جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 141

انڈیا یا پھر بھارت، نیا تنازع کیا ہے؟

0
انڈیا-یا-پھر-بھارت،-نیا-تنازع-کیا-ہے؟

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس ایک عرصے سے تمام سرکاری، سفارتی، قانونی اور دیگر استعمال میں "انڈیا” کا نام ہٹا کر "بھارت” کا استعمال کرنے کی مہم چلاتی رہی ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انڈیا کی جگہ بھارت کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ آج منگل 5 ستمبر کو بھارتی صدر دروپدی مرمو نے جی 20 سربراہی کانفرنس کے دوران سربراہان مملکت اور دیگر مہمانوں کو راشٹرپتی بھون میں 9ستمبر کو دیے جانے والے عشائیے کے دعوت نامے میں اپنے عہدے کے ساتھ ‘ری پبلک آف انڈیا’ کی جگہ پریسیڈنٹ آف دی ‘ری پبلک آف بھارت’ کا استعمال کیا ہے۔ صدردروپدی مرموکی جانب سے ‘بھارت’ لفظ کے استعمال کو ہندوتوا کی علمبردار تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی اپیل سے منسلک کرکے دیکھا جارہا ہے۔

گزشتہ ہفتے مشرقی ریاست آسام میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ صدیوں سے ہمارے ملک کا نام بھار ت ہے، انڈیا نہیں۔ انہوں نے کہا تھا، "ہمارے ملک کا نام بھارت ہے۔ اس لیے دنیا میں ہم خواہ کہیں بھی چلے جائیں، ملک کا نام کہنے، سننے اور لکھنے میں ہر جگہ بھارت ہی رہنا چاہئے۔”

انہوں نے مزید کہا تھا کہ "اگر کوئی اس کو سمجھ نہیں پاتا ہے تو آپ اس کی فکر بالکل نہ کریں۔ اگر سامنے والے کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی تو وہ خود ہی سمجھ لے گا۔ آج دنیا کو ہماری ضرورت ہے۔ ہم دنیا کے بغیر چل سکتے ہیں لیکن دنیا ہمارے بغیر نہیں چل سکتی۔” آر ایس ایس سربراہ نے واضح لفظوں میں کہا کہ "ملک کے لوگوں کو انڈیا کی جگہ بھارت کہنے کی عادت ڈال لینی چاہئے کیونکہ یہ نام قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ اس نام کو آگے بھی جاری رہنا چاہئے۔ اب ہر جگہ انڈیا کی جگہ بھارت کا استعمال کیا جانا چاہئے۔”

موہن بھاگوت کی اس اپیل کے بعد حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں نے آئین سے انڈیا کا لفظ ہٹا نے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ سب سے پہلی آواز بی جے پی کی حکومت والی ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ نے اٹھائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرکے کہا، "ری پبلک آف بھارت۔ مسرت اور فخر کا مقام ہے کہ ہماری تہذیب امرت کال (دور آب حیات) کی جانب پوری قوت سے آگے بڑھ رہی ہے۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمان ہرناتھ سنگھ یادو نے موہن بھاگوت کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا، "لفظ بھارت سے جو جوش و خروش، جذبہ اور لگن دلوں میں پیدا ہوتا ہے وہ انڈیا سے کبھی نہیں ہوسکتا…انڈیا ایک گالی ہے جو برطانوی ہمارے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ اس لفظ کو ایسے شخص کے لیے استعمال کرتے تھے جسے وہ بداخلاق، بے وقوف اور مجرم سمجھتے تھے۔”

حکومت نے جی 20سربراہی اجلاس کے موقع پر غیر ملکی مندوبین کے لیے جو کتابچہ شائع کیا ہے اس میں بھی "بھارت” کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے "بھارت۔ جمہوریت کی ماں”۔ اس میں بھارت کی ہزاروں سال پر محیط شاندار جمہوری قدروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

صدر مرمو کی جانب سے سرکاری دعوت نامے پر ‘ری پبلک آ ف بھارت’ لکھے جانے کی اپوزیشن نے سخت مذمت کی ہے۔ کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا، "مسٹر مودی تاریخ کو مسخ کرنے اور بھارت کو تقسیم کرنے میں مصروف ہیں…لیکن ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے۔”

دہلی کی حکمراں عام آدمی پارٹی کے رہنما اور رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے کہا کہ دراصل آر ایس ایس اور بی جے پی بھارتی آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے سربراہ بھیم راو امبیڈکر سے نفرت ہے، کیونکہ وہ دلت تھے۔

راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا کا کہنا تھا، "چند ہفتے قبل ہم نے اپنے اتحاد کا نام INDIA رکھا اور بی جے پی نے اس سے گھبرا کربھارت کو ‘ری پبلک آف انڈیا’ کے بجائے ‘ری پبلک آف بھارت’ کہنا شروع کر دیا۔ آپ ہم سے نہ تو انڈیا لے سکیں گے اور نہ ہی بھارت۔”

خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا تھا،” لڑائی NDA (حکمراں اتحاد) اور INDIA کے درمیان ہے، وزیر اعظم نریندر مودی اور انڈیا کے درمیان ہے، بی جے پی آئیڈیالوجی اور انڈیا کے درمیان ہے۔ اورآپ کو معلوم ہے کہ جب کوئی انڈیا کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو جیت کس کی ہوتی ہے۔”

’ہم پارلیمانی اجلاس میں عوامی ایشوز ضرور اٹھائیں گے‘، کانگریس صدر کی رہائش پر اِنڈیا اتحاد کی ہوئی میٹنگ میں عزم

0
’ہم-پارلیمانی-اجلاس-میں-عوامی-ایشوز-ضرور-اٹھائیں-گے‘،-کانگریس-صدر-کی-رہائش-پر-اِنڈیا-اتحاد-کی-ہوئی-میٹنگ-میں-عزم

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک منعقد ہونا ہے، لیکن اس کے ایجنڈے سے متعلق مرکزی حکومت نے کچھ بھی جانکاری نہیں دی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اس سے حیران ہیں اور آج انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر اس سلسلے میں میٹنگ بھی کی۔ اس میٹنگ میں سبھی نے مل کر اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں وہ عوامی ایشوز ضرور اٹھائیں گے۔

کھڑگے کی رہائش پر منعقد میٹنگ میں جنتا دل یو لیڈر للن سنگھ، ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک او برائن، این سی پی لیڈر سپریا سولے، شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت، سماجوادی پارٹی لیڈر رام گوپال یادو، ڈی ایم کے لیڈر ٹی آر بالو، عآپ لیڈر سنجے سنگھ اور جے ایم ایم لیڈر مہوا ماجی وغیرہ شریک ہوئے۔ اس میٹنگ کے تعلق سے کانگریس لیڈر گورو گگوئی نے کہا کہ ’’کانگریس صدر کھڑگے کے گھر پر اِنڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سب کا یہی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس کو طلب کیا جا رہا ہے، اس کی وضاحت حکومت نے اب تک نہیں دی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بی جے پی شفافیت کا مظاہرہ کرے اور ملک کو جانکاری دے کہ اس خصوصی اجلاس کا ایجنڈاے کیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ہم ملک کے مفاد میں موجودہ وقت کے اصل ایشوز کے حل کے لیے ایک مثبت اجلاس چاہتے ہیں۔‘‘

اس میٹنگ کے بارے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ بھی کیا۔ اس پوسٹ میں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے تعلق سے انھوں نے اپنا رد عمل بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’مودی حکومت پہلی بار ایجنڈا بتائے بغیر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کر رہی ہے۔ اس بارے میں کسی بھی اپوزیشن پارٹی سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا، اور نہ ہی کوئی اطلاع دی گئی۔ یہ جمہوریت کو چلانے کا طریقہ نہیں۔‘‘

اپنے پوسٹ میں کھڑگے نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی مہنگائی، بے روزگاری، منی پور تشدد، چین کی حرکتوں، سی اے جی رپورٹس، گھوٹالے وغیرہ جیسے اہم مسائل کو کنارہ کر کے رکھنا چاہتی ہے اور عوام کو دھوکہ دینا چاہتی ہے۔‘‘ پھر وہ لکھتے ہیں ’’اِنڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے خصوصی اجلاس میں شامل ہونے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لوگوں کے مسائل اٹھانے سے باز نہیں آئیں گے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان کی توجہ اپنی طرف کھینچیں۔‘‘

دہلی: اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی سالگرہ پر 7 ستمبر کو نکالی جائیں گی ریلیاں

0
دہلی:-اروندر-سنگھ-لولی-کی-قیادت-میں-’بھارت-جوڑو-یاترا‘-کی-سالگرہ-پر-7-ستمبر-کو-نکالی-جائیں-گی-ریلیاں

نئی دہلی: راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں دہلی کے تمام 14 اضلاع میں ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ پریس کانفرنس میں جانکاری دیتے ہوئے کانگریس سینئر لیڈر مکیش شرما نے کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ہدایت پر یہ ریلیاں شام 5 سے 6 بجے کے درمیان منعقد کی جائیں گی۔ اروندر سنگھ لولی کے علاوہ ریلیوں میں پارٹی کے سینئر لیڈران اور کارکنان و ضلعی عہدیدران شرکت کریں گے۔

مکیش شرما نے بتایا کہ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر نہ صرف کانگریس کارکنوں میں بلکہ عوام میں بھی زبردست جوش و خروش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ریلیوں کی تیاریوں کے سلسلے میں آج خود اروندر سنگھ لولی نے کارکنان سے ملاقات کی ہے اور تمام ضلع صدور سے کہا گیا ہے کہ وہ زمینی سطح پر ان ریلیوں میں زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو شامل کریں۔

دہلی کی عوام تک محبت کا پیغام پہنچانے کے تعلق سے مکیش شرما نے کہا کہ کارکنان ریلی کے دوران اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم ترنگا لہرائیں اور راہل گاندھی جی کے پیغام ’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے‘، سماجی ہم آہنگی، امن، اتحاد اور یکجہتی کے پیغام کو دہلی کے عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ریلیوں کی تیاری کے لیے تمام اضلاع میں میٹنگوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ریلی کے لیے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے نشان والے پلے کارڈز اور ہورڈنگز بڑے پیمانے پر تیار کیے گئے ہیں، جنہیں کارکن ہاتھوں میں اٹھائیں گے۔ تمام مذاہب اور ذاتوں کے علاوہ سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ریلیوں میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔

مکیش شرما نے یہ بھی بتایا کہ دہلی کانگریس نئی دہلی کے کناٹ پلیس سے ریلی نکالنا چاہتی تھی۔ میں نے اس سلسلے میں خود نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے فون پر تفصیلی بات چیت کی، لیکن G-20 سمٹ اور سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کو اس کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ لہٰذا دہلی پردیش کانگریس نے فیصلہ لیا ہے کہ پارٹی نئی دہلی ضلع پولیس کے علاقے میں ریلی کا اہتمام نہیں کرے گی۔ پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر لیڈر جے کشن، ویر سنگھ دھنگان اور دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کے سابق لیڈر جتیندر کمار کوچر موجود تھے۔

’نوٹ پر ریزرو بینک آف انڈیا لکھا ہے، لگتا ہے تیسری نوٹ بندی ہوگی‘، انڈیا-بھارت تنازعہ پر سنجے سنگھ کا رد عمل

0
’نوٹ-پر-ریزرو-بینک-آف-انڈیا-لکھا-ہے،-لگتا-ہے-تیسری-نوٹ-بندی-ہوگی‘،-انڈیا-بھارت-تنازعہ-پر-سنجے-سنگھ-کا-رد-عمل

جی-20 اجلاس کی تیاریوں کے درمیان عشائیہ کے دعوت نامہ پر ’پریسیڈنٹ آف بھارت‘ لکھا جانا موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ برسراقتدار طبقہ سے تعلق رکھنے والے لیڈران اس کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ بیشتر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران انڈیا کے خلاف قدم اٹھائے جانے سے ناراض ہیں۔ اس درمیان عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے مودی حکومت تیسری نوٹ بندی کر دے گی، کیونکہ جو نوٹ ہیں اس میں لکھا ہے ’ریزرو بینک آف انڈیا‘۔ اس سے بھی انڈیا ہٹا دیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ پہلے نوٹ جمع کرو۔‘‘

سنجے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ایک تنازعہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ مودی حکومت آئین سے انڈیا لفظ ہٹانا چاہتی ہے اور اس کی شروعات آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے کی۔ آر ایس ایس چیف نے کہا کہ انڈیا لفظ ہٹا دینا چاہیے، اور اس کے بعد مودی حکومت خبر اسپانسر کر رہی ہے کہ آئین سے ہی انڈیا لفظ غائب کر دیا جائے۔ عآپ رکن پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ ’’میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بابا صاحب سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہو؟ آر ایس ایس اور بی جے پی میں ایک مایوسی ہے کہ ان سے جڑا کوئی شخص مفکر نہیں بن گیا۔ کچھ لکھ نہیں پایا۔ اس لیے وہ لگے رہتے ہیں کہ کس طرح بابا صاحب کے لکھے کو ہٹایا جائے۔ آئین کے پہلے آرٹیکل میں ہی لکھا ہے ’انڈیا، دیٹ اِز بھارت وِل بی یونین آف اسٹیٹ‘۔‘‘

سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ پی ایم مودی کے دل میں دلتوں اور قبائلیوں کے تئیں جو نفرت ہے وہ اسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک انڈیا اتحاد کا سوال ہے، ہم نے لکھا ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘، اس لیے وہ اس کوشش میں لگے ہیں کہ انڈیا لفظ ہٹا دیں۔ آئی آئی ایم، ایمس اور اِسرو سب میں انڈیا ہے۔ یہ مودی حکومت کی جو ناپاک کوشش ہے، اس کی ہم مخالفت کریں گے اور بابا صاحب میں جن کا عقیدہ ہے وہ قطعی اسے برداشت نہیں کریں گے۔

ہم پارلیمنٹ میں مودی چالیسہ کے لیے نہیں بیٹھیں گے، ہم اجلاس کے ایجنڈے کا مطالبہ کریں گے: کانگریس

0
ہم-پارلیمنٹ-میں-مودی-چالیسہ-کے-لیے-نہیں-بیٹھیں-گے،-ہم-اجلاس-کے-ایجنڈے-کا-مطالبہ-کریں-گے:-کانگریس

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 ستمبر سے 22 ستمبر تک منعقد ہونے والا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کانگریس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ اس پارلیمانی اجلاس میں کانگریس اراکین پارلیمنٹ ’مودی چالیسہ‘ کے لیے نہیں بیٹھیں گے، بلکہ عوامی ایشوز پر بحث کا مطالبہ کریں گے۔

دراصل کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کی قیادت میں 5 ستمبر کو پارلیمانی اسٹریٹجک گروپ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈران جئے رام رمیش اور گورو گگوئی نے پریس کانفرنس کر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر پارلیمانی اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق ملک کو تاریکی میں رکھنے کا الزام لگایا۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس (کے ایجنڈے) کی جانکاری پہلے سے دی جاتی ہے، لیکن ہمیں اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ہم اجلاس میں حصہ لینا چاہتے ہیں، لیکن اس میں عوامی ایشوز پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم پی ایم مودی چالیسہ کے لیے نہیں بیٹھیں گے۔ کیا ہم وزیر اعظم کی تعریف و توصیف کرنے اور واہ واہی کے لیے ہیں؟ ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ پارلیمنٹ کے ایجنڈے کی جانکاری دی جائے۔ جیسا 5 اگست 2019 کو ہوا (آرٹیکل 370 ہٹانے کا فیصلہ) ویسا نہ ہو۔‘‘

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’اس اجلاس کے موضوعات سے متعلق ہمارے پاس کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ پارلیمنٹری بلیٹن میں جو کچھ چھپا ہے وہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ اس میں چھپا ہے- 18 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 19 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 20 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 21 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 22 تاریخ گورنمنٹ بزنس۔ یہ کیا یکطرفہ توپ چلائی جا رہی ہے؟ ہمیں ایجنڈے کے بارے میں کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ کوئی صلاح و مشورہ نہیں، کوئی بات چیت نہیں، کوئی تبادلہ خیال نہیں۔‘‘

جی-20 سمیلن: مہمانوں کو پیش کیے جائیں گے طرح طرح کے پکوان، چاندی کے برتن میں دیا جائے گا کھانا

0
جی-20-سمیلن:-مہمانوں-کو-پیش-کیے-جائیں-گے-طرح-طرح-کے-پکوان،-چاندی-کے-برتن-میں-دیا-جائے-گا-کھانا

ہندوستان میں منعقد ہونے والے جی-20 سمیلن پر پوری دنیا کی نگاہ جمی ہوئی ہے۔ ہندوستان بھی اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ مہمانوں کے ٹھہرنے کے لیے خاص انتظام تو کیا ہی گیا ہے، ان کے کھانے کے لیے خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جو مینیو تیار کیا گیا ہے اس میں الگ الگ ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کے لیے الگ الگ پکوان تیار کیے جائیں گے۔ ان کے لیے باجرے سے اسپیشل مٹھائیاں بھی تیار کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جی-20 کے لیے کئی ممالک کے سربراہان ہندوستان پہنچ رہے ہیں جو 8 سے 10 ستمبر تک منعقد ہوگا۔ ایسے میں ہندوستان بہترین میزبانی کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان کھانے کے ذریعہ بھی اپنی ثقافتی وراثت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہمانوں کے لیے صرف خاص پکوان ہی تیار نہیں کیے جائیں گے، بلکہ کھانا پیش کرنے کے لیے خاص برتن تیار کیے گئے ہیں جو کہ چاندی سے بنائے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جی-20 سمیلن کے لیے جئے پوری کی کمپنی آئی آر آئی ایس نے چاندی کے خاص برتن تیار کروائے ہیں۔ کئی کاریگروں نے رات دن محنت کر کے ہندوستان کی ’کثرت میں وحدت‘ کی تھیم ’فیوژن ایلیگینس‘ پر مبنی خاص برتن تیار کیے ہیں۔

سامنے آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ صبح کے ناشتہ کے لیے ’ہائی ٹی‘ سے لے کر دوپہر کے کھانے کے لیے الگ الگ انداز کے پکوان اور رات کے کھانے کے لیے خوبصورت پلیٹ، روٹی کے لیے باسکیٹ اور پھل کا خوبصورت باسکیٹ تیار کیا گیا ہے۔ جہاں جہاں بھی غیر ملکی مہمان قیام کریں گے، ان سبھی بڑے ہوٹلز میں یہ کراکری (برتن) پہنچی ہے تاکہ سبھی مہمانوں کو چاندی سے بنے برتن میں کھانا پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ آئی آر آئی ایس کمپنی گزشتہ کئی سالوں سے خاص تقاریب اور مہمانوں کے لیے برتن ڈیزائن کرتی رہی ہے۔ اس کمپنی کے مالک اور ڈیزائنر راجیو پابووال اور لکشیہ پابووال نے بتایا کہ مور سے لے کر مہراب ڈیزائن کے برتن بھی تیار کیے گئے ہیں جو دیکھنے میں کافی دلکش ہیں۔

آرٹیکل 370 ہٹانے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت مکمل، سپریم کورٹ نے فیصلہ رکھا محفوظ

0
آرٹیکل-370-ہٹانے-کو-چیلنج-دینے-والی-عرضیوں-پر-سماعت-مکمل،-سپریم-کورٹ-نے-فیصلہ-رکھا-محفوظ

جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو خطوں میں تقسیم کرنے سے متعلق 2019 کے مودی حکومت کے احکامات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں آج سماعت مکمل ہو گئی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے 5 ستمبر کو اس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی آئینی بنچ نے کہا کہ ’’بار کے سبھی اراکین کو شکریہ کی تجویز کے ساتھ ہم اس پر بحث ختم کرتے ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔‘‘ آرٹیکل 370 معاملے میں عرضی داخل کرنے والوں میں سے ایک نیشنل کانفرنس لیڈر جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے کہا کہ ہم عدالت میں رکھی گئی دلیلوں سے مطمئن ہیں۔ سبھی پہلوؤں پر بہتر انداز میں دلائل پیش کیے گئے۔

سبھی فریقین کی دلیلیں پوری ہو جانے اور بنچ کے ذریعہ سماعت مکمل ہونے کے بعد امید ہے کہ عدالت عظمیٰ جلد ہی اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جموں و کشمیر پر مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں 16 دنوں تک سماعت چلی۔ آئینی بنچ، جس میں سپریم کورٹ کے پانچ سینئر جج شامل تھے، نے 2 اگست سے اس معاملے پر سماعت شروع کی تھی۔

اس سے قبل مارچ 2020 میں اس معاملے کو سات ججوں کی بڑی بنچ کو سونپنے کے عرضی دہندگان کے مطالبے کو منظور کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا تھا۔ اُس وقت چیف جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے دلیل دی تھی کہ آرٹیکل 370 کی تشریح سے متعلق پریم ناتھ کول اور سمپت پرکاش معاملے میں عدالت عظمیٰ کے پہلے کے فیصلے ایک دوسرے سے متضاد نہیں تھے۔ سی جے آئی چندرچوڑ اور جسٹس کھنہ بنچ کے نئے رکن ہیں۔ جسٹس رمنا اور سبھاش ریڈی، جو گزشتہ بنچ کا حصہ تھے، سبکدوش ہو چکے ہیں۔

مہاراشٹر: مراٹھا مظاہرین اپنے مطالبات پر بضد، بھوک ہڑتال جاری، شندے حکومت کو ریزرویشن پر فیصلہ لینے کا دیا الٹی میٹم

0
مہاراشٹر:-مراٹھا-مظاہرین-اپنے-مطالبات-پر-بضد،-بھوک-ہڑتال-جاری،-شندے-حکومت-کو-ریزرویشن-پر-فیصلہ-لینے-کا-دیا-الٹی-میٹم

مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے جاری تحریک کی قیادت کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کر رہے مراٹھا کرانتی مورچہ کے لیڈر منوج جارانگے پاٹل اپنے رخ پر قائم ہیں۔ انھوں نے شیوسینا-بی جے پی حکومت کو مراٹھا ریزرویشن پر ایک سرکاری قرارداد (جی آر) جاری کرنے کے لیے آج (منگل) تک کا وقت دیا ہے۔

مہاراشٹر میں برسراقتدار شیوسینا لیڈر ارجن کھوتکر اور دیگر کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے آج جارانگے پاٹل سے دوبارہ ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور حکومت کو ریزرویشن کو فل پروف طریقے سے آخری شکل دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیں، جو قانونی جانچ میں کھرا اتر سکے۔ لیکن جارانگے پاٹل نے حکومت کی اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ جارانگے پاٹل نے بڑھتی کمزوری کے سبب گدے پر لیٹے ہوئے کہا ’’ہماری امید ایک فیصلہ ہے۔ پوری ریاست کو امید ہے کہ ہمیں آج ریزرویشن مل جائے گا۔‘‘ اس سے قبل پیر کی شب انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے منگل کو اپنے فیصلے کا اعلان نہیں کیا تو وہ پانی پینا بھی بند کر دیں گے، اس سے نئی فکر پیدا ہو گئی ہے۔

اس درمیان وی بی اے (ونچت بہوجن اگھاڑی) کے چیف پرکاش امبیڈکر کے انترولی-سرتی گاؤں میں جارانگے پاٹل کا دورہ کرنے کا امکان ہے، جہاں یکم ستمبر کو مظاہرین بھیڑ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس سمیت بڑے پیمانے پر پولیس کارروائی ہوئی تھی۔ مظاہرین پر پولیس کارروائی پر مراٹھا طبقہ کا جارحانہ سیاسی رد عمل اور سبھی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اس کی مذمت کیے جانے سے بیک فٹ پر آئی شندے حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پیر کو مقامی اسپتالوں میں علاج کرا رہے پولیس کارروائی کے متاثرین سے معافی مانگی۔

سی بی آئی نے گیل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 5 لوگوں کو کیا گرفتار، 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام

0
سی-بی-آئی-نے-گیل-کے-ایگزیکٹیو-ڈائریکٹر-سمیت-5-لوگوں-کو-کیا-گرفتار،-50-لاکھ-روپے-رشوت-لینے-کا-الزام

سی بی آئی نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گیل (انڈیا) لمیٹڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے بی سنگھ سمیت 5 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ کے بی سنگھ پر الزام ہے کہ انھوں نے گیس پائپ لائن پروجیکٹس میں مبینہ طور پر کچھ ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے 50 لاکھ روپے کی رشوت لی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم دہلی، نوئیڈا اور وشاکھاپٹنم میں کئی مقامات پر چھاپے ماری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی کی ٹیم نے پیر کی شب سب سے پہلے کے بی سنگھ کے نوئیڈا سیکٹر 72 واقع رہائش پر چھاپہ ماری کی تھی۔ اس دوران سی بی آئی نے ان کے موبائل، گیزیٹس اور بینک اکاؤنٹس کو کھنگالا تھا۔

سی بی آئی نے گیل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے علاوہ جن چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے، ان میں وڈودرا کی ایڈوانس انفراسٹرکچر کے ڈائریکٹر سریندر کمار بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے دو گیس پائپ لائن پروجیکٹس میں ٹھیکیداروں کو مدد پہنچانے کے لیے رشوت لی تھی۔ سی بی آئی نے رشوت معاملے میں دہلی سمیت کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔

گیل (انڈیا) لمیٹڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے بی سنگھ کے نوئیڈا سیکٹر 72 واقع رہائش پر اب بھی چھاپہ ماری جاری ہے۔ ابھی تک کی جانکاری کے مطابق بدعنوانی کی شکایت کے بعد سی بی آئی کی طرف سے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم کے بی سنگھ کے موبائل، الیکٹرانکس گیزیٹس اور بینک اکاؤنٹس کو کھنگال رہی ہے۔ اسی معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم لگاتار دیگر مقامات پر چھاپہ ماری بھی کر رہی ہے۔

بکرو گینگسٹر معاملہ: عدالت نے 23 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا، سنائی 10-10 سال قید کی سزا، 7 کے خلاف نہیں ملا ثبوت

0
بکرو-گینگسٹر-معاملہ:-عدالت-نے-23-ملزمین-کو-قصوروار-ٹھہرایا،-سنائی-10-10-سال-قید-کی-سزا،-7-کے-خلاف-نہیں-ملا-ثبوت

اتر پردیش میں کانپور دیہات کے مشہور بکرو کے گینگسٹر معاملے میں عدالت نے 30 میں سے 23 ملزمین کو قصوروار قرار دیا ہے۔ انھیں 10-10 سال قید کی سزا سنانے کے ساتھ سبھی پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 7 ملزمین کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا جس کا انھیں فائدہ ہوا اور بری الذمہ قرار دیا گیا۔

آج جب ایڈیشنل ضلع اینڈ سیشن کورٹ پنجم میں اس معاملے کی سماعت ہو رہی تھی تو عدالت کے باہر سیکورٹی کا سخت انتظام نظر آیا۔ پہلے تو عدالت نے 30 میں سے 23 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا اور دیگر 7 کو بری کر دیا، اور پھر کچھ دیر بعد قصورواروں کے خلاف سزا کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ یہ معاملہ 2 جولائی 2020 کا تھا جب چوبے پور علاقہ کے بکرو گاؤں میں پولیس ٹیم چھاپہ ماری کے لیے پہنچی تھی جس پر وکاس دوبے گینگ نے فائرنگ کر دی تھی۔

بکرو واقعہ میں 30 ملزمین پر گینگسٹر کی کارروائی کی گئی تھی۔ عدالت نے جن 23 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا ہے ان میں بکرو گاؤں کے ہیرو دوبے، شیامو باجپئی، جہان یادو، دیا شنکر اگنیہوتری، ببلو مسلمان، رامو باجپئی، ششی کانت پانڈے، شیوم دوبے، گووند سینی، اوماکانت، شیوم دوبے عرف دلال، شیو تیواری، ضلعدار، رام سنگھ یادو، جئے باجپئی، دھیریندر کمار، منیش، سریش، گوپال، ویر سنگھ، راہل پال، اکھلیش عرف شیام جی، چھوٹو شکلا کے نام شامل ہیں۔ جن 7 کو اس معاملے سے بری قرار دیا گیا ہے، ان کے نام ہیں گڈّن، پرشانت، سوشیل کمار، بال گووند، راجندر مشر، رمیش چندر اور سنجے۔