جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 152

آلودگی ایسے ہی بڑھتی رہی تو کم ہو جائیں گے زندگی کے 5.3 سال، شکاگو یونیورسٹی کی رپورٹ میں حیرت انگیز دعویٰ

0
آلودگی-ایسے-ہی-بڑھتی-رہی-تو-کم-ہو-جائیں-گے-زندگی-کے-5.3-سال،-شکاگو-یونیورسٹی-کی-رپورٹ-میں-حیرت-انگیز-دعویٰ

آلودگی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس درمیان شکاگو یونیورسٹی کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی آلودگی جنوبی ایشیا میں رہنے والے لوگوں کی جینے کی اوسط عمر کو 5.1 سال تک کم کر رہی ہے۔ اگر ہندوستان کی بات کی جائے تو لوگوں کی اوسط عمر میں 5.3 سال تک کی کمی کا اندیشہ ہے۔

دراصل شکاگو یونیورسٹی کے توانائی پالیسی آرگنائزیشن کے ذریعہ حال ہی میں ’فضائی معیار لائف انڈیکس (اے کیو ایل آئی) سالانہ اَپڈیٹ 2023‘ شائع کیا گیا۔ اے کیو ایل آئی زندگی جینے کی اوسط عمر پر پارٹیکولیٹ آلودگی سے ہونے والے اثرات کی پیمائش کرتا ہے۔ حالیہ رپورٹ میں 2021 کے پارٹیکولیٹ میٹر ڈاتا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ پارٹیکولیٹ میٹر (پی ایم) 2.5 جیسے مضر عنصر انسان کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013 کے بعد سے دنیا بھر میں جو آلودگی دیکھنے کو مل رہی ہے، اس کا تقریباً 59 فیصد اضافہ صرف ہندوستان میں ہوا ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں یہ صورت حال سب سے خطرناک ہے۔

بہرحال، اے کیو ایل آئی ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے چار سب آلودہ ملک جنوبی ایشیا کے ہی ہیں جو عالمی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اگر آلودگی کی سطح اسی طرح بنا رہتا ہے تو ہندوستان سمیت بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان کے لوگوں کی زندگی جینے کی اوسط عمر 5 سال تک کم ہو سکتی ہے۔ پی ایم 2.5 ڈاٹا کے مطابق ہندوستان میں آلودگی 2020 میں 56.2 µg/m3 سے بڑھ کر 2021 میں 58.7 µg/m3 ہو گیا ہے جو ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائن سے 10 گنا زیادہ ہے۔ اگر ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائن پر عمل نہیں کیا گیا تو ملکی باشندوں کی زندگی جینے کی اوسط عمر 5.3 سال گھٹ جائے گی۔

ہندوستان کا سب سے آلودہ علاقہ شمالی میدانی علاقہ ہے۔ یہاں نصف ارب سے زیادہ لوگ اور ملک کی 38.9 فیصد آبادی رہتی ہے۔ اس علاقہ میں اگر آلودگی کی سطح بنی رہی تو اوسطاً لوگ اپنی زندگی کے 8 سال سے محروم رہ جائیں گے۔ اس علاقے میں راجدھانی دہلی دنیا کی سب سے آلودہ میگا سٹی ہے۔ اس کا سالانہ اوسط ذرہ آلودگی 126.5 µg/m3 ہے جو ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائن سے 25 گنا زیادہ ہے۔ حالانکہ فضائی آلودگی اب صرف ملک کے شمالی میدانی علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں فضائی آلودگی دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ مثال کے لیے مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں 2000 کے بعد سے آلودگی میں بالترتیب 76.8 فیصد اور 78.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں اوسط شخص اب اپنی زندگی جینے کی عمر کے مقابلے میں 1.8 سے 2.3 سال کم زندگی جی رہے ہیں۔

کیرالہ میں اونم کے تہوار پر 10 دنوں میں 759 کروڑ روپے کی شراب فروخت

0
کیرالہ-میں-اونم-کے-تہوار-پر-10-دنوں-میں-759-کروڑ-روپے-کی-شراب-فروخت

ترواننت پورم: کیرالہ میں اونم کے تہوار پر شراب کی بڑے پیمانے پر فروخت کی گئی۔ ریاست میں شراب اور بیئر کے واحد ہول سیل تاجر بیوکو نے جمعرات کو کہا کہ 21 اگست کو شروع ہوئے دس روزہ اونم کے تہوار کے دوران کیرالہ میں شراب کی فروخت 759 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اونم کے موقع پر 700 کروڑ روپے کی شراب فروخت کی گئی ہے۔ جہاں تہوار کے موقع پر لوگوں نے 759 کروڑ روپ کی شراب ہضم کر لی وہیں ریاستی حکومت کو مختلف ٹیکسوں کے ذریعے 675 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تراونکور شوگر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کی ’جوان رم‘ کا اسٹاک بہت تیزی کے ساتھ ختم ہو گیا۔

تہوار کے موقع پر سب سے زیادہ شراب پیر کے روز یعنی اونم کے پہلے دن درج کی گئی۔ اس دین تقریباً 116 کروڑ روپے کی شراب فروخت کی گئی۔ بیوکو کے مطابق اس دن چھ لاکھ لوگوں نے شراب خریدی۔ اگست میں شراب کی فروخت مجموعی طور پر 1799 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، کو گزشتہ برس اسی مہینے میں 1522 کروڑ روپے تھی۔

آسام میں سیلاب کی صورت حال سنگین، 3.4 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

0
آسام-میں-سیلاب-کی-صورت-حال-سنگین،-3.4-لاکھ-سے-زیادہ-افراد-متاثر

گوہاٹی: آسام میں دریائے برہماپوتر اور دیگر اہم دریاؤں کی آبی سطح میں اضافہ کے سبب سیلاب کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے اور ریاست کے 22 اضلاع میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے جمعرات کو یہ معلومات دی۔

آسام ریاستی آفت انتظامی اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ماجولی سب سے زیاد بحران کا شکار ضلع ہے، جہاں 65 ہزار سے زیادہ افراد کو سیابی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس کے بعد گولپارہ اور موری گاؤں اضلاع میں سیلابی صورت حال نظر آ رہی ہے۔

مجموعی طور پر 1308 افراد نے 153 راحتی کیمپوں میں پناہ لی ہے، جبکہ ضلع انتظامیہ 150 مراکز کے ذریعے راحت فراہم کر رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق اورنگ نیشنل پارک اور ٹائیگر ریزرو کے 44 کیمپ گراؤنڈ میں سے 13 اور پوتی بورا جنگلی حیات سینکٹوری کے 10 کیمپ گراؤنڈ زیر آب آ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق درانگ، دھبری، گولاگھاٹ، جوراہاٹ، کامروپ میٹرو، کریم گنج، ماجولی، موری گاؤں اور اودل گری اضلاع میں 33 سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔ درانگ میں ایک بند ٹوٹ گیا ہے، جبکہ اودل گری میں دوسرے بند کو نقصان پہنچا ہے۔

بارپیٹا، بسوناتھ، بونگائی گاؤں، ڈبروگڑھ، ماجولی، نلباڑی، سونت پور، تنسوکیا اور اودل گری میں بڑے پیانے پر کٹان ہوا ہے۔ تاہم سیاب کے نتیجہ میں کسی جانی نقصان کا حالیہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس کیا طلب، 18 سے 22 ستمبر کے درمیان ہوں گی 5 نشستیں

0
مودی-حکومت-نے-پارلیمنٹ-کا-خصوصی-اجلاس-کیا-طلب،-18-سے-22-ستمبر-کے-درمیان-ہوں-گی-5-نشستیں

نئی دہلی: مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک جاری رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس کے دوران 5 نشتیں ہوں گی۔ یہ 17ویں لوک سبھا کا 13واں اور راجیہ سبھا کا 261واں اجلاس ہوگا۔ حکومت نے تاحال اس اجلاس کو طلب کرنے کا کوئی ایجنڈا ظاہر نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 85 میں پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے کا التزام ہے۔ اس کے تحت حکومت کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حق حاصل ہے۔ پارلیمانی امور کی کابینہ کمیٹی فیصلے کرتی ہے جن کی ترتیب صدر کے ذریعہ دی جاتی ہے، جس کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ (اراکین پارلیمنٹ) کو اجلاس میں مدعو کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے 11 اگست تک ہوا تھا، جس کے دورانن نمنی پور تشدد پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ اپوزیشن منی پور پر پی ایم مودی کے بیان پر بحث پر بضد تھی، جب کہ حکومت وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب پر بحث پر اصرار کر رہی تھی۔ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔

اس کے بعد کانگریس نے منی پور معاملے پر لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ اس دوران راہل گاندھی نے منی پور تشدد کا ذکر کرتے ہوئے مودی حکومت پر سخت حملہ بولا تھا۔ جبکہ وزیر اعظم مودی نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کا جواب دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کی تحریک نامنظور ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ منی پور میں 3 مئی سے تشدد جاری ہے، جس میں اب تک 160 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تشدد کی آگ میں 10 ہزار گھر جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ جبکہ 50 ہزار سے زائد لوگ ریلیف کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

منی پور میں پھر دو گروپ کے درمیان گولی باری، 12 گھنٹوں میں 2 افراد کی موت سے عوام میں دہشت

0
منی-پور-میں-پھر-دو-گروپ-کے-درمیان-گولی-باری،-12-گھنٹوں-میں-2-افراد-کی-موت-سے-عوام-میں-دہشت

منی پور میں تقریباً 4 ماہ سے تشدد کا بازار گرم ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ایسا محسوس ہوا تھا کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں، لیکن ایک بار پھر دو گروپ کے درمیان گولی باری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں میں تصادم کی وجہ سے 2 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کی صبح بشنوپور ضلع کے کھوئرینٹک کے فٹ ہلز اور چراچندپور ضلع کے چنگفیئی و کھوسابنگ علاقوں میں دو گروپ کے درمیان گولی باری کی اطلاع پولیس کو ملی۔

ایک افسر کے حوالے سے کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منی پور میں تازہ تشدد کا معاملہ بدھ کی شام کچھ دیر کی امن کے بعد شروع ہوا تھا۔ تصادم میں کے دوران بم لگنے سے زخمی ہوئے ایک شخص کی موت میزورم کے راستے گواہاٹی لے جاتے وقت ہو گئی، جبکہ ایک دیگر زخمی شخص کی موت چراچندپور ضلع کے اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی۔

موصولہ خبروں کے مطابق چنگفیئی علاقے میں بدھ کے روز ہوئی گولی باری میں زخمی ہوئے پانچ لوگوں میں سے تین کو چراچندپور ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بشنوپور نارائن سینا گاؤں کے پاس منگل کو ہوئے تشدد میں دو لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایک کی موت گولی لگنے سے ہوئی تھی جبکہ دوسرے کی موت اپنے ہی بندوق سے نشانہ چوکنے کے سبب ہوئی۔ دراصل نشانہ چوکنے کے سبب گولی سیدھے اس کے منھ پر لگی جو ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔

اس درمیان منی پور پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ذریعہ کانگپوکپی، تھوبل، چراچندپور اور ویسٹ امپھال کے سرحدی و حساس علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی جس میں 5 اسلحے، 31 گولہ بارود، 19 دھماکہ خیز مادہ، آئی ای ڈی مواد کے تین پیکٹ برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے اصول کی خلاف ورزی کرنے والے 1646 لوگوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں الیکشن سے پہلے بی جے پی کو جھٹکا، رکن اسمبلی وریندر رگھوونشی نے چھوڑی پارٹی، کئی الزامات کئے عائد

0
مدھیہ-پردیش-میں-الیکشن-سے-پہلے-بی-جے-پی-کو-جھٹکا،-رکن-اسمبلی-وریندر-رگھوونشی-نے-چھوڑی-پارٹی،-کئی-الزامات-کئے-عائد

شیو پوری: مدھیہ پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل شیو پوری ضلع کے کولارس اسمبلی حلقہ کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے وریندر رگھوونشی نے کچھ الزامات لگاتے ہوئے آج پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ رگھوونشی کے اگلے چند دنوں میں کانگریس میں شامل ہونے کے امکانات ہیں۔

صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے ساتھ بی جے پی میں آئے ایم ایل سے وزیر بنائے گئے بعض وزراء سے شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے نئے آنے والوں کی وجہ سے پارٹی کے پرانے کارکنوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ریاست میں گائے کے تئیں لاپرواہی اور کسانوں کے قرض معافی جیسے مسائل پر پارٹی کے موقف پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

ایم ایل اے وریندر رگھوونشی نے کہا کہ وہ کانگریس میں تھے لیکن جیوترادتیہ سندھیا سے ناخوش ہونے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے۔ سندھیا بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے، جس کی وجہ سے انہیں بی جے پی چھوڑنی پڑ رہی ہے۔ رگھوونشی نے کہا کہ وہ لگاتار عوام کے لیے کام کر رہے تھے اور ترقی کی کوشش کرتے رہے لیکن سندھیا کے حامی وزیر ان کی ترقی کے ہر کام میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے خلاف فرضی ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے وہ بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

تجربہ کاراور متحرک سیاستداں اروندر سنگھ لولی کے ہاتھوں سونپی دہلی کی کمان

0
تجربہ-کاراور-متحرک-سیاستداں-اروندر-سنگھ-لولی-کے-ہاتھوں-سونپی دہلی-کی-کمان

کانگریس نے ایک مرتبہ پھر اپنے تجربہ کار سیاستداں کو دہلی کی ذمہ داری دے دی ہے۔ دہلی کے سابق وزیر اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کی سابق صدر اروندر سنگھ لولی کو کانگریس اعلی کمان نے  دہلی کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اروندر سنگھ لولی جو دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کی کابینہ میں وزیر کی ذمہ داری بہت کم عمر میں نبھا  چکے  ہیں ان پر اعلی کمان نے یہ اعتماد ان کا سیاست میں متحرک ہونے اور دور اندیش ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔

1968 میں پیدا ہوئے 54 سالہ لولی تعلیمی دور سے ہی سیاست میں متحرک تھے جو ان کو والد کی طرف سے ملی تھی کیونکہ ان کے والد بھی کانگریس میں بہت متحرک تھے۔ اروندر سنگھ لولی نے دہلی یونیورسٹی کے خالصہ کالج سے تعلیم حاصل کی اوروہ اپنے کالج کی طلباء یونین کے لئے منتخب ہوئے جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے دہلی یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی میں کئی ذمہ داریاں سنبھالی۔

جمنا پار کے جس علاقہ میں وہ رہتے تھے یعنی گاندھی نگر سے انہوں نے پہلی مرتبہ 1998 میں انتخابی ساست میں اپنی قسمت آزمائی اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور وہ  کامیاب ہوئے ۔ وہ اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے سب سے کم عمر کے سیاست داں بنے۔  اس کے بعد وہ 2003، 2008 اور 2013 میں اسمبلی کے لئے لگاتار منتخب ہوئے لیکن  وہ بھی کئی قد آور رہنماؤں کی طرح عام آدمی پارٹی کی لہر کے نذر ہو گئے۔

ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی شیلا دکشت نے انہیں بہت کم عمر میں وزارت کی ذمہ داری دی اور انہوں نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بھی۔  شیلا دکشت نے انہیں تعلیم ، اربن ڈولپمنٹ یعنی شہری ترقی  ، ٹرانسپورٹ اور گرودوارہ انتخابات  جیسی کئی وزارتیں دیں ۔سکھ ہونے کی وجہ سے ان کے دور میں گرودوارہ انتخابات میں انہوں نے کافی دلچسپی لی اور سکھوں کو کانگریس کے قریب لانے میں اہم کردار نبھایا۔

عام آدمی پارٹی کی پہلی 49 روزہ حکومت میں ان کی بہت اہمیت تھی کیونکہ کانگریس کے آٹھ منتخب ارکان کی قیادت وہی کر رہے تھے۔ کیجریوال حکومت کے استعفے سے پہلے جو انہوں نے اسمبلی تقریر کی تھی اس کو ان کی شاندار تقاریر میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ اس تقریر کے بعد ان کا سیاسی قد کافی بڑھ گیا تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پارٹی چھوڑی بھی تھی لیکن سال بھر بعد ہی وہ پارٹی میں واپس آ گئے تھے۔

دہلی میں نو جوان کانگریسیوں میں ان کو متحرک رہنماؤں میں شمار کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے جس طرح دہلی سے گزرنے والی بھارت جوڑو یاترا میں متحرک کردار ادا کیا تھا اسی وقت سے ایسا محسوس کیا جا رہا تھا کہ وہ دہلی کی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے والے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ دہلی کی سیاست کو ی کیسے دیکھتے ہیں اور کیا آنے والے دنوں میں لوک سبھا کے لئے عام آدمی پارٹی کے ساتھ کانگریس کا اتحاد کو ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور جو پارٹی اعلی کمان کی ہدایات ہوں گی ان پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ  تمام پارٹی کارکنان کو متحد کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔

اڈانی کی شیل کمپنیوں کے 20 ہزار کروڑ کا مالک کون؟ یہ اڈانی کا نہیں بلکہ ’موڈانی‘ کا معاملہ ہے: کانگریس

0
اڈانی-کی-شیل-کمپنیوں-کے-20-ہزار-کروڑ-کا-مالک-کون؟-یہ-اڈانی-کا-نہیں-بلکہ-’موڈانی‘-کا-معاملہ-ہے:-کانگریس

ممبئی: اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے جانے کے بعد کانگریس پارٹی نے مودی حکومت پر ایک بار پھر حملہ بولا ہے اور پوچھا ہے کہ شیل کمپنیوں میں جو 20 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، اس کا مالک آخر کون ہے۔ پارٹی نے ساتھ ہی اپنے پرانے مطالبہ کو بھی دہراتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ جے پی سی (مشترکہ پارلیمانی کمیٹی) کے ذریعے کرائی جانی چاہئے تبھی حقیقت معلوم ہو سکے گی۔

ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور گوتم اڈانی کے تعلقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’28 جنوری سے 28 مارچ تک کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم مودی سے اڈانی کے حوالے سے 100 سوالات پوچھے تھے لیکن کسی کا جواب نہیں دیا گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں چل سکا کہ اڈانی کی شیل کمپنیوں میں لگے 20000 کروڑ روپے کا مالک کون ہے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’سرمایہ کاری میں شفافیت نہیں ہے، شیل کمپنیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ 20 ہزار کروڑ روپے جو اڈانی کی شیل کمپنیوں میں پائے گئے ہیں اس کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں ان مسائل پر بات کی اور انہیں لوک سبھا سے نااہل قرار دے دیا گیا۔ یہ خالی اڈانی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ موڈانی (مودی اور اڈانی) کا معاملہ ہے۔ اصل مسئلہ وزیر اعظم مودی اور اڈانی کے درمیان تعلقات کا ہے۔‘‘

دریں اثنا، جے رام رمیش نے کہا کہ آج سے 9 دن بعد نئی دہلی میں 18واں جی20 کا سربراہی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے اور آج دنیا بھر کے اخباروں میں انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم کے ایک من پسند دوست اور سرمایہ کار نے شیل کمپنیوں کا استعمال کیا ہے۔ سیبی کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں راہل گاندھی شام کو میڈیا سے خطاب کریں گے اور تفصیلی معلومات دیں گے۔

خیال رہے کہ گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں، جس کے بعد گروپ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور اس کے حصص میں تیزی سے گراوٹ درج کی جا رہی ہے۔ ایک میڈیا گروپ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے خفیہ طور پر اپنے ہی شیئرز خرید کر اسٹاک ایکسچینج میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان الزامات کے بعد اڈانی گروپ نے آناً فاناً میں وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اسے غیر ملکی تنظیموں کی سازش قرار دیا ہے!

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی یہ رپورٹ انگریزی اخبارات گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس نے ماریشس میں اڈانی گروپ کے ذریعہ کئے گئے لین دین کے بارے میں انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گروپ کمپنیوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان خفیہ طور پر اپنے شیئرز خریدے۔

’ہم جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں‘ مرکز کا سپریم کورٹ کو جواب

0
’ہم-جموں-و-کشمیر-میں-کسی-بھی-وقت-انتخابات-کرانے-کے-لیے-تیار-ہیں‘-مرکز-کا-سپریم-کورٹ-کو-جواب

نئی دہلی: آرٹیکل 370 سے متعلق سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کو لے کر سپریم کورٹ میں اہم جواب دیا ہے۔ مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہم جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ لیہ میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے ہیں، جبکہ کارگل میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں 45.2 فیصد کمی آئی ہے۔ میں 2018 کے حالات کا 2023 کے حالات سے موازنہ کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی دراندازی میں 90.2 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔‘‘

جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے بارے میں مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ فی الحال وہ صحیح وقت بتانے سے قاصر ہے لیکن یونین ٹیریٹری (یو ٹی) صرف ایک عارضی واقعہ ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مزید کہا کہ صرف جنوری 2022 میں 1.8 کروڑ اور 2023 میں ایک کروڑ سیاح آئے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو مرکز اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’’مرکز یہ قدم صرف اس وقت تک اٹھا سکتا ہے جب تک ریاست کا درجہ یوٹی کا ہے۔ مرکز انتخابات کے لیے تیار ہے لیکن ریاست اور مرکزی الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کب کیا جائے۔ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے حالات اس وقت بہتر ہو سکتے ہیں۔‘‘

مرکز کے ان دلائل پر سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ’’مرکز کے اس جواب سے معاملے کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کرنے میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم اس معاملے کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کریں گے۔‘‘ دراصل کپل سبل نے کہا تھا کہ عدالت کو اس شعبہ میں نہیں جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے منگل کو اپنی آخری سماعت کے دوران جموں و کشمیر میں جمہوریت کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے متعلق مرکز کی تیاریوں کے بارے میں بھی پوچھا تھا۔

کانگریس پارٹی کی دہلی یونٹ کا اعلان، اروندر سنگھ لولی ڈی پی سی سی کے صدر مقرر

0
کانگریس-پارٹی-کی-دہلی-یونٹ-کا-اعلان،-اروندر-سنگھ-لولی-ڈی-پی-سی-سی-کے-صدر-مقرر

نئی دہلی: کانگریس نے دہلی کے نئے ریاستی صدر کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے اب یہ ذمہ داری انیل چودھری کی جگہ ارویندر سنگھ لولی کو سونپی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر بھی جانکاری دی۔ آئی این سی سندیش کے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا ’’کانگریس صدر نے فوری اثر سے ارویندر سنگھ لولی کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا ہے۔‘‘

کے سی وینوگوپال کی دستخط شدہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے فوری اثر سے ارویندر سنگھ لولی کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی سبکدوش ہونے والے صدر انیل چودھری کی کوششوں اور تعاون کی تعریف کرتی ہے۔

خیال رہے کہ ارویندر سنگھ لولی دہلی پی سی سی کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چار بار رکن اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ لولی دہلی میں شیلا دکشت کی قیادت والی حکومتوں میں شہری ترقی اور محصولات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسے کئی اہم قلمدان سنبھال چکے ہیں۔

انہوں نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مشرقی دہلی کے حلقے سے مقابلہ کیا تھا لیکن ہار گئے تھے۔ لولی کالج کے زمانے میں طلبہ سیاست میں سرگرم رہے تھے۔ بعد میں 1990 میں وہ دہلی یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے طور پر منتخب ہوئے اور پھر 1992 سے 1996 تک نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔