جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 159

چارہ گھوٹالہ معاملے میں عدالت نے سنایا اپنا فیصلہ، 35 ملزمین بری اور 52 قصورواروں کو ملی 3 سال قید کی سزا

0
چارہ-گھوٹالہ-معاملے-میں-عدالت-نے-سنایا-اپنا-فیصلہ،-35-ملزمین-بری-اور-52-قصورواروں-کو-ملی-3-سال-قید-کی-سزا

ڈورنڈا ٹریزری سے جڑے چارہ گھوٹالہ معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے آج اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سی بی آئی کے اسپیشل جج وشال شریواستو کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا جس میں 125 ملزمین میں سے 35 کو بری کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق 52 کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ باقی ملزمین پر فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ بہار (جب جھارکھنڈ نہیں بنا تھا) میں جب چارہ گھوٹالہ ہوا تھا تو اس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو ہوا کرتے تھے۔ اس دران ڈورنڈا ٹریزری سے 36 کروڑ 59 لاکھ روپے ناجائز طریقے سے نکالے گئے تھے۔ یہ معاملہ 1990 سے 1995 کے دوران پیش آیا تھا۔ اس تعلق سے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج وشال شریواستو کی عدالت میں بحث پوری ہو چکی ہے اور آج 87 (35 کو بری کیا گیا اور 52 کو 3 سال کی سزا ملی) ملزمین کے بارے میں فیصلہ سنا دیا گیا۔

دورنڈا ٹریزری معاملے میں 27 سال تک چلی سماعت کے دوران سی بی آئی کے اسپیشل پبلک پرازیکیوٹر روی شنکر نے مجموعی طور پر 616 گواہوں کا بیان درج کرایا ہے۔ اس معاملے میں اُس وقت کے سپلائر اور سابق رکن اسمبلی گلشن لال آجمانی سمیت 125 ملزمین نے ٹرائل کا سامنا کیا۔ ٹرائل کے دوران 62 ملزمین کا انتال ہو چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے مجموعی طور پر 192 ملزمین کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ ان ملزمین میں سے 38 پبلک سرونٹس رہے ہیں، جن میں سے 8 ٹریزری کے افسر ہیں۔ 86 سپلائر معاملے میں ملزم ہیں۔ ملزمین میں 16 خواتین بھی شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملزمین میں سب سے عمر دراز 90 سالہ ضلع مویشی پروری افسر ڈاکٹر گوری شنکر پرساد بھی شامل ہیں۔ ان میں 12 سے زیادہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی عمر 80 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

نوح پہنچے وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار کا جارحانہ انداز، کہا ’وزیر اعلیٰ کھٹر کی اپیل ناقابل قبول‘

0
نوح-پہنچے-وی-ایچ-پی-لیڈر-آلوک-کمار-کا-جارحانہ-انداز،-کہا-’وزیر-اعلیٰ-کھٹر-کی-اپیل-ناقابل-قبول‘

ہریانہ کے نوح میں برج منڈل یاترا پھر سے نکالے جانے کے اعلان کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے۔ ہریانہ حکومت نے اس یاترا کی اجازت نہیں دی ہے، لیکن وی ایچ پی نے ہر حال میں برج منڈل یاترا نکالنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد نوح میں جگہ جگہ سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔ اس درمیان وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) لیڈر آلوک کمار نوح پہنچ گئے اور کہا کہ ’’میں نے اپنی زندگی میں ایڈمنسٹریشن کی اتنی بدانتظامی نہیں دیکھی۔ یہ افرا تفری ہے۔ ہمیں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی اپیل قطعی قبول نہیں ہے۔ ہم لوگ جلابھشیک کریں گے اور یاترا بھی کریں گے۔‘‘

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار کی ضد کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ اپنی سیکورٹی میں انھیں اور کچھ دیگر لوگوں کو لے کر نلہڑ مندر جلابھشیک کرانے کے لیے پہنچی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے ہر حال میں یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کسی بھی طرح کا تشدد یا پھر اشتعال انگیزی پیش نہ آئے۔ ہریانہ کی ڈی جی پی ممتا سنگھ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’نوح میں کسی بھی طرح کی یاترا کی اجازت نہیں ہے۔ تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔‘‘

دوسری طرف سَنت جگت گرو پرمہنس آچاریہ مہاراج کو انتظامیہ نے نلہڑ مندر جانے سے روک دیا۔ انھیں سوہنا ٹول پلازہ کے پاس روکا گیا۔ اس موقع پر جگت گرو پرمہنس نے کہا کہ ’’میں ایودھیا سے آیا ہوں۔ سبھی رام بھومی کی مٹی اور سریو اور سبھی پیٹھوں کا پانی لے کر یہاں پہنچا ہوں۔ مجھے بجرنگ دل کے جو کارکنان مارے گئے تھے اس جائے حادثہ پر خراج عقیدت پیش کرنی تھی اور سریو کے جل سے جلابھشیک کر کے واپس چلے جانا تھا۔ میرے ساتھ بہت سی گاڑیاں اور لوگ تھے، لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ وہاں دفعہ 144 نافذ ہے تو میں نے سب کو واپس لوٹا دیا۔ اب صرف ہم دو تین لوگ وہاں جانا چاہتے تھے، لیکن ہمیں انتظامیہ نے روک لیا۔‘‘

جگت گرو پرمہنس آچاریہ مہاراج نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ جب انھوں نے سوہنا میں ہی جلابھشیک کر واپس لوٹنے کا ارادہ ظاہر کیا، تو اسے بھی منظور نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جب ہم یہیں خراج عقیدت پیش کر کے واپس لوٹنا چاہ رہے تھے تو بھی ہمیں واپس نہیں جانے دیا جا رہا۔ میں اب یہاں تامرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گیا ہوں۔ جب تک خراج عقیدت اور جلابھشیک کے لیے مجھے اجازت نہیں ملے گی، تب تک میں یہاں بیٹھا رہوں گا۔‘‘

اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ نوح پولیس آس پاس کے علاقوں سے آئے عقیدتمندوں کو لے کر تین بسوں میں بھر کر نلہڑ مہادیو مندر پہنچی۔ وی ایچ پی لیڈر دیویندر یادو بھی ان عقیدتمندوں کے ساتھ بس میں سوار ہو کر مندر پہنچے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 30 عقیدتمندوں کو پولیس نلہڑ مہادیو مندر لے کر گئی ہے۔

مودی ملازمین کے پرموشن کو بھی تقرری بتا کر تشہیر کرتے ہیں: کھڑگے

0
مودی-ملازمین-کے-پرموشن-کو-بھی-تقرری-بتا-کر-تشہیر-کرتے-ہیں:-کھڑگے

کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری ملازمین کو پروموشن لیٹر بانٹتے ہیں اوران کے ساتھ فوٹو کھینچوا کر انہیں بھی سرکاری ملازمت میں نئی تقرری بتاکر تشہیر کرتے ہیں۔

مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی صرف اپنی تشہیر میں یقین رکھتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو پروموشن لیٹر دے کر بھی انہیں نئی نوکریاں دینے کے طور پر تشہیر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سالانہ دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرکے، مودی جی ماہانہ قسطوں کی شکل میں ہمارے نوجوانوں کو چند ہزار تقرری نامے بانٹ رہے ہیں۔ وہ آج بھی ایسے ہی لیٹر تقسیم کریں گے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ان میں سرکاری ملازمتوں میں پرموشن پانے والوں کے نام بھی ہیں۔

انہوں نے کہا، "مثال کے طور پر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، موہالی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سال اپریل میں، انسٹی ٹیوٹ نے 15 نئی تقرریاں کیں اور 21 افراد کو اونچے عہدوں پر ترقی دینے کی منظوری دی۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اپریل 2023 میں اپنے جواب میں کہا تھا کہ 38 لوگوں کو تقرری نامے جاری کیے گئے ہیں۔ ان 38 افراد میں 18 پروموشن والے ملازمین شامل ہیں۔

کانگریس صدر نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "مودی جی، اگر آپ کو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ذرہ بھی فکر ہوتی تو آپ اس پی آر اسٹنٹ میں ملوث ہو کر ان کی امنگوں سے نہ کھلواڑ نہ کرتے۔ ملک کے نوجوانوں نے بی جے پی کے جھوٹ، جملے بازی اور دھوکہ دہی کو پہچان لیا ہے اور وہ 2024 میں مودی حکومت کو ضرور باہر کا راستہ دکھائیں گے۔”

نہرو نے صرف بڑی باتیں ہی نہیں کیں بلکہ بڑے فیصلے بھی لیے: جے رام رمیش

0
نہرو-نے-صرف-بڑی-باتیں-ہی-نہیں-کیں-بلکہ-بڑے-فیصلے-بھی-لیے:-جے-رام-رمیش

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے انڈین اسپیس ریسرچ ایجنسی (اسرو) کی تشکیل میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کے تعاون کو ‘ہضم نہ کرنے’ کے لئے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ پنڈت نہرو صرف بڑی باتیں نہیں کرتے تھے۔

چندریان 3 کی چاند پر تاریخی لینڈنگ کے بعد حکمران جماعت بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان ہندوستان کے خلائی پروگرام پر لفظی جنگ جاری ہے۔ کانگریس اس کے لیے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی کوششوں کو کریڈٹ دے رہی ہے، جب کہ حکمراں بی جے پی کا کہنا ہے کہ 2014 کے بعد اس علاقے میں بڑی ترقی ہوئی ہے۔ اس دوران جے رام رمیش نے بی جے پی پر تازہ حملہ کیا ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (پہلے ٹویٹر) پر لکھا، ‘نہرو سائنسی نقطہ نظر کو فروغ دیتے تھے۔ جو لوگ اسرو کی تشکیل میں ان کے تعاون کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں، وہ ٹی آئی ایف آر (ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ) کے یوم تاسیس پر ان کی تقریر سنیں۔ بادلوں سے راڈار کی حفاظت کرنے والے سائنسدان کی طرح انہوں  نے صرف بڑی باتیں نہیں کیں بلکہ بڑے فیصلے لیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تقریر بھی شیئر کی۔

23 اگست کو، اسرو کے تیسرے چاند مشن چندریان نے چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کی۔ بھارت چاند کے اس خطے تک پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ یہ امریکہ، سابق سوویت یونین اور چین کے بعد چاند پر کامیابی سے اترنے والا چوتھا ملک بھی بن گیا۔

چندریان 3 کی کامیابی کے بعد کانگریس نے کہا تھا کہ یہ ہر ہندوستانی کی اجتماعی کامیابی ہے۔ یہ اسرو کی کامیابیوں کے تسلسل کی کہانی کو ظاہر کرتا ہے، جو واقعی شاندار ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی سفر 1962 میں انڈین نیشنل کمیٹی فار اسپیس ریسرچ کے قیام سے شروع ہوا، جو ہومی بھابھا اور وکرم سارا بھائی کی دور اندیشی کے ساتھ ساتھ ملک کے پہلے وزیر اعظم کی پرجوش حمایت کا نتیجہ تھا۔ نہرو نے بعد میں، اگست 1969 میں سارا بھائی نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو)قائم کیا۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلی کا بی جے پی پر حملہ :سی اے جی رپورٹ میں مرکز کے 7 گھوٹالے

0
تمل-ناڈو-کے-وزیر-اعلی-کا-بی-جے-پی-پر-حملہ-:سی-اے-جی-رپورٹ-میں-مرکز-کے-7-گھوٹالے

تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں جاری کی گئی سی اے جی رپورٹ میں وزیر اعظم  مودی حکومت کے سات گھوٹالے سامنے آئے ہیں۔ تروورور میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے سی ایم اسٹالن نے وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سی وی سی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شکایات وزارت داخلہ کے افسران کے خلاف ہیں۔

وزیر اعلی  اسٹالن نے کہا، ‘سی اے جی کی رپورٹ میں حکومت کو بدعنوان بتایا گیا ہے۔ یہ ہم نہیں بلکہ سی اے جی کہہ رہا ہے۔ سات گھوٹالے منظر عام پر آئے ہیں۔ بھارت مالا پروجیکٹ، دوارکا ریپڈ ٹرانزٹ پروجیکٹ، ٹول بوتھ کلیکشن، آیوشمان بھارت، ایودھیا ڈیولپمنٹ پروجیکٹ، رورل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور ایچ اے ایل ایئرپلین مینوفیکچرنگ اسکیم۔ سی اے جی نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام سات منصوبوں میں بدعنوانی شامل ہے۔‘

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق وزیر اعلی اسٹالن نے کہا، "ایک جعلی فون نمبر جو 99999 99999 ہے آیوشمان بھارت اسکیم میں شامل کیا گیا تھا جس میں 7.5 لاکھ مستفیدین کو شامل کیا گیا تھا۔ اسکیم کے تحت 88,760 مریضوں کی موت ہوچکی ہے لیکن ان کی موت کے بعد بھی ان کے علاج کے لیے بیمہ کی رقم دی گئی۔ اسکیم میں نااہل خاندانوں کو شامل کرکے 22.44 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں، لیکن سی اے جی کی رپورٹ یہی کہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوارکا ریپڈ ہائی وے اسکیم کے تحت 1 کلومیٹر سڑک کو ہموار کرنے کی رقم 18 کروڑ روپے سے بڑھا کر 250 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ یہ تخمینہ لاگت سے 278فیصد  زیادہ ہے۔

اسٹالن نے کہا کہ ایودھیا ترقیاتی پروجیکٹ میں ٹھیکیداروں کو بہت سے غیر ضروری فائدے دیے گئے۔ ملک بھر میں 609 ٹول گیٹ ہیں، جن میں سے سی اے جی نے صرف پانچ کی جانچ کی ہے، جہاں این ایچ اے آئی نے قواعد کے خلاف مسافروں سے 132.5 کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ اس میں تمل ناڈو کا پرانور ٹول گیٹ بھی شامل ہے جہاں قواعد کے خلاف 6.5 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورے ملک کی جانچ میں کئی ہزار کروڑ کا گھوٹالہ سامنے آئے گا۔

سی اے جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سی ایم اسٹالن نے کہا کہ ایچ اے ایل پروجیکٹ کی وجہ سے حکومت کو 151 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ مرکزی حکومت نے دیہی ترقی اور پنشن اسکیم کے لیے مختص رقم کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی اے جی کی رپورٹ میں 7.5 لاکھ کروڑ کی بدعنوانی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے سی ایم اسٹالن نے کہا کہ سی وی سی کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ شکایات وزارت داخلہ کے افسران کے خلاف ہیں۔

اسٹالن نے دعویٰ کیا، "گزشتہ سال مرکزی حکومت کے اہلکاروں کے خلاف 1,15,203 شکایات درج کی گئی تھیں، جن میں سے 46,634 شکایتیں وزارت داخلہ کے افسران کے خلاف درج کی گئی تھیں، جب کہ وزیر داخلہ بدعنوانی کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں”۔ یہ سب چھپانے کے لیے وہ ہم پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں اور ہمیں دھمکی دینے کے لیے سی بی آئی اور ای ڈی کا استعمال کر رہے ہیں۔

نوح  شوبھایاترا کی وجہ سے ہریانہ میں ہائی ایلرٹ ،سبھی اسکول کالج اور بینک بند

0
نوح -شوبھایاترا-کی-وجہ-سے-ہریانہ-میں-ہائی-ایلرٹ-،سبھی-اسکول-کالج-اور-بینک-بند

ہریانہ کے نوح میں وشو ہندو پریشد کے اعلان کے بعد آج برج منڈل جل ابھیشیک یاترا نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی جانب سے جلوس کی اجازت نہ دینے کے باوجود، ہریانہ کے نوح ضلع میں پیر کو سرو جاتیہ ہندو مہاپنچایت نے ‘شوبھا یاترا’ بلائی ہے۔ انتظامیہ نے ریاستی پولیس کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔

جلوس کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق نوح کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ اشونی کمار نے کہا کہ ضلع میں اسکول، کالج اور بینک سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

سرو جاتیہ ہندو مہاپنچایت نے نوح میں برج منڈل شوبھا یاترا کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کہا ہے۔ جولائی کے آخر میں نوح میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد یاترا روک دی گئی تھی۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی۔

پنچکولہ میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا، "چونکہ گزشتہ ماہ یاترا کے دوران امن و امان کی صورتحال  بگڑ گئی تھی اور اب امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے،‘‘ اجازت نہ ملنے کے باوجود وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کہا کہ برج منڈل شوبھا یاترا پرامن طریقے سے منعقد کی جائے گی۔ امن و امان سے متعلق کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے، وی ایچ پی لیڈر نے کہا، "ہمیں معلوم ہے کہ جی 20 شروع ہونے والا ہے، اس لیے ہم اس یاترا کو مختصر کر دیں گے۔” لیکن ہم اسے نہیں چھوڑیں گے اور اسے مکمل کر لیں گے۔ میں بھی اس میں شرکت کروں گا۔ حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے موجود ہے تاکہ لوگ پرامن اور محفوظ طریقے سے اپنے مذہبی کام انجام دے سکیں۔

نوح میں پولیس کے مطابق ہریانہ پولیس کے 1900 اہلکار اور نیم فوجی دستوں کی 24 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ نوح ضلع کے تمام داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور ملہار مندر کی طرف جانے والی سڑک کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ریاستی حکومت نے 26 سے 28 اگست تک موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نوح میں کسی بھی قسم کی نقل و حرکت سے گریز کریں۔

شرد پوار کی مہربانی سے اجیت پوار چار بار ڈپٹی سی ایم بنے، چچا کی محنت پر ڈالا ڈاکہ

0
شرد-پوار-کی-مہربانی-سے-اجیت-پوار-چار-بار-ڈپٹی-سی-ایم-بنے،-چچا-کی-محنت-پر-ڈالا-ڈاکہ

شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے مہاراشٹر میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے درمیان جھگڑے پر بڑا ردعمل دیا ہے۔ پارٹی کا ترجمان’ سامنا ‘میں این سی پی سربراہ شرد پوار اور ریاست کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار پر بڑا حملہ کیا گیا ہے۔ سامنا کے اداریے میں بارامتی میں اجیت پوار کی ریلی کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سی ایم کہہ رہے ہیں کہ انہیں اقتدار نہیں چاہیے۔ وہ سی ایم ایکناتھ شندے اور ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس کے ساتھ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور ساہو، پھولے اور امبیڈکر کے نظریات کے لیے گئے ہیں لیکن ان کی باتیں کھوکھلی ہیں۔ اتنے سال اقتدار میں رہے، کتنی ترقیاتی سکیمیں بنائیں؟

سامنا کے اداریہ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مہاراشٹر میں مذہبی کشیدگی پیدا کرکے صرف فسادات کروانا چاہتی ہے۔ لوگوں کو لڑانا ساہو، پھولے اور امبیڈکر کا خیال نہیں تھا۔سامنا میں لکھا گیا کہ اسکولوں میں کس طرح نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے، یہ اتر پردیش کے ایک معاملے سے ظاہر ہوتا ہے۔ استاد کے کہنے پر ایک مسلمان طالب علم کو اس کے ہم جماعت نے بے رحمی سے پیٹا۔ اس طرح کا زہر آج سماج میں ہر جگہ پھیلایا جا رہا ہے اور یہ یقیناً ساہو، پھولے، امبیڈکر کے خیالات نہیں ہیں۔ آج ہر سطح پر آئین توڑا جا رہا ہے اور انتظامیہ کو آمرانہ انداز میں چلایا جا رہا ہے۔ اسی لیے بی جے پی میں شامل ہونے والے اجیت پوار کو مہاراشٹر کو کھل کر بتانا چاہیے کہ وہ امبیڈکر کے کس نظریے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

سامنا کے اداریے میں شرد پوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اجیت پوار اب تک کم از کم چار بار نائب وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں اور انہیں یہ تمام عہدے صرف شرد پوار کی مہربانی سے ملے ہیں۔ اس دوران اجیت پوار نے خود کو ہوم گراؤنڈ پر اس طرح خوش آمدید کہتے نہیں دیکھا، بلکہ انہوں نے کارکنوں سے اصرار کیا کہ مہمان نوازی، مالا وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے، کام میں مصروف رہنا ہے۔

اجیت پوار کے بیان پر سامنا میں کہا گیا کہ انہیں بی جے پی کے تحریری ایجنڈے پر کام کرنا ہے اور ساہو پھولے امبیڈکر کے نظریات اس ایجنڈے میں نہیں ہیں۔

لکھا تھا کہ اگر اجیت پوار میں اقتدار کی ‘ہوس’نہ ہوتی تو وہ سیاست سے سبکدوش ہونے کے بعد خود کو زراعت اور سماجی کاموں میں جھونک دیتے اور اگر وہ ایک ایماندار، عزت دار سیاست دان ہوتے تو اپنے چچا کی محنت پر ڈاکہ نہیں ڈالتے، اسے کے بجائے اپنی نئی پارٹی بنا کر الگ سیاست کرتے، لیکن اجیت پوار نے سب کچھ تیار کر لیا ہے۔

نوح میں وشو ہندو تخت کے دورے سے قبل پولیس نے  مندر سے 2 کلومیٹر پہلے لگائے بیری کیڈ

0
نوح-میں-وشو-ہندو-تخت-کے-دورے-سے-قبل-پولیس-نے- مندر-سے-2-کلومیٹر-پہلے-لگائے-بیری-کیڈ

وشو ہندو تخت کے بین الاقوامی سربراہ ویریش شانڈیلیا نے کہا کہ انہوں نے نوح میں شیولنگ کے جل ابھیشیک کی تقریب کے لیے حکومت کو پہلے ہی خط لکھ دیا ہے اور تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اس یاترا میں کسی بھی شخص کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوگا۔

دوسری جانب جل ابھیشیک یاترا سے قبل نوح کے نہلاد مہادیو مندر سے دو کلومیٹر پہلے پولیس کی جانب سے بیریکیڈنگ لگا دی گئی ہے۔ اس سے آگے گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جو لوگ درشن کے لیے جانا چاہتے ہیں انہیں یہاں سے پیدل ہی آگے جانے کی اجازت ہوگی۔

ویریش شانڈیلیا جل ابھیشیک کے لیے ہریدوار سے گنگا جل لائے ہیں۔ ویریش شانڈیلیا نے بتایا کہ جس طرح نوح میں برجمنڈل یاترا پر ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا اور نوح کو پاکستان بنانے کی کوشش کی گئی تھی، اسی وقت وشو ہندو تخت نے اعلان کیا تھا کہ ساون کے آخری پیر کو ملک میں بھگوان کی پوجا کی جائے گی۔ نوح میں  شیو کا جل ابھیشیک کریں گے۔ اس کے لیے ہماری تیاریاں مکمل ہیں اور ہمارا جتھا صبح سیکٹر 1 سے روانہ ہوگی۔

ویریش شانڈیلیا نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی ہریانہ کے وزیر داخلہ، ڈی جی پی اور کئی دیگر عہدیداروں کو خط دے دیا ہے۔ اس بار ہم پوری طرح تیار ہیں۔ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نوح میں کوئی یاترا نہیں نکالی جائے گی، جس پر ویریش شانڈیلیا نے کہا کہ  وزیر اعظم ملک کو ہندو ملک بنانا چاہتے ہیں اور ہریانہ کے سی ایم کا اس طرح کے بیانات دینا افسوسناک ہے۔ لیکن وشو ہندو تخت رکنے والا نہیں ہے۔ پولیس انتظامیہ نے روکا تو کیا ہوگا؟ اس سوال پر ویریش نے کہا کہ ہم پولس انتظامیہ کے ساتھ ہیں اور انتہائی پرامن طریقے سے جل ابھیشیک کریں گے۔

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے اعلان کیا تھا کہ اگر وشو ہندو تخت یاترا نکالتا  ہے تو وہ ٹریکٹر یاترا بھی نکالیں گے۔ اس پر ویریش شانڈیلیا نے راکیش ٹکیت سے کہا کہ وہ بتائیں کہ وہ کون ہے۔ وہ ہندو ہے یا نہیں۔ یاترا جاری رہے گی۔ دوسری جانب 28 اگست کو وشو ہندو پریشد کی یاترا کے پیش نظر گڑگاؤں کے سوہنا نوہ ٹول پلازہ پر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ای ڈی جمہوریت کے لیے بڑا خطرہ : بھوپیش بگھیل

0
ای-ڈی-جمہوریت-کے-لیے-بڑا-خطرہ-:-بھوپیش-بگھیل

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پر بی جے پی کے سیاسی مقاصد کے لیے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ریاستی انچارج کے دیے گئے بیان سے واضح ہے کہ بی جے پی ریاست میں ای ڈی کے ساتھ ملکر اسمبلی انتخابات لڑے گی۔

مسٹر بگھیل نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرگوجا میں کل بی جے پی کے انچارج اوم ماتھر نے ای ڈی کی کارروائی پر کہا، ’’ابھی انتخابات آنے تک دیکھیئے کیا کیا ہوتا ہے‘‘۔ بی جے پی انچارج کا یہ بیان یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ بی جے پی ای ڈی کی مدد سے الیکشن لڑے گی؟

انتخابات کے پیش نظر ای ڈی کی کارروائی ہو رہی ہے۔ ایک محکمے میں گڑبڑ نہیں پکڑ پاتے، دوسرے میں لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے تمام محکموں پر کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ چھتیس گڑھ میں ہر جگہ گڑبڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں ای ڈی اور آئی ٹی افسران نے 200 سے زائد افراد/ اداروں اور سرکاری دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ ای ڈی حکام کی طرف سے جبر اور ہراسانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی ریکوری کے جھوٹے بیانات کی بنیاد پر سینکڑوں کروڑ کے مبینہ کوئلہ گھپلہ، شراب گھپلہ، چاول گھپلہ اور اب مہادیو ایپس گھپلہ کے بارے میں جھوٹی تشہیر کی جارہی ہے۔

مسٹر بگھیل نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے منی لانڈرنگ قانون میں اس طرح تبدیلیاں کی گئی ہیں کہ ای ڈی کے افسران کو لامحدود اختیارات مل گئے ہیں۔ ای ڈی صرف الزامات کی بنیاد پر جسے چاہے گرفتار کر سکتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ منی لانڈرنگ قانون کے تحت گرفتار شخص کو ضمانت دینے کی فراہمی کو بھی ایک طرح سے ختم کر دیا گیا ہے۔ ای ڈی کے اہلکار بغیر کوئی وجہ بتائے کسی بھی جائیداد کو قرق کر سکتے ہیں اور اس کے بعد برسوں تک اس کی رہائی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔

انہوں نے کہا کہ ای ڈی حکام کے لیے یہ بھی بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کہ کسی بھی گواہ کو جیل بھیجنے کی دھمکی دے کر من پسند بیان لکھوالیا جاتا ہے۔ اپنے بیان میں ای ڈی حکام کے ذریعہ تیار کردہ بیان یا جھوٹی کہانی کی تصدیق کریں ورنہ اسے جیل بھیج دیا جائے گا، جہاں اسے ساری زندگی جیل میں سڑنا پڑے گا۔ گواہوں کو بے دردی سے مارنا، ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا ای ڈی افسران کے لیے معمول کی بات ہے۔

چندریان پروجیکٹ سے وابستہ کمپنی کے ملازمین کو 18 ماہ سے نہیں ملی تنخواہ: امیش سنگھ کشواہا

0
چندریان-پروجیکٹ-سے-وابستہ-کمپنی-کے-ملازمین-کو-18-ماہ-سے-نہیں-ملی-تنخواہ:-امیش-سنگھ-کشواہا

بہار جنتا دل یو کے ریاستی صدر مسٹر امیش سنگھ کشواہا نے اتوار کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لیڈر چندریان-3 کی کامیابی کا سہرا مودی جی کے سر باندھ  رہے ہیں، لیکن چندریان 3 کے لانچنگ پیڈ سمیت تمام ضروری سامان بنانے والی کمپنی کے انجینئروں، افسران اور اہلکاروں کو گزشتہ 18 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ یہ کمپنی مرکزی حکومت کی بھاری صنعت کی وزارت کے تحت آتی ہے۔ کامیابی کا کریڈٹ لینے کے لیے قطار میں سب سے آگے کھڑی مودی حکومت تنخواہ کے سوالوں پر خاموش کیوں ہے؟

ریاستی صدر نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی اور پورے ملک کے لیے شرم کی بات ہے کہ جن سائنسدانوں اور کارکنوں کی لگن کی وجہ سے آج پوری دنیا میں ہندوستان کی تعریف ہو رہی ہے، انہی کارکنوں اور سائنسدانوں کو اپنی روزی روٹی کے لیے قرض لینا پڑرہا ہے۔ کمپنی کے ملازمین ایک سال سے اپنی تنخواہوں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، کئی بار انہوں نے دھرنا مظاہروں کے ذریعے مودی حکومت کو جگانے کی کوشش کی اور کمپنی کے ملازمین نے مرکزی حکومت کے ہیوی انڈسٹری کے وزیر سے ملاقات کے بعد اپنی بات رکھی، لیکن ابھی تک کسی حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ مودی حکومت کی بے شرمی کی اس سے زیادہ ٹھوس مثال کوئی نہیں ہو سکتی۔

مسٹر کشواہا نے کہا کہ کمپنی 1963 میں 22 ہزار ملازمین کے ساتھ شروع ہوئی تھی، اب صرف 3400 ملازمین رہ گئے ہیں، جن میں سے 3000 ملازمین کی تنخواہ گزشتہ 18 ماہ سے التوا میں ہے۔ بی جے پی کی مودی حکومت روزگار اور کاروباری اداروں سے متعلق بڑے بڑے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن آج حقیقت ملک کے لوگوں کے سامنے ہے۔ مودی حکومت کی پوری توجہ صرف اپنے پروپیگنڈے پر ہے، حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ عام لوگ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔