بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 178

سڑک پر ہر روز ایک شخص کی جان لیتا ہے سانڈ، وہ کہتے ہیں یہ نندی ہے! اکھلیش یادو

0
سڑک-پر-ہر-روز-ایک-شخص-کی-جان-لیتا-ہے-سانڈ،-وہ-کہتے-ہیں-یہ-نندی-ہے!-اکھلیش-یادو

نئی دہلی: یو پی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوپی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ یوپی میں ٹریفک پولیس میں نئی ​​بھرتی ہوئی ہے، جو ہر سڑک پر نظر آتی ہے۔ یہ ایک نئی بھرتی ہے جس کی وجہ سے روزانہ ایک شخص مر رہا ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب اس نئی بھرتی کی وجہ سے اتر پردیش میں کسی کسان، غریب شخص یا تاجر کی جان نہ جاتی ہو۔

یہاں اکھلیش یادو بغیر نام لیے سانڈ (بیل) کے مسئلہ پر پر بول رہے تھے۔ اکھلیش نے کہا کہ وہ ان کا نام نہیں لینا چاہتے، جن کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکھلیش نے بیلوں کو لے کر ریاستی حکومت پر حملہ کیا کہ وہ بیلوں کو نندی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ارے، ہم کیسے کہہ دین کہ یہ نندی ہے جو روز ایک شخص کی جان لے گا۔‘‘

خیال رہے کہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو بیل کے معاملے پر ریاستی حکومت کو لگاتار ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ حال ہی میں اکھلیش نے اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ اکھلیش نے کہا تھا کہ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ‘سانڈ سفاری’ ہی بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن سفاری تو آپ ٹھیک نہیں کر پائے، آپ اس پر کام کیوں نہیں کر رہے؟ کیا آپ کے پاس بجٹ کم ہے؟

جن دھن کھاتوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز، وزیر اعظم مودی کا اظہار مسرت

0
جن-دھن-کھاتوں-کی-تعداد-50-کروڑ-سے-تجاوز،-وزیر-اعظم-مودی-کا-اظہار-مسرت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جن دھن کھاتوں کے 50 کروڑ کے ہندسے کو عبور کرنے کی اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جن دھن کھاتوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے آج کہا کہ وہ یہ دیکھ کر خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ کھاتے ہماری ناری شکتی کے ہیں۔

پی آئی بی انڈیا کے ایک ٹویٹ کے جواب میں، وزیر اعظم نے کہا ’’یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ان میں سےنصف سے زیادہ کھاتے ہماری ناری شکتی کے ہیں۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں 67 فیصد اکاؤنٹ کھولنے کے ساتھ، ہم اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ مالی شمولیت کے فوائد ہمارے ملک کے ہر کونے تک پہنچیں۔‘‘

پی ایم مودی نے ہماچل پردیش میں قدرتی آفت کو لے کر کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، جے پی نڈا کل ریاست کا کریں گے دورہ

0
پی-ایم-مودی-نے-ہماچل-پردیش-میں-قدرتی-آفت-کو-لے-کر-کی-اعلیٰ-سطحی-میٹنگ،-جے-پی-نڈا-کل-ریاست-کا-کریں-گے-دورہ

ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش اور جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ کے سبب لوگوں میں زبردست دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ سینکڑوں افراد کے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور سرکاری ملکیت کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس درمیان ریاست میں آفت کے بعد بچاؤ کام کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہونے والے نقصانات کو طلب اعلیٰ سطحی میٹنگ کی میں حالات و راحت رسانی کے کاموں کا جائزہ لیا۔

یہ اعلیٰ سطحی میٹنگ وزیر اعظم کی سرکاری رہائش 7 لوک کلیان مارگ پر تقریباً ایک گھنٹے تک چلی۔ اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا بھی موجود رہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جے پی نڈا بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہماچل پردیش میں ہوئے زبردست نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کل یعنی 20 اگست کو اپنی آبائی ریاست کا دورہ کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پی نڈا اس دورہ کے دوران قدرتی آفت میں ہلاک لوگوں کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے اور ساتھ ہی وہ سمر ہل، شملہ میں زبردست بارش کے سبب منہدم ہوئے قدیم شیو مندر کا معائنہ کریں گے۔ شملہ اور بلاس پور میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ وہ میٹنگ کر راحت، بچاؤ اور بازآبادکاری کے کاموں پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ نڈا اتوار کی صبح 9 بجے پانوٹا صاحب (سرمور) پہنچیں گے، اور پھر اس کے بعد سڑک کے راستے 9.35 بجے سرموری تال اور کچی ڈھانگ گاؤں پہنچیں گے جہاں وہ سرموری تال علاقہ میں بادل پھٹنے سے پیدا حالات کا جائزہ لیں گے۔ وہ یہاں اس حادثہ میں ہلاک 5 اراکین کے کنبوں سے ملاقات بھی کریں گے۔ تقریباً 11.30 بجے نڈا شملہ کے شیوباؤڑی، سمرہل پہنچیں گے۔ یہاں منہدم شیو مندر کا وہ معائنہ کریں گے جس میں اب تک 16 لوگوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور ہنوز راحت و بچاؤ کا عمل جاری ہے۔

گوا میں چرچ کے سامنے دیوی کی مورتی رکھنے پر تنازعہ، 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج

0
گوا-میں-چرچ-کے-سامنے-دیوی-کی-مورتی-رکھنے-پر-تنازعہ،-10-افراد-کے-خلاف-مقدمہ-درج

پنجی: گوا پولیس نے چرچ کے سامنے ایک ڈھانچہ کے اوپر دیوی کی مورتی رکھنے کے الزام میں 10 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو جنوبی گوا کے سانکولے میں پیش آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں مورتی پکڑے ہوئے لوگ لوگوں سے آنے اور دیوی کا آشیرواد لینے کی درخواست کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے کے لوگوں نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی اور امن برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کو کہا۔ جس کے نتیجے میں علاقے میں پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔

اس معاملے میں، ورنا پولیس نے 10 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ ہم نے 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے انہیں تھانے بلانے کی رسمی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

‘معافی مانگ کر بچ نہیں سکتے’، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ شیئر کرنے والوں پر سپریم کورٹ سخت

0
‘معافی-مانگ-کر-بچ-نہیں-سکتے’،-سوشل-میڈیا-پر-قابل-اعتراض-پوسٹ-شیئر-کرنے-والوں-پر-سپریم-کورٹ-سخت

سپریم کورٹ نے اداکار اور تمل ناڈو کے سابق رکن اسمبلی ایس وی شیکھر کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں انھوں نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ سے متعلق اپنے خلاف درج ایک معاملے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو اس کے اثرات اور رسائی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔

آج جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس پی کے مشرا کی بنچ مدراس ہائی کورٹ کے 14 جولائی کے حکم کے خلاف شیکھر کی داخل عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ ہائی کورٹ نے ان کے ذریعہ شیئر کردہ پوسٹ سے متعلق مجرمانہ کارروائی کو رد کرنے کے مطالبہ والی عرضی خارج کر دی تھی۔ اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے سوشل میڈیا پوسٹ پر ملزم کو سزا ملنی ضروری ہے، ایسے معاملوں میں صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا، ایسے لوگ مجرمانہ کارروائی سے نہیں بچ سکتے۔

آج ہوئی سماعت میں بنچ نے عرضی دہندہ کی نمائندگی کر رہے وکیل سے کہا کہ "اگر کوئی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے، تو اسے اس کے اثرات اور رسائی کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔” وکیل نے دلیل دی کہ شیکھر نے حادثہ کی تاریخ پر اپنی آنکھوں میں کچھ دوا ڈالی تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنے ذریعہ شیئر کردہ پوسٹ کو نہیں پڑھ سکے اور پوسٹ کر دیا۔ بنچ نے اس پر کہا کہ کسی کو بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا ہوگا۔ ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا ضروری لگتا ہے، تو اسے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ شیکھر نے 19 اپریل 2018 کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک قابل اعتراض اور فحش تبصرہ پوسٹ کیا تھا، جس کے بعد چنئی پولیس کمشنر کے سامنے ایک شکایت درج کی گئی تھی۔ عدالت نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ تمل ناڈو کے مختلف حصوں میں شیکھر کے خلاف دیگر نجی شکایات بھی درج کی گئی تھیں۔

شیکھر کے وکیل نے اس دوران کہا تھا کہ پوسٹ میں شامل قابل اعتراض تبصرہ کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد شیکھر نے اسی دن کچھ گھنٹوں کے اندر پوسٹ کو ہٹا دیا اور اس کے بعد 20 اپریل 2018 کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے بلاشرط متعلقہ خاتون صحافی اور میڈیا سے معافی مانگی تھی۔

کھڑگے نے ‘اڑان’ اسکیم کے تعلق سے سی اے جی کی رپورٹ پر حکومت کو نشانہ بنایا

0
کھڑگے-نے-‘اڑان’-اسکیم-کے-تعلق-سے-سی-اے-جی-کی-رپورٹ-پر-حکومت-کو-نشانہ-بنایا

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کے روز اڑان اسکیم سے متعلق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کا چپل پہن کر فضائی سفر کرنے کا وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح ہوا میں اڑ گیا ہے، کیونکہ یہ اسکیم 93 فیصد روٹس پر کام نہیں کرتی۔

اس مہینے کے اوائل میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سی اے جی کی رپورٹ پر کھڑگے نے کہا ’’مودی حکومت کا چپل پہن کر ہوائی سفر کرنے کا وعدہ ان کے دوسرے وعدوں کی طرح ہوا میں اڑ گیا ہے۔ یہ ہم نہیں، سی اے جی کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا ’’یہ اسکیم 93 فیصد راستوں پر کام نہیں کرتی۔ ایئر لائنز کا کوئی آزاد آڈٹ بھی نہیں ہوا۔ بہت زیادہ مشہور ہیلی کاپٹر خدمات بھی ٹھپ ہیں۔ صرف جھوٹ اور بیان بازی چل رہی ہے۔ ہندوستان اب ایسی نااہل حکومت کو کبھی برداشت نہیں کر گا۔

ان کے تبصرے سی اے جی کی ایک رپورٹ کے کچھ دن بعد آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اڑان-3 تک الاٹ کیے گئے راستوں میں سے 52 فیصد (774 میں سے 403 روٹس) آپریشنل نہیں ہو سکے۔ شروع کئے گئے راستوں میں سے صرف 112 روٹس (30 فیصد) نے آپریشن مکمل کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان 112 راستوں میں سے صرف 54 روٹس (راستوں کا 7 فیصد) جو کہ 17 RCS ہوائی اڈوں کو جوڑتے ہیں، مارچ 2023 تک تین سال کی رعایتی مدت کے بعد آپریشن جاری رکھ سکے۔

منی پور تشدد کے خلاف قبائلیوں نے کیا زبردست احتجاجی مظاہرہ، افسپا پھر سے نافذ کرنے کا مطالبہ

0
منی-پور-تشدد-کے-خلاف-قبائلیوں-نے-کیا-زبردست-احتجاجی-مظاہرہ،-افسپا-پھر-سے-نافذ-کرنے-کا-مطالبہ

منی پور میں تشدد کی آگ اب ناگا طبقہ کے قلعہ اخرل تک پہنچ گئی ہے۔ مشتبہ باغیوں نے جمعہ (18 اگست) کو تھوئی گاؤں میں تین لوگوں کا بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس کے خلاف منی پور میں کوکی-زو طبقہ کے اثر والے علاقوں، خصوصاً کانگپوکپی ضلع میں زبردست احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس ضلع میں سینکڑوں خواتین کل دوپہر سے ہی قومی شاہراہ-2 پر احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں جس سے ٹریفک نظام رخنہ انداز ہوا ہے۔

کوکی-زو طبقہ کا احتجاجی مظاہرہ ہفتہ کے روز شدید ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ مظاہرین پہاڑی علاقوں میں آسام رائفلز کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے بتایا کہ ہندوستان کے یومِ آزادی پر منی پور کے وزیر اعلیٰ ایم بیرین سنگھ کے ‘معاف کرو اور بھول جاؤ’ اور پہلے کی طرح امن سے رہنے کی اپیل کے بمشکل دو دن بعد تین لوگوں کا قتل کر دیا گیا اور ان کے اعضا بھی کاٹ دیے گئے۔

تین لوگوں کے قتل سے مایوس خاتون مظاہرین نے مرکز سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی اور تینوں متاثرین کے لیے انصاف یقینی بنانے کی اپیل کی۔ خاتون مظاہرین نے ریاست میں متنازعہ مسلح فورس خصوصی حقوق ایکٹ (افسپا) کو جلد از جلد پھر سے نافذ کرنے کی گزارش بھی کی۔ قبائلی اتحاد کمیٹی (سی او ٹی یو) نے بھی مرکز سے پہاڑی اضلاع کی طرح منی پور کے سبھی وادی والے اضلاع میں پھر سے افسپا نافذ کرنے کی اپیل کی۔

سی او ٹی یو کے میڈیا سیل کوآرڈینیٹر این جی لون کپگین نے کہا کہ "ہم مرکز سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ صدر راج نافذ نہیں کر سکتے تو آرٹیکل 355 لگانے کے بارے میں کیا؟… ہم چاہتے تھے کہ ان علاقوں میں افسپا پھر سے نافذ کیا جائے جہاں سے اسے حال ہی میں ہٹا دیا گیا تھا۔”

حمل ضائع کرنے سے متعلق عرضی پر گجرات ہائی کورٹ کی کارگزاری سے سپریم کورٹ ناراض، لگائی پھٹکار

0
حمل-ضائع-کرنے-سے-متعلق-عرضی-پر-گجرات-ہائی-کورٹ-کی-کارگزاری-سے-سپریم-کورٹ-ناراض،-لگائی-پھٹکار

سپریم کورٹ نے حمل ضائع کرنے کے مطالبہ کو لے کر عصمت دری متاثرہ کی عرضی پر وقت برباد کرنے کی کارگزاری کو لے کر گجرات ہائی کورٹ کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اس معاملے میں عدالت عظمیٰ نے 20 اگست یعنی اتوار کی شام تک میڈیکل رپورٹ مانگی ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران گجرات حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اب اس معاملے کی سماعت پیر کے روز ہوگی۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ گجرات ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بیش قیمتی وقت برباد کر دیا ہے۔ جسٹس بی وی ناگرتنا کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ عدالت ریاست گجرات کو نوٹس جاری کرتی ہے۔ وکیل سواتی گھلڈیال نے اس نوٹس کو قبول کر لیا ہے، جبکہ گجرات ریاست نے سبھی فریقین کے لیے یہ نوٹس قبول کیا ہے۔

اس سے قبل عرضی دہندہ کی طرف سے ششانک سنگھ نے عدالت میں اپنی بات رکھی۔ انھون نے کہا کہ ہائی کورٹ میں معاملہ 7 اگست کو داخل کیا گیا تھا۔ اس معاملے کو 8 اگست کو اٹھایا گیا تھا اور عرضی دہندہ کے حمل کی حالت کا پتہ لگانے کے لیے اسے میڈیکل بورڈ کے سامنے رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔ پھر اس کے 3 دن بعد 11 اگست کو بھروچ میڈیکل کالج کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کرن پٹیل نے رپورٹ سونپی تھی۔

آج سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں وقت کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے معاملے کو 12 دن بعد 23 اگست کے لیے فہرست بند کیا، جبکہ ہر دن کی تاخیر بے حد اہم اور بہت ہی اہم تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ معاملے میں عرضی دہندہ نے حمل کو ضائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے عدالت کا دروازہ اس وقت کھٹکھٹایا جب وہ 26 ہفتے کی حاملہ تھی۔ 8 اگست سے اگلی لسٹنگ کی تاریخ تک کا بے حد اہم وقت برباد ہو گیا۔

عرضی دہندہ کی طرف سے عدالت کو مطلع کیا گیا ہے کہ آج تک عرضی دہندہ 27 ہفتہ اور 2 دن کی حاملہ ہے اور 28 ہفتے کے حمل کے قریب پہنچنے والی ہے۔ چونکہ بیش قیمتی وقت برباد ہو گیا ہے، اس لیے میڈیکل بورڈ بھروچ سے نئی رپورٹ مانگی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس پر کہا کہ ہم عرضی دہندہ کو ایک بار پھر سے جانچ کے لیے کے ایم سی آر آئی اسپتال میں حاضر ہونے کی ہدایت دیتے ہیں اور معاملے سے جڑی نئی اسٹیٹس رپورٹ کل اتوار شام 6 بجے تک اس عدالت کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے۔

‘مودی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام’، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کا مرکز پر شدید حملہ

0
‘مودی-حکومت-مہنگائی-پر-قابو-پانے-میں-ناکام’،-کیرالہ-کے-وزیر-اعلیٰ-پینارائی-وجین-کا-مرکز-پر-شدید-حملہ

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کیرالہ نے ‘مارکیٹ کی مؤثر مداخلت’ کے ساتھ افراط زر (مہنگائی) پر قابو پایا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیرالہ میں قومی اوسط سے کم ہے۔ پینارائی وجین نے اس دوران مرکز پر بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول میں لانے میں ناکام ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

دراصل وزیر اعلیٰ وجین کیرالہ کی راجدھانی ترووننت پورم میں کیرالہ اسٹیٹ سول سپلائیز کارپوریشن (سپلائیکو) کی طرف سے پوتھاریکنڈم گراؤنڈ میں اونم میلوں کے ریاست گیر نیٹورک کا افتتاح کر رہے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے دعویٰ کیا کہ کیرالہ ایک صارف ریاست ہے اور یہاں ریاستی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ قومی اوسط سے کم ہے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ وجین نے زور دے کر کہا کہ مرکزی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے اور پھر اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں، جبکہ کیرالہ میں شرح مہنگائی بھی دیگر ریاستوں کے مقابلے سب سے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ "ریاستی حکومت کی موثر مارکیٹ مداخلت کی وجہ سے کیرالہ ملک میں مہنگائی کی سب سے کم شرحوں میں سے ایک ریاست ہے۔ ہم ایک صارف ریاست ہیں، اس لیے قیمتوں میں اضافہ عام طور پر ہماری ریاست میں بھی ظاہر ہونا چاہیے، لیکن تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم شرح مہنگائی کو قومی اوسط سے بہت نیچے رکھنے میں کامیاب ہیں۔”

پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ 2016 کے بعد سے ہی کیرالہ اسٹیٹ سول سپلائی کارپوریشن لمیٹڈ (سپلائیکو) کے اسٹورز میں 13 ضروری اشیاء کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ قومی شماریاتی دفتر کے مطابق کیرالہ میں جولائی 2023 میں ملک میں سال بہ سال مہنگائی کی سب سے کم شرح کا ریکارڈ درج کیا گیا۔ کیرالہ میں یہ شرح 6.43 فیصد ہے جبکہ قومی اوسط 7.44 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بڑی ریاستوں میں صرف اڈیشہ، مغربی بنگال، جموں و کشمیر اور آسان کیرالہ سے آگے ہیں۔ دیگر تمام چار جنوبی ریاستوں میں جولائی میں مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح دیکھی گئی۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ 2016 کے بعد سے، کیرالہ اسٹیٹ سول سپلائی کارپوریشن لمیٹڈ (سپلائیکو) کے اسٹورز میں 13 ضروری اشیاء کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔

قومی شماریاتی دفتر کے مطابق، کیرالہ نے جولائی 2023 میں ملک میں سال بہ سال مہنگائی کی سب سے کم شرح میں سے ایک ریکارڈ کیا۔ جب کہ قومی اوسط 7.44 فیصد ہے، کیرالہ میں 6.43 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بڑی ریاستوں میں، صرف اوڈیشہ، مغربی بنگال، جموں و کشمیر اور آسام کیرالہ سے آگے ہیں۔ دیگر تمام چار جنوبی ریاستوں میں جولائی میں مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح دیکھی گئی۔

بہرحال، پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ سپلائیکو لوگوں کی مدد کرنے والا ایک ادارہ ہے اور اس کی تصویر کشی کرنے کی کوششیں غلط مقاصد سے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دکانوں میں بعض اشیاء کی کبھی کبھار عدم دستیابی کو منفی تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

راہل گاندھی نے لداخ میں اختیار کیا رائیڈر والا انداز، خود بائک چلا کر پہنچے پینگونگ جھیل، کیمپ میں گزرے گی رات

0
راہل-گاندھی-نے-لداخ-میں-اختیار-کیا-رائیڈر-والا-انداز،-خود-بائک-چلا-کر-پہنچے-پینگونگ-جھیل،-کیمپ-میں-گزرے-گی-رات

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اس وقت لداخ کے دورہ پر ہیں۔ ان کی کچھ تصویریں سامنے آئی ہیں جس میں وہ رائیڈر کا انداز اختیار کیے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ خود ہی بائک چلا کر پینگونگ جھیل پہنچے جہاں وہ ایک سیاحتی کیمپ میں رات گزاریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے جمعہ کو لداخ کا اپنے پہلے سفر کے دوران لیہہ میں 500 سے زیادہ نوجوانوں کے ساتھ ایک انٹریکٹیو سیشن میں حصہ لیا تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی 25 اگست تک لداخ میں رہیں گے۔ لداخ جب سے مرکز کے زیر انتظام خطہ بنا ہے، یہ راہل گاندھی کا پہلا دورہ ہے۔ راہل گاندھی جمعہ کو کارگل میموریل بھی پہنچے تھے۔ انھوں نے مقامی نوجوانوں کے ساتھ لیہہ میں ایک فٹ بال میچ بھی دیکھا تھا۔