بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 182

میڈیکل انٹرنس امتحان میں ناکامی پر باپ بیٹے نے خودکشی کرلی

0
میڈیکل-انٹرنس-امتحان-میں-ناکامی-پر-باپ-بیٹے-نے-خودکشی-کرلی

بھارت کے جنوبی شہر چینئی میں ایک 19 سالہ طالب علم نے میڈیکل داخلہ جاتی امتحانات میں دوسری مرتبہ بھی ناکام رہنے پر خودکشی کرلی۔ ایسے واقعات کی فہرست کافی طویل ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب بیٹے کے غم میں باپ نے بھی اپنی زندگی ختم کرلی۔

پیشے سے فوٹوگرافر سلویسکر کے دوست جب ان کے بیٹے جگدیش ورن کی خودکشی کے واقعے پر تعزیت کے لیے پہنچے تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ سلویسکر نے بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔

جگدیش ورن 12 اگست کو اپنے کمرے کی چھت سے لٹکتے ہوئے پائے گئے تھے، انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا تھا۔ وہ بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے لیے ہونے والے مسابقتی امتحان نیٹ (NEET) میں دوسری کوشش میں بھی اتنا اسکور نہیں کرسکے تھے کہ کسی سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ مل پاتا۔ حالانکہ ان کے والد نے دوبارہ کوچنگ کلاس میں داخلہ دلوادیا تھا اور اس کی فیس بھی جمع کردی تھی لیکن انہوں نے مایوسی میں انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سلویسکر کے پاس سے کوئی سوسائیڈ نوٹ نہیں ملا ہے لیکن وہ اپنے بیٹے کی خودکشی کے بعد مسابقتی امتحان نیٹ کے طریقہ کار سے خفا تھے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’’نیٹ امتحان ختم ہونے سے ہی سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ نیٹ کی وجہ سے میں نے اپنا بیٹا کھو دیا، جس کی پرورش اکیلے کی تھی۔ میرے جیسا حال کسی کا نہ ہو۔‘‘

بھارت میں پہلے مختلف ریاستیں اپنے یہاں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے اپنے طورپر مسابقتی امتحانات کا انعقاد کراتی تھیں۔ لیکن سن 2013 میں بھارت سرکار نے”میڈیکل کالجوں میں داخلے میں یکسانیت‘‘ لانے کی دلیل دیتے ہوئے آل انڈیا سطح پر مسابقتی امتحانات شروع کیے۔ متعدد ریاستوں نے اس کی مخالفت کی اور تمل ناڈو اب بھی اس کی مخالفت کررہا ہے۔

ستمبر2017 میں تمل ناڈو کے ارلیار ضلع کی انیتا نامی ایک طالبہ نے اچھے مارکس کے باوجود میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملنے پر خودکشی کرلی تھی۔ اس واقعے پر ریاست بھر میں احتجاج کیا گیا تھا۔ اس سے اگلے سال سن 2018 میں ولوپورم ضلعے کی ایک طالبہ نے نیٹ میں بہت کم مارکس آنے پر خودکشی کرلی تھی۔

پچھلے چند برسوں میں صرف تمل ناڈو میں ہی 16سے زیادہ طلبہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں ملنے پر خودکشی کرچکے ہیں۔ ریاستی حکومت نیٹ امتحان کو ختم کرنے کے لیے اسمبلی میں ایک بل منظور کرچکی ہے، جو بھارتی صدر کے پاس منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔

میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملنے کی وجہ سے باپ اور بیٹے کی حالیہ خودکشی کے واقعے نے بھارت میں میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے کے لیے ہونے والی دوڑکے نقصانات کی جانب لوگوں کی توجہ ایک بار پھر مبذول کی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کو کوئی بھی انتہائی قدم نا اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

میڈیکل اور انجینئرنگ کورسز کے لیے داخلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے معروف مرکز راجستھان کے کوٹا شہر میں گزشتہ برس 18 طلبہ نے خودکشی کرلی تھی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف اسی ایک شہرمیں پچھلے چار برسوں کے دوران 52 طلبہ خودکشی کرچکے ہیں۔

بھارت میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ جاتی امتحانات دنیا کے انتہائی مشکل ترین امتحانات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ رواں سال تقریباً 21 لاکھ طلبہ’ نیٹ’ میں شریک ہوئے حالانکہ ان میں سے ساڑھے گیارہ لاکھ کے قریب کامیاب ہوئے لیکن کٹ آف مارکس کی وجہ سے صرف 80 ہزار طلبہ کو ہی ملک بھر کے سرکاری اور پرائیوٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ مل سکے گا۔

اجئے رائے کو ملی یوپی کانگریس کی کمان، سرجے والا مدھیہ پردیش اور واسنک گجرات کے انچارج جنرل سکریٹری مقرر

0
اجئے-رائے-کو-ملی-یوپی-کانگریس-کی-کمان،-سرجے-والا-مدھیہ-پردیش-اور-واسنک-گجرات-کے-انچارج-جنرل-سکریٹری-مقرر

آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخاب سے قبل اتر پردیش میں کانگریس نے تنظیم کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس کے پیش نظر کانگریس نے دو بار وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑ چکے اجئے رائے کو اتر پردیش کانگریس کا صدر مقرر کیا ہے۔ اجئے رائے وزیر اعظم مودی کے خلاف وارانسی سے 2014 اور 2019 کا لوک سبھا انتخاب لڑ چکے ہیں۔

اجئے رائے کو موجودہ ریاستی صدر برج لال کھابری کی جگہ لایا گیا ہے۔ 54 سالہ اجئے رائے کی پیدائش وارانسی میں ہوئی تھی۔ وہ لگاتار 5 بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ 1996 میں بی جے پی جوائن کرنے کے بعد سے وہ 2007 تک رکن اسمبلی رہے۔ اس کے بعد بی جے پی اعلیٰ کمان سے نااتفاقی کے سبب انھوں نے سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیا تھا۔ 2009 میں انھوں نے مرلی منوہر جوشی کے خلاف پارلیمانی انتخاب لڑا اور شکست کھا گئے تھے۔ اس کے بعد بطور آزاد امیدوار پنڈرا سے ضمنی انتخاب جیت کر رکن اسمبلی بنے۔ بعد میں انھوں نے کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی۔

اس کے علاوہ کانگریس نے تنظیم میں مزید کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ کانگریس نے سینئر لیڈر مکل واسنک کو گجرات کا انچارج جنرل سکریٹری اور رندیپ سنگھ سرجے والا کو مدھیہ پردیش کا انچارج جنرل سکریٹری مقرر کیا ہے۔ ان دونوں نے بالترتیب رگھو شرما اور جئے پرکاش اگروال کی جگہ لی ہے۔

نوح تشدد: بٹو بجرنگی کے پاس سے برآمد ہوئیں 8 تلواریں، 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ

0
نوح-تشدد:-بٹو-بجرنگی-کے-پاس-سے-برآمد-ہوئیں-8-تلواریں،-14-دن-کی-عدالتی-حراست-میں-بھیجنے-کا-فیصلہ

ہریانہ کے نوح ضلع میں 31 جولائی کو ہوئے فرقہ وارانہ تصادم کے سلسلے میں گرفتار گئو رکشک بٹو بجرنگی کو جمعرات کے روز نوح کی ایک عدالت نے 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ اس درمیان نوح پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے اس کے پاس سے آٹھ تلواریں برآمد کی ہیں۔

اسسٹنٹ پولیس سپرنٹنڈنٹ (اے ایس پی) اوشا کنڈو کی شکایت کی بنیاد پر نوح کے صدر پولیس اسٹیشن میں ایک نئی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد راج کمار عرف بٹو بجرنگی کو منگل کے روز فرید آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بٹو بجرنگی کو بدھ کو نوح کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سے اسے آگے کی پوچھ تاچھ کے لیے ایک دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔

ہریانہ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد بھڑکانے والے سوشل میڈیا پوسٹ سے پہچانے گئے بٹو بجرنگی نے حامیوں کے ساتھ 31 جولائی کو وی ایچ پی کی برج منڈل جلابھشیک یاترا کے دوران نلہر مندر میں تلوار اور تریشول لے جاتے وقت اے ایس پی اوشا کنڈو اور پولیس ٹیم کے ساتھ مبینہ طور پر غلط سلوک کیا تھا اور انھیں روکا بھی تھا۔

اس سے پہلے یکم اگست کو بٹو بجرنگی کو فرید آباد پولیس نے ایک دیگر معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ اس پر وی ایچ پی کی برج منڈل جلابھشیک یاترا سے پہلے اشتعال انگیز ویڈیو بنانے کا الزام تھا۔ اسے فرید آباد کی ایک عدالت نے بعد میں ضمانت دے دی تھی جس کے بعد وہ رِہا ہو گیا تھا۔ اس کے 15 دن بعد 15 اگست کو پھر اسے فرید آباد میں اس کے گھر کے پاس سے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

اس درمیان بٹو بجرنگی کی گرفتاری کے بعد وشو ہندو پریشد نے خود کو اس سے الگ کر لیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی بجرنگ دل سے نہیں جڑا ہوا تھا۔ حالانکہ فرید آباد اور پورے ہریانہ میں بٹو بجرنگی وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکن کی شکل میں ہی مشہور ہے۔ اس نے اپنی کئی ویڈیوز میں بھی ان تنظیموں سے جڑے ہونے کی بات کہی ہے۔

راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو‘ کیا اور وزیر اعظم مودی ’بھارت توڑو‘ کر رہے: ملکارجن کھڑگے

0
راہل-گاندھی-نے-’بھارت-جوڑو‘-کیا-اور-وزیر-اعظم-مودی-’بھارت-توڑو‘-کر-رہے:-ملکارجن-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے آج آل انڈیا مہیلا کانگریس کے ذریعہ دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں منعقد قومی سمیلن میں مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھرپور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی کہتے ہیں کانگریس نے 70 سال میں کیا کیا۔ جواب یہ ہے کہ کانگریس نے جمہوریت اور آئین کو بچا کر رکھا، اسی لیے مودی وزیر اعظم بن پائے۔ راہل گاندھی 4500 کلومیٹر پیدل چلے اور انھوں نے یاترا کے ذریعہ ’بھارت جوڑنے‘ کا کام کیا، لیکن مودی ’بھارت توڑو‘ کا کام کرتے ہیں۔‘‘

اپنے خطاب میں کھڑگے نے بی جے پی کے ذریعہ کیے جانے والے خواتین کی خود مختاری سے متعلق دعووں کو کھوکھلا بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ خواتین کو گھر تک ہی محدود رکھنے کا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’خواتین طاقت کی علامت ہیں۔ ہندوستان میں ہر شعبہ میں خواتین کا تعاون عظیم رہا ہے۔ قوت نسواں کی شراکت داری کے بغیر ملک کی ترقی ادھوری ہے۔ ہماری لیڈر کملا نہرو، سروجنی نائیڈو، ارونا آصف علی، راج کمار امرت کور جیسی کئی خاتون ہستیاں ہیں جنھوں نے انگریزی حکومت کو ہلا دیا تھا۔ وزیر اعظم کی شکل میں اندرا جی کے کاموں کو ملک فراموش نہیں کر سکتا۔ اندرا گاندھی جی نے خواتین کو مضبوط بنانے کا کام کیا اور بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کے بعد پاکستان کے ایک لاکھ لوگوں کو جیل میں ڈالا۔ سونیا گاندھی جی نے وزیر اعظم عہدہ کی قربانی دے کر دنیا میں ایک مثال قائم کی۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکارجن کھڑگے کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کا ہے، ان سے صرف کام کروانا ان کا مقصد ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین یہ عزم لیں کہ 2024 میں بی جے پی حکومت کو ہٹانا ہے، کیونکہ ان کی حکومت میں کوئی خوش نہیں ہے۔ ملک میں مردون کے مقابلے خاتون ووٹر زیادہ ہیں۔ اگر خواتین عزم کر لیں تو بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا مشکل نہیں۔‘‘

کانگریس صدر نے وزیر اعظم مودی کے ذریعہ 15 اگست کو لال قلعہ سے کیے گئے خطاب پر بھی تبصرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی نے کہا کہ وہ 2024 میں بھی لال قلعہ پر ترنگا لہرائیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ترنگا تو ضرور لہرائیں گے، لیکن لال قلعہ پر نہیں بلکہ اپنے گھر پر۔‘‘ وزیر اعظم مودی پر طنز کستے ہوئے انھوں نے تقریب میں موجود خواتین سے سوال کیا کہ پی ایم مودی نے ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا انھیں ملا؟ انھوں نے بیرون ممالک میں جمع کالا دھن واپس لا کر ملک کے شہریوں کو 15-15 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا انھیں ملا؟ کھڑگے مزید کہتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ وزیر اعظم ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو غریب کہتے ہیں۔ اگر کوئی روزانہ 10 لاکھ روپے کا سوٹ پہننے لگے تو وہ غریب کہاں ہے؟‘‘

منی پور کے موجودہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ منی پور میں تشدد ہو رہا ہے، خواتین کے ساتھ عصمت دری ہو رہی ہے، لوگ مارے جا رہے ہیں اور اب بھی منی پور بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم نے پارلیمنٹ میں منی پور کے بارے میں بولنے کے لیے وزیر اعظم سے بار بار گزارش کی۔ جب وہ نہیں بولے تب پارلیمنٹ میں ہمیں تحریک عدم اعتماد پیش لانی پڑی۔ وزیر اعظم کے پاس مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ جا کر انتخابی تشہیر کرنے کے لیے وقت ہے لیکن منی پور جانے کا وقت نہیں ہے۔ دوسری طرف راہل گاندھی منی پور گئے اور انھوں نے لوگوں کا دکھ درد جانا۔‘‘

منی پور: 10 قبائلی اراکین اسمبلی نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا کیا اعلان، امپھال کو بتایا وادیٔ تباہی

0
منی-پور:-10-قبائلی-اراکین-اسمبلی-نے-اسمبلی-اجلاس-کے-بائیکاٹ-کا-کیا-اعلان،-امپھال-کو-بتایا-وادیٔ-تباہی

منی پور میں تشدد کے بعد سے سیکورٹی اسباب کو لے کر قبائلیوں کے لیے الگ انتظامیہ کا مطالبہ کر رہے 10 قبائلی اراکین اسمبلی نے 21 اگست سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ قبائلی طبقہ کے وزیر، اراکین اسمبلی اور عام لوگ میتئی اکثریتی راجدھانی مپھال جانے سے ڈرتے ہیں۔

انڈیجنس ٹرائبل لیڈرس فورم (آئی ٹی ایل ایف) کے ترجمان گنزا وولزونگ نے کہا کہ قبائلی وزراء، اراکین اسمبلی اور عوام میتئی اکثریتی ریاست کی راجدھانی امپھال کا دورہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وولزونگ نے کہا کہ ’’کوکی، زومی اور دیگر قبائلی طبقات سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی وزیر، رکن اسمبلی اور لیڈر سیکورٹی اسباب کی بنا پر امپھال جانے کا خواہشمند نہیں ہے، اس لیے وہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔‘‘

اپوزیشن کانگریس سمیت مختلف طبقات کے مطالبہ کے بعد طلب کیے گئے آئندہ اسمبلی اجلاس میں نسلی تشدد پر بحث ہونے کا امکان ہے، جو 3 مئی کو بھڑکا تھا اور جس میں اب تک 260 سے زائد لوگ مارے گئے ہیں، 600 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو ہجرت کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔ تشدد میں ریاست کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

منی پور کے سرکردہ اور اثر والے قبائلی اداروں میں سے ایک آئی ٹی ایل ایف بھی قبائلیوں کے قتل اور حملوں کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کر رہا ہے۔ 12 مئی سے ریاست کی برسراقتدار بی جے پی کے 7 اراکین اسمبلی سمیت 10 اراکین اسمبلی قبائلیوں کے لیے ایک علیحدہ انتظامیہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ، بی جے پی، میتئی باڈی کوآرڈنیشن کمیٹی آن منی پور انٹگریٹی (سی او سی او ایم آئی) اور کئی دیگر اداروں نے الگ انتظامیہ کے مطالبے کی سخت مخالفت کی ہے۔

بہرحال، قبائلی اراکین اسمبلی نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک عرضداشت بھیجا، اس میں پانچ پہاڑی ضلعوں چراچندپور، کانگپوکپی، چندیل، تینگ نوپال اور فیرزو کے لیے چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل یا ہم منصب عہدوں کی بنیاد ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے زومی-کوکی لوگوں کی مناسب بازآبادکاری کے لیے وزیر اعظم راحت فنڈ سے 500 کروڑ روپے کی منظوری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ ’’تشدد میں ریاستی اسمبلی کے اراکین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ رکن اسمبلی وونگزاگن والٹے اور ان کے ڈرائیور کو مئی میں وزیر اعلیٰ کے بنگلے سے ایک میٹنگ سے لوٹتے وقت راستے میں روک لیا گیا۔ ان کے ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا اور رکن اسمبلی پر ظلم کیا گیا اور پیٹا گیا۔ رکن اسمبلی کو سیکورٹی فورسز نے بچا لیا اور انھیں نئی دہلی لے جایا گیا جہاں وہ جسمانی اور ذہنی طور سے نااہل ہو گئے ہیں۔ دیگر کابینہ وزراء، لیٹ پاؤ ہاؤکپ اور نیمچا کپگین کے گھر جل کر راکھ ہو گئے۔‘‘

قبائلی اراکین اسمبلی نے الزام لگایا کہ امپھال کوکی-زومی لوگوں کے لیے موت اور تباہی کی وادی بن گیا ہے۔ کوئی بھی اس شہر میں واپس جانے کی ہمت نہیں کرتا جہاں اسمبلی، ریاستی سکریٹریٹ اور دیگر اداروں سمیت اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔ اراکین اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ کوکی-زومی قبائلیوں سے متعلق آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں اہل نہیں ہیں۔

ناگپور ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ، پرواز سے پہلے بورڈنگ گیٹ پر انڈیگو کا پائلٹ بیہوش، اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت

0
ناگپور-ایئرپورٹ-پر-بڑا-حادثہ،-پرواز-سے-پہلے-بورڈنگ-گیٹ-پر-انڈیگو-کا-پائلٹ-بیہوش،-اسپتال-پہنچنے-سے-پہلے-ہی-موت

جمعرات کے روز ناگپور سے پونے جا رہی انڈیگو کی پرواز سے ٹھیک پہلے اسی طیارہ کا ایک پائلٹ بیہوش ہو کر بورڈنگ گیٹ پر گر گیا۔ اسپتال لے جانے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ انڈیگو کے ترجمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’’ناگپور میں ہمارے ایک پائلٹ کا انتقال ہو گیا جس پر ہمیں افسوس ہے۔ ناگپور ہوائی اڈے پر ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں بدقسمتی سے ان کا انتقال ہو گیا۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں ان کے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ اس ہفتہ پائلٹوں کی اچانک موت کا یہ تیسرا معاملہ ہے۔ ان میں سے دو پائلٹ ہندوستانی ہیں۔ قطر ایئرویز کا ایک تجربہ کار پائلٹ بدھ کے روز ایک مسافر کی شکل میں دہلی سے دوحہ جا رہا تھا جب راستے میں اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی تھی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ پھر فلائٹ کیو آر 579 کو بیچ راستے سے دبئی کے لیے ڈائیورٹ کیا گیا تھا۔ یہ پائلٹ پہلے الائنس ایئر اور اسپائس جیٹ کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

’بیٹیوں کی سرعام عزت لوٹی جا رہی ہے اور باپ…‘، منی پور معاملے پر کیجریوال نے پی ایم مودی کو بنایا تنقید کا نشانہ

0
’بیٹیوں-کی-سرعام-عزت-لوٹی-جا-رہی-ہے-اور-باپ…‘،-منی-پور-معاملے-پر-کیجریوال-نے-پی-ایم-مودی-کو-بنایا-تنقید-کا-نشانہ

دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس جاری ہے۔ اس خصوصی اجلاس کے آج دوسرے دن عام آدمی پارٹی چیف اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے منی پور کے واقعہ پر اپنی بات رکھی۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی لیڈران کہہ رہے ہیں کہ اس اسمبلی کا منی پور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کئی مہینوں سے منی پور جل رہا ہے، لیکن پی ایم مودی نے کچھ نہیں بولا۔ بتا دوں کہ 6500 ایف آئی آر درج ہو گئیں اور 150 اموات ہو گئیں، لیکن پی ایم خاموش رہے۔ پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے، لیکن ہندوستان کے پی ایم خاموش رہے۔ جب ایک دن ویڈیو وائرل ہوا تب بھی پی ایم خاموش رہے۔ ان کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ یہ کوئی آئسولیٹیڈ انسیڈنٹ (الگ تھلگ واقعہ) نہیں ہے، یہ تو روزانہ ہو رہا ہے۔‘‘

کیجریوال نے دہلی اسمبلی میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ’’میں بتا دوں کہ لوگ ہر وقت وزیر اعظم کو نہیں یاد کرتے، لیکن وزیر اعظم کو تب ضرور یاد کرتے ہیں جب سبھی سسٹم فیل ہو جاتے ہیں۔ بے لباس خواتین کے لیے سب کچھ فیل ہو گیا تھا اور ان کے ساتھ غلط کام کیا گیا تھا، لیکن وزیر اعظم نے کچھ نہیں بولا۔ وزیر اعظم کی عمر کے حساب سے وہ ان کے باپ کے برابر ہیں۔ بیٹیوں کی سرعام عزت لوٹی جا رہی ہے اور باپ کہے کہ اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے، تو بیٹیاں کہاں جائیں گی۔‘‘

اس درمیان کیجریوال نے ایک وائرل ویڈیو کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں بتا دوں کہ ایک ریٹائر آرمی آفیسر کا ویڈیو سرکولیٹ ہو رہا ہے۔ وہ وزیر اعظم مودی کا اَندھ بھکت ہوتا تھا۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے ایسا نہیں سوچا تھا۔ بی جے پی والے کہہ رہے ہیں کہ یہ پہلے وزیر اعظم ہیں جو 50 بار نارتھ ایسٹ گئے تھے۔ اب جبکہ منی پور کے اندر مصیبت آئی ہے تب آپ کو خیال نہیں آیا، تب آپ اپنے گھر کے اندر کنڈی مار کر بیٹھ گئے۔‘‘

اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کی پہلی فہرست جاری، مدھیہ پردیش کے 39، چھتیس گڑھ کے 21 امیدواروں کا اعلان

0
اسمبلی-انتخابات-کے-لیے-بی-جے-پی-کی-پہلی-فہرست-جاری،-مدھیہ-پردیش-کے-39،-چھتیس-گڑھ-کے-21-امیدواروں-کا-اعلان

رواں سال کے آخر میں 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ اس تعلق سے بی جے پی نے بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے لیے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش کے 39 اور چھتیس گڑھ کے 21 امیدواروں کا اعلان بی جے پی نے کر دیا ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بی جے پی آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر پوری طرح کمر کس چکی ہے۔

اس سے قبل بی جے پی کی مرکزی انتخابی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ بدھ کے روز نئی دہلی کے پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی تھی۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے میٹنگ کے دوران صلاح و مشورہ میں حصہ لیا تھا۔ دیر رات تک چلی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سمیت بی جے پی کے کئی بڑے لیڈران شامل ہوئے تھے۔

اس دوران مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ سی ای سی اراکین نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی تیاریوں کا تجزیہ بھی کیا۔ کمیٹی میں چھتیس گڑھ کی 90 اسمبلی سیٹوں پر سلسلہ وار بات چیت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 2 گھنٹے تک چھتیس گڑھ کی اسمبلی سیٹوں پر تبادلہ خیال چلتا رہا۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش کی اسمبلی سیٹوں پر گفتگو شروع ہوئی۔ میٹنگ کے دوران پارٹی اعلیٰ کمان کی توجہ سب سے زیادہ کمزور سیٹوں پر مرکوز تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آخر تک پانچ ریاستوں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ابھی کسی بھی ریاست کے لیے انتخاب کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ لیکن بی جے پی نے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر اپنا جارحانہ رخ ظاہر کر دیا ہے۔

مرکزی حکومت کا سستا ہوائی سفر منصوبہ ’اڑان‘ فیل! 774 میں سے محض 54 روٹ پر اڑ رہے طیارے

0
مرکزی-حکومت-کا-سستا-ہوائی-سفر-منصوبہ-’اڑان‘-فیل!-774-میں-سے-محض-54-روٹ-پر-اڑ-رہے-طیارے

مرکزی حکومت نے ’اڑان‘ منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت عوام کو سستا ہوائی سفر مہیا کرایا جاتا ہے۔ لیکن یہ ’اڑان‘ اسکیم بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف سی اے جی کی ایک رپورٹ سے ہو رہا ہے۔ سی اے جی (کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی آڈٹ رپورٹ میں ریجنل کنکٹیویٹی اسکیم کی تین مراحل میں جانچ کی ہے۔ اس میں پتہ چلا ہے کہ ملک بھر میں جو 774 روٹ ’اڑان اسکیم‘ کے لیے طے کیے گئے تھے، ان میں سے 403 پر اب تک پرواز شروع بھی نہیں ہو پائی ہے۔ یعنی 371 روٹ پر پرواز شروع ہوئی، لیکن بعد میں صرف 112 روٹ ہی چالو رہے، یعنی بیشتر روٹ بند ہو گئے۔ مارچ 2023 تک آتے آتے صرف 54 روٹ پر ہی اڑان اسکیم کے تحت پروازیں جاری رہ سکیں۔

واضح رہے کہ 2017 میں لانچ ’اڑان اسکیم‘ کا مقصد ملک کے دور دراز علاقوں میں ہوائی سفر شروع کرنا اور بڑے شہروں یا راجدھانیوں سے ان علاقوں کو ہوائی راستہ سے جوڑنا تھا۔ اس سے چھوٹے شہروں کی کنکٹیویٹی ملک کے بڑے شہروں سے بہتر ہوتی۔

بہرحال، سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں اڑان اسکیم کی مایوس کن کارکردگی کو لے کر کئی اسباب گنائے ہیں۔ منصوبہ کے لیے منتخب ہوائی اڈے یا ہوائی پٹیوں کی وقت پر تعمیر نہیں کیا جانا، یا ان میں موافق اصلاح نہیں ہو پانا ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 116 ایئرپورٹ اور ہوائی پٹیاں ایسی ہیں جن میں سے 83 پر آپریشن شروع نہیں کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ہوائی اڈوں پر اب تک 1089 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایک خاص بات یہ ہے کہ منصوبہ کے تحت التزام تھا کہ آپریٹر پہلے رعایتی کرایہ والے ٹکٹ فروخت کریں گے اور بعد میں غیر رعایتی ٹکٹ فروخت کیے جائیں گے۔ اس سے جڑی جانچ کو لے کر کیبنٹ اسپائس جیٹ انڈیگو سمیت دیگر ایئرلائنز کمپنیوں کے ذریعہ اصول پر عمل نہیں کیے جانے کی بات کہی۔ ایئرلائنز کمپنیوں کی طرف سے واضح طور پر رعایتی شرحوں والی سیٹوں کی دستیابی نہیں بتائی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے مسافروں کو ان سیٹوں کی جانکاری نہیں ملتی اور ٹکٹ بکنگ میں شفافیت کی بھی کمی برقرار ہے۔

‘وزیر نہ بنایا گیا تو بیوی خودکشی کر لے گی!‘ شیو سینا کے رکن اسمبلی نے شندے کو کیا بلیک میل، ایم ایل اے کا دعویٰ

0
‘وزیر-نہ-بنایا-گیا-تو-بیوی-خودکشی-کر-لے-گی!‘-شیو-سینا-کے-رکن-اسمبلی-نے-شندے-کو-کیا-بلیک-میل،-ایم-ایل-اے-کا-دعویٰ

ممبئی: مہاراشٹر میں کابینہ کی توسیع میں تاخیر کے درمیان سی ایم ایکناتھ شندے کے ساتھ شیوسینا کے ایم ایل اے بھرت شیٹھ گوگاوالے نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ گوگاوالے نے کہا کہ کچھ ایم ایل اے نے وزیر بننے کے لیے کئی طرح کی حربہ استعمال کئے۔ رائے گڑھ میں ایک سیاسی پروگرام کے دوران گوگاوالے نے دعویٰ کیا کہ کچھ ایم ایل اے نے سی ایم ایکناتھ شندے کو کابینہ میں جگہ حاصل کرنے کے لیے بلیک میل کیا تھا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں وزیر کے عہدے کی دوڑ میں شامل تھا لیکن جب وزیراعلیٰ کے سامنے مشکلات آنے لگیں تو میں پیچھے ہٹ گیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے وزیراعلیٰ کسی مشکل میں پھنسے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایم ایل اے نے آ کر کہا کہ اگر وہ وزیر نہیں بنے تو ان کی بیوی خودکشی کر لے گی! دوسرے نے کہا کہ وزیر نہیں بنے تو نارائن رانے ان کی سیاست ختم کر دیں گے۔ اسی دوران ایک اور ایم ایل اے نے دھمکی دی کہ وہ اسی وقت استعفیٰ دے دیں گے جب حلف برداری کی تقریب ختم ہوگی۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ حلف برداری سے ایک دن پہلے، سی ایم شندے اور انہوں نے ہر ایک ایم ایل اے کو صورتحال کو سمجھنے کے لیے فون کیا تھا۔ انہوں نے سمبھا جی نگر کے ایک ایم ایل اے کو فون کیا اور کہا کہ وہ اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟ ان کے ضلع سے دو نام پہلے ہی منتخب کیے جا چکے ہیں لیکن ان کے رائے گڑھ ضلع کے تین ناموں میں سے کوئی بھی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ وہ انتظار کرنے پر راضی ہو گئے اور قائل ہو گئے۔

تاہم گوگاوالے نے کہا کہ دوسرے ایم ایل اے کی بیوی کی جان بچانی ہے، اس لیے انہیں وزیر بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نارائن رانے کے گڑھ میں اپنی سیٹیں برقرار رکھنے کے لیے دیگر ایم ایل ایز کو بھی وزیر بنایا گیا۔ گوگاوالے نے کہا کہ تب سے مجھے انتظار کرنے کو کہا گیا اور میں اب بھی اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں۔