بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 166

سپریم کورٹ نے دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک کی توسیع

0
سپریم-کورٹ-نے-دہلی-کے-سابق-وزیر-ستیندر-جین-کی-عبوری-ضمانت-میں-یکم-ستمبر-تک-کی-توسیع

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ درج منی لانڈرنگ کیس میں طبی وجوہات کے پیش نظر عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی حکومت میں سابق وزیر ستیندر جین کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کر دی۔ مختصر سماعت میں جسٹس اے ایس بوپنا اور ایم ایم سندریش کی بنچ نے یہ حکم دیا۔

تاہم، جین کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے طبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ عبوری ضمانت میں توسیع کی جانی چاہئے۔ ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ایمس کے ڈاکٹروں کے ایک پینل سے جین کا طبی جائزہ لینے کی اپنی درخواست کو دہرایا۔

سپریم کورٹ نے 26 مئی کو جین کو اپنی پسند کے ایک نجی اسپتال میں ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کرانے کے لیے چھ ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی تھی، جسے بعد میں وقتاً فوقتاً بڑھا دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ دلیل دی گئی کہ جین کو صحت کے سنگین مسائل ۃٰن اور ان کا وزن 30 کلو سے زیادہ کم ہو گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس سال اپریل میں مرکزی ایجنسی کے ذریعہ زیر تفتیش منی لانڈرنگ کیس میں جین اور ان کے دو ساتھیوں کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ جین گزشتہ سال 30 مئی سے حراست میں ہیں۔

منی پور تشدد سے منسلک کیسز کا ٹرائل گواہاٹی ہائی کورٹ میں ہی چلے گا، سپریم کورٹ نے جاری کیا حکم

0
منی-پور-تشدد-سے-منسلک-کیسز-کا-ٹرائل-گواہاٹی-ہائی-کورٹ-میں-ہی-چلے-گا،-سپریم-کورٹ-نے-جاری-کیا-حکم

منی پور میں نسلی تشدد کا آغاز ہوئے چار مہینے ہونے کو ہیں، لیکن اب تک ریاست میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ تشدد کا اثر پوری ریاست میں وسیع پیمانے پر دیکھنے کو ملا اور کچھ مقامات سے اب بھی رہ رہ کر تشدد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ الگ الگ مقامات پر ہوئے تشدد سے جڑی کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھیں جس پر سماعت کو لے کر سپریم کورٹ نے 25 اگست کو ایک اہم حکم جاری کیا۔ تشدد سے جڑے کیس کے ٹرائل کی سماعت گواہاٹی ہائی کورٹ میں کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے گواہاٹی ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی بی آئی کی جانچ والے معاملوں کے لیے ایک یا اس سے زیادہ اسپیشل ججوں کی تقرری کرے۔ منی پور کے کئی عرضی دہندگان نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ آسام یا میزورم جیسی ریاستوں میں ان کیسز کی سماعت نہ کی جائے کیونکہ اس سے کئی دقتیں پیدا ہوں گی۔ اسی کے پیش نظر جمعہ کے روز ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے کئی اہم ہدایات دیں۔ سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے اب ملزمین، گواہوں کی پیشی یا ریمانڈ سے متعلق سرگرمی آن لائن کی جا سکے گی تاکہ ان پر کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی عدالتی حراست منی پور میں ہی دی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں سی آر پی سی 164 کے تحت کوئی بھی بیان لوکل مجسٹریٹ کے سامنے درج کرانا ہوگا۔ منی پور کے تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے الگ الگ معاملوں میں آن لائن سماعت کو توجہ دینے کے لیے کہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ متاثرہ فریق نے آسام میں ٹرائل کرانے کی مخالفت کی تھی، جبکہ حکومت کی طرف سے دلیل پیش کی گئی تھی کہ آسام میں بہتر کنکٹیویٹی ہے اس لیے وہاں ٹرائل کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ اب گواہاٹی ہائی کورٹ سے ریاست میں ہی تمام معاملوں کی سماعت کرنے کو کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب کرائی جائے گی تاکہ سماعت میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔

وزیر اعلیٰ سورین ای ڈی کے سمن کو منسوخ کرنے کی درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچے

0
وزیر-اعلیٰ-سورین-ای-ڈی-کے-سمن-کو-منسوخ-کرنے-کی-درخواست-لے-کر-سپریم-کورٹ-پہنچے

نئی دہلی: جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین نے جمعہ کو ‘منی لانڈرنگ’ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سمن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ اپنی درخواست میں سورین نے ای ڈی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ سمن ان کی شبیہ، جمہوری طور پر منتخب جھارکھنڈ حکومت اور وہاں کے لوگوں کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے دیگر درخواستوں کے علاوہ منی لانڈرنگ کیس میں اپنے خلاف جاری سمن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے سورین کو دو بار بلایا تھا، لیکن وہ نہیں پہنچے۔ ای ڈی ریاست میں منی لانڈرنگ کے دو بڑے معاملات کی جانچ کر رہی ہے۔ پہلا معاملہ ریاست میں غیر قانونی کانکنی سے متعلق ہے۔ ایجنسی نے گزشتہ سال 17 نومبر کو کانکنی معاملے میں سورین سے پوچھ گچھ کی تھی۔

دوسرا معاملہ ریاستی دارالحکومت رانچی میں مبینہ زمین گھوٹالے سے متعلق ہے۔ مبینہ زمین کے معاملے میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر سی رنجن اور دو تاجروں سمیت تیرہ افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مرکزی تحقیقاتی ایجنسی ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے سورین کو 14 اگست کو رانچی میں واقع اپنے علاقائی دفتر میں بلایا تھا۔ انہوں نے اسے ‘سیاسی طور پر محرک’ کیس قراردیا اورای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے سمن پر سوال اٹھایا تھا اور ایجنسی سے اسے واپس لینے کو کہا تھا۔

تاہم ایجنسی نے سورین کے دعووں کو مسترد کر دیا اور دوسرا سمن جاری کرتے ہوئے ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔

نئے سروس قانون کی جانچ کرے گی سپریم کورٹ، دہلی حکومت کی درخواست پر مرکز کو نوٹس

0
نئے-سروس-قانون-کی-جانچ-کرے-گی-سپریم-کورٹ،-دہلی-حکومت-کی-درخواست-پر-مرکز-کو-نوٹس

نئی دہلی: دہلی حکومت اب افسران کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ معاملہ کو لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس کے بارے میں دہلی حکومت نے نئے این سی ٹی ڈی (ترمیمی) ایکٹ، 2023 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ قانون پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا جا چکا ہے۔ اس بل کو منظور کرانے کے لیے 131 ارکان پارلیمنٹ نے حق میں ووٹ دیا جبکہ 102 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد صدر نے رضامندی دے دی ہے۔

اب سپریم کورٹ اس نئے سروس قانون کا جائزہ لے گا۔ دہلی حکومت کی درخواست پر مرکز کو نوٹس بھیج کر چار ہفتوں میں جواب مانگا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کی آرڈیننس کی عرضی میں ترمیم کر کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی کو منظور کر لیا۔

مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے درخواست پر کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ دراصل دہلی حکومت نے پہلے 19 مئی کے آرڈیننس کو چیلنج کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی تھی۔ دریں اثنا، مرکز نے بل پیش کیا اور پارلیمنٹ نے اسے اگست میں منظور کیا۔

اس کے بعد صدر دروپدی مرمو نے 12 اگست کو اس پر دستخط کیے اور یہ قانون بن گیا۔ ہندوستانی اتحاد نے قومی دارالحکومت میں سروسز کنٹرول قانون کی سخت مخالفت کی۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا کہ یہ صرف دہلی کے لوگوں کو غلام بنانے کی کوشش ہے۔

چین کے زمین ہتھیانے پر سچ نہیں بول رہے وزیر اعظم مودی! کرگل ریلی سے راہل گاندھی کا خطاب

0
چین-کے-زمین-ہتھیانے-پر-سچ-نہیں-بول-رہے-وزیر-اعظم-مودی!-کرگل-ریلی-سے-راہل-گاندھی-کا-خطاب

لیہ (لداخ): کرگل کا دورہ کر رہے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ہندودستان کی ہزار کلومیٹر زمین چین نے چھین لی ہے اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودیی نے اس معاملہ میں حزب اختلاف کے ساتھ اجلاس میں جھوٹ بولا۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے یہ اطلاع دی ہے۔

لداخ کے دورے کے تحت کرگل پہنچے راہل گاندھی نے کہا کہ لداخ ایک اسٹریٹیجک جگہ ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ چین نے بھارت کی زمین چھین لی ہے۔ چین نے ہم سے ہزاروں کلومیٹر زمین چھین لی ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نے اپوزیشن کے اجلاس میں کہا کہ ہندوستان کا ایک انچ بھی کسی نے نہیں لیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ لداخ کا ہر فرد جانتا ہے کہ چین نے لداخ کی زمین لے لی ہے اور وزیر اعظم سچ نہیں بول رہے ہیں۔

راہل گاندھی ان دنوں لداخ کے دورے پر بائیک سے سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "کچھ مہینے پہلے، ہم کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل گئے تھے۔ اسے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ملک میں بی جے پی آر ایس ایس کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا تھا۔ ملک میں بھائی چارہ، محبت پھیلانے کی کوشش کی، یاترا سے جو پیغام آیا وہ تھا- ‘ہم نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے نکلے ہیں۔’ حال ہی میں، میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا۔‘‘

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یاترا سری نگر میں رکنے کے لیے نہیں تھی۔ یاترا لداخ میں آنی تھی۔ اس وقت موسم سرما اور برف باری تھی، انتظامیہ نے کہا تھا کہ ہم لداخ نہ آئیں۔ ہم نے اس کی بات مان لی۔ لیکن دل میں تھا کہ لداخ بھی جانا چاہیے۔ میں نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔ پیدل نہیں بلکہ موٹرسائیکل پر گئے اور لوگوں سے بات کی۔

بٹن کہیں بھی دباؤ، ووٹ کمل کو جائے گا، آئے گا تو مودی ہی! بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے بیان سے کھلبلی

0
بٹن-کہیں-بھی-دباؤ،-ووٹ-کمل-کو-جائے-گا،-آئے-گا-تو-مودی-ہی!-بی-جے-پی-رکن-پارلیمنٹ-کے-بیان-سے-کھلبلی

حیدرآباد: کیا مرکز کی بی جے پی حکومت الیکشن جیتنے کے لیے ای وی ایم کو ہیک کرواتی ہے؟ کیا بی جے پی نے مختلف ریاستوں میں الیکشن جیتنے کے لیے ای وی ایم کو ہیک کیا؟ یہ سوال اب سختی سے پوچھا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کمار نے ایک بیان دے کر کھلبلی مچا دی ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کوئی بھی بٹن دبائیں لیکن ووٹ کمل کو ہی جائے گا۔ ان کے اس بیان سے اپوزیشن کے الزامات کو مزید تقویت ملی ہے۔ بی جے پی ایم پی ڈی اروند کمار کا بیان آپ نیچے دیے گئے ویڈیو لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔

ڈی اروند کمار نے اپنے حلقہ انتخاب نظام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’اگر آپ اپنا ووٹ نوٹا کو دیں گے تو بھی میں ہی جیتوں گا۔ اگر آپ (بی آر ایس) کو ووٹ دیں تو بھی میں جیتوں گا۔اگر آپ ہاتھ (کانگریس) کو بھی ووٹ دیں گے تو بھی کمل (بی جے پی) ہی جیتے گا۔ جیتے گاا تو مودی ہی!

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کمار کے اس بیان سے سیاست گرم ہوگئی ہے۔ اپوزیشن بی جے پی سے سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا بی جے پی نے ای وی ایم کو ہیک کرنے کا منصوبہ بنایا ہے؟ کیا بی جے پی نے الیکشن جیتنے کے لیے پہلے بھی ای وی ایم کو ہیک کیا تھا؟ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب اگلے سال تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ لوک سبھا کے انتخابات بھی اگلے سال ہونے والے ہیں۔ کئی سالوں سے اپوزیشن ای وی ایم کو ختم کرنے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہے۔

ہماچل پردیش میں بارشوں سے تباہی، 24 گھنٹوں کے دوران 13 افراد ہلاک

0
ہماچل-پردیش-میں-بارشوں-سے-تباہی،-24-گھنٹوں-کے-دوران-13-افراد-ہلاک

شملہ: ہماچل پردیش میں بارش اور سیلاب کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست میں 24 گھنٹوں میں 13 لوگوں کی موت کی خبریں آ رہی ہیں۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ آفیسر کی طرف سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ہماچل پردیش میں 24 جون سے اب تک 361 اموات ہو چکی ہیں۔

بارشوں نے سڑکوں کو نقصان پہنچایا، لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور کئی درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔ کئی مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔ کلّو ضلع میں جمعرات کو بارش کی وجہ سے 8 عمارتیں گر گئیں۔ اینی علاقے میں عمارت گرنے کے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ وہ عمارتیں تھیں جن میں گہری دراڑیں پڑنے کے بعد انہیں خالی کرایا گیا تھا۔

ریاستی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے حکام کے مطابق 40 افراد لاپتہ اور 342 زخمی ہیں جبکہ ریاست میں اب تک 9924 مکانات کو جزوی طور پر مانسون کا موسم شروع ہونے سے نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب ہماچل پردیش کے منڈی ضلع کے شہنو گونی اور کھولنالہ گاؤں میں بادل پھٹنے کے بعد این ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر پہنچی اور یہاں پھنسے 51 لوگوں کو بچا لیا۔

وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ شدید بارشوں سے ریاست کو اب تک تقریباً 12000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہماچل پردیش کے کئی حصوں میں بارش نے تباہی مچا رکھی ہے۔

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اجیت پووار ہمارے لیڈر ہیں: شرد پوار

0
اس-میں-کوئی-اختلاف-نہیں-کہ-اجیت-پووار-ہمارے-لیڈر-ہیں:-شرد-پوار

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے اجیت پوار کو پارٹی لیڈر قرار دیا ہے۔ بارامتی میں انہوں نے کہا ’’اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ (اجیت پوار) ہمارے لیڈر ہیں، این سی پی میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔‘‘

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق شرد پوار نے مزید کہا کہ پارٹی میں پھوٹ کیسے ہوتی ہے؟ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب قومی سطح پر ایک بڑا گروپ پارٹی سے الگ ہو جاتا ہے۔ لیکن آج این سی پی میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ ہاں، کچھ لیڈروں نے مختلف موقف اختیار کیا لیکن اسے تقسیم نہیں کہا جا سکتا۔ وہ جمہوریت میں ایسا کر سکتے ہیں۔

گزشتہ جولائی میں، اجیت پوار کی قیادت میں این سی پی میں ایک بڑی بغاوت ہوئی تھی، جب پارٹی کے ایک حصے نے مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اجیت پوار سمیت پارٹی کے 9 ایم ایل اے شنڈے کی کابینہ کا حصہ بنے۔ اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ ملا۔

اجیت پوار کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے والوں میں چھگن بھجبل، دھننجے منڈے، انل پاٹل، دلیپ والسے پاٹل، دھرماراؤ اترم، سنجے بنسوڑے، ادیتی تٹکرے اور حسن مشرف شامل تھے۔ ان میں بھجبل، دھننجے منڈے، حسن مشرف جیسے لوگ شرد پوار کے بہت قریب مانے جاتے تھے۔

اس کے ساتھ ہی این سی پی کے ورکنگ صدر پرفل پٹیل بھی اجیت پوار کے دھڑے کے ساتھ گئے۔ پٹیل کو جون میں ہی پارٹی کے یوم تاسیس پر شرد پوار کے ساتھ سپریا سولے نے ورکنگ صدر بنایا تھا۔

بی جے پی مذہب کے نام پر گمراہ کرتی ہے: اکھلیش یادو

0
بی-جے-پی-مذہب-کے-نام-پر-گمراہ-کرتی-ہے:-اکھلیش-یادو

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے جمعرات کو کہا کہ بی جے پی مذہب پر عوام کو گمراہ کرتی ہے۔ یادو نے ایک نیوز چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں دعوی کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد’انڈیا‘ عوام کے مسائل اور ترقی کے ہدف کے ساتھ اتحاد کر کے بی جے پی کا مقابلہ کرے گا اور اسے ہرائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے عوام سے صرف جھوٹے وعدے کئے ہیں۔اس حکومت نے عوام کو صرف مسائل اور مصائب دیے ہیں۔ اتر پردیش میں ایک بھی پاور پلانٹ نہیں لگایا گیا ہے۔ ریاست میں بجلی کا بحران ہے۔ آج سماج وادی حکومت کے دور میں بنائے گئے پاور پلانٹس سے ریاست کو بجلی مل رہی ہے۔

بی جے پی حکومت نے عوام سے جھوٹے وعدے کئے۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی نہیں ہوئی۔ مہنگائی، بے روزگاری کم نہیں ہوئی۔ یہ حکومت مہنگائی کی مخالفت کرنے پر دکانداروں کو جیل بھیجتی ہے۔ وزیر اعظم کے لوک سبھا حلقہ میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے پر آواز اٹھانے والے دکاندار اور اس کے بیٹے کو اس حکومت نے جیل بھیج دیاتھا۔

یادو نے کہا کہ بی جے پی جمہوریت مخالف ہے۔عوام کے جمہوری حقوق کو ختم کررہی ہے۔ اس حکومت نے کسانوں کے لیے ایک بھی بازار نہیں بنایا۔ سرمایہ کاری کے نام پر صرف تقریب ہوئی ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ 33 لاکھ کروڑ روپے کے مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ بڑے خواب دکھا رہا ہے لیکن کوئی سرمایہ کاری زمین پر نہیں اتری۔ ہر گاؤں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ آخر بی جے پی کب تک عوام کو گمراہ کرے گی۔

اجودھیا میں رام مندر کے سوال پر مسٹر یادو نے کہا کہ مندر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔ مندر سب کا ہے۔ اجودھیا سب کیہے، صرف بی جے پی کی نہیں۔ ہم عبادت بھی کرتے ہیں لیکن دکھاوا نہیں کرتے۔ ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منی پور میں خواتین اور بیٹیوں کے ساتھ انتہائی شرمناک واقعات پیش آئے ہیں۔ بی جے پی نے خواتین اور بیٹیوں کو تحفظ نہیں دیا۔ خواتین بھی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ووٹ دیں گی۔

چندریان 3 کے لینڈر وکرم کو ’ٹچ ڈاؤن‘ سے قبل کیسا نظر آیا چاند؟ اسرو نے جاری کی ویڈیو

0
چندریان-3-کے-لینڈر-وکرم-کو-’ٹچ-ڈاؤن‘-سے-قبل-کیسا-نظر-آیا-چاند؟-اسرو-نے-جاری-کی-ویڈیو

نئی دہلی: ہندوستان کے چندریان 3 نے بدھ کو چاند کے جنوبی قطب پر سوفٹ لینڈنگ کی۔ جس کے بعد چندریان 3 کا روور پرگیان باہر نکل گیا اور چاند کی سطح پر چہل قدمی کر رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ ایجنسی (اسرو) اور سائنس دانوں نے لینڈنگ کے پہلے 20 منٹوں کو ‘منٹس آف ٹیرر’ قرار دیا تھا۔ لیکن چندریان 3 کے وکرم لینڈر کے لیے یہ بہت آسان وقت ثابت ہوا۔ لینڈر نے نہ صرف چاند پر سوفٹ لینڈنگ کی بلکہ ہندوستان کو چاند کے جنوبی قطب پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا دیا۔ دریں اثنا، اسرو نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹچ ڈاؤن سے ٹھیک پہلے چاند وکرم لینڈر کو کیسا نظر آیا!

اسرو نے جمعرات کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل (اب ایکس) پر 2 منٹ 17 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ اسرو نے لکھا ’’لینڈر امیجر کیمرے نے ٹچ ڈاؤن سے ٹھیک پہلے چاند کی تصویر کھینچ لی۔” امیجر کیمرے سے ہائی ریزولوشن ویڈیو چاند کی خوبصورت سطح کو دکھاتی ہے، جو گڑھوں سے بھری پڑی ہے۔ جیسے جیسے لینڈر نیچے جاتا ہے، چاند کی سطح بڑی اور صاف ہوتی جاتی ہے۔ کلپ کے آخری چند سیکنڈز میں وکرم لینڈر کو سست ہوتے اور چاند کی سطح کو چھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

چندریان کا لینڈر وکرم بدھ کی شام 6.04 بجے چاند کے جنوبی قطب پر اترا۔ اسرو نے کہا کہ لینڈنگ کے چند گھنٹے بعد روور پرگیان لینڈر سے باہر نکل گیا تھا۔ روور اور لینڈر دونوں اچھی حالت میں ہیں۔ روور نے چاند پر چلنا شروع کر دیا ہے۔

چندریان 3 کی لینڈنگ چار مرحلوں میں کی گئی تھی – رف بریکنگ، آلٹیٹیوڈ ہولڈ، فائن بریکنگ اور ورٹیکل ڈیسنٹ۔ یہ سب کچھ بہت درست طریقے سے ہوا۔

روور میں دو پے لوڈ ہیں جو پانی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تلاش میں مدد کریں گے۔ روور ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور اسے لینڈر کو بھیجے گا۔ لینڈر وکرم اس ڈیٹا کو زمین پر منتقل کرے گا۔ چندریان-2 کا مدار بھی ڈیٹا کی فراہمی میں مدد کرے گا۔

چندریان مشن کی زندگی ایک قمری دن ہے۔ چاند کا ایک دن زمین کے 14 دنوں کے برابر ہے۔ لینڈر وکرم اور روور پرگیان 14 دن تک چاند کے جنوبی قطب پر اپنا کام کریں گے۔ اس کے بعد وہاں اندھیرا چھا جائے گا۔ چونکہ وکرم اور پرگیان صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتے ہیں، اس لیے وہ 14 دن کے بعد غیر فعال ہو جائیں گے۔ 14 دنوں میں سے دو دن گزر چکے ہیں۔