جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 143

گاہک کی جائیداد کے کاغذات غائب، آئی سی آئی سی آئی بینک پر 25 لاکھ کا جرمانہ

0
گاہک-کی-جائیداد-کے-کاغذات-غائب،-آئی-سی-آئی-سی-آئی-بینک-پر-25-لاکھ-کا-جرمانہ

نئی دہلی: ملک کے دوسرے بڑے نجی شعبے کے بینک آئی سی آئی سی آئی بینک میں بڑی لاپرواہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ قرض لیتے وقت ایک صارف کی طرف سے بینک میں جمع کرائے گئے اصل کاغذات گم ہو گئے۔ اس پر، قومی صارف تنازعات کے ازالے کے کمیشن (این ڈی آر سی) نے بینک کی سخت سرزنش کی اور شکایت کنندہ کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق، یہ معاملہ بنگلورو کا ہے، جہاں شکایت کے مطابق بینک نے اپریل 2016 میں ایک صارف کے لیے 1.86 کروڑ روپے کا ہوم لون منظور کیا تھا اور جائیداد کے اصل دستاویزات بشمول سیل ڈیڈ اپنے پاس رکھ تھی۔ لیکن ان دستاویزات کی اسکین یا سافٹ کاپی بینک سے قرض لینے والے شخص منوج مدھوسودن کو فراہم نہیں کی گئی اور جب پوچھا گیا تو کہا گیا کہ وہ گم ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد مدھوسودنن نے کئی بار بینک حکام سے اپنی شکایت درج کروائی لیکن جب کوئی سماعت نہیں کی گئی تو انہوں نے بینکنگ لوک پال سے رجوع کیا۔

اپنی شکایت میں شکایت کنندہ نے کہا کہ دو ماہ تک بینک میں جمع دستاویزات کی اسکین کاپی نہ ملنے پر جب انہوں نے اس پر میں معلومات حاصل کرنا چاہی تو آئی سی آئی سی آئی بینک نے انہیں جون 2016 میں مطلع کیا کہ دستاویزات ایک کورئیر کمپنی کی طرف سے بنگلورو سے حیدرآباد میں ان کی مرکزی اسٹوریج کی سہولت پر لے جانے کے دوران گم ہو گئے ہیں۔

اس معاملے میں بینکنگ لوک پال نے ستمبر 2016 میں بینک کو ہدایت کی کہ وہ مدھوسودھن کو گم شدہ دستاویزات کی نقل جاری کرے، نقصان سے متعلق پبلک نوٹس شائع کرے اور سروس میں کمی کے لیے شکایت کنندہ کو 25000 روپے کا معاوضہ ادا کرے۔

شکایت کنندہ منوج مدھوسودنن نے معاملہ کو قومی صارف کمیشن کے پاس لے جانے کا فیصلہ کیا اور اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ بینک انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات کی اسکین کاپی اصل دستاویزات کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ مدھوسودھن کی جانب سے ذہنی اذیت اور نقصان کے لیے 5 کروڑ روپے کے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپنے سامنے موجود شواہد کو ذہن میں رکھتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ سروس میں کمی کی بنیاد پر بینک سے معاوضہ طلب کرنا ایک درست دعویٰ ہے۔

پریزائیڈنگ ممبر سبھاش چندرا اس شکایت کی سماعت کر رہے تھے جس میں خدمات میں کمی کے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسے منوج مدھوسودھن نے وکیل شویتانک شانتانو کے ذریعے دائر کیا تھا۔ سماعت کے دوران کمیشن نے کہا کہ موجودہ مسئلہ سروس میں کمی کا معاوضہ اور مستقبل میں ہونے والے کسی نقصان کے خلاف شکایت کی تلافی کا ہے۔ این سی ڈی آر سی کے مطابق بینک کورئیر کمپنی پر ذمہ داری عائد نہیں کر سکتا۔ این سی ڈی آر سی نے آئی سی آئی سی آئی بینک کو خدمات میں کمی کے معاوضے کے طور پر 25 لاکھ روپے اور قانونی چارہ جوئی کے اخراجات کے طور پر 50000 روپے ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔

ضمنی انتخابات: ملک کی 6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ جاری

0
ضمنی-انتخابات:-ملک-کی-6-ریاستوں-کی-7-اسمبلی-سیٹوں-پر-ووٹنگ-جاری

نئی دہلی: ملک کی ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر آج ضمنی انتخابات کے تحت ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ووٹر مغربی بنگال کی دھوپ گوڑی، تریپورہ کی دھن پور اور باکس نگر، کیرالہ کی پتھوپلی، یوپی کی گھوسی، اتراکھنڈ کی باگیشور اور جھارکھنڈ کی ڈومری سیٹ پر حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 8 ستمبر کو کی جائے گی۔

گھوسی سیٹ پر سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان ٹکراؤ

یوپی کی گھوسی سیٹ سے حکمراں بی جے پی کے زیرقیادت اتحاد این ڈی اے نے دارا سنگھ چوہان کو میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ سماج وادی پارٹی کے امیدوار سدھاکر سنگھ کو کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ چوہان یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی پچھلی بی جے پی حکومت میں وزیر تھے۔ انہوں نے 12 جنوری 2022 کو وزراء کونسل سے استعفیٰ دے دیا اور ایس پی میں شامل ہو گئے تھے۔

دھوپ گوری اسمبلی سیٹ پر سہ رخی مقابلہ

مغربی بنگال کے دھوپ گوڑی اسمبلی حلقہ میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، بی جے پی اور کانگریس کی حمایت یافتہ سی پی آئی (ایم) کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہوگا۔ یہ سیٹ 2016 میں ٹی ایم سی نے جیتی تھی۔ تاہم 2021 میں بی جے پی نے یہ سیٹ چھین لی تھی۔

تریپورہ میں دو سیٹوں کے لیے ووٹنگ

تریپورہ کے سیپاہیجالا ضلع میں دھن پور اور باکس نگر اسمبلی سیٹوں کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ یہاں وزیر اعلی مانک ساہا نے پارٹی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ تریپورہ پردیش کانگریس نے اتوار (4 ستمبر) کو لوگوں پر زور دیا کہ وہ دونوں سیٹوں پر ‘انڈیا’ اتحاد کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔

باکس نگر حلقہ میں بی جے پی کے تفضل حسین کا مقابلہ سی پی آئی (ایم) کے میزان حسین سے ہے۔ مسلم اکثریتی باکس نگر کو بائیں بازو کی پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ، دھن پور میں، جو کبھی کمیونسٹوں کا گڑھ تھا، بی جے پی کی بندو دیب ناتھ اور سی پی آئی (ایم) کے کوشک دیب ناتھ کے درمیان سیدھی لڑائی ہے۔

ڈومری میں این ڈی اے اور انڈیا الائنس کے درمیان مقابلہ

جھارکھنڈ کے ڈومری میں انڈیا الائنز کی امیدوار بے بی دیوی کا براہ راست مقابلہ این ڈی اے کی امیدوار یشودا دیوی سے ہے۔ انتخابات سے پہلے جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سیٹ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے حاصل کی جائے گی اور انڈیا الائنسز ڈومری سے ہی اپنی جیت کا سلسلہ شروع کرے گا، جبکہ این ڈی اے نے بھی اپنی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔

پتھوپلی ضمنی انتخاب میں کانگریس اور بائیں بازو کا ٹکراؤ

کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیاں کیرالہ کے پتھوپلی ضمنی انتخاب میں ایک دوسرے سے لڑیں گی۔ کانگریس کی قیادت والی متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اپوزیشن نے سابق وزیر اعلی کے انتقال کے بعد اومن چانڈی کے بیٹے چنڈی اومن کو میدان میں اتارا ہے۔ حکمران لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ نے ایک بار پھر ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) کے رہنما جیک سی تھامس کو میدان میں اتارا ہے۔ وہیں بی جے پی نے یہاں سے اپنے کوٹائم ضلع صدر جی لیجن لال کو میدان میں اتارا ہے۔

اتراکھنڈ میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھی لڑائی

اتراکھنڈ میں بی جے پی نے پاروتی داس کو سیٹ برقرار رکھنے کے لیے میدان میں اتارا ہے۔ ان کے شوہر چندن داس نے 2007 سے اس سیٹ سے لگاتار چار مرتبہ جیت حاصل کی تھی۔ یہ نشست ان کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے داس کے لیے مہم چلائی۔ جبکہ سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت، ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر کرن مہرا اور ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر یشپال آریہ جیسے سابق فوجی پارٹی امیدوار بسنت کمار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پچھلے کچھ دنوں سے باگیشور میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔

اگر پانچ سال میں ایک بار انتخابات ہوں گے تو وہ منہ بھی نہیں دکھائیں گے: کیجریوال

0
اگر-پانچ-سال-میں-ایک-بار-انتخابات-ہوں-گے-تو-وہ-منہ-بھی-نہیں-دکھائیں-گے:-کیجریوال

عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نو سال کی حکومت کے بعد، وہ (وزیر اعظم) ایک ملک ایک انتخاب کے تصور پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔

کیجریوال نے کہا کہ اگر کوئی نو سال بعد ایک ملک ایک الیکشن کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے کوئی کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ نو سال تک ملک کے وزیر اعظم رہنے کے بعد مودی جی کس بات پر ووٹ مانگ رہے ہیں… وہ ’ون نیشن ون الیکشن‘ پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر میں نے نو سال میں کوئی کام کیا ہوتا تو میں کہتا کہ میں نے اتنا کام کیا ہے، اب مجھے اتنا  کام کرنا ہے، اسی لیے ووٹ دیں، نو سال کے بعد اگر کوئی کہے کہ ‘ون نیشن ون’ الیکشن’، اس کا مطلب ہے کہ اس نے کوئی کام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ملک، ایک ہی تعلیم اور ایک ہی علاج کے لیے ایک ملک کی ضرورت ہے۔دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر پانچ سال میں ایک بار انتخابات ہوتے ہیں تو وہ (مودی) منہ بھی نہیں دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ ایک ملک اور 20 الیکشن ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ملک اور 20 الیکشن ہونے چاہئیں۔ ہر تین ماہ بعد الیکشن ہوں گے..کم از کم کچھ دے کر جائیں گے..ورنہ منہ نہیں دکھائیں گے اور دنیا بھر میں گھومیں گے لیکن پانچ سال بعد ہی انڈیا آئیں گے۔

کانگریس نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی پہلی سالگرہ پر 7 ستمبر کو ملک بھر میں 722 یاترائیں نکالنے کا کیا اعلان

0
کانگریس-نے-’بھارت-جوڑو-یاترا‘-کی-پہلی-سالگرہ-پر-7-ستمبر-کو-ملک-بھر-میں-722-یاترائیں-نکالنے-کا-کیا-اعلان

کانگریس نے آئندہ اسمبلی انتخابات اور سب سے بڑھ کر لوک سبھا انتخاب کو لے کر اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے لیے گئے ہیں، اور دوسری طرف کانگریس پارٹی کی سطح پر بھی بڑے بڑے فیصلے لے رہی ہے۔ آج اس سلسلے میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نو تشکیل کانگریس ایگزیکٹیو کمیٹی کی پہلی میٹنگ 16 ستمبر کو حیدر آباد میں کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کے اگلے دن حیدر آباد میں 17 ستمبر کو کانگریس ایگزیکٹیو کمیٹی کی وسعتی میٹنگ کے بعد عظیم الشان ریلی کا انعقاد ہوگا۔ ایک بڑا اعلان یہ بھی ہوا ہے کہ کانگریس پارٹی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی پہلی سالگرہ پر 7 ستمبر کو ملک بھر میں 722 بھارت جوڑو یاترائیں نکالے گی۔

کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پیر کے روز نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے آئندہ کچھ منصوبوں کے بارے میں جانکاریاں دیں۔ اس دوران کانگریس مواصلاتی سیل کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش بھی موجود تھے۔

اس پریس کانفرنس میں وینوگوپال نے بتایا کہ سینئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارٹی لیڈروں کے ساتھ 4000 کلومیٹر سے زیادہ کی تاریخی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی تھی۔ گزشتہ سال 7 ستمبر کو یہ یاترا کنیاکماری سے شروع ہوئی تھی جو ملک کے کسی بھی سیاسی لیڈر کے ذریعہ اب تک کی سب سے طویل پدیاترا ہے۔ اس یاترا میں راہل گاندھی نے ملک کے اہم ایشوز کو اٹھایا تھا۔ اب کانگریس پارٹی کے ذریعہ 7 ستمبر کو ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی پہلی سالگرہ پر 722 بھارت جوڑو یاترائیں نکالی جائیں گی۔ اس سلسلے میں مزید جانکاری دیتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے بتایا کہ ملک کے ہر ضلع میں 7 ستمبر کو شام 5 بجے سے 6 بجے کے درمیان پارٹی لیڈران کی قیادت میں پدیاترا نکالی جائیں گی۔ یاترا کے بعد ’بھارت جوڑو جلسہ‘ بھی منعقد ہوگا۔

کانگریس ایگزیکٹیو کمیٹی کی میٹنگ کے بارے میں تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے بتایا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے فیصلہ لیا ہے کہ تلنگانہ کے حیدر آباد میں 16 ستمبر کو میٹنگ ہوگی۔ اس کے اگلے دن یعنی 17 ستمبر کو ایگزیکٹیو کمیٹی کی وسعتی میٹنگ ہوگی جس میں سی ڈبلیو سی اراکین کے ساتھ سبھی ریاستوں کی کانگریس کمیٹی کے صدور، کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈران اور پارلیمانی پارٹی کے عہدیداران بھی شامل ہوں گے۔ 17 ستمبر کی شام کو میٹنگ کے بعد حیدر آباد کے پاس کانگریس کی ایک عظیم الشان ریلی ہوگی۔ اس ریلی میں کانگریس صدر، سابق کانگریس صدور اور پارٹی کے دیگر سبھی سینئر لیڈران شامل ہوں گے۔ ریلی میں تلنگانہ کے آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے 5 گارنٹی کا اعلان کیا جائے گا۔ ریلی کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سی ڈبلیو سی اراکین، پی سی سی صدور اور سی ایل پی لیڈروں کے قافلے کو ہری جھنڈی دکھائیں گے، جو تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقوں کا دورہ کریں گے۔ 18 ستمبر کی صبح سبھی لیڈران و کارکنان میٹنگ کریں گے اور بی آر ایس حکومت کے خلاف سبھی اسمبلی حلقوں میں ’گھر گھر مہم‘ چلائی جائے گی۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ’بھارت جوڑو مارچ‘ بھی ہوگا۔

اس دوران کے سی وینوگوپال نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ بلائے گئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کو لے کر کاگنریس نے 5 ستمبر کی شام 5 بجے نئی دہلی واقع 10 جن پتھ پر پارلیمنٹری اسٹرٹیجک گروپ کی میٹنگ طلب کی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے خصوصی اجلاس کو لے کر 5 ستمبر کو ہی رات 8 بجے اپنی رہائش پر یکساں نظریات والی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بھی طلب کی ہے۔

ہماری موہن بھاگوت سے جو بات ہوئی تھی آر ایس ایس اُس پر قائم نہیں، وہ خیر سگالی کے عزائم سے پیچھے ہٹ گیا: مولانا ارشد مدنی

0
ہماری-موہن-بھاگوت-سے-جو-بات-ہوئی-تھی-آر-ایس-ایس-اُس-پر-قائم-نہیں،-وہ-خیر-سگالی-کے-عزائم-سے-پیچھے-ہٹ-گیا:-مولانا-ارشد-مدنی

نئی دہلی: ملک میں نفرت کے ماحول اور مسلمانوں کو نوح اور دیگر مقامات پر اجتماعی بدلے کا نشانہ بنائے جانے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امن، اتحاد، محبت اور خیر سگالی کو فروغ دینے کے عزائم سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

میڈیا سے بات چیت میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملک میں آپسی سمجھداری سے غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے موہن بھاگوت سے جو بات ہوئی تھی، آر ایس ایس اُس پر اب قائم نہیں رہا۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس لیڈران کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ فرقہ وارانہ خیر سگالی نہیں چاہتے۔ جمعیۃ صدر نے ہر ہندوستانی کے ہندو ہونے کے بیان کو بھی بے معنی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر ہندوستانی ہندو نہیں، بلکہ ’ہندی‘ (ہندوستانی) ہے۔‘‘

اس دوران صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نفرت کے ماحول کے خاتمہ کے لیے سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔ اگر اپوزیشن پارٹی متحد نہیں رہے تو خود ان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح کرناٹک میں فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہرایا گیا، اسی طرح یہ قومی سطح پر بھی ضروری ہے۔

مولانا مدنی نے ہریانہ کے میوات میں ریہڑی پٹری اور ٹھیلا لگانے والے 200 متاثرین کے لیے 40 لاکھ روپے کی امدادی رقم کا چیک جاری کیا جس سے مستفید ہونے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو بھی ہیں۔ مولانا مدنی نے اس تعلق سے کہا کہ ’’ہمیں بتایا گیا کہ ریہڑی ٹھیلا 7000 روپے میں اور فروخت کرنے کے لیے سامان خریدنے میں 4 سے 5 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ ہر متاثرہ کو فی کس 20 ہزار روپے دیے جائیں۔‘‘ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند پہلے دن سے راحت اور فلاحی کاموں میں پیش پیش رہی ہے اور ہم نے یہ کام کبھی مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ چاہے زلزلہ اور سیلاب جیسے قدرتی آفات ہوں، مسلمانوں کے مسائل، فرقہ وارانہ تشدد، بے قصور لوگوں کی قانونی لڑائی ہو یا آسام شہریت کا مسئلہ ہو، جمعیۃ علماء ہند نے سب کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھانے، وقت پر امداد پہنچانے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھی۔

مولانا ارشد مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ فرقہ وارانہ عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ فسادات کے ذریعہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے ملک کا نقصان ہوتا ہے اور ملک کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے۔ نوح میں 28 اگست کو سخت سیکورٹی میں دوبارہ یاترا نکالی گئی، لیکن کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، ہم اسے ایک اچھا قدم سمجھتے ہیں، لیکن اس واقعہ سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ اگر انتظامیہ اور پولیس ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھائے تو کبھی فساد نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ فساد روکنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو ذمہ دار بنایا جائے۔ اس سلسلے میں کبھی اثردار قدم نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ عناصر کو قوت ملتی رہی اور انھیں اب قانون و عدالت کا بھی کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے۔

کانگریس نے 16 لیڈروں پر مشتمل انتخابی کمیٹی کا کیا اعلان، ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا نام شامل

0
کانگریس-نے-16-لیڈروں-پر-مشتمل-انتخابی-کمیٹی-کا-کیا-اعلان،-ملکارجن-کھڑگے،-سونیا-گاندھی-اور-راہل-گاندھی-کا-نام-شامل

کانگریس نے آئندہ لوک سبھا انتخاب اور اس سے پہلے کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اس ضمن میں 4 ستمبر کو کانگریس نے اپنی انتخابی کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں 16 لیڈروں کا نام شامل ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے علاوہ اس کمیٹی میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، امبیکا سونی، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، مدھوسودن مستری، این اتم کمار ریڈی، تی ایس سنگھ دیو، کے جے جارج، پریتم سنگھ، محمد جاوید، امی یاگنک، پی ایل پونیا، اونکار مرکام اور کے سی وینوگوپال کو شامل کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کا اہم حصہ ہے۔ ممبئی میں 31 اگست سے یکم ستمبر تک ہوئی اِنڈیا اتحاد کی میٹنگ میں سبھی پارٹیوں نے ایک ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اس لیے کانگریس کے ذریعہ انتخابی کمیٹی کا اعلان کیا جانا کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے لوک سبھا انتخاب کے لیے سیٹوں کی تقسیم میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔

اس درمیان کانگریس نے مرکز کی طرف سے طلب کردہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کو لے کر پالیسی بنانے کے مقصد سے ایک میٹنگ بھی طلب کی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جانکاری دی ہے کہ 18 سے 22 ستمبر تک پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے پہلے پارٹی منگل کی شام 5 بجے نئی دہلی میں 10 جن پتھ پر پارلیمانی اسٹریٹجی گروپ کے ساتھ میٹنگ کرے گی۔ اس کے بعد دیر رات 8 بجے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اپنی رہائش پر یکساں نظریات والی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بھی کریں گے۔

کے سی وینوگوپال نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ملکارجن کھڑگے آئندہ 16 ستمبر کو تلنگانہ کے حیدر آباد میں نوتشکیل ایگزیکٹیو کمیٹی کی پہلی میٹنگ بلائیں گے۔ اس میں سبھی سی ڈبلیو سی اراکین، پی سی سی صدر، سی ایل پی لیڈر اور پارلیمانی پارٹی کے عہدیدار حصہ لیں گے۔

وزارت مالیات نے بجٹ کی تیاریاں شروع کر دیں، 5 اکتوبر تک سبھی وزارتوں اور محکموں سے طلب کیے مشورے

0
وزارت-مالیات-نے-بجٹ-کی-تیاریاں-شروع-کر-دیں،-5-اکتوبر-تک-سبھی-وزارتوں-اور-محکموں-سے-طلب-کیے-مشورے

ایک طرف ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کو لے کر راستے ہموار کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں، اور دوسری طرف مرکزی وزارت مالیات نے ممکنہ طور پر یکم فروری 2024 کو پیش کیے جانے والے عارضی بجٹ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وزارت مالیات کے معاشی امور کے محکمہ کے تحت آنے والے بجٹ ڈویژن نے بجٹ 25-2024 کو لے کر سرکلر جاری کیا ہے۔ اس میں بجٹ کو لے سبھی وزارتوں اور محکموں سے ان کے بجٹ کو لے کر اِن پٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام خطوں کو بھی بجٹ سے متعلق اپنے مشورے دینے کو کہا گیا ہے۔

اس بجٹ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ وزارت مالیات کے ایکسپنڈچر سکریٹری اکتوبر ماہ کے دوسرے ہفتے سے ان وزارتوں اور محکموں کے ساتھ پری-بجٹ میٹنگ کی شروعات کریں گے۔ اس کے پہلے سبھی محکموں اور وزارتوں سے بجٹ کو لے کر اپنے مطالبات کی فہرست سونپنے کو کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یکم فروری 2024 کو ممکنہ طور پر وزیر مالیات نرملا سیتارمن بجٹ پیش کریں گی۔ حالانکہ یہ عارضی بجٹ ہوگا۔ اپریل 2024 سے ملک میں لوک سبھا انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد مکمل بجٹ کے پیش ہونے تک سرکاری خرچ اور سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے عبوری بجٹ پیش کیا جائے گا۔

جموں و کشمیر کے ریاسی میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم، ایک دہشت گرد ہلاک

0
جموں-و-کشمیر-کے-ریاسی-میں-سیکورٹی-فورسز-اور-دہشت-گردوں-کے-درمیان-تصادم،-ایک-دہشت-گرد-ہلاک

جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ریاسی کے تُلی علاقے کے ایک گھر میں کئی دہشت گرد چھپے ہونے کی خبر ملنے کے بعد موقع پر پہنچے سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے علاقے کو گھیر لیا۔ خبر لکھے جانے تک ایک دہشت گرد کو سیکورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے اور دوسرے کی تلاشی جاری ہے۔ اس تصادم میں ایک جوان کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق سیکورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ جانکاری ملی تھی۔ اس کی بنیاد پر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر کر تلاشی مہم چلائی۔ خود کو گھرتا ہوا دیکھ کر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے سبب دہشت گردوں اور سیکورٹی فورس میں تصادم شروع ہو گیا۔

جموں زون کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل مکیش سنگھ نے بتایا کہ مانا جا رہا ہے کہ دو دہشت گرد تلی علاقے میں گلی سوہاب گاؤں میں چھپے ہوئے ہیں۔ پولیس کو علاقے میں دو دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں جانکاری ملنے کے بعد آج دوپہر تلاشی مہم شروع کی گئی۔

لوک سبھا انتخاب سے قبل مہاراشٹر کے پونے میں ہوگی آر ایس ایس کی اہم میٹنگ، بی جے پی لیڈران بھی ہوں گے شامل

0
لوک-سبھا-انتخاب-سے-قبل-مہاراشٹر-کے-پونے-میں-ہوگی-آر-ایس-ایس-کی-اہم-میٹنگ،-بی-جے-پی-لیڈران-بھی-ہوں-گے-شامل

آر ایس ایس کی آل انڈیا کوآرڈنیشن میٹنگ مہاراشٹر کے پونے میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس سہ روزہ میٹنگ کی شروعات 14 ستمبر کو ہوگی اور اختتام 16 ستمبر کو مقرر ہے۔ لوک سبھا انتخاب سے چند ماہ قبل پونے میں ہونے جا رہی آر ایس ایس کی اس میٹنگ کو انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت اور سرکردہ لیڈر دتاترے ہوسبولے کی قیادت میں ہونے جا رہی میٹنگ میں بی جے پی، وی ایچ پی اور اے بی وی پی سمیت آر ایس ایس سے منسلک سبھی 36 تنظیموں کے اہم عہدیدار شامل ہو کر اپنی اپنی تنظیم کی کارگزاری سے متعلق رپورٹ دیں گے۔ ساتھ ہی میٹنگ میں مستقبل کی پالیسی پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

آر ایس ایس کے آل انڈیا تشہیری چیف سنیل آمبیکر نے میٹنگ کو لے کر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ آر ایس ایس کی سالانہ منعقد ہونے والی آل انڈیا کوآرڈنیشن میٹنگ اس سال مہاراشٹر کے پونے میں منقعد ہونے جا رہی ہے۔ سہ روزہ یہ کوآرڈنیشن میٹنگ 14، 15 اور 16 ستمبر 2023 کو ہوگی۔ یہ آل انڈیا سطح کی وسیع کوآرڈنیش میٹنگ سال میں ایک بار منقعد ہوتی ہے۔

آمبیکر نے آگے بتایا کہ اس میٹنگ میں آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھاگوت اور دتاترے ہوسبولے سمیت آر ایس ایس کے سبھی سرکردہ عہدیدار و لیڈران موجود رہیں گی۔ میٹنگ میں آر ایس ایس سے جڑے یا ان کے نظریات کی حمایت کرنے والی 36 تنظیموں کے اہم عہدیدار بھی شریک ہوں گے۔ ان تنظیموں میں راشٹر سیویکا سمیتی، وَنواسی کلیان آشرم، وی ایچ پی، اے بی وی پی، بی جے پی، بھارتیہ کسان سَنگھ، وِدیا بھارتی، بھارتیہ مزدور سَنگھ، سنسکار بھارتی، سیوا بھارتی، سنسکرت بھارتی، اکھل بھارتیہ ساہتیہ پریشد وغیرہ شامل ہیں۔

چندریان-3: پرگیان کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں، 22 ستمبر کو از سر نو فعال ہونے کی امید

0
چندریان-3:-پرگیان-کے-بعد-وکرم-لینڈر-بھی-نیند-کی-آغوش-میں،-22-ستمبر-کو-از-سر-نو-فعال-ہونے-کی-امید

ہندوستان کے چندریان-3 مشن کی کامیابی کا پوری دنیا میں دھوم مچا ہوا ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ پرگیان رووَر کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں چلا گیا ہے۔ اِسرو نے 4 ستمبر کو اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اہم جانکاری دی۔ ساتھ ہی کہا کہ اب 22 ستمبر کے آس پاس از سر نو اس کے فعال ہونے کی امید ہے۔

اِسرو نے ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’چندریان-3 مشن کا لینڈر صبح تقریباً 8 بجے سلیپ موڈ میں سیٹ ہو گیا۔ اس سے پہلے چیسٹے، رمبھا-ایل پی اور آئی ایل ایس اے پے لوڈ نے نئی جگہ پر اِن-سیٹو تجربات کیے۔ انھوں نے جو ڈاٹا جمع کیا وہ زمین پر آتا رہا۔‘‘ پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’پے لوڈ اب بند کر دیے گئے ہیں۔ لینڈر ریسیور چالو رکھے گئے ہیں۔ شمشی توانائی ختم ہو جانے اور بیٹری ختم ہو جانے پر وکرم، پرگیان کے بغل میں سو جائے گا۔ 22 ستمبر 2023 کے آس پاس ان کے پھر سے جاگنے کی امید ہے۔‘‘

اس سے قبل اِسرو نے 4 ستمبر کی صبح ہی جانکاری دی تھی کہ وکرم لینڈر کی دوبارہ کامیاب سافٹ لینڈنگ 3 ستمبر کو کرائی گئی اور پہلے جس مقام پر لینڈر ماڈیول نے لینڈ کیا تھا، 3 ستمبر کی لینڈنگ اس سے 30 سے 40 میٹر دور ہوئی ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشن کے لیے اس طرح کا تجربہ کرنا ضروری تھا۔

اِسرو نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں بتایا کہ ’’ہندوستان کا وکرم لینڈر چاند پر پھر سے سافٹ لینڈ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ وکرم لینڈر اپنے سبھی مشن پورے کر چکا ہے اور اب یہ کامیابی کے ساتھ ’ہوپ ایکسپریمنٹ‘ سے گزرا ہے۔‘‘ اِسرو نے مزید لکھا ہے کہ ’’کمانڈ دیے جانے پر وکرم لینڈر کے انجن چالو ہوئے اور یہ 40 سنٹی میٹر تک اوپر اٹھا، پھر 40-30 سنٹی میٹر دور جا کر سافٹ لینڈ ہو گیا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ اس کا مقصد مستقبل میں لینڈر کی واپسی اور آئندہ انسانی مشن کے لیے ٹرائل کرنا ہے۔