بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 179

بنگلورو: کے ایس آر ریلوے اسٹیشن پر کھڑی اُدیان ایکسپریس میں لگی آگ، کافی مشقت کے بعد آگ پر پایا گیا قابو

0
بنگلورو:-کے-ایس-آر-ریلوے-اسٹیشن-پر-کھڑی-اُدیان-ایکسپریس-میں-لگی-آگ،-کافی-مشقت-کے-بعد-آگ-پر-پایا-گیا-قابو

بنگلورو کے کرانتی ویرا سنگولی راینا (کے ایس آر) ریلوے اسٹیشن پر آج صبح اُدیان ایکسپریس ٹرین میں آگ لگنے سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ فوری طور پر آگ لگنے کی خبر فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کو دی گئی اور گھنٹوں کی مشقت کے بعد فائر بریگیڈ دستہ نے اس آگ پر قابو پایا۔ یہ ٹرین ممبئی سے بنگلورو اسٹیشن کے لیے چلتی ہے، یعنی کے ایس آر ریلوے اسٹیشن اس ٹرین کی آخری منزل ہوتی ہے۔ یہاں سبھی مسافر ٹرین سے اتر چکے تھے تب یہ آگ لگی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے جنوب مغربی ریلوے کے حوالے سے بتایا ہے کہ آگ لگنے کا واقعہ مسافروں کے ٹرین سے اترنے کے تقریباً 2 گھنٹے بعد پیش آیا۔ حادثے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ کی ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

ریلوے افسران کا کہنا ہے کہ ممبئی کے چھترپتی شیواجی ٹرمینس سے چلنے والی ٹرین نمبر 11301 اُدیان ایکسپریس ہفتہ کے روز صبح 5.45 بجے بنگلورو واقع کے ایس آر ریلوے اسٹیشن پہنچی تھی۔ تقریباً 7.10 بجے ٹرین کے کوچ بی-1 اور بی-2 سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ اس سے اسٹیشن پر افرا تفری مچ گئی اور فوراً ہی فائر بریگیڈ کو الرٹ کیا گیا۔ خبر ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور کافی مشقتوں کے بعد آگ پر قابو پایا۔ ٹرین میں آگ کس وجہ سے لگی، اس بارے میں ابھی پتہ نہیں چل پایا ہے۔ ریلوے افسران نے اس آتشزدگی واقعہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرین میں آگ لگنے کا یہ ایک ہفتہ کے اندر دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 16 اگست کو خام تیل لے کر مونگیر سے کیول جا رہی مال گاڑی کے ٹینکر میں جمال پور ریلوے اسٹیشن پر آگ لگ گئی تھی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم نے سرگرمی دکھاتے ہوئے وقت رہتے آگ پر قابو پا لیا تھا اور کوئی بڑا حادثہ ہونے سے پہلے ہی ٹل گیا تھا۔ اس حادثہ میں بھی کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔ اس حادثہ کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسپارکنگ کے سبب ٹرین کے ٹینکر میں آگ لگی تھی۔

راجیہ سبھا کے 12 فیصد اراکین ہیں ارب پتی، اے ڈی آر کی رپورٹ میں کچھ اہم انکشافات

0
راجیہ-سبھا-کے-12-فیصد-اراکین-ہیں-ارب-پتی،-اے-ڈی-آر-کی-رپورٹ-میں-کچھ-اہم-انکشافات

اے ڈی آر نے راجیہ سبھا کے 233 میں سے 225 اراکین پارلیمنٹ کے مجرمانہ، معاشی و دیگر پس منظر کو کھنگال کر کچھ اہم جانکاریاں شیئر کی ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ راجیہ سبھا کے موجودہ اراکین پارلیمنٹ میں سے 12 فیصد اراکین پارلیمنٹ ارب پتی ہیں اور ان میں سب سے زیادہ کا تعلق آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے ہے۔

ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آندھرا پردیش کے 11 راجیہ سبھا اراکین میں سے 5 ارب پتی ہیں۔ اس ریاست سے تعلق رکھنے والے مجموعی اراکین پارلیمنٹ کی یہ تعداد 45 فیصد ہے۔ اسی طرح تلنگانہ کے 7 میں سے 3، مہاراشٹر کے 19 میں سے 3، دہلی کے 3 میں سے 1، پنجاب کے 7 میں سے 2، ہریانہ کے 5 میں سے 1 اور مدھیہ پردیش کے 11 میں سے 2 راجیہ سبھا اراکین نے اپنی ملکیت 100 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کچھ حیران کرنے والے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تلنگانہ کے سبھی سات راجیہ سبھا اراکین کی ملکیت کو جوڑا جائے تو یہ 5596 کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش کے سبھی 11 راجیہ سبھا اراکین کی ملکیت ملائیں تو 3823 کروڑ روپے اکٹھے ہو جائیں گے۔ اتر پردیش کے سبھی 30 اراکین راجیہ سبھا کی مجموعی ملکیت 1941 کروڑ روپے ہوتی ہے، جو کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے اراکین راجیہ سبھا کے مقابلے میں تعداد میں تو بہت زیادہ ہے، لیکن ملکیت میں بہت کم ہے۔

اے ڈی آر کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ راجیہ سبھا کے موجودہ 225 اراکین میں سے 75 نے ان کے خلاف مجرمانہ معاملوں کا تذکرہ کیا ہے۔ 41 نے سنگین جرائم کے معاملے اور 2 نے تو قتل سے متعلق معاملے کی بھی جانکاری شیئر کی ہے۔ چار راجیہ سبھا اراکین نے ان کے خلاف درج خواتین سے متعلق جرائم کا تذکرہ بھی اپنے حلف نامے میں کیا ہے۔ بی جے پی کے 85 میں سے 23، کانگریس کے 30 میں سے 12، ترنمول کانگریس کے 13 میں سے 4، آر جے ڈی کے 6 میں سے 5، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے 5 میں سے 4، عآپ کے 10 میں سے 3، وائی ایس آر سی پی کے 9 میں سے 3 اور این سی پی کے 3 میں سے 2 اراکین راجیہ سبھا نے اپنے حلف نامے میں ان کے خلاف درج مجرمانہ معاملوں کا تذکرہ کیا ہے۔

ہندوستانی فضائیہ نے اے ڈی آر ڈی ای کے ذریعہ ڈیزائن کردہ ہیوی ڈراپ سسٹم کا کیا کامیاب تجربہ

0
ہندوستانی-فضائیہ-نے-اے-ڈی-آر-ڈی-ای-کے-ذریعہ-ڈیزائن-کردہ-ہیوی-ڈراپ-سسٹم-کا-کیا-کامیاب-تجربہ

ڈیفنس مینوفیکچرنگ میں میک اِن انڈیا کے تحت ملک نے آج ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈی آر ڈی او (ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن) کے ذریعہ تیار پی-7 ہیوی ڈراپ سسٹم کی مدد سے اب جنگ کے میدان میں 7 ٹن تک وزنی ساز و سامان کو پیراشوٹ کے ذریعہ آسانی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ نے حال ہی میں ڈی آر ڈی او کی معاون یونٹ ایریل ڈیلیوری ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیبلشمنٹ (اے ڈی آر ڈی ای) کے ذریعہ ڈیزائن اور تیار ہیوی ڈراپ سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ہیوی ڈراپ سسٹم کا استعمال 7 ٹن وزن کیٹگری کے فوجی سامان (گاڑی، گولہ بارود، مشینیں) کو پیراشوٹ سے نیچے گرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ آئی ایل-76 طیارہ کے ہیوی ڈراپ سسٹم (پی-7 ایچ ڈی ایس) میں ایک پلیٹ فارم اور اسپیشل پیراشوٹ سسٹم شامل ہوتا ہے۔ پیراشوٹ سسٹم ایک ملٹی اسٹیج پیراشوٹ سسٹم ہے، جس میں پانچ اہم کینوپی، پانچ بریک شوٹ، دو اسسٹنٹ شوٹ، ایک ایکسٹریکٹر پیراشوٹ شامل ہیں۔ اس کا پلیٹ فارم الیومنیم اور اسٹیل کے مرکب سے بنا ایک دھات کا ڈھانچہ ہے۔ اس سسٹم کو 100 فیصد سودیشی وسائل کے ساتھ کامیابی کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ پی-7 ایچ ڈی ایس کو فوج میں شامل کر لیا گیا ہے۔ پی-7 ہیوی ڈراپ سسٹم کی مینوفیکچرنگ ایل اینڈ ٹی کمپنی کر رہی ہے، جبکہ اس کے لیے پیراشوٹ کی مینوفیکچرنگ آرڈیننس فیکٹری کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ پیراشوٹ پر تیل اور پانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے اور انھیں طویل مدت تک استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ ڈی آر ڈی او طویل عرصہ سے اس سسٹم کو بنانے کی تیاری کر رہا تھا۔ گزشتہ تقریباً پانچ سالوں سے ہیوی ڈراپ سسٹم کا تجربہ جاری ہے۔

ہماچل پردیش میں ہر طرف تباہی کا منظر، سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کا سلسلہ جاری، 4 دنوں میں 74 افراد کی موت

0
ہماچل-پردیش-میں-ہر-طرف-تباہی-کا-منظر،-سیلاب-اور-لینڈ-سلائیڈ-کا-سلسلہ-جاری،-4-دنوں-میں-74-افراد-کی-موت

ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش سے تباہی کا عالم پیدا ہو گیا ہے۔ ریاست میں بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے سبب گزشتہ چار دنوں میں ہی 74 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں افراد کا ریسکیو کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کو بارش کے سبب تقریباً 7700 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ شملہ پر لگاتار لینڈ سلائیڈ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کئی اضلاع موسلادھار بارش اور لینڈ سلائیڈ سے بری طرح متاثر ہیں۔

ہماچل پردیش میں لگاتار ہو رہی بارش اور لینڈ سلائیڈ کے واقعات کو دیکھتے ہوئے این ڈی آر ایف کی ٹیم لگاتار مستعد ہے۔ وہ راحت اور بچاؤ کام میں لگی ہوئی ہے۔ اگر جون سے ابھی تک کی بات کریں تو ریاست میں قدرتی آفات کے سبب 330 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ دراصل ہماچل پردیش میں گزشتہ کچھ دنوں سے لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے لینڈ سلائیڈ کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

اس درمیان محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ آج سے آئندہ تین دنوں تک ریاست میں بھاری سے بہت بھاری بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے آئی ایم ڈی نے ہماچل کے 10 ضلعوں کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ ریاست کی ابتر حالت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ 18 اگست کو ہماچل میں 65 مکانات منہدم ہو گئے اور 271 دیگر کو نقصان پہنچا ہے۔ تازہ حالات میں 875 سڑکیں بند ہیں اور کئی گاؤں کی بجلی بھی گل ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ہماچل پردیش میں جوشی مٹھ جیسا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ریاست میں 17 ہزار مقامات پر لینڈ سلائیڈ کا خطرہ ہے۔ ان میں سے 1357 مقامات تو صرف شملہ میں ہی موجود ہیں۔ زوردار بارش میں مٹی لگاتار پھول رہی ہے، جس کے سبب سڑک اور مکانات دھنسنے لگے ہیں۔ رواں سال جنوری ماہ میں اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ میں گھروں، سڑکوں اور ہوٹلوں میں پیدا ہوئے شگاف سے لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا تھا اور اب تک لوگ پناہ گزیں بن کر راحتی کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہیں۔ کچھ ایسے ہی حالات شملہ میں بھی بنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

موڈیز نے ہندوستان کی ریٹنگ برقرار رکھی، لیکن منی پور اور سیاسی ایشوز پر فکر کا کیا اظہار

0
موڈیز-نے-ہندوستان-کی-ریٹنگ-برقرار-رکھی،-لیکن-منی-پور-اور-سیاسی-ایشوز-پر-فکر-کا-کیا-اظہار

مشہور ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرس سروس نے جمعہ کے روز ہندوستان کی بی اے اے 3 ریٹنگ طے کرتے ہوئے ملک کو لے کر اپنا مستحکم نظریہ برقرار رکھا ہے۔ حالانکہ اس کے ساتھ ہی اس نے منی پور کی مثال پیش کرتے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی جیسے ایشوز پر سنگین فکر کا اظہار کیا ہے۔

موڈیز نے منی پور کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب اداروں اور سیاسی عدم اتفاق کے پر کترنے سے سیاسی جوکھم اور اداروں کے معیار کی قدریں کمزور ہوتی ہیں۔ اس نے کہا کہ گھریلو سیاسی کشیدگی عوام کو خوش کرنے والی پالیسیوں کے جوکھم کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔

اس میں آگے کہا گیا ہے کہ حالانکہ اونچے سیاسی پولرائزیشن سے حکومت کی جغرافیائی عدم استحکام کا امکان نہیں ہے، لیکن بڑھتے گھریلو سیاسی کشیدگی سماجی پھیلاؤ کے درمیان غریبی اور آمدنی میں نابرابری جیسے ایشوز عوام کو خوش کرنے والی پالیسیوں کے جوکھم کے امکانات پیدا کرتے ہیں، جس میں علاقائی اور مقامی سرکاری سطح بھی شامل ہیں۔

ساتھ ہی موڈیز نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ وقت وقت پر سرحد پر کشیدگی کا تذکرہ خوشحال ممالک کے درمیان سیاسی جوکھم کے تئیں کم مجموعی حساسیت کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ منی پور گزشتہ ساڑھے تین مہینے سے نسلی تشدد کی زد میں ہے، جس کے نتیجہ کار 150 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی اور 50000 سے زیادہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اہم خبریں LIVE: آسام میں حد بندی معاملہ پر بی جے پی لیڈر نے ہی وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف کھول دیا محاذ

0
اہم-خبریں-live:-آسام-میں-حد-بندی-معاملہ-پر-بی-جے-پی-لیڈر-نے-ہی-وزیر-اعلیٰ-ہیمنت-بسوا-سرما-کے-خلاف-کھول-دیا-محاذ

آسام میں بی جے پی کے سرکردہ لیڈر اور چار بار رکن پارلیمنٹ رہ چکے راجین گوہین نے حد بندی کو لے کر وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ انھوں نے کابینہ سطح کے آسام فوڈ اینڈ سول سپلائی کارپوریشن لمیٹڈ کے چیئرمین عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں شیو راج کے خلاف کانگریس کا کرناٹک انداز

0
مدھیہ-پردیش-میں-شیو-راج-کے-خلاف-کانگریس-کا-کرناٹک-انداز

لوک سبھا انتخابات سے پہلے کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان انتخابات کو لوک سبھا انتخابات  کے لئے  سیمی فائنل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان میں مدھیہ پردیش بھی شامل ہے جہاں اس سال کے آخر تک انتخابات ہونے والے ہیں۔ جمعرات کو ایم پی کے لیے اپنے 39 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے، بی جے پی نے انتخابی تاریخوں کے اعلان سے پہلے ہی بگل بجا دیا ہے۔ دوسری طرف کانگریس نے مدھیہ پردیش جیتنے کے لیے کرناٹک ماڈل کو لاگو کرنا شروع کر دیا ہے۔

کانگریس نے جس طرح سے کرناٹک میں بدعنوانی کے خلاف جارحانہ مہم چلائی تھی، کانگریس اسی طرح سے  مدھیہ پردیش میں بھی چلا رہی ہے۔ یہی نہیں، کانگریس نے مدھیہ پردیش میں کرناٹک کے انتخابی انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا کو بھی میدان میں اتارا ہے۔

ستمبر 2022 میں کرناٹک کی انتخابی مہم میں کانگریس نے اسی طرح کی پے سی ایم (PAYCM)مہم چلائی تھی۔  یہ بدعنوانی کے خلاف مہم تھی جس میں کرناٹک کے وزیر اعلی پر الزام لگایا تھا کہ ان کو پیسہ دیجئے سب کام ہو جاتے ہیں ۔تب نشانہ بناناٹک میں بی جے پی حکومت کے سی ایم بسواراج بومائی تھے اور پارٹی نے ان پر 40 فیصد کمیشن کا الزام لگایا تھا۔ ان الزامات نے کرناٹک میں حکومت مخالف ماحول پیدا کیا کہ کانگریس انتخابات جیت گئی۔ اب کانگریس نے پے سی ایم کی جگہ ماماٹو(MAMATO)مہم شروع کی ہے اور بسواراج بومائی کے بجائے شیوراج سنگھ چوہان  اور مسئلہ وہی کرپشن ہے۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر اور سابق سی ایم کمل ناتھ نے کہا کہ بدعنوانی اور مظالم مدھیہ پردیش کی پہچان بن چکے ہیں۔ شیوراج ٹھگ راج بن گیا ہے۔ تاجر، نوجوان سب کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ کمل ناتھ نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ کرپشن کے بارے میں کیا بتاؤں تو لوگ کہتے ہیں کہ پیسہ لو اور کام کرو۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں، مجھے ہر جگہ مختلف باتیں سننے کو ملتی ہیں۔

مدھیہ پردیش جیتنے کے لیے کانگریس نے وہی ماڈل منتخب کیا ہے جس کی بنیاد پر اس نے کرناٹک میں حکومت بنائی تھی۔ کرناٹک کی طرز پر کانگریس مدھیہ پردیش میں بھی بدعنوانی کو مسئلہ بنا رہی ہے۔ کرناٹک کی طرح مدھیہ پردیش میں بھی کانگریس ووٹروں کو گارنٹی دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہاں بھی کانگریس نرم ہندوتوا کے راستے پر ہے۔ جس طرح کرناٹک میں کانگریسی لیڈروں نے خود کو ہندوتوا کا حامی قرار دیا تھا، اسی طرح مدھیہ پردیش میں کانگریسی لیڈر خود کو ہندوتوا کا حامی بتا رہے ہیں۔

بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں اپنے 39 امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے صرف 15 گھنٹے بعد ہی کمل ناتھ نے کرناٹک طرز پر شیوراج حکومت کے خلاف بدعنوانی کی چارج شیٹ جاری کی۔ جس میں تمام گھوٹالے جیسے نیوٹریشن گھوٹالہ، مڈ ڈے میل گھوٹالہ، آنگن واڑی نل پانی گھوٹالہ، یونیفارم گھوٹالہ، نرسنگ گھوٹالہ، ویاپم گھوٹالہ، ہنر گھوٹالہ، پیرامیڈیکل اسکالرشپ گھوٹالہ شامل ہیں۔ کرناٹک کی طرز پر مدھیہ پردیش میں بھی ان گھوٹالوں کے لیے سی ایم شیوراج کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

مدھیہ پردیش میں کانگریس کرناٹک سے بدعنوانی اور نرم ہندوتوا جیسے مسائل صرف لے کر نہیں آئی بلکہ  کرناٹک میں کانگریس کو جتوانے والی ٹیم کا حصہ رہنے والے رندیپ سنگھ سرجے والا کو بھی لے کر آئی ہے۔سرجے والا کی تقرری کے ساتھ، کانگریس کو اپنی انتخابی حکمت عملی میں برتری حاصل ہونے کی امید ہے۔

بھارت میں نئے آئین کی تجویز پرہنگامہ اور مودی حکومت کی وضاحت

0
بھارت-میں-نئے-آئین-کی-تجویز-پرہنگامہ-اور-مودی-حکومت-کی-وضاحت

بھارتی وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل نے بھارت کے لیے ایک نئے آئین کی ضرورت سے متعلق اپنے چیئرمین بی بیک دیب رائے کی متنازعہ تجویز سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ کونسل نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ اس حوالے سے دیب رائے کا مضمون بھارت سرکار یا وزیر اعظم کی اقتصادی مشاوری کونسل کے نظریات کی کسی بھی صورت میں عکاسی نہیں کرتا۔

بی بیک دیب رائے نے اس ہفتے کے اوائل میں ایک اخبار میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ بھارت کا موجودہ آئین نوآبادیاتی وراثت کا مظہر ہے اور ملک کے عوام کے لیے ایک نئے آئین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا تھا، "ہم جس بات پر بحث کرتے ہیں اس کا بیشتر حصہ آئین سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔ چند ترامیم سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہمیں دوبارہ ازسرنو غور کرنا ہو گا اور اولین اصولوں سے آغاز کرنا ہو گا۔ اور یہ پوچھنا ہو گا کہ آئین کی تمہید میں درج سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری، انصاف، ازادی اور مساوات الفاظ کا اب کیا مطلب رہ گیا ہے۔ ہمیں خود کو ایک نیا آئین دینا ہو گا۔”

دیب رائے نے بعض حوالوں کے ساتھ لکھا ہے کہ تحریری آئین کی مدت صرف 17 برس ہوتی ہے۔ لیکن”ہمارا موجودہ آئین بڑی حد تک گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935پر مبنی ہے۔ اس طرح یہ ایک نوآبادتی وراثت ہے۔” انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ” ڈاکٹر امبیڈکر (آئین ساز کمیٹی کے سربراہ) نے بھارتی آئین ساز اسمبلی اور 2 ستمبر 1953 کو راجیہ سبھا میں بھی کہا تھا کہ آئین پر نظرثانی ہوتی رہنی چاہئے۔”

متعدد سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے وزیر اعظم کے اعلیٰ اقتصادی مشیر کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض رہنماوں نے اسے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آئین کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا۔

خیال رہے کہ شدت پسند ہندو تنظیمیں بھارتی آئین کو تبدیل کرنے اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کا مطالبہ دہراتی رہتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے مودی حکومت نے بی بیک دیب رائے کے ذریعہ پانی میں پتھر پھینک کر ردعمل جاننے کی کوشش کی ہے۔

کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ ببیک دیب رائے کے ذریعہ حکومت نے موجودہ آئین کو کوڑے دان میں ڈال دینے کی تجویز پیش کردی ہے جو سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر ہمیشہ رہا ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا، "اہل وطن کو ہوشیار ہو جانا چاہئے۔” لالو پرساد کی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا کا کہنا، "دیب رائے کے ذریعہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکا گیا ہے تاکہ لہریں پیدا ہوں، پھر کچھ اور لوگ ایسا کریں گے اور یہ کہا جائے گا کہ یہ مطالبہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔”

ایک دیگر اپوزیشن جماعت جنتا دل یونائٹیڈ کے قومی سکریٹری راجیو رنجن نے کہا کہ بی جے پی نے کئی مواقع پر آئین کے بنیادی کردار کو بدلنے کی کوشش کی ہے اور بی بیک دیب رائے کے تازہ بیان نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی تشویش ناک سوچ کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔” انہوں نے تاہم کہا کہ بھارت اس طرح کی کوششوں کو کبھی قبول نہیں کر ے گا۔

دریں اثنا بی بیک دیب رائے نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی تجویز پر بلا وجہ ہنگامہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور اس طرح کی رائے وہ پہلے بھی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ افسوس کی بات ہے کہ ان کی ذاتی رائے کو وزیر اعظم مودی کی رائے کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”

الور میں پھر موب لنچنگ، اقلیتی طبقہ کے 3 نوجوانوں کو درجن بھر لوگوں نے بے رحمی سے پیٹا، ایک کی موت

0
الور-میں-پھر-موب-لنچنگ،-اقلیتی-طبقہ-کے-3-نوجوانوں-کو-درجن-بھر-لوگوں-نے-بے-رحمی-سے-پیٹا،-ایک-کی-موت

راجستھان کے الور میں ایک بار پھر موب لنچنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الور کے بانسور میں جنگل سے لکڑی اٹھانے پہنچے اقلیتی طبقہ کے 3 نوجوانوں کی ایک درجن سے زیادہ لوگوں نے بے رحمی سے پٹائی کی۔ اس پٹائی سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ دو دیگر بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوریسٹ اہلکاروں کی گاڑی میں بھر کر درجن بھر سے زائد لوگ آئے تھے جنھوں نے 3 مسلم نوجوانوں کی بری طرح پٹائی شروع کر دی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ملزمین نے جے سی بی لگا کر تینوں نوجوانوں کو لکڑی اٹھانے سے روکا اور مار پیٹ کی۔ اس واقعہ کے تعلق سے الور واقع ہرسورا تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔

’آج تک‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس میں ایف آئی آر متاثرہ فریق کی جانب سے درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق طیب خان نے بتایا کہ 17 اگست کو میرے بیٹے وسیم نے رامپور گاؤں (بانسور) سے لکڑی خریدی تھی جن کو بھرنے شامل کو گیا تھا۔ مجھے اس کے ساتھی آمش نے بتایا کہ ہم شام تقریباً 10 بجے لکڑی بھر رہے تھے۔ ہمیں خبر ملی کہ محکمہ جنگلات والے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم گاڑی لے کر اپنے گھر کے لیے چل دیے۔ ہمارے پیچھے محکمہ جنگلات کی گاڑی (جیپ آر جے 14 یو ڈی 1935) آ رہی تھی۔

ایف آئی آر میں آگے لکھا گیا ہے کہ آمش کے مطابق کچھ دور آگے جے سی بی نے راستہ روک رکھا تھا۔ ہم نے گاڑی روکی تو تین چار لوگ جے سی بی سے اترے، وہیں 8-7 لوگ محکمہ جنگلات کی جیپ سے اترے۔ ہمیں جبراً باہر کر ان سبھی لوگوں نے مارنا شروع کر دیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دھاردار اسلحے، سریا اور لاٹھی تھے۔ بھیڑ نے وسیم کے سینے میں دھاردار اسلحہ ڈال کر مار دیا اور ہمارے ساتھ بھی مار پیٹ کرتے رہے۔

متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہمیں بچایا، حالانکہ ان لوگوں نے پولیس کے سامنے بھی ہمیں مارا پیٹا۔ متاثرین نے ایف آئی آر درج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعات 147، 148، 149، 323، 341 اور 302 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی کو لگا ایک اور جھٹکا، نیمچ کے قدآور لیڈر سمندر پٹیل کانگریس میں شامل

0
مدھیہ-پردیش-اسمبلی-انتخاب-سے-قبل-بی-جے-پی-کو-لگا-ایک-اور-جھٹکا،-نیمچ-کے-قدآور-لیڈر-سمندر-پٹیل-کانگریس-میں-شامل

مدھیہ پردیش میں مشکل سے دو تین مہینے میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ ایسے میں انتخاب سے پہلے بی جے پی کے لیے یکے بعد دیگرے بری خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ جمعہ کے روز بی جے پی کو ایک بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب نیمچ ضلع کے قدآور بی جے پی لیڈر سمندر پٹیل نے کانگریس کا دامن تھام لیا۔ انھوں نے ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ کی موجودگی میں کانگریس کی رکنیت اختیار کی۔

سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے اور اپنے حامیوں کے ساتھ بھوپال پہنچے سمندر پٹیل کا کمل ناتھ نے پارٹی میں استقبال کیا۔ کمل ناتھ نے پٹیل کے کانگریس میں شامل ہونے پر کہا کہ یہ کانگریس پارٹی کے نظریہ، رسوم و پالیسی، اصولوں اور اپنے وقار کے ساتھ بغیر کوئی شرط کے کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، انھیں ان کی سچائی یہاں لائی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ اسی سچائی کو یہ اپنے علاقہ کے لوگوں کو بتائیں گے۔

کمل ناتھ نے کہا کہ 2018 میں کانگریس کی مینڈیٹ والی حکومت بنی تھی، لیکن شیوراج سنگھ نے خرید و فروخت کر دولت کی طاقت پر حکومت بنا لی۔ 18 سال سے بی جے پی کی حکومت ہے، لیکن ریاست کی تصویر آپ سب کے سامنے ہے۔ جہاں دیکھو وہاں بدعنوانی ہی بدعنوانی، گھوٹالہ ہی گھوٹالہ۔ شیوراج حکومت بدعنوانی میں نمبر وَن تو ہے ہی، خواتین، کسانوں، نوجوانوں پر مظالم میں بھی نمبر وَن ہے۔ اب تو ریاستی عوام نے شیوراج حکومت کو وداع کرنے کا ذہن تیار کر لیا ہے او رمیں بھی انھیں وداع کروں گا، لیکن پیار سے۔

اس موقع پر سمندر سنگھ پٹیل نے کہا کہ مجھے اپنی گھر واپسی پر بہت خوشی ہے۔ جس طرح صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے اور پھر سے وہ اپنے اصل جذبہ اور نظریہ پر واپس آ جاتا ہے تو یہ بہتر ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کمل ناتھ جی کو یقین دلاتا ہوں کہ پارٹی کے لیے میں پوری ایمانداری کے ساتھ کام کر کے آپ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت بنانے میں تن من دھن سے کام کروں گا۔ پارٹی کو مزید مضبوط کرنے میں اپنی ذمہ داری ہر طرح سے نبھاؤں گا۔