اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 152

’ریاست میں اِسی سال نافذ ہوگا یونیفارم سول کوڈ‘، قدرتی آفات سے نبرد آزما اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا اعلان

0
’ریاست-میں-اِسی-سال-نافذ-ہوگا-یونیفارم-سول-کوڈ‘،-قدرتی-آفات-سے-نبرد-آزما-اتراکھنڈ-کے-وزیر-اعلیٰ-کا-اعلان

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا ہے جس نے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دراصل یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا ہے کہ جتنی جلد ہو سکے یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کا ہمارا عزم ہے۔ دھامی کا کہنا ہے کہ ’’جب ہمیں یو سی سی ڈرافٹ مل جائے گا تو ہم اس عمل کو اس سال آگے بڑھائیں گے۔ ہم یونیفارم سول بل کو ریاست میں جلد از جلد نافذ کریں گے۔‘‘

یہ بیان وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کھٹیما میں دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یو سی سی کے بارے میں ہمارا عزم ہے کہ ہم اسے جلد لائیں گے۔ یہ ہمارے انتخابی منشور میں بھی شامل تھا۔ ہمیں جس کام کے لیے عوام نے منتخب کیا ہے، ہم اس وعدے کو پورا کریں گے اور ہم جلد ہی ریاست میں یکساں سول بل لائیں گے۔ دھامی حکومت نے یو سی سی تیار کرنے کے لیے مارچ 2022 میں کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے عام لوگوں سے ان کی رائے اور مشورے طلب کیے تھے۔

واضح رہے کہ اس متنازعہ ایشو پر دھامی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاست قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہے۔ بارش اور لینڈ سلائڈنگ کے سبب پیدا سنگین حالات سے نمٹنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ اس سال ہوئی بارش سے ریاست کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک کے اندازے کے مطابق قدرتی آفت سے 1335 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے ازالہ کے لیے ریاستی آفات فنڈ سے 323 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ لیکن بقیہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی امداد کے لیے ریاستی حکومت مرکز کو خط لکھے گی۔

ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور تمام ہندوستانی ہندو ہیں! آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت

0
ہندوستان-ایک-ہندو-راشٹر-ہے-اور-تمام-ہندوستانی-ہندو-ہیں!-آر-ایس-ایس-کے-سربراہ-موہن-بھاگوت

ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے یہ تبصرہ جمعہ (یکم ستمبر) کو مہاراشٹر کے ناگپور میں کیا۔ وہ ایک اخبار چلانے والی کمپنی کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بول رہے تھے۔

آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے کہا ’’ہندوستان ایک ‘ہندو راشٹر’ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں اور ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ جو لوگ آج ہندوستان میں ہیں ان کا تعلق ہندو ثقافت، ہندو آباؤ اجداد اور ہندو سرزمین سے ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔‘‘ اس کے ساتھ لوگوں کی توقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگھ کو سب کی فکر کرنی چاہیے۔

بھاگوت نے کہا ’’کچھ لوگ اسے سمجھ چکے ہیں، جب کہ کچھ اپنی عادت اور خود غرضی کی وجہ سے سمجھنے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ اسے یا تو ابھی تک سمجھ نہیں پائے یا بھول گئے ہیں۔‘‘

اخبار کے دفتر میں بھاگوت نے کہا کہ رپورٹنگ میں سب کو شامل ہونا کیا جانا چاہئے اور اپنے نظریے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے منصفانہ اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔ بھاگوت نے کہا کہ ’’ہمارے نظریہ کی پوری دنیا میں بہت مانگ ہے۔ ہر کوئی اسے سمجھ گیا ہے۔ کچھ اسے قبول کرتے ہیں، کچھ نہیں کرتے۔‘‘

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ یہ فطری ہے کہ اس سلسلے میں عالمی ذمہ داری ملکی سماج اور میڈیا پر آئے گی جو ‘نظریہ’ پھیلاتے ہیں۔ بھاگوت نے ماحول کا خیال رکھنے اور ‘سودیشی’، خاندانی اقدار اور نظم و ضبط پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ نتن گڈکری نے اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ مرکزی وزیر گڈکری نے کہا کہ جامعیت اخبار کی شناخت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قارئین ایسا میڈیا پسند کرتے ہیں جو نظریاتی تشخص کے ساتھ جامع ہو۔

’ہم اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں…‘، اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ میں مشترکہ قرارداد پاس، مل کر لوک سبھا انتخاب لڑنے کا عزم

0
’ہم-اِنڈیا-کی-سبھی-پارٹیاں…‘،-اِنڈیا-اتحاد-کی-میٹنگ-میں-مشترکہ-قرارداد-پاس،-مل-کر-لوک-سبھا-انتخاب-لڑنے-کا-عزم

اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ ممبئی میں آج ختم ہو گئی۔ اِنڈیا اتحاد کی اس تیسری میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کیے گئے اور سبھی پارٹیوں کی طرف سے ایک مشترکہ قرارداد بھی پاس کیا گیا۔ اس قرارداد میں اِنڈیا (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) نے آئندہ لوک سبھا انتخاب ایک ساتھ مل کر لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ میٹنگ کے بعد جو قرارداد جاری کیا گیا ہے وہ ذیل میں پیش ہے:

آئندہ لوک سبھا انتخاب ایک ساتھ مل کر لڑنے کو لے کر اِنڈیا (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) کی پارٹیوں کا قرارداد۔

ہم، اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں، جہاں تک ممکن ہو سکے، آئندہ لوک سبھا انتخاب ایک ساتھ مل کر لڑنے کا عزم کرتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں سیٹ تقسیم کا عمل فوراً شروع کیا جائے گا، صلاح و مشورہ اور تعاون کے جذبہ کے ساتھ اسے جلد سے جلد پورا کیا جائے گا۔

ہم، اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں، عوام کے مسائل اور ان سے جڑے اہم ایشوز پر ملک کے مختلف حصوں میں جلد از جلد عوامی جلسے منعقد کرنے کا عزم کرتے ہیں۔

ہم، اِنڈیا کی سبھی پارٹیاں، مختلف زبانوں میں ’جڑے گا بھارت، جیتے گا اِنڈیا‘ تھیم کے ساتھ اپنے مواصلات اور میڈیا پالیسیوں و مہموں کے کوآرڈنیشن کا عزم لیتے ہیں۔

جڑے گا بھارت

جیتے گا اِنڈیا!

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی میٹنگ میں بڑی پیش قدمی، 14 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی بنانے کا اعلان، شرد پوار بھی کمیٹی کا حصہ

0
اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کی-میٹنگ-میں-بڑی-پیش-قدمی،-14-رکنی-کوآرڈنیشن-کمیٹی-بنانے-کا-اعلان،-شرد-پوار-بھی-کمیٹی-کا-حصہ

آئندہ لوک سبھا انتخاب میں مرکز سے بی جے پی اتحاد کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپوزیشن اتحاد اِنڈیا پرعزم دکھائی دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں آج ممبئی میں ہوئی میٹنگ کے دوران انتہائی اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ اِنڈیا اتحاد نے 14 رکنی ایک کوآرڈنیشن کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں این سی پی چیف شرد پوار کا بھی نام ہے۔ ساتھ ہی لوک سبھا انتخاب میں اِنڈیا اتحاد کا نعرہ ہوگا ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘۔

اِنڈیا اتحاد کے ذریعہ جو 14 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں این سی پی چیف شرد پوار کے علاوہ کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال، ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن، شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راؤت، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، ٹی ایم سی لیڈر ابھشیک بنرجی، عآپ لیڈر راگھو چڈھا، سماجوادی پارٹی لیڈر جاوید علی خان، جنتا دل یو لیڈر للن سنگھ، جے ایم ایم لیڈر ہیمنت سورین، سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ، نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ اور پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ سی پی آئی سے بھی ایک لیڈر کو اس کمیٹی میں شامل کیا جائے گا جن کا نام فی الحال فائنل نہیں ہوا ہے۔

آج ہوئی میٹنگ کے دوران اپوزیشن اتحاد اِنڈیا نے لوک سبھا انتخاب 2024 ایک ساتھ مل کر لڑنے کا عزم مصمم ظاہر کیا ہے۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس تعلق سے جانکاری دی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں نے ایک ساتھ لوک سبھا انتخاب لڑنے کا عزم کیا۔ جہاں تک ممکن ہوگا وہاں تک ہم ایک ساتھ لوک سبھا انتخاب لڑیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سیٹ کی تقسیم سے متعلق الگ الگ ریاستوں میں تبادلہ خیال جلد شروع کیا جائے گا اور جلد از جلد اسے پورا کیا جائے گا۔ ملک کے الگ الگ حصے میں جلسہ عام کا انعقاد ہوگا۔ الگ الگ زبانوں میں ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘ کی تھیم کے ساتھ اپوزیشن اتحاد انتخاب میں اترے گا۔ میڈیا کی مشترکہ پالیسی بھی بنائی جائے گی۔‘‘

چندریان-3: جب چاند پر ہو جائے گی رات اور پرگیان-وکرم بند کر دیں گے اپنا کام، تب فعال ہوگا ایک خاص ڈیوائس!

0
چندریان-3:-جب-چاند-پر-ہو-جائے-گی-رات-اور-پرگیان-وکرم-بند-کر-دیں-گے-اپنا-کام،-تب-فعال-ہوگا-ایک-خاص-ڈیوائس!

چندریان-3 کو چاند کی سطح پر لینڈ ہوئے 10 دن ہو چکے ہیں، یعنی اب اس کے پاس تحقیقی عمل انجام دینے کے لیے 4 (آج کا دن چھوڑ کر) دن بچے ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر کو چاند پر رات ہو جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر غیر فعال ہو جائیں گے۔ یعنی یہ دونوں اپنا کام کرنا بند کر دیں گے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ لینڈر ماڈیول میں ایک ڈیوائس ایسا ہے جو اپنا کام تب شروع کرے گا، جب چاند پر رات ہونے کے بعد پرگیان اور وکرم کام کرنا بند کر دیں گے۔

دراصل چندریان-3 کے ساتھ ایک پے لوڈ ’ایل آر اے‘ بھی گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وکرم لینڈر کے ساتھ چاند کی سطح پر جو 4 پے لوڈ گئے ہیں، ان میں سے ایک ہے ’ایل آر اے‘ یعنی لیزر ریٹروریفلکٹر ایرے۔ اس پے لوڈ کو ناسا نے ڈیولپ کیا ہے۔ یہ پے لوڈ اپنا کام چاند پر رات ہونے کے بعد شروع کرے گا۔

ایسی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں کہ وکرم لینڈر اپنے ساتھ مجموعی طور پر 4 پے لوڈ لے کر گیا تھا جس میں رمبھا، چیسٹے اور اِلسا (ان سبھی کو اِسرو نے ڈیولپ کیا ہے) لینڈنگ کے بعد سے ہی اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایل آر اے فی الحال غیر فعال ہے۔ اس پے لوڈ کا اہم کام لینڈر کی لوکیشن کو ٹریک کرنا ہوگا جو آربیٹر سے رابطے مین رہے گا۔ یہ ایک طرح سے لیزر لائٹ ہے جو آربیٹر کے رابطے میں آنے کے بعد کام کرتی ہے اور اپنی لوکیشن کو بتاتی ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ ناسا نے اس پے لوڈ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ وکرم اور پرگیان کے فعال رہنے تک کام نہیں کرے گا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ ایل آر اے کسی بھی طرح وکرم اور پرگیان کے کام کو متاثر نہ کرے۔ ناسا کا یہ آر ایل اے طویل وقت تک کام کرے گا اور مستقبل میں آنے والے مشن کے لیے کارگر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ اِسرو کے ذریعہ جانکاری دی گئی ہے، یہ پے لوڈ وکرم لینڈر کے بالکل اوپر موجود ہے۔ یعنی چندریان-3 کا سفر 6 ستمبر کے بعد بھی جاری رہنے والا ہے، بھلے ہی چاند پر شدید ٹھنڈ بھری رات نہ ہو جائے۔

سپریم کورٹ نے قتل کے معاملے میں سابق رکن پارلیمنٹ پربھو ناتھ سنگھ کو عمر قید کی سزا سنائی

0
سپریم-کورٹ-نے-قتل-کے-معاملے-میں-سابق-رکن-پارلیمنٹ-پربھو-ناتھ-سنگھ-کو-عمر-قید-کی-سزا-سنائی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سابق رکن پارلیمنٹ پربھوناتھ سنگھ کو 1995 میں ان کے خلاف بہار کے چھپرا میں ووٹ ڈالنے کے دوران ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب دو لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے معاملے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے جمعہ کو عمر قید کی سزا سنائی۔

جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ کی بنچ نے مرنے والوں کے لواحقین کو 10-10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا۔ بنچ نے سزا سنانے کے بعد کہا کہ ہم نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔

سزا یافتہ سابق ایم پی سنگھ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی اور آر بسنت کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے کہا کہ ’’صرف ایک ہی آپشن عمر قید یا موت کی سزا ہے۔‘‘

سنگھ کے وکیل نے بنچ کے سامنے کہا کہ انہوں نے سزا کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ ان کی درخواست پر قواعد کے مطابق مناسب وقت پر چیمبر میں غور کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر یہ فیصلہ دیا۔ متاثرہ کے خاندان کے رکن ہریندر رائے نے 2 دسمبر 2021 کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، جس نے نچلی عدالت کے 24 اکتوبر 2008 کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے سنگھ اور چھ دیگر کو 18 سالہ راجندر رائے اور 47 سالہ داروغہ رائے کے قتل سے متعلق تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ آر جے ڈی لیڈر اور سابق ایم پی سنگھ پہلے سے ہی قتل کے ایک اور کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

انڈیا کا ممبئی اجلاس: چندریان 3 مشن کی کامیابی پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی قرارداد، اسرو کو دی مبارکباد

0
انڈیا-کا-ممبئی-اجلاس:-چندریان-3-مشن-کی-کامیابی-پر-حزب-اختلاف-کی-جماعتوں-کی-قرارداد،-اسرو-کو-دی-مبارکباد

ممبئی: اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ممبئی میں جاری دو روزہ اجلاس کے دوسرے اور آخری دن ہندوستان کی خلائی ایجنسی اسرو کے کامیاب چندریان3 مشن پر قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں اسرو کو اس کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے سائنسدانوں نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے جاری کر دہ ایک بیان میں کہا گیا ’’ہم انڈیا کی تمام جماعتیں، اسرو کے مکمل کنبہ – موجودہ اور سابقہ دونوں کو ان کی شاندار کامیابیوں کے لیے مبارکباد پیش کرتے ہیں، جہوں نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ اسرو کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی تعمیر، توسیع اور مضبوط ہونے میں چھ دہائی لگی ہیں۔ چندریان3 نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ’’اب پوری دنیا کل ہونے والی آدتیہ-ایل ون کی لانچنگ کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسرو کی غیر معمولی کامیابیاں ہمارے سماج میں سائنسی خیال اور جذبہ کو مضبوط کریں گی اور ہمارے نوجوانوں کو سائنسی صنعت کے علاقہ میں بہترین تعاون دینے کی تحریک دیں گی۔‘‘

خیال رہے کہ انڈیا اپوزیشن جماعتوں کے ممبئی میں جاری اجلاس کا آج دوسرا اور آخری دن ہے۔ ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اس اہم اجلاس کے دیگر ایجنڈے میں اتحاد کے لیے لوگو کا انتخاب اور ترجمان کا تقرر شامل ہے۔ اس پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ اتحاد کے لیے کنویر مقر کیا جائے یا نہیں۔

ایل پی جی کے کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں 158 روپے کی تخفیف

0
ایل-پی-جی-کے-کمرشل-سلنڈر-کی-قیمتوں-میں-158-روپے-کی-تخفیف

نئی دہلی: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعہ کو کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 158 روپے کی کمی کی ہے۔ یہ قیمتیں آج (یکم ستمبر) سے لاگو ہوں گی۔ اس تبدیلی کے بعد اب دہلی میں 19 کلو کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 1522 روپے ہوگی۔

اس ہفتے کے شروع میں حکومت نے ملک بھر کے تمام کنکشن رکھنے والوں کے لیے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 200 روپے کی کمی کی تھی۔ تجارتی اور گھریلو دونوں ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) سلنڈروں کے لیے ماہانہ نظرثانی ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اگست میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 99.75 روپے کی کمی کی تھی۔

مرکز نے جی ڈی پی پر اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے، تلخ حقیقت کچھ اور ہے: کانگریس

0
مرکز-نے-جی-ڈی-پی-پر-اعداد-و-شمار-بڑھا-چڑھا-کر-پیش-کیے-گئے،-تلخ-حقیقت-کچھ-اور-ہے:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو حکومت پر یہ دعویٰ کرنے کے لئے جوابی حملہ کیا کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد تھی اور کہا کہ اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔ موجودہ رجحانات کو دیکھتے ہوئے سال 2022-23 کے لیے شرح نمو 6 فیصد کے آس پاس رہ سکتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی وجہ سے یہ مایوس کن جی ڈی پی نمو بھی زیادہ تر ہندوستانیوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں کرے گی۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا ’’کل شام مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے سہ ماہی اعداد و شمار پیش کئے گئے اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر دیہی ہندوستان میں افراط زر کی وجہ سے کھپت میں اضافہ کم ہوا ہے۔ درآمدی نمو برآمدی نمو کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ اس کے برعکس جو دعویٰ کیا جا رہا ہے، مینوفیکچرنگ کی ترقی ابھی تک نہیں بڑھی ہے۔’’

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’کم مانسون کا اثر دوسری سہ ماہی سے ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا اور موجودہ رجحانات کے مطابق سال 2022-23 کے لیے شرح نمو 6 فیصد کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔‘‘ رمیش نے کہا ’’بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے ساتھ جی ڈی پی میں 6 فیصد اضافہ بھی زیادہ تر ہندوستانیوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے اپنے دعووں کی حمایت میں جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے دو ٹیبل بھی منسلک کیے۔

قومی شماریاتی دفتر کے اشتراک کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں رواں مالی سال (2023-2024) کی اپریل-جون سہ ماہی میں 7.8 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ 2022-23 کی گزشتہ جنوری۔مارچ کی سہ ماہی میں 6.1 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

تاہم، 2023-24 کی جنوری-مارچ کی مدت میں درج کیا گیا اضافہ 6.1 فیصد تھا، جبکہ 2022-23 کی جنوری-مارچ کی مدت میں یہ 6.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ’’حقیقی جی ڈی پی یا مستحکم (2011-12) کی قیمتوں پر جی ڈی پی 2023-24 کے پہلی سہ ماہی میں میں 40.37 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جبکہ 2022-23 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 37.44 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ جس سے 2022-23 کی پہلی سہ ماہی میں 13.1 فیصد کے مقابلے میں 7.8 فیصد کی ترقی ظاہر ہوتی ہے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زراعت، کان کنی، مینوفیکچرنگ، بجلی، تعمیرات، ہوٹل اور ٹرانسپورٹ جیسی تمام سرگرمیوں میں 2022-23 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے 2023-24 کی پہلی سہ ماہی میں کمی دیکھی گئی۔ آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے مطابق، 2023-24 کی پہلی سہ ماہی کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی ترقی کا تخمینہ 8 فیصد لگایا گیا تھا۔ تاہم، موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی جی ڈی پی کی ترقی آر بی آئی کے تخمینہ سے کم ہے۔

’ون نیشن، ون الیکشن’ پر مرکز کا اہم اقدام، سابق صدر  کووند کی صدارت میں تشکیل دی کمیٹی

0
’ون-نیشن،-ون-الیکشن’-پر-مرکز-کا-اہم-اقدام،-سابق-صدر- کووند-کی-صدارت-میں-تشکیل-دی-کمیٹی

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ‘ون نیشن، ون الیکشن’ کے سلسلے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی قانون کے تمام پہلوؤں پر غور کرے گی اور ایک ملک، ایک الیکشن کے امکانات کا جائزہ لے گی اور عوام کی رائے بھی لے گی۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق پینل میں اور کس کو شامل کیا جائے گا اس بارے میں ابھی تک معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ممبران سے متعلق نوٹیفکیشن بعد میں جاری کیا جائے گا۔ ون نیشن، ون الیکشن کے آئیڈیا کا مطلب ہے ملک میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات۔

مرکزی حکومت نے 18-22 ستمبر کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ انڈیا ٹوڈے نے ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ مرکزی حکومت خصوصی اجلاس کے دوران’ ایک ملک، ایک انتخاب ‘سے متعلق بل پیش کر سکتی ہے۔

آنے والا خصوصی اجلاس وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے 9 سالوں میں اس طرح کا پہلا خصوصی اجلاس ہوگا۔ اس سے پہلے 30 جون 2017 کو جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی ایک خصوصی مشترکہ میٹنگ آدھی رات کو بلائی گئی تھی۔

پارلیمنٹ میں 18 ستمبر سے طلب کیا گیا یہ 5 روزہ مکمل اجلاس ہوگا، جس میں 5 نشستیں ہوں گی۔ اس میں دونوں ایوانوں (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) کی الگ الگ مشستیں ہوں گی، جیسا کہ عام اجلاس  کے دوران ہوتا ہے۔