اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 159

چندریان-3: ’میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں، جلد ہی اچھا نتیجہ آنے والا ہے‘، پرگیان رووَر نے بھیجا پیغام

0
چندریان-3:-’میں-اور-میرا-دوست-وکرم-لینڈر-رابطے-میں-ہیں،-جلد-ہی-اچھا-نتیجہ-آنے-والا-ہے‘،-پرگیان-رووَر-نے-بھیجا-پیغام

ہندوستان کا مشن چاند کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ چندریان-3 سے متعلق جانکاریاں لگاتار اِسرو اور چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے دی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین جانکاری یہ سامنے آ رہی ہے کہ چاند کی سطح پر چہل قدمی کر رہے پرگیان رووَر نے دنیا کے باشندوں کو خوشخبری بھرا پیغام بھیجا ہے۔ پہلے تو پرگیان نے دنیا کے باشندوں کی خیریت کی امید ظاہر کی ہے اور پھر بتایا ہے کہ وہ اپنے دوست وکرم لینڈر کے رابطے میں ہے اور دونوں کی ہی صحت بہت اچھی ہے۔ اپنے پیغام میں پرگیان رووَر نے جلد ہی کوئی بڑی خوشخبری دینے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے پرگیان رووَر کی ایک علامتی تصویر شیئر کی گئی ہے جس کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’ہیلو دنیا کے باشندو! میں چندریان-3 کا پرگیان رووَر۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اچھے سے ہوں گے۔ سبھی کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں چاند کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے اپنے راستے پر ہوں۔ میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں۔ ہماری صحت اچھی ہے۔ سب سے اچھے نتائج جلد برآمد ہونے والے ہیں۔‘‘

پرگیان رووَر کے اس پیغام کے بعد صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) پر جم گئی ہیں۔ سائنس داں طبقہ کے ساتھ ساتھ عوام بھی اِسرو اور چندریان-3 کے ٹوئٹر ہینڈل پر نئی جانکاری ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ پرگیان رووَر یا وکرم لینڈر اب چاند کے کس راز سے پردہ ہٹانے والا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ دنوں اِسرو نے چاند کی سطح اور اس کے 8 سنٹی میٹر اندر کی درجہ حرارت کی جانکاری دی تھی۔ وکرم لینڈر نے بتایا تھا کہ سطح پر درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری تک، اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر تقریباً منفی 10 ڈگری محسوس کیا گیا ہے۔

ہر سال 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ منائے جانے پر مرکزی کابینہ نے لگائی مہر، خاتون سائنسدانوں کی ہوئی تعریف

0
ہر-سال-23-اگست-کو-’نیشنل-اسپیس-ڈے‘-منائے-جانے-پر-مرکزی-کابینہ-نے-لگائی-مہر،-خاتون-سائنسدانوں-کی-ہوئی-تعریف

مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں آج کچھ اہم فیصلے لیے گئے جس میں ہر سال 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ منایا جانا بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر کھیل و اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے میڈیا کو تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’’آج پورا ملک چندریان-3 مشن کی کامیابی کا جشن منا رہا ہے۔ چندریان-3 کی کامایبی کو دیکھتے ہوئے کابینہ نے ہر سال 23 اگست کو نیشنل اسپیس ڈے کی شکل میں منانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’رووَر پرگیان کے ذریعہ ہمیں جو جانکاری مل رہی ہے اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔ ہمیں فخر ہے کہ چندریان-3 کی کامیابی میں خاتون سائنسدانوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی یہ کامیابی آنے والے وقت میں خواتین کو ترغیب دے گی۔‘‘

انوراگ ٹھاکر نے اس دوران چاند کی سطح پر نشان زد دو پوائنٹس (شیوشکتی اور ترنگا) کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’شیوشکتی اور ترنگا صرف دو نام نہیں ہیں۔ یہ ہزاروں سال پرانی وراثت کو ایک دھاگے میں باندھتی ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے نوجوانوں میں خلائی سائنس کو مزید قریب سے جاننے کی دلچسپی پیدا کی ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہندوستان ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو ضرور شرمندۂ تعبیر کرے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں چاند کے دو پوائنٹس کو ترنگا اور شیو شکتی نام دیا تھا۔ چندریان-2 نے چاند کی سطح پر جہاں کریش لینڈنگ کیا تھا اس مقام کو ’ترنگا پوائنٹ‘ نام دیا گیا ہے اور چندریان-3 نے جس مقام پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کیا ہے اس مقام کو شیوشکتی پوائنٹ نام دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے نام اپنے خطاب میں 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ منائے جانے کا بھی اعلان کیا تھا جسے آج مرکزی کابینہ کی منظوری بھی مل گئی۔

بھوپیش بگھیل کی وزیر اعظم مودی سے پسماندہ طبقات کی قومی مردم شماری کرانے کی درخواست

0
بھوپیش-بگھیل-کی-وزیر-اعظم-مودی-سے-پسماندہ-طبقات-کی-قومی-مردم-شماری-کرانے-کی-درخواست

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے الگ کوڈ طے کر کے قومی مردم شماری کرانے کی درخواست کی ہے۔

بگھیل نے وزیر اعظم کو لکھے مکتوب میں کہا کہ گزشتہ اپریل میں میں نے آپ سے چھتیس گڑھ کے دیگر پسماندہ طبقات کو 27 فیصد ریزرویشن کا فائدہ دینے اور اس موضوع کو آئین کے 9ویں شیڈول میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی، آپ متفق ہوں گے کہ صدیوں سے سماجی و سیاسی حقوق سے محروم بڑی آبادی کو آئین کے تفویض کردہ مساوات اور سماجی انصاف کی روح کے مطابق ریزرویشن کا فائدہ دیا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ ریاستی اسمبلی کے ذریعہ دسمبر 22 میں متفقہ طور پر منظور کیے گئے بل میں ریاست میں درج فہرست قبائل، درج فہرست ذات، دیگر پسماندہ طبقات اورای ڈبلیو ایس کے لوگوں کے لئے بالترتیب 32، 13، 27 اور 4 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے سے متعلق بل منظور کیاگیاتھا۔ بدقسمتی سے وہ بل ابھی تک راج بھون میں منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔

بگھیل نے لکھا ہے کہ معاشرے کی بڑی آبادی کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھنے کی وجہ سے ناراض ہونا فطری ہے۔ ریاستی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود دیگر پسماندہ طبقات کے لوگوں کو 27 فیصد ریزرویشن کا فائدہ نہ مل پانا سمجھ سے بالا تر ہے۔

جی ہاں، وقت سے پہلے ہو سکتا ہے لوک سبھا انتخاب! ممتا بنرجی کے بعد نتیش کمار کے بیان سے سیاسی ہلچل تیز

0
جی-ہاں،-وقت-سے-پہلے-ہو-سکتا-ہے-لوک-سبھا-انتخاب!-ممتا-بنرجی-کے-بعد-نتیش-کمار-کے-بیان-سے-سیاسی-ہلچل-تیز

ممتا بنرجی نے جب سے یہ بیان دیا ہے کہ لوک سبھا انتخاب وقت سے پہلے ہو سکتا ہے، سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ اب بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی کچھ اسی طرح کا امکان ظاہر کیا ہے۔ نتیش کمار نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت قبل از وقت لوک سبھا انتخاب کرا سکتی ہے۔

ایک تقریب میں نالندہ پہنچے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب کبھی بھی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ کوئی ضروری نہیں کہ انتخاب وقت پر ہو، مرکز والے پہلے بھی کرا سکتے ہیں۔ یہ بات ہم سات آٹھ ماہ سے کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ پہلے بھی انتخاب کرا سکتے ہیں، اس لیے اپوزیشن کو متحد ہونا چاہیے۔‘‘

اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نتیش کمار نے کہا کہ میری کوئی ذاتی خواہش نہیں ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ سب لوگ متحد ہوں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کی ممبئی میں ہونے والی میٹنگ میں نئی پارٹیوں کے شامل ہونے کے تعلق سے نتیش کمار کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا مناسب نہیں۔ جب لوگ اِنڈیا کے ساتھ جڑیں گے تو خود ہی پتہ چل جائے گا۔

بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامہ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مردم شماری کرانے کا اختیار مرکز کو ہے، ہم لوگ تو یہاں شماری (گنتی) کرا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کام تقریباً پورا ہو گیا ہے۔ ہم لوگ لگاتار یہ مطالبہ کر رہے تھے اور سبھی پارٹی کے لوگ جا کر ملے بھی تھے۔ جب مرکز نے کچھ نہیں کیا تب ہم نے بہار میں اپنی سطح پر شروع کیا۔ نتیش کمار کہتے ہیں کہ بہار میں یہ ایک اچھا کام ہو رہا ہے، اب کوئی اس کو روک رہا ہو تو ہم لوگ کیا کر سکتے ہیں۔ ذات پر مبنی شماری کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معاشی حالت کو بھی جاننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سے ہر ذات کی ترقی کے لیے منصوبہ بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ سب کے مفاد میں ہے۔

دفعہ 370 پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا- ’مرکزی حکومت جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کی مدت کا تعین کرے‘

0
دفعہ-370-پر-سماعت-کے-دوران-سپریم-کورٹ-نے-کہا-’مرکزی-حکومت-جموں-و-کشمیر-کو-مکمل-ریاست-کا-درجہ-دینے-کی-مدت-کا-تعین-کرے‘

نئی دہل: جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کو معذول کئے جانے کے خلاف مختلف عرضیوں پر سپریم کورٹ میں منگل (29 اگست) کو بھی سماعت جاری رہی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے مرکز سے کہا کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے حوالہ سے مدت پر اپنا رخ واضح کریں کیونکہ جمہوریت کی بحالی سب سے زیادہ اہم ہے۔

اس پر مرکزی حکومت کی نمائندگی کر رہے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مرکز کے زیر انتظام علاقہ کا درجہ مستقل نہیں ہے اور جلد ہی حالات معمول پر آنے پر مکمل ریاست کا درجہ فراہم کیا جائے گا۔ مہتا نے مزید کہا کہ لداخ کا مرکز کے زیر انتظام علاقہ کا درجہ کچھ وقت تک برقرار رہے گا۔ مرکز اس معاملہ پر جمعرات (31 اگست) کو تفصیلی بیان دے گا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سماعت کے 11ویں دن یعنی پیر (28 جولائی) کو مرکز کی جانب سے پیش ہوئے مہتا نے کہا تھا کہ یہ واضح کرنے کے لئے خاطر خواہ مواد موجود ہے کہ جموں و کشمیر کا آئین ہندوستان کے آئین کے ماتحت ہے۔ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی حقیقت میں قانون ساز اسمبلی تھی۔

منی پور اسمبلی کا یک روزہ اجلاس ہنگامہ کی نذر، کارروائی شروع ہوتے ہی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

0
منی-پور-اسمبلی-کا-یک-روزہ-اجلاس-ہنگامہ-کی-نذر،-کارروائی-شروع-ہوتے-ہی-غیر-معینہ-مدت-کے-لیے-ملتوی

منی پور اسمبلی کا اجلاس آج بہت امیدوں کے ساتھ شروع تو ہوا، لیکن زوردار ہنگامہ کی وجہ سے کچھ ہی دیر بعد غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی بھی کر دیا گیا۔ یعنی تشدد زدہ منی پور کو اسمبلی اجلاس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

دراصل آج منی پور اسمبلی کا یک روزہ اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ہنگامہ شروع ہو گیا۔ کانگریس اراکین اسمبلی مانسون اجلاس کو 5 دنوں تک بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے اور اسی بات کو لے کر برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن اراکین میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ نتیجہ کار کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں تقریباً چار ماہ سے جاری تشدد کے درمیان یک روزہ اجلاس کو کافی اہم تصور کیا جا رہا تھا۔ اسمبلی کا یہ اجلاس تین ماہ بعد ہوا اور ریاست میں مئی ماہ سے جاری تشدد میں 160 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ ایسے میں یہ اسمبلی اجلاس اہمیت کا حامل تھا۔ آج ایوان کی کارروائی صبح 11 بجے نسلی تشدد میں مارے گئے لوگوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی کے ساتھ شروع ہوئی۔ وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے تشدد میں ہلاک لوگوں کی موت پر اظہارِ غم کیا اور کہا کہ ایسے وقت میں ان لوگوں کے لیے افسوس کے الفاظ ناکافی لگتے ہیں، جو تشدد میں اپنے رشتہ داروں سے محروم ہو گئے۔

اس دوران ایوان میں اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا گیا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ خیر سگالی کے لیے سبھی نااتفاقیوں کو بات چیت اور پرامن طریقوں سے دور کیا جانا چاہیے۔ اس دوران چاند پر چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ کی تعریف بھی کی گئی، اور ساتھ ہی منی پور سے تعلق رکھنے والے اور چندریان-3 مشن میں شامل سائنسداں این رگھو سنگھ کو مبارکباد بھی دی گئی۔ اس کے فوراً بعد ہی کانگریس اراکین اسمبلی اپنی سیٹوں سے نعرہ بازی کرنے لگے۔ انھوں نے ’مذاق بند کرو‘، ’چلو جمہوریت بچائیں‘ کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اوکرام ایبوبی سنگھ کی قیادت میں اپوزیشن اراکین اسمبلی نے کہا کہ نسلی تشدد سے نبرد آزما منی پور میں موجودہ حالات پر بحث کے لیے ایک دن کافی نہیں ہے۔ اس پر کم از کم پانچ دنوں کی بحث ہونی چاہیے۔ اس پر اسمبلی اسپیکر ستیہ برت سنگھ نے اپوزیشن اراکین سے بیٹھنے کی گزارش کی، لیکن انھوں نے اپنا مطالبہ جاری رکھا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی نصف گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔ ایوان کی کارروائی دوبارہ جیسے ہی شروع ہوئی، کانگریس اراکین اسمبلی نے اپنا مطالبہ پھر شروع کر دیا۔ ماحول کو دیکھتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ ہنگامہ کے درمیان اجلاس کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کی جاتی ہے۔

دہلی: تہاڑ کے جیلر دیپک شرما سے 50 لاکھ روپے کی ٹھگی!

0
دہلی:-تہاڑ-کے-جیلر-دیپک-شرما-سے-50-لاکھ-روپے-کی-ٹھگی!

نئی دہلی: دہلی کی تہاڑ جیل کے جیلر دیپک شرما سے 50 لاکھ کی ٹھگی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیپک شرما کو ہیلتھ پروڈکٹ کے کاروبار کے نام پر پھنسایا گیا۔ ایک خاتون پر تہاڑ جیل کے جیلر پر اپنے شوہر کے ساتھ مل کر دھوکہ دینے کا الزام ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایک چینل کے رئیلٹی شو میں شریک کر چکی خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر تہاڑ جیل کے جیلر دیپک شرما کے ساتھ 50 لاکھ روپے کا فراڈ کیا ہے۔ دیپک شرما نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ انہوں نے ڈسکوری چینل پر رئیلٹی شو ’الٹیمیٹ واریئر‘ میں حصہ لیا تھا، جہاں ان کی ملاقات ایک اور مدمقابل رونق گلیا سے ہوئی تھا۔

دیپک شرما کے مطابق، رونق گلیا نے بتایا کہ اس کے شوہر انکت گلیا بھی ایک معروف ہیلتھ پروڈکٹ کے کاروباری ہیں۔ دونوں نے 50 لاکھ روپے کی یہ رقم اپنے ہیلتھ سپلیمنٹ پراڈکٹ میں سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار میں بھاری منافع کمانے کا بہانہ بنا کر برانڈ ایمبیسیڈر بننے کے نام پر ہتھیا لی۔

مس ورلڈ 2023 کے لیے مقابلہ کا انعقاد کشمیر میں ہوگا، 140 کریں گے ممالک شرکت

0
مس-ورلڈ-2023-کے-لیے-مقابلہ-کا-انعقاد-کشمیر-میں-ہوگا،-140-کریں-گے-ممالک-شرکت

سرینگر: مس ورلڈ 2023 کا 71واں مقابلہ رواں سال کے آخر میں کشمیر میں منعقد ہوگا، جس میں 140 ممالک شرکت کریں گے۔ اس کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا، جس میں مس ورلڈ کیرولینا بلاوسکی، مس انڈیا سینی شیٹی، مس ورلڈ کیریبین ایمی پینا اور مس ورلڈ انگلینڈ جیسیکا گیگن اور مس ورلڈ امریکہ شری سینی اور مس ایشیا پرسیلیا کارلا سپوتری یولس نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کو 71ویں مس ورلڈ 2023 کے مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

مس ورلڈ آرگنائزیشن کی چیئرمین اور سی ای او جولیا مورلے نے پیر کو کہا کہ کشمیر سیاحت کے لیے ایک بابرکت جگہ ہے، جو مقامی لوگوں کی جانب سے پرتپاک استقبال پر ان کے خوشگوار حیرت کو اجاگر کرتی ہے۔ مس ورلڈ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خطے میں ان کا تجربہ واقعی قابل ذکر رہا ہے۔ انہوں نے اس قابل ذکر جگہ کے بہترین پہلوں کو پیش کرنے کی اپنی خواہش پر زور دیا اوار اس کی ناقابل یقین خوبصورتی پر اپنی حیرت کا اظہار کیا۔

اس موقع پرمس ورلڈنے کہا ’’میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ کشمیر کی خوبصورتی اس قدر مسرور کرنے والی ہوگی۔ ہم کشمیر کے بارے میں اسکی خوبصورتی کے بارے میں بات کرتے تھے لیکن اسکی جھیل، یہاں کی مہمان نوازی اور انتہائی خوبصورت موسم کو دیکھ کر میں اب انتظار نہیں کر سکتی کہ پوری دنیا کے 140 ممالک کے لوگوں، اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو یہاں آنے کے لئے کہوں۔‘‘

مس انڈیا سینی شیٹی نے کہا کہ ’’یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے کہ مس ورلڈ 2023 کشمیر میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ یہ لمحہ دیوالی جیسا ہوگا کیونکہ 140 ممالک ہندوستان آ رہے ہیں اور ایک خاندان کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔‘‘ ان سب نے دیگر معززین کے ساتھ مقامی فائیو اسٹار ہوٹل میں ناشتہ کیا۔ ناشتے کی میٹنگ میں روبل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن کی روبل ناگی اور پی ایم ای انٹرٹینمنٹ کے صدر جمیل سعیدی بھی موجود تھے۔

مس ورلڈ امریکہ شری سینی اور مس ورلڈ آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور سی ای او جولیا مورلی نے مقابلہ جیتنے والوں کے کشمیر کے دورے میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ہندوستان تقریباً تین دہائیوں کے بعد اس مقابلے کی میزبانی کرے گا۔ آخری بار ملک نے 1996 میں ایونٹ کی میزبانی کی تھی۔

چندریان-3: ہندوستان کی خلائی قوت کا مظہر

0
چندریان-3:-ہندوستان-کی-خلائی-قوت-کا-مظہر

چندریان-3 مشن کی کامیابی بلا شبہ عالمی جشن اور خوشی کی ایک وجہ ہے۔ چندریان 3 نے خلا میں ایک ماہ طویل سفر کے بعد چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کی ہے۔ 23 اگست کو شام 6:04 بجےچاند کی سطح پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ ہندوستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ بلا شبہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے کامیاب مشن نے ہندوستان اور بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کو بے پناہ جوش و خروش اور فخر سے ہمکنارکرایا ۔ یہ کامیابی قوم کی سائنسی صلاحیت، عزم اور انسانی علم کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ چندریان 3 کو 14 جولائی 2023 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔

ہندوستان چاند کے قطب جنوبی پر پہنچنے والا پہلا ملک

اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ، اور کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلور میں مشن آپریشن کمپلیکس (MOX) میں خوشیاں منائی گئیں جب بدھ 23 اگست کو شام 6.04 بجے لینڈر وکرم نے چاند کی سطح کو چھوا اور ہندوستان امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ یوں ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا ، لیکن ہندوستان پہلا ملک ہے جس نے چاند کے قطب جنوبی کے قریب خلائی جہاز اتارا جبکہ چند روز قبل اسی علاقے میں روس کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق چندریان -3 کی کامیاب لینڈنگ نہ صرف ہندوستان کے وقار کو بڑھاوا دے گی بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی خلائی صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔

اسرو کے مطابق قطب جنوبی کا اسٹریٹجک انتخاب، تقریباً 70 ڈگری عرض بلد پر، ’سورج سے کم روشن ہونے‘ کی وجہ سے مختلف فوائد پیش کرتا ہے۔ یہ انوکھی خصوصیت مشن کی سائنسی صلاحیت کو بڑھاتی ہے جو گہری کھوج اور تجزیہ کوممکن بناتی ہے۔

چندریان 3 کی واپسی نہیں ہوگی

اسرو کے سربراہ ایس سوما ناتھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سافٹ لینڈنگ کے بعد چندریان -3 زیادہ تر سائنسی مشن کے مقاصد پورے کر لے گا۔ لینڈر وکرم میں موجود روور پرگیان (دانائی) باہر نکلنے کے بعد 14 دنوں کے لیے(چاند کےایک دن کے برابر ) چاند کی سطح پر تجربات انجام دے گا۔ اس کے بعد اگلے 14 دنوں تک ، جب چاند پر رات ہوگی ، وکرم اور پرگیان غیر فعال ہو جائیں گے کیونکہ وہ شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں اور صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتے ہیں ۔ تاہم، اسرو کے سائنسدانوں نے سورج کے دوبارہ طلوع ہونے پر ان دونوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ویسے چندریان 3 قمری مشن زمین پر واپسی کے سفر کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ ایک بار جب ریسرچ مکمل ہو جائے گی، سامان چاند پر چھوڑ دیا جائے گا۔

قبل ازیں خلائی جہاز کا لینڈر وکرم ماڈیول 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ الگ ہو گیاتھا۔ وکرم لینڈر تقریباً 2 میٹر لمبا ہے اور اس کا وزن 1,700 کلوگرام سے زیادہ ہے۔ اس کا نام ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔

چندریان 3 کا ہدف

چندریان 3 میں لینڈر وکرم، روور پرگیان اور ایک پروپلشن ماڈیول شامل ہے۔مشن کا بنیادی مقصد چاند کے قطب جنوبی کے قریب لینڈر اور روور کو اتارنا اور آخر تک لینڈنگ اور گھومنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ سطح اور مدار سے متعدد سائنسی پیمائشیں بھی کرے گا۔ لینڈر وکرم سطح کی حرارتی خصوصیات کی پیمائش کرنے کے لیے، چندر کا سرفیس تھرمو فزیکل ایکسپیریمنٹ (ChaSTE) نامی ایک آلہ لے گیا ہے۔ یہ لینڈنگ سائٹ کے ارد گرد زلزلے کی پیمائش کے لیے انسٹرومنٹ فار لیونر سسمک ایکٹیوٹی(ILSA)، اور دیگر کئی آلات سے لیس ہے۔

چاند کی سطح پر پانی کی تلاش چندریان-3 مشن کے اہم مقاصدمیں شامل ہیں۔ چاند کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں اہم معدنیات ہیں- قطب جنوبی کے علاقے کے بڑے گڑھے مستقل طور پر سائے میں ہیں، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان پر برف موجود ہے جو مستقبل میں چاند پر انسانی رہائش کو سہارا دے سکتی ہے۔ وکرم لینڈر ایک مقررہ پوزیشن ۔شو شکتی پوائنٹ ،جہاں وہ اترا تھا ، پر رہ کر تجربات کرے گا جبکہ روور پرگیان سائنسی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے چاند کی سطح کا جائزہ لے گا۔

لینڈر وکرم باکس کی شکل کا ہے۔ اس کا سائز (200 x 200 x 116.6) سینٹی میٹر ہے جس میں چار لینڈنگ ٹانگیں اور چار لینڈنگ تھرسٹر ہیں۔ اس کا وزن 1749 کلوگرام ہے، جس میں روور کے 26 کلوگرام بھی شامل ہے۔ یہ سائیڈ ماونٹڈ سولر پینلز کا استعمال کرتے ہوئے 738-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ لینڈر کے محفوظ ٹچ ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے متعدد سینسر لگائے گئے ہیں ۔ دوسری جانب روور پرگیان (دانائی یا حکمت کے لیے سنسکرت لفظ) کا سائز(91.7 x 75.0 x 39.7) سینٹی میٹر ہے، جو چھ پہیوں والی راکر بوگی وہیل ڈرائیو اسمبلی پر نصب ہے۔ اس میں نیویگیشن کیمرے اور ایک سولر پینل ہے جو50-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اینٹینا کے ذریعے لینڈر کے ساتھ براہ راست بات چیت کرتا ہے۔

چندریان 3 کا ایندھن

چندریان 3 کو لے جانے والے راکٹ میں ٹھوس اور مائع دونوں ایندھن کا استعمال کیا گیا ۔ پہلا مرحلہ میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہوا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مائع ایندھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ آخری مرحلے کے لیے، ایک کرائیوجینک انجن استعمال کیا گیا ، جو مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن پر چلتا ہے۔ راکٹ کی ایندھن کی گنجائش 27000 کلوگرام سے زیادہ ہے۔

چندریان 3 خلائی قوت کا مظہر

چندریان 3 کی کامیابی ہمیں دوسرے سیارے تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم نہ صرف اس صلاحیت کے حامل مٹھی بھر ممالک میں شامل ہیں بلکہ چاند کے قطب جنوبی پر ترنگا نصب کرنے کے بعد اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں۔ اور اس وجہ سے، ہم مستقبل میں سیاروں کی تلاش ، وہاں معدنیات کی تحقیق اور خلا سے وسائل کے اخراج سے متعلق تمام فیصلہ سازی کا حصہ ہوں گے۔

منی پور تشدد کے بعد ریاست میں آج پہلا اسمبلی اجلاس، کوکی طبقہ کے ارکان اسمبلی نے کیا بائیکاٹ

0
منی-پور-تشدد-کے-بعد-ریاست-میں-آج-پہلا-اسمبلی-اجلاس،-کوکی-طبقہ-کے-ارکان-اسمبلی-نے-کیا-بائیکاٹ

امپھال: منی پور تشدد کے بعد پہلی بار ریاستی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے فروری اور مارچ کے مہینوں میں اسمبلی کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ منی پور اسمبلی کے اسپیکر تھوک چوم ستیہ برت سنگھ نے کہا ہے کہ ایک روزہ اسمبلی اجلاس کے دوران ریاست کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران وقفہ سوالات نہیں ہوگا اور کوئی پرائیویٹ ممبر موشن نہیں لایا جا سکے گا۔

اسمبلی اجلاس پر کانگریس پارٹی نے کہا کہ یہ اجلاس عوامی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کوکی زومی قبائلی تنظیموں نے ایک روزہ اجلاس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور برادری کے 10 ارکان اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ تاہم ناگا ارکان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی توقع ہے۔

کوکی برادری کا کہنا ہے کہ کوکی قانون سازوں کے لیے میتئی کے زیر اثر وادی امپھال (جہاں منی پور اسمبلی واقع ہے) جانا غیر محفوظ ہوگا۔ کوکی برادری نے گورنر سے اسمبلی اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی لیکن حکومت نے انکار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران منی پور میں موجودہ نسلی بحران کے حوالے سے کچھ قراردادیں منظور کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب کوکی برادری نے کہا ہے کہ وہ اسمبلی کی کسی قرارداد پر کوکی علاقے میں عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے۔ گزشتہ ماہ، منی پور حکومت نے 21 اگست تک اجلاس طلب کرنے کی سفارش کی تھی لیکن گورنر کی جانب سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے تاریخ کو تبدیل کر کے 29 اگست کر دیا گیا تھا۔