جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 151

منی پور تشدد: 3 دن کے اندر 5 افراد ہلاک، 20 زخمی، ایک گاؤں میں آتشزدگی

0
منی-پور-تشدد:-3-دن-کے-اندر-5-افراد-ہلاک،-20-زخمی،-ایک-گاؤں-میں-آتشزدگی

امپھال: منی پور کے بشنو پور اور چوراچاند پور اضلاع میں گزشتہ تین دنوں کے دوران ایک قبائلی نغمہ نگار اور ایک گاؤں کے دفاعی رضاکار سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہو گئے، جبکہ کوکیوں اور میتیوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام نے جمعرات کی رات یہ جانکاری دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تین دنوں سے جاری مسلسل فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد چھ سے سات ہے تاہم حکام نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں 50 سالہ ایل ایس مانگبوئی لونگڈم بھی شامل ہیں، جنہون نے 3 مئی کو منی پور میں نسلی تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد ’آئی گم ہیلو ڈیم (کیا یہ ہماری سرزمین نہیں ہے؟)” گانا کمپوز کیا تھا۔ مرنے والوں میں وی ڈی وی زانگامنلون گانگٹے بھی شامل ہیں۔

امپھال میں پولیس حکام نے بتایا کہ چورا چند پور ضلع کے بشنو پور اور آس پاس کے علاقوں میں دو حریف نسلی گروہوں کے درمیان صبح سے فائرنگ کا تازہ تبادلہ شروع ہوا، جو جمعرات کی شام تک جاری رہا۔

منی پور کے بشنو پور اور چورا چاند پور اضلاع میں گولی باری کے دوران چھرے سے زخمی ہونے والے دو افراد کی جمعرات کو موت ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ بدھ کو بم دھماکے میں زخمی ایک نوجوان کی اس وقت موت ہو گئی جب اسے میزورم کے راستے گوہاٹی ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔ یک پولیس افسر نے بتایا کہ بدھ کی فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک اور شخص کی جمعرات کو چوراچاند پور ڈسٹرکٹ ہسپتال میں موت ہو گئی، جہاں وہ زیر علاج تھا۔

دفاعی ذرائع نے بتایا کہ فوری اور موثر جوابی کارروائی میں فوج کی کوئیک ایکشن ٹیم نے جمعرات کی شام لیماکھونگ کے قریب آتشزنی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ چنگ مانگ گاؤں کے قریب فوج کے ایک دستے نے ایک خالی مکان سے آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتے دیکھا۔ بغیر کسی تاخیر کے، اہلکار حرکت میں آگئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ واقعے کے چند منٹوں میں ہی آرمی کے تین واٹر باؤزر موقع پر پہنچ گئے اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔

اس دوران آتشزدگی کی کوشش میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بھی چلایا جا رہا ہے۔ ایک دفاعی ترجمان نے کہا کہ فوج کی فوری کارروائی نے گھر کو جلنے اور آگ کے شعلے پڑوسی گھروں تک پھیلنے سے روکے۔ منی پور پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ لون فائی، کھوسابنگ، کنگوائی اور سوگنو کے علاقے حملے کی زد میں ہیں اور واضح کیا کہ کانگوائی اور سوگنو میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

تاہم لون فائی اور کھوسابنگ میں فائرنگ ہوئی۔ علاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور بعد میں فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا۔ اس نے کہا کہ حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں۔ پولیس کے ایک الگ بیان میں کہا گیا ہے کہ تلاشی آپریشن کے دوران چورا چند پور سے 20 بم، تین لوٹے گئے ہتھیار اور 20 مختلف قسم کا گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

انڈیا کا ممبئی اجلاس: پہلے دن غیر رسمی ملاقات، آج غور و خوض کا دن، سیٹوں کی تقسیم پر فیصلہ متوقع

0
انڈیا-کا-ممبئی-اجلاس:-پہلے-دن-غیر-رسمی-ملاقات،-آج-غور-و-خوض-کا-دن،-سیٹوں-کی-تقسیم-پر-فیصلہ-متوقع

ممبئی: ملک بھر کی 26 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے انڈیا اتحاد کے بینر تلے جمعرات کو ممبئی میں 2024 میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے اور اتحاد کے شراکت داروں کے درمیان تال میل پیدا کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔

ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، شرد پوار، راہل گاندھی، ممتا بنرجی، ادھو ٹھاکرے، اور اروند کیجریوال سمیت تمام اعلیٰ اپوزیشن لیڈران نے یہاں کے ہوٹل گرینڈ حیات میں منعقد غیر رسمی جلسے میں شرکت کی۔ جمعہ یعنی آج ہونے والے باضابطہ اجلاس میں اتحاد کی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ ملاقات کے بعد ٹھاکرے نے انڈیا لیڈران کے لیے عشائیہ کا اہتمام کیا۔

خیال رہے کہ یہ اپوزیشن اتحاد کا تیسرا اجلاس ہے۔ پہلا اجلاس جون میں پٹنہ میں منعقد ہوا تھا، جبکہ جولائی میں بنگلورو میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے دوران اتحاد کے نام انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنز (انڈیا) کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ انڈیا کی اتحادی جماعتیں جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کریں گی۔

رپورٹ کے مطابق انڈیا کے کنوینر اور کمیٹیوں کے ناموں کو جمعہ کے دن طے کیا جائے گا۔ اپوزیشن لیڈروں نے بحث کی کہ حکومت نے پارلیمنٹ کا پانچ روزہ خصوصی اجلاس کیوں طلب کیا! انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ آیا حکومت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ اور یہ کہ اس کے لئے اتحاد کو تیار رہنا چاہئے۔

رپورٹ کے مطابق ’’پارٹیوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کچھ سیٹیں مختص کی جانی چاہئیں اور کیا پارٹیوں کی مشترکہ ریلیاں ہونی چاہئیں؟ ملاقات کے دوران سماج وادی پارٹی نے انتخابات میں اتر پردیش کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مرکزی ایجنسیوں کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔ کنوینر اور کمیٹیوں کے ناموں کو کل (آج) حتمی شکل دی جائے گی۔‘‘

ذرائع کے مطابق رہنماؤں نے علاقائی سطح پر سروے کرانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی بحث (جمعہ کے اجلاس میں) علاقائی نشستوں کی تقسیم پر ہوگی۔ ذرائع نے کہا کہ لوک سبھا سیٹوں کی تقسیم کے لئے بحث مقامی سطح پر مقامی امتزاج اور طاقت کے مطابق کی جانی چاہئے۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک کنوینر اور ایک ورکنگ گروپ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’ہم اس طرح ہر دو ماہ بعد اجلاس نہیں کر سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر ورکنگ گروپ بنا کر باقاعدگی سے ملاقاتیں کی جائیں گی تو یہ یقینی طور پر کارآمد ثابت ہوں گی۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا اتحاد کا وزیر اعظم چہرہ کون ہوگا، عبداللہ نے کہا ’’اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کسی وزیر اعظم کے چہرے کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن ہونے دیں، ہمیں اکثریت حاصل کرنے دیں، اس کے بعد فیصلہ ہوگا۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کی لیڈر پرینکا چترویدی نے کہا کہ اپوزیشن ممبئی اجلاس کے دوران ایک حکمت عملی تیار کرے گی جس سے انہیں 2024 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ چترویدی نے کہا ‘‘یہ ایک تاریخی دن ہے اور آج ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ ہم کام کریں گے اور ایک حکمت عملی بنائیں گے جو 2024 میں جیتنے میں ہماری مدد کرے گی۔‘‘

انڈیا اتحاد کے اجلاس کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ اتحاد کے وزیر اعظم کے چہرے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ملک کے اتحاد اور خودمختاری کو مضبوط کیا جائے اور آئین اور جمہوریت کی حفاظت کی جائے۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما نے کہا ’’مودی حکومت غربت، بے روزگاری اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انڈیا اتحاد کے اجلاس میں ہم ایک مشترکہ پروگرام تیار کرنے پر کام کریں گے۔ ہمیں الیکشن میں براہ راست طور پر (بی جے پی کے خلاف مشترکہ امیدوار کھڑے کر کے) مقابلہ کرنا ہے۔

لالو پرساد یادو کے بیٹے اور بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن بہار میں گزشتہ اگست میں اقتدار میں آیا تھا اور لالو پرساد یادو اور جنتا دل (یونائیٹڈ) لیڈر نتیش کمار نے تمام ہم خیال جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور ایک حزب اختلاف کا ایک وسیع اتحاد قائم کرنے پر کام کیا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما محبوبہ مفتی نے کہا کہ نوجوان ملک کی طاقت ہیں۔ انہوں نے کہا ’’جواہر لال نہرو سے لے کر منموہن سنگھ تک لیڈروں نے نوجوانوں کو ہدایت دینے اور جے این یو، آئی آئی ایم، اسرو جیسے ادارے قائم کرنے کا کام کیا۔‘‘

پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا کہ انڈیا اتحاد کی تشکیل کا مقصد ملک کو بچانا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ملک کا وفاقی ڈھانچہ خطرے میں ہے۔ ان ریاستوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں (بی جے پی) اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ اتحاد سیٹوں کی تعداد بڑھانے یا کم کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ملک کو بچانے کے لیے ہے۔‘‘

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ اجلاس میں حصہ لینے والی پارٹیاں ملک، اس کی جمہوریت اور آئین کے بارے میں اپنے خیالات پر غور کریں گی۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما راگھو چڈھا نے کہا کہ بی جے پی ہندوستان کے اتحاد سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’انہیں لفظ انڈیا سے نفرت ہے اور وہ اس نام کو دہشت گرد تنظیم سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ صرف نفرت نہیں ہے بلکہ یہ خوف کہ اگر اگر اتحاد کامیاب ہو گیا تو کیا ہوگا؟‘‘

آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا کہ اتحاد ملک کو متحد کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف جماعتوں کا اتحاد نہیں ہے بلکہ نظریات کا اتحاد ہے۔ جھا نے مزید کہا کہ ملک کو شفا کی ضرورت ہے اور یہ اتحاد قوم کی تعمیر نو اور حکمران جماعت کو آئینہ دکھانے کے لیے ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسی (سی پی آئی-ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ انڈیا کے بارے میں لوگوں کے ردعمل نے وزیر اعظم اور بی جے پی کو بے چین کر دیا ہے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی ورکنگ صدر سپریہ سولے نے کہا کہ انڈیا اتحاد کو نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کا چیلنج درپیش ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی اور بے روزگاری پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’بی جے پی کو ہمارے اتحاد کے نام سے مسئلہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بہتر کام کر رہے ہیں۔‘‘

بھارت: کوٹہ ‘خودکشیوں کا شہر’ کیوں بنتا جا رہا ہے؟

0
بھارت:-کوٹہ-‘خودکشیوں-کا-شہر’-کیوں-بنتا-جا-رہا-ہے؟

تضادات سے پر بھارتی سماج میں والدین کا ایک بڑا طبقہ خود کو نمایاں کرنے کا بوجھ بچوں کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیتا ہے۔ بچوں کا ڈاکٹر یا انجینئر بننا سماج میں ممتاز ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کوچنگ ادارے اسی خواہش کا استحصال کرتے ہیں۔

راجستھان کے شہر کوٹہ میں پورے بھارت سے بچے آتے ہیں جہاں موجود کوچنگ ادارے انہیں میڈیکل یا انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے امتحانات میں کامیابی دلا کر ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا بھروسہ دلاتے ہیں۔ لیکن بیشتر لوگوں کے خواب پورے نہیں ہوتے۔

بھارت میں چند ایک کو چھوڑ کر تقریباً تمام سرکاری اور پرائیوٹ انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے طلبہ کو بالترتیب جے ای ای (جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن) یا نیٹ (نیشنل ایلیجبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ) میں حصہ لینا پڑتا ہے۔ یہ مسابقتی امتحانات کافی مشکل ہیں اور ان میں شریک ہونے والے لاکھوں طلبہ میں سے صرف چند ہزار ہی اچھے کالجوں میں داخلہ پانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

کوٹہ کو ‘کوچنگ ہب’ کہا جاتا ہے لیکن یہ خودکشی کے مرکز کے طورپر مشہور ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے آٹھ ماہ میں 24 طلبہ خودکشی کر چکے ہیں ان میں سے 14 ایسے تھے جو چند ماہ قبل ہی یہاں آئے تھے۔ گذشتہ 27 اگست کو صرف چار گھنٹے کے وقفے سے یہاں دو طالب علموں نے خودکشی کرلی۔ ان میں سے ایک 18 سال کا آدرش بہار کا رہنے والا تھا اور صرف چار ماہ قبل ہی نیٹ کی تیاری کے لیے یہاں آیا تھا۔ دوسرا مہاراشٹر کا 17 سالہ سمباجی کالسے تھا۔ جو پچھلے تین سال سے نیٹ میں کامیابی کے لیے محنت کر رہا تھا۔

خودکشی کے ان واقعات کے بعد مسابقتی امتحانات کی وجہ سے طلبہ پر پڑنے والے دباو اور ان کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ آدرش اپنے معمول کے ٹیسٹ میں 700 میں سے صرف 250 مارکس لا پا رہا تھا جس کی وجہ سے کافی پریشان تھا۔ کیونکہ اتنے کم مارکس کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بالآخر وہ اس دباو کو برداشت نہ کرسکا اور زندگی کو ختم کرنے کا انتہائی قدم اٹھا لیا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے 12سال میں کوٹہ میں 150سے زائد طلبہ خودکشی کرچکے ہیں۔ کوٹہ پولیس کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دسمبر میں چار طلبہ نے خودکشی کرلی تھی، جس کے ساتھ سن 2022 میں خودکشی کرنے والوں تعداد 15ہوگئی تھی۔ سن 2015 میں 17طلبہ نے، سن 2016 میں 16طلبہ نے، سن 2017 میں سات، سن 2018 میں 20 اور سن 2019 میں آٹھ طلبہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

سن 2020 اور 2021میں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے کوچنگ ادارے بند رہے اس لیے خودکشیوں کی تعداد صرف چار اور ایک رہی۔

پٹنہ میں ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہتے ہیں، "جے ای ای یا نیٹ امتحان کا جو پیٹرن ہے اس سے بچوں پر پڑھائی کا کافی دباؤ رہتا ہے۔ انہیں ایک ایک نمبر کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اور نگیٹیو مارکنگ اسے مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اس لیے کوچنگ کے ٹیسٹ میں پیچھے رہنے پر انہیں اپنا وجود ہی خطرے میں دکھائی دینے لگتا ہے۔”

ڈی ڈبلیو کے ایک صحافی نے اس حوالے سے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کوچنگ ٹیسٹ میں کم نمبر لانے کی وجہ سے ان کی بیٹی کس طرح ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ اور کافی علاج اور کاونسلنگ کے بعد ہی وہ اس صورت حال سے نکلنے میں کامیاب ہو سکی۔ سائیکالوجی کی استاذ رشمی شیکھر کا کہنا تھا، "اس صورت حال کے لیے والدین کے توقعات بھی کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ کوئی بھی بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق ہی چیزوں کو سمجھتا ہے۔ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے اس پر دباو ڈالنا نہیں چاہئے اور پاس پڑوس کے بچوں کی کامیابی کو دیکھ کر تو قطعی نہیں۔”

طلبہ حساس ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ والدین ان پر کافی پیسے خرچ کررہے ہیں ایسے میں وہ خود کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس سے ان کے لیے ‘کرو یا مرو’ جیسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور جب وہ دباو برداشت نہیں کرپاتے تو انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ جے ای ای کی تیاری کرنے والی اوڈیشہ کے ایک طالبہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے دو سال سے کوٹہ میں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان کی زندگی ایک ‘ٹریڈ مل’ بن کر رہ گئی ہے۔

وہ کہتی ہیں "یہ ٹریڈ مل پر دوڑنے کی طرح ہے۔ آپ کے پاس صرف دو ہی متبادل ہوتے ہیں یا تو اس سے اتر جائیں یا پھر دوڑتے رہیں۔ آپ وقفہ نہیں لے سکتے۔ اپنی رفتار سست نہیں کرسکتے، بس صرف دوڑتے رہنا ہے۔” ایک دیگر طالب علم کا کہنا تھا کہ اگر آپ کچھ دیر بھی پڑھائی نہیں کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے وقت برباد کردیا، جس سے احساس جرم پیدا ہوتا ہے اور دباو کی وجہ سے کارکردگی مزید متاثر ہوتی ہے۔ کوٹہ میں ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ وہاں کوچنگ حاصل کرنے والے طلبہ ایک دوسرے کو دوست سمجھنے کے بجائے مدمقابل اور اپنی کامیابی کی راہ میں کانٹا سمجھتے ہیں۔ اور اسے ہرا کر خود کو کامیاب بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ گھر سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچے تنہائی محسوس کرتے ہیں اور کئی مرتبہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جس کا علم نہ تو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ ہوتا ہے اور نہ ہی والدین کو۔ بعض والدین کو اس کا احساس ہے۔ اس لیے وہ کوچنگ کے دوران بچوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں ہے۔

اپنی بیٹی کے ساتھ کوٹہ میں دو سال تک رہ کر کوچنگ مکمل کرانے والی ایک خاتون انجم (بدلا ہوا نام) نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ” وہ اپنے گھر اور شوہر سے دو سال تک دور رہیں تاکہ ان کی بیٹی کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ حالانکہ اس کا مالی بوجھ بھی ان پر پڑا لیکن اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کی امید میں انہوں نے یہ سب برداشت کیا۔” یہ الگ بات کہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود وہ اتنا مارکس نہیں لاسکی کہ کسی مشہور انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل سکے۔ بیشتر طلبہ کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

کوٹہ میں ہر سال تقریبا ً ڈھائی لاکھ طلبہ کوچنگ اداروں میں داخلہ لیتے ہیں۔ یہاں چار ہزار سے زیادہ ہاسٹل اور چالیس ہزار سے زیادہ پی جی (پیئنگ گیسٹ) ہیں، جہاں بچے رہتے ہیں۔ کوچنگ کی فیس سالانہ ایک سے دو لاکھ کے قریب ہوتی ہے اور بچوں کے قیام و طعام پر فی کس ماہانہ سات سے پندرہ ہزار روپے تک کا علیحدہ خرچ آتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کوٹہ میں کوچنگ کی صنعت تقریباً 12000 کرو ڑ روپے کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کی خودکشی کے لیے کسی ایک کو ذمے دار ٹھہرانا مناسب نہیں ہوگا۔ اور اس رجحان کو روکنے کے لیے کئی محاذوں پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں حکومت، کوچنگ اداروں اور سرپرست ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

والدین کو سمجھنا ہوگا کہ ہر بچے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ انہیں بچے کی پسند کے برخلاف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے دباو ڈالنا درست نہیں ہے۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹس کو اپنے طریقہ کار ایسا بنانا ہوگا جس سے طلبہ کے دماغ پر غیر ضروری دباو نہ پڑے۔ جب کہ حکومت اس امر کویقینی بنانا ہوگا کہ کوچنگ ادارے رہنما خطوط پر عمل درآمد کریں۔

‘سپر 30 ‘ کے بانی اور ریاضی داں آنند کمار، جو انجینئرنگ کے بہترین کالجوں میں داخلے میں سینکڑوں طلبہ کی مدد کرچکے ہیں اور جن کی زندگی پر بالی وڈ میں فلم بھی بن چکی ہے، کوٹہ کے حالات سے خاصے فکر مند ہیں۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کوچنگ سینٹروں سے طلبہ کو "اپنا بچہ”سمجھتے ہوئے ان پر پوری توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے لکھا،”میں کوچنگ چلانے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تعلیم کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ بچوں کو اپنا بچہ سمجھتے ہوئے ان پر توجہ دیں۔”

انہوں نے مزید لکھا، "میں طلبہ سے بھی کہنا چاہوں گا کہ صرف ایک امتحان آپ کی صلاحیتوں کا فیصلہ نہیں کرتا۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ اسی کے ساتھ والدین کو بھی اپنے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے بچوں پر دباو نہیں ڈالنا چاہئے۔”

کوٹہ کی ضلع انتظامیہ نے ہاسٹلوں یا پی جی والے کمروں کے لیے کئی ہدایتیں جاری کی ہیں۔ ان میں اسپرنگ لوڈڈ پنکھے لگانے کا حکم دیا ہے تاکہ اگر کئی طالب علم پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرنے کی کوشش کرے تو پنکھا گر جائے اور اس کی جان بچ جائے۔ انہوں نے بالکنی میں جال لگانے کی بھی ہدایت دی ہے۔

کوٹہ کے کلکٹر نے کوچنگ اداروں میں دو ماہ تک کوئی امتحان نہ لینے کی ہدایت بھی دی ہے۔ حالانکہ لوگوں نے ان طریقہ کار کو فضول کوشش قرار دیا ہے۔ خودکشی کے بڑھتے واقعات کے مدنظر راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ایک کمیٹی قائم کی ہے اور اسے پندرہ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کمیٹی میں کوچنگ اداروں کے نمائندوں کے علاوہ والدین اور ڈاکٹروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ان طریقہ کار سے طلبہ کی خودکشی رک جائے گی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ شاید نہیں۔ ماہرین تعلیم نظام تعلیم اور امتحانات کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ والدین اور بچوں کو بھی زندگی میں کامیابی کے حوالے سے اپنا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

(پٹنہ سے منیش کمار کے ساتھ)

راجستھان: وسندھرا راجے نے بی جے پی کو پھر دیا ٹینشن، پارٹی کی ’پریورتن یاترا‘ سے پہلے اپنی یاترا کا کیا اعلان

0
راجستھان:-وسندھرا-راجے-نے-بی-جے-پی-کو-پھر-دیا-ٹینشن،-پارٹی-کی-’پریورتن-یاترا‘-سے-پہلے-اپنی-یاترا-کا-کیا-اعلان

راجستھان میں انتخاب سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے ایک بار پھر بی جے پی کی ٹینشن بڑھا دی ہے۔ دراصل وسندھرا نے پارٹی کی ’پریورتن یاترا‘ شروع ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے جمعہ کو ریاست کے تین مندروں کی یک روزہ مذہبی یاترا پر جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے اعلان سے کئی طرح کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

آفیشیل ذرائع کے مطابق وسندھرا راجے جمعہ کو چاربھجا، ناتھ دوار اور تریپورہ سندری مندروں کا دورہ کریں گی۔ وسندھرا کا دیو دَرشن راج سمند ضلع کے چاربھجا مندر سے شروع ہوگا۔ وسندھرا 2013 اور 2018 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے بھی اسی مندر سے اسی طرح کی یاترا پر نکلی تھیں۔

سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا جمعہ کی صبح جئے پور سے ہیلی کاپٹر سے روانہ ہوں گی اور سیدھے راج سمند ضلع کے چاربھجا مندر پہنچیں گی۔ یہاں سے زیارت کے بعد وہ ہیلی کاپٹر سے اسی ضلع کے ناتھ دوار کے لیے روانہ ہوں گی۔ پھر وہاں سے بانسواڑا ضلع واقع تریپورہ سندری مندر جائیں گی۔ اس درمیان وسندھرا کے دفتر نے بتایا ہے کہ وہ ہر بار سیاسی یاترا سے پہلے مذہبی یاترا پر جاتی ہیں۔

اسے اتفاق کہا جائے یا کچھ اور، لیکن یہ دلچسپ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ بی جے پی کے ذریعہ منعقد کی جا رہی 4 پریورتن یاتراؤں میں پارٹی کا چہرہ نہیں ہیں۔ ایسے میں پارٹی کی پریورتن یاترا شروع ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے وسندھرا کے مذہبی یاترا پر نکلنے سے ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ وسندھرا جمعہ کو جن تین مقامات کا دورہ کرنے جا رہی ہیں، ان میں سے ہر ایک پر ان کے حامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کی ’پریورتن یاترا‘ سے قبل کی شام وسندھرا کے اچانک مذہبی یاترا پر جانے کے اعلان سے ریاست کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ نے ابھی تک پریورتن یاترا میں شامل ہونے کے اپنے منصوبہ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

’یہ گھبراہٹ کی علامت ہے‘، پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیے جانے پر راہل گاندھی کا رد عمل

0
’یہ-گھبراہٹ-کی-علامت-ہے‘،-پارلیمنٹ-کا-خصوصی-اجلاس-طلب-کیے-جانے-پر-راہل-گاندھی-کا-رد-عمل

کانگریس کے سابق صدر اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیے جانے کو حکمراں طبقہ کی گھراہٹ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی اڈانی معاملہ سامنے آتا ہے تو کچھ اسی طرح کی گھبراہٹ برسراقتدار طبقہ کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہے۔

دراصل 18 سے 22 ستمبر تک منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے بارے میں راہل گاندھی سے سوال کیا گیا تھا۔ جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ شاید یہ گھبراہٹ کی علامت ہے۔ اسی قسم کی گھبراہٹ تب دیکھنے کو ملی تھی جب میں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں (اڈانی کے بارے میں) تقریر کی تھی۔ یہ گھبراہٹ ہی تھی کہ اچانک میری پارلیمانی رکنیت منسوخ کر دی گئی تھی۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ یہ گھبراہٹ ہی ہے، کیونکہ معاملہ وزیر اعظم کے بہت قریب ہے۔ جب بھی آپ اڈانی معاملے کو چھوتے ہیں تو پی ایم بہت بے چین ہو جاتے ہیں، گھبرا جاتے ہیں۔‘‘

اس سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جانکاری دی کہ ’’پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس (17ویں لوک سبھا کا 13واں اجلاس اور راجیہ سبھا کا 261واں اجلاس) 18 ستمبر سے 22 ستمبر تک طلب کیا جا رہا ہے۔ اس دوران پانچ اجلاس ہوں گے۔ امرت کال کے درمیان پارلیمنٹ میں نتیجہ خیز بحث کا منتظر ہوں۔‘‘ حالانکہ اس خصوصی اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق کچھ بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

بہرحال، پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے اعلان سے سیاسی حلقوں میں حیرانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس عام طور پر نومبر کے آخری ہفتہ میں شروع ہوتا ہے، لیکن ستمبر ماہ میں پارلیمانی اجلاس نے سیاسی حلقوں میں چہ می گوئیاں شروع کر دی ہیں۔ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس اس لیے بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے کیونکہ رواں سال کے آخر میں پانچ ریاستوں مٰں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔

ہندوستان کے سابق کرکٹر محمد اظہر الدین نے کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی سے کی ملاقات

0
ہندوستان-کے-سابق-کرکٹر-محمد-اظہر-الدین-نے-کانگریس-رکن-پارلیمنٹ-عمران-پرتاپ-گڑھی-سے-کی-ملاقات

نئی دہلی: تلنگانہ کانگریس کے کارگزار صدر اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران محمد اظہر الدین نے عمران پرتاپ گڑھی کو خاص طور پر اس بات کے لیے مبارکباد دی کہ جب سے وہ کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین بنے ہیں، کانگریس کا اقلیتی شعبہ ہر محاذ پر کانگریس پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم کانگریس کا اقلیتی شعبہ پورے ملک میں پہلے سے کئی گنا مضبوط ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد اظہر الدین نے عمران پرتاپ گڑھی کو جلد تلنگانہ آنے کی دعوت دی ہے اور ساتھ ہی تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں تشہیر کرنے کی بھی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ (عمران پرتاپ گڑھی) کی تلنگانہ آمد سے کانگریس پارٹی کو مزید مضبوطی ملے گی۔ تاہم آئندہ الیکشن میں کانگریس پارٹی حکومت بنائے گی۔‘‘

سابق رکن پارلیمنٹ محمد اظہر الدین نے کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ موجودہ بی آر ایس حکومت میں عوام کا برا حال ہے اور مختلف پریشانیوں کا سامنا ہے۔ عوام میں موجودہ حکومت کے تئیں شدید ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ صورت حال کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح کانگریس نے ہماچل پردیش اور کرناٹک میں فتح کا پرچم لہرایا ہے، اسی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس کی بڑی جیت کے ساتھ حکومت تشکیل دے گی۔

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی میٹنگ ختم، 28 پارٹیوں کے لیڈران کی کل پھر ہوگی ملاقات، سیٹ شیئرنگ کا عمل 30 ستمبر تک ہوگا پورا!

0
اپوزیشن-اتحاد-’اِنڈیا‘-کی-میٹنگ-ختم،-28-پارٹیوں-کے-لیڈران-کی-کل-پھر-ہوگی-ملاقات،-سیٹ-شیئرنگ-کا-عمل-30-ستمبر-تک-ہوگا-پورا!

اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی تیسری میٹنگ ممبئی چل رہی ہے اور آج کی میٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ میں 28 پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران موجود رہے اور یہ سبھی اب یکم ستمبر یعنی کل ایک بار پھر ملاقات کریں گے تاکہ جن ایشوز پر آج بات نہیں ہو سکی انھیں حل کیا جائے۔ میٹنگ کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سمیت کم و بیش 80 لیڈران شریک دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ سیٹ شیئرنگ کا عمل 30 ستمبر تک پورا کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے حوالے سے ملی خبر کے مطابق اِنڈیا اتحاد کی آج کی غیر رسمی میٹنگ میں سیٹ شیئرنگ کو لے کر تبادلہ خیال ہوا اور مشورہ دیا گیا کہ سیٹ کی تقسیم سے متعلق سبھی کارروائی 30 ستمبر تک پوری کر لی جائے۔

اس میٹنگ کے تعلق سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ’’اس ملک کے نوجوان روزگار چاہتے ہیں، لوگ مہنگائی سے چھٹکارا چاہتے ہیں، لیکن مودی حکومت صرف ایک آدمی کے لیے کام کر رہی ہے۔ اِنڈیا اتحاد ملک کے 140 کروڑ لوگوں کے لیے ہے، جو ملک کو ترقی کی طرف لے جائے گا۔‘‘

اِنڈیا اتحاد کا پی ایم چہرہ کون ہوگا؟ اس سلسلے میں لگاتار سوال اپوزیشن اتحاد کے لیڈران سے پوچھے جا رہے ہیں، لیکن جواب ندارد ہے۔ آج جب نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ سے یہ سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کسی وزیر اعظم عہدہ کے چہرے کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخاب ہونے دیجیے، ہمیں اکثریت ملنے دیجیے۔ اس کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ اِنڈیا اتحاد کی ممبئی میں ہو رہی میٹنگ میں اپوزیشن اتحاد کا ایک مشترکہ لوگو جاری کیا جانے والا ہے۔ ساتھ ہی کوآرڈنیشن کمیٹی کے اراکین کے ناموں کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اِنڈیا اتحاد کے کنوینر کا نام بھی اس میٹنگ میں سامنے آ جائے گا۔ علاوہ ازیں ایک مشترکہ منشور اور سیٹ بٹوارے کو لے کر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ میٹنگ کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 400 سیٹوں پر مشترکہ امیدواروں پر غور و خوض ہو۔

چندریان-3 کا تفریح سے بھرپور نصف سے زیادہ سفر ختم، مزید تحقیق کے لیے وکرم اور پرگیان کے پاس بچے 135 گھنٹے

0
چندریان-3-کا-تفریح-سے-بھرپور-نصف-سے-زیادہ-سفر-ختم،-مزید-تحقیق-کے-لیے-وکرم-اور-پرگیان-کے-پاس-بچے-135-گھنٹے

اِسرو نے جب 23 اگست کو چاند پر ترنگا لہرایا تو ہر ہندوستانی کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ اب تک چندریان-3 کے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر نے چاند کی جنوبی سطح پر 9 دن گزار لیے ہیں، یعنی چندریان-3 کا نصف سفر ختم ہو چکا ہے جو کہ تفریح سے بھرپور رہا ہے۔ نصف سے زیادہ کا سفر اس لیے ختم مانا جا رہا ہے کیونکہ چاند پر ایک دن زمین کے 14 دن کے برابر ہوتا ہے۔ 23 اگست کو چاند پر صبح ہوئی تھی اور 14 دن بعد، یعنی 6 ستمبر کو رات ہو جائے گی۔ پھر چاند پر شدید ٹھنڈ والے حالات پیدا ہو جائیں گے جہاں لینڈر ماڈیول اپنا کام بند کر دے گا۔ یعنی اب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے پاس 5 دن (تقریباً 135 گھنٹے) بچے ہیں۔ اپنے سبھی تحقیقی کام وکرم اور پرگیان کو انہی بچے ہوئے وقت میں پورا کرنا ہوگا۔ باقی بچے اوقات میں لینڈر ماڈیول سے سائنسدانوں کو بڑے کمال کی امید ہے، کچھ ایسا کمال جسے دنیا سلام کرے۔

ویسے چندریان-3 نے شروعاتی 9 دنوں میں ہی کئی اہم جانکاریاں فراہم کی ہیں اور جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کر تاریخ رقم کرنے کے بعد کچھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔ مثلاً چاند کے جنوبی قطب کی سطح پر درجہ حرارت 50 ڈگری سلسیس تک ہے اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر درجہ حرارت گھٹ کر منفی 10 ڈگری سلسیس تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چاند پر آکسیجن، سلفر، الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز اور سلیکان کی موجودی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ اب سبھی کو انتظار ہے کہ ہائیڈروجن کی تلاش کا، اگر یہ ممکن ہوا تو پھر چاند پر پانی کی موجودگی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

بہرحال، امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں چاند پر آنے والے زلزلوں سے متعلق سرگرمیوں، چاند اور زمین کے درمیان سگنل کی دوری، مٹی میں ملنے والے ذرات وغیرہ کی جانچ ہوگی۔ اِسرو کی کوشش ہوگی کہ وقت رہتے یہ سبھی جانچ مکمل کر لیے جائیں، کیونکہ اس کی تیاری سائنسدانوں نے چندریان-3 لانچ کرنے سے پہلے ہی کر لی تھی۔ انھیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ لینڈر ماڈیول کی زندگی چاند پر ایک دن (زمین کے 14 دن) ہی ہوگی۔ ایسا اس لیے کیونکہ چاند کا جنوبی قطب ویسے ہی ڈارک زون کہا جاتا ہے، یہ سیدھے سورج کے رابطے میں نہیں آتا اور یہاں کافی وقت تاریکی رہتی ہے۔ حالانکہ اِس وقت جنوبی قطب پر سورج کی روشنی موجود ہے اور اسی کی مدد سے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کام کر رہے ہیں۔

آکاش وانی دلی کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں پہلی بار کل ہند مشاعرے کا انعقاد

0
آکاش-وانی-دلی-کے-رنگ-بھون-آڈیٹوریم-میں-پہلی-بار-کل-ہند-مشاعرے-کا-انعقاد

نئی دہلی: جی -20 کے حوالے سے آکاش وانی کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں پہلی بار کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ آکاش وانی دلی میں اور اس کے زیر اہتمام مختلف اداروں میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور آکاش وانی کے سوشل میڈیا ہینڈل سے لگاتار ان کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

آکاشوانی کی ایک ریلیز کے مطابق تازہ پروگرام کیلینڈر کے مطابق آکاش وانی کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں پہلی بار کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یکم ستمبر کو منعقد ہونے والی تقریب کی آغاز ڈھائی بجے نظامی برادران کی قوالی سے ہوگا۔ اس کے بعد ساڑھے تین بجے مشاعرے کا آغاز ہوگا جس میں عالم خورشید ، شکیل جمالی، اقبال اشہر، نعمان شوق، شکیل اعظمی، عزم شاکری، علینہ عترت، طارق قمر اور ارشاد خاں سکندر شرکت فرما رہے ہیں۔

آکاش وانی کے اس وسیع و عریض آڈیٹوریم میں آٹھ سو نشستیں ہیں اور یہ پٹیل چوک اور کیندریہ ٹرمنل میٹرو اسٹیشن سے چند قدم کے فاصلے پر ہے اس لئے شاعری کے شائقین کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔ داخلے کے لئے فوٹو شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔

اڈانی گروپ کو لے کر غیر ملکی اخبارات کی رپورٹ پر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے پوچھے تلخ سوالات

0
اڈانی-گروپ-کو-لے-کر-غیر-ملکی-اخبارات-کی-رپورٹ-پر-راہل-گاندھی-نے-وزیر-اعظم-مودی-سے-پوچھے-تلخ-سوالات

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے 31 اگست کو اڈانی گروپ معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بار انھوں نے کچھ غیر ملکی اخبارات کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے پی ایم مودی کے سامنے تلخ سوالات رکھے اور کہا کہ ان اخبارات کا اثر ہندوستان کی شبیہ و سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔

دراصل راہل گاندھی نے اڈانی گروپ معاملے پر ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کیا جس میں کہا کہ ’’پی ایم مودی کے ایک قریبی (گوتم اڈانی) نے ایک بلین ڈالر کا استعمال شیئر خریدنے کے لیے کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کس کا پیسہ ہے؟ اڈانی کا یا پھر کسی اور کا؟ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی آخر اڈانی معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ جی 20 کے لیڈران ہندوستان آنے والے ہیں جو سوال پوچھیں گے کہ ایک کمپنی اسپیشل کیوں ہے؟ بہتر ہوگا کہ ان کے آنے سے پہلے ان سوالات کے جواب دیے جائیں۔ اس معاملے کی جے پی سی جانچ کرائی جائے۔‘‘

دراصل آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے اڈانی گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پروموٹرس فیملی کے شراکت داروں سے جڑے غیر ملکی یونٹس کے ذریعہ گروپ کے شیئرس میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس الزام کے بعد ایک بار پھر گوتم اڈانی سرخیوں میں ہیں اور کانگریس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیاں مرکز کی مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہی ہے۔

راہل گاندھی نے آج پریس کانفرنس میں انگریزی اخبارات ’دی گارجین‘ اور ’فنانشیل ٹائمز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک فیملی جو مودی جی کے بہت قریب ہے، اس نے شیئر پرائس کو بڑھانے کے لیے پیسہ لگایا۔ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ بطور ثبوت ان کے پاس دستاویزات اور ای میل موجود ہیں۔ راہل گاندھی نے وضاحت کی کہ ’’1 بلین ڈالر ہندوستان سے اڈانی جی کی کمپنی کے نیٹورک کے ذریعہ الگ الگ ممالک میں گیا اور پھر واپس آیا۔ اس پیسے سے اڈانی جی نے اپنے شیئر پرائس کو بڑھایا، انفلیٹ کیا۔ اسی منافع سے اڈانی جی ایئرپورٹ خرید رہے ہیں، بندرگاہ خرید رہے ہیں، اور ہندوستان کے دیگر سرمایے خرید رہے ہیں۔‘‘ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ ’’یہ پیسہ جو استعمال کیا جا رہا ہے وہ کس کا ہے؟ یہ اڈانی جی کا ہے یا کسی اور کا ہے؟ اور اگر کسی اور کا ہے تو وہ کس کا ہے؟‘‘

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی آگے کہتے ہیں کہ ’’اس کام کو کرنے کے لیے ماسٹر مائنڈ ونود اڈانی جی ہیں جو گوتم جی کے بھائی ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ ان کے دو مزید بزنس پارٹنرس ہیں۔ ایک کا نام ناصر علی شعبان علی ہے اور دوسرے چین چنگ لنگ (چینی باشندہ) ہیں۔ جب اڈانی جی ہندوستان کا انفراسٹرکچر خریدے جا رہے ہیں تو یہ جو چینی شہری ہیں یہ اس میں کیسے جڑے ہوئے ہیں؟ ان کا کیا کردار ہے؟ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ یہ بیرون ملکی شہری ہندوستانی شیئر مارکیٹ کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس کے آخر میں راہل گاندھی نے ایک بہت اہم بات میڈیا کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اڈانی معاملے میں جو سیبی کی جانچ ہوئی تھی، اور جس شخص نے جانچ کے بعد کلین چٹ دے دی تھی، آج وہ اڈانی جی کے چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کا ڈائریکٹر ہے۔ مطلب صاف ہے کہ یہ ایک نیٹورک ہے۔ شیئر مارکیٹ کو انفلیٹ کیا جا رہا ہے، اور اس کے بعد منافع سے ہندوستان کے سرمایے خریدے جا رہے ہیں۔ اس پر وزیر اعظم خاموش کیوں ہیں؟‘‘ راہل گاندھی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آخر سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیاں اڈانی گروپ معاملے کی جانچ کیوں نہیں کر رہی ہے؟