بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 181

اتر پردیش: لکھیم پور میں اندوہناک حادثہ، گیس سلنڈر دھماکہ کے بعد چھت گرنے سے 2 افراد کی موت، 6 زخمی

0
اتر-پردیش:-لکھیم-پور-میں-اندوہناک-حادثہ،-گیس-سلنڈر-دھماکہ-کے-بعد-چھت-گرنے-سے-2-افراد-کی-موت،-6-زخمی

اتر پردیش کے لکھیم پور میں جمعہ کو گیس سلنڈر میں دھماکہ ہونے سے چھت گر گئی۔ اس حادثہ میں ماں-بیٹے کی موت ہو گئی جبکہ چھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ گنیش پرساد ساہا نے بتایا کہ لکھیم پور کھیری کے تھانہ پسگنوا کے ایک قصبے میں چائے بناتے وقت سلنڈر پھٹ گیا جس سے مکان کی چھت گر گئی۔ اس واقعہ میں دو لوگوں کی موت ہو گئی اور چھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔

پڑوسیوں نے بتایا کہ فیملی کی ایک خاتون چائے بنانے کے لیے باورچی خانہ میں گئی تھی۔ یہاں پہلے سے ہی گیس سلنڈر میں لیکیج تھا۔ جیسے ہی خاتون نے گیس جلانے کے لیے ماچس جلائی تو آگ لگ گئی۔ پھر زوردار دھماکہ کے ساتھ سلنڈر پھٹ گیا۔

موقع پر پہنچی پولیس نے آس پاس کے لوگوں کی مدد سے ملبہ میں دبے فیملی کے دیگر لوگوں کو باہر نکالا۔ ان کو نزدیکی اسپتال لے جایا گیا، لیکن حالت سنگین ہونے کے سبب سبھی کو ہائر سنٹر ریفر کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ لگا جیسے کہیں کوئی زلزلہ یا بم دھماکہ ہوا ہے۔ ہم گھر کے باہر نکلے تو دیکھا ببو کا مکان زمیں دوز ہو گیا تھا۔ سبھی لوگوں نے دوڑ کر پہلے ملبہ ہٹایا، اور اسی دوران پولیس کو بھی خبر دی گئی۔

بہار: ارریہ میں صحافی کا برسرعام گولی مار کر قتل، اہل خانہ میں دہشت کا ماحول

0
بہار:-ارریہ-میں-صحافی-کا-برسرعام-گولی-مار-کر-قتل،-اہل-خانہ-میں-دہشت-کا-ماحول

بہار کے ارریہ ضلع واقع رانی گنج علاقے میں بے خوف بدمعاشوں نے جمعہ کے روز ایک روزنامہ کے صحافی ومل کمار کا گولی مار کر قتل کر دیا اور بلاخوف انداز میں وہاں سے چلتے بنے۔ پولیس کے مطابق جمعہ کی صبح رانی گنج کے پریم نگر واقع رہائش سے صحافی ومل کمار کو جرائم پیشوں نے بلایا۔ جیسے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلنے والے تھے، ویسے ہی جرائم پیشوں نے انھیں گولی مار دی۔ گولی لگنے سے ان کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے طمابق جرائم پیشوں کی تعداد چار سے پانچ تھی جو بائک پر سوار ہو کر آئے تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دو سال قبل ومل کے بڑے بھائی کا قتل بھی جرائم پیشوں نے کیا تھا۔ اس معاملے میں ومل اہم گواہ تھے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گواہ ہونے کی وجہ سے ہی بدمعاشوں نے انھیں نشانہ بنایا ہو۔

پولیس نے ومل کی لاش کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ارریہ صدر اسپتال بھیج دیا ہے اور پورے معاملے کی سبھی زاویے سے جانچ شروع کر دی ہے۔ ومل کمار کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔ واقعہ کے بعد سے اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔ اس واقعہ سے صحافیوں میں بھی زبردست غم و غصہ کا ماحول ہے۔

والدین یا ساس-سسر کا خیال نہیں رکھا تو ملکیت سے ہو جائیں گے بے دخل، راجستھان ہائی کورٹ کا حکم

0
والدین-یا-ساس-سسر-کا-خیال-نہیں-رکھا-تو-ملکیت-سے-ہو-جائیں-گے-بے-دخل،-راجستھان-ہائی-کورٹ-کا-حکم

والدین ہوں یا پھر ساس-سسر، اگر وہ اپنے بچوں کے سلوک یا دیکھ بھال کو لے کر ان سے ناراض ہوں تو وہ اپنی ملکیت سے انھیں بے دخل کر سکتے ہیں۔ اس تعلق سے راجستھان ہائی کورٹ نے اپنا ایک اہم فیصلہ صادر کیا ہے جس میں کہا ہے کہ بزرگ والدین کی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال نہیں کیے جانے کی صورت میں وہ اپنی ملکیت سے انھیں باہر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

راجستھان ہائی کورٹ نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ بزرگ جوڑے اگر بچوں یا پھر رشتہ داروں کے سلوک سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کا ٹھیک سے خیال نہیں رکھا جا رہا ہے تو وہ اپنی ملکیت سے انھیں دور کر سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، بزرگ کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے مینٹیننس ٹریبونل یعنی ایس ڈی او کورٹ کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ بزرگ افراد کی طرف سے آنے والی گزارشات کے بعد بیٹے-بہو یا پھر کسی دیگر رشتہ دار کو ان کی ملکیت پر کسی طرح کے دعوے کو بے دخل کرتے ہوئے مسترد کر سکتا ہے۔

راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اے جی مسیح اور جسٹس سمیر جین کی دو رکنی بنچ نے یہ حکم عدالت کی سنگل بنچ کی طرف سے 2019 میں 12 ستمبر کو اوم پرکاش سین بمقابلہ دیوی کیس کو لے کر دیا۔ دو رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ سمیت ملک کے کئی ہائی کورٹ کی طرف سے مینٹیننس ٹریبونل کے پاس ملکیت سے جڑی بے دخلی کی طاقت کو منظوری دی گئی ہے۔ معاملے سے جڑی اگلی سماعت 27 اگست کو ہونی ہے۔

راجستھان ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ان بزرگوں کو بہت راحت ملی ہے جس میں وہ اپنے بچوں یا رشتہ داروں کی طرف سے بہتر سلوک نہیں کیے جانے کو لے کر ناراض رہتے ہیں اور انھیں کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ میں ریفرینس طے نہیں ہونے کی وجہ سے اس طرح سے جڑے کئی معاملے اٹکے پڑے ہیں۔ ریفرنس طے نہیں ہونے سے عدالت فیصلہ نہیں سنا پا رہی تھی۔ یہاں تک کہ کورٹ کی سنگل بنچ کے پاس بھی اس طرح کی کئی عرضیاں زیر التوا پڑی ہوئی تھیں۔ حالانکہ اب مانا جا رہا ہے کہ ریفرنس طے کیے جانے کی وجہ سے اس طرح کے کیسز کا جلد نمٹارا کیا جا سکے گا۔

کشمیر: سوپور میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو معاونین گرفتار، اسلحہ و گولہ بارود بر آمد

0
کشمیر:-سوپور-میں-لشکر-طیبہ-سے-وابستہ-دو-جنگجو-معاونین-گرفتار،-اسلحہ-و-گولہ-بارود-بر-آمد

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس نے شمالی قصبہ سوپور میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو معاونین کو گرفتار کرکے ان کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور فوج کی 52 آر آر کی ایک مشترکہ پارٹی نے شیر کالونی تارزو میں قائم ایک چیک پوائنٹ پر دو مشتبہ افراد کو روکا جنہوں سیکورٹی فورسز کو دیکھتے ہی فرار ہونے کی کوشش کی۔

انہوں نے بیان میں کہا: ‘تاہم سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے دونوں کو بر سر موقع ہی دھر لیا’۔ بیان میں گرفتار شدگان کی شناخت منظور احمد بٹ ولد عبدالرشید بٹ اور تنویر احمد لون ولد غلام محمد لون ساکنان در نبمل تارزو کے بطور کی گئی۔ پولیس بیان میں کہا گیا کہ دونوں کا تعلق کالعدم جنگجو تنظیم لشکر طیبہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلاشی کے دوران ان کی تحویل سے 2 گرینیڈ، 8 پستول اور دوسرا قابل اعتراض مواد بر آمد کیا گیا۔ بیان کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی گئی ہے۔

ہماچل پردیش میں بڑے پیمانے پر تباہی، 55 دنوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے 113 واقعات، 330 افراد لقمہ اجل

0
ہماچل-پردیش-میں-بڑے-پیمانے-پر-تباہی،-55-دنوں-میں-لینڈ-سلائیڈنگ-کے-113-واقعات،-330-افراد-لقمہ-اجل

شملہ: ہماچل پردیش میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے۔ شملہ کے لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اب تک 74 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ شملہ کے شیو مندر کے ملبے سے ایک اور لاش برآمد ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چمبا ضلع میں مزید دو لوگوں کی موت کے بعد ریاست میں بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 74 ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماچل پردیش میں اتنی تباہی کیوں ہوئی ہے؟ تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ ماہرین ارضیات نے اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔

پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ سڑک کو چوڑا کرنے کے نام پر پہاڑوں کو غلط طریقے سے کاٹا جا رہا ہے۔ پہاڑوں کی تعمیر اور جنگلات کا کم ہونا ہمالیہ کی عمر کو کم کر رہا ہے۔ تعمیر کی وجہ سے پہاڑوں میں شگاف پڑ رہے ہیں۔ ہماچل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ عالم یہ ہے کہ یہاں دو سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 6 گنا اضافہ ہوا ہے۔ صرف اس مانسون کے 55 دنوں میں 113 لینڈ سلائیڈنگ ہو چکی ہے۔ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق واقعات میں 330 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ماہرین ارضیات کے مطابق سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لیے ہماچل کے پہاڑوں کو سیدھا کاٹا جا رہا ہے۔ اس دوران پہاڑوں کے دامن کی چٹانیں بھی کاٹی جا رہی ہیں۔ ایسا کرنے سے نکاسی آب کا نظام ختم ہو گیا ہے۔ اس نے ہماچل کے ڈھلوان علاقوں کو لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بنا دیا ہے۔ تعمیرات کے دوران سرنگوں میں پھٹنے اور ہائیڈرو پراجیکٹس کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ہمالیائی خطہ میں کس سطح پر تعمیراتی کام چل رہا ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہماچل میں 68 سرنگیں بنائی جا رہی ہیں۔ ان میں سے 11 مکمل ہو چکے ہیں، 27 زیر تعمیر ہیں اور 30 ​​تفصیلی پراجیکٹ رپورٹس تیار ہیں۔ ان میں سے بہت سے منصوبے مرکز کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ پراجیکٹ اسی طرح چلتے رہے تو ریاست میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

دریں اثنا، ہماچل پردیش میں، لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں کی تعداد بڑھ کر 17120 ہو گئی ہے۔ ان میں سے 675 مقامات ایسے ہیں جہاں آبادی ہے۔ شملہ میں کئی سرکاری عمارتیں ہیں جو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کی زد میں ہیں۔

نوح فسادات میں گروکل کو بچانے والے بھادس کے سرپنچ شوکت علی ’امن ایوارڈ‘ سے سرفراز

0
نوح-فسادات-میں-گروکل-کو-بچانے-والے-بھادس-کے-سرپنچ-شوکت-علی-’امن-ایوارڈ‘-سے-سرفراز

نوح تشدد کے دوران بھادس گاؤں میں فسادیوں کے ہجوم سے لڑ کر گروکل کی حفاظت کرنے کے لیے ملک بھر میں سراہے جانے والے بھادس گاؤں کے سرپنچ شوکت علی کو انتظامیہ اور مقامی ہندو برادری نے یوم آزادی کے موقع پر اعزاز سے نوازا ہے۔ شوکت علی تشدد کے دن گاؤں والوں کے ساتھ لاٹھیاں لے کر فسادیوں کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔ اس گاؤں کی 95 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ فسادیوں نے اپنے چہروں پر کپڑا باندھ رکھا تھا اور ان کی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ اتاری ہوئی تھی۔ 400-500 فسادیوں کے اس ہجوم نے برے ارادے سے گروکل پر حملہ کیا، تو شوکت علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان سے بھڑ گئے، مقامی مسلمانوں کو گروکل کے اطراف سے لڑتے دیکھ کر فسادی واپس چلے گئے۔ چند گھنٹوں بعد فسادیوں نے پھر گروکل پر حملہ کیا لیکن سرپنچ شوکت علی نے دوبارہ انہیں کھدیڑ دیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے شوکت علی مقامی دیہاتیوں کو ساتھ لے کر 24 گھنٹے گروکل میں رہے۔ بھادس کے گروکل میں 30 طلبا رہتے ہیں اور ہندو مذہب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

سرپنچ شوکت علی کو ان کے کام کے لیے مقامی ہندو سماج اور انتظامیہ نے اعزاز سے نوازا ہے۔ آچاریہ مہارشی دیانند گروکل اور گوشالہ کے ڈائریکٹر آچاریہ ترون کے مطابق ’’تشدد کے دن 12 بجے تک سب کچھ پرسکون تھا لیکن اس کے بعد کئی جگہوں سے منفی خبریں آئیں، خوف پھیل گیا کیونکہ یہاں ہندو آبادی صرف 5 فیصد ہے، حالانکہ اس کے بعد سرپنچ جی آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ طالب علم اور ہم گروکل کے اندر محفوظ ہیں، پھر انہوں نے اور ہم دونوں نے گاؤں کے کچھ لوگوں کو یہاں بلایا۔ سرپنچ جی باہر گروکل کے دروازے پر بیٹھ گئے، جب فسادیوں کا ہجوم 2 بار آیا تو بھادس گاؤں کے مقامی لوگوں نے سرپنچ شوکت علی کی قیادت میں انہیں اندر نہیں آنے دیا۔ ہجوم میں شامل لوگ مقامی نہیں تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ راجستھان کی سرحد سے آئے ہوں گے۔‘‘

نگینہ علاقہ میں پڑنے والے بھادس کے سرپنچ کو فیروز پور جھرکہ کے سب ڈویژنل افسر ڈاکٹر چنار چہل کے ہاتھوں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے اور گروکل کی حفاظت کے لیے بہترین شہری ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس دوران ڈاکٹر چنار چہل نے سرپنچ شوکت علی کی بہت تعریف کی۔ بھداس میں پرنسپل رہے نانک چند نے بھی شوکت علی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف گروکل کی حفاظت کی بلکہ پورے علاقے کو آگ میں جلنے سے بھی بچا لیا۔ آچاریہ ترون آریہ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اسی گاؤں کی سابق سرپنچ، انجو بالا نے کہا کہ جہاں شوکت علی مبارکباد کے مستحق ہیں، وہیں پورے گاؤں کو اس کے لیے سراہا جانا چاہیے کیونکہ پورے گاؤں نے باہر کے لوگوں کے بہکاوے میں آئے بغیر امن قائم کرنے کے لیے مثبت کوششیں کیں۔‘‘

اعزاز حاصل کرنے کے بعد پرجوش شوکت علی نے بتایا کہ ’’فسادیوں نے گروکل پر دو بار حملہ کیا تھا۔ ایک بار ناکام ہونے کے بعد انہوں نے سوچا کہ ہم ہٹ جائیں گے اور ان کا راستہ صاف ہو جائے گا لیکن ہم نہیں ہٹے، ہم ڈٹے رہے اور ان کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ انہوں نے مجھے ٹانگ میں گولی مارنے کی دھمکی دی، اس لیے اگر آپ مجھے سینے میں گولی مار دیں گے تو میں نہیں ہٹوں گا، میں مرتے دم تک گروکل کی حفاظت کروں گا۔ اس کے بعد جھگڑا ہوا اور وہاں سے چلے گئے، ہم نے پولیس کو بلانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ جلد نہ آ سکے۔ میں گاؤں کا سرپنچ ہوں، یہاں ہماری سوسائٹی کی آبادی زیادہ ہے، میں اپنی جان دے دیتا لیکن گروکل میں پڑھنے والے بچوں کو تکلیف نہیں ہونے دیتا۔ آج مجھے سکون ہے کہ میں نے اپنے گاؤں کو جلنے سے بچایا۔‘‘

لون اکاؤنٹ میں جرمانے پر آر بی آئی نے بینکوں کو ہدایات کیں جاری

0
لون-اکاؤنٹ-میں-جرمانے-پر-آر-بی-آئی-نے-بینکوں-کو-ہدایات-کیں-جاری

نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے نئی ہدایات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت لون اکاؤنٹس میں جرمانے سے متعلق کئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ بینکوں اور ریگولیٹڈ اداروں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے قرض کھاتوں پر جرمانے کے آپشن کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ریزرو بینک نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس کے تحت اس نے بینکوں کو بتایا ہے کہ وہ قرض کھاتوں پر جرمانے کے اصولوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ آر بی آئی نے یہ فیصلہ کئی حالیہ پیش رفت کے بعد لیا ہے جس میں بینک قرض پر وصول کیے جانے والے سود میں جرمانہ شامل کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر قرض لینے والوں سے سود کے اوپر سود لے رہے ہیں۔ آر بی آئی نے نئے رہنما خطوط کا اعلان کیا ہے، تاکہ قرض کے ڈیفالٹ کی صورت میں، بینکوں کے ذریعہ عائد جرمانہ کو تعزیرنہیںی چارج سمجھا جائے گا تعزیری سود کے طور پر۔

ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پلیٹ فارم پر ان تبدیل شدہ قوانین کے بارے میں معلومات دی ہیں اور اس ایکس پوسٹ میں آر بی آئی کے سرکلر کو شامل کیا ہے۔ اس پر جا کر ان تبدیل شدہ رہنما خطوط کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

آر بی آئی کے سرکلر کے مطابق، یہ نئی ہدایات اگلے سال یعنی یکم جنوری 2024 سے لاگو ہوں گی۔ تمام کمرشل بینک بشمول سمال فنانس بینک، لوکل ایریا بینک اور علاقائی دیہی بینک اس اصول کے دائرے میں آئیں گے اور یہ اصول ادائیگی بینکوں پر بھی لاگو ہوگا۔ تمام پرائمری اربن کوآپریٹو بینک، این بی ایف سی اور ہاؤسنگ فائنانس کمپنیاں تمام ہندوستانی مالیاتی ادارے جیسے ایگزم بینک، نابارڈ، این ایچ بی، ایس آئی ڈی بی آئی اور این بی ایف آئی ڈی بھی آر بی آئی کے ان رہنما خطوط کے دائرے میں آئیں گے۔

عباس انصاری کی بیوی نکہت بانو چترکوٹ جیل سے رہا، 6 مہینے پہلے ہوئی تھی گرفتار

0
عباس-انصاری-کی-بیوی-نکہت-بانو-چترکوٹ-جیل-سے-رہا،-6-مہینے-پہلے-ہوئی-تھی-گرفتار

لکھنؤ: جیل میں قید زورآور لیڈر مختار انصاری کی بہو اور ایم ایل اے عباس انصاری کی بیوی نکہت بانو کو چترکوٹ کی رگولی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ نکہت چھ ماہ تک جیل میں قید رہیں۔ رہائی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمل میں آئی ہے۔ نکہت پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر جیل میں بند اپنے ایم ایل اے شوہر سے ملنے جاتی تھیں۔ انتظامیہ نے 10 فروری کو چھاپہ ماری کے دوران انہیں گرفتار کیا تھا۔

نکہت بانو کو جمعرات کی شام دیر گئے رہا کیا گیا۔ وہ گھر جانے کے لیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ جیل سے نکلیں۔ اس سے پہلے 11 اگست کو سپریم کورٹ نے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے ایم ایل اے عباس انصاری کی بیوی نکہت بانو کو ضمانت دے دی تھی۔ جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے راحت دیتے ہوئے کہا کہ عرضی گزار ایک خاتون ہے اور ایک سال کے بچے کی ماں ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے کہا کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ درخواست گزار خاتون ہے اور اس کا ایک سال کا بچہ ہے اور اس پس منظر میں درخواست گزار پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ ٹرائل کورٹ کی جانب سے مناسب شرائط عائد کی جا رہی ہیں۔ ضمانت کی دوسری شرائط میں سے ایک یہ ہوگی کہ ٹرائل کورٹ سے مناسب احکامات ملنے کے بعد ہی وہ اپنے شوہر سے ملنے کے لیے جیل جا سکیں گی۔

سپریم کورٹ نے نکہت بانو کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ان پر عائد ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی نہ کریں۔ نکہت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 29 مئی کو ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

خیال رہے کہ 10 فروری کو پولیس اور ضلع انتظامیہ نے چترکوٹ ڈسٹرکٹ جیل پر چھاپہ مارا تھا۔ انتظامیہ کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عباس انصاری کی اہلیہ نکہت سے ملاقات کی اطلاع ملی تھی۔ ساتھ میں ان کا ڈرائیور نیاز بھی تھا۔ نکہت بانو سے متعدد موبائل فونز اور غیر ملکی کرنسی سمیت دیگر سامان برآمد ہوا۔ بعد ازاں نکہت بانو اور نیاز دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر گواہوں کو دھمکیاں دینے، اپنے شوہر کے لیے جیل میں سہولیات فراہم کرنے، جیل حکام اور ملازمین کو لالچ اور تحائف دینے کا الزام ہے۔

پولیس نے جیل وارڈن جگ موہن، جیلر سنتوش کمار، جیل سپرنٹنڈنٹ اشوک کمار ساگر اور ڈپٹی جیلر چندر کلا کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں عباس انصاری، نکہت بانو، نیاز، خان اور نونیت سچان کے خلاف پہلے ہی چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ سب انسپکٹر شیام دیو سنگھ کی شکایت پر 11 فروری کو کاروی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مؤ سے ایم ایل اے عباس انصاری منی لانڈرنگ کیس میں جیل میں قید ہیں۔

اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کو ‘غیر مستحکم’ کرنے میں بی جے پی کے کردار پر شرد پوار کی تنقید

0
اپوزیشن-کے-زیر-اقتدار-ریاستی-حکومتوں-کو-‘غیر-مستحکم’-کرنے-میں-بی-جے-پی-کے-کردار-پر-شرد-پوار-کی-تنقید

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے جمعرات کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مناسب طور پر منتخب اپوزیشن کی حکمرانی والی ریاستی حکومتوں کو کمزور کرنے میں اس کے کردار پر تنقید کی۔ مہاراشٹر کے بیڈ میں ایک ریلی کے دوران پوار نے کہا کہ اگرچہ بی جے پی مستحکم حکمرانی کی وکالت کرتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ دیگر قانونی طور پر منتخب پارٹیوں کی ریاستی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرتی ہے۔

یوم آزادی پر لال قلعہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پوار نے کہا ’’15 اگست کو پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ‘میں دوبارہ آؤں گا۔’ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ایسا ہی وعدہ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے بھی کیا تھا۔ وہ اقتدار میں ضرور واپس آئیں گے لیکن کمتر عہدے پر۔‘‘

پوار نے موجودہ حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے ذات پات، مذہب اور زبان پر مبنی تفرقہ انگیز حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ خیال رہے کہ مہاراشٹرا میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)، کانگریس اور شیوسینا کے اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

ایم وی اے اتحاد کے معمار سمجھے جانے والے شرد پوار کو ایک اور جھٹکا اس وق لگا جب ان کے بھتیجے اجیت پوار نے بھی بغاوت کر دی۔ اجیت نے ایکناتھ شندے کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت کے ساتھ اتحاد کیا اور نائب وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ان واقعات کے بعد سے شرد پوار این سی پی کے باغیوں کو یہ باور کرانے کے لیے مسلسل ریلیاں کر رہے ہیں کہ وہ غفلت میں غلط جگہ پر چلے گئے ہیں۔

موسم کا حال: دہلی سے بہار تک بارشوں کی پیش گوئی، کئی ریاستوں میں پارہ 35 ڈگری سیلسیس سے تجاوز

0
موسم-کا-حال:-دہلی-سے-بہار-تک-بارشوں-کی-پیش-گوئی،-کئی-ریاستوں-میں-پارہ-35-ڈگری-سیلسیس-سے-تجاوز

نئی دہلی: ملک بھر کی کئی ریاستوں میں بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار رہا ہے، جب کہ کئی ریاستوں میں مانسون کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہلکی نمی کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، جمعہ (18 اگست) کو قومی دارالحکومت میں موسم صاف رہنے کی توقع ہے۔ 19 اور 20 اگست کو بارش کے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سیلسیس ہوسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 18 اگست بروز جمعہ کو اتر پردیش میں موسم صاف رہنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں 19 اور 20 اگست کو ہلکی بوندا باندی ہوگی جس کے بعد پورے ہفتے موسم صاف رہے گا۔ محکمہ کے مطابق بارش کی کمی کی وجہ سے ریاست کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش میں جمعہ (18 اگست) سے موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ 18 اگست کو ریاست میں بعض مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ 19 اور 20 اگست کو بھی بارش کا امکان ہے۔ بہار میں کم بارش کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو ہلکی گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیشن گوئی کے مطابق 18 اگست بروز جمعہ ریاست کے بعض علاقوں میں اگلے تین گھنٹوں تک موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ جمعرات 17 اگست کو ریاست میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

اتراکھنڈ اور ہماچل میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ اتراکھنڈ میں شدید بارش کی وجہ سے کہرام مچ گیا ہے۔ رشی کیش میں دریائے گنگا کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ نے ریاست میں رہنے والے لوگوں کو ہدایات دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سیاحوں کے لیے وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے۔ جس کے باعث متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کا کام بھی جاری ہے۔

ہماچل کے تینوں بڑے دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج میں طغیانی ہے۔ ریاست میں سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، جمعہ، 18 اگست کو سکم، آسام، اروناچل پردیش اور انڈمان اور نکوبار جزائر میں ایک یا دو مقامات پر تیز بارش کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان، کونکن اور گوا، مراٹھواڑہ، وسطی مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، کیرالہ کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔