جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 154

لوک سبھا انتخاب سے قبل اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کو ملی خوشخبری، مولانا بدرالدین اجمل نے بلاشرط حمایت کا کیا اعلان

0
لوک-سبھا-انتخاب-سے-قبل-اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کو-ملی-خوشخبری،-مولانا-بدرالدین-اجمل-نے-بلاشرط-حمایت-کا-کیا-اعلان

دیوبند: اے آئی یو ڈی ایف (آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ) کے سپریمو اور رکن پارلیمان مولانا بدرالدین اجمل نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’بی جے پی کو شکت دینا اور اقتدار سے بے دخل کرنا نہایت ضروری اور قوم و ملت کے مفاد میں ہے۔ آئندہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ہماری پارٹی غیر مشروط طور پر ’انڈیا‘ اتحاد کا ساتھ دے گی۔‘‘ اتنا ہی نہیں، انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں اے آئی یو ڈی ایف ’انڈیا اتحاد‘ کا حصہ ہوگی۔

مولانا بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اپنی ایجینسیوں کے ذریعہ حراساں کر کے حزب اختلاف کو خاموش رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن بی جے پی کی بدحواسی اور سراسیمگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اب اس کے جانے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ جب ملک کے حالات کے بدلیں گے تو اتر پردیش کے حالات بھی از خود بدل جائیں گے۔ ہندوستانی عوام ذہن بنا چکی ہے کہ اب اس ملک کو نفرت کی سیاست سے پاک کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’انڈیا‘ کی فتحیابی کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں۔

مولانا بدرالدین اجمل نے اپنے مذکورہ بالا خیالات دیوبند میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ظاہر کیے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ آئندہ حکومت کی ضمام قیادت راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہو، کیونکہ حتمی طور پر ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات بڑے تشویشناک ہیں۔ جو کچھ نوح اور منی پور میں ہوا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مظفرنگر میں طالب علم کے ساتھ جو نفرت انگیز معاملہ پیش آیا وہ نہایت قابل مذمت اور باعث افسوس ہے۔ لیکن ایک مظفرنگر ہی نہیں ہے، بلکہ پورا جسم زخمی ہے، کس کس زخم کا تذکرہ کیا جائے۔

مولانا اجمل نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ فی الحال ملک میں اقلیتی فرقہ کے حالات نہایت خراب اور ناگفتہ بہ ہیں۔ اس پر آشوب دور میں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم اس ترقیاتی دور میں برادران وطن سے بہت پیچھے ہیں، تعلیمی میدان میں پچھڑ جانے کی وجہ سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہمیں۔ اگر بہتر مستقبل کے بارے میں کچھ کرنا ہے تو بس زیور علم سے خود کو آراستہ کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ مولانا بدرالدین اجمل آج دیوبند آئے ہوئے تھے اور مجلس شوریٰ کے اختتام کے بعد وہ اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ صوبہ آسام کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کی ریاستی حکومت سے عوام پریشان ہے کیونکہ حکومت کوئی بھی فلاحی اور تعمیراتی کام نہیں کر پا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان (بدرالدین) پر ریاستی حکومت سے پس پردہ ساز باز کی الزام تراشی کر رہے ہیں، دراصل وہ خود ہی اس ناپاک عمل میں مبتلا ہیں۔

ہندوستانی بحریہ کی صلاحیت میں ہونے والا ہے اضافہ، یکم ستمبر کو لانچ کیا جائے گا نیا جنگی جہاز ’مہندرگری‘

0
ہندوستانی-بحریہ-کی-صلاحیت-میں-ہونے-والا-ہے-اضافہ،-یکم-ستمبر-کو-لانچ-کیا-جائے-گا-نیا-جنگی-جہاز-’مہندرگری‘

ہندوستانی بحریہ کے جدید جنگی جہاز ’مہندر گری‘ کو جمعہ کے روز یعنی یکم ستمبر کو لانچ کیا جائے گا۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی بیوی سدیش دھنکھڑ مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں اس کا افتتاح کریں گی۔ اس سے بحریہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ایک آفیشیل بیان میں اس تعلق سے تفصیلی جانکاری دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مہندرگری پروجیکٹ 17اے کا ساتواں اور آخری اسٹیلتھ فریگیٹ ہے۔ پروجیکٹ کے تحت چار جنگی جہاز ممبئی کے مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ میں اور باقی کولکاتا کے گارڈن ریچ شپ بلڈرس اینڈ انجینئرس (جی آر ایس ای) میں بنائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک جنگی جہاز کی لانچنگ اس کی مینوفیکچرنگ میں ایک اہم میل کا پتھر ہوتا ہے اور یہ جہاز کے پہلی بار پانی میں داخل کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے قبل صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 17 اگست کو جی آر ایس ای میں پروجیکٹ 17اے کے چھٹے جنگی جہاز ’وندھیہ گری‘ کو لانچ کیا تھا۔

بہرحال، آفیشیل بیان میں کہا گیا ہے کہ مہندرگری کی لانچنگ خود کفیل بحری فوج کی تعمیر میں ہندوستان کی حیرت انگیز ترقی کا ایک بہترین ثبوت ہے۔ پروجیکٹ 17اے فریگیٹ پروجیکٹ 17 (شیوالک اسکوائر) فریگیٹ کا فالو اَپ ہے، جس میں بہتر اسٹیلتھ خصوصیات، معیاری اسلحے اور سنسر و پلیٹ فارم مینجمنٹ نظام ہیں۔ پروجیکٹ 17اے کے تحت گزشتہ 5 جنگی جہاز 22-2019 کے دوران لانچ کیے گئے تھے۔

مرکزی حکومت نے دہلی وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو واپس لینے کے لیے نوٹس کیا جاری

0
مرکزی-حکومت-نے-دہلی-وقف-بورڈ-کی-123-ملکیتوں-کو-واپس-لینے-کے-لیے-نوٹس-کیا-جاری

مرکز کی مودی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر دہلی وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی وزارت برائے شہری ترقی نے اس سلسلے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ ان ملکیتوں میں دہلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے۔ حالانکہ یہ جامع مسجد لال قلعہ کے پاس موجود تاریخی جامع مسجد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک الگ مسجد ہے جو کہ سنٹرل دہلی میں موجود ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت نے دہلی کی 123 اہم ملکیتوں کو دہلی وقف بورڈ کے حوالے کر دیا تھا، انہی ملکیتوں کو مرکزی حکومت نے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزارت برائے شہری ترقی نے بدھ کے روز اس سلسلے میں نوٹس جاری کیا اور دہلی وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو اپنے قبضے میں لینے کی بات کہی ہے۔ دراصل وزارت نے رواں سال فروری میں دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مسجدوں، درگاہوں اور قبرستانوں سمیت وقف بورڈ کی 123 ملکیتوں کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

دراصل 8 فروری کو لکھے ایک خط میں ڈپٹی لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ افسر نے دہلی وقف بورڈ کو خط لکھ کر 123 وقف ملکیتوں سے متعلق سبھی معاملوں کی جانکاری دی تھی۔ مرکزی وزارت برائے اراضی و ترقی دفتر (ایل اینڈ ڈی او) نے کہا کہ غیر نوٹیفائیڈ وقف ملکیتوں کے ایشو پر جسٹس (سبکدوش) ایس پی گرگ کی صدارت والی دو رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے دہلی وقف سے کوئی نمائندگی یا اعتراض نہیں ملا ہے۔

اس معاملے سے متعلق ایک خط میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی فہرست بند ملکیتوں میں کوئی شراکت داری نہیں ہے، نہ ہی انھوں نے ملکیتوں میں کوئی دلچسپی دکھائی ہے اور نہ ہی کوئی اعتراض یا دعویٰ داخل کیا ہے۔ اس لیے دہلی وقف بورڈ کو اس سے آزاد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس تعلق سے مئی میں دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مرکزی حکومت ان 123 ملکیتوں کا فزیکل سروے کر سکتی ہے جن کے قبضے کا دعویٰ دہلی وقف بورڈ کر رہا ہے۔

بہرحال، مرکزی حکومت کے قدم پر عآپ رکن اسمبلی اور وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے پہلے ہی تلخ رد عمل ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس فیصلے سے مسلم طبقہ کے درمیان فکر پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا ’’کچھ لوگ اس کے بارے میں جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت آپ سبھی کے سامنے ہے۔ ہم وقف بورڈ کی ملکیتوں پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

کشمیر: ناساز گار موسمی صورتحال سے سیب پیداوار میں 50 فیصد کمی واقع

0
کشمیر:-ناساز-گار-موسمی-صورتحال-سے-سیب-پیداوار-میں-50-فیصد-کمی-واقع

سری نگر: وادی کشمیر میں امسال گرچہ سیبوں کی مانگ عروج ہے تاہم نا ساز گار موسمی صورتحال کی وجہ سے پیدا وار میں کم سے کم 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ وسطی ضلع بڈگام کے تاریخی قصبہ چرار شریف سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم ڈار نامی ایک باغ مالک کا کہنا ہے کہ ماہ جولائی میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں بیماری لگنے سے فصل تباہ ہوئی۔

انہوں نے یو این آئی کو بتایا: ‘درختوں پر شگوفے برجستہ پھوٹے تھے کہ بیماری لگنے سے مرجھا کر گر آئے’۔ ان کا کہنا تھا: ‘ہم نے متعلقہ محکمے کی ہدایات پر باغوں کی وقت وقت پر دوا پاشی بھی کی لیکن شگوفے درختوں سے گرتے رہے جس کے نتیجے میں پیدا وار میں کم سے کم 50 فیصد کمی واقع ہوئی’۔

تاہم موصوف نے امسال مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور اچھے بھائو سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو اچھا فائدہ ہونے کی توقع ظاہر کی۔ انہوں نے کہا: ‘امسال مارکیٹ میں کافی ڈیمانڈ ہے پیشگی آرڈر مل رہے ہیں اور فصل اتارنے سے پہلے ہی مختلف ریاستوں کے بیو پاری آ رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا: ‘اس سال بابوگوشہ ناشپاتی کے ایک ڈبے کو 8 سے 11 سو روپیے میں فروخت کیا گیا جس کو سال گذشتہ زیادہ سے زیادہ 5 سو روپیے میں بیچا گیا تھا اس قسم کی ناشپاتی کو دلی کی منڈی میں سپلائی کیا جاتا ہے’۔ عبدالقیوم نے کہا کہ چرار شریف کی منڈی میں ممبئی، بنگلور، دہلی اور دیگر ریاستوں کے بیوپاری آ رہے ہیں جو ان کو امریکہ، بنگلہ دیش، نیپال وغیرہ جیسے ملکوں کو بر آمد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے بیوپاری بھی مال خریدنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ‘سال گذشتہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو بے تحاشا نقصان اٹھانا پڑا لیکن امسال ہمیں پوری امید کہ ایسا نہیں ہوگا اور حکام مال کو ملک کی دوسری ریاستوں تک پہنچانے میں قومی شاہراہ پر میوہ سے لدی گاڑیوں کی ہموار نقل وحمل کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر انتظامات کرے گی’۔

انہوں نے کہا کہ اس سال پیداوار میں کمی سے ریٹ اچھی رہے گی۔ موصوف نے کہا کہ سال گذشتہ اس سیزن کے دوران بابو گوشہ ناشپاتی کے 10 سے 15 ٹرک روزانہ دلی جاتے تھے لیکن امسال صرف 2 یا 3 ٹرک ہی جاتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے محمد امین نامی باغ مالک کا کہنا ہے کہ پیدا وار میں کمی کی وجہ ناساز موسمی صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں ژالہ باری ہونے سے بھی میوہ کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا: ‘تاہم شوپیاں کے زیریں علاقوں میں پیداوار تسلی بخش ہے۔ ان کا الزام تھا کہ غیر معیاری ادویات بھی پیداوار میں کمی واقع ہونے کی ایک وجہ ہے۔ محمد امین نے کہا کہ ہائی ڈنسٹی گالا سیب کی ریٹ کافی اچھی ہے اور اس کی مانگ میں بھی اضافہ درج ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سیب نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بازاروں کے علاوہ امسال سعودی عرب کے بازاروں میں بھی پہنچنے کے امکانات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا سیب شکل وصورت اور ذائقے میں امریکہ کے سیب سے مقابلہ کرے گا۔ ایران کے سیبوں کے مارکیٹ میں آنے سے کشمیر کے سیب متاثر ہوئے۔ موصوف باغ مالک کا کہنا ہے کہ اس پر کسٹم ڈیوٹی لگا کر کشمیری سیب کو بچانے کی ضرورت ہے۔

پلوامہ کے ہارٹیکلچر افسر جاوید احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ ماہ اپریل میں سردی ہونے اور جولائی کی مسلسل بارشوں سے درختوں کو بیماری لگ گئی جس کی وجہ سے اس سال پیدا وار میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ‘سکیب’ ایک فنگل بیماری ہے جو بڑھتی ہوئی نمی سے درختوں کو لگ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی معمول کی دوا پاشی اپنا اثر نہیں کرتی ہے جس کے بعد مزید دوا پاشی کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باغ مالکان اکثر صبح یا شام کے وقت باغوں کی دوا پاشی کرتے ہیں اور پھر موسم خراب ہونے سے اس کا کم اثر ہوجاتا ہے۔ موصوف افسر نے کہا کہ محکمہ باغ مالکان کو دوا پاشی کرنے اور دوسرے امور انجام دینے کے لئے مسلسل ہدایات دیتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کی ایک علاحدہ ونگ ہے جو باغ مالکوں کی بھر پور رہنمائی کرتی ہے۔

ایچ ڈی کماراسوامی کی طبیعت ناساز، بنگلورو کے اسپتال میں داخل، ڈاکٹرس کی سخت نگرانی میں ہو رہا علاج

0
ایچ-ڈی-کماراسوامی-کی-طبیعت-ناساز،-بنگلورو-کے-اسپتال-میں-داخل،-ڈاکٹرس-کی-سخت-نگرانی-میں-ہو-رہا-علاج

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر) کے سینئر لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی کو شدید بخار کی شکایت کے بعد 30 اگست کو بنگلورو کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ کماراسوامی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کماراسوامی کے لیے گزشتہ ہفتہ بے انتہا مصروفیت والا ثابت ہوا۔ اس کی وجہ سے انھیں بخار اور تھکن کی شکایت ہوئی جس کے بعد انھیں اپولو اسپیشلٹی اسپتال، جئے نگر میں داخل کرایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال نے صبح 11 بجے ایچ ڈی کماراسوامی کا ہیلتھ بلیٹن جاری کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ فی الحال وہ ہیموڈائنامک طور سے مستحکم، بہتر اور ہم آہنگ ہیں، لیکن انھیں ڈاکٹرس کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ ڈی کماراسوامی گزشتہ کچھ دنوں سے لگاتار میٹنگوں میں شامل ہو رہے تھے اور گزشتہ ہفتے انھوں نے اداکار سے لیڈر بنے اپنے بیٹے نکھل کماراسوامی کے لیے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ان سبھی مصروفیات کے درمیان ان کی صحت پر منفی اثر پڑا۔ اب وہ اسپتال میں ہیں اور ڈاکٹرس ان کی طبیعت کو مستحکم بتا رہے ہیں، حالانکہ پارٹی کارکنان اور فیملی کے اراکین فکرمند ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ کماراسوامی کی پہلے ہی ہارٹ کی ایک بڑی سرجری ہو چکی ہے۔ ویسے ڈاکٹر نے یقین دلایا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے، کماراسوامی جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔

’جیسے جیسے انڈیا آگے بڑھے گا، چین پیچھے ہٹے گا‘، ’اِنڈیا‘ کی ممبئی میں میٹنگ سے قبل ایم وی اے نے کی پریس کانفرنس

0
’جیسے-جیسے-انڈیا-آگے-بڑھے-گا،-چین-پیچھے-ہٹے-گا‘،-’اِنڈیا‘-کی-ممبئی-میں-میٹنگ-سے-قبل-ایم-وی-اے-نے-کی-پریس-کانفرنس

ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی میٹنگ 31 اگست اور یکم ستمبر کو طے ہے۔ اس کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی ممبئی آمد شروع بھی ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ سے قبل آج (30 اگست) ممبئی میں ایم وی اے (کانگریس، شیوسینا، این سی پی) لیڈران نے پریس کانفرنس کی۔ اس دوران شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راؤت نے جانکاری دی کہ میٹنگ کے لیے سبھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 6 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور سبھی لیڈران جو بنگلورو اور پٹنہ کی میٹنگ میں شامل ہوئے تھے، وہ ممبئی کی میٹنگ میں بھی شامل ہوں گے۔ اس بار کی میٹنگ میں 28 پارٹیوں کی شرکت ہوگی، جن میں سے کئی پارٹیوں کے لیڈران آج پہنچ چکے ہیں اور کچھ کی آمد کل ہوگی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’روزانہ خواتین کی سیکورٹی کا خیال رکھا جانا چاہیے، کسی خاص دن نہیں۔ آج خواتین کی ایسی فکر کرنے والی حکومت ریاست اور مرکز میں نہیں ہے۔ اگر بی جے پی کے لوگ خواتین کو راکھی باندھنے کا کام کر رہے ہیں تو سب سے پہلے بلقیس بانو، منی پور کی دو بہنوں اور کشتی فیڈریشن کے خلاف تحریک پر بیٹھی خاتون کھلاڑیوں کو راکھی باندھیں۔‘‘

ادھو ٹھاکرے نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کیے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے جیسے انڈیا اتحاد آگے بڑھے گا، گیس سلنڈر مفت میں ملنے لگیں گے۔ 9 سالوں میں بہنوں کی یاد نہیں آئی۔ یہ حکومت خود گیس پر ہے۔ میں نے سنا ہے کہ ممبئی میں مہایوتی کی ایک میٹنگ ہے۔ کیجیے، لیکن محض مخالفت کے لیے نہیں، ریاست میں خشک سالی والی حالت ہے، اس مسئلہ کا حل تلاش کیجیے۔ ترقی تو انگریزوں کے دور میں بھی ہوتی تھی، لیکن آزادی چاہیے تھی۔ اب ہم ایک تاناشاہ کے خلاف ایک ساتھ آئے ہیں۔ ہندوستانی ماؤں کی حفاظت کے لیے ساتھ آئے ہیں۔ ہماری وجہ سے ہی بی جے پی نے گیس سلنڈر کی قیمت کم کی ہے۔‘‘

پریس کانفرنس سے مہاراشٹر کانگریس صدر نانا پٹولے نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کی میٹنگ کے لیے مہاراشٹر کے کلچر کے مطابق مہمانوں کا استقبال کیا جائے گا۔ ہم بی جے پی کی تاناشاہی کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں، اِنڈیا اتحاد میں لگاتار نئی پارٹیاں بھی شامل ہو رہی ہیں۔ نانا پٹولے نے چین کے ذریعہ جاری نئے نقشہ کا بھی تذکرہ کیا جس میں اروناچل پردیش کو اس نے اپنا بتایا ہے۔ اس معاملے میں انھوں نے کہا کہ ’’جیسے جیسے انڈیا آگے بڑھے گا، چین پیچھے ہٹے گا۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کو ملی راحت، لوک سبھا کمیٹی نے معطلی رد کرنے کا سنایا فیصلہ

0
کانگریس-رکن-پارلیمنٹ-ادھیر-رنجن-چودھری-کو-ملی-راحت،-لوک-سبھا-کمیٹی-نے-معطلی-رد-کرنے-کا-سنایا-فیصلہ

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری 30 اگست کو لوک سبھا کی خصوصی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ بعد ازاں خصوصی استحقاق کمیٹی نے پارلیمنٹ سے ادھیر رنجن چودھری کی معطلی کو رد کرنے کے لیے اتفاق رائے سے تجویز کو پاس کیا۔ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد ادھیر رنجن نے لوک سبھا میں کیے گئے اپنے تبصروں کو لے کر افسوس ظاہر کیا، جس کے بعد کمیٹی نے معطلی رد کرنے کی تجویز پاس کی۔

قابل ذکر ہے کہ ادھیر رنجن چودھری کو مانسون اجلاس کے آخری دن 11 اگست کو پارلیمنٹ سے معطل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ادھیر رنجن نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنیل کمار سنگھ کی صدارت والی کمیٹی سے کہا کہ ان کا ارادہ کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ بعد ازاں خصوصی استحقاق کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ’’کمیٹی نے لوک سبھا سے ادھیر رنجن چودھری کی معطلی کو رد کرنے کے لیے ایک تجویز پاس ہوا ہے۔ یہ تجویز جلد از جلد لوک سبھا اسپیکر کو بھیجا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ مانسون اجلاس کے دوران مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور پرہلاد جوشی نے ادھیر رنجن کے پارلیمنٹ میں برے سلوک کا حوالہ دے کر ان کی معطلی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تجویز پیش کی تھی۔ انھوں نے ادھیر پر الزام لگایا تھا کہ مانسون اجلاس کے دوران جب وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر پارلیمنٹ کو مخاطب کر رہے تھے تو انھوں نے برا رویہ اختیار کیا۔ مرکزی حکومت کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد کے نامنظور ہوتے ہی حکومت نے ادھیر رنجن کے خلاف معطلی کی تجویز پیش کی تھی جو ذیلی ایوان میں صوتی ووٹ سے پاس ہو گئی تھی۔

نوح میں تشدد بھڑکانے کے ملزم بٹو بجرنگی کو ملی ضمانت

0
نوح-میں-تشدد-بھڑکانے-کے-ملزم-بٹو-بجرنگی-کو-ملی-ضمانت

نوح: نوح میں تشدد بھڑکانے کے ملزم بٹو بجرنگی عرف راج کمار کو ضمانت مل گئی ہے۔ اسے 15 اگست کی شام فرید آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ بٹو بجرنگی نے نوح میں برج منڈل یاترا کے دوران سوشل میڈیا پر کئی اشتعال انگیز پوسٹس کی تھیں۔

بٹو بجرنگی کو یاترا کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں سی آئی اے تاؤڑو پولیس نے فرید آباد میں واقع اس کے گھر سے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اسے نوح ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا گیا۔ 14 دن کی عدالتی حراست کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد اے ڈی جے عدالت نے آج بٹو بجرنگی کی ضمانت منظور کر لی۔

بٹو بجرنگی کے خلاف نوح تھانہ صدر میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بٹو بجرنگی کے خلاف اے ایس پی اوشا کنڈو کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں اب تک 60 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں سے 49 فسادات اور 11 سائبر ایف آئی آر ہیں۔ اس کے علاوہ نوح تشدد میں 306 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ان میں سے 305 گرفتاریاں فسادات میں اور ایک گرفتاری سائبر کیس میں ہوئی ہے۔

بٹو بجرنگی کی گرفتاری کے بعد وشو ہندو پریشد نے اپنے آپ کو بجرنگ دل کا کارکن بتانے والے بٹو کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کر دیا تھا۔ وی ایچ پی نے کہا کہ بٹو کا بجرنگ دل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے جو ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا، وشو ہندو پریشد بھی اسے غلط سمجھتی ہے۔

اس معاملے میں درج ایف آئی آر کے مطابق بٹو اور اس کے حامیوں نے اے ایس پی اوشا کنڈو کی ٹیم کے ساتھ بدتمیزی کی اور دھمکی بھی دی جب انہیں تلوار اور ترشول لے کر نلہڑ مندر جاتے ہوئے روکا گیا، جس کے بعد بجرنگی کی شناخت سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہوئی۔

مدھیہ پردیش: مورینا کی فیکٹری میں زہریلی گیس کا رساؤ، 5 مزدوروں کی موت، جائے حادثہ پر پہنچے افسران

0
مدھیہ-پردیش:-مورینا-کی-فیکٹری-میں-زہریلی-گیس-کا-رساؤ،-5-مزدوروں-کی-موت،-جائے-حادثہ-پر-پہنچے-افسران

مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع واقع ایک فیکٹری میں زہریلی گیس کے رساؤ سے پانچ مزدوروں کی موت ہو گئی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق حادثہ ساکشی فوڈ پروڈکٹ نامی فیکٹری میں پیش آیا ہے۔ اس فیکٹری میں چیری بنانے کا کام کیا جاتا ہے۔ جب یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت فیکٹری میں کئی مزدور کام کر رہے تھے اور فوری طور پر سبھی کو فیکٹری سے باہر نکالا گیا۔

حادثہ کی خبر ملنے کے بعد انتظامیہ کے افسران اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ سبھی مہلوکین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھی بھیج دیا گیا ہے۔ حادثہ پیش آنے کے بعد فیکٹری کو خالی کرایا گیا ہے اور وہاں کسی بھی طرح کے کام کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیکٹری مرینا ضلع کے جیروا علاقہ میں موجود ہے ہجاں دو مزدور زہریلی گیس کی زد میں آ گئے تھے، اور انھیں بچانے کی تین مزدوروں نے کوشش کی اور وہ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ساکشی فوڈ فیکٹری میں دو مزدور 9 فیٹ گہرے ٹینک کو صاف کرنے کے لیے اترے تھے۔ ٹینک میں زہریلی گیس کا رساؤ ہونے کے سبب دونوں مزدوروں کو بچانے کے لیے ایک کے بعد ایک تین دیگر مزدور اسی ٹینک میں اتر گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پانچوں زہریلی گیس کی زد میں آ گئے اور موت کی نیند سو گئے۔ پانچوں مزدوروں کی موت ٹینک کے اندر ہی ہو گئی۔ مہلوکین میں تین مزدور کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سگے بھائی ہیں۔

کرناٹک میں گرہ لکشمی یوجنا کا افتتاح، خواتین کو ہر ماہ ملیں گے 2000 روپے، راہل گاندھی نے کہا- ’ہم جو کہتے ہیں کر کے دکھاتے ہیں‘

0
کرناٹک-میں-گرہ-لکشمی-یوجنا-کا-افتتاح،-خواتین-کو-ہر-ماہ-ملیں-گے-2000-روپے،-راہل-گاندھی-نے-کہا-’ہم-جو-کہتے-ہیں-کر-کے-دکھاتے-ہیں‘

انبنگلورو: راہل گاندھی نے آج (30 اگست) میسور میں کرناٹک حکومت کی گرہ لکشمی اسکیم کا افتتاح کیا۔ اس پروگرام میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور رندیپ سرجے والا موجود تھے۔

جیسے ہی راہل گاندھی نے اسکیم کا افتتاح کیا، 2000 روپے ان ایک کروڑ 09 لاکھ 54 ہزار خواتین کے کھاتوں میں پہنچ گئے جنہوں نے اسکیم کے لیے رجسٹریشن کرایا تھا۔ اس اسکیم کا فائدہ ان خواتین کو ملے گا جن کے نام پر راشن کارڈ ہے۔ انکم ٹیکس ادا کرنے والی خواتین یا ان کے شوہر اس اسکیم کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

اس موقع پر راہل نے کہا ’’ان دنوں ایک فیشن ہے کہ دہلی میں حکومت صرف ارب پتیوں کے لیے کام کرتی ہے۔ ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں۔ ہم نے انتخابات میں جو پانچ وعدے کیے تھے، وہ حکومت سازی کے 100 دنوں کے اندر پورے ہو گئے ہیں۔ ان پانچ وعدوں میں سے چار خواتین کے لیے ہیں۔ اس کے پیچھے ہماری سوچ یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑا درخت مضبوط جڑوں کے بغیر کھڑا نہیں رہ سکتا، اسی طرح کرناٹک کی طاقت کی بنیاد یہاں کی مائیں اور بہنیں ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا بڑے سے بڑا درخت بھی جڑوں کے بغیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ جڑ مضبوط ہو تو کتنا ہی بڑا طوفان آجائے، درخت گرتا نہیں، جھکتا نہیں۔ بنیاد کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ بنیاد جتنی مضبوط ہوتی ہے عمارت اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ’’میں نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہزاروں خواتین سے ملاقات کی۔ کرناٹک میں تقریباً 600 کلومیٹر پیدل چل کر میں نے آپ (خواتین) سے بات کی۔ یہاں مجھے ایک بات گہرائی سے سمجھ آئی۔ آپ نے فرمایا کہ مہنگائی تکلیف دے رہی ہے۔ چاہے وہ پٹرول ہو، ڈیزل ہو یا گیس سلنڈر۔ آخر کار ہماری ماؤں بہنوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ہزاروں خواتین نے مجھے بتایا کہ وہ مہنگائی برداشت نہیں کر سکتیں۔ کرناٹک کی خواتین اس ریاست کی بنیاد ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی یہ اسکیم دنیا کی سب سے بڑی کیش ٹرانسفر اسکیم ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں حکومت خواتین کو اتنا پیسہ دے رہی ہو۔ یہ دو ہزار روپے کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے خواتین کو تحفظ ملے گا۔ اس سے وہ کچھ رقم بچا سکیں گے۔ بچوں کی کتابیں خرید سکیں گے۔ یہ خواتین پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’’میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کی تمام کامیابیاں ماؤں بہنوں کی کامیابیاں ہیں۔ اس ملک نے 70 سالوں میں جو کچھ بھی حاصل کیا ہے، آپ نے کیا ہے۔ ہم آپ سے جھوٹے وعدے نہیں کریں گے۔ اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو ہم آپ کو بتائیں گے۔ یہ اسکیم کانگریس کے تھنک ٹینک صنعتکار نے نہیں بلکہ آپ نے بنائی ہے۔‘‘