منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 195

بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں: کیجریوال

0
بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں: کیجریوال
بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں: کیجریوال

اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں، اس کے برعکس بجٹ میں مہنگائی بڑھے گی، بے روزگاری دور کرنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بدھ کو کہا کہ اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں بلکہ اس بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

مسٹر کیجریوال نے بجٹ پر اپنے رد عمل میں کہا، ’’دہلی والوں کے ساتھ پھر سے سوتیلا برتاؤ۔ دہلی والوں نے گزشتہ سال 1;46;75 لاکھ کروڑ سے زیادہ انکم ٹیکس دیا۔ اس میں صرف 325 کروڑ روپے دہلی کی ترقی کے لئے دئے۔ یہ تو دہلی والوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں۔ اس کے برعکس بجٹ میں مہنگائی بڑھے گی۔ بے روزگاری دور کرنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں۔‘‘

وزیر اعلی نے کہا کہ تعلیمی بجٹ گھٹا کر 2;46;64 فیصد سے 2;46;5 فیصد کرنا بد قسمتی ہے۔ اسی طرح صحت بجٹ گھٹا کر 2;46;2 فیصد سے 1;46;98 فیصد کرنا نقصاندہ ہے۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے کہا، ’’نہ کسان، نہ جوان، نہ نوجوان۔ بجٹ میں کسی کے لئے کوئی التزام نہیں ہے۔ امرت کال میں امرت کے لئے ترس رہا ہے ’عام انسان‘۔ سرمایہ کاروں کی لوٹ ہوئی آسان۔

عام بجٹ: موبائل فون سستے، زیورات مہنگے

0
عام بجٹ: موبائل فون سستے، زیورات مہنگے
عام بجٹ: موبائل فون سستے، زیورات مہنگے

سونے، چاندی اور پلاٹینم سے بنے زیورات پر ٹیکس 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے، مصنوعی زیورات پر ٹیکس کی شرح بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے

نئی دہلی: مختلف قسم کے ٹیکسوں میں کمی کی وجہ سے دیسی موبائل فون اور ٹی وی سیٹ، ہندوستانی ساختہ کچن کی چمنیاں اور جھینگا فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والی فیڈ سستی ہوجائیں گی جبکہ ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے درآمد شدہ کاریں، سائیکل، سونا- چاندی اور پلاٹینم کے زیورات اور مصنوعی زیورات مہنگے ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں عام بجٹ کی پیشکشی کے دوران مختلف قسم کے سامان پر عائد ٹیکسوں میں تبدیلی کی تجاویز کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے موبائل فون کیمروں اور ان کے کچھ پرزوں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا بھی اعلان کیا۔ اسی طرح ٹی وی پینلز کے اوپن شیل پرزوں پر بنیادی درآمداتی ڈیوٹی کو کم کر کے 2.5 فیصد کر دیا گیا ہے جس سے یہ سستا ہو جائے گا۔

کچن کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے لگائی جانے والی دیسی چمنیاں سستی ہو جائیں گی۔ کچن کی چمنیاں بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ہیٹ کوائلز پر کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کردی گئی ہے جس سے دیسی کچن کی چمنیاں سستی ہو جائیں گی۔ تاہم درآمداتی کچن چمنی پر ڈیوٹی 7.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے سے یہ مہنگا ہو جائے گا۔

کیکڑے کی فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والا چارہ جو بیرون ملک برآمد کیا جائے گا وہ سستا ہو جائے گا۔ چارے کی تیاری میں استعمال ہونے والے مختلف مواد پر ٹیکس کم کرنے سے چارہ سستا ہو جائے گا۔ کمپریسڈ بائیو گیس کو ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس گیس سے کئی قسم کے انجن چلتے ہیں۔ حکومت نے کئی قسم کے کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز پر درآمداتی ڈیوٹی فری کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

سائیکلوں پر درآمداتی ڈیوٹی 30 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سی کے ڈی گاڑیوں (کاروں) پر درآمداتی ڈیوٹی 30 سے ​​بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔ سی بی یو گاڑیوں (کاروں) پر درآمداتی ڈیوٹی 60 سے بڑھا کر 70 فیصد کر دی گئی ہے۔ الیکٹرک سی بی یو وہیکل (کار) ٹیکس 60 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔ الیکٹرانک کھلونوں کے علاوہ کھلونوں اور ان کے پرزوں پر ٹیکس 60 سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کمپاؤنڈ ربڑ پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

چاندی پر ٹیکس کی شرح 7.5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ہے۔ چاندی کی سلاخوں پر ٹیکس کی شرح 6.1 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سونے، چاندی اور پلاٹینم سے بنے زیورات پر ٹیکس 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مصنوعی زیورات پر ٹیکس کی شرح بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

سابق وزیر قانون شانتی بھوشن کا انتقال

0
سابق وزیر قانون شانتی بھوشن کا انتقال
سابق وزیر قانون شانتی بھوشن کا انتقال

مسٹر شانتی بھوشن 1960 کی دہائی کے اواخر میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو کانگریس سے باہر نکالنے کے دور میں قائم ہونے والی کانگریس آرگنائزیشن (کانگریس او) پارٹی کے رکن تھے

نئی دہلی: مرارجی دیسائی حکومت میں وزیر قانون رہنے والے سینئر وکیل شانتی بھوشن کا منگل کے روز انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 97 برس تھی۔

مسٹر شانتی بھوشن 1960 کی دہائی کے اواخر میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو کانگریس سے باہر نکالنے کے دور میں قائم ہونے والی کانگریس آرگنائزیشن (کانگریس او) پارٹی کے رکن تھے۔ یہ پارٹی 1977 میں جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی تھی۔

ایمرجنسی کے بعد 1977 کے انتخابات میں جنتا پارٹی کی جیت کے بعد انہیں مرارجی دیسائی حکومت میں وزیر قانون بنایا گیا تھا۔ بعد میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے لوک پال کے لیے انا ہزارے کی قیادت والی تحریک کی بھی بھر پور حمایت کی۔

مسٹر شانتی بھوشن اور ان کے بیٹے پرشانت بھوشن 2012 میں وجود پذیر ہونے والی عام آدمی پارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے، حالانکہ دونوں جلد ہی اس نومولود سیاسی پارٹی سے الگ ہو گئے تھے۔

اساتذہ کی تقرری: سی بی آئی جانچ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا

0
اساتذہ کی تقرری: سی بی آئی جانچ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا
اساتذہ کی تقرری: سی بی آئی جانچ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا

جسٹس بسواجیت بوس نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کے کام کرنے کے انداز سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سی بی آئی نے منگل کی صبح ایک سیل بند لفافے میں رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد جج نے برہمی کا اظہار کیا

کلکتہ:  کلکتہ ہائی کورٹ نے نویں اور دسویں کے اساتذہ کی بھرتی معاملے میں سی بی آئی کی جانچ کے طریقے کار پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔

جسٹس بسواجیت بوس نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کے کام کرنے کے انداز سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سی بی آئی نے منگل کی صبح ایک سیل بند لفافے میں رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد جج نے برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ایک سرکردہ تفتیشی ایجنسی کی طرف سے اس طرح کی غلطی قابل قبول نہیں ہے۔ وکیل کی فائل میں سی بی آئی کی رپورٹ میں جو کچھ ہے، اس سے زیادہ معلومات موجود ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سی بی آئی کی ساکھ اس سے خراب ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے سے کوڑا کرکٹ ہٹائیں اور قابل لوگوں کو جگہ دیں۔

اسی وقت جسٹس بسواجیت بوس بھی ایس ایس سی کے کردار میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ ساری ذمہ داری عدالت کی ہے، آپ کو کسی نے دھوکہ دیا، آپ خاموش بیٹھے رہیں گے، آپ اتنے ڈرتے کیوں ہیں، جو ہوا اسے مٹاتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں، آپ اپنی طاقت کا استعمال کیوں نہیں کر رہے؟

شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے: ممتا بنرجی

0
شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے: ممتا بنرجی
شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے کہا کہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ کے نام پر مرکز لوگوں کو الجھا رہے ہیں۔ ہم ایک طویل عرصے سے متواس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، لیکن جب انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی اپنے دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے پاس جاتی ہے

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو الزام لگایا کہ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت شہریت (ترمیمی) ایکٹ کو نافذ کرنے کے نام پر لوگوں کو الجھا رہی ہے۔ بنرجی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس متوا کمیونٹی کے لوگوں کا خیال رکھتی ہے، جن کی جڑیں بنگلہ دیش میں ہیں، اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ سی اے اے کے نام پر دوست کے طور پر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ کے نام پر مرکز لوگوں کو الجھا رہے ہیں۔ ہم ایک طویل عرصے سے متواس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، لیکن جب انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی اپنے دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے پاس جاتی ہے۔

متواس، جو اصل میں مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) سے تعلق رکھتے تھے، نے 1950 کی دہائی میں مغربی بنگال کی طرف ہجرت شروع کی۔

سی اے اے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو شہریت دینے میں سہولت فراہم کرتی ہیں، چونکہ حکومت کی طرف سے ابھی تک ایکٹ کے تحت قواعد وضع نہیں کیے گئے ہیں، اس لیے اب تک کسی کو بھی اس کے تحت شہریت نہیں دی جا سکی ہے۔

بنرجی نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر ریاست کے واجبات جاری نہیں کرنے کا بھی الزام لگایا۔ممتا بنرجی نے کہا کہ آپ (مرکز) بنگال کے 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے مقروض ہیں، ہمیں ہمارے واجبات دے دیں۔

بنرجی نے پہلے الزام لگایا تھا کہ مرکز مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم کے لیے فنڈز جاری نہیں کر رہا ہے۔

مغربی بنگال کے مالدہ اور مرشد آباد کے اضلاع میں زیادہ تر دریا کے کٹاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس معاملے کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمارا سب سے بڑا چیلنج دریا کے کٹاؤ کو روکنا ہے؛ مرکز اب اس کی دیکھ بھال نہیں کر رہا ہے۔ ہمیں ان سے 700 کروڑ روپے ملنے والے ہیں۔

دنیا بھر میں نسل پرستی، عدم برداشت، مسلم دشمنی بڑھتی دیکھ رہے ہیں: اقوام متحدہ

0
دنیا بھر میں نسل پرستی، عدم برداشت، مسلم دشمنی بڑھتی دیکھ رہے ہیں: اقوام متحدہ
دنیا بھر میں نسل پرستی، عدم برداشت، مسلم دشمنی بڑھتی دیکھ رہے ہیں: اقوام متحدہ

ڈنمارک میں ترک سفارت خانے کے سامنے مسلمانوں کی مقدس کتاب جلانے کے چند گھنٹے بعد اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ نے نفرت انگیز تقریر کو بھڑکایا جس سے مجرموں کو اپنا جھوٹ، سازشیں اور دھمکیاں پھیلانے میں مدد ملی

اقوام متحدہ: کوپن ہیگن کی ایک مسجد کے قریب اسلام مخالف شخص کی جانب سے ڈنمارک میں ترک سفارت خانے کے سامنے مسلمانوں کی مقدس کتاب جلانے کے چند گھنٹے بعد اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ نے نفرت انگیز تقریر کو بھڑکایا جس سے مجرموں کو اپنا جھوٹ، سازشیں اور دھمکیاں پھیلانے میں مدد ملی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے معاملے سے متعلق کی گئی 8 پوڈ کاسٹ گفتگو میں سے ایک میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا بھر میں زینو فوبیا، نسل پرستی، عدم برداشت، خواتین کے خلاف پرتشدد بدگمانی، یہود دشمنی اور مسلم دشمنی بڑھتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ پوسٹ کاسٹ گفتگو اقوام متحدہ کی اس مہم کا حصہ ہیں جس عنوان ’نفرت کے خلاف متحد‘، ہے اور اس کا مقصد بڑھتے ہوئے مسئلے کے اثرات اور ممکنہ حل تلاش کرنا ہے۔

انتونیو گوتیرس نے نوٹ کیا کہ لبرل جمہوریتوں اور آمرانہ حکومتوں دونوں میں کچھ سیاسی رہنما نفرت انگیز خیالات اور زبان کو مرکزی دھارے میں لا رہے ہیں اور اس طرح سے وہ اس رویے کو معمول کی کارروائی بنا رہے ہیں۔

21 جنوری کو سویڈن میں نفرت انگیز مہم کا آغاز

راسموس پالوڈن جس نے ڈنمارک میں مقدس کتاب کو نذر آتش کیا تھا، وہ بھی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے نفرت انگیز خیالات کو بڑھاوا دے رہا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے ایسی حرکتوں کے پیچھے لوگوں کے بارے میں کہا۔ راسموس پالوڈن کے پاس ڈنمارک اور سویڈن دونوں ملکوں کی شہریت ہے، اس نے 21 جنوری کو سویڈن میں قرآن پاک جلاتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کرکے نفرت انگیز مہم کا آغاز کیا۔ اس نے اسی طرح کی مذموم حرکت جمعہ کے روز کوپن ہیگن میں ترکیہ کے سفارت خانے سامنے بھی کی اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ سویڈن کی نیٹو میں شمولیت تک ہر جمعہ کو احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈنمارک میں بھی انتہائی دائیں بازو کے ڈینش سیاستدان راسموس پلودان نے قرآن پاک کے نسخے کو مسجد کے سامنے نذر آتش کردیا تھا، واقعے کے بعد ترکیہ حکام نے ڈنمارک کے سفیر کو طلب کر لیا تھا۔

افسوس ناک واقعے سے قبل 21 جنوری کو سویڈن میں ترکیہ سفارت خانے کے باہر ڈنمارک کے انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے رہنما کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی تھی۔

سویڈن، نیدرلینڈ اور ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف پاکستان اور افغانستان سمیت ایران اور دیگر مسلم ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

پاکستان میں کشتی پلٹنے سے مدرسے کے 11 طلباء ہلاک

0
پاکستان میں کشتی پلٹنے سے مدرسے کے 11 طلباء ہلاک
پاکستان میں کشتی پلٹنے سے مدرسے کے 11 طلباء ہلاک

ریلیف اور ریسکیو تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بچے ڈیم پر تفریحی پروگرام کے لیے آئے تھے۔ یہ بچے مدرسے سے آئے تھے

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہاٹ میں ٹانڈہ ڈیم کے آبی ذخائر میں کشتی پلٹنے سے گیارہ بچوں کی موت ہو گئی ہے۔

کوہاٹ کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) فرقان اشرف نے افسوسناک واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کشتی میں 30 افراد سوار تھے جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

راحت اور ریسکیو ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے تھے، غوطہ خوروں نے واقعہ کے بعد 16 بچوں کو بچا لیا۔ ریلیف اور ریسکیو تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بچے ڈیم پر تفریحی پروگرام کے لیے آئے تھے۔ یہ بچے مدرسے سے آئے تھے۔

ڈی سی اشرف نے بتایا کہ پشاور سے غوطہ خوروں کی ٹیم بلائی گئی ہے جو ایک سے دو گھنٹے میں جائے واقع پر پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈوبنے والے تقریباً 16 بچوں کو ہسپتال لے جایا گیا، جب کہ 11 کی موت ہوگئی۔ پاکستانی فوج کی امدادی ٹیمیں بھی جائے واقع پر پہنچ گئی ہیں۔ ریلیف آپریشن جاری ہے۔

ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد فارنسک سائنسدانوں کی ضرورت: شاہ

0
ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد فارنسک سائنسدانوں کی ضرورت: شاہ
ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد فارنسک سائنسدانوں کی ضرورت: شاہ

مسٹر شاہ نے کہ ہم چھ سال سے زیادہ قید کے ساتھ تمام جرائم کی سزا کے لیے فارنسک ثبوت کو لازمی کرنے جا رہے ہیں، اس کے لیے 50,000 سے زیادہ فارنسک سائنسدانوں کی ضرورت ہوگی

ہبلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کو کہا کہ چھ سال سے زیادہ قید کی سزا والے جرائم کے لئے فارنسک ثبوت کو لازمی بنانے کے مرکز کے اقدام کے لئے ملک بھر میں 50,000 سے زیادہ فارنسک سائنسدانوں کی ضرورت ہوگی۔

مسٹر شاہ نے یہاں کہا کہ ”ہم چھ سال سے زیادہ قید کے ساتھ تمام جرائم کی سزا کے لیے فارنسک ثبوت کو لازمی کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے 50,000 سے زیادہ فارنسک سائنسدانوں کی ضرورت ہوگی اور فارنسک سائنس میں تربیت حاصل کرنے سے سائنس کے طلباء کے لیے کے بہت سے مواقع پیدا ہوں گے۔“

مسٹر شاہ یہاں کے ایل ای ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (کے ایل ای ٹی یو) کے انڈور اسٹیڈیم کا افتتاح کرنے اور بی وی بی امرت مہوتسو کا افتتاح کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فارنسک سائنس جلد ہی ملک کا ایک بڑا شعبہ ہو گا۔

ہندوستان کی اقتصادی ترقی

مسٹر شاہ نے کہا کہ نیشنل فارنسک سائنسز یونیورسٹی (این ایف ایس یو) کا قیام فارنسک سائنس کے شعبے کے لیے تربیت یافتہ انسانی وسائل فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھارواڑ میں این ایس یو میں آف کیمپس سہولت گاندھی نگر میں واقع این ایف ایس یو کا ساتواں کیمپس ہے اور نوجوانوں کے لیے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ بعد میں مسٹر شاہ نے دھارواڑ میں این ایف ایس یو آف کیمپس سہولت کے لئے سنگ بنیاد رکھی۔

مسٹر شاہ نے نوجوانوں کے لیے ’مودی کے وژن‘، تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے کے لئے کئے گئے اقدام اور دیگر پروگراموں کے بارے میں بھی بات کی۔ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں سے 2047 تک ملک کو تمام شعبوں میں نمبر ون بنانے اور اس سے متعلق مسٹر مودی کی اپیل کا جواب دینے کے لئے ہاتھ ملانے کے لئے بلایا۔

اس سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی امیت شاہ کے یہاں پہنچنے پر وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے زبردست استقبال کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر پرہلاد جوشی اور ریاستی بی جے پی صدر نلین کمار کٹیل اور دیگر معززین موجود تھے۔

مودی پر بنی دستاویزی فلم ’دی مودی کویسچن‘ پر پابندی لگانا جمہوریت پر حملہ: پوار

0
مودی پر بنی دستاویزی فلم ’دی مودی کویسچن‘ پر پابندی لگانا جمہوریت پر حملہ: پوار
مودی پر بنی دستاویزی فلم ’دی مودی کویسچن‘ پر پابندی لگانا جمہوریت پر حملہ: پوار

مسٹر پوار نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی میڈیا گروپ کی طرف سے بنائی گئی دستاویزی فلم پر پابندی لگانے کا فیصلہ پوری طرح جمہوریت پر حملہ ہے

کولہاپور: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے ہفتہ کو کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کا وزیر اعظم نریندر مودی پر مبنی دستاویزی فلم ’دی مودی کویشچن‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ جمہوریت پر حملہ ہے۔

مسٹر پوار نے یہاں ایک ہوٹل میں آج صبح منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی میڈیا گروپ کی طرف سے بنائی گئی دستاویزی فلم پر پابندی لگانے کا فیصلہ پوری طرح جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مذہبی مسائل پر اپنا ووٹ نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ’بھارت جوڑو‘ دورے کی حمایت کی اور مختلف مقامات پر اس میں شامل بھی ہوئے لیکن مرکزی حکومت نے مسٹر گاندھی کی ایک مختلف تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔ مسٹر گاندھی کو عام لوگوں کی طرف سے ملنے والی زبردست حمایت کی وجہ سے حکومت اپنی کوشش میں مکمل طور پر ناکام رہی۔

ریاستی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے مجوزہ استعفیٰ کی بحث پر، مسٹر پوار نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج اور دیگر عظیم لوگوں پر کئی متنازعہ بیان بازی کرنے والے شخص سے ریاست کے لوگوں کو آزاد کیا جا رہا ہے۔

بی جے پی آنے والے اسمبلی انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی


مسٹر پوار نے کہا کہ ایک سروے نے اشارہ دیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آنے والے اسمبلی انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی اور اسی بنیاد پر ہم تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ ہر ریاست کے مختلف مسائل ہیں اور انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی سے مختلف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تال میل پر بات چیت شروع ہوگی۔

مسٹر پوار نے ونچیت بہوجن اگھاڑی (وی بی اے) کے لیڈر پرکاش امبیڈکر کے اس بیان کی تردید کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپوزیشن کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی جیسی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ مسٹر مودی مرکزی تفتیشی نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

شیو سینا (ٹھاکرے) اور وی بی اے کے درمیان اتحاد پر اپنا رخ واضح کرتے ہوئے مسٹر پوار نے کہا کہ ”ہم نے ابھی تک وی بی اے کے ساتھ بات چیت نہیں کی ہے۔ ایم وی اے کے طور پر ہم آنے والے انتخابات کا متحد ہوکر سامنا کریں گے اور ہم ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔“

اسٹاک مارکیٹ میں مچا کہرام

0
اسٹاک مارکیٹ میں مچا کہرام
اسٹاک مارکیٹ میں مچا کہرام

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 773.69 پوائنٹس یا 1.27 فیصد گر کر 60205.06 پوائنٹس پر آگیا

ممبئی: عالمی مارکیٹ میں ملے جلے رجحان کے درمیان مقامی سطح پر ایس بی آئی، ایکسس بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک اور آئی سی آئی سی آئی بینک سمیت 23 کمپنیوں میں 4.30 فیصد کی فروخت کے دباؤ کے درمیان آج اسٹاک مارکیٹ میں کہرام مچ گیا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 773.69 پوائنٹس یا 1.27 فیصد گر کر 60205.06 پوائنٹس پر آگیا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 206.70 پوائنٹس یا 1.14 فیصد گر کر 17911.60 پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے آگیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 1.52 فیصد گر کر 24,657.39 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.94 فیصد گر کر 28,154.89 پوائنٹس پر آگیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل 3646 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2394 فروخت ہوئے 1122 خریدے گئے جبکہ 130 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 35 کمپنیوں کے حصص گرے جبکہ باقی 15 میں اضافہ ہوا۔

بی ایس ای پر میٹل گروپ میں 0.10 فیصد کے اضافے کو چھوڑ کر، باقی 19 میں کمی کے رجحان میں تھے۔ اس عرصے کے دوران کموڈٹیز 1.27، سی ڈی 0.81، انرجی 1.76، فنانشل سروسز 2.11، ہیلتھ کیئر 1.11، انڈسٹریز 1.03، آئی ٹی 0.84، ٹیلی کام 2.06، یوٹیلٹیز 2.87، بینکنگ 2.42، کیپٹل 2.11، پاور کنس، پاور 2.16، پاور 2.16، پاور ڈویلپمنٹ، 2.16۔ 1.92، ٹیک 0.69 اور سروسز گروپ کے حصص میں 2.92 فیصد کمی ہوئی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں ملا جلا رجحان رہا۔ اس دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.16 اور جرمنی کا ڈیکس 0.79 فیصد گرا جبکہ جاپان کا نکئی 0.35، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.82 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.76 فیصد بڑھ گیا۔