھی سامنے آئی ہے۔

در اصل مقتولین کا تعلق راجستھان سے ہے اور ان کا قتل ہریانہ میں ہوا ہے، اس لئے دونوں ریاستوں کی پولیس اس کی تحقیقات میں شامل ہے۔ واقعہ کے دس دن بعد بھی ملزمین کے خلاف جس طرح کی کارروائی ہوئی ہے، اس نے انصاف کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔ ہریانہ پولیس کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے وقت رہتے کارروائی نہیں کی۔ اگر ہریانہ پولیس چاہتی تو نہ صرف مقتولین کو بچا سکتی تھی، بلکہ مجرمین کو بھی گرفتار کر سکتی تھی۔ لیکن جس طرح کے انکشافات ہو رہے ہیں اور پولیس کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آ رہے ہیں، اس سے تو انصاف کی امید لگانا ہی بے معنی ہے۔ وہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق راجستھان پولیس نہ جانے کس دباؤ میں نہ صرف کلیدی ملزم کا نام ملزمین کی فہرست سے ہٹا دیا، بلکہ مقتولین کے اہل خانہ کو ہی نقض امن کے لئے نوٹس جاری کر دیا۔ خبر نگاری کرنے والوں اور سماجی کارکنان کو بھی نہیں چھوڑا۔ ایسے میں آپ انصاف کی کیا امید کر سکتے ہیں۔

مجرموں کی حمایت حیران کن

حکومت، پولیس اور انتظامیہ نے تو مایوس کیا ہی ہے، عوام کا نظریہ اور رویہ اس سے بھی زیادہ حیران کن اور تشویشناک ہے۔ ہم کیسے کسی مہذب اور انصاف پسند معاشرے سے یہ امید کر سکتے ہیں کہ عام لوگ قاتلوں اور مجرموں کی حمایت کریںگے، قانون اور پولیس کو دھمکیاں دیں گے اور تالیاں بجائیں گے۔ اس سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا ملک اور معاشرہ بہت تیزی سے تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تا دم تحریر جنید اور ناصر کے قتل کے ملزمین کی حمایت میں کم از کم تین ’مہا پنچایتیں‘ ہو چکی ہیں۔

ان پنچایتوں میں اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی اور انہیں دھمکیاں تو دی ہی جا رہی ہیں، پولیس کے پیر توڑ دینے کا بھی انتباہ دیا جا رہاہے۔ پنچاتوں میں شر پسند عناصر آئین اور قانون کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں۔ ایک ہندو تنظیم کے لیڈر نے کہا کہ ’اگر راجستھان پولیس کارروائی کے لیے آتی ہے تو وہ اپنے پیروں پر واپس نہیں جا پائے گی۔ پولیس کو یقین دہانی کرانی چاہیے کہ مونو مانیسر کے خاندان کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔‘ اس کے بعد پوری پنچایت تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھتی ہے۔ تالیوں کی یہ گڑگڑاہٹ بتاتی ہے کہ پنچایتوں میں جمع ہونے والے ہزاروں افراد مجرموں کی تائید اور حمایت کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ اب ہمارے یہاں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ لیکن اس سے بالکل بے خبر کہ یہ تبدیلی ملک اور معاشرے کو کس سمت لے جا کر چھوڑے گی۔ تالیاں یہاں بھی بج رہی ہیں، تالیاں وہاں بھی بج رہی ہیں، مگر دونوں طرف تالیاں کیوں بج رہی ہیں، اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے: شردپوار

0
ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے: شردپوار
ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے: شردپوار

شرد پوار نے کوکن میلہ کے ایک اجلاس میں کہا کہ ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے تاکہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکے

ممبئی: ملک میں مذہب کے نام پر سیاست خطرناک، ہمیں فرقہ پرستوں کے مقابل متحد رہنا ہے تاکہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سربراہ شرد پوار نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ شب کوکن میلہ کے ایک اجلاس میں کیا۔ شرد پوار نے اپنی جامع تقریر کے دوران انجمن اسلام کے سابق صدر ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا، سابق وزیر اعلی عبدالرحمن انتولے، ڈاکٹر رفیق زکریا، معین الدین حارث اور رضوان حارث صاحب کی سیاسی، سماجی اور ملی خدمات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انھوں نے ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا کے بارے میں کہا کہ جمخانہ والا نے انجمن اسلام کی صدارت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ادارے کی ترقی میں اہم رول ادا کیا تھا اور ان کے کاموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ ہمیں متحد ہو کر ملک اور ریاست کیلئے کام کرنا چاہئے۔ نفرت کی فضاء سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ کچھ فرقہ پرست طاقتیں ہیں، ملک میں نفرت پھیلا رہی ہیں۔ ان طاقتوں سے نمٹنے کیلئے لمبی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔ نفرت کا بیج بونے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

شرد پوار نے اپنے دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کراچی میں ہونے والے کرکٹ میچ دیکھنے میں پاکستان گئے اور میچ ہندوستان نے جیت لیا تھا۔ دوسرے دن ہم کراچی کے ایک ہوٹل میں ہم کھانا کھانے گئے۔ کھانے کا بل جب ادا کرنے لگے تو ہوٹل مالک نے رقم لینے سے انکار کردیا۔ اس وقت محسوس ہوا کہ ایک انسان دوسرے انسان سے کتنا محبت کرتا تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہیں اور وہ بات نہیں دکھائی دیتی ہے؟ کچھ لوگ اور ادارے ہیں جو نفرت کی بیچ بور ہے ہیں۔ ان سے ہمیں مقابلہ کرنا ہو گا۔

کوکن میلہ

انہوں نے کوکن میلہ منعقد کرنے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کوکن کے انواع و اقسام کے کھانوں کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے وہاں کی سوکھی مچھلیوں کا بھی تذکرہ کیا اور مختلف کھانوں کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے کوکن میلے میں شرکت کا موقع ملا۔ میں نے کوکن میلے کے بارے میں سن رکھا تھا۔ کورونا کی وجہ سے سب کام کاج ٹھپ پڑ گیا تھا اور اس وجہ سے کوکن میلہ بھی نہیں لگایا جا سکا تھا۔ کوکن میلے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہاں کوکن کو پیش کیا جاتا ہے اور اس میلے میں کوکن کی الگ الگ چیزیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ شرد پوار نے رتنا گیری، دایولی، راجا پور اور دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ سرمئی اور بومبیل مچھلی کا ذکر کیا۔

انجمن اسلام کے نائب صدر مشتاق انتولے نے اپنی تقریر میں کہا کہ سیاست میں بہت کم ایسے لیڈر ہوتے ہیں کہ جو سنسل پچاس ساٹھ سال سے قائد کا ذ مہ داری ادا کر رہے ہیں ۔ آج ہم سب کی کوکن میلے کی انجمن اسلام کی ، اور آرگنائز رکی خوش قسمتی ہے کہ پوار صاحب ہمارے درمیان موجود ہیں بشیر جوانی نے اپنی تقریر کے آغاز میں شرد پوار کی شان میں خوبصورت شعر پڑھا اور ان کی تعریف بیان کی۔

انھوں نے کہا کہ آج ہمارے کوکن کے لیے اس سے بڑی اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ اس کوکن میلے میں شرد پوار صاحب تشریف لائے ہیں۔ میں کوکن کے تمام لوگوں کی طرف سے شرد پوار صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بشیر جوانی نے کوکن میلے منعقد کرنے کا سبب بیان کرتے بتایا کہ دوسرے دن روزگار کے سیشن کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا ہے جس کی وجہ سے اتوار کے دن بھی روز گار میشن رکھا گیا ہے۔

اس کوکن میلے کو بشیر ایم جوانی فاؤنڈیشن اور اس کے صدر بشیر جوانی نے اسپانسر ڈ کیا ہے اور ان کے ساتھ کوکن مرکنٹائل بینک اور انجمن اسلام نے اشتراک کیا ہے۔ اسٹیج پر مشتاق انتولے نجیب ملا عمران علوی، کمال مساند لیکر، نسیم صدیقی محمد علی پائنکر اور دیگر رضا کار اور مہمانان میں جامع مسجد ٹرسٹ کے چیئر مین شعیب خطیب، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب احمد حسینی، ڈاکٹر عزیز ساونت سلیم الوارے اور دیگر موجود تھے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر قاسم امام نے انجام دیئے۔ آج تیسرے روز میلہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔

‘لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ کا رویہ سخت، پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم

0
'لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ کا رویہ سخت، پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم
'لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ کا رویہ سخت، پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم

ریاستی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ساکال ہندو سماج اتوار کو ممبئی میں ایک عوامی اجلاس منعقد کرنے والا ہے کہ اسکو اس طرح کی شرط کے ساتھ منظوری دی جائے گی کہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے

ممبئی: عروس البلاد میں مبینہ ‘لو جہاد کے خلاف‘ ساکال ہندو نامی تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کا حکم دیا ہے ،اس سے قبل نکالی گئی ریلی اور جلسہ میں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے اور اشتعال انگیزی کی گئی تھی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ساکال ہندو سماج اتوار کو ممبئی میں ایک عوامی اجلاس منعقد کرنے والا ہے کہ اسکو اس طرح کی شرط کے ساتھ منظوری دی جائے گی کہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ نومبر سے، جب اس نے "تبدیلی مذہب” اور "لو جہاد” کے خلاف عوامی اجلاس کا سلسلہ شروع کیا، ساکال ہندو سماج نے ریاست کے 36 میں سے 20 سے زیادہ اضلاع کا احاطہ کیا ہے۔

ممبئی میں منعقد ہونے والی ریلی شہر میں سماج کی تیسری ریلی ہوگی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’لو جہاد اور ہندوؤں کی مذہبی تبدیلی کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں‘‘۔

اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سینئر وکیل کپل سبل کے اس مطالبے کو قبول کر لیا، جو عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے، کہ میٹنگ کی ویڈیو گرافی کی جائے، تاکہ راست رپورٹنگ کی جاسکے۔ پولیس کو میٹنگ کی ویڈیو گرافی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو کا مواد اسے دستیاب کرایا جائے۔ سماج میں دائیں بازو کی تنظیمیں شامل ہیں جیسے وی ایچ پی، بجرنگ دل، ہندو جن جاگرتی سمیتی، ہندو پرتستان، درگا واہنی، وشو شری رام سینا اور سناتن سنستھا۔

دریں اثنا، بہت سے گروپوں اور تنظیموں نے ممبئی کے پولیس کمشنر وویک پھانسالکر کو خط لکھ کر ساکال ہندو سماج کے جلسہ عام کی اجازت نہ دینے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اشتعال انگیزی کے باوجود انہیں اجازت دی گئی ہے۔