بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 167

موسم کا حال: پنجاب، بہار، بنگال سمیت متعدد ریاستوں میں بارش کی پیش گوئی

0
موسم-کا-حال:-پنجاب،-بہار،-بنگال-سمیت-متعدد-ریاستوں-میں-بارش-کی-پیش-گوئی

نئی دہلی: ملک کے بیشتر علاقوں میں آج یعنی جمعہ کو بارش کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق شمال مشرقی، ذیلی ہمالیائی مغربی بنگال، سکم، بہار اور پنجاب میں اگلے تین دنوں تک موسلادھار سے بہت زیادہ بارش کی سرگرمیاں دیکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور مشرقی اتر پردیش، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے دور دراز علاقوں میں اگلے دو دن تک موسلادھار بارش جاری رہنے والی ہے۔

آج یعنی 25 اگست کو ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں مطلع ابر آلود رہے گا۔ دوسری جانب اگر ہم درجہ حرارت کی بات کریں تو یہاں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، ہفتے کے آخر میں بھی دہلی میں جزوی طور پر ابر آلود رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج سے اگلے تین دن تک بارش کی کوئی پیش قیاسی نہیں ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں آج کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آج لکھنؤ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ غازی آباد کی بات کریں تو آج یہاں کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری رہ سکتا ہے۔ تاہم آج غازی آباد میں بارش کی کوئی پیش قیاسی نہیں ہے۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والی ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق آج آسام، میگھالیہ، اروناچل پردیش اور تمل ناڈو میں بعض مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کے ساتھ بعض مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ، شمال مشرقی ہندوستان کے اڈیشہ، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، ودربھ، اتراکھنڈ، شمال مغربی اتر پردیش اور کونکن اور گوا کے کچھ حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔

اس کے ساتھ ہی جموں کشمیر، لداخ، شمالی پنجاب، شمالی ہریانہ، مدھیہ پردیش، مدھیہ مہاراشٹر اور اندرونی کرناٹک، اندرونی تمل ناڈو، کیرالہ اور انڈمان اور نکوبار جزائر میں ایک یا دو مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔

مدھیہ پردیش: اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی کو لگا ایک اور جھٹکا، سابق رکن اسمبلی کے بیٹے-بہو کانگریس میں شامل

0
مدھیہ-پردیش:-اسمبلی-انتخاب-سے-قبل-بی-جے-پی-کو-لگا-ایک-اور-جھٹکا،-سابق-رکن-اسمبلی-کے-بیٹے-بہو-کانگریس-میں-شامل

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخاب کے لیے تاریخوں کا اعلان جلد ہی ہونے والا ہے، لیکن اس سے پہلے بی جے پی کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات کو ستنا ضلع کے ریگاؤں اسمبلی حلقہ کے سابق رکن اسمبلی جگل کشور باگری کے بیٹے دیوراج باگری اور ان کی بیوی وندنا باگری نے بھوپال میں کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ کی موجودگی میں کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی۔

کانگریس کے سابق صدر ارون یادو نے بی جے پی کو لگے اس جھٹکے پر کہا کہ ریاست کے الگ الگ حصوں سے بڑی تعداد میں بی جے پی کے لوگ کانگریس کا دامن تھام رہے ہیں۔ نیواڑی، چھترپور، ٹیکم گڑھ، دَتیا، شیوپوری وغیرہ مقامات سے کئی بی جے پی لیڈران کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ بی جے پی میں بری طرح بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ اس بھگدڑ کا نتیجہ ہے کہ حکومت اب کابینہ کی توسیع کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ ریگاؤں میں ہوئے ضمنی انتخاب میں بارگی جوڑا نے بی جے پی کی طرف سے ٹکٹ کی دعویداری کی تھی، لیکن انھیں ناکامی ہاتھ لگی تھی۔ لہٰذا انھوں نے پارٹی کے ذریعہ طے امیدوار پرتیما باگری کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ ویسے اس وقت ریگاؤں اسمبلی حلقہ سے کانگریس کی رکن اسمبلی کلپنا وَرما ہیں۔

دراصل مدھیہ پردیش میں اسی سال ہونے والے اسمبلی انتخاب سے پہلے پارٹی بدلنے کا کھیل جاری ہے۔ لیکن اس معاملے میں کانگریس لگاتار بی جے پی پر بھاری پڑ رہی ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں کے کئی سرکردہ بی جے پی لیڈران، سابق اراکین اسمبلی، سابق اراکین پارلیمنٹ اب تک کانگریس کا دامن تھام چکے ہیں۔ اسمبلی انتخاب سے پہلے ریاست میں کانگریس کی طرف لیڈروں کے بڑھتے رجحان سے واضح ہے کہ ریاست میں ہوا پوری طرح سے بی جے پی کے خلاف ہے۔

جھارکھنڈ: ای ڈی کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے وزیر اعلیٰ سورین، ایجنسی کے دوسرے سمن پر بھی نہیں ہوئے حاضر

0
جھارکھنڈ:-ای-ڈی-کے-خلاف-سپریم-کورٹ-پہنچے-وزیر-اعلیٰ-سورین،-ایجنسی-کے-دوسرے-سمن-پر-بھی-نہیں-ہوئے-حاضر

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ای ڈی کے خلاف آج سپریم کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن داخل کر دی ہے۔ انھوں نے ای ڈی کے سمن پر جمعرات کو اس کے رانچی واقع زونل دفتر میں حاضر ہونے کی جگہ اس کی اطلاع ایک پیغامبر کے ذریعہ بھجوا دی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ انھوں نے ای ڈی کے سمن کو چیلنج دیا ہے یا اس کی پوری کارروائی پر سوال اٹھایا ہے۔ ہیمنت سورین کے رخ سے یہ ضرور صاف ہو گیا ہے کہ وہ جانچ ایجنسی کے ساتھ اب آر پار کی لڑائی کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل ای ڈی نے جب انھیں 14 اگست کو حاضر ہونے کا سمن بھیجا تھا تب انھوں نے اس کے جواب میں ای ڈی اسسٹنٹ ڈائریکٹر دیوورَت جھا کو لکھے خط میں کہا تھا کہ آپ اور آپ کے پالٹیکل ماسٹر اچھی طرح جانتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو 15 اگست کو پرچم کشائی کرنی ہوتی ہے۔ اس کی تیاری ایک ہفتہ پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جاننے کے باوجود 14 اگست کو بلایا گیا۔ اس سے صاف ہے کہ قصداً نہ صرف ان کی بلکہ جمہوری طور سے منتخب کی گئی حکومت اور جھارکھنڈ کے لوگوں کا وقار مندمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہیمنت سورین نے ای ڈی کی طرف سے بھیجے گئے سمن کو بھی واپس لینے کو کہا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے خط میں لکھا تھا کہ ایسا نہ ہونے پر وہ قانون کا سہارا لینے کو مجبور ہوں گے۔ سورین کے اس خط کے بعد ای ڈی نے انھیں دوسرا سمن بھیجتے ہوئے 24 اگست یعنی جمعرات کو موجود ہونے کے لیے کہا تھا۔ ای ڈی نے سمن میں کہا ہے کہ وہ رانچی واقع زونل دفتر میں موجود ہو کر اپنی ملکیت کی تفصیل پر بیان ریکارڈ کرائیں۔

یہ لگاتار دوسری بار ہے جب ہیمنت سورین ای ڈی کے بلاوے پر نہیں پہنچے۔ سورین کے ای ڈی دفتر جانے یا نہ جانے کو لے کر دوپہر تک تجسس بنا رہا۔ اس وجہ سے رانچی کے ایئرپورٹ واقع ای ڈی دفتر کے باہر بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی تھی۔ دوپہر تک وزیر اعلیٰ کے پہنچنے کا انتظار ہوتا رہا، لیکن گزشتہ بار کی طرح وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کی طرف سے ای ڈی کو چٹھی بھیجی گئی ہے۔

ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو لکھی گئی گزشتہ چٹھی میں سورین نے کہا تھا کہ سمن میں ایسی کسی بھی بات کا ذکر نہیں ہے، جس سے میرے خلاف ملکیت کو لے کر جانچ کا امکان بنتا ہو۔ جہاں تک ملکیت کی بات ہے تو اس سے جڑی تمام جانکاری انکم ٹیکس ریٹرن میں وقت وقت پر دی جاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ای ڈی کو کسی ایسے کاغذات کی ضرورت ہے، جس کا ذکر قبل میں نہیں کیا گیا ہے تو وہ مہیا کرانے کو تیار ہیں۔

حلال چھٹیوں کا بڑھ رہا رجحان، اسلامی عقیدے کی پابند خواتین کے لیے کئی ممالک میں خصوصی انتظامات

0
حلال-چھٹیوں-کا-بڑھ-رہا-رجحان،-اسلامی-عقیدے-کی-پابند-خواتین-کے-لیے-کئی-ممالک-میں-خصوصی-انتظامات

کچھ لوگوں کو حلال ہالی ڈیز یعنی حلال چھٹیوں کے بارے میں معلوم نہیں، لیکن بیرون ممالک میں حلال چھٹیوں کا رجحان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ کئی ممالک میں ہیں جہاں کے ہوٹلوں میں ایسی مسلم خواتین کے لیے خاص انتظام کیا گیا ہے جو اسلامی عقیدے کی پابند ہیں اور اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے چھٹیوں سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔

حلال ہالی ڈیز کے تعلق سے بی بی سی ہندی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کچھ مسلم خواتین کا تجربات بیان کیے گئے ہیں۔ برطانوی انفلوئنسر زہرہ روز کا حلال ہالی ڈیز کے بارے میں کہنا ہے کہ "مجھے دھوپ میں رہنا بہت پسند ہے، مجھے وٹامن ڈی پسند ہے اور پورے سال پرسکون رہنا پسند ہے۔ اس لیے میں واقعی میں ہر جگہ جانے کا لطف لیتی ہوں، جہاں تنہائی ہو یا چھٹیاں گزاری جا سکتی ہیں۔” ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ وہ سیر و سیاحت پسند کرتی ہیں لیکن اپنے اسلامی عقیدے کے تئیں وفادار بھی رہنا چاہتی ہیں۔

زہرہ بتاتی ہیں کہ وہ 30 سے زائد حلال چھٹیاں منا چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "میرے لیے حلال ہالی ڈیز اور عام ہالی ڈے میں سب سے بڑا فرق پرائیویسی کا ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حلال ہالی ڈیز میں انھیں حلال کھانا آسانی سے مل جاتا ہے جو ان کے لیے بہت ضروری ہے۔

دراصل حلال ہالی ڈیز کے لیے ایسے مقامات مقرر ہیں جہاں مسلمان اپنے عقیدے اور رسوم سے سمجھوتہ کیے بغیر چھٹیاں منا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ مسلم ممالک میں حلال ہالی ڈیز کو لے کر زیادہ پریشانی نہیں ہے، لیکن مغربی اور یوروپی ممالک میں چھٹیاں منانا کئی بار مسلمانوں، خصوصاً خواتین کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن اب مغربی ممالک میں کچھ ایسے ہوٹلز ہیں جو حلال ہالی ڈیز کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے وہ زیادہ پیسے وصول کرتے ہیں۔

بہرحال، بی بی سی کی رپورٹ میں 36 سالہ ہیزر سوزوگلو عادیگزائی کا حلال ہالی ڈیز سے متعلق تجربہ بیان کیا گیا ہے جو دلچسپ ہے۔ عادیگزائی تین بچوں کی ماں ہیں اور استنبول میں رہتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انھیں ترکی میں حلال چھٹیوں کے لیے جگہ تلاش کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن جب بھی فیملی غیر اسلامی ممالک کا سفر کرتا ہے تو انھیں بہت ساری ریسرچ اور منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ وہ کہتی ہیں "حال ہی میں ہم میسیڈونیا اور کوسوو گئے تھے۔ ہم نے اپنے ہوٹل میں ناشتہ کیا اور دوپہر کے کھانے کے لیے ہم روایتی مقامات پر گئے ہجاں بغیر شراب کے کھانا پیش کیا جاتا تھا۔”

عادیگزائی پنج وقتہ نمازی ہیں اور اسلامی اقدار پر اچھی طرح عمل کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "حلال ہوٹلوں میں وہ نماز کے لیے چٹائی دستیاب کراتے ہیں۔ اگر ہم عام ہوٹلوں میں رکنے جا رہے ہیں تو میں اپنے ساتھ نماز کے لیے چٹائی لے جاتی ہوں۔” وہ مزید کہتی ہیں "میں ہوٹلوں مین کم کپڑے پہنے لوگوں کو نہیں دیکھنا چاہتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں جو ہمارے عقیدے اور تہذیب پر عمل کرتے ہیں۔ ہم انھیں سمندری ساحلوں پر نہیں لے جانا چاہتے جہاں لوگ ننگے ہو کر دھوپ سینکتے ہیں۔”

قابل ذکر ہے کہ گلوبل مسلم ٹریول انڈیکس کے مطابق 2022 میں حلال سیاحتی کاروبار 220 ملین ڈالر کا ہو چکا ہے۔ کچھ کمپنیاں حلال ہالی ڈیز میں مہارت رکھتی ہیں جبکہ دیگر اسے ایک متبادل کی شکل میں اختیار کر رہی ہیں۔ مالدیپ مغربی ممالک میں اپنے خاص ہوٹلوں کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن یہاں اب دنیا بھر سے حلال سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مالدیپ کے وزیر سیاحت ڈاکٹر عبداللہ موسوم کہتے ہیں کہ "مالدیپ ایک مسلم ملک ہے اور ہمارے پاس پہلے سے ہی مسلمانوں کے موافق سیاحت ہے اور یہ شعبہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔” ڈاکٹر موسوم کا کہنا ہے کہ سبھی ہوٹل کا ایک چوتھائی حصہ اب خاص طبقہ کو خیال میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے یا مقامی گھریلو سیاحت کے لیے علیحدہ رکھا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "کئی ریسورٹس میں کمرے کا الاٹمنٹ، کمرے کا ڈیزائن اور کھانے کے معاملے میں بھی مسلم موافق ماحول تیار کیا گیا ہے۔”

قابل ذکر یہ بھی ہے کہ 2023 گلوبل مسلم ٹریول انڈیکس میں بیشتر مسلم ممالک کا دبدبہ ہے۔ اول اور دوئم مقام پر تو انڈونیشیا اور ملیشیا قابض ہیں۔ ٹاپ-20 ممالک کی بات کریں تو اس میں صرف دو غیر مسلم ملک سنگاپور (گیارہواں مقام) اور برطانیہ (بیسواں مقام) نے جگہ بنائی ہے۔ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ لندن میں فائیو اسٹار لینڈ مارک ہوٹل 1899 میں کھلا اور اب یہ حلال گوشت فراہم کرتا ہے۔ اس ہوٹل میں ملازمین کو مشرق وسطیٰ کی مذہبی اور تہذیبی سمجھ کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ یہاں مشرق وسطیٰ کے سیلس ڈائریکٹر میگڈی رستم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس الکحل والے مشروب کے ساتھ بغیر الکحل والے مشروب بھی ہیں۔ ہمارے بار میں آپ ایک غیر الکحل کاک ٹیل لے سکتے ہیں جو بہت مقبول ہے۔” وہ مزید بتاتے ہیں کہ "ہوٹل میں داخلے کے لیے دو دروازے ہیں۔ شمال میں ایک دروازہ ذاتی استعمال کے لیے ہے۔ بیشتر مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی فیملی، خصوصاً خواتین خود کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا پسند نہیں کرتیں، اس لیے وہ شمالی دروازے سے داخل ہوتی ہیں۔ وہاں ایک خاص لفٹ بھی ہے جو انھیں سیدھے کمرے تک لے جاتی ہے تاکہ انھیں کوئی دیکھ نہ سکے۔”

‘مسلمان شریعت سے قطعی سمجھوتہ نہیں کرے گا’، لاء کمیشن کے سربراہ سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وفد کی ملاقات

0
‘مسلمان-شریعت-سے-قطعی-سمجھوتہ-نہیں-کرے-گا’،-لاء-کمیشن-کے-سربراہ-سے-مسلم-پرسنل-لاء-بورڈ-کے-وفد-کی-ملاقات

یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) معاملے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ لگاتار اپنا نظریہ کھل کر سامنے رکھ رہا ہے۔ بورڈ یو سی سی کے حق میں نہیں ہے کیونکہ مسلم طبقہ شرعی قوانین کے خلاف نہیں جا سکتا۔ اس سلسلے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے 11 اراکین پر مشتمل وفد نے لاء کمیشن کے سربراہ اور دیگر اراکین سے ملاقات کی۔ اس وفد میں بورڈ کے صدر سیف اللہ رحمانی کے علاوہ مفتی مکرم، نبیلہ جمیل اور قاسم رسول الیاس بھی شامل تھے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اراکین نے لاء کمیشن کے سربراہ اور کمیشن کے دیگر اراکین سے ملاقات کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ مسلم پرسنل لاء قرآن اور سنت کا قانون ہے اور اس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ساتھ ہی وفد نے لاء کمیشن سے کہا کہ مسلم طبقہ شریعت سے قطعی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس ملاقات کے دوران لاء کمیشن کے اراکین نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اراکین سے کچھ سوالات کیے۔ مثلاً متعہ (کچھ وقت کے لیے شادی) اور حلالہ کے بارے میں بورڈ کیا سوچتا ہے؟ جنڈر جسٹس پر بورڈ کا کیا رخ ہے؟ ملکیت میں خواتین کے حصے کو لے کر بورڈ کا کیا نظریہ ہے؟ اسلام میں شادی کی کیا عمر ہے؟ وغیرہ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وفد نے مذکورہ بالا سوالات کے جواب دیے، لیکن ساتھ ہی کہا کہ یو سی سی کو لے کر جو چیزیں ہو رہی ہیں اس کی وجہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات ہیں۔

جہاں تک لاء کمیشن کے سوالوں کا تعلق ہے، جواب میں وفد نے کہا کہ اسلام میں شادی کی عمر کسی سال کے لحاظ سے طے نہیں ہے۔ جب بھی شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی ہر طرح سے تیار ہوں تو شادی کر سکتے ہیں۔ متعہ کو لے کر بورڈ نے کہا کہ یہ ہمارے ملک میں نہیں ہوتا، اور حلالہ کو لے کر جو بات کہی جاتی ہے وہ درست نہیں ہے۔ خواتین کو ملکیت میں حق سے متعلق بھی بورڈ نے اپنی باتوں کو وضاحت کے ساتھ لاء کمیشن کے سامنے رکھا۔

اس ملاقات کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان اور بورڈ کے سینئر رکن قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ ہم نے لاء کمیشن سے کہا ہے کہ یہ سب بی جے پی اور آر ایس ایس کی شہ پر 2024 کے لوک سبھا انتخاب کے مدنظر کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرتا رہے گا۔

پروجیکٹ شکتی کے تحت فوج کی طاقت بڑھنے کا راستہ ہموار، وزارت دفاع نے 7800 کروڑ روپے کی دی منظوری

0
پروجیکٹ-شکتی-کے-تحت-فوج-کی-طاقت-بڑھنے-کا-راستہ-ہموار،-وزارت-دفاع-نے-7800-کروڑ-روپے-کی-دی-منظوری

وزارت دفاع نے جمعرات کے روز تقریباً 7800 کروڑ روپے کی کیپٹل ایکوئزیشن تجاویز کو منظوری دے دی۔ اس میں ایم آئی-17 وی 5 ہیلی کاپٹرس کے لیے الیکٹرانک وارفیئر سوٹ کی خرید بھی شامل ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں ڈیفنس ایکوئزیشن کونسل (ڈی اے سی) نے ان تجاویز کو 24 اگست کے روز منظوری دی۔

اس سلسلے میں وزارت دفاع نے جانکاری دی ہے کہ ڈی اے سی کے ذریعہ منظور تجاویز میں لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کی خرید اور دوسرا ہندوستانی بحریہ کے اسلحہ ایم ایچ-60 آر ہیلی کاپٹرس کی خرید شامل ہے۔ وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ "وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقد ڈی اے سی کی میٹنگ میں تقریباً 7800 کروڑ روپے پر مشتمل کیپٹل ایکوئزیشن تجاویز کے لیے ضروری منظوری دی گئی۔

جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ڈی اے سی نے خرید (ہندوستانی-آئی ڈی ڈی ایم) کیٹگری کے تحت ایم آئی-17 وی 5 ہیلی کاپٹرس پر الیکٹرانک وارفیئر (ای ڈبلیو) سوٹ کی کرید اور قیام کے لیے اے او این فراہم کیا ہے۔ ای ڈبلیو سوٹ بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) سے خریدا جائے گا۔

ایک طرف چندریان-3 نے چاند پر قدم رکھا، دوسری طرف اڈیشہ کے ایک اسپتال میں 4 بچوں کی ہوئی ولادت!

0
ایک-طرف-چندریان-3-نے-چاند-پر-قدم-رکھا،-دوسری-طرف-اڈیشہ-کے-ایک-اسپتال-میں-4-بچوں-کی-ہوئی-ولادت!

چندریان-3 نے 23 اگست کی شام ٹھیک 6.04 بجے چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ کی۔ اس لینڈنگ کے ساتھ ہی پورے ملک میں جشن کا ماحول چھا گیا۔ ہندوستان ہی نہیں، دنیا کے تمام لوگ اِسرو کو اس موقع پر مبارکبادیاں پیغام بھیجنے لگے اور پیغامات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس درمیان اڈیشہ سے ایک دلچسپ خبر سامنے آ رہی ہے۔ دراصل اڈیشہ کے ایک اسپتال میں چندریان-3 کے ٹھیک لینڈنگ کے بعد چار بچوں کی ولادت ہوئی ہے۔ اب ان بچوں کا نام ‘چندریان’ رکھے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسپتال کی ایک نرس انجنا ساہو کا کہنا ہے کہ چاروں بچوں کے والدین ان بچوں کا نام چندریان پر رکھنا چاہتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈیشہ کے کیندرپاڑا ضلع واقع اسپتال میں 23 اگست کی شام چار بچوں کی ولادت ٹھیک اسی وقت ہوئی جب چندریان-3 کے لینڈر ماڈیول نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیاب لینڈنگ کی۔ ان چار بچوں میں تین لڑکے ہیں اور ایک لڑکی۔ اب مشن چاند کی کامیابی سے خوش ہو کر ان چاروں بچوں کے والدین نے ان کا نام ‘چندریان’ رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

23 اگست کی شام پیدا ہونے والے چار میں سے ایک بچے کے والد پراوَت ملک نے کہا کہ چندریان کی کامیابی اور ہمارے بچوں کی پیدائش، ہمارے لیے دوہری خوشی کی بات ہے۔ چندریان کی کامیابی کے کچھ منٹ بعد ہی ہمارے بچوں کی پیدائش ہوئی۔ اس لیے ہم نے بچے کا نام اس چاند مہم پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک دیگر بچے کی ماں رانو نے کہا کہ گھر کے بڑے بزرگوں کو بچے کا نام ‘چندریان’ کے نام پر رکھنے کا مشورہ دیا جائے گا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ بچے کا نام ‘چندر’ یا ‘لونا’ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ چندریان کا مطلب ‘چاند کے لیے گاڑی’ ہوتا ہے۔

گجرات ہائی کورٹ کا سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ پر درج ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار

0
گجرات-ہائی-کورٹ-کا-سابق-آئی-پی-ایس-سنجیو-بھٹ-پر-درج-ایف-آئی-آر-منسوخ-کرنے-سے-انکار

احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے 27 ساسل پرانے ڈرگ پلانٹنگ معاملہ میں انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے سابق عہدیدار سنجیو بھٹ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی عرضی جمعرات کو منسوخ کر دی۔

’سنجیو راجندر بھائی بھٹ بمقابلہ ریاست گجرات‘ میں بھٹ کی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی اپیل شامل تھی۔ جسٹس سمیر دوے نے سنگل جج کی حیثیت سے صدارت کرتے ہوئے بھٹ کی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا اور بھٹ کے وکیل کی درخواست کے باوجود فوری حکم یا مقدمے کی کارروائی کے اثر کو ایک ماہ کے لیے روک دیا۔ مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست پر جسٹس دوے نے ریمارکس دیئے کہ جب کبھی اسٹے ہی نہیں تھا تو میں کیسے روک سکتا ہوں، معذرت، کوئی روک نہیں۔‘‘

خیال رہے کہ یہ معاملہ 1996 کا ہے، جب راجستھان میں مقیم ایک وکیل کو بناسکانٹھا پولیس نے راجستھان کے پالن پور میں اس کے ہوٹل کے کمرے سے منشیات برآمد ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ اس دوران بھٹ بناسکانٹھا میں پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے لیکن گرفتاری کے بعد راجستھان پولیس نے الزام لگایا کہ بھٹ کی ٹیم نے جائیداد کے تنازعہ کے سلسلے میں وکیل کو غلط طریقے سے ہراساں کرنے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔ بھٹ کو اس معاملے میں ستمبر 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ حراست میں ہیں۔

ایک الگ قانونی واقعہ میں سپریم کورٹ نے اس سال فروری میں بھٹ کی ایک عرضی کو خارج کر دیا۔ درخواست کا مقصد گجرات ہائی کورٹ کے جنوری 2023 کے فیصلے کو چیلنج کرنا تھا، جس نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کی آخری تاریخ 31 مارچ 2023 تک بڑھا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے درخواست کو ‘بے نتیجہ’ سمجھا اور بھٹ پر 10000 روپے کا جرمانہ عائد کیا۔

سنجیو بھٹ نریندر مودی حکومت پر اپنی زبانی تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں۔ آئی پی ایس سے برطرفی سے قبل انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا، جس میں 2002 کے گجرات فسادات میں اس وقت کی مودی کی قیادت والی گجرات حکومت پر ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہیں 2015 میں مرکزی وزارت داخلہ نے ڈیوٹی سے غیر مجاز غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے برخاست کر دیا تھا۔

کیرالہ: این سی ای آر ٹی کے ذریعہ ہٹائے گئے ابواب نصاب میں پھر ہوئے شامل، وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بتائی وجہ

0
کیرالہ:-این-سی-ای-آر-ٹی-کے-ذریعہ-ہٹائے-گئے-ابواب-نصاب-میں-پھر-ہوئے-شامل،-وزیر-اعلیٰ-پینارائی-وجین-نے-بتائی-وجہ

این سی ای آر ٹی نے گیارہویں اور بارہویں درجہ کے کتابوں سے کچھ ابواب گزشتہ دنوں ہٹا دیا تھا، لیکن کیرالہ میں طلبا ان ہٹائے گئے ابواب کو بھی پڑھیں گے۔ دراصل کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے ساتھ گیارہویں اور بارہویں درجہ کے لیے ایڈیشنل کتابیں جاری کی ہیں۔ اس میں وہ ابواب بھی شامل ہیں جو مبینہ طور سے این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ کتابوں سے جو حصے ہٹائے گئے ہیں ان میں مہاتما گاندھی کے قاتلوں کا بیان ہے۔ یعنی گاندھی جی کے قاتلوں اور تنظیموں کی شبیہ کو وہائٹ واش کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ این سی ای آر ٹی نے ریشنلائزیشن کے نام پر 2023-24 کی کتابوں میں کئی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ کچھ ابواب کو کتاب سے پوری طرح ہٹا دیے گئے ہیں۔ ریاست نے اس معاملے کو بہت ہی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پینارائی وجین کے مطابق جن ابواب کو بچوں کو ضروری طور پر پڑھایا جانا چاہیے انھیں تاریخ، سیاسیات، معاشیات، سماجیات کی کتابوں میں ایڈیشنل طور پر جوڑا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے این سی ای آر ٹی کے ذریعہ ہٹائے گئے ابواب پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ ادارہ یکطرفہ فیصلہ لے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو دی جانے والی ابتدائی تعلیم کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔ حالانکہ پورے ملک کو ایک ایجوکیشن پالیسی کی ضرورت ہے جس میں آئینی اقدار، سماجوادی نظریات، جنسی انصاف اور سائنسی روش جیسے موضوعات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ این سی ای آر ٹی نے ان ایشوز پر توجہ دینے کی جگہ ان ابواب کو ہٹا دیا جن میں سائنسی روش اور آئینی اقدار کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ اس نصاب میں سے ایک باب مہاتما گاندھی کے قتل کا بھی ہٹایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سبھی کو پتہ ہے کہ گاندھی جی کو کس نے مارا تھا اور کون سی تنظیم اس کے پیچھے تھی۔ انھوں نے سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کے وزن کو کم کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح کے ابواب کو ہٹایا جائے۔

سپریم کورٹ نے آبرو ریزی کیس میں سابق چیف سیکرٹری کی ضمانت کے خلاف درخواست خارج کر دی

0
سپریم-کورٹ-نے-آبرو-ریزی-کیس-میں-سابق-چیف-سیکرٹری-کی-ضمانت-کے-خلاف-درخواست-خارج-کر-دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو انڈمان اور نکوبار جزائر کے سابق چیف سکریٹری جتیندر نارائن کو ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے میں ہائی کورٹ سے دی گئی ضمانت کو چیلنج دینے والی درخواست کو خارج کردیا۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس احسن الدین امان اللہ کی بنچ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے حکام کو متاثرہ (21) کو خطرے کے کسی بھی اندیشے پر غور کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی، نچلی عدالت کو اس معاملے کی جلد سماعت کرنے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کی پورٹ بلیئر سرکٹ بنچ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف نکوبار انتظامیہ (ریاست) اور متاثرہ کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کو خارج کر دیا۔ ملزم نارائن کو کلکتہ ہائی کورٹ کی پورٹ بلیئر سرکٹ بنچ نے 20 فروری کو ضمانت دے دی تھی۔

یکم اکتوبر 2022 کو ایف آئی آر درج ہونے کے بعد نارائن کو 10 نومبر 2022 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہ دہلی فنانشل کارپوریشن کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ اس سے قبل انہیں حکومت نے 17 اکتوبر کو معطل کر دیا تھا۔