جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 158

گیتیکا سریواستو پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن کی سربراہ مقرر، اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون

0
گیتیکا-سریواستو-پاکستان-میں-انڈین-ہائی-کمیشن-کی-سربراہ-مقرر،-اس-عہدے-پر-پہنچنے-والی-پہلی-خاتون

نئی دہلی: گیتیکا سریواستو اسلام آباد میں واقع انڈین ہائی کمیشن کی نئی انچارج ہوں گی۔ آزادی کے بعد پہلی بار پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی کمان کسی خاتون کو سونپی جا رہی ہے۔ 2005 بیچ کی آئی ایف ایس آفیسر گیتیکا سریش کمار کی جگہ لیں گی، جن کے جلد ہی نئی دہلی واپس آنے کا امکان ہے۔

اگست 2019 میں مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان نے سفارتی تعلقات کی حیثیت کو کم کر دیا تھا۔ یعنی فی الحال دونوں ممالک میں کوئی ہائی کمشنر نہیں ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد اور دہلی میں پاکستانی اور ہندوستانی ہائی کمیشنز کی سربراہی ان کے متعلقہ انچارج کر رہے ہیں۔

گیتیکا سریواستو اس وقت وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ہیڈکوارٹر میں جوائنٹ سکریٹری کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ وہ انڈو پیسفک ڈویژن سے وابستہ ہیں اور انہوں نے غیر ملکی زبان کی تربیت کے دوران مینڈارن (چینی زبان) سیکھی تھی۔ وہ 2007 سے 2009 تک چین میں ہندوستانی سفارت خانے میں تعینات تھیں۔ وہ کولکاتا میں علاقائی پاسپورٹ آفس اور وزارت خارجہ میں بحر ہند کے علاقہ ڈویژن کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ جلد اسلام آباد میں چارج سنبھالیں گی۔

1947 میں سری پرکاش کو پاکستان میں پہلا ہندوستانی ہائی کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ تب سے ہندوستان کی نمائندگی ہمیشہ مرد سفارت کاروں نے کی ہے۔ اسلام آباد میں آخری ہندوستانی ہائی کمشنر اجے بساریہ تھے، جنہیں 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہائی کمیشن کی پوزیشن کم کرنے کے پاکستان کے فیصلے کے بعد واپس بلا لیا گیا تھا۔

تاہم اس سے قبل بھی خواتین سفارت کاروں کو پاکستان میں تعینات کیا جا چکا ہے لیکن انہیں کبھی چارج نہیں ملا تھا۔ پاکستان میں پوسٹنگ کو مشکل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چند سال پہلے اسلام آباد کو ہندوستانی سفارت کاروں کے لیے ’غیر فیملی‘ پوسٹنگ قرار دیا گیا تھا۔

بی جے پی وقت سے پہلے کرا سکتی ہے لوک سبھا انتخابات، دسمبر تک ممکن! ممتا بنرجی

0
بی-جے-پی-وقت-سے-پہلے-کرا-سکتی-ہے-لوک-سبھا-انتخابات،-دسمبر-تک-ممکن!-ممتا-بنرجی

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی اگلے لوک سبھا انتخابات اس سال دسمبر یا اگلے سال جنوری میں کرا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت الیکشن کمیشن آف انڈیا کے آئین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارٹی کے طلبہ ونگ ’ترنمول چھاتر پریشد‘ کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ممتا نے کہا ’’مجھے خدشہ ہے کہ لوک سبھا کے لیے پولنگ اس سال دسمبر یا اگلے سال جنوری تک ہو سکتی ہے۔ بی جے پی کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔ یاد رکھیں اگر بی جے پی اقتدار میں رہتی ہے، تو پورا ملک مکمل آمریت کی طرف بڑھ جائے گا۔‘‘

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکز کی مودی حکومت الیکشن کمیشن آف انڈیا کے آئین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ممتا نے کہا ’’انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے بنائی گئی کمیٹی سے چیف جسٹس آف انڈیا کا نام ہٹا دیا ہے۔ وہ ہر چیز پر اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی زندگی کا پہلا مشن مغربی بنگال میں بائیں محاذ کی 34 سالہ حکمرانی کو ختم کرنا تھا، جو انہوں نے 2011 میں پور کر دیا تھا۔ اب ان کا مشن بی جے پی کی حکمرانی کو ختم کرنا ہے اور وہ اس کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔

’مردم شماری جیسا کوئی عمل صرف مرکزی حکومت کرا سکتی ہے‘ مرکز نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ یہ حلف نامہ لیا واپس

0
’مردم-شماری-جیسا-کوئی-عمل-صرف-مرکزی-حکومت-کرا-سکتی-ہے‘-مرکز-نے-سپریم-کورٹ-میں-داخل-کردہ-یہ-حلف-نامہ-لیا-واپس

نئی دہلی: بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا، جس کے پیرا 5 میں کہا گیا تھا کہ مردم شماری جیسا عمل صرف اور صرف مرکزی حکومت ہی کرا سکتی ہے۔ مرکزی حکومت نے اب اپنے اس حلف نامہ کو واپس لے لیا ہے اور نیا حلف نامہ داخل کیا ہے۔ مرکز نے ترمیم شدہ حلف نامہ میں کہا ہے کہ پیرا 5 کو نادانستہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اس پیرا میں کہا گیا تھا کہ مردم شماری یا مردم شماری جیسی کوئی کارروائی ریاستی حکومت نہیں کرا سکتی۔

مرکز نے کہا تھا کہ مردم شماری ایک قانونی عمل ہے اور مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت کرائی جاتی ہے اور یہ موضوع یونین لسٹ انٹری 69 کے تحت ساتویں شیڈول میں شامل ہے۔ حالانکہ اس نئے حلف نامے میں بھی حکومت کا کہنا ہے کہ مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت صرف مرکزی حکومت کو ہی جامع مردم شماری کرانے کا حق حاصل ہے لیکن اس نئے حلف نامے میں ‘مردم شماری جیسا کوئی اور عمل’ کا لفظ ہٹا دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ریاستی حکومت اپنی جگہ پر کسی بھی قسم کا سروے کر سکتی ہے۔ کوئی بھی سروے یا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے کوئی بھی کمیٹی یا کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس حق کے تحت اتراکھنڈ نے یو سی سی کے لیے ایک کمیٹی بنائی اور سروے کر کے ڈیٹا جمع کیا۔ بہار حکومت کے حلف نامے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ مردم شماری بھی نہیں کروا رہی، وہ صرف ذات کا سروے کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی پہل کو مکمل طور پر درست اور قانونی طور پر جائز قرار دیا تھا۔ اس کے بعد تقریباً تین ماہ سے رکے ہوئے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ ذات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ بہار کی کابینہ نے گزشتہ سال لیا تھا۔

کیا کشمیری لکچرر کو ‘انتقاماً’ معطل کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ

0
کیا-کشمیری-لکچرر-کو-‘انتقاماً’-معطل-کیا-گیا؟-بھارتی-سپریم-کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کو بھارت کے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ وہ جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے بات کریں اور یہ معلوم کریں کہ کشمیر کے لکچرر ظہور احمد بھٹ کو آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف بحث کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہونے کے چند دنوں بعد کیوں معطل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا معطلی کا تعلق لکچرر کی عدالت میں پیشی سے ہے اور اشارہ دیا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو اسے منظور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس اقدام کو "انتقام” کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔

ظہور احمد بھٹ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی اس بنچ کے سامنے پیش ہوئے تھے جو جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کررہی ہے۔ وہ سری نگر کے جواہر نگر میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں پولیٹکل سائنس کے سینیئر لکچرر اور قانون کی ڈگری یافتہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ دفعہ 370 کو ختم کرنے کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سربراہ ہیں۔ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے دو دن بعد جمعے کو جموں و کشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھٹ کو جموں و کشمیر سول سروس ریگولیشنز، جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز کنڈکٹ رولز اور جموں و کشمیر لیو رولز کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ملازمت سے فوری طورپر معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔

سیینئر وکیل کپل سبل نے اس نوٹس کو سپریم کورٹ کے علم میں لاتے ہوئے کہا، "جو استاذ یہاں آئے تھے اور چند منٹ کے لیے اپنے دلائل پیش کیے انہیں 25 اگست کو عہدے سے معطل کردیا گیا۔ حالانکہ انہوں نے دو دن کی باضابطہ چھٹی لی تھی اور پھر واپس چلے گئے تھے لیکن انہیں معطل کردیا گیا۔”

اس پر چیف جسٹس چندر چوڑ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو اس معاملے کو دیکھنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا،” مسٹر اٹارنی جنرل دیکھئے یہ کیا ہوا ہے۔ کوئی شخص عدالت میں حاضر ہوا تھا اور اب اسے معطل کردیا گیا… آپ لیفٹننٹ گورنر سے بات کریں۔”

چیف جسٹس چندر چوڑ نے مزید کہا،” اگر کچھ اور ہے تو الگ بات ہے لیکن عدالت میں حاضر ہونے اور اس کے فوراً بعد معطل کردیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ سالسٹر جنرل توشار مہتا نے اس پر کہا کہ معطلی کی وجہ کچھ اور تھی۔ لیکن جب جسٹس ایس کے کول نے اس معطلی کے وقت کی طرف اشارہ کیا تو اعلیٰ حکومتی وکیل نے تسلیم کیا کہ "یہ یقینی طورپر مناسب نہیں تھا۔”

پانچ رکنی آئینی بنچ میں شامل ایک اور جج جسٹس بی آر گوائی کا کہنا تھا کہ حکومت کی کارروائی انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا "اتنی آزادی کا مطلب ہی آخر کیا ہے….اگر صرف عدالت میں حاضر ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو واقعتاً یہ انتقام ہے۔”

خیال رہے کہ ظہور احمد بھٹ نے ذاتی نوعیت میں عدالت میں حاضر ہوکر پانچ منٹ کی اپنے دلائل پیش کیے تھے۔انہو ں نے عدالت کو بتایا تھا کہ اگست 2019 کے بعد سے، جب بھارت سرکار نے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا تھا، جموں و کشمیر میں طلبہ کو بھارتی سیاست کے بارے میں پڑھانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ظہور احمد بھٹ کا کہنا تھا،” طلبہ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب بھی جمہوریت ہیں؟”

انہوں نے دفعہ 370 کو ختم کرنے کے خلاف اپنے دلائل میں کہا تھا کہ یہ اقدام”بھارتی آئین کی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام وفاقیت اور آئین کی بالادستی کے بھی خلاف تھا۔ "

سماجی کارکن ڈاکٹر علیم اللہ خان کو اتر پردیش کانگریس کا ترجمان بنایا گیا

0
سماجی-کارکن-ڈاکٹر-علیم-اللہ-خان-کو-اتر-پردیش-کانگریس-کا-ترجمان-بنایا-گیا

نئی دہلی: اجے رائے کو اتر پردیش کانگریس کمیٹی کی کمان ملنے کے بعد پارٹی میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کانگریس نے اتوار کو ریاستی ترجمانوں اور میڈیا پینلسٹ کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست کے مطابق 15 ریاستی ترجمان، 17 میڈیا پینلسٹ بنائے گئے ہیں۔ معروف صحافی اور مصنف ڈاکٹر علیم اللہ خان کو ریاستی ترجمانوں کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر علیم اللہ کو سماجی تحریکوں کا ایک بڑا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ ظاہر ہے کہ کانگریس پارٹی دانشوروں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے لوگوں کو پارٹی میں جگہ دے کر لوک سبھا الیکشن کے لیے اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔

ڈاکٹر علیم اللہ خان زمانہ طالب علمی سے ہی کانگریس کے نظریہ پر کام کر رہے ہیں۔ طالب علمی کے دوران، ملک کی باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک جے این یو میں این ایس یو آئی سے نائب صدر کے عہدے پر انتخاب لڑے اور یہ پہلا موقع تھا کہ این ایس یو آئی کے کسی امیدوار کو 1000 سے زیادہ ووٹ ملے۔ اس کے بعد انہوں نے کئی سال تک تنظیم کی خدمت کی، اور این ایس یو آئی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

ڈاکٹر علیم اللہ خان نے اعلی کمان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سابق صدر راہل گاندھی، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، ریاستی صدر اجے رائے، قومی سکریٹری توقیر عالم اور ستیہ نارائن پٹیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک اور ریاست اتر پردیش میں جس طرح کے حالات ہیں، نفرت کی سیاست جس طرح پروان چڑھ رہی ہے، ان حالات میں ہماری ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ کوشش کی جائے گی کہ ہم ایک مثبت کردار پیدا کر سکیں اور اعلی قیادت کے اعتماد پر پورا اتر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کی مشترکہ وراثت کی حفاظت کی ہے۔ سماج کے ہر طبقے کے لیے ترقی کا ایک ماڈل دیا ہے، آج وہ میراث بکھر رہی ہے، اس وراثت کو بچانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس نفرت کی سیاست کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر علیم اللہ خان نے جے این یو، این ایس یو آئی میں 3 سال جنرل سکریٹری اور 2 سال نائب صدر کی ذمہ داری کے علاوہ ڈوسو الیکشن میں فعال کردار ادا کیا اور ملک بھر میں چھوٹی بڑی طلبا تحریکوں میں مضبوط کردار ادا کیا ہے۔ وہ گجرات کے سانحہ کے بعد ملک گیر تحریک میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر علیم اللہ خان این آر سی تحریک سے تمام پسماندہ لوگوں کی ایک مضبوط آواز بن چکے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر علیم اللہ خاں مشہور کتاب ’باعزت بری‘ کے مصنف ہیں۔

کلاس میں تھپڑ کھانے والے مسلم لڑکے کی شناخت ظاہر کرنے کے الزام میں محمد زبیر پر ایف آئی آر

0
کلاس-میں-تھپڑ-کھانے-والے-مسلم-لڑکے-کی-شناخت-ظاہر-کرنے-کے-الزام-میں-محمد-زبیر-پر-ایف-آئی-آر

اتر پردیش پولیس نے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف ایک سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس پوسٹ میں مبینہ طور پر ایک سات سالہ مسلم لڑکے کی شناخت ظاہر کی گئی ہے جسے اس کے استاد کے حکم پر اس کے ہم جماعتوں نے تھپڑ مارا تھا۔ مظفر نگر پولیس نے پیر کو وشنودت نامی ایک شخص کی شکایت پر جوینائل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 74 کے تحت یہ مقدمہ درج کیا۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص متاثرہ بچے یا کسی جرم کے گواہ کی شناخت ظاہر کرتا ہے تو یہ قابل سزا ہے۔ قصوروار ٹھہرائے جانے والوں کو 6 ماہ قید یا 2 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ (25 اگست) کو ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں خاتون ٹیچر نے ایک مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کے لیے دوسرے مذہب سے جڑے ایک دیگر طالب علم کو ہدایت دی۔ جب یہ ویڈیو تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی تو نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے خبردار کیا تھا کہ ایسی ویڈیو کو شیئر نہ کریں۔ این سی پی سی آر کے سربراہ پریانک قانونگو نے لوگوں سے کہا کہ ’’بچوں کی شناخت ظاہر کر کے جرم کا حصہ نہ بنیں۔‘‘

اس پورے معاملے میں محمد زبیر نے پیر کو میڈیا پلیٹ فارم ’اسکرول‘ کو بتایا کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس ویڈیو کو کئی دیگر لوگوں نے بھی شیئر کیا تھا، لیکن ایف آئی آر میں صرف میرا نام ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ پولیس نے ابھی تک اس معاملے میں ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ مسلم طالب علم کی پٹائی کا واقعہ مظفر نگر کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا جس کی مالکن ترپتی تیاگی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی ٹیچر مسلم طالب علم کے ہم جماعت سے اسے مارنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔ ویڈیو میں ترپتی تیاگی کہہ رہی ہیں ’’اس کی کمر پر مارو… اس کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے، اسے کمر پر مارو۔‘‘ جب غیر مسلم طلبا اپنے استاد کی ہدایت پر عمل کرتا ہے تو زوردار تھپڑ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ایک موقع پر وہ کہتی ہیں ’’تم زور سے مارتے کیوں نہیں؟ کس کی باری ہے؟‘‘ محترمہ تیاگی کو بچوں کو اکساتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

بہرحال، ترپتی تیاگی پر تعزیرات ہند کی دفعہ 323 اور 504 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے خلاف مقدمہ ناقابل شناخت الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پولیس اسے بغیر وارنٹ کے گرفتار نہیں کر سکتی۔ اس میں پولیس کو بھی تفتیش شروع کرنے کے لیے عدالت سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ تاہم، ترپتی تیاگی نے مسلم لڑکے کو نشانہ بنائے جانے پر مشتمل وائرل ویڈیو کے بعد عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے اسے ایک معمولی معاملہ قرار دیا ہے جسے غیر ضروری طور پر بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ اس واقعہ میں فرقہ واریت کا عنصر موجود ہے۔

متاثرہ طالب علم کے والد نے اس واقعہ کے بارے میں پولیس کو بتایا کہ لڑکے کی تذلیل کی گئی اور گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ٹیچر نے دیگر طلبا سے میرے بچے کو بار بار پٹوایا، میرے بیٹے کو ایک یا دو گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہ خوفزدہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی والد نے جانکاری دی کہ بچے کو میڈیکل چیک اپ کے لیے میرٹھ لے جایا گیا تھا اور اب وہ بہتر ہے۔

چندریان-3: سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھ رہا پرگیان رووَر، 4 میٹر کا گڈھا دیکھا تو فوراً بدل لیا راستہ!

0
چندریان-3:-سمجھداری-کے-ساتھ-آگے-بڑھ-رہا-پرگیان-رووَر،-4-میٹر-کا-گڈھا-دیکھا-تو-فوراً-بدل-لیا-راستہ!

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) لگاتار اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے چندریان-3 سے متعلق نئی نئی جانکاریاں دے رہا ہے۔ پیر کے روز اس نے ایک نئی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 27 اگست کو چندریان-3 کے رووَر پرگیان کے سامنے 4 میٹر چوڑا ایک کریٹر (گڈھا) آ گیا۔ یہ گڈھا رووَر کے پاس سے تقریباً 3 میٹر آگے تھا۔ ایسے میں رووَر کا راستہ بدلنے کا کمانڈ دیا گیا۔ اب یہ محفوظ طریقے سے ایک نئے راستے پر بڑھ رہا ہے۔ یعنی کمانڈ ملتے ہی رووَر پرگیان نے فوراً اپنا راستہ بدل لیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب پرگیان نے اپنے قریب کریٹر کو دیکھ کر راستہ بدلا ہے۔ اس سے پہلے رووَر تقریباً 100 ملی میٹر کی گہرائی والے ایک چھوٹے کریٹر سے گزرا تھا۔ چاند پر رووَر کے آپریشن سنٹی میٹر-آٹونامس ہے۔ اسے چلانے کے لیے گراؤنڈ اسٹیشنوں کو کمانڈ کو اَپ لنک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ رووَر کے راستے کی پلاننگ کے لیے رووَر کے آن بورڈ نیویگیشن کیمرہ ڈاٹا کو گراؤنڈ پر ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے۔ پھر گراؤنڈ اور میکانزم ٹیم طے کرتی ہے کہ کون سا راستہ لینا ہے۔ اس کے بعد رووَر کو راستے کی جانکاری دینے کے لیے کمانڈ کو اَپ لنک کیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح انسان کی آنکھیں ایک خاص دوری تک ہی دیکھ سکتی ہیں، ویسے ہی رووَر کے بھی حدود ہیں۔ رووَر کا نیویگیشن کیمرہ صرف 5 میٹر تک کی ہی تصویر بھیج سکتا ہے۔ ایسے میں ایک بار کمانڈ دینے پر یہ زیادہ سے زیادہ 5 میٹر کی دوری طے کر سکتا ہے۔

انسانیت شرمسار! مدھیہ پردیش میں دلت نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل، ظالموں نے اس کی ماں کو کیا برہنہ

0
انسانیت-شرمسار!-مدھیہ-پردیش-میں-دلت-نوجوان-کا-پیٹ-پیٹ-کر-قتل،-ظالموں-نے-اس-کی-ماں-کو-کیا-برہنہ

مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں دلتوں کے خلاف استحصال کے معاملے لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔ انسانیت کو شرمسار کر دینے والا تازہ معاملہ ساگر ضلع میں پیش آیا ہے۔ یہاں سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ نے ایک دلت کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا اور ظالموں نے اس کی ماں کو برہنہ کر کے علاقے میں گھمایا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہلوک دلت کی بہن اور دلت خاتون کی بیٹی نے 2019 کے ایک معاملے میں سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا، اسی بات سے ناراض بھیڑ نے ان کے گھر پر حملہ بول دیا۔

بھیڑ نے مہلوک دلت کی بہن کو پیٹا اور جب اس کی ماں نے اسے حملہ آوروں سے بچانے کی کوشش کی تو انھیں بے لباس کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس معاملے کے 9 کلیدی ملزمین کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین کے خلاف قتل کا الزام اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو اوئیکے کے مطابق اس معاملے میں 8 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مہلوک دلت نوجوان کی ماں نے دل دہلا دینے والے حادثہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’حملہ آوروں نے بیٹے کو اتنا پیٹا کہ اس کی موت ہو گئی۔ وہ بچ نہیں سکا۔ مجھے برہنہ کر دیا گیا۔ خبر ملنے کے بعد پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور جسم کو ڈھانکنے کے لیے ایک تولیہ دیا۔‘‘ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ وہاں تولیہ سے اپنا جسم چھپائے کھڑی رہی جب تک کہ ساڑی نہیں دی گئی۔ دلت خاتون کا کہنا ہے کہ بھیڑ نے اس کے گھر میں خوب توڑ پھوڑ کی، یہاں تک کہ حملہ آوروں نے پختہ چھت کو بھی توڑ دیا۔ اس کے بعد حملہ آور اس کے دو دیگر بیٹوں کی تلاش میں دوسرے گھر میں گھس گئے۔

مہلوک دلت نوجوان کی چچی نے بتایا کہ کچھ لوگ ان کے گھر میں بھی گھس گئے اور ان کے شوہر اور بچوں کو دھمکی دی۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آور میرے بچوں اور شوہر کا بھی قتل کرنے پر آمادہ تھے۔ حملہ آور ہمارے گھر میں گھسے اور فریز چیک کیا۔ ہم بہت ڈر گئے تھے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔

پولیس کے مطابق 2019 میں متاثرہ کی بہن نے دھمکی دینے اور پیٹنے کے الزام میں چار لوگوں کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔ اس معاملے میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کیس عدالت میں زیر التوا ہے۔ حملہ آور اس تعلق سے سمجھوتہ کے لیے دباؤ بنا رہے تھے۔ جب متاثرہ کی بہن سمجھوتہ کے لیے تیار نہیں ہوئی تو ان کے گھر پر حملہ کر دیا گیا۔

بہرحال، واقعہ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ گاؤں میں پولیس فورس تعینات ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ضلع کلکٹر کے ذریعہ سرکاری منصوبوں کے تحت مدد کی یقین دہانی اور بدمعاشوں کی گرفتاری کی خبر دیے جانے کے بعد متاثرہ کنبہ نے مہلوک نوجوان کی آخری رسومات ادا کی۔

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ میں ایشا، آکاش اور اننت کو بنایا گیا نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، نیتا امبانی کا استعفیٰ منظور

0
ریلائنس-انڈسٹریز-لمیٹڈ-میں-ایشا،-آکاش-اور-اننت-کو-بنایا-گیا-نان-ایگزیکٹیو-ڈائریکٹر،-نیتا-امبانی-کا-استعفیٰ-منظور

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) میں آج کچھ انتہائی اہم فیصلے کیے گئے۔ ایشا، آکاش اور اننت امبانی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔ شیئر ہولڈرس کی منظوری کے بعد آر آئی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے پیر کے روز یعنی 28 اگست کو مکیش امبانی کے تینوں بچوں کو نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیتا امبانی کے استعفیٰ کو بھی بورڈ نے منظور کر لیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نیتا امبانی ریلائنس فاؤنڈیشن کی فاؤنڈر چیئرپرسن کے کردار میں بنی رہیں گی۔ ریلائنس فاؤنڈر کی چیئرپرسن کے طور پر نیتا امبانی آر آئی ایل بورڈ میٹنگوں میں شامل ہوتی رہیں گی۔ نیتا نے ریلائنس فاؤنڈیشن کو زیادہ وقت دینے کے لیے کمپنی کے بورڈ سے استعفیٰ دیا ہے۔

اس موقع پر مکیش امبانی نے کہا کہ وہ اگلے پانچ سال تک ریلائنس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر بنے رہیں گے۔ امبانی نے بتایا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بیوی کے ساتھ دادا-دادی بننے کا لطف لے رہے ہیں۔ انھوں نے خود کو تین ذمہ داریاں سونپی ہیں- (1) ریلائنس میں اگلی نسل کے سبھی لیڈرس کو تیار کرنا، (2) خاص طور سے آکاش، ایشا اور اننت کی رہنمائی کرنا، (3) پرانے ساتھیوں کے ساتھ کمپنی کے کلچر کو خوشحال کرنا۔

واضح رہے کہ اب تک آکاش، ایشا اور اننت تینوں بچے صرف آپریٹنگ بزنس سطح پر شامل تھے اور کوئی بھی ہندوستان کی سب سے بڑی لسٹیڈ کمپنی کے بورڈ میں نہیں تھے۔ کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج فائلنگ میں کہا کہ ریلائنس کے بورڈ نے تینوں کی تقرری کو منظوری دی ہے۔ گزشتہ سال مکیش امبانی نے اپنے بڑے بیٹے آکاش امبانی کو ریلائنس جیو انفوکام لمیٹڈ کا چیئرمین بنایا تھا۔ ایشا امبانی ریلائنس ریٹیل کو سنبھال رہی ہے اور اننت امبانی نیو انرجی بزنس کو دیکھ رہے ہیں۔

بہرحال، نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کمپنی کے ڈے ٹو ڈے مینجمنٹ میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔ یہ آزاد ایڈوائزر کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ پالیسی میکنگ اور پلاننگ ایکسرسائز میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرس اور مینجمنٹ کے کاموں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی 45ویں اے جی ایم میں مکیش امبانی نے کہا تھا کہ ’’تینوں بچوں کو پوری طرح سے ہمارے بانی ممبران کی ذہنیت وراثت میں ملی ہے۔ انھیں ہمارے سینئر لیڈرس سے ڈیلی بیسس پر مینٹر کیا جاتا ہے۔ میں اور بورڈ آف ڈائریکٹرس بھی مینٹر میں شامل ہیں۔‘‘

نوح میں وی ایچ پی سے منسلک 51 لوگوں نے کیا جلابھشیک، 11 لوگوں نے سخت سیکورٹی کے درمیان نکالی یاترا!

0
نوح-میں-وی-ایچ-پی-سے-منسلک-51-لوگوں-نے-کیا-جلابھشیک،-11-لوگوں-نے-سخت-سیکورٹی-کے-درمیان-نکالی-یاترا!

ہریانہ کے نوح میں وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) لیڈروں کے ذریعہ برج منڈل یاترا نکالنے کی ضد بالآخر پوری ہو ہی گئی، حالانکہ یہ یاترا انتہائی محدود تعداد پر مشتمل وی ایچ پی لیڈران نے نکالی اور ان کے ساتھ سیکورٹی اہلکار بھی رہے تاکہ کسی بھی طرح کا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وی ایچ پی، سروجاتیہ ہندو مہاپنچایت اور بجرنگ دل کی اپیل پر ہندو تنظیم آج دوبارہ برج منڈل یاترا نکالنے پر بضد رہے۔ ہریانہ حکومت اور نوح ضلع انتظامیہ نے اس یاترا کے لیے اجازت نہیں دی تھی، لیکن پیر کی صبح انتظامیہ نے نلہریشور مندر میں جلابھشیک کے لیے سادھو سَنتوں اور وی ایچ پی کے لوگوں کو اجازت دے دی۔

ہندی نیوز پورٹل ’بھاسکر ڈاٹ کام‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوح بائپاس سے پولیس 3 گاڑیوں سے 51 لوگوں کو نلہریشور مندر کے لیے لے کر نکلی۔ انھوں نے پٹودی آشرم کے مہامنڈلیشور سوامی دھرم دیو اور وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار رائے کی قیادت میں جلابھشیک کیا۔ اس کے بعد کچھ لوگ فیروزپور جھرکا اور سنگار پہنچے۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ لوگوں کو یاترا نکالنے کی اجازت دی گئی اور موصولہ اطلاعات کے مطابق سنگار کے رادھاکرشن مندر میں جلابھشیک کے بعد یاترا کا اختتام کر دیا جائے گا۔

اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ہریانہ کے نوح میں برج منڈل یاترا کے دوران ڈیوٹی پر تعینات سَب انسپکٹر حاکم الدین کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔ حاکم الدین نوح میں بڑکلی چوک پر تعینات تھے۔ ان کی ڈیوٹی آر اے ایف ٹیم کے ساتھ لگائی گئی تھی۔ حاکم نگینہ تھانہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او کے عہدہ پر تعینات تھے۔

بہرحال، وی ایچ پی کے ذریعہ برج منڈل یاترا نکالے جانے کی ضد کو دیکھتے ہوئے نہ صرف مقامی انتظامیہ نے سخت سیکورٹی کا انتظام کیا تھا، بلکہ مسلم طبقہ نے بھی بہت احتیاط کیا۔ اتوار کو ہی ضلع کے سبھی گاؤں میں مسجدوں سے اناؤنسمنٹ کرائی گئی کہ پیر کو یاترا کے پیش نظر مسلم طبقہ کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ گاؤں میں کسی بھی جگہ 4 سے زیادہ لوگوں کے اکٹھا نہ ہونے اور لوگوں کے گاؤں سے باہر نہ جانے کی اپیل کی بھی کی گئی تھی۔