اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 140

سائبر جاب گھوٹالوں کے خلاف بیداری مہم چلائے گی تمل ناڈو پولیس

0
سائبر-جاب-گھوٹالوں-کے-خلاف-بیداری-مہم-چلائے-گی-تمل-ناڈو-پولیس

چنئی: تمل ناڈو کی سائبر پولیس سائبر فراڈ کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک مہم شروع کرے گی۔ تمل ناڈو پولیس ہیڈکوارٹر کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، ریاست بھر سے کئی سائبر گھوٹالے رپورٹ ہو رہے ہیں اور جن لوگوں نے پیسہ گنوایا ہے، ان میں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں۔

لوگوں کو فرضی اور پارٹ ٹائم نوکریوں کا لالچ دیا جا رہا ہے اور رقم کو پروسیسنگ فیس کے طور پر جمع کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ پھر دھوکہ باز لوگوں کو مطلع کرتے ہیں کہ ان کا انتخاب کیا گیا ہے اور فرضی تقرری لیٹر جاری کرتے ہیں اور مزید رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، جو کہ عام طور پر ایک یا دو ماہ کی تنخواہ ہوتی ہے۔

ایک بار جب رقم اسکیمرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے تو وہ رابطہ منقطع کر دیتے ہیں۔ سائبر ونگ پولیس کے مطابق تمل ناڈو میں روزانہ ایک ہزار سے زیادہ لوگ نوکریوں کے گھپلوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک اور طریقہ کار میں دھوکہ دہی کرنے والے آپریٹرز فرضی ای کامرس سائٹس بناتے ہیں اور لوگوں کو خریداری کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔

اس طرح کے گھوٹالوں میں غیر معمولی اضافہ کے بعد ریاستی پولیس نے ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹیشنوں، فلم تھیٹروں میں اشتہار دینے اور طلباء کے درمیان ایک مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سائبر ونگ پولیس کے ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ زیادہ تر گھوٹالے ان بینک کھاتوں کا استعمال کرتے ہوئے کئے جاتے ہیں جو شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں آدھار کارڈ اور دیگر شناختی کارڈز کا استعمال کرتے ہوئے کھولے گئے تھے جن کا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آدتیہ ایل ون نے لی سیلفی، زمین اور چاند کی تصویر بھی کلک کی

0
آدتیہ-ایل-ون-نے-لی-سیلفی،-زمین-اور-چاند-کی-تصویر-بھی-کلک-کی

نئی دہلی: ہندوستانی خلائی تحقیق ایجنسی (اسرو) کا سولر مشن آدتیہ ایل ون اپنی منزل کی جانب سفر کر رہا ہے۔ جس نے یہ واضح کرنے کے لیے کہ وہ حسب معمول کام کر رہا ہے، اپنی سیلفی بھیجی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی بتایا ظاہر کیا ہے کہ کے تمام کیمرے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ آدتیہ ایل ون نے زمین اور چاند کی تصویر بھی لی ہیں۔ اسرو نے اس کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

آدتیہ ایل ون نے 18 ستمبر تک زمین کے گرد اپنے مدار کو چار بار تبدیل کرے گا۔ اگلی مداری مینیورنگ 10 ستمبر کی رات کو ہوگی۔ ایک بار جب آدتیہ اپنی منزل ایل ون تک پہنچ جائے گا تو وہ روزانہ 1440 تصویریں بھیجے گا۔ تاکہ سورج کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ تصاویر آدتیہ میں نصب وزیبل ایمیشن لائن کوروناگراف (وی ای ایل سی ) کے ذریعے لی جائیں گی۔

سائنسدانوں کے مطابق پہلی تصویر فروری میں ملے گی۔ وی ایل سی سی کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس نے بنایا ہے۔ اسرو کے سن مشن میں نصب وی ای ایل سی سورج کی ہائی ڈیفینشن تصاویر لے گا۔ زمین کے گرد مدار کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اتنی رفتار حاصل کر سکے کہ وہ 15 لاکھ کلومیٹر کا طویل سفر مکمل کر سکے۔

سنگھ آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتا ہے، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان

0
سنگھ-آئین-میں-دیے-گئے-ریزرویشن-کی-مکمل-حمایت-کرتا-ہے،-آر-ایس-ایس-سربراہ-موہن-بھاگوت-کا-بیان

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور میں کہا کہ سماج میں موجود امتیازات کو دور کرنے کے لیے ریزرویشن بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سماجی نظام میں ہم نے اپنے ہی انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے ان کی پرواہ نہیں کی اور یہ تقریباً 2000 سال سے ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’جب تک ہم انہیں برابری فراہم نہیں کرتے، کچھ خاص اقدامات کرنے ہوں گے۔ اور میرا ماننا ہے کہ ان اقدامات میں سے ایک ریزرویشن ہے۔ ریزرویشن اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک کہ اس طرح کا امتیاز ہو۔ سنگھ آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘‘

موہن بھاگوت نے کہا کہ ریزرویشن نہ صرف مالی یا سیاسی مساوات کو یقینی بنانا ہے بلکہ عزت دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے کے کچھ طبقے جنہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے 2000 سالوں سے مسائل کا سامنا ہے تو پھر ہم (جن کو امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا) مزید 200 سال تک کچھ مسائل کا سامنا کیوں نہیں کر سکتے؟

خیال رہے کہ موہن بھاگوت نے کچھ دن پہلے خاندانی نظام پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا میں خاندانی نظام ختم ہو رہا ہے لیکن ہندوستان اس بحران سے بچ گیا ہے کیونکہ ‘سچائی’ اس کی بنیاد ہے۔ موہن بھاگوت نے ناگپور میں بزرگ شہریوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری ثقافت کی جڑیں سچائی پر مبنی ہیں، حالانکہ اس ثقافت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ دنیاوی لذتوں کی تکمیل کا رجحان بڑھ رہا ہے اور کچھ لوگوں کی طرف سے ثقافتی مارکسزم کے طور پر اپنے خودغرض فلسفے کے ذریعے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارت جوڑو یاترا کی سالگرہ کے موقع پر راہل گاندھی کا عزم، ’ملک کے متحد ہونے تک جاری رہے گی یاترا‘

0
بھارت-جوڑو-یاترا-کی-سالگرہ-کے-موقع-پر-راہل-گاندھی-کا-عزم،-’ملک-کے-متحد-ہونے-تک-جاری-رہے-گی-یاترا‘

نئی دہلی: بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ اتحاد اور محبت کی طرف اٹھائے گئے کروڑوں قدم ملک کے لیے ایک بہتر کل کی بنیاد بن گئے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نفرت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور ہندوستان متحد نہیں ہو جاتا۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ’’بھارت جوڑو یاترا کے دوران اتحاد اور محبت کی طرف اٹھائے گئے کروڑوں قدم ملک کے لیے ایک بہتر کل کی بنیاد بن گئے ہیں۔ یہ یاترا نفرت ختم ہونے اور ہندوستان کے متحد ہونے تک جاری رہے گی۔ یہ میرا وعدہ ہے۔‘‘

دریں اثنا، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی 4000 کلومیٹر کے مارچ کی ستائش کی اور کہا کہ عوام کی یہ تحریک تاریخ میں منفرد ہے۔

انہوں نے کہا، "بھارت جوڑو یاترا ایک عوامی تحریک ہے، اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آج یاترا کے ایک سال مکمل ہونے پر، انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے میں راہل گاندھی، تمام بھارت یاترٍا اور لاکھوں شہریوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ جو اس تاریخی سفر میں شامل ہوئے۔ کنیا کماری سے کشمیر تک، بھارت جوڑو یاترا نے چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں کے ساتھ تنوع میں اتحاد کا پیغام پھیلایا۔”

کھڑگے نے کہا کہ نفرت اور تقسیم کے ایجنڈے کو چھپانے کے لیے حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے غیر متعلقہ سرخیاں بنانے کا رجحان ہمارے اجتماعی شعور پر ایک منظم حملہ ہے۔

اس موقع پر کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا، "نفرت کے بازار میں محبت کی دکان۔ 4081 کلومیٹر طویل تپسیا جس نے ہندوستانی سیاست کا رخ بدل دیا۔‘‘

انہوں نے کہا، "جہاں بھی بھارت جوڑو یاترا گئی، اس نے دل جیت لیے اور بی جے پی-آر ایس ایس کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے الٹی گنتی شروع کر دی۔ اس خیال کو بچانے کے لیے لاکھوں کانگریسی اور خواتین تاریخی یاترا پر نکلیں۔ ہمیں مادر وطن کے لیے اپنی قربانیوں، ہندوستان کے لیے ہمارے عزم پر فخر ہے۔‘‘

یاد رہے کہ بھارت جوڈو یاترا گزشتہ سال 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی اور 12 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ہوتی ہوئی 75 اضلاع اور 76 لوک سبھا حلقوں سے گزری تھی۔ بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ منانے کے لیے پارٹی جمعرات کی شام 5 بجے سے 722 اضلاع میں یاترا کا اہتمام کر رہی ہے۔

جی-20 سربراہی اجلاس: بھکاریوں اور منشیات کے عادی افراد کو مہمان بنا کر رکھے گی دہلی پولیس!

0
جی-20-سربراہی-اجلاس:-بھکاریوں-اور-منشیات-کے-عادی-افراد-کو-مہمان-بنا-کر-رکھے-گی-دہلی-پولیس!

نئی دہلی: ہندوستان میں 9 اور 10 ستمبر کو منعقد ہو رہے جی-20 سربراہی اجلاس کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہلی کے کئی علاقوں میں ٹریفک کی نقل و حرکت میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بھکاریوں، منشیات کے عادی افراد اور خواجہ سراؤں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نئی دہلی ضلع میں کناٹ پلیس، جن پتھ، بنگلہ صاحب گرودوارہ، کے جی مارگ اور ہنومان مندر کے آس پاس بھکاریوں، منشیات کے عادی افراد اور خواجہ سراؤں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پہاڑ گنج اور اجمیری دونوں پھاٹکوں سے بھی ان لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر کوئی نظر بھی آیا تو اسے شیلٹر ہاؤس میں چھوڑ دیا جائے گا۔

اس دوران دہلی پولیس ہر روز پریس بریفنگ کے ذریعے ٹریفک سمیت تمام قسم کے مسائل حل کرے گی۔ اس سلسلے میں بھکاریوں، منشیات کے عادی افراد اور خواجہ سراؤں کے لیے بھی حل تلاش کیا گیا ہے اور ان لوگوں کو گیتا کالونی، روہنی اور دوارکا سیکٹر 3 کے مضافات میں بھیجا گیا ہے۔ کچھ دن پہلے دہلی حکومت نے اس سلسلہ میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

خیال رہے کہ دہلی میں بھیک مانگنا کوئی جرم نہیں ہے۔ بھیک مانگنے کو جرم بنانے کے قانون کو دہلی ہائی کورٹ نے 2019 میں ختم کر دیا تھا۔ ایسے میں دہلی پولیس فٹ پاتھ پر بھیک مانگنے اور سوئے ہوئے لوگوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کر رہی ہے۔

جی-20 سربراہی اجلاس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دہلی پولیس نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ ہوٹل اور سفارت خانہ نئی دہلی ضلع میں ہے، اس لیے اس علاقے میں جی-20 کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔ دہلی پولیس نئی دہلی کے علاقے میں تمام بھکاریوں، خواجہ سراؤں، منشیات کے عادی افراد اور فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگوں کا خیال رکھے گی۔ پولیس ان کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام بھی کرے گی۔

بمبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو لگائی پھٹکار، معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ہدایت

0
بمبئی-ہائی-کورٹ-نے-مہاراشٹر-حکومت-کو-لگائی-پھٹکار،-معاملے-کو-سنجیدگی-سے-لینے-کی-ہدایت

ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے 2006 کے لوک ٹرین سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں کے کیس سے متعلق اپیلوں میں نمائندگی کے لیے نئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (ایس پی پی) کی تقرری نہ کرنے پر مہاراشٹر حکومت کو پھٹکار لگائی۔ جسٹس نتن سامبرے اور راجیش پاٹل کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔ ٹرائل کورٹ نے 2015 میں اس کیس میں پانچ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم اس کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ملزمان کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر اپیل پر سماعت کا آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی میں شام کے وقت لوکل ٹرینوں میں سات دھماکے ہوئے تھے، جن میں 180 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کو جب اپیلیں سماعت کے لیے آئیں تو عدالت کو بتایا گیا کہ ریاستی حکومت نے ابھی تک اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کا تقرر نہیں کیا ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ راجہ ٹھاکرے کو ایس پی پی مقرر کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا تھا لیکن انہوں نے اپیل کی سطح پر بطور ایس پی پی کام نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، لہٰذا سماعت ملتوی کر دی گئی۔ حکومت نے دوبارہ ٹھاکرے سے رابطہ کیا اور ان سے معلومات کی درخواست کی لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی تقرری کی شرائط ابھی طے نہیں ہوئی ہیں۔

جب حکومت نے بدھ کو مزید وقت مانگا تو بنچ نے برہمی کا اظہار کیا۔ ججوں نے کہا، ’’’کیا آپ ان اپیلوں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں؟ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ہم کل صبح ریاستی محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری کو فون کریں گے اور جواب طلب کریں گے۔‘‘ بالآخر، ہائی کورٹ نے حکومت کو 8 ستمبر تک مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی اور محکمہ قانون اور عدلیہ کے ایک عہدیدار کو اس دن حاضر ہونے کی ہدایت کی۔

جسٹس سامبرے نے کہا کہ ’’ہمیں درمیانے درجے کے افسران نہیں چاہیے، ہمیں حکومت سے کوئی چاہیے۔ اگر پرسوں ایس پی پی کی تقرری پر مذکورہ معاملے پر ناکامی ہوئی تو ہم محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکرٹری کو فون کریں گے۔ عدالت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ 5 اکتوبر سے اپیلوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کرنا چاہتی ہے۔‘‘

جی-20 سربراہی اجلاس: دہلی ایئرپورٹ پر مہمانوں کے لیے پارکنگ، دروازے، کوریڈور – سب کچھ اسپیشل

0
جی-20-سربراہی-اجلاس:-دہلی-ایئرپورٹ-پر-مہمانوں-کے-لیے-پارکنگ،-دروازے،-کوریڈور-–-سب-کچھ-اسپیشل

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں ہونے جا رہے جی-20 سربراہی اجلاس کے حوالہ سے مثالی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں دہلی ایئرپورٹ پر بھی مہمانوں کے لئے خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جی-20 کے لیڈران بغیر کسی پریشانی کے دہلی پہنچنے کے لیے ہوائی اڈے پر ایک علیحدہ گیٹ تیار کیا گیا ہے۔ اعلیٰ حکام کی ایک ٹیم سربراہی اجلاس سے متعلق آمد اور روانگی کی نگرانی کرے گی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دہلی ہوائی اڈے کے آپریٹر (ڈائل) نے بدھ (6 ستمبر) کو کہا کہ وی وی آئی پی طیاروں کے لئے پارکنگ سلاٹ کی ایک مقررہ تعداد ہے اور سربراہی اجلاس میں زیادہ تر مہمان چارٹرڈ فلائٹ یا خصوصی وی آئی پی فلائٹ سے تشریف لا رہے ہیں۔

ڈائل کے سی ای او ودے کمار جے پوریار نے ایک پیغام میں کہا، ’’بہت سے مہمان پالم کی طرف ایئر فورس اسٹیشن پہنچیں گے، وہاں کئی دیگر سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ وفد کے دیگر ارکان بھی ہیں جو ٹرمینل 3 پر پہنچنے والے ہیں۔ ہم نے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’جی 20 کے مندوبین کے لیے ایک علیحدہ گیٹ ہوگا، تاکہ وہ جلد از جلد امیگریشن اور کسٹم کلیئر کر سکیں۔ اس سے عام مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘

دریں اثنا، ایئر لائنز اپنے سفری تاریخوں کو دوبارہ شیڈول کرنے کا ارادہ رکھنے والے مسافروں کے لیے فیس میں چھوٹ کی پیشکش کر رہی ہیں کیونکہ 8 ستمبر سے چار دنوں کے دوران سربراہی اجلاس کے سلسلے میں بہت سی پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

قومی راجدھانی میں ڈائل کے زیر انتظام اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ (آئی جی آئی اے) ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے اور یہاں سے روزانہ تقریباً 1300 پروازیں ہوتی ہیں۔ ڈائل ایک کنسورشیم ہے جس کی قیادت جی ایم آر گروپ کرتا ہے۔ ایک ریلیز کے مطابق ہوائی اڈے کا آپریٹر مہمانوں کی سہولیات کے لیے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور دہلی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ودے کمار جے پوریار نے کہا کہ مختلف سرکاری ایجنسیوں جیسے دہلی پولیس اور بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی کے ساتھ مل کر ان پروازوں کے لیے ایئر سائیڈ پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں اور ہوائی اڈے نے وی وی آئی پی طیاروں کے لیے مطلوبہ تعداد میں پارکنگ سلاٹ فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’تقریباً تمام مہمان 8 ستمبر کو پہنچ رہے ہیں اور زیادہ تر مہمانوں کے 10 ستمبر تک واپس لوٹ جائیں گے۔‘‘

ودے کمار جے پوریار نے مزید کہا ’’جہاں تک شہر کی ٹریفک کا تعلق ہے تو کچھ پریشانیاں پیدا ہوں گی اور دہلی سے پرواز کرنے والے یا دہلی آنے والے مسافروں کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کار یا ٹیکسی کا استعمال نہ کریں۔ انہیں ہوائی اڈے تک پہنچنے کے لیے میٹرو کو ترجیح دینی چاہیے۔‘‘

’آئین چھ مہینے قبل انتخابات کرانے کی اجازت دیتا ہے‘، چیف الیکشن کمشنر کا بیان

0
’آئین-چھ-مہینے-قبل-انتخابات-کرانے-کی-اجازت-دیتا-ہے‘،-چیف-الیکشن-کمشنر-کا-بیان

بھوپال: ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار مدھیہ پردیش کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں کچھ دنوں کے بعد انتخابات ہونے ہیں۔ یہاں انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران قبل از وقت انتخابات کرانے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئین میں تحریری قانون کے مطابق ہمارا کام قبل از وقت انتخابات مکمل کرانا ہے۔‘‘

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا ’’ہمارا فرض ہے کہ آئینی دفعات اور عوامی نمائندگی قانون کے مطابق حکومت کی مدت کار ختم ہونے سے قبل ہی انتخابات کرانا ہوتا ہے۔ آئین کی شق 83(2) کے مطابق آئین کی مدت کار 5 برسوں کی ہوگی اور عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 14 کہتی ہے کہ ہم 6 مہینے قبل انتخابات کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے معاملہ میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ہے۔ ہم قانون کے مطابق انتخابات کرانے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔‘‘

دریں اثنا، راجیو کمار نے کہا ’’ووٹر لسٹ کی آخری اشاعت 5 اکتوبر کو کی جائے گی۔ ریاست میں تقریباً 5.52 کروڑ ووٹروز ہیں، جن میں سے 2.67 کروڑ خواتین ہیں۔‘‘ ایک ملک، ایک انتخاب پر پوچھے گیے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’’کمیشن کو آئینی التزامات اور عوامی نمائندگی قانون کے تحت قبل از وقت انتخابات کرانے ہوتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، ناگر پالیکاؤں اور پنچایتوں کے انتخابات بیکوقت کرانے پر غور کرنے اور جلد از جلد سفارشات پیش کرنے کے لئے ہفتہ کے روز سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں ایک آٹھ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ جس کے بعد قبل از وقت انتخابات اٹھانے کا سوال پیدا ہوا۔

راجیو کمار نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات کرانے کے لیے حتمی فہرست پانچ اکتوبر کو شائع کی جائے گیی اور نئے اہل ووٹروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنا نام درج کرانے اور اگر اس میں کوئی کمی ہے تو اسے دور کرانے کے لیے بروقت درخواست پیش کریں۔

عیدمیلادالنبی کاجلوس امسال گنپتی وسرجن سے ایک روز بعد نکالنے کا فیصلہ

0
عیدمیلادالنبی-کاجلوس-امسال-گنپتی-وسرجن-سے-ایک-روز-بعد-نکالنے-کا-فیصلہ

عیدمیلادالنبی کاجلوس امسال گنپتی وسرجن سے ایک روز بعد نکالے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورآل انڈیا خلافت کمیٹی کے تحت علمائے کرام ، معزز شہریوں اور سماجی کارکنوں کے ایک مشاورتی جلسہ میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ اجلاس میں مذکورہ فیصلہ لیا جبکہ میلاد النبی کے جشن اور جلوس کے موقع پر ہرطرح کی خرافات سے بچنے کی تلقین مولانا معین اشرف نے کی ہے۔

واضح رہے کہ امسال 28 ستمبر کو برادران وطن اور خصوصی طور پر گنپتی وسرجن پیش آرہا ہے ،اور قمری کیلنڈر کے مطابق اسی روز میلاد النبی کی تعطیل بھی واقع ہو رہی ہے،اس لیے آپسی اتحاد و اتفاق کے تحت خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزونے مشاورتی اجلاس طلب کیا اور اتفاق رائے سے میلاد النبی کے جلوس کو ایک دن ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔ امسال جلوس 29 ستمبر بروز جمعہ کو خلافت ہاؤس سے تاریخی اہمیت کا جلوس نکلے گا اور عروس البلاد میں نکالے جانے والے دیگر جلوس بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔اس سلسلہ میں برادران وطن میں ایک اچھا پیغام بھی جائے گا۔

اس موقع پر معین الدین اشرف نے اپیل کی اور علمائے سے بھی گذارش کی کہ میلاد النبی کے موقع پر دس بارہ روز ہونے والے واعظ میں نوجوانوں کو ہدایات جاری کریں تاکہ جلوس کی خرافات کو روکا جاسکے۔ اپنی تقریر کے دوران ایم پی سی سی کے کارگزار صدر اور سابق وزیر عارف نسیم خان نے  عادات کے مسئلہ کو اٹھایا اور کہاکہ محسن انسانیت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت اور ہدایات پر عمل کرنے کے بجائے نوجوان  ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں،جو حضور کی تعلیمات سے منافی ہوتی ہیں۔بھیونڈی کے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے بھی حالات کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دیا تاکہ کسی بھی طرح کا تنازع اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا نہ ہوسکے۔این سی پی کے قومی ترجمان نسیم صدیقی نے اسے ایک اچھا اور دانشمندانہ اقدام قراردیا۔

رضا اکیڈمی کے روح رواں سعید نوری نے بھی جلوس کو ملتوی کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور کہاکہ اس کے بہتر اثرات ہوں گے۔خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزونے کہاکہ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔

منی پور تشدد کی رپورٹ شائع کرنے پر صحافیوں کے خلاف مقدمہ

0
منی-پور-تشدد-کی-رپورٹ-شائع-کرنے-پر-صحافیوں-کے-خلاف-مقدمہ

سپریم کورٹ نے بھارتی صحافیوں کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی عرضی پر بدھ 6 ستمبر کو ہنگامی سماعت کرتے ہوئے ہوئے اس کے چار اراکین کے خلاف کسی بھی طرح کی پولیس کارروائی پر فوری روک لگانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

منی پور کی بی جے پی حکومت نے ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے چار عہدیداروں کے خلاف ‘دو فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے’سمیت کئی الزامات کے تحت دو کیس دائر کیے تھے۔ منی پور کے وزیر اعلی این بیرین سنگھ نے کہا تھا کہ ریاست میں ‘تشدد کے لیے مشتعل کرنے’ کے الزام میں گلڈ کے صدر اور تین اراکین کے خلاف کیس دائر کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف ایک دوسرا کیس ہتک عزت کے سلسلے میں بھی دائر کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس حوالے سے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چاروں صحافیوں کو عارضی راحت دے دی۔

پریس گلڈ آف انڈیا کے اراکین کے خلاف منی پور حکومت کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کی بھارت کی متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ تشدد زدہ منی پور میں امن وامان بحال کرنا ریاستی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے اس وقت وہ حقائق کو کچلنے کی قصداً کوشش کررہی ہے۔ وہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حقائق کو منظر عام پر لانے والوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے پریس گلڈ آف انڈیا کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بیرین سنگھ حکومت کا اقدام صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش ہے۔ جس کی پرزور مذمت کی جانی چاہئے۔ دہلی یونین آف جرنلسٹس نے بھی منی پور حکومت کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ چاروں صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر فوراً واپس کی جائے۔ پریس کلب آف ممبئی، انڈین وومن پریس کارپس نے بھی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی مذمت کی ہے۔

پریس گلڈ آف انڈیا کے عہدیداروں سیما گوہا، سنجے کپور، بھارت بھوشن اور اس کی صدر سیما مصطفی نے اگست کے پہلے ہفتے میں منی پور کا دورہ کیا اور متعدد صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین، تشدد سے متاثرہ خواتین، قبائلی رہنماوں اور سیکورٹی فورسز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اپنی تفتیش کی بنیاد پر 24صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ 2ستمبر کو جاری کی لیکن اس کے بعض نتائج پر منی پور حکومت نے سخت اعتراض کیا اور چاروں صحافیوں کے خلاف کیس دائر کردیا۔

دراصل رپورٹ شائع ہونے کے بعد منی پور کے ایک شخص نے شکایت کی کہ رپورٹ میں جس جلتے ہوئے مکان کو کوکی قبیلے کے ایک شخص کا بتایا گیا ہے وہ ریاستی حکومت کے ایک محکمے کا دفتر تھا۔ ایڈیٹرز گلڈ نے اپنی بھول تسلیم کرتے ہوئے ترمیم شدہ رپورٹ ایکس پر شائع کی۔ لیکن وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے پریس کانفرنس طلب کرکے ان صحافیوں پر کیس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔

رپورٹ میں گلڈ نے تشدد کے دوران ریاست کی قیادت پر جانبداری کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک فریق کا ساتھ دیا اور اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ رپورٹ کے مطابق”آج حال یہ ہے کہ ریاستی دارالحکومت امپھال میں اب ایک میتئی سرکار، میتئی پولیس اور میتئی بیوروکریسی ہے اور پہاڑوں میں رہنے والے کوکی قبائل کو ان پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے۔”

رپورٹ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ منی پور میں تشدد کے دوران ریاست کے صحافیوں نے یک طرفہ رپورٹیں لکھیں، جنہیں ان کے مدیران نے مقامی انتظامیہ، پویس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ بات کرکے دوبارہ تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق حالانکہ تشدد کی وجہ سے یہ ممکن بھی نہیں تھا۔

منی پور میں میڈیا کے منظر نامے کا ذکر کر تے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ میڈیا ادارے میتئی اکثریتی علاقے امپھال میں ہیں اور تشدد کے دوران یہ "میتئی میڈیا”میں تبدیل ہوگیا تھا۔انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے صحافیوں کے لیے اپنے دفتر سے رابطہ کرنا ممکن نہیں تھا۔لیکن اگر ان کی رپورٹ کسی طرح پہنچ بھی جاتی تھی تو اخبارات اس کے مخصوص حصوں کو ہی اخبارات استعمال کرتے تھے۔