جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 153

انڈیا کا اجلاس: ملک بھر کے اپوزیشن رہنماؤں کا ممبئی پہنچنے کا سلسلہ جاری، سڑکوں پر بڑی تعداد میں پوسٹرز اور ہورڈنگز آویزاں

0
انڈیا-کا-اجلاس:-ملک-بھر-کے-اپوزیشن-رہنماؤں-کا-ممبئی-پہنچنے-کا-سلسلہ-جاری،-سڑکوں-پر-بڑی-تعداد-میں-پوسٹرز-اور-ہورڈنگز-آویزاں

ممبئی: انڈیا کے 26 شراکت داروں کی دو روزہ میٹنگ آج یعنی جمعرات کی شام ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا افتتاحی اجلاس کی میزبانی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کی تھی، جبکہ تیسرا اجلاس مہاراشٹرا میں اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی طرف سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور شرد پوار کی قیادت والا این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس) دھڑا شامل ہے۔

انڈیا اجلاس کے لیے ملک بھر کے اپوزیشن لیڈران کے ممبئی پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ممبئی پہنچنے والے لیڈران میں سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ شامل ہیں، جبکہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن چنئی سے ممبئی اجلاس میں شرکت کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔

آج سے شروع ہونے والے انڈیا کے دو روزہ اجلاس سے قبل ممبئی کی سڑکیوں پر بڑی تعداد میں پوسٹرز اور ہورڈنگز نصب کئے گئے ہیں جن میں اتحاد کے قائدین کو نمایاں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے ممبئی پہنچنے پر کہا ’’انڈیا اتحاد کا بنیادی مقصد اجتماعی طور پر لڑنا اور ملک کو بچانے، آئین، جمہوریت، سیکولرازم وفاقیت کو بچانے کے لیے بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ ملک بہت بڑی مصیبت میں ہے۔ متعدد بحرانوں اور ملک کو بی جے پی-آر ایس ایس کے چنگل سے آزاد کرنا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ آنے کا یہی بنیادی مقصد ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔‘‘

انڈیا کے اجلاس سے قبل راجیہ سبھا کے ایم پی اور آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا ’’ممبئی میں اجلاس کے بعد ہمارے پاس ایک مضبوط بنیاد اور روڈ میپ ہوگا اور ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم اس ملک کو دوبارہ پٹری پر لا رہے ہیں۔ ہر پارٹی اپنے لیڈر کو سب سے اوپر پر دیکھنا چاہتی ہے لیکن سب کو متحدہ کے اجلاس کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔‘‘

خیال رہے کہ انڈیا اتحاد کے دو روزہ اجلاس کے دوران شراکت دار رہنما جہاں اگلے عام انتخابات کے لیے جنگ کے منصوبے اور سیٹوں کی تقسیم کے فارمولے پر بحث کریں گے، وہیں اتحاد لوگو کی نقاب کشائی بھی کی جائے گی۔

انڈیا کا یہ پہلا اجلاس ہے جو ایک ایسی ریاست میں منعقد ہونے جا رہا ہے جہاں اتحاد کا کوئی شراکت دار اقتدار میں نہیں ہیے۔ مہاراشٹرا اس وقت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکمرانی میں ہے، جس میں شیوسینا، بی جے پی اور اجیت پوار کی قیادت میں حریف این سی پی دھڑے شامل ہیں۔

عظیم الشان اجلاس سے قبل کانگریس کے رہنما اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی، اشوک چوان نے بدھ کو کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں۔

اڈانی گروپ پر خفیہ طور پر اپنے ہی شیئر خریدنے کا الزام، حصص میں بھاری گراوٹ، وضاحتی بیان جاری

0
اڈانی-گروپ-پر-خفیہ-طور-پر-اپنے-ہی-شیئر-خریدنے-کا-الزام،-حصص-میں-بھاری-گراوٹ،-وضاحتی-بیان-جاری

نئی دہلی: گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں، جس کے بعد گروپ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ایک میڈیا گروپ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے خفیہ طور پر اپنے ہی شیئرز خرید کر اسٹاک ایکسچینج میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان الزامات کے بعد اڈانی گروپ نے آناً فاناً میں وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اسے غیر ملکی تنظیموں کی سازش قرار دیا ہے!

رپورٹ کے مطابق گوتم اڈانی کے بھائی ونود اڈانی کے قریبی لوگوں اور ساتھیوں نے خفیہ طور پر اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص خریدے تھے۔ اگرچہ، اڈانی گروپ اس سال مارچ تک گروپ میں ونود اڈانی کے فعال کردار سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم جو دستاویزات سامنے آئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ نے اس خریداری کو حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے استعمال کیا۔

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی یہ رپورٹ انگریزی اخبارات گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس نے ماریشس میں اڈانی گروپ کے ذریعہ کئے گئے لین دین کے بارے میں انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گروپ کمپنیوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان خفیہ طور پر اپنے شیئرز خریدے۔

غیر منافع بخش میڈیا تنظیم او سی سی آر پی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ماریشس کے ذریعے روٹ شدہ لین دین اور اڈانی گروپ کے اندرونی خط و کتابت کو دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم از کم دو معاملات ایسے ہیں جہاں سرمایہ کاروں نے غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے اڈانی گروپ کے شیئرز خریدے اور بیچے ہیں۔

او سی سی آر پی کی رپورٹ میں دو سرمایہ کاروں، ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چنگ لنگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں اڈانی خاندان کے پرانے کاروباری شراکت دار ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق او سی سی آر پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چانگ اور اہلی کی سرمایہ کاری کی رقم اڈانی خاندان نے دی تھی لیکن رپورٹنگ اور دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ اڈانی گروپ میں ان کی سرمایہ کاری اڈانی فیملی کے ساتھ مل کر کی گئی۔ او سی سی آر پی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا؟ اور جواب کا فیصلہ تب ہو گا جب یہ معلوم ہو گا کہ اہلی اور چانگ پروموٹرز کی طرف سے کام کر رہے ہیں یا نہیں!

اہلی اور چانگ نے فوری طور پر او سی سی آر پی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دی گارڈین کے رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں او سی سی آر پی نے کہا کہ چانگ نے کہا کہ اسے اڈانی گروپ کے حصص کے خفیہ طور پر خریدے جانے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

ادھر اڈانی گروپ نے ایک بیان جاری کرکے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ گروپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ جارج سوروس کی حمایت یافتہ تنظیموں کا ہاتھ ہے اور غیر ملکی میڈیا کا ایک حصہ بھی ہنڈن برگ رپورٹ کے جنکس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس کی حمایت کر رہا ہے۔

اڈانی گروپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جو دعوے ان معاملات پر مبنی ہیں جو ایک دہائی قبل بند کر دیے گئے تھے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس وقت اوور انوائسنگ، بیرون ملک رقوم کی منتقلی، متعلقہ فریق کے لین دین اور ایف پی آئی کے ذریعے سرمایہ کاری کے الزامات کی چھان بین کی گئی۔ ایک آزاد فیصلہ کرنے والی اتھارٹی اور اپیلٹ ٹربیونل نے تصدیق کی تھی کہ کوئی زائد قیمت نہیں تھی اور لین دین قوانین کے مطابق تھے۔ مارچ 2023 میں سپریم کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ اس لیے ان الزامات کا کوئی جواز یا بنیاد نہیں ہے۔‘‘

خیال رہے کہ جنوری کے شروع میں امریکی شارٹ سیلنگ فرم ہنڈنبرگ ریسرچ نے اڈانی گروپ کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس میں اڈانی گروپ پر حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ قوانین پر عمل کیا ہے لیکن اس رپورٹ کی وجہ سے اڈانی گروپ کے شیئرز میں زبردست گراوٹ آئی اور اس کی مارکیٹ کیپ 150 بلین ڈالر تک کم ہو گئی۔ تاہم، حالی میں گروپ کے حصص میں تیزی آئی ہے۔

جیسے جیسے ’انڈیا‘ آگے بڑھے گا مرکزی حکومت لوگوں کو مفت گیس دینا کرنا شروع کر دے گی! ادھو ٹھاکرے کا طنز

0
جیسے-جیسے-’انڈیا‘-آگے-بڑھے-گا-مرکزی-حکومت-لوگوں-کو-مفت-گیس-دینا-کرنا-شروع-کر-دے-گی!-ادھو-ٹھاکرے-کا-طنز

ممبئی: قومی حزب اختلاف کی جماعتوں کے تیسرے اجلاس کے میزبان مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بدھ کو کہا کہ دو روزہ ‘انڈیا’ اجلاس مادر وطن کو آمریت سے نجات دلانے اور آزادی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے صدر نے ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آمریت سے خطرہ ہے اور اسے ’تحفظ‘ کی ضرورت ہے۔

ٹھاکرے نے اعلان کیا ’’ہم یہاں آمریت کے خلاف اور ہندوستان کی حفاظت کے لیے ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آمرانہ حکومت کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔ ہم آئین کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں گے اور وفاقی جمہوری ڈھانچے پر قدغن نہیں لگنے دیں گے۔‘‘

مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر نے کہا کہ ملک کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کو یقینی بنائے۔ انہوں نے منی پور کے واقعات کی مثال دی۔

حکومت پر طنز کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا ’’مرکزی حکومت گیس پر منحصر ہے۔ اسی لیے وہ نو سال کے بعد گھریلو کھانا پکانے کے گیس سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کر کے خواتین کو تحفہ دے رہی ہے! جیسے جیسے ہندوستان آگے بڑھے گا، وہ سب کو مفت گیس دینا شروع کر دیں، عوام سب کچھ جانتی ہے۔‘‘

ایک سوال پر کہ انڈیا اتحاد کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر کس کو پیش کیا جائے گا؟ ٹھاکرے نے جواب دیا ’’ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں لیکن کیا بی جے پی کے پاس نریندر مودی کے علاوہ کوئی آپشن ہے؟‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا بلاک کا کنوینر کون ہوگا، تو ٹھاکرے نے جواب دیا ’’کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ این ڈی اے کا کنوینر کون ہے؟ یہ ایک امیبا کی طرح بن گیا ہے، جس کی کوئی شکل یا سائز نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مسلم خواتین کو راکھی باندھنے کے لیے کہنے پر بی جے پی پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ رکشا بندھن مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف ہونا چاہیے اور اسے کسی آمرانہ حکومت کی زنجیروں میں جکڑنے سے بچانا چاہئے۔‘‘

ٹھاکرے نے نیتی آیوگ کے حالیہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ’’ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کی سازش اب بے نقاب ہو گئی ہے۔‘‘

ٹھاکرے نے کہا ’’جب مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت تھی تو انہوں نے ایسی تجویز پیش کرنے کی ہمت نہیں کی لیکن ہم کسی قیمت پر ایسا نہیں ہونے دیں گے، ہم اپنی پوری طاقت سے لڑیں گے۔‘‘

مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے نشاندہی کی کہ کس طرح چین نے لداخ اور اروناچل پردیش میں ہندوستانی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اپوزیشن اب ملک کو غیر ملکی جارحیت سے بچائے گی۔

پٹولے نے اعلان کیا ’’جیسے جیسے ہندوستان کا اتحاد مضبوط اور ترقی کرتا جائے گا، چین ہندوستانی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ ’انڈیا‘ ہی انڈیا کا دفاع اور اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘

مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کہا کہ ممبئی اجلاس میں 28 اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے 11 وزرائے اعلیٰ اور 63 رہنما شرکت کریں گے، جب کہ جولائی میں بنگلورو میں ہونے والے میں 26 رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

چوہان نے پارٹیوں کو تقسیم کرنے اور منتخب ریاستی حکومتوں کو گرانے کی سیاست کرنے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مدھیہ پردیش، گوا اور پھر مہاراشٹرا میں جو کچھ کیا وہ سب کو معلوم ہے لیکن اپوزیشن مضبوط ہے اور ہم اس طرح کی دھمکیوں سے نہیں گھبرائیں گے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ اجلاس کے لیے ’’ممبئی انڈیا کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور اگلے دو دنوں میں کم از کم 28 پارٹیاں شرکت کریں گی۔‘‘

منتظمین کے مطابق انڈیا کے اجلاس میں جن بڑی جماعتوں نے شرکت کی تصدیق کی ہے ان میں کنونشن کی میزبانی کرنے والی شیو سینا (یو بی ٹی)، انڈین نیشنل کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار)، سماج وادی پارٹی، نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جنتا دل (یو)، راشٹریہ جنتا دل، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ لوک دل، ترنمول کانگریس، دراوڑ منیترا کزگم، کسان مزدور پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) اور انڈین یونین مسلم لیگ شامل ہیں۔

اختر الواسع جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامیات میں ایڈجنکٹ پروفیسر مقرر

0
اختر-الواسع-جامعہ-ہمدرد-کے-شعبہ-اسلامیات-میں-ایڈجنکٹ-پروفیسر-مقرر

نئی دہلی: جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم کی تجویز پراکیڈمک کاؤنسل کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے 21 مارچ 2023 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں مشہور معلم اور دانشور پدم شری پروفیسر اخترالواسع کو اسلامک اسٹڈیز میں ایڈجنکٹ پروفیسر نامزد کیا ہے۔ آج جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر نے پروفیسر اخترالواسع کو آفس آرڈر کی کاپی پیش کی۔ اس موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر ایم اے سکندر اور کنٹرولر آف ایگزامنیشن جناب ایس ایس اختر موجود تھے۔

پروفیسر اخترالواسع نے جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہمدرد سے ان کی بحیثیت ایڈجنکٹ پروفیسر وابستگی انتہائی اعزاز کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکیم عبدالحمید صاحب نے ایک ایسے وقت میں دہلی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کی بنیاد رکھی تھی جب دہلی میں اس طرح کا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمدرد سے اسلامک اسٹڈیز کا جو جرنل نکلتا تھا، اس کی اپنی علمی اہمیت تھی۔

یاد رہے کہ پروفیسر اخترالواسع 1980 سے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 1991 میں وہ جنرل سلیکشن کمیٹی سے اسلامک اسٹڈیز کے ملک بھر میں سب سے کم عمر پروفیسر مقرر کیے گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے عارضی طور پر اپنی مادرِ علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی کچھ مہینوں کے لیے تدریسی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس وقت پروفیسر اخترالواسع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں پروفیسر ایمریٹس ہیں۔ یہاں یہ بات خاصی اہمیت کی حامل ہے کہ پروفیسر ایمریٹس اور ایڈجنکٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز میں ابھی تک صرف پروفیسر اخترالواسع کو ہی ان اعزازات سے سرفراز کیا گیا ہے۔

’ہندوستان کے لوگ تبدیلی کے چاہتے ہیں‘ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے اجلاس سے قبل شرد پوار کا بیان

0
’ہندوستان-کے-لوگ-تبدیلی-کے-چاہتے-ہیں‘-اپوزیشن-اتحاد-’انڈیا‘-کے-اجلاس-سے-قبل-شرد-پوار-کا-بیان

ممبئی: اپوزیشن اتحاد انڈیا کے آج جمعرات (31 اگست 2023) سے شروع ہونے جا رہے دو روزہ اجلاس سے قبل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار نے کہا کہ ملک کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، اسی لیے اپوزیشن لیڈر یہاں جمع ہو رہے ہیں۔‘‘

ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ میں، پوار نے قومی اپوزیشن جماعتوں کے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم کے کانٹے دار مسئلہ پر بات چیت کے امکان کا اشارہ دیا۔

این سی پی سربراہ نے کہا کہ اس اتحاد کے پہلے دو اجلاس بہت اہم تھے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن گروپ کی مشترکہ حکمت عملی پر اگلے دو دنوں میں تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سینئر لیڈروں کا ایک پینل تشکیل دیا جا سکتا ہے اور اسے ریاستی اور مقامی سطحوں پر لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم کے فارمولے پر تبادلہ خیال کرنے کا کام سونپا جا سکتا ہے۔

مختلف قومی اپوزیشن لیڈروں کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ الزامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پوار نے مرکز کو چیلنج کیا کہ ’’اگر ان میں ہمت ہے تو وہ ایسے الزامات لگانے کے بجائے معاملوں کی تحقیقات کریں اور حقائق سامنے لائیں۔‘‘

بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے ممکنہ موقف پر، جو مبینہ طور پر انڈیا اتحاد میں شامل ہونے کے خیال پر غور کر رہی ہے، پوار نے کہا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کیونکہ ’’وہ بی جے پی کے ساتھ بھی بات چیت کر رہی ہیں۔‘‘

83 سالہ رہنما دو روزہ انڈیا کے اجلاس سے ایک شام قبل میڈیا کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے قومی اپوزیشن جماعتوں کے گیم پلان کا خاکہ پیش کرنے کے لیے جمعرات-جمعہ کو اجلاس منعقد ہونا ہے۔

اب تک ملک بھر سے 28 اپوزیشن جماعتوں نے کنکلیو میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ بہار اور کرناٹک میں ہونے والے گزشتہ دو اجلاسوں کے برعکس، یہ پہلا انڈیا کنکلیو ہے جو کسی ایسی ریاست میں منعقد کیا گیا ہے جس میں کسی بھی اتحادی کی حکومت نہیں ہے۔

عبداللہ اعظم کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں ٹرائل جاری رہے گا، ہائی کورٹ کا مداخلت سے انکار

0
عبداللہ-اعظم-کے-جعلی-برتھ-سرٹیفکیٹ-کیس-میں-ٹرائل-جاری-رہے-گا،-ہائی-کورٹ-کا-مداخلت-سے-انکار

لکھنؤ: ہائی کورٹ نے سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اور سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے فرضی برتھ سرٹیفکیٹ معاملے میں اعظم خان، بیٹے عبداللہ اور اہلیہ تزئین فاطمہ کے خلاف مقدمے کی سماعت میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب تک درخواست پر فیصلہ نہیں کیا جاتا، ٹرائل کورٹ سے کیس کا فیصلہ نہیں آئے گا۔ ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت پر روک لگانے اور کچھ نئے شواہد پیش کرنے کی اجازت دینے کی اعظم خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

اعظم خان سمیت تین لوگوں کے خلاف مقدمہ کی سماعت رام پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں چل رہی ہے۔ درخواست میں مطالبہ ہکیا گیا ہے کہ انہیں ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں جاری مقدمے میں ثبوت کے طور پر پین ڈرائیو اور ویڈیو کلپ داخل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اعظم خان کی جانب سے کہا گیا کہ مقدمے کا مرکزی گواہ محمد شفیق مدعی آکاش سکسینہ کے قریب ہے، اس لیے محمد شفیق ان کے خلاف گواہی دے رہا ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے ایک پین ڈرائیو اور ویڈیو کلپ کو بطور ثبوت پیش کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پی سی سریواستو اور ایڈیشنل گورنمنٹ کونسل جے کے اپادھیائے نے کہا کہ شفیق نے اپنے بیان میں پین ڈرائیو کو قبول کیا ہے۔ ایسی صورت حال میں پین ڈرائیو کو بطور ثبوت شامل کرنے کی اجازت لینے کا مقصد صرف ٹرائل میں تاخیر ہے، اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ رام پور کو اس کیس کی سماعت جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

لیکن اس درخواست پر فیصلہ آنے تک مقدمے کا فیصلہ نہیں سنایا جائے گا۔ الزام ہے کہ عبداللہ اعظم نے دو برتھ سرٹیفکیٹ بنوائے ہیں اور دونوں میں تاریخ پیدائش مختلف ہے۔ انہوں نے غلط برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اسمبلی الیکشن بھی لڑا تھا۔ آکاش سکسینہ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ تحقیقات میں عبداللہ اعظم کا پیدائشی سرٹیفکیٹ جعلی پایا گیا جس کی وجہ سے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ اعظم خان اور دیگر کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

کشمیر میں مس ورلڈ مقابلے کے انعقاد کی حقیقت

0
کشمیر-میں-مس-ورلڈ-مقابلے-کے-انعقاد-کی-حقیقت

پی ایم انٹرٹینمینٹ کے چیئرمین جمیل سعیدی نے ایک بیان میں کہا، "ہم، مس ورلڈ آرگنائزیشن کی جانب سے، پرزور انداز میں کہنا چاہتے ہیں کہ مس ورلڈ 2023 کی اختتامی تقریب کشمیر میں منعقد ہونے کی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔ جیسا کہ پی ایم ای انٹرٹینمینٹ اور مس ورلڈ آرگنائزیشن کی جانب سے باضابطہ طورپر اعلان کیا گیا ہے، فائنل کے لیے مقام کو ابھی حتمی شکل دیا جانا باقی ہے اور اس کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔”

قبل ازیں بھارتی میڈیا نے خبردی تھی کہ مس ورلڈ کے 71 ویں ایڈیشن کا انعقاد دسمبر میں کشمیر میں ہو گا۔ اس خبر پر مختلف حلقوں نے جوش و خروش اور مسرت کا اظہار کیا تھا اور اسے کشمیر کے حوالے سے بھارت کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔

کشمیر میں مس ورلڈ مقابلوں کے انعقاد کی تردید ان خبروں کے درمیان ہوئی کہ اس مقبول عالمی مقابلے کی میزبانی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ دراصل موجودہ مس ورلڈ کیرولینا بیلاوسکا دو رنرز اپ بھارت کی سنی سیٹھی اور کیریبیا کی ایمی پینا، مس ورلڈ کی سی ای او جولیا مورلی کے ساتھ کشمیر کے دورے پر ہیں۔

جولیا مورلی نے ان تینوں کے ساتھ پیر کو سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا تھا،” سچ میں، میں بہت خوش ہوں۔ ایسی خوبصورتی کو دیکھنا ہمارے لیے جذباتی ہے۔ آپ کے پاس اتنی خوبصورتی ہے، یہاں ہر کوئی بہت مہربان اور مددگار ہے۔ اور میں اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔”

مورلی نے مزید کہا کہ مس ورلڈ کے عملے کی نومبر میں کشمیر آمد متوقع ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نومبر میں آپ سے ملنے کے منتظر ہے۔ یہ شو8 دسمبر کو ہے۔ شکریہ کشمیر۔ خدا آپ کو خوش رکھے اور ہم واپس آنے کے منتظر ہیں۔”

مس ورلڈ مقابلہ حسن دنیا کے سب سے باوقار مقابلہ حسن میں سے ایک ہے۔ یہ ہر سال منعقد ہوتا ہے اور اس میں 100 سے زیادہ ممالک کے مدمقابل شامل ہوتے ہیں۔ مقابلہ جیتنے والے کو مس ورلڈ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے اور اسکالرشپ اور ماڈلنگ کنٹریکٹ سمیت متعدد انعامات دیے جاتے ہیں۔

‘فردوس برروئے زمین’ کے نام سے مشہور کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے تشدد اور عسکریت پسندی سے متاثر ہے۔ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مودی حکومت نے اگست 2019 میں بھارتی آئین کی خصوصی دفعہ 370 کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنادیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔ اس نے کشمیر میں "امن و امان کی صورت حال” کو عالمی برداری کے سامنے پیش کرنے کے لیے سری نگر میں مئی میں سخت سکیورٹی کے درمیان جی 20 سیاحتی میٹنگ کا انعقاد کیا تھا۔

مس ورلڈ بیلاوسکا کا کہنا تھا کہ "کشمیر کا حسن انہیں ہمیشہ مسحور اور حیرت زدہ کر دیتا ہے۔ ہم جب بھی یہاں آتے ہیں تو کچھ نیا دریافت ہوتا ہے۔”

بیلاوسکا نے کہا کہ یہ بھارت آنے کا تیسرا موقع ہے "لیکن آخری نہیں۔ میں 140ملکوں اور اپنے تمام دوستوں اور عزیز و اقارب کا خیر مقدم کرنے کا اور زیادہ انتظار نہیں کرسکتی کہ انہیں بھارت لاؤں اور کشمیر، دہلی اور ممبئی جیسے مقامات دکھاؤں… یہاں بہت سے خوبصورت مقامات ہیں۔” مس ورلڈ بیلاوسکا نے مشہور ڈل جھیل میں شکارے کا لطف بھی اٹھایا۔

بھارت: نمازکے لیے بس روکنے پر معطل کنڈکٹر نے خودکشی کرلی

0
بھارت:-نمازکے-لیے-بس-روکنے-پر-معطل-کنڈکٹر-نے-خودکشی-کرلی

پولیس کا تاہم کہنا ہے کہ موہت یادو نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ وہ ریلوے لائن پار کرنے کے دوران ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے۔ سرکاری ریلوے پولیس (جی آر پی) کے ایک افسر اروند کمار نے بتایا کہ انہیں اترپردیش کے مین پوری میں ریلوے لائن پر ایک لاش کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی۔ "جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو متوفی کا فون بج رہا تھا۔ ہم نے فون اٹھایا جس کے بعد ہمیں اس کی شناخت کا علم ہوا۔ اس دوران مقامی لوگ وہاں پہنچ گئے اور لاش کی شناخت کی۔ اس کے گھروالوں نے تحریر دی ہے کہ وہ ریلوے لائن پار کرنے کے دوران ٹرین کی زد میں آگیا۔ اس معاملے کی انکوائری کی جارہی ہے۔”

دوسری طرف 32 سالہ موہت یادو کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ جب انہیں ملازمت سے برطرف کیا گیا اس کے بعد سے ہی وہ شدید ذہنی اور مالی دباو میں تھے۔ اور انہوں نے ٹرین کے آگے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

موہت کے عم زاد ٹنکو یادو نے بتایا کہ موہت کا خیال تھا کہ انہیں ملازمت سے بلا وجہ ہٹایا گیا۔ موہت کی بیوہ رنکی کا کہنا ہے کہ "میرے شوہر گھر میں سب سے بڑے تھے اور پورے کنبے کی ذمہ داریاں انہیں کے کندھوں پر تھی۔ لیکن جب سے ان کی نوکری گئی اس کے بعد سے ہی ڈپریشن میں چلے گئے اور بالآخر خودکشی کرلی۔”

رنکی نے مزید بتایا کہ موہت اتوار کے روز یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ اپنے ایک دوست سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں لیکن پیر کے روز ہمیں ریلوے لائن کے نزدیک ان کی لاش پڑی ہونے کی اطلاع ملی۔ یہ جگہ گھر سے کوئی ایک کلومیٹر دور ہے۔

موہت یادو اترپردیش ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں پچھلے دس سال سے بس کنڈکٹر کے طورپر کانٹریکٹ پر ملازم تھے۔ جون کے اوائل میں ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور بس ڈرائیور کے پی سنگھ کو ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک مسافر کو موہت سے تکرار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جسے ستیندر نامی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پر ڈال دیا تھا۔

مسافر اس بات پر مشتعل تھا کہ دو مسلمانوں کو نماز پڑھنے کے لیے بس کیوں روکی گئی۔ جب کہ موہت کا کہنا تھا کہ بس میں سوار ہونے سے پہلے ہی یہ بات طے ہوگئی تھی اور جب دیگر مسافروں نے رفع حاجت کے لیے بس روکنے کے لیے کہا اسی دوران دونوں مسلم مسافرو ں نے اپنی نماز ادا کرلی۔ اور اس میں آخر کیا قباحت ہے؟

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بھارت میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی اور اختلافات کی بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی۔ خیال رہے کہ اتردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر مذہبی بنیادوں پر تفریق کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

اترپردیش ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن ملازمین یونین کا کہنا ہے کہ ایک معمولی واقعے کی بنیاد پر موہت یادو اور کے پی سنگھ کے خلاف کی گئی کارروائی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ ان دونوں کو برطرف کرنے کی کارروائی جلدبازی میں کی گئی۔ موہت نے ملازمت بحال کرنے کی درخواست بھی دی تھی لیکن اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

کارپوریشن کے اسسٹنٹ ریجنل منیجر سنجیو سریواستو کا تاہم کہنا ہے کہ موہت یادو اور کے پی سنگھ کو کے خلاف انکوائری کے بعد ہی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موہت نے دوبارہ ملازمت کی درخواست دی ہے اور "درخواست کمیٹی کے زیر غور ہے۔”

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی تیسری میٹنگ کے لیے سبھی تیاریاں مکمل، لوگو کی نقاب کشائی اور کنوینر کی تقرری پر نظر

0
اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کی-تیسری-میٹنگ-کے-لیے-سبھی-تیاریاں-مکمل،-لوگو-کی-نقاب-کشائی-اور-کنوینر-کی-تقرری-پر-نظر

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی تیسری میٹنگ ممبئی میں منعقد ہونے والی ہے اور اس کے لیے سبھی تیاریاں مکمل بھی کر لی گئی ہیں۔ لیکن اس سے قبل کچھ ایسے ذاتی مفادات کا اظہار ہوا ہے جو ناقابل فراموش ہے۔ دراصل عام آدمی پارٹی چیف اروند کیجریوال اور ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی کے حامیوں نے 31 اگست اور یکم ستمبر کو ہونے والی میٹنگ میں اِنڈیا (انڈین نشینل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) کی طرف سے وزیر اعظم کا چہرہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ ایسی ہی خواہش بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے حامیوں نے بھی ظاہر کی ہے۔

اس درمیان پٹنہ میں نتیش کمار اور ممبئی میں شرد پوار نے ایسے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتے ہونے والی میٹنگ میں ایک کنوینر کا انتخاب کریں گے اور ذیلی کمیٹیاں بنائیں گے۔ ممکن ہے کمیٹیاں ریاستوں کے لیے ہو سکتی ہیں تاکہ سیٹوں کی تقسیم میں کوئی مسئلہ نہ آئے اور لوک سبھا انتخاب کی تیاریاں جلد از جلد شروع ہو سکیں۔ یہ ضروری بھی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اِنڈیا اتحاد میں کچھ ایسی پارٹیاں شامل ہیں جو اپنی اپنی ریاستوں میں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ مثلاً مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹیاں، کانگریس اور ترنمول کانگریس۔ اسی طرح دہلی میں عآپ اور کانگریس، کیرالہ میں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں، وغیرہ۔

31 اگست کو ہونے والی میٹنگ سے قبل آج اِنڈیا اتحاد کی کچھ پارٹیوں نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے ادھو ٹھاکرے نے صاف لفظوں میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد ملک کے اندر تبدیلی لانے کے لیے اکٹھا ہوا ہے اور انہیں ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ساتھ ہی انھوں نے چند الفاظ میں یہ بھی اشارہ کیا کہ وزیر اعظم عہدہ کے لیے چہرہ فائنل کرنا فی الحال قبل از وقت اور غیر ضروری ہے۔

بہرحال، 26 پارٹیوں کے تقریباً 80 سرکردہ سیاسی قائدین (بشمول کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی) اور نصف درجن وزرائے اعلیٰ کے لیے ممبئی میں حفاظتی انتظامات حکام کے لیے درد سر ثابت ہو رہے ہیں۔ سبھی مہمانان کے لیے ایک اعلیٰ معیاری ہوٹل میں تقریباً 200 کمرے بک کیے گئے ہیں۔ اس ہوٹل میں ہی تمام رائے مشورے اور فیصلوں پر مباحث ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ مہمانان سیر و تفریح کی تلاش میں ہوٹل احاطہ سے باہر نہیں جا پائیں گے بلکہ ہر ممکن انتظامات ہوٹل کے اندر ہی کیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے جمعرات کو اسی ہوٹل میں عشائیہ اور اگلے دن (یکم ستمبر) شرد پوار ظہرانہ کی میزبانی کریں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ میں شامل ہونے والے سبھی لیڈران 11 رکنی ایک رابطہ کمیٹی قائم کریں گے جو اپوزیشن اتحاد کا مرکزی پاور ہاؤس ہوگا۔ تشہیری مہموں، سوشل میڈیا مواد اور دیگر معاملوں کو دیکھنے والی ذیلی کمیٹیاں اسی مرکزی کمیٹی کو رپورٹ کریں گی۔ ویسے بی جے پی آئی ٹی سیل کا مقابلہ کرنے کے لیے اِنڈیا اتحاد میں شامل سبھی پارٹیوں سے اپنے سوشل میڈیا وسائل کا استعمال کرنے کہا جائے گا اور سوشل میڈیا کمیٹیاں سبھی پارٹیوں کے درمیان کوآرڈنیشن کا کام کریں گی۔ یہ سوشل میڈیا کمیٹیاں نہ ہی مواد تیار کریں گی اور نہ ہی دوسری پارٹیوں کو ٹیگ کریں گی، بلکہ اِنڈیا اتحاد کے خلاف بی جے پی آئی ٹی سیل کے جھوٹے پروپیگنڈے سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ کے پیش نظر ممبئی کی سڑکیں ’جڑے گا اِنڈیا، جیتے گا بھارت‘ نعرے والے ہورڈنگز سے بھر گئی ہیں۔ اس نعرہ نے پہلے ہی بی جے پی کے کئی لیڈروں کو پریشان کر رکھا ہے کیونکہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ایم وی اے (مہاوکاس اگھاڑی) نے تو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہورڈنگز اور دیگر سبھی چیزوں کے لیے انتظامیہ سے پہلے ہی اجازت لے لی ہے تاکہ کوئی مشکل کھڑی نہ ہو۔ سبھی طرح کی فیس ادا کی جا چکی ہے اور اجازت نامہ بھی مل چکا ہے، اس لیے مہاراشٹر حکومت میں شامل پارٹیوں کے لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ممکن نہیں۔ ممبئی میں ہورڈنگز کو لگا کر چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، سوائے ایکسپریس پرمیشن کے، لیکن ایم وی اے میں شامل تینوں پارٹیوں (کانگریس، این سی پی، شیوسینا یو بی ٹی) کے سرکردہ لیڈراں نے میونسپل کارپوریشن اور پولیس حکام کو اعتماد میں لیتے ہوئے انھیں یقین دلایا ہے کہ ہورڈنگز میٹنگ کے ختم ہونے کے بعد اتار لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ممبئی میں میٹنگ کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والے لالو پرساد یادو اور ان کے بیٹے تیجسوی یادو ہیں۔ دیگر لیڈران جمعرات تک پہنچیں گے، کیونکہ میٹنگ 31 اگست کی شام 6 بجے اِنڈیا اتحاد کے لوگو کی نقاب کشائی کے ساتھ شروع ہوگی۔ راہل گاندھی جمعرات کو میسور میں عوامی جلسوں سے خطاب کرنے والے ہیں، لیکن توقع ہے کہ نقاب کشائی کے لیے وقت پر پہنچ جائیں گے۔ اس درمیان قوی امید ہے کہ راشٹریہ لوک دل کے جینت چودھری اِنڈیا اتحاد میں باضابطہ شامل ہونے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے آج ہی ایک بیان دیا ہے کہ وہ ممبئی جا رہے ہیں اور انہیں این ڈی اے میں شامل ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ حالانکہ بی جے پی کے دور حکومت میں وہ بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ویسے کانگریس کے کچھ مقامی لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی کی میٹنگ میں مزید تین علاقائی پارٹیوں کے شامل ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تین پارٹیاں کون ہو سکتی ہیں، اس سلسلے میں کانگریس لیڈران بالکل خاموش ہیں۔

دہلی یونیورسٹی میں اپنا لیکچر رد ہونے سے منوج جھا مایوس، کہا ’اس واقعہ سے بہت تکلیف ہوئی، اس کی جانچ ہو‘

0
دہلی-یونیورسٹی-میں-اپنا-لیکچر-رد-ہونے-سے-منوج-جھا-مایوس،-کہا-’اس-واقعہ-سے-بہت-تکلیف-ہوئی،-اس-کی-جانچ-ہو‘

آر جے ڈی (راشٹریہ جنتا دل) لیڈر، راجیہ سبھا رکن اور دہلی یونیورسٹی کے سوشل ورکس ڈپارٹمنٹ سے منسلک منوج جھا کا لیکچر رد کر دیا گیا ہے۔ ان کا لیکچر 4 ستمبر کو ہونا تھا۔ لیکچر دہلی یونیورسٹی ’سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ اِن ہائر ایجوکیشن‘ یو جی سی-ایچ آر ڈی سی کے ذریعہ مقرر تھا۔ حالانکہ اب لیکچر کی طے تاریخ سے پہلے ہی منوج جھا کو لیکچر رد کیے جانے کی خبر بھجوائی گئی ہے۔

اس واقعہ سے ناراض منوج جھا نے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ میں بول سکتا ہوں، سڑک پر بول سکتا ہوں، اخباروں میں مضمون لکھ سکتا ہوں، لیکن اپنی یونیورسٹی کے اساتذہ کو مخاطب نہیں کر سکتا۔ یہ کیا ڈر ہے۔ ایسے بنیں گے ہم وشو گرو، یونیورسٹیوں کو کنویں میں تبدیل کر کے!‘‘ منوج جھا کا مزید کہنا ہے کہ ’’یہ میری یونیورسٹی ہے۔ میں یہاں کا ٹیچر ہوں، یہاں میں کلاس لیتا ہوں، یہیں میں پڑھا ہوں، یہیں میں پڑھا رہا ہوں۔ باوجود اس کے میرا بولنا کس کو ناگوار گزر رہا ہے۔‘‘

منوج جھا کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بات یونیورسٹی کے وائس چانسلر تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات میں وزیر اعظم تک لے جاؤں گا، وزیر تعلیم تک لے جاؤں گا۔ منوج جھا نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم اور وزیر تعلیم کو خط لکھیں گے اور ان کے علم میں لائیں گے۔ وہ وزیر اعظم اور وزیر تعلیم سے کہیں گے کہ اس طرح کے ماحول کو فوراً بدلا جائے۔

دراصل دہلی یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ کے لیے 22 اگست سے 4 ستمبر تک سوشل ورک و سماجی سائنس (آئی ڈی سی) پر ایک آن لائن لیکچر پروگرام منعقد کر رہا ہے۔ سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ ان ہائر ایجوکیشن نے پروفیسر منوج جھا سے 4 ستمبر کو لیکچر دینے کی گزارش کی تھی۔ ڈپارٹمنٹ نے لیکچر کے لیے منوج جھا کی اجازت مانگتے ہوئے انھیں 18 اگست کو خط بھیج کر کہا تھا ’’اس نصاب کے لیے ہم آپ کی اجازت چاہیں گے۔ یہ آن لائن کورس زوم میٹ کے ذریعہ سے منعقد کیا جائے گا۔ آپ کے سیشن میں پروگرام کا موضوع ’سیاسی سماجی کام، پریکٹس کے لیے نیا موقع‘ ہے۔ 4 ستمبر کو صبح 10 سے 11.30 بجے تک سوشل ورکس اینڈ سوشل سائنس (آئی ڈی سی) پر لیکچر ہے۔

منوج جھا کے مطابق اب بغیر وجہ بتائے بدھ کو ان کا لیکچر رد کرنے کا خط بھیج دیا گیا۔ جھا نے بتایا کہ ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر گیتا سنگھ نے لیکچر رد کیے جانے کے سلسلے میں انھیں خط بھیج کر کہا ہے کہ آپ کے لیکچر کے سلسلے میں گزشتہ ای میل کے تعلق سے آپ کو یہ مطلع کیا جاتا ہے کہ کچھ ناگزیر حالات کے سبب آپ کا لیکچر رد کر دیا گیا ہے۔ منوج جھا کا کہنا ہے کہ لیکچر کینسل کرنے والوں سے یہ پوچھا جائے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ لیکن، میں یہ جانتا ہوں کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ طریقہ کار کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔ جھا نے کہا کہ مجھے 18 اگست کو یونیورسٹی کے ذریعہ خط بھیجا گیا کہ 4 ستمبر کو میرا لیکچر ہے۔ حالانکہ اب بدھ کو مجھے یہ خط آیا کہ کسی ناگزیر اسباب سے لیکچر رد کر دیا گیا ہے۔