جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 160

جئے شاہ کی کمپنی کی بنی نینو یوریا  کی بوتل کوزبردستی کسانوں پر تھوپ رہی ہے: بھانبھو

0
جئے-شاہ-کی-کمپنی-کی-بنی-نینو-یوریا- کی-بوتل-کوزبردستی-کسانوں-پر-تھوپ-رہی-ہے:-بھانبھو

عام آدمی پارٹی (عآپ) کے کسانوں کی شاخ کے ریاستی صدر کلدیپ بھانبھو نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کسانوں کویوریا کھاد کے تین تھیلوں کے ساتھ گجرات میں بنی نینو یوریا کی بوتل زبردستی تھوپ کر کسانوں کو لوٹنے کا کام کررہی ہے ۔ اس نینو یوریا کمپنی کے مالک مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے جئے شاہ ہیں، اس لیے ریاستی حکومت اسے بیچنا اپنی مجبوری سمجھ رہی ہے۔

کلدیپ بھانبو نے نینو یوریا کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے۔ گزشتہ سیزن میں ہریانہ میں چھ لاکھ 93 ہزار میٹرک ٹن یوریا استعمال کیا گیا تھا جبکہ دو لاکھ 53 ہزار میٹرک ٹن ڈی اے پی کی کھپت ہوئی تھی جس کے ساتھ نینو یوریا تقسیم کیا گیا تھا۔ اب حکومت نینو ڈی اے پی بھی اسی خطوط پر لا رہی ہے۔

اتوار کو سرسا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر بھانبھو نے کہا کہ ہریانہ ودھان سبھا کا مانسون سیشن چل رہا ہے، اس لیے اس معاملے کو حکومت کے سامنے اٹھانا ضروری ہے، تاکہ کسانوں کے ساتھ ہورہی کھلی لوٹ مار کو روکا جا سکے۔

مسٹر بھانبھو نے کہا کہ اگر اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے کو قانون ساز اسمبلی کے فلور پر نہیں رکھا تو عام آدمی پارٹی  اسمبلی کے سامنے احتجاج کرے گی۔ افکو کسان کو زبردستی نینو یوریا کی بوتل کے ساتھ تین یوریا کے تھیلوں کے ساتھ فروخت کر رہا ہے۔ عآ پ  گاؤں گاؤں جا کر کسانوں کو اس بارے میں آگاہ کریں گے۔ کسان دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کسانوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ کبھی تین زرعی قوانین لا کر، کبھی انشورنس کی رقم کے نام پر، کبھی فصلوں کی قیمت کے حوالے سے اور اب نینو یوریا کے نام پر۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے نینو کھادوں کی لوٹ مار کے اس کھیل کو روکنے کی کوشش کی تو کبھی صدر راج لگانے کی دھمکیاں دے کر اور کبھی دوسری دھمکیاں دے کر ڈرایا جا رہا ہے۔

عآپ لیڈر نے بتایا کہ سال 2018 سے ریاستی حکومت کسانوں کو ٹیوب ویل بجلی کنکشن نہیں دے رہی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح گرنے پر کسان ٹیوب ویل کو کھیت کے دوسرے حصے میں شفٹ کرے تو اسی کنکشن کو شفٹ کرنے کے نام پر بجلی کارپوریشن جعلی تخمینہ لگا کر کسانوں کو مالی طور پر ہراساں کر رہی ہے۔ الیکٹرسٹی کارپوریشن کی جانب سے سولر انرجی کمپنیوں کی ملی بھگت سے بجلی کے بجائے کسانوں سے زبردستی سولر انرجی کے کنکشن لگائے جا رہے ہیں۔ شمسی توانائی کی وجہ سے ٹیوب ویل گہرے پانی کی سطح سے پانی اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔ بھانبھو نے کہا کہ کسانوں کے تئیں حکومت کی نیت اچھی نہیں ہے۔

خاتون نےکیب ڈرائیور کے بعد اب بیوٹی پارلر کو لگایا چونا

0
خاتون-نےکیب-ڈرائیور-کے-بعد-اب-بیوٹی-پارلر-کو-لگایا-چونا

گزشتہ دنوں جیوتی دلال نامی خاتون نے گروگرام میں سڑک پر زبردست ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ جیوتی دلال کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں وہ گروگرام کے ہڈاسٹی سنٹر کے قریب ایک ٹیکسی ڈرائیور سے بحث کرتی نظر آ رہی تھیں۔ یہی نہیں اس دوران ڈرائیور کو چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ درج کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ اب ایک بار پھر جیوتی نے بیوٹی پارلر کو اپنا شکار بنایا اور ان کی خدمات کا ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ نیوز پر شائع خبر کے مطابق یہ واقعہ گروگرام کے ایک بیوٹی پارلر میں پیش آیا، جسے خطے کے بہترین لگژری سیلونز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ جیوتی دلال پر اس بیوٹی پارلر سے 20 ہزار روپے ادا نہ  کرنے کا الزام ہے۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جیوتی دلال کو بیوٹی پارلر میں ادائیگی میں تاخیر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد وہ ایک روپیہ دیے بغیر باہر نکل گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ خاتون دوپہر 1 بجے گروگرام کے اس بیوٹی پارلر میں گئی اور رات 10 بجے یعنی کل 9 گھنٹے تک اپنی سروس لی۔

بتایا جا رہا ہے کہ پہلے تو جیوتی دلال نے کہا کہ وہ انہیں 11 بجے تک ادائیگی کر دے گی، لیکن بعد میں انہوں نے وہاں ہنگامہ شروع کر دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جب پارلر کے عملے نے مدد کے لیے پولیس کو بلایا تو خاتون نے خود کو گروگرام کے ایک ہائی پروفائل شخص کی گرل فرینڈ بتانا شروع کر دیا۔ گزشتہ دنوں اس خاتون نے پولیس کی موجودگی میں گروگرام کی سڑکوں پر ہنگامہ مچا دیا تھا۔ یہی نہیں ویڈیو میں وہ پولیس کو دھمکیاں بھی دیتی نظر آرہی ہے۔

فیڈ ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا اشارہ مارکیٹ کو متاثر کرے گا

0
فیڈ-ریزرو-کی-جانب-سے-شرح-سود-میں-اضافے-کا-اشارہ-مارکیٹ-کو-متاثر-کرے-گا

فیڈ ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں جیکسن ہول میٹنگ میں افراط زر کی بلند شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافے کا اشارہ دیا، جو گزشتہ ہفتے عالمی مارکیٹ کے کمزور رجحان کی وجہ سے گرا تھا۔

گزشتہ ہفتے بی ایس ای سینسیکس ہفتے کے آخر میں 62.15 پوائنٹس یا 0.1 فیصد کھو کر 64886.51 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 44.35 پوائنٹس یا 0.22 فیصد گر کر 19265.80 پوائنٹس پر آگیا۔

اس کے ساتھ ہی زیر جائزہ ہفتے میں بڑی کمپنیوں کےْ برعکس بی ایس ای کی درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں زبردست خریداری ہوئی، جس نے مارکیٹ کو مزید گرنے سے بچا لیا۔ گزشتہ ہفتے مڈ کیپ ہفتے کے آخر میں 452.59 پوائنٹس، یا 1.5 فیصد بڑھ کر 30717.91 پوائنٹس پر اور اسمال کیپ 772.63 پوائنٹس یا 2.2 فیصد چھلانگ لگا کر 36055.96 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی مارکیٹ خسارے کے ایک اور ہفتے کے ساتھ ختم ہوئی کیونکہ سرمایہ کار جیکسن ہول میٹنگ کے نتائج پر محتاط ہو گئے۔ سرمایہ کار شرح سود میں اضافے کے مستقبل کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے فیڈ کے چیئرمین مسٹر پاول کے بیان کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جمعہ کو دیر شام کی میٹنگ کے بعد مسٹر پاول نے کہا کہ مہنگائی کی بلند شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں مزید احتیاط کے ساتھ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگلے ہفتے ان کے اس بیان کا براہ راست اثر مارکیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی حالیہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) میٹنگ کے منٹس نے بلند گھریلو افراط زر کے درمیان ہدف کی حد کے اندر افراط زر کا انتظام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ تاہم، مہنگائی کی موجودہ بلند سطحوں کی عارضی نوعیت کی وجہ سے پالیسی کی شرحوں میں فوری اضافے کی توقعات کم ہیں۔ یہ تمام عوامل اگلے ہفتے مارکیٹ کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

کیا شرد پوار کی وجہ سے کوشیاری نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا؟

0
کیا-شرد-پوار-کی-وجہ-سے-کوشیاری-نے-گورنر-کے-عہدے-سے-استعفیٰ-دیا-تھا؟

بھگت سنگھ کوشیاری، جنہیں  بھگت دا کے نام سے جانا جاتا ہے، مہاراشٹر کے گورنر کے طور پر کافی سرخیوں میں رہے۔ صبح سویرے دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار کی حلف برداری کی تقریب ہو یا ادھو ٹھاکرے کی حکومت کو فلور ٹیسٹ کرانے کی ہدایت، اس طرح کے بہت سے فیصلے تھے جنہوں نے ان پر سوالات اٹھائے۔

کوشیاری نے اس سال جنوری میں گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے استعفیٰ کے حوالے سے بھی کئی چرچے ہیں۔ اب بھگت سنگھ کوشیاری نے راج بھون کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

بھگت سنگھ کوشیاری نے انڈیا ٹوڈے کے اسٹیٹ آف دی اسٹیٹ – اتراکھنڈ فرسٹ پروگرام میں بہت سے سوالوں کے جواب دیے۔ اس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ استعفیٰ کی وجہ این سی پی رہنما شرد پوار کا دباؤ تھا۔ اس پر کوشیاری نے کہا کہ شرد پوار جی اس ملک کے سینئر رہنماؤں  میں سے ایک ہیں، جن کا آج بھی سبھی احترام کرتے ہیں۔

ویسے انہوں نے دباؤ کی بات سے انکار کرتے ہوئے کوشیاری نے کہا کہ شرد پوار نے ملاقات کے دوران ان سے اپنے دل کی بات کی تھی۔ ایسا بھی  کچھ  نہیں لگتا کہ وہ  سیاست میں اندر کچھ کہتے ہیں باہر کچھ کہتے ہیں۔

اجیت پوار کے سوال پر کوشیاری نے تھوڑا طنز کیا اور ان کی تعریف بھی کی۔ کوشیاری نے کہا، اجیت پوار مہاراشٹر میں ایک سلجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ بھگت سنگھ کوشیاری، جو اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ تھے، نے اجیت پوار کا نام لیے بغیر اپنی ہی ریاست کے سابق وزیراعلیٰ سے موازنہ کیا اور کہا کہ ہماری ریاست میں ایک بڑا لیڈر ہے، چاہے وہ کتنی ہی بار ہارے لیکن  وہ ہار  نہیں مانتے۔ اجیت پوار بھی ایسے ہی شخص ہیں، جب بھی آپ ان سے ڈپٹی سی ایم بننے کے لیے کہتے ہیں، وہ تیار ہوتے ہیں۔ اس لیے کبھی کبھی ان پر ترس بھی آتا ہے۔

دھان کی کاشت میں انقلابی تبدیلی، باسمتی کی برآمد کے امکانات بڑھے

0
دھان-کی-کاشت-میں-انقلابی-تبدیلی،-باسمتی-کی-برآمد-کے-امکانات-بڑھے

ہندوستانی زرعی سائنسدانوں نے باسمتی دھان کی کاشت میں انقلابی تبدیلیاں لا کر نہ صرف اس کی لاگت کو کم کیا ہے بلکہ اسے براہ راست بویا جاتا ہے اور اس میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت کی خصوصیات بھی ہیں۔

انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے باسمتی چاول کی یہ نئی قسم تیار کی ہے۔ اس کی کاشت براہ راست بوائی سے کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مزدوری اور پانی کی بہت بچت ہوتی ہے۔ اس سے دنیا کو باسمتی چاول کی برآمد میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور معروف زرعی سائنسدان اشوک کمار سنگھ نے بتایا کہ پوسا 1509 باسمتی کی قسم تیار کر کے پوسا باسمتی 1985 قسم کو براہ راست بوائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں اینٹی اسکورچنگ اور اینٹی ویڈنگ خصوصیات بھی ہیں۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ پنجاب، ہریانہ، مغربی اتر پردیش، ہماچل پردیش، جموں کشمیر اور دہلی میں باسمتی دھان کی کاشت کے لیے جن علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں 1985 کی اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں۔ کسان اس کی کاشت میں 4000 روپے فی ایکڑ بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ پانی کی 35 فیصد بچت ہوتی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی 35 فیصد کمی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ باسمتی کی اس نئی قسم کی پیداوار 65 کوئنٹل فی ہیکٹر تک لی جا سکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایک کلو دھان کی پیداوار کے لیے 3000 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دھان براہ راست بویا جاتا ہے، اس لیے اس کی نرسری نہیں لگائی جاتی اور نہ ہی اس کی پیوند کاری ہوتی ہے، جس سے مزدوری کی لاگت کی بچت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ براہ راست بوائی کی وجہ سے اس کی کاشت میں جڑی بوٹیوں کا زیادہ مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ جڑی بوٹیوں کے خلاف ادویات کے چھڑکاؤ سے حل کیا جاتا ہے۔ اس سپرے سے دھان پر کوئی منفی اثر نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دھان کی وافر پیداوار حاصل کرنے کے لیے فی ایکڑ تین تھیلے یوریا، ایک تھیلی ڈی اے پی اور تیس کلو پوٹاش کی ضرورت ہوتی ہے۔

راجستھان: کانگریس حکومت نے ایک اور وعدہ کیا پورا، 500 روپے میں گیس سلنڈر دے کر عوام کو دی راحت

0
راجستھان:-کانگریس-حکومت-نے-ایک-اور-وعدہ-کیا-پورا،-500-روپے-میں-گیس-سلنڈر-دے-کر-عوام-کو-دی-راحت

جے پور: راجستھان میں کانگریس کی اشوک گہلوت حکومت نے 500 روپے میں گیس سلنڈر فراہم کر کے عوام کو مہنگائی سے بڑی راحت دی ہے۔ راجستھان ایسا کرنے والی ملک کی واحد ریاست ہے۔ 500 روپے کی ایل پی جی اسکیم صرف ان خاندانوں کے لیے ہے جو راجستھان میں بی پی ایل زمرے میں ہیں یا مرکز کی اجولا اسکیم کے تحت ایل پی جی گیس سلنڈر لیتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس وقت راجستھان میں ایک سلنڈر تقریباً 1050 روپے میں دستیاب ہے۔ اس اسکیم سے 70 لاکھ صارفین کو فائدہ پہنچے گا اور حکومت اس کے لئے 3300 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ حکومت ہر سال 500 روپے کے حساب سے 12 سلنڈر فراہم کرے گی۔

حکام کے مطابق راجستھان میں 70 لاکھ سے زیادہ صارفین کو اجولا اسکیم کے تحت 850 روپے کا سلنڈر ملتا ہے۔ اجولا کے صارفین کو مرکز سے 200 روپے کی سبسڈی ملتی ہے۔ راجستھان میں بی پی ایل زمرے میں 6 لاکھ صارفین رجسٹرڈ ہیں۔ اس طرح راجستھان میں بی پی ایل زمرے کے 6 لاکھ سے زیادہ صارفین کو سلنڈر 1050 روپے میں ملتا ہے۔ انہیں اجولا اسکیم کے تحت 200 روپے کی سبسڈی بھی نہیں ملتی۔

راجستھان کے فوڈ ڈپارٹمنٹ اور مرکز کے پیٹرولیم پلاننگ اینڈ انالیسس سیل کا خیال ہے کہ راجستھان میں اوسطاً 3 سے 4 افراد پر مشتمل ایک خاندان ایک سلنڈر استعمال کرتا ہے۔ ایسے میں جب راجستھان حکومت 70 لاکھ سے زیادہ صارفین کو سستے سلنڈر دے گی تو اس سے تقریباً 2.25 کروڑ لوگوں کو براہ راست فائدہ ہوگگا۔ اس سے پہلے ریاستی وزیر پرتاپ سنگھ کھچاریاواس نے کہا کہ حکومت ان تمام لوگوں کو فائدہ دینا چاہتی ہے جن کو اجولا کے نام پر ٹھگا گیا ہے!

مظفرنگر: مسلم بچے کی پٹائی معاملہ میں محکمہ تعلیم کی کارروائی، اسکول بند کرنے کا حکم جاری!

0
مظفرنگر:-مسلم-بچے-کی-پٹائی-معاملہ-میں-محکمہ-تعلیم-کی-کارروائی،-اسکول-بند-کرنے-کا-حکم-جاری!

مظفر نگر: ہوم ورک نہ کرنے پر مسلم بچے کی کلاس کے دوسرے طلبا سے پٹائی کرنے کے معاملہ میں محکمہ تعلیم نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسکول (نیہا پبلک اسکول) سے جواب طلب کیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق منصورپور کے اسکول میں طالب علم کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اس حوالہ سے بھی نوٹس بھیج دیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اسکول کے معیار کے حوالے سے کئی نکات پر جواب طلب کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول بند کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ بی ایس اے نے کہا کہ اسکول نہیں چلایا جاسکتا، بلاک ایجوکیشن آفیسر اسکول کے طلبہ کو دوسرے اسکول میں داخل کرائے گا۔

خیال رہے کہ منصورپور کے اسکول میں مسلم بچے کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ پولیس نے اس معاملے پر ملزم خاتون ٹیچر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کھباپور گاؤں میں واقع اسکول کی ٹیچر نے ہوم ورک نہ کرنے پر کلاس کے دیگر طلبا سے ایک طالب علم کی پٹائی کرانے اور اس کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کرنے کے معاملہ میں بچے کے والد نے تحریر دی ہے۔

وہیں، سوشل میڈیا پر ہنگاممہ آرائی کے بعد ٹیچر ترپتا تیاگی نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی۔ اس نے کہا ’’میرا مقصد کسی کے مذہبی اور سماجی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ ویڈیو کو کاٹ کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔ میں معذور ہوں اس لیے بچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔‘‘

راہل گاندھی کی ان کہی کہانی

0
راہل-گاندھی-کی-ان-کہی-کہانی

گزشتہ دنوں سینئر صحافی نیرجا چودھری کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے ”ہاؤ پرائم منسٹرس ڈیسائڈ“۔ یعنی وزرائے اعظم کیسے فیصلہ کرتے ہیں۔ نیرجا چودھری ایک غیر جانبدار صحافی، تجزیہ کار اور مبصر ہیں۔ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور انھیں متعدد حکومتی و سیاسی فیصلوں کو بذات خود دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں چھ وزرائے اعظم کے کام کے طریقوں اور فیصلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مذکورہ کتاب میں بیان کر دیا۔ یہ چھ وزرائے اعظم ہیں: اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، نرسمہا راؤ، اٹل بہاری واجپئی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ۔

انھوں نے چھ اہم تاریخی فیصلوں کی روشنی میں ان وزرائے اعظم کے کاموں کا جائزہ لیا ہے۔ یہ فیصلے ہیں: 1977 میں شرمناک شکست کے بعد اندرا گاندھی کے ذریعے 1979 میں جنتا پارٹی کو توڑنے اور دوبارہ اقتدار میں واپسی کے لیے اختیار کردہ حکمت عملی۔ راجیو گاندھی کے ذریعے شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنا۔ اپنی حکومت بچانے کی خاطر وی پی سنگھ کی جانب سے منڈل کمیشن کا نفاذ۔ نرسمہا راؤ کا وہ فیصلہ جس کے نتیجے میں بابری مسجد کا انہدام ہوا۔ تیزی سے تغیر پذیر سیاسی صورت حال میں اٹل بہاری واجپئی کا نیوکلیئر دھماکے کا فیصلہ اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کا امریکہ کے ساتھ تاریخی نیوکلیائی معاہدہ۔

نیرجا چودھری نے اپنی کتاب میں سونیا گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم کے منصب کو اختیار نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بھی لکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں بلکہ شاید کوئی نہیں جانتا۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا اور اس سے راہل گاندھی کا کیا تعلق ہے اس پر بڑے جذباتی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ سینئر صحافی آشوتوش نے اپنے ایک مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ راہل گاندھی پختہ عزم و ارادے کے مالک ہیں اور وہ جو فیصلہ کر لیتے ہیں اس کو کوئی بھی نہیں بدلوا سکتا۔

نیرجا چودھری ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنائے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ سونیا گاندھی سوفے پر بیٹھی تھیں۔ پرینکا گاندھی اور من موہن سنگھ بھی تھے۔ اتنے میں سمن دوبے وہاں پہنچتے ہیں۔ سونیا گاندھی پریشان لگ رہی تھیں۔ دریں اثنا راہل گاندھی داخل ہوتے ہیں اور ہم سب کے سامنے اپنی ماں سے کہتے ہیں کہ میں آپ کو وزیر اعظم نہیں بننے دوں گا۔ میرے والد کو قتل کیا گیا، میری دادی کو قتل کیا گیا، چھ ماہ میں آپ بھی ہلاک کر دی جائیں گی۔ وہ لکھتی ہیں کہ راہل گاندھی نے دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی بات نہیں مانیں گی تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

نیرجا سابق مرکزی وزیر اور نہرو گاندھی خاندان کے معتمد نٹور سنگھ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ یہ کوئی معمولی دھمکی نہیں تھی۔ راہل ایک مضبوط قویٰ کے انسان ہیں۔ انھوں نے اپنی ماں کو فیصلہ کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا۔ جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ پھر سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بنیں۔ انھوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنا دیا۔ وہ کانگریس میں تھے لیکن کوئی بڑا سیاسی قد نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت راہل گاندھی کی عمر انیس سال تھی۔ اور اگر اس وقت انھوں نے اصرار کیا ہوتا کہ ان کی والدہ ہی وزیر اعظم بنیں گی تو اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ کسی عظیم شخص کے لیے بھی وزیر اعظم کا منصب ٹھکرانا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن راہل گاندھی نے سونیا گاندھی کو پی ایم نہیں بننے دیا۔

آشوتوش لکھتے ہیں کہ چند کو چھوڑ کر باقی تمام صحافیوں نے راہل گاندھی کی اس خوبی کو نظرانداز کیا۔ انھوں نے انھیں ایک کمزور اور جھجکنے والا یا متزلزل سیاست داں قرار دیا۔ لیکن ابتدائی جھجک کے بعد ان کے اس نظریے میں وضاحت اور شفافیت آگئی ہے کہ وہ کانگریس کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں اور مودی کی زیرقیادت بی جے پی سے اسے کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ سامنے آیا اور نہ صرف یہ کہ ان کی لوک سبھا کی رکنیت چلی گئی بلکہ ان سے ان کا بنگلہ بھی چھین لیا گیا، اگر وہ چاہتے تو معافی مانگ کر اس بے عزتی سے بچ جاتے جو ان کے حصے میں آنے والی تھی۔ لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور اس کا نتیجہ جس شکل میں بھی نکلے اس کے لیے تیار ہو گئے۔

ان کے خیال میں راہل گاندھی کی شخصیت کو پہچاننے کے بارے میں ایماندارانہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس میں کچھ ان کی خامی تھی تو بہت کچھ ان کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کا ہاتھ تھا۔ اس دوران ایک ایسا سیاسی ماحول بنا دیا گیا کہ جس میں اپوزیشن پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں کے بارے میں حقیقت پسندانہ جائزہ گناہ سمجھا جانے لگا اور مودی پر تنقید اہانت مان لی گئی۔ راہل گاندھی نے یہ محسوس کیا کہ کانگریس ایک گہرے بحران میں مبتلا ہے اور اس بحران سے اسے نکالنے اور اس کی صحت کو ٹھیک کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ پارٹی کو سڑک پر اتارنے اور اس میں نیا جوش بھرنے کے لیے ضروری ہے کہ نہرو گاندھی فیملی پچھلی نشست پر بیٹھے اور ڈرائیونگ سیٹ پر کسی اور کو بٹھایا جائے۔ البتہ یہ فیملی پس پشت رہ کر حوصلہ اور جوش بھرتی رہے۔

راہل گاندھی کو سمجھنے کے لیے سیاسی تناطر کو سمجھنا ضروری ہے۔ بد عنوانی کے خلاف انا ہزارے کی کامیاب تحریک کے بعد راہل گاندھی کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی جگہ پر وزیر اعظم بن جاتے اور اس وقت یہ افواہ تھی کہ راہل گاندھی من موہن سنگھ کو ہٹا کر حکومت اور کانگریس کو بچا سکتے ہیں۔ اگر ان کے اندر اپنے چچا سنجے گاندھی کے عزائم کا ذرا بھی انش ہوتا تو وہ یہ کام کر ڈالتے۔ ایمرجنسی کے دوران سنجے گاندھی کی عمر بیس سال کے آس پاس تھی۔ اس وقت وہ اندرا گاندھی کے بعد دوسرے طاقتور سیاست داں تھے۔ ادھر یو پی اے کی دس سالہ حکومت میں راہل گاندھی ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔ لیکن انھوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا کہ وہ اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

2019 کے پارلیمانی انتخابات میں جب کانگریس کی شکست ہوئی تو وہ پارٹی صدر تھے۔ انھوں نے اس شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان پر بہت دباؤ پڑا مگر انھوں نے استعفیٰ واپس نہیں لیا۔ انھوں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ان کے خاندان سے بھی کوئی وزیر اعظم نہ بنے۔ اگر وہ اقتدار کے بھوکے ہوتے تو صدارت سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ تقریباً ہر پارٹی کسی ایک خاندان کے ارد گرد گھومتی ہے اور کوئی بھی نیتا الیکشن ہارنے کے بعد پارٹی کی باگ ڈور دوسرے ہاتھ میں نہیں سونپتا۔ آج اگر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں کانگریس بہتر پوزیشن میں نظر آرہی ہے تو اس کا سہرا راہل گاندھی کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے متعدد صحافیوں اور سیاست دانوں کی قیاس آرائیوں کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے تقریباً چار ہزار کلو میٹر تک پیدل یاترا کی۔ بھارت جوڑو یاترا نے ہی پارٹی کے اندر نیا جوش پیدا کیا ہے۔

آج ایسی افواہ ہے کہ راہل گاندھی اپوزیشن کے اتحاد ”انڈیا“ کی قیادت کرنے کے سنجیدہ دعوے دار ہیں۔ اس افواہ کا مقصد اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات پیدا کرانا ہے۔ کھڑگے نے واضح طور پر کہا ہے کہ کانگریس کو وزیر اعظم کے عہدے میں دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے بقول ہم صرف بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب کا وقت قریب آتا جا رہا ہے۔ الیکشن میں عوام کا کیا فیصلہ ہوگا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب کوئی بھی راہل کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں بی جے پی کی جانب سے راہل پر حملہ تیز کر دیا جائے گا۔

‘چاند کو ہندو سناتن راشٹر، شیو شکتی پوائنٹ کو اس کی راجدھانی قرار دیں!’ سوامی چکرپانی کا مودی سے مطالبہ

0
‘چاند-کو-ہندو-سناتن-راشٹر،-شیو-شکتی-پوائنٹ-کو-اس-کی-راجدھانی-قرار-دیں!’-سوامی-چکرپانی-کا-مودی-سے-مطالبہ

نئی دہلی: چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد ملک بھر میں جشن کا ماحول ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس جگہ پر چندریان 3 اترا ہے اسے شیو شکتی پوائنٹ کے نام سے جانا جائے گا۔ اب آل انڈیا ہندو مہاسبھا/سنت مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی کا بیان سامنے آیا ہے۔

سوامی چکرپانی مہاراج نے کہا کہ چاند کو پارلیمنٹ میں ہندو سناتن راشٹر قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ چندریان-3 کے لینڈنگ کی جگہ ‘شیو شکتی پوائنٹ’ کو اس کی راجدھانی کے طور پر تیار کیا جائے، تاکہ ’جہادی ذہنیت کا حامل‘ کوئی ’دہشت گرد‘ وہاں نہ پہنچ سکے۔

سوامی چکرپانی نے کہا ’’میں وزیر اعظم نریندر مودی کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے چاند پر چندریان-3 کے لینڈنگ کی جگہ کو ‘شیو شکتی پوائنٹ’ کا نام دیا اور اس کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے کہ کسی دوسرے نظریے کے لوگ اور دوسرے ممالک کے لوگ وہاں جا کر غزوہ ہند کا اعلان کرے، پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کر کے چاند کو ہندو راشٹر قرار دیا جائے اور ‘شیو شکتی پوائنٹ’ کو وہاں کی راجدھانی بنایا جائے۔

چکرپانی نے کہا کہ ہندو سناتنیوں کا چندا ماما سے پرانا رشتہ ہے۔ ہمارے صحیفوں میں چاند کے حوالے سے بہت سے حوالہ جات موجود ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ چاند کی پاکیزگی اور تقدس قائم رہے، اس لیے ایک قرارداد منظور کر کے چاند کو ہندو سناتن راشٹر قرار دیا جائے!

منی پور تشدد: کانگریس کی وزیر اعظم مودی پر تنقید، ’کیا سماجی ہم آہنگی بگاڑنے والوں کو سخت وارننگ دی جائے گی؟‘

0
منی-پور-تشدد:-کانگریس-کی-وزیر-اعظم-مودی-پر-تنقید،-’کیا-سماجی-ہم-آہنگی-بگاڑنے-والوں-کو-سخت-وارننگ-دی-جائے-گی؟‘

نئی دہلی: کانگریس نے منی پور معاملے پر ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم کو ان لوگوں کو خبردار کرنا چاہئے جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرتے ہیں۔

کانگریس نے کہا کہ ’’آج آپ کی 104ویں ‘من کی بات’ ہے۔ آپ نے اسرو، جی20 اور دوسری بات کی لیکن کیا منی پور کے لیے کچھ مرہم، کچھ ہیلنگ ٹچ ہوگا؟‘‘

وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے لکھا ’’کیا قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کو سخت وارننگ دی جائے گی؟”

اس سے قبل قومی دارالحکومت میں موجود وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے کہا ’’ریاست میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔‘‘ خیال رہے کہ منی پور میں 3 مئی کو نسلی تنازعہ شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے اب تک سو سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔