اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 150

آپریشن لوٹس کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہے؟ کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے کا سوال

0
آپریشن-لوٹس-کے-لیے-فنڈز-کا-ذریعہ-کیا-ہے؟-کرناٹک-کے-وزیر-پریانک-کھڑگے-کا-سوال

بنگلورو: بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل سنتوش کے اس دعویٰ پر کہ کانگریس کے 40 سے 45 ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں اور وہ ایک دن میں آپریشن لوٹس چلا سکتے ہیں، ریاستی وزیر پریانک کھڑگے نے ہفتہ کو کو سوال کیا کہ بی جے پی کے پاس اس طرح کی کارروائی انجام دینے کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہے؟

کانگریس لیڈر نے کہا کہ کھلے عام جھوٹ پھیلانے سے پہلے سنتوش کو اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی سے رابطہ قائم کرنے اور ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کرناٹک کانگریس نے جمعہ کو سنتوش کے دعوے کو ‘صدی کا مذاق’ قرار دیا تھا۔ پریانک کھڑگے نے کہا ’’میں انہیں ایک ماہ کا وقت دوں گا۔ انہیں 45 میں سے کم از کم چار ارکان اسمبلی کو نکالنے دیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رضاکاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں لیکن، وہ بی جے پی کے دفتر جاتے ہیں اور بی جے پی لیڈروں کی تبلیغ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’آپ کے اپنے ایم ایل اے کہہ رہے ہیں کہ لنگایت برادری کے لیڈروں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ریاستی بی جے پی میں سنتوش دھڑے کی وجہ سے لنگایتوں کو الگ کر دیا گیا تھا لیکن حکمت عملی ناکام رہی۔ پہلے سنتوش کو ان الزامات کا جواب دینے دیں، بعد میں وہ کانگریس پارٹی کے بارے میں بات کریں۔‘‘

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں بی جے پی کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ میں بات کرتے ہوئے سنتوش نے کہا تھا کہ وہ ایک دن میں ’آپریشن لوٹس (اپوزیشن ارکان اسمبلی کو توڑنا اور حکومت سازی کرنا‘ انجام دے سکتے ہیں کیونکہ کانگریس لیڈر ان کے رابطے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا ’’ہم ابھی ایسا نہیں چاہتے۔ ہم حکومت سازی کی کوئی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔‘‘

سنتوش نے مزید کہا کہ بی جے پی کا کوئی لیڈر کانگریس میں شامل نہیں ہو رہا ہے۔ فرض کریں اگر 10 لیڈر ہماری پارٹی چھوڑ دیں تو ہم ہمیشہ ایسے لیڈر لا سکتے ہیں جو ان کے برابر صلاحیت والے ہوں۔ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ پارٹی 2013 میں ختم ہو جائے گی لیکن اندرونی لڑائی کے باوجود ہم نے 40 سیٹیں جیت لیں۔ سال 2023 میں ہم نے 60 سیٹیں جیتیں، ہم اپوزیشن پارٹی کے طور پر زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔

اگر آپ کے پاس اب بھی موجود ہے 2000 روپے کا نوٹ، تو جلد کرا لیں ایکسچینج، ہاتھ میں ہے بہت کم وقت

0
اگر-آپ-کے-پاس-اب-بھی-موجود-ہے-2000-روپے-کا-نوٹ،-تو-جلد-کرا-لیں-ایکسچینج،-ہاتھ-میں-ہے-بہت-کم-وقت

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے 2000 روپے کے نوٹ کو سرکولیشن سے ہٹانے کا اعلان کچھ ماہ پہلے کیا تھا۔ ساتھ ہی بینک نے 2000 روپے کے نوٹ کو بینک میں جمع کرنے یا ایکسچینج کرنے کے لیے 30 ستمبر 2023 کا وقت دیا تھا جو کہ جلد ہی ختم ہونے والا ہے۔ 30 ستمبر سے پہلے تک 2000 کے نوٹوں کا استعمال جائز ضرور ہے، لیکن اس کے بعد یہ نوٹ سرکولیشن سے پوری طرح ہٹ جائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی نے لوگوں کو نوٹ ایکسچینج کرنے یا پھر جمع کرنے کے لیے کافی وقت دیا تھا۔ لوگوں کو نوٹ ایکسچینج یا پھر جمع کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو، اس کے لیے بینک نے گائیڈلائنس بھی جاری کیے تھے۔ آئیے جانتے ہیں کہ 2000 روپے کے نوٹ کو ایکسچینج کرنے کا پروسیس یعنی طریقہ کار کیا ہے۔

  • اگر آپ کے پاس 2000 روپے کے نوٹ ہیں تو آپ کو اپنے آس پاس کے کسی بھی بینک کے برانچ جانا ہوگا۔

  • اس کے بعد آپ وہیں 2000 روپے کے نوٹ ایکسچینج کرنے کے لیے ایک فارم بھریں۔

  • اب آپ فارم کے ساتھ 2000 روپے کے نوٹ کو جمع کر دیں۔

  • کچھ بینکوں میں اس کا پروسیس الگ ہو سکتا ہے۔

بہرحال، سنٹرل بینک نے 2000 روپے کے نوٹ ایکسچینج کرنے کی حد بھی طے کر رکھی ہے۔ بینک کے مطابق ایک شخص ایک دن میں صرف 20000 روپے ہی ایکسچینج کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ 2000 روپے کے نوٹ جمع کرتے ہیں تو اس کی کوئی حد نہیں ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ستمبر ماہ میں تقریباً 16 دن تک بینک بند رہیں گے۔ ایسے میں آپ کو بینک جانے سے پہلے ایک بار بینک ہالی ڈے لسٹ کو ضرور چیک کرنا چاہیے۔ سنٹرل بینک کے ذریعہ جاری بینک ہالی ڈے لسٹ میں ملک کی مختلف ریاستوں میں اتوار، دوسرے ہفتہ اور چوتھے ہفتہ سمیت 16 دن تک بینک بند رہیں گے۔ اس کے علاوہ ملک کی راجدھانی دہلی میں جی-20 تقریب کی وجہ سے بینک کچھ دن بند رہیں گے۔ دراصل 8 ستمبر سے لے کر 10 ستمبر تک پوری دہلی کے اسکول، کالج، مال اور دیگر دکانیں بند رہنے والی ہیں۔

گیانواپی مسجد معاملہ: سروے رپورٹ پیش کرنے کے لیے اے ایس آئی نے مانگا 8 ہفتے کا وقت، سماعت 8 ستمبر کو

0
گیانواپی-مسجد-معاملہ:-سروے-رپورٹ-پیش-کرنے-کے-لیے-اے-ایس-آئی-نے-مانگا-8-ہفتے-کا-وقت،-سماعت-8-ستمبر-کو

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے ہفتہ کے روز گیانواپی احاطہ کے سروے اور اس کی رپورٹ داخل کرنے کے لیے 8 ہفتہ کا وقت طلب کیا ہے۔ اے ایس آئی کی اس درخواست پر 8 ستمبر کو سماعت ہوگی۔ اب سبھی کی نگاہیں عدالت پر مرکوز ہیں کہ کیا سروے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مدت کار بڑھانے کی درخواست قبول ہوگی یا نہیں۔

اے ایس آئی کی طرف سے حکومت ہند کے اسٹینڈنگ کونسل امت شریواستو نے عرضی گزار کے وکیل سبھاش نندن چترویدی اور پیروکار سوہن لال آریہ کے ساتھ اے ڈی جے اوّل سنجیو سنہا کی عدالت میں درخواست داخل کی۔ ایک وکیل کے انتقال کے سبب عدالت نے اس پر سماعت کے لیے 4 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔ ضلع جج کی عدالت نے سیل وضو خانہ کو چھوڑ کر گیانواپی احاطہ کا سروے کرنے اور اس کی رپورٹ 2 ستمبر تک جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ اے ایس آئی کی ٹیم 4 اگست سے ہی سروے کر رہی ہے اور اس میں جی پی آر تکنیک کا سہارا بھی لیا گیا ہے۔ گیانواپی میں سروے کا کام جاری ہے، اس لیے رپورٹ آج عدالت میں داخل کیے جانے کی امید کم ہی تھی۔ اب اے ایس آئی کی درخواست کی بنیاد پر عدالت آگے کا کوئی فیصلہ لے گی۔

انڈیا اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم پر کوئی مسئلہ نہیں: نتیش کمار

0
انڈیا-اتحاد-میں-سیٹوں-کی-تقسیم-پر-کوئی-مسئلہ-نہیں:-نتیش-کمار

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے ہفتہ کو کہا کہ حزب اختلاف کے اتحاد ’انڈیا‘ میں سیٹوں کی تقسیم پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2 اکتوبر کو مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر ہم ملک بھر میں پروگرام منعقد کریں گے اور متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔

پٹنہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی میں انڈیا اتحاد کی بہت اچھی میٹنگ ہوئی۔ پریس کانفرنس میں پارٹی کے تمام رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار احسن طریقے سے کیا۔ ہم سب مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ آپس میں الیکشن لڑنے پر کل ہی فیصلہ کر چکے ہیں۔ ‘انڈیا’ اتحاد میں سیٹ شیئرنگ کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’ممبئی میٹنگ میں ہم نے آپس میں ہر چیز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اب بہت جلد اندرونی طور پر سب کچھ طے کر کے بتا دیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم اس ماہ ہر چیز کا فیصلہ کر لیں گے۔ نتیش کمار نے کہا کہ 2 اکتوبر کو باپو کے یوم پیدائش کے موقع پر ہم ملک بھر میں پروگرام منعقد کریں گے اور متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں میٹنگ میں شرکت کے بعد جمعہ کو پٹنہ واپس آنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ ’’بہت اچھی میٹنگ ہوئی، سب کچھ طے ہو گیا۔ ہمیں تیزی سے کام کرنا ہوگا کیونکہ مرکزی حکومت قبل از وقت الیکشن کروا سکتی ہے۔‘‘

چندریان-3: وکرم لینڈر سے 100 میٹر دور پہنچا پرگیان رووَر، جلد ہی شروع ہونے والا ہے ’سلیپ موڈ‘ کا عمل

0
چندریان-3:-وکرم-لینڈر-سے-100-میٹر-دور-پہنچا-پرگیان-رووَر،-جلد-ہی-شروع-ہونے-والا-ہے-’سلیپ-موڈ‘-کا-عمل

اِسرو کے چیف ایس سومناتھ نے ہفتہ کے روز چندریان-3 سے متعلق انتہائی اہم جانکاری دی۔ انھوں نے بتایا کہ چندریان-3 کا رووَر اور لینڈر اچھی طرح سے کام کر رہا ہے۔ رووَر پرگیان نے لینڈر سے تقریباً 100 میٹر کی دوری طے کر لی ہے۔ ساتھ ہی اِسرو چیف نے یہ بھی بتایا کہ پرگیان اور وکرم کو ’سلیپ موڈ‘ میں ڈالنے کا عمل ایک یا دو دن میں شروع ہو جائے گا۔ ایسا اس لیے کیونکہ اس دوران انھیں چاند پر رات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اِسرو چیف ایس سومناتھ کا کہنا ہے کہ لینڈر وِکرم اور رووَر پرگیان اب بھی کام کر رہے ہیں اور سائنسی آلات کے ساتھ ہماری ٹیم اب بھی بہت سرگرمی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اچھی خبر یہ ہے کہ رووَر لینڈر سے تقریباً 100 میٹر دور چلا گیا ہے اور ہم آنے والے ایک یا دو دنوں میں ان دونوں کو سلانے کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں، کیونکہ انھیں رات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

دراصل اِسرو چیف نے سورج مشن ’آدتیہ ایل 1‘ کا آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا واقع خلائی مرکز سے کامیاب لانچنگ کے بعد اس مشن کے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کی جانکاری دی۔ اسی دوران انھوں نے چندریان-3 کے بارے میں بھی کچھ اہم جانکاریاں دیں۔ انھوں نے بتایا کہ چندریان-3 کی تحقیق کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے سبھی آلات ٹھیک طرح کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اِسرو نے جمعرات کو بتایا تھا کہ چاند کی سطح پر گھوم رہے رووَر پرگیان نے چاند کے جنوبی قطب پر ایک حیرت انگیز واقعہ کو ریکارڈ کیا ہے۔ اسے ایک فطری واقعہ تصور کیا جا رہا ہے اور اِسرو اس واقعہ کے ذرائع کے بارے میں پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دراصل رووَر پرگیان نے چاند پر ایک خاص طرح کے زلزلہ کو ریکارڈ کیا ہے۔

ہمیں اپنے ملک کو انڈیا نہیں بھارت کہنا ہوگا: موہن بھاگوت

0
ہمیں-اپنے-ملک-کو-انڈیا-نہیں-بھارت-کہنا-ہوگا:-موہن-بھاگوت

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک پروگرام کے دوران لوگوں سے ملک کے لئے انڈیا کے بجائے بھارت کا نام استعمال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا نام صدیوں سے بھارت ہے، انڈیا نہیں۔ اس لیے ہمیں اس کا پرانا نام ہی استعمال کرنا چاہیے۔

سنگھ کے سربراہ ساکل جین سماج کے ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’’ہمارے ملک کا نام صدیوں سے بھارت رہا ہے۔ زبان کوئی بھی ہو، نام ایک ہی رہتا ہے۔ ہمارا ملک بھارت ہے اور ہمیں تمام عملی شعبوں میں لفظ انڈیا کا استعمال بند کرنا ہوگا اور لفظ بھارت کا استعمال شروع کرنا ہوگا، تب ہی تبدیلی آئے گی۔ ہمیں اپنے ملک کو بھارت کہنا ہے اور دوسروں کو بھی یہی سمجھانا ہوگا۔‘‘

اس سے قبل جمعہ (یکم ستمبر 2023) کو انہوں نے کہا تھا کہ بھارت ایک ‘ہندو قوم’ ہے اور تمام بھارتیہ ہندو ہیں اور سبھی بھارتیہ ہندوتوا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لوگوں کی توقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگھ کو اس سب کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ نظریاتی طور پر تمام بھارتیہ ہندو ہیں اور ہندو کا مطلب تمام بھارتیہ ہیں۔ وہ تمام لوگ جو آج بھارت میں ہیں، وہ ہندو ثقافت، ہندو آباؤ اجداد اور ہندو سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

بھاگوت نے کہا ’’کچھ لوگ اسے سمجھ چکے ہیں، جبکہ کچھ اپنی عادت اور خود غرضی کی وجہ سے اسے سمجھنے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ اسے یا تو ابھی تک نہیں سمجھ پائے ہیں یا بھول گئے ہیں۔ ’ہمارے نظریہ’ کی پوری دنیا میں بہت مانگ ہے۔ حقیقت میں اس نظریے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘

چندریان-3 کے بعد آدتیہ ایل-1 لانچ کر کے اسرو نے ملک کا وقار بڑھایا: راہل گاندھی

0
چندریان-3-کے-بعد-آدتیہ-ایل-1-لانچ-کر-کے-اسرو-نے-ملک-کا-وقار-بڑھایا:-راہل-گاندھی

نئی دہلی: چندریان-3 کو کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح پر اتارنے کے بعد اسرو نے ایک اور تاریخ رقم کرتے ہوئے ملک کے پہلے شمسی مشن کو ہفتہ کے روز روانہ کر دیا۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی نے ہندوستان کی خلائی ایجنسی اسرو اور ملک کے سائنسدانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اس کامیابی پر کانگریس خاندان کو فخر ہے۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، ’’اسرو نے ملک کو فخر کرنے کے کئی مواقع فراہم کئے ہیں۔ چندریان-3 کے بعد اسرو نے آدتیہ ایل ون کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر کے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ ملک کے سائنسدانوں کی اس غیر معمولی کامیابی پر کانگریس کے پورے کنبہ کو فخر ہے۔ اسرو کی پوری ٹیم کو مبارکباد۔‘‘

دریں اثنا، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے کہا ’’آج آدتیہ ایل ون کا لانچ ہونا اسرو اور ہندوستان کے لئے ایک اور شاندار کامیابی ہے۔ اسرو کو ایک بار پھر سلام کرتے ہوئے اس کی ٹائم لائن کو یاد کرنا ضروری ہے۔

سال 2006 میں ایٹرونامیکل سوسائٹی آف انڈیا اور انڈین اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں نے ایک آلہ کے ساتھ سولر لیب کے تصور کو پیش کیا تھا۔

دسمبر 2009: اسرو نے ایک آلہ کے ساتھ آدتیہ ایل ون منصوبے کو منظوری فراہم کی۔

اپریل 2013: سابق صدر یو آر راؤ کی مداخلت کے بعد اسرو کے ایک موقع کا اعلان کیا گیا، جس میں سائنسی طبقہ سے زیادہ سائنسی آلوں (پے لوڈ) کا مطالبہ کیا گیا۔

جون 2013: اسرو نے حاصل شدہ سائنسی تجویزات کا جائزہ لیا۔

جولائی 2013: اسرو نے آدتیہ ایل ون مشن کے لئے ساتھ پے لوڈ کا انتخاب کیا، جس کا اب نام تبدیل کر کے آدتیہ ایل ون کر دیا گیا ہے۔

نومبر 2015: اسرو نے باضابطہ طور پر آدتیہ ایل ون کو منطوری فراہم کر دی۔

منی پور میں لوٹا ہوا اسلحہ برآمد، حریف گروپوں میں فائرنگ کا تبادلہ

0
منی-پور-میں-لوٹا-ہوا-اسلحہ-برآمد،-حریف-گروپوں-میں-فائرنگ-کا-تبادلہ

امپھال: مشترکہ سیکورٹی فورسز نے منی پور کے امپھال ویسٹ، کانگ پوکپی اور تھوبل اضلاع سے پانچ ہتھیار، چھ مختلف قسم کا گولہ بارود اور سات طاقتور بم برآمد کیے ہیں۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔

پولیس نے بتایا کہ بشنو پور اور چوراچاند پور اضلاع میں مسلح حریف گروپوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاع ملی۔ تاہم علاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور بعد میں فائرنگ کم ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں۔

دریں اثنا، امپھال-جیریبام قومی شاہراہ (این ایچ-37) پر ضروری اشیاء کے ساتھ 220 گاڑیوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنایا گیا ہے۔تمام حساس مقامات پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور گاڑیوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے حساس مقامات پر حفاظتی قافلے فراہم کیے گئے ہیں۔

دہلی میں آج جی-20 سربراہی اجلاس کی فل ڈریس ریہرسل، ان راستوں سے گریز کریں

0
دہلی-میں-آج-جی-20-سربراہی-اجلاس-کی-فل-ڈریس-ریہرسل،-ان-راستوں-سے-گریز-کریں

نئی دہلی: دہلی میں کچھ دنوں میں جی-20 سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جس کے پیش نظر آج یعنی 2 ستمبر کو پولیس فل ڈریس ریہرسل کرے گی۔ دریں اثنا، قومی دارالحکومت کے مختلف حصوں سے قافلوں کو نئی دہلی ضلع کی طرف لے جایا جائے گا، جس کی وجہ سے ہفتہ کو ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دہلی پولیس نے مسافروں کو ہفتہ اور اتوار کو میٹرو سروس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہفتہ کو ریہرسل کا وقت صبح 8.30 سے ​​دوپہر 12 بجے، شام 4.30 سے ​​شام 6 بجے اور شام 7 بجے سے 11 بجے تک ہوگا۔

یہ راستے کارکیڈ ریہرسل کے دوران بند رہیں گے:

سردار پٹیل مارگ – پنچ شیل مارگ 11 مورتی، سردار پٹیل مارگ – کوٹلیہ مارگ آر/اے تین مورتی، آر/اے جی کے پی – آر/اے گول میتھی، آر/اے ایم ایل – این پی آر اے مان سنگھ روڈ، سی ہیکساگون – متھرا روڈ، ذاکر حسین مارگ – سبرامنیم بھارتی مارگ، بھیرو روڈ – رنگ روڈ، آر/اے بریگیڈیئر ہوشیار سنگھ مارگ – آر/اے یشونت پلیس، آر/اے ستیہ مارگ/ شانتی پتھ – آر/اے کوٹیلیہ، آر/اے ونڈسر پلیس – جنپتھ-کرتویہ پتھ، بارہ کھمبا روڈ ریڈ لائٹ ٹالسٹائی مارگ- جن پتھ، آر/اے کلیرج کا وویکانند مارگ، لودھی فلائی اوور کے نیچے – موتی باغ فلائی اوور کے نیچے، پریس انکلیو روڈ – لال بہادر شاستری مارگ چراغ دہلی فلائی اوور کے نیچے، جوزف ٹیٹو مارگ – سیری فورٹ روڈ – شیرشاہ روڈ۔

کارکیڈ ریہرسل کے دوران مسافروں کو ان سڑکوں پر معمول سے زیادہ ٹریفک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا، اگر آپ ان راستوں پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مزید وقت کے ساتھ گھر سے نکلیں۔

مسافر ان راستوں کو استعمال کر سکتے ہیں:

نارتھ ساؤتھ کوریڈور، رنگ روڈ – آشرم چوک – سرائے کالے خان – مہاتما گاندھی مارگ – آئی پی فلائی اوور – مہاتما گاندھی مارگ – آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ – رنگ روڈ – مجنوں کا ٹیلا۔ ایمس چوک – رنگ روڈ – دھولا کوان – رنگ روڈ – برار اسکوائر – نارائنا فلائی اوور – راجوری گارڈن جنکشن – رنگ روڈ – پنجابی باغ جنکشن – رنگ روڈ – آزاد پور چوک۔

ایسٹ ویسٹ کوریڈور

سن ڈائل / ڈی این ڈی فلائی اوور سے – رنگ روڈ – آشرم چوک – مولچند انڈر پاس – ایمس چوک – رنگ روڈ – دھولا کنواں- رنگ روڈ – برار اسکوائر – نارائنا فلائی اوور۔ یودھسٹھر برج سے – بلیوارڈ روڈ – رانی جھانسی روڈ – نیو روہتک روڈ – پنجابی باغ چوک – رنگ روڈ۔

مسافروں کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے اپنی ذاتی گاڑیاں، آٹو رکشہ، ٹیکسی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی لیکن اس کے لیے وقت سے پہلے گھر سے نکلیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی پولیس نے میٹرو سے سفر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ہوائی اڈے کے سفر کے لیے پرائیویٹ گاڑیوں، آٹو رکشہ اور ٹیکسیوں کے استعمال کی بھی اجازت ہے لیکن اس کے لیے قبل از وقت گھر سے نکلیں اور میٹرو کے ذریعے سفر کو ترجیح دیں۔ ریہرسل کے باعث سٹی بس سروسز بڑے پیمانے پر متاثر نہیں ہوں گی۔ تاہم، کچھ بسوں کو نئی دہلی کے علاقے میں مختلف سڑکوں پر ڈائیورٹ دیا جا سکتا ہے۔

انڈیا کے ممبئی اجلاس کے دوران کیا فیصلے لیے گئے، کتنی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور ان میں کون کون شامل ہیں؟

0
انڈیا-کے-ممبئی-اجلاس-کے-دوران-کیا-فیصلے-لیے-گئے،-کتنی-کمیٹیاں-تشکیل-دی-گئیں-اور-ان-میں-کون-کون-شامل-ہیں؟

ممبئی: مودی حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کا تیسرا اجلاس 31 اگست اور یکم اگست کو ممبئی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 28 جماعتوں کے 60 سے زائد رہنماؤں نے شرکت کی۔ دریں اثنا، 13 رہنماؤں پر مشتمل کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم کنوینر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مرکز میں ‘متکبر اور بدعنوان’ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو بے دخل کر دے گا۔

کون سی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں؟

انڈیا کے اجلاس میں کوآرڈنیشن کمیٹی سمیت پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ کوآرڈنیشن کمیٹی انتخابی حکمت عملی بنانے پر کام کرے گی۔ اس کے علاوہ پبلسٹی، میڈیا، سوشل میڈیا، ریسرچ وغیرہ کے حوالے سے بھی مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ تمام کمیٹیوں میں اہم جماعتوں کے قائدین کو شامل کیا گیا ہے۔

کانگریس، عام آدمی پارٹی، شیو سینا-یو بی ٹی، نیشنل کانفرنس، جے ڈی یو، آر جے ڈی، این سی پی، ڈی ایم کے، پی ڈی پی، ایس پی، ترنمول کانگریس، جے ایم ایم کے قائدین کو 13 رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اگر اس میں سی پی آئی ایم کے لیڈر کو بھی شامل کیا جاتا ہے تو اس کمیٹی کے 14 ارکان ہوں گے۔

اس کمیٹی میں کے سی وینو گوپال، راگھو چڈھا، سنجے راوت، عمر عبداللہ، لالن سنگھ، تیجسوی یادو، شرد پوار، ایم کے اسٹالن، محبوبہ مفتی، جاوید علی خان، ابھیشیک بنرجی، ہیمنت سورین، ڈی راجہ شامل ہیں۔

کیمپین کمیٹی

گرودیپ سنگھ سپل، کانگریس، سنجے جھا، جے ڈی یو، انیل دیسائی، شیو سینا (یو بی ٹی)، سنجے یادو، آر جے ڈی، پی سی چاکو، این سی پی، چمپائی سورین، جے ایم ایم، کرنمے نندا، ایس پی، سنجے سنگھ، عام آدمی پارٹی، ارون کمار، سی پی آئی (ایم)، بنوئے وسام، سی پی آئی، جسٹس (ر) حسنین مسعودی، نیشنل کانفرنس، شاہد صدیقی، راشٹریہ لوک دل، این کے پریما چندرن، ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی، جی دیوراجن، آل انڈیا فارورڈ بلاک، روی رائے، سی پی آئی (ایم ایل)، تروموالن، ودوتھلائی چروتھائیگل کچی، کے ایم قادر محی الدین، آئی یو ایم ایل، جوز کے منی، کے سی (ایم)، ٹی ایم سی کے لیڈر کا نام بعد میں نام دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا کے لیے ورکنگ گروپ

سپریہ شرینیت، کانگریس، سمیت شرما، آر جے ڈی، آشیش یادو، ایس پی، راجیو نگم، ایس پی، راگھو چڈھا، عام آدمی پارٹی، ایوندانی، جے ایم ایم، التجا محبوبہ، پی ڈی پی، پرانجل، سی پی ایم، بھال چندرن کانگو، سی پی آئی، افرا جا، نیشنل کانفرنس، وی ارون کمار، سی پی آئی (ایم ایل)، ٹی ایم سی کے لیڈر کا نام نہیں دیا گیا۔

ورکنگ گروپ برائے میڈیا

جے رام رمیش، کانگریس، منوج جھا، آر جے ڈی، اروند ساونت، شیو سینا (یو بی ٹی)، جتیندر اوہاڑ، این سی پی، راگھو چڈھا، عام آدمی پارٹی، راجیو رنجن، جے ڈی یو، پرانجل، سی پی ایم، آشیش یادو، ایس پی، سپریو بھٹاچاریہ، جے ایم ایم، آلوک کمار، جے ایم ایم، منیش کمار، جے ڈی یو، راجیو نگم، ایس پی، بھال چندرن کانگو، سی پی آئی، تنویر صادق، این سی، پرشانت کنوجیا، نرین چٹرجی، اے آئی ایف بی، سوچیتا ڈے، سی پی آئی (ایم ایل)، موہت بھان، پی ڈی پی، ٹی ایم سی (نام نہیں دیا گیا)۔

تحقیق کے لیے ورکنگ گروپ

امیتابھ دوبے، کانگریس، سبودھ مہتا، آر جے ڈی، پرینکا چترویدی، شیو سینا (یو بی ٹی)، وندنا چوان، این سی پی، کے سی تیاگی، جے ڈی یو، سودیویہ کمار سونو، جے ایم ایم، جاسمین شاہ، عام آدمی پارٹی، آلوک رنجن، ایس پی، عمران نبی ڈار، نیشنل کانفرنس، آدتیہ، پی ڈی پی، ٹی ایم سی (نام نہیں دیا گیا)

قائدین نے کیا کہا؟

ممبئی میٹنگ ختم ہونے کے بعد کانگریس لیڈر سنجے نروپم نے کہا، ‘آئندہ انتخابات کے تحت سیٹ شیئرنگ کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ یہ کمیٹی تمام سیٹوں پر جیت اور ہار کے جائزے کا مطالعہ کرے گی جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کون سی پارٹی کس جگہ مضبوط ہے اور جیت سکتی ہے۔

جے ڈی یو لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہا ’’آپ سب جانتے ہیں کہ آج تیسری میٹنگ ہوئی ہے۔ آپ کو بتایا گیا ہے کہ کن چیزوں پر اتفاق ہوا ہے۔ اب ہم مختلف جگہوں پر جائیں گے اور لوگوں سے خطاب کریں گے۔ پارٹی کی پکڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا فارمولا تیار کیا جائے گا جس میں تمام جماعتوں کو ہر طرح سے خوش رکھا جا سکے۔ ہم انڈیا کی اگلی میٹنگ جلد از جلد منعقد کرنے کے لیے بھی بے قرار ہیں۔‘‘

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر لوک سبھا انتخابات تیزی سے کرائے جا رہے ہیں تو ہمیں بھی جلدی کرنی چاہیے۔ سیٹ شیئرنگ 30 ستمبر تک کر لی جائے۔ اس دوران بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ذات کے سروے کا مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے لیکن ممتا بنرجی نے کہا کہ اس معاملے کو ابھی اٹھانا درست نہیں ہے۔ تمام جماعتیں پہلے اپنی پارٹی کے لیڈروں سے بات کریں۔