پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 180

چھتیس گڑھ کے بعد راجستھان حکومت ہماچل کی مدد کے لیے آگے آئی، آفت سے نمٹنے کے لیے دئے 15 کروڑ روپے

0
چھتیس-گڑھ-کے-بعد-راجستھان-حکومت-ہماچل-کی-مدد-کے-لیے-آگے-آئی،-آفت-سے-نمٹنے-کے-لیے-دئے-15-کروڑ-روپے

شملہ: ہماچل پردیش میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث راجدھانی شملہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہوئے اور جان و مال کا ضیاع ہوا۔ دریں اثنا، دیگر ریاستیں اس مشکل وقت میں ہماچل کی مدد کے لیے آگے آ رہی ہیں۔ چھتیس گڑھ کے بعد اب راجستھان حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔ گہلوت حکومت نے ہماچل پردیش کو 15 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی ہے۔

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے ہفتہ کو کہا کہ راجستھان حکومت نے قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ میں 15 کروڑ روپے کی امداد دی ہے۔ سکھو اور لوگوں نے آفت کی اس گھڑی میں مدد فراہم کرنے پر راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم آفت سے متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے میں کارگر ثابت ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے مختلف تنظیموں اور عوام پر زور دیا کہ وہ اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ متاثرہ افراد کو مناسب امداد فراہم کی جا سکے۔ اس سے قبل ریاست میں آفت کے پیش نظر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے بھی مدد کے لیے فنڈز جاری کیے تھے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے ہماچل اور متاثرین کی مدد کے لیے 11 کروڑ کی امدادی رقم کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ سی ایم بھوپیش بگھیل نے کل ہماچل کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سے فون پر بات کی تھی۔ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ آفت کی اس گھڑی میں ہم سبھی چھتیس گڑھی ہماچل پردیش کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے ہماچل پردیش کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ہماچل پردیش میں شدید بارشوں سے ہونے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے پوری ریاست کو ‘قدرتی آفت سے متاثرہ علاقہ’ قرار دیا ہے۔ ہماچل میں اس سال مانسون نے بڑی تباہی مچائی ہے اور پوری ریاست میں جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

خبردار! ہلدی کا استعمال جان لیوا بھی ہو سکتا ہے

0
خبردار!-ہلدی-کا-استعمال-جان-لیوا-بھی-ہو-سکتا-ہے

آسٹریلوی میڈیکل ریگولیٹری تھارٹی نے کہا ہے کہ انہیں آسٹریلوی باشندوں سے جگر کے مسائل کی 18رپورٹس موصول ہوئی ہیں جنہوں نے ہلدی اس کے پودے پر مشتمل ہربل سپلیمنٹس کا استعمال کیا تھا۔

ٹیلی ویژن نیٹ ورک 9 نیوز کے مطابق ریگولیٹری باڈی نے مزید کہا کہ نو کیسز کے بارے میں کافی معلومات موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جگر خرابی ہلدی کی وجہ سے ہو سکتی ہے جسے کرکوما لونگا کہا جاتا ہے یا ہلدی میں پائے جانے والے کرکومین کمپاؤنڈ کی وجہ سے۔ مذکورہ بالا چار صورتوں میں کوئی اور اجزا موجود نہیں تھے جو اس بیماری میں حصہ لے سکتے تھے۔ جگر کی تکلیف کی وجہ سے ایک شخص کی موت بھی ہوئی ہے۔

آسٹریلوی میڈیکل اتھارٹی نے خبردار کیا کہ جڑی بوٹیوں کی دوائیں اور سپلیمنٹس، جن میں جڑی بوٹی ہلدی اور/یا کرکومین شامل ہیں غیر معمولی معاملات میں جگر کو چوٹ پہنچا سکتے ہیں۔

خطرہ یہ ہے کہ مصنوعات سپر مارکیٹوں، ہیلتھ فوڈ اسٹورز اور فارمیسیوں سے نسخے کے بغیر خریدی جا سکتی ہیں اور کسی مخصوص برانڈ کا نام نہیں دیا گیا ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ آسٹریلوی رجسٹر آف تھیراپیوٹک گڈز میں 600 سے زائد دوائیں درج ہیں جن میں یہ اجزاء شامل ہیں۔

فی الحال اس بات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے کہ کیا ایسی مصنوعات کی پیکیجنگ پر انتباہی لیبل لگانے کی ضرورت ہے جن میں ہلدی یا کرکومین شامل ہوں، خاص طور پر چونکہ جگر کے مسائل کی علامات میں جلد یا آنکھوں کا پیلا ہونا، گہرا پیشاب، متلی، الٹی، غیر معمولی تھکاوٹ یا کمزوری شامل ہیں۔

آسٹریلوی میڈیکل کور نے اس بات کی تصدیق کی کہ "دستیاب شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ہلدی اور/یا کرکومین کو دواؤں کی خوراک کی شکلوں میں لینے سے جگر کی بیماری کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ بہتر جذب، حیاتیاتی دستیابی اور زیادہ مقدار والی مصنوعات کی وجہ سے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جگر کے موجودہ یا پچھلے مسائل میں مبتلا افراد کو اس نایاب منفی واقعے کی نشوونما کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جبکہ اس وقت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کافی معلومات نہیں ہیں کہ کون سی دوائیں سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔”

حکام نے وضاحت کی کہ کھانے میں ہلدی کی عام مقدار سے کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ ہلدی ایک ایسا پودا ہے جو 4000 سال سے زائد عرصے سے کھانے کے مسالے کے ساتھ ساتھ روایتی ہندوستانی اور چینی ادویات میں دواؤں کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا آرہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

سڑک پر ہر روز ایک شخص کی جان لیتا ہے سانڈ، وہ کہتے ہیں یہ نندی ہے! اکھلیش یادو

0
سڑک-پر-ہر-روز-ایک-شخص-کی-جان-لیتا-ہے-سانڈ،-وہ-کہتے-ہیں-یہ-نندی-ہے!-اکھلیش-یادو

نئی دہلی: یو پی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوپی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ یوپی میں ٹریفک پولیس میں نئی ​​بھرتی ہوئی ہے، جو ہر سڑک پر نظر آتی ہے۔ یہ ایک نئی بھرتی ہے جس کی وجہ سے روزانہ ایک شخص مر رہا ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب اس نئی بھرتی کی وجہ سے اتر پردیش میں کسی کسان، غریب شخص یا تاجر کی جان نہ جاتی ہو۔

یہاں اکھلیش یادو بغیر نام لیے سانڈ (بیل) کے مسئلہ پر پر بول رہے تھے۔ اکھلیش نے کہا کہ وہ ان کا نام نہیں لینا چاہتے، جن کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکھلیش نے بیلوں کو لے کر ریاستی حکومت پر حملہ کیا کہ وہ بیلوں کو نندی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ارے، ہم کیسے کہہ دین کہ یہ نندی ہے جو روز ایک شخص کی جان لے گا۔‘‘

خیال رہے کہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو بیل کے معاملے پر ریاستی حکومت کو لگاتار ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ حال ہی میں اکھلیش نے اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ اکھلیش نے کہا تھا کہ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ‘سانڈ سفاری’ ہی بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن سفاری تو آپ ٹھیک نہیں کر پائے، آپ اس پر کام کیوں نہیں کر رہے؟ کیا آپ کے پاس بجٹ کم ہے؟

جن دھن کھاتوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز، وزیر اعظم مودی کا اظہار مسرت

0
جن-دھن-کھاتوں-کی-تعداد-50-کروڑ-سے-تجاوز،-وزیر-اعظم-مودی-کا-اظہار-مسرت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جن دھن کھاتوں کے 50 کروڑ کے ہندسے کو عبور کرنے کی اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جن دھن کھاتوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے آج کہا کہ وہ یہ دیکھ کر خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ کھاتے ہماری ناری شکتی کے ہیں۔

پی آئی بی انڈیا کے ایک ٹویٹ کے جواب میں، وزیر اعظم نے کہا ’’یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ان میں سےنصف سے زیادہ کھاتے ہماری ناری شکتی کے ہیں۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں 67 فیصد اکاؤنٹ کھولنے کے ساتھ، ہم اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ مالی شمولیت کے فوائد ہمارے ملک کے ہر کونے تک پہنچیں۔‘‘

پی ایم مودی نے ہماچل پردیش میں قدرتی آفت کو لے کر کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، جے پی نڈا کل ریاست کا کریں گے دورہ

0
پی-ایم-مودی-نے-ہماچل-پردیش-میں-قدرتی-آفت-کو-لے-کر-کی-اعلیٰ-سطحی-میٹنگ،-جے-پی-نڈا-کل-ریاست-کا-کریں-گے-دورہ

ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش اور جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ کے سبب لوگوں میں زبردست دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ سینکڑوں افراد کے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور سرکاری ملکیت کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس درمیان ریاست میں آفت کے بعد بچاؤ کام کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہونے والے نقصانات کو طلب اعلیٰ سطحی میٹنگ کی میں حالات و راحت رسانی کے کاموں کا جائزہ لیا۔

یہ اعلیٰ سطحی میٹنگ وزیر اعظم کی سرکاری رہائش 7 لوک کلیان مارگ پر تقریباً ایک گھنٹے تک چلی۔ اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا بھی موجود رہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جے پی نڈا بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہماچل پردیش میں ہوئے زبردست نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کل یعنی 20 اگست کو اپنی آبائی ریاست کا دورہ کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پی نڈا اس دورہ کے دوران قدرتی آفت میں ہلاک لوگوں کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے اور ساتھ ہی وہ سمر ہل، شملہ میں زبردست بارش کے سبب منہدم ہوئے قدیم شیو مندر کا معائنہ کریں گے۔ شملہ اور بلاس پور میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ وہ میٹنگ کر راحت، بچاؤ اور بازآبادکاری کے کاموں پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ نڈا اتوار کی صبح 9 بجے پانوٹا صاحب (سرمور) پہنچیں گے، اور پھر اس کے بعد سڑک کے راستے 9.35 بجے سرموری تال اور کچی ڈھانگ گاؤں پہنچیں گے جہاں وہ سرموری تال علاقہ میں بادل پھٹنے سے پیدا حالات کا جائزہ لیں گے۔ وہ یہاں اس حادثہ میں ہلاک 5 اراکین کے کنبوں سے ملاقات بھی کریں گے۔ تقریباً 11.30 بجے نڈا شملہ کے شیوباؤڑی، سمرہل پہنچیں گے۔ یہاں منہدم شیو مندر کا وہ معائنہ کریں گے جس میں اب تک 16 لوگوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور ہنوز راحت و بچاؤ کا عمل جاری ہے۔

گوا میں چرچ کے سامنے دیوی کی مورتی رکھنے پر تنازعہ، 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج

0
گوا-میں-چرچ-کے-سامنے-دیوی-کی-مورتی-رکھنے-پر-تنازعہ،-10-افراد-کے-خلاف-مقدمہ-درج

پنجی: گوا پولیس نے چرچ کے سامنے ایک ڈھانچہ کے اوپر دیوی کی مورتی رکھنے کے الزام میں 10 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو جنوبی گوا کے سانکولے میں پیش آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں مورتی پکڑے ہوئے لوگ لوگوں سے آنے اور دیوی کا آشیرواد لینے کی درخواست کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے کے لوگوں نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی اور امن برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کو کہا۔ جس کے نتیجے میں علاقے میں پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔

اس معاملے میں، ورنا پولیس نے 10 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ ہم نے 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے انہیں تھانے بلانے کی رسمی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

‘معافی مانگ کر بچ نہیں سکتے’، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ شیئر کرنے والوں پر سپریم کورٹ سخت

0
‘معافی-مانگ-کر-بچ-نہیں-سکتے’،-سوشل-میڈیا-پر-قابل-اعتراض-پوسٹ-شیئر-کرنے-والوں-پر-سپریم-کورٹ-سخت

سپریم کورٹ نے اداکار اور تمل ناڈو کے سابق رکن اسمبلی ایس وی شیکھر کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں انھوں نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ سے متعلق اپنے خلاف درج ایک معاملے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو اس کے اثرات اور رسائی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔

آج جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس پی کے مشرا کی بنچ مدراس ہائی کورٹ کے 14 جولائی کے حکم کے خلاف شیکھر کی داخل عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ ہائی کورٹ نے ان کے ذریعہ شیئر کردہ پوسٹ سے متعلق مجرمانہ کارروائی کو رد کرنے کے مطالبہ والی عرضی خارج کر دی تھی۔ اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے سوشل میڈیا پوسٹ پر ملزم کو سزا ملنی ضروری ہے، ایسے معاملوں میں صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا، ایسے لوگ مجرمانہ کارروائی سے نہیں بچ سکتے۔

آج ہوئی سماعت میں بنچ نے عرضی دہندہ کی نمائندگی کر رہے وکیل سے کہا کہ "اگر کوئی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے، تو اسے اس کے اثرات اور رسائی کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔” وکیل نے دلیل دی کہ شیکھر نے حادثہ کی تاریخ پر اپنی آنکھوں میں کچھ دوا ڈالی تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنے ذریعہ شیئر کردہ پوسٹ کو نہیں پڑھ سکے اور پوسٹ کر دیا۔ بنچ نے اس پر کہا کہ کسی کو بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا ہوگا۔ ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا ضروری لگتا ہے، تو اسے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ شیکھر نے 19 اپریل 2018 کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک قابل اعتراض اور فحش تبصرہ پوسٹ کیا تھا، جس کے بعد چنئی پولیس کمشنر کے سامنے ایک شکایت درج کی گئی تھی۔ عدالت نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ تمل ناڈو کے مختلف حصوں میں شیکھر کے خلاف دیگر نجی شکایات بھی درج کی گئی تھیں۔

شیکھر کے وکیل نے اس دوران کہا تھا کہ پوسٹ میں شامل قابل اعتراض تبصرہ کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد شیکھر نے اسی دن کچھ گھنٹوں کے اندر پوسٹ کو ہٹا دیا اور اس کے بعد 20 اپریل 2018 کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے بلاشرط متعلقہ خاتون صحافی اور میڈیا سے معافی مانگی تھی۔

کھڑگے نے ‘اڑان’ اسکیم کے تعلق سے سی اے جی کی رپورٹ پر حکومت کو نشانہ بنایا

0
کھڑگے-نے-‘اڑان’-اسکیم-کے-تعلق-سے-سی-اے-جی-کی-رپورٹ-پر-حکومت-کو-نشانہ-بنایا

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کے روز اڑان اسکیم سے متعلق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کا چپل پہن کر فضائی سفر کرنے کا وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح ہوا میں اڑ گیا ہے، کیونکہ یہ اسکیم 93 فیصد روٹس پر کام نہیں کرتی۔

اس مہینے کے اوائل میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سی اے جی کی رپورٹ پر کھڑگے نے کہا ’’مودی حکومت کا چپل پہن کر ہوائی سفر کرنے کا وعدہ ان کے دوسرے وعدوں کی طرح ہوا میں اڑ گیا ہے۔ یہ ہم نہیں، سی اے جی کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا ’’یہ اسکیم 93 فیصد راستوں پر کام نہیں کرتی۔ ایئر لائنز کا کوئی آزاد آڈٹ بھی نہیں ہوا۔ بہت زیادہ مشہور ہیلی کاپٹر خدمات بھی ٹھپ ہیں۔ صرف جھوٹ اور بیان بازی چل رہی ہے۔ ہندوستان اب ایسی نااہل حکومت کو کبھی برداشت نہیں کر گا۔

ان کے تبصرے سی اے جی کی ایک رپورٹ کے کچھ دن بعد آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اڑان-3 تک الاٹ کیے گئے راستوں میں سے 52 فیصد (774 میں سے 403 روٹس) آپریشنل نہیں ہو سکے۔ شروع کئے گئے راستوں میں سے صرف 112 روٹس (30 فیصد) نے آپریشن مکمل کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان 112 راستوں میں سے صرف 54 روٹس (راستوں کا 7 فیصد) جو کہ 17 RCS ہوائی اڈوں کو جوڑتے ہیں، مارچ 2023 تک تین سال کی رعایتی مدت کے بعد آپریشن جاری رکھ سکے۔

منی پور تشدد کے خلاف قبائلیوں نے کیا زبردست احتجاجی مظاہرہ، افسپا پھر سے نافذ کرنے کا مطالبہ

0
منی-پور-تشدد-کے-خلاف-قبائلیوں-نے-کیا-زبردست-احتجاجی-مظاہرہ،-افسپا-پھر-سے-نافذ-کرنے-کا-مطالبہ

منی پور میں تشدد کی آگ اب ناگا طبقہ کے قلعہ اخرل تک پہنچ گئی ہے۔ مشتبہ باغیوں نے جمعہ (18 اگست) کو تھوئی گاؤں میں تین لوگوں کا بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس کے خلاف منی پور میں کوکی-زو طبقہ کے اثر والے علاقوں، خصوصاً کانگپوکپی ضلع میں زبردست احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس ضلع میں سینکڑوں خواتین کل دوپہر سے ہی قومی شاہراہ-2 پر احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں جس سے ٹریفک نظام رخنہ انداز ہوا ہے۔

کوکی-زو طبقہ کا احتجاجی مظاہرہ ہفتہ کے روز شدید ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ مظاہرین پہاڑی علاقوں میں آسام رائفلز کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے بتایا کہ ہندوستان کے یومِ آزادی پر منی پور کے وزیر اعلیٰ ایم بیرین سنگھ کے ‘معاف کرو اور بھول جاؤ’ اور پہلے کی طرح امن سے رہنے کی اپیل کے بمشکل دو دن بعد تین لوگوں کا قتل کر دیا گیا اور ان کے اعضا بھی کاٹ دیے گئے۔

تین لوگوں کے قتل سے مایوس خاتون مظاہرین نے مرکز سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی اور تینوں متاثرین کے لیے انصاف یقینی بنانے کی اپیل کی۔ خاتون مظاہرین نے ریاست میں متنازعہ مسلح فورس خصوصی حقوق ایکٹ (افسپا) کو جلد از جلد پھر سے نافذ کرنے کی گزارش بھی کی۔ قبائلی اتحاد کمیٹی (سی او ٹی یو) نے بھی مرکز سے پہاڑی اضلاع کی طرح منی پور کے سبھی وادی والے اضلاع میں پھر سے افسپا نافذ کرنے کی اپیل کی۔

سی او ٹی یو کے میڈیا سیل کوآرڈینیٹر این جی لون کپگین نے کہا کہ "ہم مرکز سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ صدر راج نافذ نہیں کر سکتے تو آرٹیکل 355 لگانے کے بارے میں کیا؟… ہم چاہتے تھے کہ ان علاقوں میں افسپا پھر سے نافذ کیا جائے جہاں سے اسے حال ہی میں ہٹا دیا گیا تھا۔”

حمل ضائع کرنے سے متعلق عرضی پر گجرات ہائی کورٹ کی کارگزاری سے سپریم کورٹ ناراض، لگائی پھٹکار

0
حمل-ضائع-کرنے-سے-متعلق-عرضی-پر-گجرات-ہائی-کورٹ-کی-کارگزاری-سے-سپریم-کورٹ-ناراض،-لگائی-پھٹکار

سپریم کورٹ نے حمل ضائع کرنے کے مطالبہ کو لے کر عصمت دری متاثرہ کی عرضی پر وقت برباد کرنے کی کارگزاری کو لے کر گجرات ہائی کورٹ کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اس معاملے میں عدالت عظمیٰ نے 20 اگست یعنی اتوار کی شام تک میڈیکل رپورٹ مانگی ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران گجرات حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اب اس معاملے کی سماعت پیر کے روز ہوگی۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ گجرات ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بیش قیمتی وقت برباد کر دیا ہے۔ جسٹس بی وی ناگرتنا کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ عدالت ریاست گجرات کو نوٹس جاری کرتی ہے۔ وکیل سواتی گھلڈیال نے اس نوٹس کو قبول کر لیا ہے، جبکہ گجرات ریاست نے سبھی فریقین کے لیے یہ نوٹس قبول کیا ہے۔

اس سے قبل عرضی دہندہ کی طرف سے ششانک سنگھ نے عدالت میں اپنی بات رکھی۔ انھون نے کہا کہ ہائی کورٹ میں معاملہ 7 اگست کو داخل کیا گیا تھا۔ اس معاملے کو 8 اگست کو اٹھایا گیا تھا اور عرضی دہندہ کے حمل کی حالت کا پتہ لگانے کے لیے اسے میڈیکل بورڈ کے سامنے رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔ پھر اس کے 3 دن بعد 11 اگست کو بھروچ میڈیکل کالج کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کرن پٹیل نے رپورٹ سونپی تھی۔

آج سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں وقت کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے معاملے کو 12 دن بعد 23 اگست کے لیے فہرست بند کیا، جبکہ ہر دن کی تاخیر بے حد اہم اور بہت ہی اہم تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ معاملے میں عرضی دہندہ نے حمل کو ضائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے عدالت کا دروازہ اس وقت کھٹکھٹایا جب وہ 26 ہفتے کی حاملہ تھی۔ 8 اگست سے اگلی لسٹنگ کی تاریخ تک کا بے حد اہم وقت برباد ہو گیا۔

عرضی دہندہ کی طرف سے عدالت کو مطلع کیا گیا ہے کہ آج تک عرضی دہندہ 27 ہفتہ اور 2 دن کی حاملہ ہے اور 28 ہفتے کے حمل کے قریب پہنچنے والی ہے۔ چونکہ بیش قیمتی وقت برباد ہو گیا ہے، اس لیے میڈیکل بورڈ بھروچ سے نئی رپورٹ مانگی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس پر کہا کہ ہم عرضی دہندہ کو ایک بار پھر سے جانچ کے لیے کے ایم سی آر آئی اسپتال میں حاضر ہونے کی ہدایت دیتے ہیں اور معاملے سے جڑی نئی اسٹیٹس رپورٹ کل اتوار شام 6 بجے تک اس عدالت کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے۔