جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 149

مودی حکومت کی نئی پہل: ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ زیرغور

0
مودی-حکومت-کی-نئی-پہل:-‘ایک-ملک،-ایک-انتخاب’-زیرغور

مودی حکومت نے ایک روز قبل ہی 18سے 22 ستمبر کے درمیان پارلیمان کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا۔ اب ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ کے امکانات تلاش کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام کا اعلان کے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ مہینوں میں ہونے والے کئی اہم ریاستی انتخابات کے مد نظر مودی حکومت ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اس خصوصی اجلاس کے دوران کچھ انتہائی اہم بل بھی منظور کراسکتی ہے۔

‘ایک ملک، ایک انتخاب’ سے مراد پورے ملک میں لوک سبھا (پارلیمنٹ) اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانا ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی مواقع پر اس موضوع پر بات کی ہے۔ یہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی کے انتخابی منشور کا حصہ بھی تھا۔

مودی نے 2016 میں بیک وقت انتخابات کی وکالت کی تھی اور 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے فوراً بعد انہوں نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے آل پارٹی میٹنگ بھی بلائی تھی۔ حالانکہ کئی اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو نظر انداز کر دیا تھا۔ وزیر اعظم مودی کی دلیل ہے کہ ہر چند ماہ بعد انتخابات کا انعقاد ملکی وسائل پر بوجھ ڈالتا ہے اور گورننس میں خلل کا سبب بنتا ہے۔

سابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو اس پر غور و خوض کرنے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنا اس سلسلے میں مودی حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ کووند نے بھی ماضی میں مودی کے اس نظریے کی تائید کی تھی۔ انہوں نے سن 2017 میں بھارتی صدر بننے کے بعد اس خیال کی حمایت کی تھی۔

مودی حکومت اپنی دوسری میعاد کے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا خیال ہے کہ اس معاملے کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہئے اور چونکہ اس موضوع پر برسوں سے بحث ہو رہی ہے اس لیے اب اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فیصلہ کن طورپر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "ایک ملک، ایک انتخاب” کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی اور پھر اسے ریاستی اسمبلیوں سے بھی منظور کرانا ہوگا۔

حالانکہ یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے اور 1952، 1957، 1962 اور 1967میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے۔ لیکن 1968-69 کے بعد بعض ریاستی اسمبیلوں کو مقررہ وقت سے پہلے تحلیل کردیے جانے کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔

کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا، "انہیں یہ بل لانے دیجئے، لڑائی جاری رہے گی۔” کانگریس کے ایک دیگر سینیئر رہنما ادھیر رنجن چودھری کا کہنا تھا، "ایک ملک، ایک انتخاب کے سلسلے میں مودی حکومت کی نیت صاف نہیں ہے، ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ "

بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ کا کہنا تھا کہ دراصل ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو ایک قوم اور ایک پارٹی کا جنو ن ہے اور اپوزیشن کے متحد ہونے کے بعد سے وہ کافی پریشان ہے۔

ڈی راجہ کا کہنا تھا، "ایک ملک، ایک الیکشن کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس پر کئی سالوں سے بحث ہو رہی ہے۔ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اسے’ ایک قوم، ایک ثقافت’، ‘ایک قوم، ایک مذہب’، ‘ایک قوم، ایک زبان’ کا جنون سوارہے۔’ ایک ملک، ایک ٹیکس؛ اب ایک ملک، ایک انتخاب؛ پھر ایک قوم، ایک پارٹی؛ ایک قوم، ایک لیڈر۔ یہی وہ جنون ہے جس میں بی جے پی مبتلا ہے۔”

مشن سورج: آدتیہ ایل 1 کی لانچنگ میں اب چند گھنٹے باقی، سفر میں ایل پی ایس سی سسٹم نبھائے گا اہم کردار

0
مشن-سورج:-آدتیہ-ایل-1-کی-لانچنگ-میں-اب-چند-گھنٹے-باقی،-سفر-میں-ایل-پی-ایس-سی-سسٹم-نبھائے-گا-اہم-کردار

ایک طرف چندریان-3 چاند کی سطح پر اپنا نصف سے زیادہ سفر ختم کر چکا ہے اور اس دوران کئی طرح کی اہم جانکاریاں بھی بھیجی ہیں، اور دوسری طرف ’آدتیہ ایل 1‘ اپنے سفر کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کی لانچنگ میں کچھ ہی گھنٹے بچے ہیں۔ ہفتہ یعنی 2 ستمبر کی صبح تقریباً 11.50 بجے اِسرو کا مشن سورج لانچ کیا جائے گا۔ لانچنگ کی تقریباً سبھی تیاریاں پوری ہو چکی ہیں۔ جب ملک کا پہلا سورج مشن اپنے قابل اعتبار پی ایس ایل وی پر سوار ہو کر سورج کی طرف اپنے سفر پر شری ہری کوٹا سے روانہ ہوگا تو اِسرو کی ایک اور شاخ کے ذریعہ تیار لیکوئڈ پروپلشن سسٹم آدتیہ ایل 1 مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھائے گا۔ لیکوئڈ اپوجی موٹر انجن کا استعمال مدار میں سیٹلائٹس وغیرہ کو نصب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

دراصل لیکوئڈ پروپلشن سسٹم سنٹر (ایل پی ایس سی) اِسرو کے لانچنگ طیارہ کے لیے لیکوئڈ پروپلشن مراحل کے ڈیزائن، ڈیولپمنٹ اور ریلائزیشن کا سنٹر ہے۔ لیکوئڈ کنٹرول والو، ٹرانسڈیوسر، ویکیوم کنڈیشنز کے لیے پروپیلنٹ مینجمنٹ سسٹم اور لیکوئڈ پروپلشن سسٹم کے دیگر اہم اجزاء کا ڈیولپمنٹ بھی اس سنٹر کے دائرے میں ہے۔ ایل پی ایس سی کی سرگرمیاں اور سہولیات اس کے دو احاطوں یعنی ایل پی ایس سی، ولیامالا، تروونت پورم اور ایل پی ایس سی، بنگلورو، کرناٹک میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایل پی ایس سی کے ذریعہ تیار لیکوئڈ اپوجی موٹر ہندوستان کی اہم خلائی حصولیابیوں میں سیٹلائٹ/خلائی طیارہ پروپیلنٹ اہم رہا ہے۔ اس نے تین چندریان اور 2014 میں مریخ مشن میں اہم کردار نبھایا تھا۔ ایل پی ایس سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اے کے اشرف نے بتایا کہ اب ہم آدتیہ ایل 1 مشن- آدتیہ خلائی طیارہ میں بھی ایک بڑا کردار نبھاتے ہیں۔ جس میں ایل اے ایم (لیکوئڈ اپوجی موٹر) نامی ایک بہت ہی دلچسپ، کثیر جہتی تھرسٹر ہے، جو 440 نیوٹن کا تھرسٹ فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایل اے ایم آدتیہ خلائی طیارہ کو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور واقع لینگریجین مدار میں نصب کرنے میں معاون ہوگا۔

دہلی کانگریس کے نومنتخب صدر اروندر سنگھ لولی سے ملاقات کرنے والوں کا لگا تانتا

0
دہلی-کانگریس-کے-نومنتخب-صدر-اروندر-سنگھ-لولی-سے-ملاقات-کرنے-والوں-کا-لگا-تانتا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نو منتخب صدر اروندر سنگھ لولی 14 ستمبر 2023 کو صبح 11 بجے پارٹی دفتر میں اپنا چارج سنبھالیں گے۔ لولی کو ذمہ داری ملنے کے بعد سے دہلی کانگریس کے لیڈران و کارکنان میں جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ لولی سے ملاقات کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں اور ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کی آمد کا ایک دراز سلسلہ دکھائی دے رہا ہے۔

کانگریس کارکنان اروندر سنگھ لولی کا پرتپاک استقبال کرنے کیلئے پوری طرح سے بیتاب نظر آرہے ہیں، لیکن پارٹی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ریلیز میں مودبانہ اپیل کی گئی ہے کہ نئی دہلی کے مخصوص علاقوں میں دہلی کانگریس کارکنان و لیڈران G-20 سمٹ کے پیش نظر کوئی بھی ہورڈنگ یا پوسٹر نہ لگائیں۔ دہلی کو صاف ستھرا رکھنا دہلی کے ہر ایک فرد کی ذمہ اری ہے اس میں سبھی کو حصہ لینا چاہئے۔ کانگریس پارٹی اس پر عمل پیرا نظر آ رہی ہے۔

کانگریس کارکنان اور دہلی کی بااثر شخصیات کل دوپہر سے ہی اروندر سنگھ لولی سے ملنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ ان کی تقرری کو لے کر دہلی کے تمام طبقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر طرف سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے G-20 کے پیش نظر 14 ستمبر کا دن مقرر کیا ہے، حالانکہ ریاستی دفتر سے تمام سیاسی سرگرمیاں خوش اسلوبی سے چل رہی ہیں اور دہلی کے تمام سینئر لیڈران اور کارکنان پارٹی دفتر پہنچ کر کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے قدم اٹھا رہے ہیں۔

14 ستمبر کو ریاستی دفتر میں منعقد ہونے والے پروگرام میں ہزاروں لوگ جمع ہوں گے، جس کے لیے نکڑ سبھائیں شروع ہو چکی ہیں اور اس میں دہلی کے تمام سینئر کانگریسی لیڈران و کارکنان اور عام شہری موجود رہیں گے۔ لولی کو مبارکباد دینے کیلئے نائب صدر علی مہدی، شعیب دانش، حاجی محمد خوشنود، کونسلر حاجی ظریف، کونسلر حاجی سمیر منصوری، جاوید چودھری وغیرہ بھی پہنچے۔

’دنیا کا سپر پاور ہندوستان کو ’کانگریس مُکت‘ نہیں کر پایا، تو مودی جی کیسے کر پائیں گے‘، پارٹی کارکنان سے راہل گاندھی کا خطاب

0
’دنیا-کا-سپر-پاور-ہندوستان-کو-’کانگریس-مُکت‘-نہیں-کر-پایا،-تو-مودی-جی-کیسے-کر-پائیں-گے‘،-پارٹی-کارکنان-سے-راہل-گاندھی-کا-خطاب

اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ممبئی کے تلک بھون میں کانگریس کارکنان سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب مودی جی برسراقتدار ہوئے تھے تو کہا تھا ’کانگریس مُکت بھارت‘ بنائیں گے۔ ایک وقت جب دنیا کا جو سپر پاور انگلینڈ تھا، تو وہ ’کانگریس مُکت بھارت‘ نہیں کر پایا، پھر مودی جی کیسے کر پائیں گے۔ الٹا کانگریس نے ہی اُس (انگلینڈ) کو ملک سے باہر بھگا دیا۔ اور مودی جی سوچتے ہیں کہ ان کا اور اڈانی جی کا رشتہ کانگریس کو مٹا دے گا۔ وہ سوچتے ہیں کہ اڈانی جی کا پیسہ کانگریس پارٹی کو مٹا سکتا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے مودی-اڈانی رشتہ پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے دیکھا ہوگا کل دنیا کے دو فنانشیل نیوز پیپر نے رپورٹ لکھی۔ اس میں لکھا تھا کہ ایک بلین ڈالر ہندوستان سے الگ الگ ممالک میں گیا، پھر وہاں سے واپس آیا۔ اخبار میں لکھا تھا کہ مودی جی کا اڈانی جی کے ساتھ بہت قریبی رشتہ ہے، پرانا رشتہ ہے۔ اب یہ بات پورا ملک سمجھ رہا ہے کہ پیسہ ادھر سے جاتا ہے، اڈانی جی کی شیئر پرائس بڑھائی جاتی ہے، پیسہ واپس آتا ہے، اور اسی پیسے سے اڈانی جی ہندوستان کا انفراسٹرکچر یعنی ایئرپورٹ اور بندرگاہ وغیرہ خریدتے ہیں۔‘‘

اس موقع پر راہل گاندھی نے مہاراشٹر کانگریس کو ایک مضبوط تنظیم قرار دیا اور کہا کہ کئی پارٹیاں ریاست میں ٹوٹ گئیں لیکن کانگریس نہیں ٹوٹی کیونکہ یہ اصول اور نظریات والی پارٹی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نظریاتی پارٹی اور دیگر پارٹیوں میں کیا فرق ہوتا ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اگر میں نے آپ لوگوں کے ہاتھ سے خون نکالا اور اس کا ٹیسٹ کیا تو سبھی کا ڈی این اے ایک ہی ملے گا۔ یہ سبھی کسی سے ڈرتے نہیں ہیں، گھبراتے نہیں ہیں۔ یہ کانگریس پارٹی کے کارکنان ہیں۔ آپ چاہو یا نہ چاہو، یہ آپ کا خون ہے۔ یہ ببر شیر کی پارٹی ہے، اس میں شیرنیاں بھی ہیں… اور یہ کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’چاہے میڈیا کچھ بھی کہہ لے، کانگریس پارٹی الیکشن جیتنے والی ہے۔ ہماری پارٹی کو ہمارے کارکنان فتحیاب بناتے ہیں۔ سینئر لیڈران کی اہمیت ہے، لیکن کارکنان کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اگر پارٹی میں کوئی اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ یہ ہے کہ کارکنان کو ریوارڈ دیا جانا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے سرکردہ لیڈران کا ہمارے کارکنان سے رشتہ بہت مختلف ہے۔ ہمارا آپس میں محبت کا رشتہ ہے۔ ہم نفرت کے ساتھ، تشدد کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ ہم اپنے دشمن کے گھر میں جا کر، نفرت کے بازار میں جا کر ’محبت کی دکان‘ کھولتے ہیں، یہی ہمارا طریقہ ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا معاملہ دوسرا ہے۔ ہم بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرح نہیں سوچتے۔‘‘

راہل گاندھی سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی کانگریس کارکنان کے مجمع کو خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت ختم کی گئی، ان کے خلاف کیس چلایا گیا تاکہ وہ ڈر جائیں اور مودی جی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں۔ لیکن راہل گاندھی جی نے ان کو سبق سکھایا، پھر سے وہ پارلیمنٹ میں پہنچے، اپنی بات رکھی اور عوام کے ایشوز اٹھائے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ’’حریفوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ اتنا ستانے اور ظلم کرنے کے باوجود بھی راہل جی پارلیمنٹ میں آ کر بڑے اطمینان اور صبر کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں۔ دراصل راہل گاندھی جی نے دو سال پہلے ہی ایک منتر دیا تھا ’ڈرو مت‘۔ اگر آپ ڈریں گے تو مریں گے۔ اس لیے ہم کو ڈرنا نہیں ہے، ہم کو لڑنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں بھارت کو جوڑنا ہے اور اِنڈیا کو ایک بار پھر پاور میں لانا ہے۔ ہمیں غریبوں کے ایشوز حل کرنے ہیں اور نوجوانوں و بے روزگاروں کے مسائل کا بھی حل تلاش کرنا ہے۔‘‘ کھڑگے نے کانگریس کارکنان کو آپس میں نہ لڑنے کی بھی تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ آپس میں لڑتے رہیں گے تو پھر آپ جیت نہیں پائیں گے۔ آپ ایک ہو جاؤ، مہاراشٹر میں کانگریس آگے ہے اور متحد رہے تو جیت یقینی ہے۔‘‘

منی پور: مشہور باکسر میری کوم نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا خط، ’کوم‘ گاؤں کی حفاظت کے لیے مداخلت کا مطالبہ

0
منی-پور:-مشہور-باکسر-میری-کوم-نے-وزیر-داخلہ-امت-شاہ-کو-لکھا-خط،-’کوم‘-گاؤں-کی-حفاظت-کے-لیے-مداخلت-کا-مطالبہ

منی پور سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ باکسر ایم سی میری کوم نے منی پور میں نسلی تشدد کی حالت پر اظہارِ فکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں میری کوم نے امت شاہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ یقینی کیا جا سکے کہ سیکورٹی فورسز دونوں گروپوں (کوکی اور میتئی) کو منی پور کے ’کوم‘ گاؤں میں دراندازی سے روکیں۔

یہ خط میری کوم نے جمرات کو لکھا جس میں امت شاہ سے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ کوم طبقہ منی پور کا ایک سودیشی قبیلہ ہے اور اقلیتوں میں سب سے چھوٹے قبیلے میں سے ایک ہے۔ میری کوم نے خط میں یہ بھی لکھا کہ ’’ہم سبھی دونوں حریف طبقات کے درمیان بکھرے ہوئے ہیں… دونوں طرف سے میرے طبقہ کے خلاف ہمیشہ قیاس آرائیاں اور اندیشے ہوتے ہیں، اور سبھی لوگ مسائل کے درمیان میں پھنسے ہوئے ہیں… کمزور داخلی انتظامیہ اور اقلیتی قبائل کے درمیان طبقہ کے شکل میں چھوٹے سائز کے سبب ہم اپنے حلقہ اختیار میں دراندازی کرنے والی کسی بھی طاقت کے خلاف کھڑے ہونے میں اہل نہیں ہیں۔

پدم وبھوشن سے نوازی جا چکی میری کوم کا کہنا ہے کہ ’’ہم دونوں نبرد آزما گروپوں کو کوم گاؤں میں دراندازی سے روکنے کے لیے سیکورٹی فورسز کی مدد چاہتے ہیں۔‘‘ سابق راجیہ سبھا رکن میری کوم نے ہندوستانی فوج، نیم فوجی دستہ اور ریاستی فورسز کے سبھی تعینات اراکین سے گزارش بھی کی کہ وہ کوم آبادی کی سیکورٹی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں غیر جانبدار رہیں اور ریاست میں امن و معمول والے حالات بنائے رکھنے میں کامیاب ہوں۔ ساتھ ہی میری کوم نے منی پور کے سبھی لوگوں، خصوصاً میتئی و کوکی طبقہ سے ایک ساتھ آنے کی گزارش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم سبھی کو ایک دوسرے کے ساتھ کی ضرورت ہے، اس لیے آئیے، اپنے اختلافات اور زخموں کو ایک طرف رکھ دیں۔

جی ایس ٹی ریونیو میں 11 فیصد کا اضافہ، اگست میں 1.6 لاکھ کروڑ روپے کا کلیکشن

0
جی-ایس-ٹی-ریونیو-میں-11-فیصد-کا-اضافہ،-اگست-میں-1.6-لاکھ-کروڑ-روپے-کا-کلیکشن

ملک کے جی ایس ٹی ریونیو میں سالانہ بنیاد پر مضبوط اضافہ درج کیا گیا ہے۔ موصولہ خبر کے مطابق اگست ماہ میں جی ایس ٹی کلیکشن تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے رہا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔ ریونیو سکریٹری سنجے ملہوترا نے جمعہ کو سالانہ جی ایس ٹی کلیکشن کی جانکاری دی جو مرکزی حکومت کے لیے خوش آئند ہے۔ جہاں تک گزشتہ سال اگست ماہ میں جی ایس ٹی کلیکشن کی بات ہے تو اُس وقت تقریباً 1.44 لاکھ کروڑ روپے کا کلیکشن ہوا تھا۔

وزارت مالیات نے یکم ستمبر کو اگست سے متعلق جی ایس ٹی کلیکشن کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس مہینے میں مجموعی جی ایس ٹی ریونیو 159069 کروڑ روپے رہا۔ اس میں سنٹرل جی ایس ٹی ریونیو 28328 کروڑ روپے، اسٹیٹ جی ایس ٹی ریونیو 35794 کروڑ روپے اور انٹگریٹیڈ جی ایس ٹی ریونیو 83251 کروڑ روپے رہا۔ اس دوران ذیلی ٹیکس کی شکل میں 11695 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ وزارت مالیات نے کہا کہ اس ماہ میں سامانوں کی درآمد سے حاصل ریونیو میں تین فیصد اور گھریلو لین دین سے حاصل ریونیو میں سالانہ بنیاد پر 14 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

ریونیو سکریٹری سنجے ملہوترا نے بتایا کہ اپریل-جون سہ ماہی میں ٹیکس شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے کے باوجود جی ایس ٹی کلیکشن موجودہ پرائس پر جی ڈی پی کے شرح اضافہ سے زیادہ رہا۔ ملہوترا نے کہا کہ ’’بہتر ٹیکس عمل درآمد اور ٹیکس کلیکشن صلاحیت میں بہتری ہونے سے ایسا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس چوری اور ٹیکس دینداری سے بچنے کے معاملوں میں بھی کمی آئی ہے۔ کے پی ایم جی کے شراکت دار اور اِن ڈائریکٹ ٹیکس چیف ابھشیک جین نے کہا کہ تہوار قریب آنے سے جی ایس ٹی کلیکشن آنے والے مہینوں میں مزید بہتر ہونے کی امید ہے۔‘‘

سنجے ملہوترا نے مزید جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ جون سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح اضافہ 7.8 فیصد تھی اور علامتی طور سے اس میں 8 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ جون سہ ماہی کے دوران جی ایس ٹی ریونیو میں 11 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ٹیکس-جی ڈی پی تناسب 1.33 سے زیادہ ہے۔ انھوں مزید کہا کہ جی ایس ٹی سے شہریوں، گاہکوں اور سرکاروں کو فائدہ ہوا ہے۔ ریونیو ہر مہینے بڑھ رہا ہے اور مرکز و ریاست یہ یقینی کرنے کے لیے ایک ساتھ آئے ہیں کہ جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس شرح کم ہوں۔

مودی حکومت اِنڈیا اتحاد کی طاقت سے گھبرائی ہوئی ہے، ہمیں چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کے لیے تیار رہنا ہوگا: کھڑگے

0
مودی-حکومت-اِنڈیا-اتحاد-کی-طاقت-سے-گھبرائی-ہوئی-ہے،-ہمیں-چھاپہ-ماری-اور-گرفتاریوں-کے-لیے-تیار-رہنا-ہوگا:-کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی میٹنگ کے دوران ساتھی پارٹیوں کے لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے کچھ مہینوں میں بدلے کی کارروائیوں، چھاپہ ماری و گرفتاری کے لیے تیار رہیں کیونکہ یہ اتحاد زمین پر جتنا مضبوط ہوگا، حکومت اس کے خلاف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کا اتنا ہی زیادہ غلط استعمال کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کی بڑھتی طاقت سے حکومت پریشان ہے۔ انھوں نے ملک میں ہیٹ کرائمز میں اضافہ کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس پر بھی نشانہ سادھا۔ اس کے ساتھ ریاستوں کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام لگایا۔

میٹنگ کے دوسرے دن انڈیا بلاک کے لیڈران کو خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ پٹنہ اور بنگلورو میں ہماری دونوں میٹنگوں کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں میں نہ صرف ہم پر حملہ بولا ہے، ہمارے پیارے ملک کے نام کا موازنہ دہشت گرد تنظیم اور غلامی کی علامت سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے بدلے کی سیاست کے سبب آنے والے مہینوں میں اور زیادہ حملوں، زیادہ چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

کانگریس صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جتنا زیادہ اِنڈیا اتحاد مضبوط ہوگا، اتنا ہی زیادہ بی جے پی حکومت اپوزیشن لیڈران کے خلاف ایجنسیوں کا غلط استعمال کرے گی۔ انھوں نے مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال میں مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں اور جھارکھنڈ کے ساتھ چھتیس گڑھ میں حال کے واقعات کی بھی مثال دی۔ کھڑگے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے سماج کا ہر طبقہ، چاہے وہ کسان، نوجوان، خواتین، حاشیے پر رہنے والے لوگ، متوسط لوگ، دانشور، غیر سرکاری ادارہ اور صحافی ہو، سبھی بی جے پی کے اقتدار پرست کُشاسن (بدتر حکمرانی) کے شکار ہیں۔ ہماری طرف 140 کروڑ ہندوستانی اپنی تکلیفوں کو دور کرنے کی امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس نے گزشتہ 9 سالوں میں جو فرقہ واریت کا زہر پھیلایا ہے، وہ اب بے قصور ٹرین مسافروں اور بے قصور اسکولی بچوں کے خلاف ہیٹ کرائمز کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ جب ملک کے ایک حصے میں خوفناک عصمت دری میں شامل لوگوں کو رِہا کیا جاتا ہے اور ان کا استقبال کیا جاتا ہے، تو دوسرے حصے میں خوفناک جرائم اور برہنہ خواتین کی پریڈ کو فروغ ملتا ہے۔ مودی جی کے ہندوستان میں کارگل جنگ کے ایک بہادر کی بیوی کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے۔‘‘

کانگریس صدر دراصل ٹرین میں آر پی ایف کانسٹیبل کے ذریعہ چار لوگوں کو قتل کیے جانے، منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ، اور بلقیس بانو عصمت دری کے ملزم کی رِہائی کا ذکر کر رہے تھے۔ انھوں نے مدھیہ پردیش کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ حاشیے پر پڑے لوگوں کے تئیں بی جے پی حکومت کی بے حسی ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیڈر غریب قبائلیوں اور دلتوں پر پیشاب کرتے ہیں۔ قصورواروں کو کھلے عام گھومنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘

مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت والی مرکزی حکومت ریاستوں کو کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاستوں کو ٹیکس ریونیو کے ان کے حصے سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن حکمراں ریاستوں کو منریگا کا بقایہ نہیں دیا جا رہا۔ مالیاتی کمیشن کی سفارش کے مطابق اسپیشل گرانٹ اور اسٹیٹ اسپیشل گرانٹ جاری نہیں کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری اور پروجیکٹس کے لیے اپوزیشن حکمراں ریاستوں کی جگہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لے جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

کھڑگے نے سوال کیا کہ راہل گاندھی نے ماریشس واقع کمپنی سے راؤنڈ ٹریپنگ کے الزامات اور غیر شفاف سرمایہ کاری کی رپورٹ کی جے پی سی جانچ کا مطالبہ کیا۔ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ وزیر اعظم اس معاملے (اڈانی کیس) کی جانچ کیوں نہیں کرا رہے ہیں؟ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ایجنسیوں اور اداروں پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ وہ ای ڈی چیف، سی بی آئی ڈائریکٹر، چیف الیکشن کمشنرز، یہاں تک کہ ملک بھر کی عدالتوں کے ججوں کی تقرری کو کنٹرول کرنے پر بضد ہے۔ کھڑگے کے مطابق تین میٹنگوں کے دوران انڈیا اتحاد نے ایک مشترکہ محاذ کی شکل میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ حکومت کو کامیابی کے ساتھ جوابدہ بنایا ہے۔ ہماری طاقت حکومت کو پریشان کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پارلیمنٹ میں اہم بلوں کو آگے بڑھایا ہے، ہمارے اراکین پارلیمنٹ کو معمولی بات پر معطل کر دیا ہے۔ ہمارے خلاف خصوصی استحقاق کا قرارداد داخل کیا، ہمارے مائک بند کر دیے، کیمروں کو ہمارے احتجاجی مظاہروں کو کور کرنے کی اجازت نہیں دی، سنسد ٹی وی پر ہماری تقریروں کو کھلے عام سنسر کر دیا۔

ملک کی 60 فیصد آبادی اِنڈیا اتحاد کے ساتھ کھڑی ہے، بی جے پی کا جیتنا ناممکن: راہل گاندھی

0
ملک-کی-60-فیصد-آبادی-اِنڈیا-اتحاد-کے-ساتھ-کھڑی-ہے،-بی-جے-پی-کا-جیتنا-ناممکن:-راہل-گاندھی

کانگریس کے سابق صدر اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی اِنڈیا اتحاد کے ساتھ کھڑی ہے، ایسے میں بی جے پی کا لوک سبھا انتخاب جیتنا ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتنی بڑی آبادی کی نمائندگی ساتھ ہو تو بی جے پی کسی حال میں انتخاب نہیں جیت سکتی ہے۔ کچھ اچھے قدم اس میٹنگ میں اٹھائے گئے ہیں جن میں کوآرڈنیشن کمیٹی بنانا اور دیگر ذیلی کمیٹیاں بنانا شامل ہے۔ ہم جلد ہی سیٹوں کی تقسیم پر بھی فیصلہ لیں گے۔‘‘

راہل گاندھی نے اس دوران اڈانی پر ہوئے تازہ انکشاف اور لداخ میں چین کی دراندازی کا بھی ایشو اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ہندوستان کے لوگوں کا پیسہ چھین کر اپنے چہیتے دو تین لوگوں کو دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے کل بھی پریس کانفرنس کی تھی۔ وزیر اعظم اور ایک بزنس مین کے درمیان کا نیکسس سب کو دکھائی دے رہا ہے۔ جب جی-20 ہو رہا ہے تو ہمارے ملک کی ساکھ پر بٹّہ لگ رہا ہے… پی ایم کو اس بارے میں وضاحت کرنی ہوگی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہم لوگوں کے سامنے واضح نظریات رکھیں گے اور ملک کی ترقی میں غریبوں کو پھر سے شرکت دار بنائیں گے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ حال ہی میں لداخ میں تھے اور وہاں کے عام لوگوں اور گڑیریوں سے بات چیت میں پتہ چلا ہے کہ چین نے یقینی طور سے ہماری زمین پر قبضہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے لداخ کے لوگوں اور ملک کے لوگوں سے جھوٹ بولا ہے کہ کسی نے کوئی قبضہ نہیں کیا۔ راہل گاندھی کہتے ہیں ’’میں ہفتہ بھر لداخ میں تھا، میں نے پینگونگ جھیل کا بھی دورہ کیا جہاں چینی تھے۔ میں نے وہاں کے لوگوں سے بات چیت کی۔ ان لوگوں نے صاف بتایا کہ چین نے ہندوستان کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔‘‘ راہل گاندھی یہ بھی کہتے ہیں کہ سرحد پر تبدیلی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ مویشی چرانے والے پہلے جہاں تک جا سکتے تھے، اب نہیں جا پا رہے ہیں۔ یہ بے حد شرم کی بات ہے۔

’ریاست میں اِسی سال نافذ ہوگا یونیفارم سول کوڈ‘، قدرتی آفات سے نبرد آزما اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا اعلان

0
’ریاست-میں-اِسی-سال-نافذ-ہوگا-یونیفارم-سول-کوڈ‘،-قدرتی-آفات-سے-نبرد-آزما-اتراکھنڈ-کے-وزیر-اعلیٰ-کا-اعلان

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا ہے جس نے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دراصل یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا ہے کہ جتنی جلد ہو سکے یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کا ہمارا عزم ہے۔ دھامی کا کہنا ہے کہ ’’جب ہمیں یو سی سی ڈرافٹ مل جائے گا تو ہم اس عمل کو اس سال آگے بڑھائیں گے۔ ہم یونیفارم سول بل کو ریاست میں جلد از جلد نافذ کریں گے۔‘‘

یہ بیان وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کھٹیما میں دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یو سی سی کے بارے میں ہمارا عزم ہے کہ ہم اسے جلد لائیں گے۔ یہ ہمارے انتخابی منشور میں بھی شامل تھا۔ ہمیں جس کام کے لیے عوام نے منتخب کیا ہے، ہم اس وعدے کو پورا کریں گے اور ہم جلد ہی ریاست میں یکساں سول بل لائیں گے۔ دھامی حکومت نے یو سی سی تیار کرنے کے لیے مارچ 2022 میں کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے عام لوگوں سے ان کی رائے اور مشورے طلب کیے تھے۔

واضح رہے کہ اس متنازعہ ایشو پر دھامی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاست قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہے۔ بارش اور لینڈ سلائڈنگ کے سبب پیدا سنگین حالات سے نمٹنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ اس سال ہوئی بارش سے ریاست کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک کے اندازے کے مطابق قدرتی آفت سے 1335 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے ازالہ کے لیے ریاستی آفات فنڈ سے 323 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ لیکن بقیہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی امداد کے لیے ریاستی حکومت مرکز کو خط لکھے گی۔

ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور تمام ہندوستانی ہندو ہیں! آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت

0
ہندوستان-ایک-ہندو-راشٹر-ہے-اور-تمام-ہندوستانی-ہندو-ہیں!-آر-ایس-ایس-کے-سربراہ-موہن-بھاگوت

ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے یہ تبصرہ جمعہ (یکم ستمبر) کو مہاراشٹر کے ناگپور میں کیا۔ وہ ایک اخبار چلانے والی کمپنی کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بول رہے تھے۔

آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے کہا ’’ہندوستان ایک ‘ہندو راشٹر’ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ نظریاتی طور پر تمام ہندوستانی ہندو ہیں اور ہندو کا مطلب تمام ہندوستانی ہیں۔ جو لوگ آج ہندوستان میں ہیں ان کا تعلق ہندو ثقافت، ہندو آباؤ اجداد اور ہندو سرزمین سے ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔‘‘ اس کے ساتھ لوگوں کی توقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگھ کو سب کی فکر کرنی چاہیے۔

بھاگوت نے کہا ’’کچھ لوگ اسے سمجھ چکے ہیں، جب کہ کچھ اپنی عادت اور خود غرضی کی وجہ سے سمجھنے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ اسے یا تو ابھی تک سمجھ نہیں پائے یا بھول گئے ہیں۔‘‘

اخبار کے دفتر میں بھاگوت نے کہا کہ رپورٹنگ میں سب کو شامل ہونا کیا جانا چاہئے اور اپنے نظریے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے منصفانہ اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔ بھاگوت نے کہا کہ ’’ہمارے نظریہ کی پوری دنیا میں بہت مانگ ہے۔ ہر کوئی اسے سمجھ گیا ہے۔ کچھ اسے قبول کرتے ہیں، کچھ نہیں کرتے۔‘‘

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ یہ فطری ہے کہ اس سلسلے میں عالمی ذمہ داری ملکی سماج اور میڈیا پر آئے گی جو ‘نظریہ’ پھیلاتے ہیں۔ بھاگوت نے ماحول کا خیال رکھنے اور ‘سودیشی’، خاندانی اقدار اور نظم و ضبط پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ نتن گڈکری نے اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ مرکزی وزیر گڈکری نے کہا کہ جامعیت اخبار کی شناخت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قارئین ایسا میڈیا پسند کرتے ہیں جو نظریاتی تشخص کے ساتھ جامع ہو۔