پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 182

الور میں پھر موب لنچنگ، اقلیتی طبقہ کے 3 نوجوانوں کو درجن بھر لوگوں نے بے رحمی سے پیٹا، ایک کی موت

0
الور-میں-پھر-موب-لنچنگ،-اقلیتی-طبقہ-کے-3-نوجوانوں-کو-درجن-بھر-لوگوں-نے-بے-رحمی-سے-پیٹا،-ایک-کی-موت

راجستھان کے الور میں ایک بار پھر موب لنچنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الور کے بانسور میں جنگل سے لکڑی اٹھانے پہنچے اقلیتی طبقہ کے 3 نوجوانوں کی ایک درجن سے زیادہ لوگوں نے بے رحمی سے پٹائی کی۔ اس پٹائی سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ دو دیگر بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوریسٹ اہلکاروں کی گاڑی میں بھر کر درجن بھر سے زائد لوگ آئے تھے جنھوں نے 3 مسلم نوجوانوں کی بری طرح پٹائی شروع کر دی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ملزمین نے جے سی بی لگا کر تینوں نوجوانوں کو لکڑی اٹھانے سے روکا اور مار پیٹ کی۔ اس واقعہ کے تعلق سے الور واقع ہرسورا تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔

’آج تک‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس میں ایف آئی آر متاثرہ فریق کی جانب سے درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق طیب خان نے بتایا کہ 17 اگست کو میرے بیٹے وسیم نے رامپور گاؤں (بانسور) سے لکڑی خریدی تھی جن کو بھرنے شامل کو گیا تھا۔ مجھے اس کے ساتھی آمش نے بتایا کہ ہم شام تقریباً 10 بجے لکڑی بھر رہے تھے۔ ہمیں خبر ملی کہ محکمہ جنگلات والے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم گاڑی لے کر اپنے گھر کے لیے چل دیے۔ ہمارے پیچھے محکمہ جنگلات کی گاڑی (جیپ آر جے 14 یو ڈی 1935) آ رہی تھی۔

ایف آئی آر میں آگے لکھا گیا ہے کہ آمش کے مطابق کچھ دور آگے جے سی بی نے راستہ روک رکھا تھا۔ ہم نے گاڑی روکی تو تین چار لوگ جے سی بی سے اترے، وہیں 8-7 لوگ محکمہ جنگلات کی جیپ سے اترے۔ ہمیں جبراً باہر کر ان سبھی لوگوں نے مارنا شروع کر دیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دھاردار اسلحے، سریا اور لاٹھی تھے۔ بھیڑ نے وسیم کے سینے میں دھاردار اسلحہ ڈال کر مار دیا اور ہمارے ساتھ بھی مار پیٹ کرتے رہے۔

متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہمیں بچایا، حالانکہ ان لوگوں نے پولیس کے سامنے بھی ہمیں مارا پیٹا۔ متاثرین نے ایف آئی آر درج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعات 147، 148، 149، 323، 341 اور 302 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی کو لگا ایک اور جھٹکا، نیمچ کے قدآور لیڈر سمندر پٹیل کانگریس میں شامل

0
مدھیہ-پردیش-اسمبلی-انتخاب-سے-قبل-بی-جے-پی-کو-لگا-ایک-اور-جھٹکا،-نیمچ-کے-قدآور-لیڈر-سمندر-پٹیل-کانگریس-میں-شامل

مدھیہ پردیش میں مشکل سے دو تین مہینے میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ ایسے میں انتخاب سے پہلے بی جے پی کے لیے یکے بعد دیگرے بری خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ جمعہ کے روز بی جے پی کو ایک بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب نیمچ ضلع کے قدآور بی جے پی لیڈر سمندر پٹیل نے کانگریس کا دامن تھام لیا۔ انھوں نے ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ کی موجودگی میں کانگریس کی رکنیت اختیار کی۔

سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے اور اپنے حامیوں کے ساتھ بھوپال پہنچے سمندر پٹیل کا کمل ناتھ نے پارٹی میں استقبال کیا۔ کمل ناتھ نے پٹیل کے کانگریس میں شامل ہونے پر کہا کہ یہ کانگریس پارٹی کے نظریہ، رسوم و پالیسی، اصولوں اور اپنے وقار کے ساتھ بغیر کوئی شرط کے کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، انھیں ان کی سچائی یہاں لائی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ اسی سچائی کو یہ اپنے علاقہ کے لوگوں کو بتائیں گے۔

کمل ناتھ نے کہا کہ 2018 میں کانگریس کی مینڈیٹ والی حکومت بنی تھی، لیکن شیوراج سنگھ نے خرید و فروخت کر دولت کی طاقت پر حکومت بنا لی۔ 18 سال سے بی جے پی کی حکومت ہے، لیکن ریاست کی تصویر آپ سب کے سامنے ہے۔ جہاں دیکھو وہاں بدعنوانی ہی بدعنوانی، گھوٹالہ ہی گھوٹالہ۔ شیوراج حکومت بدعنوانی میں نمبر وَن تو ہے ہی، خواتین، کسانوں، نوجوانوں پر مظالم میں بھی نمبر وَن ہے۔ اب تو ریاستی عوام نے شیوراج حکومت کو وداع کرنے کا ذہن تیار کر لیا ہے او رمیں بھی انھیں وداع کروں گا، لیکن پیار سے۔

اس موقع پر سمندر سنگھ پٹیل نے کہا کہ مجھے اپنی گھر واپسی پر بہت خوشی ہے۔ جس طرح صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے اور پھر سے وہ اپنے اصل جذبہ اور نظریہ پر واپس آ جاتا ہے تو یہ بہتر ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کمل ناتھ جی کو یقین دلاتا ہوں کہ پارٹی کے لیے میں پوری ایمانداری کے ساتھ کام کر کے آپ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت بنانے میں تن من دھن سے کام کروں گا۔ پارٹی کو مزید مضبوط کرنے میں اپنی ذمہ داری ہر طرح سے نبھاؤں گا۔

ذات پر مبنی مردم شماری معاملے میں نتیش حکومت کو ملی ’سپریم فتح‘، نتائج کی اشاعت پر روک سے سپریم کورٹ کا انکار

0
ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-معاملے-میں-نتیش-حکومت-کو-ملی-’سپریم-فتح‘،-نتائج-کی-اشاعت-پر-روک-سے-سپریم-کورٹ-کا-انکار

بہار کی نتیش حکومت کو آج اس وقت ذات پر مبنی مردم شماری معاملے میں ’سپریم فتح‘ حاصل ہوئی جب سپریم کورٹ نے حکومت بہار کو ذات پر مبنی سروے کے نتائج شائع کرنے سے روکنے کے لیے عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ بہار میں طویل مشقتوں کے بعد ذات پر مبنی مردم شماری کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اس کے نتائج جلد ہی پبلک ڈومین میں آنے کی امید ہے۔

جسٹس سنجیو کھنہ اور ایس وی این بھٹی کی بنچ نے جمعہ کے روز کہا کہ ’’جب تک پہلی نظر میں کوئی مضبوط معاملہ نہ ہو، ہم کسی بھی چیز پر روک نہیں لگائیں گے۔‘‘ اس دوران انھوں نے ان عرضی دہندگان کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری سروے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو خارج کرنے کے پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف خصوصی اجازت پر مبنی عرضی داخل کی تھی۔

آج عرضی دہندگان کی طرف سے بحث کرتے ہوئے سینئر وکیل سی ایس ویدناتھن نے کہا کہ سروے شروع کرنے کے لیے ریاستی مقننہ کے ذریعہ کوئی قانون پاس نہیں کیا گیا تھا اور عمل ریاستی حکومت کے ذریعہ ایک ایگزیکٹیو نوٹیفکیشن کی بنیاد پر شروع ہوا۔ اس طرح رازداری کی خلاف ورزی ہوئی۔ پرائیویسی کے حقوق کی خلاف ورزی جائز مقاصد کے ساتھ غیر جانبداری اور مناسب قانون کے علاوہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایگزیکٹیو حکم کے ذریعہ سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ ’’یہ نیم عدالتی حکم نہیں بلکہ ایک انتظامی حکم ہے۔ وجہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس میں آگے کہا گیا ہے کہ ڈاٹا کی اشاعت سے شخص کی رازداری متاثر نہیں ہوگی کیونکہ اشخاص کا ڈاٹا سامنے نہیں آئے گا، لیکن مکمل ڈاٹا کا مجموعی بریک اَپ یا تجزیہ شائع کیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ وقت کی کمی کے سبب دونوں فریقین کی طرف سے بحث نہیں سن سکی، کیونکہ معاملہ بنچ کے آخر میں فہرست بند تھا۔ اس نے ہدایت دی کہ عرضیوں کا بیچ (مجموعہ) پیر، 21 اگست کو سماعت کے لیے پوسٹ کیا جائے گا۔ اس سے قبل 14 اگست کو عدالت عظمیٰ نے سماعت ملتوی کر دی تھی اور ہدایت دی تھی کہ سبھی یکساں خصوصی اجازت پر مبنی عرضیوں کو پھر سے فہرست بند کیا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے ساخل داخل خصوصی اجازت پر مبنی عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مردم شماری کا حق صرف مرکزی حکومت کے پاس ہے اور ریاستی حکومت کو بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائے جانے سے متعلق فیصلہ لینے اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے یکم اگست کو جاری اپنے فیصلے میں کئی عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے نتیش کمار کی قیادت والی ریاستی حکومت کے سروے کرانے کے فیصلے کو ہری جھنڈی دے دی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بہار حکومت نے اسی دن مردم شماری کا عمل پھر سے شروع کر دیا۔ ہائی کورٹ نے کئی عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم ریاست کی کارروائی کو پوری طرح سے جائز پاتے ہیں، جسے ’انصاف کے ساتھ ترقی‘ فراہم کرنے کے جائز مقصد کے ساتھ مناسب صلاحیت کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔‘‘

’معاشی طور پر غریب لیکن دل کے امیر ہیں رامیشور جی‘، راہل گاندھی نے پوسٹ کی رامیشور سے ملاقات کی مکمل ویڈیو

0
’معاشی-طور-پر-غریب-لیکن-دل-کے-امیر-ہیں-رامیشور-جی‘،-راہل-گاندھی-نے-پوسٹ-کی-رامیشور-سے-ملاقات-کی-مکمل-ویڈیو

کانگریس صدر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے سبزی فروش رامیشور سے گزشتہ دنوں ملاقات کی تھی۔ آج راہل گاندھی نے اس ملاقات کی مکمل ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر پوسٹ کی ہے۔ اس ویڈیو میں رامیشور کے ساتھ ساتھ ان کی بیوی اور بیٹی بھی راہل گاندھی کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’بھارت جوڑو یاترا کی شروعات سے ہی لوگوں کی باتیں سن رہا ہوں، ان کے دکھ درد پہچان رہا ہوں۔ اچانک ہی ایک دن رامیشور جی کی ایک ویڈیو سامنے آئی۔ ایک عام انسان، ایک خوددار اور ایماندار ہندوستانی جو محنت سے اپنے کنبہ کی پرورش کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کی آنکھیں مجبوری کے سبب نم تھیں۔ کریں تو کریں کیا… ایک طرف بے روزگاری کا گہرا کنواں، تو دوسری طرف مہنگائی کی کھائی۔‘‘

راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’اتفاق سے رامیشور جی نے ملنے کی خواہش ظاہر کی، جس کے لیے میں خود خواہشمند تھا۔ بصد احترام اور اہل خانہ کے ساتھ انھیں گھر پر کھانے کے لیے مدعو کیا۔ کچھ باتیں کرنی تھیں انھیں، اور مجھے بھی ان سے مل کر انھیں نزدیک سے جاننے کا من تھا۔ معاشی طور سے غریب، لیکن دل کے بہت امیر ہیں رامیشور جی۔ جتنی بھی دیر باتیں ہوئیں، ان کے چہرے پر مسکان برقرار رہی۔ انھوں نے امیدیں ٹوٹنے کے قصے بتائے، لیکن ساتھ میں ذمہ داریوں کا احساس بھی ہے۔ ان کی ہمت اصل معنوں میں امید کی سنہری شمع ہے۔‘‘

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’آج کروڑوں دیگر ہندوستانیوں کی طرح رامیشور جی بھی ترقی کی قطار کے آخر میں کھڑے ہیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں نہ روزگار ہے، نہ مہنگائی سے راحت، نہ کاروبار کے صحیح مواقع اور نہ ہی کوئی معاشی سیکورٹی۔ جب تک ہر سہولت ان تک نہیں پہنچتی، یہ قدم نہیں رکیں گے۔ یہ سلسلہ نہیں رکے گا، سفر نہیں رکے گا۔ آزادی کا یہ خواب ہمیں ساتھ مل کر پورا کرنا ہے۔‘‘

لوک سبھا انتخاب 2024 کے لیے وزیر اعلیٰ کیجریوال نے طے کیا ایجنڈا، دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کا عزم

0
لوک-سبھا-انتخاب-2024-کے-لیے-وزیر-اعلیٰ-کیجریوال-نے-طے-کیا-ایجنڈا،-دہلی-کو-مکمل-ریاست-کا-درجہ-دلانے-کا-عزم

عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جمعہ کے روز دہلی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ اگلا لوک سبھا انتخاب دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دیے جانے کے مسئلہ پر لڑا جائے گا۔ یعنی کیجریوال نے لوک سبھا انتخاب 2024 کا اپنا ایجنڈا طے کر دیا ہے اور یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ ضرور دلائیں گے۔

آج دہلی اسمبلی میں اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ آئندہ لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کو دہلی میں سبھی سیٹوں پر شکست ہاتھ لگے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’مرکز کی بی جے پی حکومت نے قانون بنا کر (دہلی سروسز قانون) دہلی کی عوام کے اختیارات چھین لیے، لیکن میں دہلی کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو آپ کے حقوق واپس دلا کر رہوں گا، ہم کسی بھی حالت میں دہلی کا کام رکنے نہیں دیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ دہلی سروسز بل حال ہی میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں دونوں ایوانوں سے پاس ہو گیا تھا۔ اس کے بعد دہلی کے وزیر اعلیٰ نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج دہلی اسمبلی میں بھی انھوں نے مرکز کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور کہا کہ انھوں نے (بی جے پی نے) جتنے کام کیے ہیں سب گناہ کیے ہیں۔ لوگوں کا علاج روکا، مفت بجلی روکی۔ اب اگر آپ گناہ کرو گے تو اس کا نتیجہ تو بھگتنا ہی پڑے گا۔ یہ زندگی بھر یہیں (اپوزیشن میں) بیٹھیں گے، ابھی تو 8 ہیں، اگلی بار 2 بھی نہیں بچیں گے۔

پی ایم مودی پر حملہ آور ہوتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ ’’وہ (پی ایم مودی) دہلی والوں کو اور ان کے بیٹے کو ہرانا چاہتے ہیں۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ نہ تو دہلی والے ہاریں گے اور نہ ہی ان کا بیٹا ہارے گا۔ سبھی مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ میں دہلی کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کا ایک بھی کام رکنے نہیں دوں گا۔ رفتار کچھ کم ہو جائے گی، لیکن سپریم کورٹ میں ہم ضرور جیت کر آئیں گے اور پھر دہلی میں تیزی سے کام ہوگا۔‘‘

عآپ لیڈر نے دعویٰ کیا کہ کچھ دن پہلے ان کے پاس بی جے پی سے کوئی آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یا تو تم بی جے پی کی حمایت کرو نہیں تو تمھیں جھکا دیں گے یا توڑ دیں گے۔ میں انھیں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا جو دہلی کی عوام کو جھکا دے یا توڑ دے، جو کیجریوال کو جھکا دے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’’ابھی لال قلعہ سے وزیر اعظم مودی اگلے ہزار سال کے ماڈل کی بات کر رہے تھے۔ اگر یہ ماڈل ہوگا کہ ایک پی ایم ہوگا، 32 گورنر ہوں گے اور پھر وہ ملک چلائیں گے، تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہزار سال تو کیا، یہ ماڈل ملک کی عوام 5 سال تک بھی نہیں چلنے دے گی۔ آنے والے لوک سبھا انتخاب میں دہلی میں بی جے پی ساتوں سیٹیں ہارنے والی ہے اور یہ انتخاب دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کے ایشو پر لڑا جائے گا۔‘‘

کیا گیانواپی مسجد میں نمازیوں کی تعداد ہوگی محدود؟ ہندو فریق کی عرضی پر اب 22 اگست کو ہوگی سماعت

0
کیا-گیانواپی-مسجد-میں-نمازیوں-کی-تعداد-ہوگی-محدود؟-ہندو-فریق-کی-عرضی-پر-اب-22-اگست-کو-ہوگی-سماعت

ایک طرف گیانواپی مسجد احاطہ کا سروے جاری ہے، اور دوسری طرف گیانواپی مسجد سے جڑی کچھ عرضیاں عدالت میں سماعت کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایک معاملہ گیانواپی مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے سے متعلق ہے جس پر آج وارانسی ضلع عدالت میں سماعت ہوئی۔ دراصل ہندو فریق سے راکھی سنگھ کی اپیل پر احاطہ میں موجود ہندو نشانات اور علامات کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ انجمن انتظامیہ کمیٹی اور نماز پڑھنے والے اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔

عرضی دہندہ راکھی سنگھ کی طرف سے ان کے وکیل سوربھ تیواری نے عدالت سے نماز ادا کرنے والوں کی تعداد محدود کرنے کے لیے ایک اصول بنانے کی گزارش کی ہے۔ پہلے یہ معاملہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں تھا، لیکن جب وہاں یہ معاملہ سماعت کے لیے آیا تو ججوں نے کہا کہ یا تو آپ اپنی عرضی واپس لے لیجیے یا پھر ہم اسے خارج کر دیں گے۔ اس کے بعد راکھی سنگھ نے عرضی واپس لیتے ہوئے ایک نئی اپیل لے کر وارانسی ضلع کورٹ پہنچ گئی ہیں۔

راکھی سنگھ کی عرضی پر آج وارانسی ضلع عدالت میں سماعت ہوئی۔ ان کی طرف سے ایڈووکیٹ سوربھ تیواری نے بحث کی، جبکہ ہندو فریق کی باقی چار خواتین کی طرف سے وشنو شنکر جین نے بحث کی۔ انجمن انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے وکیل ممتاز احمد اور رئیس احمد پیش ہوئے۔ اس معاملے میں مسلم فریق کی طرف سے کہا گیا کہ انھوں نے ابھی تک عرضی نہیں پڑھی ہے۔ وہ پہلے عرضی پڑھیں گے، اس کے قانونی پہلوؤں کو سمجھیں گے اور پھر اس کے بعد اپنا جواب داخل کریں گے۔ اس کے لیے انھیں وقت دیا جائے۔

وشنو شنکر جین کی طرف سے بھی عرضی کی کاپی مانگی گئی ہے۔ اس کے بعد ہندو فریق کی چاروں خواتین (لکشمی دیوی، سیتا ساہو، منجو ویاس اور ریکھا پاٹھک) کو بھی کاپی دی گئی۔ عدالت کی طرف سے سماعت کے لیے اگلی تاریخ 22 اگست طے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وارانسی کے گیانواپی احاطہ میں ان دنوں اے ایس آئی کا سروے چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر یہ سائنٹفک سروے ہو رہا ہے۔ 60 اراکین کی سروے ٹیم یہ پتہ کرنے میں مصروف ہے کہ گیانواپی مسجد کی تعمیر کب ہوئی؟ کیا پہلے یہاں کوئی دیگر عمارت تھی؟ اگر ایسا ہے تو اس کی تعمیر کب ہوئی تھی؟ گیانواپی احاطہ کی بناوٹ کس طرز کی ہے؟ وارانسی کی ضلع عدالت نے اے ایس آئی کو 2 ستمبر تک سروے رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیا ہے۔

1200 ہندوستانیوں سے ٹھگی کرنے والے چینی ایپ پر وہائٹ پیپر جاری کر مودی حکومت جواب دے: کانگریس

0
1200-ہندوستانیوں-سے-ٹھگی-کرنے-والے-چینی-ایپ-پر-وہائٹ-پیپر-جاری-کر-مودی-حکومت-جواب-دے:-کانگریس

کانگریس نے آج سٹہ بازی ایپ کے ذریعہ 1200 ہندوستانیوں کے 1400 کروڑ روپے کی ہوئی ٹھگی معاملے میں مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے کہا کہ چین کے شہری وو اویانبے نے بی جے پی حکمراں گجرات میں صرف 9 دنوں میں 1200 ہندوستانیوں کے 1400 کروڑ روپے ٹھگ لیے اور فرار ہو گیا۔ پی ایم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اپوزیشن لیڈران کو نشانہ بنانے کے لیے جانچ ایجنسیوں کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن ہندوستانیوں کو لوٹنے والے چینی گھوٹالے باز پر کارروائی نہیں ہوئی۔ وجئے مالیا، للت مودی، نیرو مودی، میہل چوکسی اور اب چینی شہری وو اویانبے کے بھاگنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی حکومت دھوکہ دہی، لوٹ اور بیرون ملکی ساحلوں پر پرواز کی سہولت دیتی ہے۔ مودی حکومت کو اس گھوٹالے پر ایک قرطاس ابیض (وہائٹ پیپر) جاری کر ملک کو جواب دینا چاہیے۔

نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس محکمہ مواصلات میں میڈیا اور پبلسٹی کے چیئرمین پون کھیڑا نے کہا کہ ایک چینی شہری وو اویانبے 22-2020 میں ہندوستان میں رہا، اس نے ایک نقلی فٹ بال سٹہ بازی دانی ڈاٹا ایپ بنایا۔ یہ گھوٹالہ باز پاکستان سے ملحق گجرات کے حساس علاقوں میں رہا۔ چینی گھوٹالہ باز نے 9 دنوں میں 1200 لوگوں سے 1400 کروڑ روپے کی ٹھگی کی اور ملک سے فرار ہو گیا، لیکن پی ایم مودی یا وزیر داخلہ امت شاہ اسے روک نہیں سکے۔ اتنا ہی نہیں، بی جے پی حکمراں اتر پردیش میں پولیس نے اس فٹ بال سٹہ بازی ایپ کی تشہیر کی۔ کچھ میڈیا رپورٹس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو 4600 کروڑ روپے تک کا چونا لگایا گیا ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ گجرات سی آئی ڈی کے مطابق پیسہ دبئی اور یوروپی ممالک میں بھیجا گیا۔ یہ ایک بڑا حوالہ گھوٹالہ ہو سکتا ہے اور پیسے کا استعمال ٹیرر فنڈنگ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ دسمبر 2022 میں ہی سی آئی ڈی نے این آئی اے، ای ڈی اور جی ایس ٹی محکمہ کو بھی جانچ میں شامل ہونے کی اطلاع دے دی تھی۔ فرضی کمپنیوں کے نام پر کئی فرضی بینک اکاؤنٹس رجسٹرڈ کیے گئے۔ کھیڑا نے کہا کہ اس گھوٹالے کو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ریاست میں انجام دیا گیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس گھوٹالے پر کسی کی توجہ نہیں گئی اور چینی شہری کو لوگوں کا پیسہ لوٹنے کی کھلی چھوٹ مل گئی۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے یا انھوں نے اس کے بارے میں جاننے کے بعد بھی آنکھیں موند لیں۔ دونوں ہی حالات ملک کے لیے خطرناک ہیں۔

کھیڑا نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ گلوان کے بعد جیسے چینی دراندازوں کے بارے میں پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں کوئی گھسا ہی نہیں، کیا وہ پھر ایسا دہرائیں گے؟ ہندوستان میں کچھ چینی ایپس پر پابندی لگانے کے بعد کیا مودی حکومت اب چینی شہریوں کو میک چائنیز ایپس اِن انڈیا کے لیے مدعو کر رہی ہے؟ ایجنسیاں چینی شہری وو اویانبے اور اس کے ڈیجیٹل گھوٹالے کو کیوں نہیں پکڑ سکیں؟ جب ٹھگی کے شکار لوگ سوشل میڈیا پر اپنی بدحالی بتا رہے تھے تب مودی حکومت کمبھ کرن کی نیند میں کیوں سو رہی تھی؟ یوپی پولیس نے اس ایپ کو کیوں پروموٹ کیا؟ پولیس یہ تشہیر کس کے اشارے پر کر رہی تھی؟ لگاتار ڈرگس کی برآمدگی کے بعد کیا بی جے پی اب گجرات کو جوئے کے کالے دھندے کی طرف دھکیل رہی ہے؟

چندریان-3: وکرم لینڈر کی کامیابی کے ساتھ ہوئی ڈی بوسٹنگ، اگلی ڈی بوسٹنگ کے لیے 20 اگست کا انتظار

0
چندریان-3:-وکرم-لینڈر-کی-کامیابی-کے-ساتھ-ہوئی-ڈی-بوسٹنگ،-اگلی-ڈی-بوسٹنگ-کے-لیے-20-اگست-کا-انتظار

اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کو ’مشن چاند‘ میں آج اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب پروپلشن سے الگ ہو کر چاند کے مدار میں چکر لگا رہے وکرم لینڈر کی کامیابی کے ساتھ ڈی بوسٹنگ ہوئی۔ اب ہندوستان چاند پر پہنچنے کے بالکل قریب ہے۔ لینڈر ماڈیول نے جمعہ کے روز کامیابی کے ساتھ ڈی بوسٹنگ آپریشن انجام دیا جس کی جانکاری اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر بھی دی۔ اِسرو نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’لینڈر ماڈیول نے کامیابی کے ساتھ ڈی بوسٹنگ آپریشن کیا، جس سے اس کا مدار 113 کلومیٹر x 157 کلومیٹر تک کم ہو گیا۔ اب دوسرا ڈی بوسٹنگ آپریشن 20 اگست 2023 کو تقریباً 2 بجے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔‘‘

اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق 23 اگست کو ہونے والی وکرم لینڈر کی سافٹ لینڈنگ سے پہلے لینڈر کی ڈی بوسٹنگ انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ کیونکہ یہی ڈی بوسٹنگ وکرم لینڈر کو چاند کے مزید قریب لائے گی۔ جمعرات کو چندریان-3 کا پروپلشن ماڈیول اور لینڈر ماڈیول الگ ہوا تھا جس کے بعد سے ہی وکرم لینڈر تنہا ہی چاند کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ اب جبکہ وکرم لینڈر کا ڈی بوسٹنگ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے، تو دوسرے ڈی بوسٹنگ آپریشن کے لیے 20 اگست کا انتظار ہے۔

اگر آپ ’ڈی بوسٹنگ‘ کو آسان الفاظ میں سمجھنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا مطلب وکرم لینڈر کی اسپیڈ کم کرنا ہے۔ پروپلشن سے جب وکرم لینڈر الگ ہوا تھا تو وہ چاند سے تقریباً 150 کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ پہلے ڈی بوسٹنگ آپریشن کے وقت لینڈر کے تھرسٹرس آن کیے گئے جس سے لینڈر کو آگے کی طرف دھکا لگا۔ یہی عمل لینڈر کی رفتار کو کم کرنے اور اس کے مدار کو بدلنے میں استعمال ہوتا ہے۔ اب چونکہ لینڈر کے چاند پر اترنے کا وقت قریب ہے، اس لیے اس کی رفتار کم کی جا رہی ہے۔

بہرحال، 18 اگست کو ڈی بوسٹنگ آپریشن کے بعد وکرم لینڈر چاند سے تقریباً 100 کلومیٹر کی دوری پر آ گیا ہے۔ 20 اگست کو جب دوسرا ڈی بوسٹنگ آپریشن انجام پائے گا تو چاند سے وکرم لینڈر کی دوری تقریباً 30 کلومیٹر ہو جائے گی۔ بعد ازاں لینڈر کو لینڈنگ کی پوزیشن میں لایا جائے گا اور پھر سافٹ لینڈنگ کا عمل شروع ہوگا۔

منی پور میں پھر بھڑکی تشدد کی آگ، جمعہ کی صبح گولی باری سے عوام میں دہشت، 3 لاشیں برآمد، جسم پر چاقو کے نشان

0
منی-پور-میں-پھر-بھڑکی-تشدد-کی-آگ،-جمعہ-کی-صبح-گولی-باری-سے-عوام-میں-دہشت،-3-لاشیں-برآمد،-جسم-پر-چاقو-کے-نشان

منی پور میں ایک بار پھر تشدد کی آگ بھڑکتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ جمعہ کی صبح اخرل ضلع واقع کوکی تھووائی گاؤں میں 3 لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد سے عوام میں دہشت پھیل گئی ہے۔ برآمد لاشوں کی حالت بہت خراب بتائی جا رہی ہے کیونکہ اس کے جسم پر چاقو کے نشانات بھی ہیں اور کئی اعضا کو کاٹا بھی گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جمعہ کی صبح کوکی تھووائی گاؤں میں گولی باری کا واقعہ پیش آیا۔ گولیوں کی آواز سے ایک بار پھر فضا میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ جب پولیس نے تلاشی مہم چلائی تو یہاں جنگل کے علاقے سے 3 لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہ لاشیں 24 سال سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جو لاشیں برآمد ہوئی ہیں، وہ تینوں ولیج گارڈ تھے جو رات کے وقت گاؤں کی رکھوالی کر رہے تھے اور ان کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے اس معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور امن بنائے رکھنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ میں منی پور کے الگ الگ حصوں سے تشدد کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ چراچندپور اور وشنوپور میں بھی بھیڑ نے کچھ مقامات پر لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جس کی وجہ سے حالات دن بہ دن فکر انگیز ہوتے جا رہے ہیں۔ منی پور میں تشدد کی شروعات 3 مئی کو ہوئی تھی اور اب تک 150 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ میتئی اور کوکی طبقہ کے درمیان ریزرویشن کو لے کر شروع ہوا نسلی تشدد پوری ریاست میں پھیل چکا ہے اور حالات اب بھی بہتر ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

لالو پرساد یادو کی ضمانت کے خلاف سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں داخل کی عرضی، جلد سماعت کا مطالبہ

0
لالو-پرساد-یادو-کی-ضمانت-کے-خلاف-سی-بی-آئی-نے-سپریم-کورٹ-میں-داخل-کی-عرضی،-جلد-سماعت-کا-مطالبہ

چارہ گھوٹالہ معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ آر جے ڈی صدر لالو پرساد کو دی گئی ضمانت کو رد کرنے کی سی بی آئی کی عرضی پر سپریم کورٹ جلد سماعت کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق اس معاملے پر آئندہ جمعہ یعنی 25 اگست کو سماعت ہونے کا امکان ہے۔ مرکزی جانچ ایجسی (سی بی آئی) نے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ کے سامنے معاملے کا تذکرہ کیا اور ضمانت رد کرنے کی عرضی پر فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔

گزشتہ سال اپریل میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ڈورنڈا ٹریزری سے 139.5 کروڑ روپے نکالے جانے سے متعلق پانچویں چارہ گھوٹالہ معاملہ میں لالو پرساد کو ضمانت دے دی تھی۔ سپریم کورٹ نے دُمکا اور چائباسہ ٹریزری سے فرضی طریقے سے پیسہ نکالنے کے معاملے میں 17 اپریل 2021 اور 9 اکتوبر 2020 کو ضمانتی احکامات کو چیلنج دینے والی سی بی آئی کی عرضی پر پہلے ہی نوٹس جاری کر دی اتھا۔

سی بی آئی کے اس قدم پر بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ ہم عدالت میں اپنی بات رکھیں گے۔ چاہے وہ ہمیں کتنا بھی پریشان کریں، کچھ نہیں ہوگا۔ ہم اس بات کو لے کر بالکل واضح ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان سے کوئی نہیں ڈرتا۔ ہم لڑیں گے اور جیتیں گے۔

واضح رہے کہ غیر منقسم بہار میں لالو پرساد کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مویشی پروری محکمہ میں کروڑوں روپے کے چارہ گھوٹالے کا الزام لگا تھا۔ یہ گھوٹالہ 1996 میں سامنے آیا اور پٹنہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا۔ لالو پرساد کو جھارکھنڈ کے دیوگھر، دُمکا اور چائباسہ ٹریزری سے دھوکہ دہی سے پیسے نکالنے کے چار چارہ گھوٹالے کے معاملوں میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ ڈورنڈا معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے انھیں پانچ سال کی سزا سنائی تھی اور 60 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا تھا۔