پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 167

چندریان-3 کی کامیابی کو پوری دنیا کر رہی سلام، اِسرو سے ہاتھ ملانے کے لیے کئی ملک قطار میں!

0
چندریان-3-کی-کامیابی-کو-پوری-دنیا-کر-رہی-سلام،-اِسرو-سے-ہاتھ-ملانے-کے-لیے-کئی-ملک-قطار-میں!

ہندوستان کا مشن چاند منصوبہ کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول چاند کے جنوبی قطب پر اتر چکا ہے اور رووَر پرگیان کے چاند کی سطح پر اترنے کی ویڈیو بھی اِسرو نے جاری کر دی ہے۔ اِسرو نے یہ بھی جانکاری دی ہے کہ رووَر پرگیان چاند کی سطح پر 8 میٹر کا سفر پورا کر چکا ہے اور سب کچھ منصوبہ کے مطابق ہی آگے بڑھ رہا ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی کے بعد اِسرو کے سائنسدانوں کی صلاحیت کا اب پوری دنیا لوہا مان رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک خود کو اِسرو کے ساتھ جوڑنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ یعنی اِسرو سے ہاتھ ملانے کے لیے کئی ممالک اب قطار میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

انگریزی روزنامہ ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، جنوبی کوریا اور سنگاپور نے خلائی شعبہ میں ہندوستان کے ساتھ تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان میں سعودی عرب سب سے آگے نظر آ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا اِسرو سے سیکھنا چاہتا ہے کہ کم بجٹ میں کس طرح پروجیکٹ کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب نے بھی جی-20 میٹنگ سے علیحدہ اِسرو کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔ مرکزی وزیر پیوش گویل نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ سے کئی راستے کھلے ہیں۔ چاند پر تحقیق اور خلائی شعبہ میں دنیا کی مدد کے لیے اب ہندوستان تیار ہے۔

واضح رہے کہ چندریان-3 کا پورا مشن محض 615 کروڑ روپے کے بجٹ میں پورا ہوا ہے۔ 14 جولائی کو یہ مشن لانچ کیا گیا تھا اور 23 اگست کو لینڈر ماڈیول نے شام تقریباً 6 بجے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ ناسا سمیت دنیا کی کئی خلائی ایجنسیوں نے اس حصولیابی کے لیے اِسرو کو سلام کیا ہے۔ دنیا کے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ انتہائی کم بجٹ میں ہی ہندوستان کا چندریان-3 چاند کے اس جنوبی قطب پر پہنچ گیا جہاں تک ابھی تک کسی ملک نے رسائی حاصل نہیں کی۔ چندریان-3 کی کامیابی کے ساتھ ہی ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بھی بن گیا ہے۔

منی پور میں ہند-پاک سرحد جیسے حالات، اتنی بری حالت ملک کے کسی بھی حصے میں نہیں: گورنر انوسوئیا اوئیکے

0
منی-پور-میں-ہند-پاک-سرحد-جیسے-حالات،-اتنی-بری-حالت-ملک-کے-کسی-بھی-حصے-میں-نہیں:-گورنر-انوسوئیا-اوئیکے

منی پور میں نسلی تشدد کے واقعات میں قدرے کمی آئی ہے، لیکن اب بھی وہاں حالات تشویشناک ہیں۔ منی پور کی گورنر انوسوئیا اوئیکے کے ذریعہ دیے گئے بیان ریاست کی فکر انگیز حالت کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منی پور میں ہندوستان اور پاکستان سرحد جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ اتنے برے حالات ملک کے کسی بھی حصے میں نہیں ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اس طرح کا تشدد آپ نے ملک میں کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

یہ بیان گورنر انوسوئیا نے این ڈی ایم اے کی ایک تقریب میں ‘ڈیزاسٹر متروں’ (راحتی کارکنان) سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ابھی کے موجودہ وقت میں منی پور کو سب سے زیادہ امن کی ضرورت ہے۔ دونوں طبقات (کوکی اور میتئی) کے درمیان اعتماد کی گہری کھائی بن گئی ہے، جسے ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔

انوسوئیا اوئیکے نے کہا کہ منی پور میں ہندوستان اور پاکستان سرحد جیسے حالات بن گئے ہیں۔ تقریباً پانچ ہزار لوگوں کے گھر نذرِ آتش کر دیے گئے ہیں۔ ماحول خراب ہونے کے بعد سے لگاتار مرکزی حکومت کی طرف سے امن و امان بحال کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے، لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی۔ گورنر نے کہا کہ اس تعلق سے دہلی میں سبھی سطحوں پر بات چیت چل رہی ہے۔ حالانکہ گورنر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ منی پور میں حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں اور حالیہ دنوں میں پرتشدد واقعات بھی کم پیش آئے ہیں۔

منی پور میں تشدد بھڑکے چار ماہ ہونے کو ہیں، لیکن اس کے بعد بھی گورنر انوسوئیا کا کہنا ہے کہ انھیں بالکل بھی اندازہ نہیں کہ صوبے میں امن کب تک قائم ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ میتئی اور کوکی دونوں طبقات کی حالت بہت خراب ہے۔ یہ دونوں طبقات ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں، دونوں کے علاقے بنٹ چکے ہیں۔ کوئی بھی ایک دوسرے کے علاقوں میں جانے کی حالت میں نہیں۔

آسام کو ملنے والے ہیں 4 نئے اضلاع، ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں 81 ذیلی اضلاع تشکیل دینے کو بھی ملی منظوری

0
آسام-کو-ملنے-والے-ہیں-4-نئے-اضلاع،-ریاستی-کابینہ-کی-میٹنگ-میں-81-ذیلی-اضلاع-تشکیل-دینے-کو-بھی-ملی-منظوری

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے 25 اگست کو ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آسان میں 4 نئے اضلاع کی تشکیل کو منظوری دے دی گئی ہے۔ انھوں نے ریاستی کابینہ کی 100ویں میٹنگ کے بعد بتایا کہ انتظامی صلاحیت میں بہتری کے لیے ریاست میں چار نئے اضلاع تشکیل دیئے جائیں گے، اور اس کے علاوہ 81 ذیلی اضلاع کی تشکیل کو بھی کابینہ کی منظوری مل گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آسام میں نئی حد بندی کا عمل جاری تھا، اور سا کے مکمل ہونے کے بعد چار نئے اضلاع کی تشکیل کو کابینہ کی منظوری ملی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جو نئے چار اضلاع تشکیل دیے جائیں گے ان کے نام ہوجائی، بسواناتھ، تاملپور اور بجالی ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بسواناتھ ضلع کو سونت پور، ہوجائی کو ناگاؤں، بجالی کو بارپیٹا اور تاملپور کو بکسا کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ ان چار اضلاع کے بعد آسام میں اضلاع کی مجموعی تعداد 35 ہو جائے گی۔

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا کہنا ہے کہ نئے اضلاع اور ذیلی اضلاع کی تشکیل کا نوٹیفکیشن ہفتہ (26 اگست) کو جاری کیا جائے گا، لیکن اس کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ ریاستی کابینہ نے 24 موجودہ سول سب ڈویژنوں کو تحلیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور اس کی جگہ 81 ذیلی اضلاع بنائے جائیں گے جو ہر اسمبلی حلقے کا احاطہ کریں گے اور تمام انتظامی اختیارات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کمشنرز کو سونپے جائیں گے۔

کیرالہ: وائناڈ میں شدید سڑک حادثہ، جیپ گہری کھائی میں گرنے سے 9 افراد کی دردناک موت، راہل گاندھی کا اظہارِ غم

0
کیرالہ:-وائناڈ-میں-شدید-سڑک-حادثہ،-جیپ-گہری-کھائی-میں-گرنے-سے-9-افراد-کی-دردناک-موت،-راہل-گاندھی-کا-اظہارِ-غم

کیرالہ کے وائناڈ سے ایک اندوہناک حادثہ کی خبر سامنے آ رہی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق ایک جیپ 25 میٹر گہری کھائی میں گر گئی جس سے کم از کم 9 افراد کی موت ہو گئی ہے جن میں بیشتر خواتین ہیں۔ یہ حادثہ منّاتھاوڈی کے تھاوِنہال گرام پنچایت کے پاس سرزد ہوا۔ حادثہ میں زخمی دو لوگوں کو منّاتھاوڈی میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

حادثہ کے تعلق سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ اس وقت ہوا جب ایک جیپ باغان سے کچھ مزدوروں کو لے کر جا رہی تھی۔ موصولہ خبروں کے مطابق حادثہ کے وقت جیپ میں ڈرائیور سمیت مجموعی طور پر 11 افراد سوار تھے۔

اس حادثہ پر وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر کیے گئے اپنے تعزیتی پوسٹ میں لکھا ہے کہ "اس جیپ حادثہ سے گہرا دکھ ہوا ہے جس میں منّاتھاوڈی، وائناڈ میں چائے باغات کے کئی کارکنوں کی جان چلی گئی۔ ضلعی حکام سے بات ہوئی ہے اور اس معاملے میں فوری جانکاری دینے کی بات کہی ہے۔ میری ہمدردیاں غمزدہ کنبوں کے ساتھ ہیں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاء گو ہوں۔”

615 کروڑ روپے کے چندریان-3 سے ہوئی 31 ہزار کروڑ روپے کی کمائی، کئی کمپنیوں کی بھر گئی تجوری!

0
615-کروڑ-روپے-کے-چندریان-3-سے-ہوئی-31-ہزار-کروڑ-روپے-کی-کمائی،-کئی-کمپنیوں-کی-بھر-گئی-تجوری!

ہندوستان کے چندریان-3 نے چاند پر فتح کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ حیرانی اس بات کو لے کر سب سے زیادہ ہے کہ ہندوستان نے محض 615 کروڑ روپے کے خرچ میں چاند کے جنوبی قطب تک پہنچنے کا کارنامہ کیسے انجام دے دیا، حالانکہ روس اور امریکہ جیسے ممالک ایسا نہیں کر سکے۔ اب ایک اور حیران کرنے والی خبر سامنے آ رہی ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے کئی کمپنیوں کی تجوریاں بھر دی ہیں اور انھیں مالا مال کر دیا ہے۔

دراصل شیئر مارکیٹ کے سرمایہ کار تقریباً ان سبھی شیئرس میں ہزاروں کروڑ روپے کی کھل کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جن کا براہ راست ایرواسپیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ ہفتہ کے پہلے چار دنوں میں 13 اسپیس پر مبنی شیئرس کے گروپ کا جوائنٹ مارکیٹ کیپ تقریباً 31 ہزار کروڑ رپے سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔

آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ چندریان-3 کے لیے اِسرو کو اہم ماڈیول اور سسٹم کی سپلائی کرنے والی اسمال کیپ کمپنی سینٹم الیکٹرانکس کے شیئرس میں اس ہفتہ 26 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس ہفتہ اونٹیل، لنڈے انڈیا، پارس ڈیفنس اور بھارت ہیوی الیکٹرانکس کے شیئرس میں بھی دوہرے ہندسہ کی تیزی دیکھی گئی۔ وہیں اگر بات گودریج انڈسٹریز کے شیئرس کی کریں تو 8 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ گودریج ایرواسپیس، جو اِسرو کو کمپونینٹ کی سپلائی کرتی ہے، اس کی معاون کمپنی ہے۔ کمپنی نے بعد میں واضح کیا کہ گودریج ایرواسپیس کسی بھی طرح سے گودریج انڈسٹریز کی برانچ نہیں ہے۔

بہرحال، ہندوستان کو چاند کے جنوبی قطب پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بنانے میں کردار نبھانے والی کمپنیوں کی فہرست طویل ہے۔ لارسن اینڈ ٹوبرو (ایل اینڈ ٹی) مشن چاند میں سَب سسٹم کی مینوفیکچرنگ سے لے کر مشن ٹریکنگ تک شامل تھا، ڈیفنس پی ایس یو مشر دھاتو نگم نے تین فیز والے بھاری لفٹ لانچ کرافٹ ایل وی ایم 3 ایم 4 کے لیے اہم اشیاء کی سپلائی کی۔ پی ٹی سی انڈسٹریز نے پمپ انٹر اسٹیج ہاؤسنگ کی سپلائی کی اور ایم ٹی آر وکاس انجن اور ٹربو پمپ اور بوسٹر پمپ سمیت کرایوجینک انجن سَب سسٹم جیسے سامانوں کی سپلائی کی ہے۔ پارس نے چندریان-3 کے لیے نویگیشن سسٹم کی سپلائی کی ہے جبکہ بی ایچ ای ایل نے ٹائٹانیم ٹینک اور بیٹری کی سپلائی کی۔

ان میں سے کئی ہندوستانی کمپنیاں 447 ارب ڈالر کے گلوبل اسپیس مارکیٹ میں دنیا کی توجہ مرکوز کر سکتی ہیں۔ گگن یان، آدتیہ ایل 1، ایکس پی اوسیٹ، این آؕئی ایس اے آر اور اسپیڈیکس جیسے اِسرو کے دوسرے آنے والے مشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیمکو سیکورٹیز کے اپورو سیٹھ نے کہا کہ اسپیس اور ڈیفنس اسٹاک ایک میگا ٹرینڈ ہے جس پر سرمایہ کاروں کو آنے والے سالوں میں توجہ دینی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ایم ٹی اے آر ٹیکنالوجیز، بھارت الیکٹرانکس اور ہندوستان ایروناٹکس جیسے اسٹاک اپنی مضبوط آرڈر بک، مضبوط بنیادی باتوں اور سودیشی پروڈکشن پر ہندوستان کے بڑھتے فوکس کے سبب دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔

جی-20: تین دنوں تک راجدھانی دہلی رہے گی بند، ایئرپورٹ پہنچنے کے لیے خاص انتظام، دہلی پولیس نے جاری کی ایڈوائزری

0
جی-20:-تین-دنوں-تک-راجدھانی-دہلی-رہے-گی-بند،-ایئرپورٹ-پہنچنے-کے-لیے-خاص-انتظام،-دہلی-پولیس-نے-جاری-کی-ایڈوائزری

دہلی میں آئندہ ماہ جی-20 اجلاس منعقد ہونے والا ہے جس کے تعلق سے دہلی پولیس نے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ جمعہ کے روز جاری اس ایڈوائزری کے مطابق 8 سے 10 ستمبر تک آئی جی آئی ہوائی اڈے تک ٹریفک نظام متاثر رہے گا۔ اس لیے لوگوں کو آمد و رفت کے لیے میٹر کی ایئرپورٹ لائن کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں جو لوگ اب بھی شہر کے مختلف حصوں اور این سی آر علاقوں سے اپنی گاڑیوں سے ہوائی اڈے تک سفر کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے خاص انتظام کیا گیا ہے۔

پولیس ایڈوائزری کے مطابق 8 ستمبر کی شب 12 بجے سے 10 ستمبر کی شب 11.59 بجے تک اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے تک سڑک کا راستہ رخنہ انداز ہوگا۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر ہوائی اڈے جانے والے مسافر میٹر کی جگہ سڑک کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں مناسب وقت لے کر سفر کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

پولیس ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ گروگرام سے آئی جی آئی ہوائی اڈے کے ٹرمینل-3 تک سڑک کے راستہ سے سفر کر رہے ہیں تو وہ این ایچ 48، راؤ گجراج سنگھ مارگ، پرانی دہلی، گروگرام روڈ، یو ای آر 2، سروس روڈ، این ایچ 48، ٹرمینل 3 روڈ کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ٹرمینل 1 تک پہنچنے کے لیے مسافر این ایچ 48، راؤ گجراج سنگھ مارگ، پرانی دہلی، گروگرام روڈ، یو ای آر 2، سروس روڈ، این ایچ 48، ٹرمینل 3 روڈ، سروس روڈ این ایچ 48، سنجے ٹی پوائنٹ، الان بٹار کا راستہ لے سکتے ہیں۔

دوارکا سے ٹرمینل 3 جانے کے لیے مسافر دوارکا سیکٹر 22 روڈ، یو ای آر 2، سروس روڈ این ایچ 48، ٹرمینل 3 روڈ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ٹرمینل 1 کے لیے مسافر دوارکا سیکٹر 22 روڈ، یو ای آر 2، سروس روڈ این ایچ 48، ٹرمینل 3 روڈ، سروس روڈ این ایچ 48، سنجے ٹی پوائنٹ، الان باتر راستہ سے ہو کر جا سکتے ہیں۔

جو لوگ نئی دہلی اور جنوبی دہلی سے ٹرمینل 3 یا ٹرمینل 1 کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں وہ ایمس چوک، رنگ روڈ، موتی باغ چوک، آر ٹی آر مارگ، سنجے ٹی پوائنٹ، سروس روڈ این ایچ 48، ٹرمینل 3 روڈ اور سنجے ٹی پوائنٹ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح مغربی دہلی سے ٹرمینل 3 اور ٹرمینل 1 جانے کے لیے پنجابی باغ چوک، رنگ روڈ، راجہ گارڈن چوک، نجف گڑھ روڈ، پنکھا روڈ، ڈابری-دوارکا روڈ، روڈ نمبر 224، ڈابری-گروگرام روڈ لینے کی صلاح دی گئی ہے۔

شمالی اور مشرقی دہلی سے ٹرمینل 3 اور ٹرمینل 1 تک جانے کے لیے مسافر آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ، رانی جھانسی فلائی اوور، روہتک روڈ، پنجابی باغ چوک، رنگ روڈ، راجہ گارڈن چوک، نجف گڑھ روڈ، پنکھا روڈ، ڈابری دوارکا روڈ، روڈ نمبر 224 کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈابری-گروگرام روڈ، سیکٹر 22، دوارکا روڈ، یو ای آر 2، سروس روڈ این ایچ 48، ٹرمینل 3 روڈ/الان بٹار مارگ اور ٹرمینل 1 سے سفر کر سکتے ہیں۔

جی-20 سمیلن میں شرکت کے لیے ہندوستان نہیں آئیں گے ولادمیر پوتن، روسی صدر کے ترجمان نے کی تصدیق

0
جی-20-سمیلن-میں-شرکت-کے-لیے-ہندوستان-نہیں-آئیں-گے-ولادمیر-پوتن،-روسی-صدر-کے-ترجمان-نے-کی-تصدیق

آئندہ ماہ یعنی ستمبر میں ہندوستان میں منعقد ہونے والے جی-20 سمیلن میں روسی صدر ولادمیر پوتن شریک نہیں ہوں گے۔ کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ صدر پوتن ہندوستان میں ستمبر ماہ میں ہونے والے جی-20 سمیلن کے لیے سفر کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں جی-20 سمیلن کی تیاریوں زوروں پر چل رہی ہیں۔ ہندوستان نے سبھی جی-20 ممالک، مدعو ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے لیڈران کو دعوت نامہ بھیجا تھا، حالانکہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو پا رہی تھی کہ پوتن اس تقریب میں شرکت لیں گے یا نہیں۔ اب ان کے ترجمان پیسکوف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دورۂ ہند کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان اس وقت جی-20 ممالک کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ گروپ دنیا کی اہم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کا ایک بین سرکاری پلیٹ فارم ہے۔ یہ اراکین مجموعی عالمی گھریلو پروڈکشن کا تقریباً 85 فیصد، عالمی کاروبار کا 75 فیصد سے زیادہ ہیں، اور عالمی آبادی کے تقریباً دو تہائی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس گروپ میں ہندوستان کے علاوہ ارجنٹائنا، آسٹریلیا، برازیل، کناڈا، چین، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، کوریا ریپبلک، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور یوروپی یونین شامل ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ مہابودھی مندر میں فائرنگ، ایک پولیس اہلکار کی موت، مندر میں داخلہ بند، تحقیقات شروع

0
عالمی-شہرت-یافتہ-مہابودھی-مندر-میں-فائرنگ،-ایک-پولیس-اہلکار-کی-موت،-مندر-میں-داخلہ-بند،-تحقیقات-شروع

بہار کے بودھ گیا سے ایک افسوسناک خبر سامنے آ رہی ہے۔ عالمی شہرت یافتہ مہابودھی مندر احاطہ میں جمعہ کی دوپہر گولیوں کی آواز سے زبردست افرا تفری مچ گئی۔ ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے بھرے رہنے والے بودھ گیا کے مہابودھی مندر میں ہوئی اس فائرنگ میں ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی ہے۔ فائرنگ اور افرا تفری پھیلنے کے بعد مہابودھی مندر کو خالی کرا دیا گیا ہے اور داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ کثیر تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی بھی کی گئی ہے اور تحقیقات کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مندر احاطہ سے لے کر آس پاس کے تمام علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی ایس اے پی جوان ستیندر یادو (43 سال) جمعہ کی دوپہر ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔ جس روڈ سے وہ جا رہے تھے، وہاں پتھر پر پھسلن تھی۔ اس کی وجہ سے ان کا پیر پھسل گیا اور ان کے ہاتھ میں موجود ہتھیار سے یکے بعد دیگرے تین گولیاں چل گئیں۔ گولی لگتے ہی ستیندر بیہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔ یعنی ستیندر اپنے ہی اسلحہ سے چلی گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ آس پاس کے لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔

اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور آناً فاناً میں زخمی جوان کو اسپتال لے گئے۔ یہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔ گیا رینج ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ یہ ایک حادثہ ہے۔ فائرنگ جوان ستیندر یادو کے کاربائن سے ہوئی ہے۔ آس پاس کوئی وہاں پر سی سی ٹی وی نہیں ہے۔ بیلسٹک ایکسپرٹ آئیں گے وہی جانچ کریں گے پھر واضح ہو جائے گا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جائے حادثہ سے کئی کھوکے بھی برآمد کیے گئے ہیں اور جانچ چل رہی ہے۔

بھاری نقصان کے پیش نظر ہماچل پردیش کی آفت کو قومی آفت قرار دیا جائے، پرینکا گاندھی کی مرکزی حکومت سے اپیل

0
بھاری-نقصان-کے-پیش-نظر-ہماچل-پردیش-کی-آفت-کو-قومی-آفت-قرار-دیا-جائے،-پرینکا-گاندھی-کی-مرکزی-حکومت-سے-اپیل

نئی دہلی: ہماچل پردیش میں بارش نے ریاست بھر میں تباہی مچا دی ہے۔ بارش سے ریاستی حکومت کو اب تک آٹھ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جنرل سکریٹری اور ہماچل اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والی پرینکا گاندھی نے ہماچل پردیش میں ہونے والی تباہی کو قومی آفت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ پرینکا گاندھی نے اس مشکل وقت میں ہماچل پردیش کے لوگوں کے لیے دعا بھی کی۔

پرینکا گاندھی نے اس موقع پر ہماچل پردیش حکومت کے اقدامات کی بھی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل ستائش اور حساس ہیں۔ پرینکا گاندھی نے لکھا ’’آفت کے اس مشکل وقت میں میری دعائیں ہماچل کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ کئی ریاستوں نے ہماچل پردیش کی مدد کے لیے قابل ستائش اور حساس قدم اٹھائے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ اس سانحے سے ہونے والے بڑے نقصان کے پیش نظر ہماچل پردیش میں آنے والی آفت کو قومی آفت قرار دیا جائے، تاکہ اس آفت سے دوچار ہمارے بہن بھائیوں کو صحیح اور فوری ریلیف مل سکے۔ اس خوفناک آفت کے وقت تمام ہم وطنوں کو ہماچل پردیش کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ہماچل پردیش کو 24 جون سے اب تک 8450.00 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 2 ہزار 346 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ریاست میں 10 ہزار 135 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ 303 دکانیں اور 5 ہزار 48 جانوروں کے باڑے بھی تباہ ہوئے ہیں۔ 24 جون سے لے کر اب تک ریاست بھر میں 156 لینڈ سلائیڈنگ اور 63 سیلاب کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ ریاست میں 367 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ 40 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریاست بھر میں بارشوں کے باعث مختلف واقعات میں 343 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد ‘اِنڈیا’ کی میٹنگ اب اگست نہیں بلکہ ستمبر میں ہوگی، نتیش کمار نے نئی تاریخ کی دی جانکاری

0
اپوزیشن-اتحاد-‘اِنڈیا’-کی-میٹنگ-اب-اگست-نہیں-بلکہ-ستمبر-میں-ہوگی،-نتیش-کمار-نے-نئی-تاریخ-کی-دی-جانکاری

اپوزیشن اتحاد ‘اِنڈیا’ کی ممبئی میں ہونے والی میٹنگ کی تاریخ تبدیل ہو گئی ہے۔ میٹنگ 30 اور 31 اگست کو ممبئی میں مجوزہ تھی، لیکن اب یہ یکم ستمبر کو ہوگی۔ اس سلسلے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پٹنہ میں جانکاری دی اور کچھ دیگر تفصیلات سے بھی مطلع کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف 23 جون کو پہلی بار ملک بھر کی بی جے پی مخالف پارٹیوں کی پٹنہ میں میٹنگ کرانے والے نتیش کمار نے بتایا کہ بنگلورو کی دوسری میٹنگ میں جو کچھ طے پایا تھا، ممبئی کی میٹنگ میں اس سے آگے کی بات ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بیشتر پارٹیوں کے لیڈران 31 اگست کو ہی ممبئی پہنچ جائیں گے اور اس کے اگلے دن، یعنی یکم ستمبر کو وہ میٹنگ میں شریک ہوں گے۔

نتیش کمار کا کہنا ہے کہ کئی طرح کے سوالات اس وقت اٹھائے جا رہے ہیں جن کا جواب سبھی پارٹی لیڈران کی رائے لینے کے بعد دیا جائے گا۔ نتیش کمار نے یہ بیان تب دیا جب ان سے میڈیا نے اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کا کنویر بنائے جانے میں آر جے ڈی صدر لالو پرساد اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے کردار پر سوال کیا گیا۔ نتیش کمار سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا الگ الگ ریاستوں کو ذمہ داری دی جائے گی؟ اس پر نتیش کمار نے کہا کہ تیسری میٹنگ جب ممبئی میں ہوگی تو سبھی باتیں طے کی جائیں گی، اور پھر اس کی جانکاری میڈیا کو بھی دی جائے گی۔ میٹنگ سے پہلے کچھ بھی کہنا ٹھیک نہیں ہوگا۔