جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 142

حیدرآباد میں موسلادھار بارش سے عوام پریشان، معمولات زندگی درہم برہم, سڑکیں پانی سے بھر گئیں

0
حیدرآباد-میں-موسلادھار-بارش-سے-عوام-پریشان،-معمولات-زندگی-درہم-برہم,-سڑکیں-پانی-سے-بھر-گئیں

حیدرآباد: حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں منگل کی صبح موسلا دھار بارش سے کئی کالونیاں زیر آب آگئیں اور عام زندگی درہم برہم ہوگئی، بارش کا اثر ٹریفک پر بھی نظر آیا۔

نشیبی رہائشی علاقے اور جھیلوں اور برساتی نالوں کے قریب کے علاقے زیر آب آ گئے اور کالونیاں بھی زیر آب آ گئیں۔ بعض علاقوں میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا جس سے گھریلو سامان کو نقصان پہنچا اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

حکام نے شدید بارش کے بعد اور بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا۔ موسلادھار بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں جس سے عام طور پر مصروف علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔ دفاتر اور کام کی جگہوں پر جانے والے لوگ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

پانی بھر جانے کی وجہ سے فلائی اوور اور ٹولی چوکی کو آئی ٹی ہب ایچ آئی ٹی ای سی سٹی اور گچی بوولی سے جوڑنے والی سڑک پر طویل ٹریفک جام رہا۔ اسی طرح کے مناظر کوکٹ پلی-موساپیٹ اور ایراگڈا-موساپیٹ سڑکوں پر دیکھے گئے۔

سائبرآباد پولیس نے آئی ٹی ملازمین سے کہا کہ وہ گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کا انتخاب کریں۔ ساتھ ہی شہریوں سے موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ موسا پیٹ میٹرو اسٹیشن کے نیچے بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا، جبکہ کوکٹ پلی نالے کا پانی مین سڑک پر آگیا۔

شہر کے مصروف ترین ٹریفک راستوں میں سے ایک، پونجاگوٹہ کوکٹ پلی روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔ امیرپیٹ اور بیگم پیٹ کے درمیان ٹریفک بھی ٹھپ ہو گئی۔

حکام نے میسما گوڈا علاقہ میں مختلف انجینئرنگ کالجوں کے ہاسٹلوں میں پھنسے طلباء کو بچانے کے لئے جی سی بی کو تعینات کیا۔ ملاریڈی، سینٹ پیٹرس اور نرسمہا ریڈی کالج کے ہاسٹل سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

چنتل، اپل، بیگم پیٹ، ٹولی چوکی، کوکٹ پلی، بوون پلی اور گنڈالپوچمپلی جیسے علاقوں کی کالونیاں زیر آب آگئیں۔ چنتل کے سرینواس نگر میں فاکس ساگر کے پانی کی وجہ سے سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔

رہائشیوں نے شکایت کی کہ علی الصبح 3 بجے کے قریب پانی ان کے گھروں میں داخل ہوا اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے میونسپل افسران اور مقامی عوامی نمائندوں پر لاپرواہی کا الزام لگایا۔ ایک خاتون نے کہا کہ سیاستدانوں کو پانی بھراؤ کے مسلسل مسئلے کو حل کیے بغیر آئندہ انتخابات میں ووٹ مانگنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اِسرو نے ’چندریان-3‘ مشن پر کوئز مقابلے کا کیا اعلان، اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ملیں گے ایک لاکھ روپے

0
اِسرو-نے-’چندریان-3‘-مشن-پر-کوئز-مقابلے-کا-کیا-اعلان،-اوّل-مقام-حاصل-کرنے-والے-کو-ملیں-گے-ایک-لاکھ-روپے

چاند پر اس وقت رات ہو چکی ہے اور چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول (وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر) چاند کی جنوبی سطح نیند کے مزے لے رہا ہے۔ اس درمیان اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے چندریان-3 کو لے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس نے کوئز مقابلے کی شروعات کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہندوستان کا کوئی بھی شہری شامل ہو سکتا ہے۔ دراصل ہندوستان کے چاند تک پہنچنے کے کامیاب سفر کا جشن ہندوستانی عوام کے ساتھ منانے کے مقصد سے اس کوئز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کوئز مقابلے میں اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

اس کوئز کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ چاند کے عجوبوں کی دریافت اور سائنسی تحقیق کے تئیں محبت ظاہر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ سبھی ہندوستانی شہریوں کو اس کوئز میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے https://www.mygov.in/ پر اپنا ایک اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اس میں پروفائل اَپڈیٹ رکھنی ہوگی۔ آدھیادھوری پروفائل والے امیدوار کوئز کے لیے نااہل ہوں گے۔ جیسے ہی شرکا صحیح او ٹی پی درج کرنے کے بعد ’سَبمٹ‘ بٹن پر کلک کرے گا، کوئز شروع ہو جائے گا۔

اس کوئز میں 10 سوالات کے جواب 300 سیکنڈ میں دینے ہوں گے۔ کوئی منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے ایک ہی موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی کا ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپلی کیٹ اندراجات کے معاملے میں پہلی کوشش کا ریکارڈ تشخیص کے لیے قابل قبول مانا جائے گا۔ کوئز میں حصہ لینے کے بعد سبھی شرکاء کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ کوئز ختم ہونے کے بعد فاتحین کو نقد انعام دیا جائے گا۔

دی گئی جانکاری کے مطابق اوّل مقام پر رہنے والے کو ایک لاکھ روپے کا نقد انعام، دوسرے مقام پر رہنے والے کو 75 ہزار روپے کا نقد انعام، اور تیسرے مقام پر رہنے والے کو 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 100 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں میں سے سبھی کو 2-2 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں، 200 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں کو 1-1 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ڈی ایم آر سی نے اپنا ہی ریکارڈ توڑا، 4 ستمبر کو دہلی میٹرو میں 71.03 لاکھ لوگوں نے کیا سفر

0
ڈی-ایم-آر-سی-نے-اپنا-ہی-ریکارڈ-توڑا،-4-ستمبر-کو-دہلی-میٹرو-میں-71.03-لاکھ-لوگوں-نے-کیا-سفر

نئی دہلی: دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ دہلی میٹرو سے 4 ستمبر یعنی پیر کے روز 71.03 لاکھ لوگوں نے سفر کر کے تاریخ رقم کر دی۔ سابق بلند ترین ریکارڈ کی بات کریں تو 29 اگست کو 69.94 لاکھ اور 28 اگست کو 68.16 لاکھ لوگون نے سفر کیا تھا۔

ڈی ایم آر سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’پیر کا دن دہلی میٹرو کے لیے سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ یہ ڈی ایم آر سی کے ذریعہ فراہم کردہ عالمی معیار کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں دہلی-این سی آر کے شہریوں کی لچک اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو یلو لائن نے سب سے زیادہ مسافروں کی تعداد 1935752 ریکارڈ کی، اس کے بعد بلیو لائن (1874167)، ریڈ لائن (768742)، وایلیٹ لائن (736237)، پنک لائن ( 704545)، میجنٹا لائن (592338)، گرین لائن (335529)، ایئرپورٹ لائن (69527)، ریپڈ میٹرو (47733) اور گرے لائن (38941) پر لوگوں نے سفر کیا۔

ایک ترجمان نے کہا ’’ڈی ایم آر سی دہلی-این سی آر خطے میں کنیکٹیویٹی کو بڑھاتے ہوئے مسافروں کی حفاظت اور آرام کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ ریکارڈ قابل اعتماد اور پائیدار نقل و حمل کے حل فراہم کرنے کے ہمارے مشن کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

سناتن مذہب پر گھمسان کے درمیان 262 ہستیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھا خط، اودے ندھی پر کارروائی کا مطالبہ

0
سناتن-مذہب-پر-گھمسان-کے-درمیان-262-ہستیوں-نے-چیف-جسٹس-آف-انڈیا-کو-لکھا-خط،-اودے-ندھی-پر-کارروائی-کا-مطالبہ

سناتن مذہب سے متعلق تمل ناڈو کے وزیر اودے ندھی اسٹالن کے متنازعہ بیان پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کی 262 اہم ہستیوں نے اودے ندھی کے بیان کے خلاف چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو ایک خط لکھا ہے جس میں بیان پر از خود نوٹس لینے کی گزارش کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے سے ہی اودے ندھی اسٹالن کے بیان پر ہنگامہ جاری ہے اور کئی سیاسی و مذہبی تنظیموں نے اس پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اب 262 ہستیوں کے ذریعہ سی جے آئی چندرچوڑ کو لکھے گئے خط نے اس ہنگامہ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ جن بڑی ہستیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا ہے ان میں کئی سابق جج، سابق افسران اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تمل ناڈو حکومت میں وزیر ادے ندھی اسٹالن نے حال میں جو بیان دیا ہے وہ فکر انگیز ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں کارروائی سے انکار کیا ہے، ایسے میں ہم چیف جسٹس سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں از خود نوٹس لیں اور اس طرح کے اشتعال انگیز بیان پر کارروائی کریں۔ خط لکھنے والوں میں ملک کی الگ الگ ہائی کورٹس کے کئی سبکدوش جج، سابق آئی اے ایس، آئی ایف ایس شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اودے ندھی اسٹالن نے اپنے ایک بیان میں سناتن مذہب پر بات کی تھی۔ انھوں نے اسے ایک بیماری قرار دیا تھا اور اس کا موازنہ کورونا، ڈینگو، ملیریا سے کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں، اودے ندھی نے کہا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں اصلاح ممکن نہیں ہوتا، انھیں ختم ہی کرنا چاہیے، اور سناتن ان میں سے ہی ایک ہے۔

اتراکھنڈ میں بارش کی تباہی: 80 دنوں میں 93 افراد کی موت

0
اتراکھنڈ-میں-بارش-کی-تباہی:-80-دنوں-میں-93-افراد-کی-موت

دہرادون: اس بار اتراکھنڈ میں بارش نے کافی تباہی مچائی ہے اور گزشتہ 80 دنوں ریاست کے حالات ابتر نظر آ رہے ہیں۔ کئی مقامات پر سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھنے میں آئیں جبکہ دیگر مقامات پر بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے دلوں کو دہلا دیا۔ دریں اثنا، متعدد افراد نے اپنی جان گنوا دی۔

اس سال 15 جون سے اب تک اس آفت نے سو سے زائد خاندانوں کے لیے ناقابل تلافی زخم چھوڑے ہیں۔ آفت کی تباہ کاریوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع زیادہ بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان رودرپریاگ ضلع میں ہوا ہے۔ یہاں 21 لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ 13 لاپتہ ہیں۔

صرف اتنا ہی نہیں 93 خاندانوں نے اپنے رشتہ داروں کو کھو دیا، جبکہ 16 کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ اتنا ہی نہیں 51 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

گزشتہ 80 دن پوری ریاست کے لیے مشکل رہے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق آفت سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ 1914 مکانات بھی متاثر ہوئے۔ ان میں سے 56 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے جبکہ 181 کی حالت اب رہنے کے قابل نہیں ہے۔ باقی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ریاست میں اس آفت کی وجہ سے مویشیوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک 7798 مویشیوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں، پینے کے پانی اور بجلی کی لائنوں سمیت عوامی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اس سب کی تشخیص ابھی جاری ہے۔

اگر مراٹھا برادری سمیت پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینا ہے تو 50 فیصد کی موجودہ حد کو ہٹانا ہوگا: نانا پٹولے

0
اگر-مراٹھا-برادری-سمیت-پسماندہ-طبقات-کو-ریزرویشن-دینا-ہے-تو-50-فیصد-کی-موجودہ-حد-کو-ہٹانا-ہوگا:-نانا-پٹولے

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر بی جے پی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کی خواہش رکھتی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہی اس پر فیصلہ لینا چاہئے اور مراٹھا برادری کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ اگر مراٹھا برادری سمیت پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینا ہے تو 50 فیصد کی موجودہ حد کو ہٹانا ہوگا۔ مرکزی حکومت کو اس حد کو ہٹا سکتی ہے لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔ بی جے پی مراٹھا اور دھنگر برادری سے جھوٹے وعدے کرکے اقتدار میں آئی اور اس کے بعد اس نے اس برادری کو ریزرویشن نہیں دیا۔ مراٹھا ریزرویشن قانون اسمبلی میں عجلت میں پاس ہوا، لیکن یہ سپریم کورٹ میں نہیں ٹھہر سکا۔ دیویندر فڑنویس نے سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ صرف وہی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دے سکتے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے ڈیڑھ سال بعد بھی مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پیر کو دوبارہ ملاقات کی اور مراٹھا ریزرویشن پر اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے ایک ماہ کا وقت مانگا ہے لیکن یہ وقت کا ضیاع ہے۔ مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے ایم وی اے حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش مضحکہ خیز ہے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی طرف سے دیا گیا ریزرویشن عدالت میں بھی برقرار رہے گا، لیکن انہیں جواب دینا چاہیے کہ یہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں ٹھہر سکا؟ فڈنویس نے مرکزی حکومت سے بات کرکے مراٹھا ریزرویشن کو نویں فہرست میں کیوں شامل نہیں کیا؟ بنیادی طور پر یہ واضح ہے کہ بی جے پی مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی۔ حکومتی اجلاس میں کسی ٹھوس فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے مراٹھا برادری کے لیے کیے گئے فیصلوں کی ایک فہرست پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ریزرویشن کیسے دیا جائے گا اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جالنہ ضلع میں پولیس نے چھوٹے بڑے سب کو بری طرح مارا پیٹا جس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جان بوجھ کر انجام دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مراٹھا برادری کو او بی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن دیا جائے۔ اس طرح کے بیانات سے دونوں برادریوں میں تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جی-20: عشائیہ کے دعوت نامہ میں ’ پریزیڈنٹ آف بھارت‘ کا استعمال، لفظ ’انڈیا‘ ہٹانے پر کانگریس کا شدید ردعمل

0
جی-20:-عشائیہ-کے-دعوت-نامہ-میں-’-پریزیڈنٹ-آف-بھارت‘-کا-استعمال،-لفظ-’انڈیا‘-ہٹانے-پر-کانگریس-کا-شدید-ردعمل

نئی دہلی: ہندوستان میں ہونے جا رہی جی-20 سربراہی اجلاس سے کانگریس نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے عشائیہ کے جو دعوت نامے بھجوائے ہیں ان پر پریزیڈنٹ آف انڈیا کے مقام پر پریزیڈنٹ آف بھارت کا استعمال کیا گیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے کہا کہ راشٹرپتی بھون کی طرف سے 9 ستمبر کو جی-20 سربراہی اجلاس کے عشائیہ کے لیے بھیجے گئے دعوت ناموں میں عام طور پر استعمال ہونے والے ‘پرزیڈنٹ آف انڈیا’ کو تبدیل کر کے پریزڈنٹ آف بھارت کر دیا گیا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں آئین کا حوالہ دیتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا ’’تو یہ خبر سچ ہے۔ راشٹرپتی بھون نے 9 ستمبر کو جی-20 کے عشائیہ کے لیے معمول کے ‘پریزیڈنٹ آف انڈیا’ کے بجائے ‘پریزیڈنٹ آف بھارت’ کے نام سے دعوت نامہ بھیجا ہے۔ اب، آئین کے آرٹیکل پر نظر ڈالیں ’’بھارت، جو کہ انڈیا تھا، ریاستوں کا مرکز ہوگا لیکن اب یہ ریاستوں کا مرکز بھی حملے کی زد میں ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا ’’مسٹر مودی تاریخ کو مسخ اور ہندوستان یعنی بھارت یعنی ریاستوں کے مرکز کو تقسیم کرنا جاری رکھ سکتے ہیں لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔ آخر انڈیا کی جماعتوں کا مقصد کیا ہے؟ یہ بھارت ہے – ہم آہنگی، دوستی، مفاہمت اور بھروسہ۔ جوڑے گا بھارت جیتے گا انڈیا!‘‘

یوپی میں گھوسی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری، سماج وادی پارٹی نے لگایا دھاندلی کا الزام

0
یوپی-میں-گھوسی-ضمنی-انتخاب-کے-لیے-ووٹنگ-جاری،-سماج-وادی-پارٹی-نے-لگایا-دھاندلی-کا-الزام

لکھنؤ: گھوسی اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ یہاں کل 430394 ووٹر دس امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، سماج وادی پارٹی نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔

سماج وادی پارٹی نے اپنے ایکس ہینڈل پر کہا ’’گھوسی اسمبلی ضمنی انتخاب میں انتظامیہ آدھار کارڈ کی جانچ کے نام پر اقلیتی اکثریت والے بوتھ نمبر 274، 275، 276 پر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے رہی‘‘

بی جے پی کے دارا سنگھ چوہان اور سماج وادی پارٹی کے سدھاکر سنگھ کے علاوہ عام جنتا دل سے راجکمار چوہان، جنتا کرانتی پارٹی سے مننی لال چوہان، جن راجیہ پارٹی سے سنیل چوہان، جن ادھیکار پارٹی سے افروز عالم، پیس پارٹی سے ثناء اللہ اعظمی، بہوجن مکتی پارٹی سے رویندر پرتاپ سنگھ، آزاد امیدوار ونے کمار اور رمیش پانڈے میدان میں ہیں۔

واضح رہے کہ پورے ملک کی نظریں گھوسی اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔ اس سیٹ پر 6 سال میں چوتھی بار الیکشن ہو رہے ہیں۔ گھوسی ضمنی انتخاب ایک ایسا انتخاب ثابت ہونے جا رہا ہے جو آنے والے 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کئی سوالوں کے جواب دے گا۔ یہاں سیدھا مقابلہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان ہے۔

کسی بھی ووٹر کا نام بغیر نوٹس کے ووٹر لسٹ سے حذف نہ کیا جائے، سپریم کورٹ نے کمیشن کو دی ہدایت

0
کسی-بھی-ووٹر-کا-نام-بغیر-نوٹس-کے-ووٹر-لسٹ-سے-حذف-نہ-کیا-جائے،-سپریم-کورٹ-نے-کمیشن-کو-دی-ہدایت

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ (4 اگست کو) دیے گئے ایک فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ زمینی سطح پر مناسب چھان بین اور تصدیق کے بغیر ووٹر لسٹ سے کسی بھی ووٹر کا نام نہ نکالا جائے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ سے کسی بھی نام کو حذف کرنے سے پہلے قواعد کے مطابق ووٹر کو نوٹس بھیجنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ان خبروں کے بعد دیا ہے کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ سے ووٹروں کے نام غائب ہیں۔ جن ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے غائب پائے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اقلیتی اور محروم طبقات سے ہے۔ اے ڈی آر (ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز) کے جگدیپ چوکر نے پیر کو دہلی میں اس بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔

انہوں نے کہا، “عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور ووٹر رجسٹریشن رولز 1960 کے تحت کسی بھی ووٹر کا نام مناسب طریقہ کار کے بغیر ووٹر لسٹ سے حذف نہیں کیا جانا چاہئے۔ تمام معاملات میں نام ہٹانے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس سلسلے میں ایک نوٹس جاری کیا جائے اور اسے ووٹرز کو بھیجا جائے۔” سپریم کورٹ نے بھی اسی نکتے پر زور دیا ہے کہ کوئی ووٹر اس عمل سے محروم نہ رہے۔

اسی موضوع پر الیکشن کمیشن کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں متعدد مطالبات اور تجاویز کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ تجاویز انتخابات سے متعلق شہری کمیشن نے تیار کی ہیں جس کے چیئرمین سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر ہیں۔

میمورنڈم میں الیکشن کمیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ ووٹر لسٹوں کا سوشل آڈٹ کرایا جائے اور انہیں ایسی جگہ شائع کیا جائے جہاں سے ووٹر انہیں دیکھ سکیں۔ یہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر تلاش کے قابل ڈیٹا بیس میں دستیاب ہونا چاہیے۔ میمورنڈم کے مطابق ووٹرز کو ان کی معلومات کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں جعلی ووٹرز کو چیک کرنے کی سہولت بھی ہونی چاہیے۔

اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) سے متعلق کئی مسائل پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے معاملات سامنے آئے ہیں جب ای وی ایم غیر مجاز جگہوں پر یا ووٹ ڈالنے کے بعد لوگوں کے پاس پائے گئے ہیں۔ ان میں امیدواروں کی ذاتی کاریں وغیرہ بھی شامل ہیں جس سے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کل ووٹنگ اور ای وی ایم کی گنتی میں بھی فرق پایا گیا ہے جس سے انتخابی عمل پر سوال اٹھتے ہیں۔

میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وی وی پی اے ٹی سسٹم کو بھی از سر نو ترتیب دیا جائے تاکہ ووٹر اپنے طریقے سے اس کی تصدیق کر سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ ووٹر کے ہاتھ میں وی وی پیٹ آنا چاہیے تاکہ وہ اسے بغیر چپ کے بیلٹ باکس میں ڈال سکے تاکہ اس کا ووٹ درست ہو سکے۔ تمام حلقوں میں نتائج کا اعلان کرنے سے پہلے ان وی وی پیٹ سلپس کو مکمل طور پر شمار کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے وی وی پی اے ٹی پرچی کا سائز تھوڑا بڑا ہونا چاہیے اور اس پر تمام معلومات اس طرح لکھنی ہوں گی کہ اسے اگلے پانچ سال تک محفوظ رکھا جا سکے۔

الیکشن کمیشن سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ووٹر رجسٹریشن کے لیے فارم 17اے اور ووٹ کے ریکارڈ کے لیے فارم 17سی کو میچ کیا جائے اور ووٹنگ کے دن ہی ووٹنگ ختم ہونے کے بعد پبلک کیا جائے۔

ستمبر میں گرمی کا ستم! دہلی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے متجاوز

0
ستمبر-میں-گرمی-کا-ستم!-دہلی-میں-درجہ-حرارت-40-ڈگری-سیلسیس-سے-متجاوز

نئی دہلی: دہلی اور شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ستمبر کے مہینے میں بھی شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق نئی دہلی (صفدرجنگ) میں پیر 4 ستمبر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو 2011 کے بعد ریکارڈ سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے اور معمول کی سطح سے 6 ڈگری زیادہ ہے۔ وہیں اگست کے بعد راجستھان میں ستمبر میں بھی ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق موسم کے یہ بدلے ہوئے پیٹرن موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اپنی پیشن گوئی میں کہا ہے کہ منگل کو آسمان ابر آلود رہے گا اور رات کو ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب 37 ڈگری سیلسیس اور 27 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔ پیر کو کم سے کم درجہ حرارت 26.3 ڈگری سیلسیس تھا جو اس موسم کے اوسط درجہ حرارت سے ایک ڈگری زیادہ ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق دہلی میں ہوا کے معیار کا مجموعی انڈیکس (اے کیو آئی) رات 8 بجے 233 ریکارڈ کیا گیا، جو ‘خراب’ زمرے میں آتا ہے۔

وہیں، راجستھان کے چورو میں ایک بار پھر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 4 ستمبر 2023 کو پیلانی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ آئی ایم ڈی جے پور کے مطابق 4 ستمبر کو راجستھان کے کئی دوسرے اہم شہروں میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔