اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 139

مہاراشٹر: مراٹھا تحریک کے آگے جھکی شندے حکومت، کنبی ذات کو ’او بی سی سرٹیفکیٹ‘ دینے کا حکم جاری

0
مہاراشٹر:-مراٹھا-تحریک-کے-آگے-جھکی-شندے-حکومت،-کنبی-ذات-کو-’او-بی-سی-سرٹیفکیٹ‘-دینے-کا-حکم-جاری

مہاراشٹر کے جالنہ میں کئی دنوں سے جاری مراٹھا ریزرویشن تحریک کے آگے جھکتے ہوئے شیوسینا اور بی جے پی کی حکومت نے جمعرات کو ’نظام دور‘ کے کنبی ذات کے دستاویزی سرٹیفکیٹ والے لوگوں کو او بی سی سرٹیفکیٹ دینے کا حکم جاری کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کنبی کاسٹ سرٹیفکیٹ کے ساتھ مراٹھا او بی سی ریزرویشن کے لیے اہل ہوں گے۔

شندے حکومت کے اس قدم سے جالنہ میں گزشتہ 10 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے منوج جارانگے-پاٹل کے مطالبات میں سے ایک پورا ہو جائے گا۔اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے جارانگے-پاٹل کو ایک تحریری اپیل جاری کی ہے کہ انتظامیہ نے حکم شائع کر دیا ہے اس لیے انھیں فوراً اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دینی چاہیے۔

اس سے قبل بدھ کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اعلان کیا تھا کہ جن کے پاس نظام دور کے دستاویز (1960 کی دہائی کے) ہیں، جب مراٹھوں کو ’کنبی‘ کی شکل میں شمار کیا جاتا تھا، انھیں کنبی کاسٹ سرٹیفکیٹ دیا جائے گا تاکہ وہ او بی سی کوٹہ کا فائدہ اٹھا سکیں۔ اس اعلان کے بعد آج حکومت نے اس سلسلے میں آفیشیل حکم جاری کر دیا۔

اس فیصلے کے بعد قوی امید ہے کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی حکومت کا ایک نمائندہ جلد ہی سرکاری حکم اور اپیل کے ساتھ جالنا میں جارانگے-پاٹل سے ملاقات کرے گا، جس سے 10 روزہ طویل تحریک کے ختم ہونے کا امکان ہے۔ جالنہ میں 29 اگست کو تحریک شروع ہوئی تھی اور یکم ستمبر کو وہاں مظاہرین پر پولیس کی سختی کے بعد تحریک کی آگ پوری ریاست میں پھیل گئی تھی۔

’بھارت کو انڈیا سے لڑانے کی کوشش ہو رہی، سونا ہو یا گولڈ قیمت نہیں بدلتی‘، کانگریس کا بی جے پی پر حملہ

0
’بھارت-کو-انڈیا-سے-لڑانے-کی-کوشش-ہو-رہی،-سونا-ہو-یا-گولڈ-قیمت-نہیں-بدلتی‘،-کانگریس-کا-بی-جے-پی-پر-حملہ

’بھارت جوڑو یاترا‘ کی پہلی سالگرہ پر آج کانگریس نے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر زوردار انداز میں حملہ کیا۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے پریس کانفرنس کر کہا کہ بھارت اور انڈیا کو لڑانے والی طاقتوں کی پہچان کر انھیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اور انڈیا تنازعہ پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ایک جڑا ہوا بھارت کس کو پریشان کر سکتا ہے۔ آج جب بھارت جوڑو یاترا کے ایک سال مکمل ہو گئے ہیں تو یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے۔ یہ سوال ملک کے مستقبل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔‘‘

پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے پوچھا کہ ’’کون ہے وہ طاقتیں، جسے جڑا ہوا بھارت پسند نہیں ہے۔ جو اب بھارت کو انڈیا سے لڑا رہے ہیں۔ سونا ہو یا گولڈ، ہندی میں بولو یا انگریزی میں، قیمت تھوڑے نہ بدل جائے گی۔ ملک کی عوام ایسی طاقتوں کو پہچان گئی ہیں جو بھارت کو انڈیا سے لڑانا چاہتی ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایسی طاقتوں کو پہچان کر انھیں بے ناب کریں اور بھارت-انڈیا کو آگے بڑھائیں۔ جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا… یہ نعرہ ہم سب کے دلوں میں بیٹھ گیا ہے۔‘‘

پون کھیڑا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’آج تاریخی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی پہلی سالگرہ پر میں لاکھوں بے خوف ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ یاترا میلوں اور کلومیٹرس میں نہیں ناپی جا سکتی ہے۔ یہ یاترا 145 دن، 4 ہزار کلومیٹر تک چلی۔ یہ یاترا سینکڑوں زبانوں، لاکھوں آہیں، کروڑوں امیدوں کے راستے سے ہوتے ہوئے بھارت کے دل میں سما گئی۔ اس یاترا کے ذریعہ بھارت کو جوڑا گیا، دلوں کو جوڑا گیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی کے لیے، ملک کے لیے یہ یاترا ختم نہیں ہوئی ہے۔ یاترا اپنی مستقل مزاجی کے لیے جانی جائے گی۔ بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں میں اس یاترا کو لے کر تحقیق کرائے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا سیاہی سے نہیں لکھی گئی ہے بلکہ پسینے سے لکھی گئی ہے۔‘‘

سناتن مذہب پر متنازعہ بیان دینے والے اودے ندھی اور راجہ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل

0
سناتن-مذہب-پر-متنازعہ-بیان-دینے-والے-اودے-ندھی-اور-راجہ-کے-خلاف-سپریم-کورٹ-میں-عرضی-داخل

سناتن مذہب سے متعلق متنازعہ بیان دینے کے بعد تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اودے ندھی اسٹالن ہندوتوا بریگیڈ کے نشانے پر ہیں۔ ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ نے بھی اس معاملے میں متنازعہ بیان دے دیا ہے جس سے ہنگامہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اب اودے ندھی اسٹالن اور اے راجہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جمعرات کو ایک عرضی داخل کر دی گئی ہے۔

عرضی دہندہ ونیت جندل کا کہنا ہے کہ اودے ندھی اسٹالن نے سناتن مذہب کو ختم کرنے کا بیان دیا، لیکن تمل ناڈو پولیس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عرضی دہندہ نے مزید بتایا ہے کہ اس معاملے میں دہلی پولیس کو بھی شکایت دی گئی تھی، لیکن اس نے بھی ایف آئی آر درج نہیں کی۔ چونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی سبھی ریاستوں کی پولیس کو نفرت پھیلانے والے بیانات پر کارروائی کی ہدایت دے چکا ہے، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈی ایم کے لیڈر اودے ندھی پر مقدمہ درج نہیں کر کے تمل ناڈو اور دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

عرضی میں اودے ندھی اسٹالن کے علاوہ اے راجہ کے بھی بیان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان دونوں کے ہی خلاف مقدمہ درج کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈی ایم کے لیڈر اے راجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سناتن مذہب کا موازنہ ایڈس سے کیا جانا چاہیے، جن کے ساتھ سماجی داغ جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ’’اودے ندھی اسٹالن نے ڈینگو اور ملیریا سے (سناتن مذہب کا) موازنہ کر کے نرمی دکھائی ہے۔‘‘

انڈونیشیا سے واپس لوٹے پی ایم مودی، اب کابینہ میٹنگ میں جی-20 اجلاس کی تیاریوں کا لیں گے جائزہ

0
انڈونیشیا-سے-واپس-لوٹے-پی-ایم-مودی،-اب-کابینہ-میٹنگ-میں-جی-20-اجلاس-کی-تیاریوں-کا-لیں-گے-جائزہ

وزیر اعظم نریندر مودی آسیان-ہندوستان اعلیٰ سطحی اجلاس سے وطن واپس لوٹ آئے ہیں اور نئی دہلی پہنچتے ہی وہ راجدھانی دہلی میں ہونے والے جی-20 اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے والے ہیں۔ وزیر اعظم مودی دہلی واقع سشما سوراج بھون میں تھوڑی دیر میں کابینہ میں شامل وزراء سے ملاقات کریں گے، جہاں انھیں جی-20 اعلیٰ سطحی اجلاس کی تیاریوں کے بارے میں جانکاری دی جائے گی۔ یہ اجلاس 9 اور 10 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوگی اور امریکی صدر جو بائڈن 8 ستمبر کو نئی دہلی پہنچیں گے۔

امریکی صدر جو بائڈن کے علاوہ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک، جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا اور کناڈائی وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سمیت جی-20 تنظیم کے سرکردہ لیڈران جمعہ سے ہی نئی دہلی پہنچنا شروع کر دیں گے۔ یہ اجلاس پرگتی میدان میں نو تعمیر بین الاقوامی اجلاس اور نمائش سنٹر ’بھارت منڈپم‘ میں منعقد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں ہونے والا دو روزہ اجلاس ملک کے لیے تاریخی ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے جب ہندوستان اس عالمی گروپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس عظیم الشان اجلاس کے پیش نظر راجدھانی میں سیکورٹی نظام اور شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے سمیت کئی طرح کی وسیع تیاریاں کی گئی ہیں۔ اس اجلاس میں 30 سے زائد بیرون ممالک کے سربراہان، یوروپی یونین اور مدعو مہمان ممالک کے سرکردہ افسران و بین الاقوامی اداروں کے 14 سربراہان کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ حالانکہ روسی صدر ولادمیر پوتن اور چینی صدر شی جنپنگ اس سمیلن میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔

ریزرویشن کی حمایت کر برے پھنسے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت!

0
ریزرویشن-کی-حمایت-کر-برے-پھنسے-آر-ایس-ایس-چیف-موہن-بھاگوت!

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے ایک دن قبل ریزرویشن کی حمایت میں ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سماج میں تفریق موجود رہنے تک ریزرویشن جاری رہنا چاہیے۔ اس بیان پر آر جے ڈی نے موہن بھاگوت کو گھیرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں مرکز سے ’ذات پر مبنی مردم شماری‘ کے لیے تیار ہونے کے لیے کہنا چاہیے۔

آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ ’’جب موہن بھاگوت ریزرویشن کی بات کرتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ آج سورج کس سمت سے طلوع ہوا ہے، کیونکہ یہ الگ الگ نظریات والے لوگ ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ کم از کم انھوں نے ہندوستانی آئین کے مطابق سوچنا شروع کر دیا۔‘‘ انھوں نے آر ایس ایس پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھاگوت جی آپ اپنی تنظیم کو ثقافتی تنظیم کہتے ہیں، لیکن ایسا ہے نہیں۔ یہ پوری طرح سے ایک سیاسی تنظیم ہے اور حکومت چلاتی ہے۔ حکومت ایک مکھوٹا ہے۔‘‘ منوج جھا نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر آپ کا ایسا سوچنا ہے تو آپ کو بتانا چاہیے کہ حکومت ذات پر مبنی مردم شماری پر خاموش کیوں ہے؟

منوج جھا نے موہن بھاگوت سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا انھیں سیور صاف کرنے والے لوگوں کی حالت کا پتہ نہیں ہے؟ جھا نے مزید کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ اتنے سالوں کے بعد بھی ان کی حالت نہیں بدلی ہے؟ صرف بات کرنے سے نہیں ہوگا، آپ کو سوچنے اور حکومت سے کہنے کی ضرورت ہے کہ اسے ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے ’ہاں‘ کہنا چاہیے اور ظلم کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ورنہ ہم سوچیں گے کہ آپ کا بیان ہیڈلائن مینجمنٹ کے لیے سیاسی دباؤ کے تحت ہے۔

آر جے ڈی لیڈر منوج جھا کا تبصرہ موہن بھاگوت کے ذریعہ بدھ کے روز مہاراشٹر کے ناگپور میں دیے گئے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سماج میں تفریق موجود رہنے تک ریزرویشن جاری رہنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آر ایس ایس تنظیم آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی پوری طرح سے حمایت کرتا ہے۔

’جوڑے بالغ ہیں تو ساتھ رہنے سے والدین نہیں روک سکتے‘، لیو-اِن-رلیشن شپ پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

0
’جوڑے-بالغ-ہیں-تو-ساتھ-رہنے-سے-والدین-نہیں-روک-سکتے‘،-لیو-اِن-رلیشن-شپ-پر-الٰہ-آباد-ہائی-کورٹ-کا-فیصلہ

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بالغ جوڑوں سے جڑے ایک معاملے میں اہم فیصلہ صادر کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بالغ جوڑوں کو ساتھ رہنے سے ان کے والدین بھی نہیں روک سکتے۔ بالغ جوڑوں کو ایک ساتھ رہنے کی پوری آزادی ہے۔ والدین بالغ جوڑوں کی زندگی میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کوئی بالغ جوڑا لیو-اِن-رلیشن شپ میں رہ رہا ہے اور اسے کوئی دھمکی دیتا ہے یا پریشان کرتا ہے تو انھیں تحفظ مہیا کرانے کی ذمہ داری پولیس کمشنر کی ہوگی۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بالغ جوڑے کو اپنی پسند سے ساتھ رہنے یا پھر شادی کرنے کی پوری آزادی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بالغ جوڑوں کے ان حقوق میں مداخلت آرٹیکل 19 اور 21 کی خلاف ورزی مانا جائے گا۔ جسٹس سریندر سنگھ کی سنگل بنچ نے یہ حکم گوتم بدھ نگر کی رضیہ اور دیگر کی عرضی پر فیصلہ سنانے کے دوران دیا۔

ہائی کورٹ میں عرضی دہندہ نے کہا کہ دونوں ہی بالغ ہیں۔ اپنی مرضی سے لیو-ان رلیشن شپ میں رہ رہے ہیں۔ مستقبل میں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے والدین یا فیملی کے لوگ ناراض ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں۔ ایسا اندیشہ ہے کہ اس کی آنر کلنگ کی جا سکتی ہے۔ 4 اگست 2023 کو پولیس کمشنر سے اس بات کی شکایت کی گئی تھی۔ جب پولیس کمشنر سے سیکورٹی نہیں ملی اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو ہائی کورٹ کی پناہ لی۔ عرضیوں کے خلاف ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

دوسری طرف سرکاری وکیل نے کہا کہ دونوں ہی جوڑے الگ مذاہب کے ہیں۔ اسلام میں لیو-اِن رلیشن شپ میں رہنا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس پر ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذات پات کا نظام ملک کے لیے ایک بد دعا ہے اور اسے جتنی جلد ختم کیا جائے اتنا بہتر ہے۔ بین المذاہب شادی دراصل ملکی مفاد میں ہے کیونکہ اس کے نتیجہ کار فرقہ واریت پر مبنی نظام تباہ ہو جائے گا۔ کسی بھی بالغ جوڑے کو اپنی مرضی سے ساتھ رہنے کا حق ہے۔ بھلے ہی اس کی ذات اور مذہب مختلف کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی پریشان کرے، یا تشدد کرے تو پولیس اس پر کارروائی کرے۔

ہندوستانی گیندباز محمد سمیع کی مشکلات میں اضافہ، اراضی معاملہ میں 3.5 کروڑ روپے معاوضہ ہضم کرنے کا الزام

0
ہندوستانی-گیندباز-محمد-سمیع-کی-مشکلات-میں-اضافہ،-اراضی-معاملہ-میں-3.5-کروڑ-روپے-معاوضہ-ہضم-کرنے-کا-الزام

دہلی-لکھنؤ قومی شاہراہ پر کروڑوں روپے کی متنازعہ اراضی خریدنے کے معاملے میں ہندوستانی تیز گیندباز محمد سمیع کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ محمد سمیع اور مراد آباد کی چندرا فیملی کے لوگوں پر شاہ راہ تعمیر کے لیے لی گئی زمین کا 3.5 کروڑ روپے معاوضہ ہضم کرنے کا الزام لگا ہے۔ الزام ہے کہ ان لوگوں نے فرضی حلف نامہ اور دستاویز بنا کر غلط طریقے سے معاوضہ لے لیا۔ خود کو زمین کا مالک بتانے والے سیف عالم نے ضلع مجسٹریٹ سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو خط لکھ کر معاوضہ دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مراد آباد کے محلہ بارہ دری کے سیف عالم کا الزام ہے کہ وہ 14-2013 میں امریکہ میں مقیم تھے۔ ان کے اہل خانہ نے شاہراہ واقع شیونالی میں تقریباً 49 بیگھا زمین مراد آباد کی چندرا فیملی کو فروخت کر دی تھی، جبکہ اس زمین میں تقریباً 14 بیگھا حصہ ان کا تھا۔ ان کے حصے کی زمین فروخت کرنے کے لیے فرضی پاور آف اٹارنی تیار کرائی گئی۔ مجموعی زمین میں سے 14 بیگھا زمین 2017 میں ڈڈولی علاقہ کے گاؤں سہس پور علی نگر کے کرکٹر محمد سمیع نے چندرا فیملی سے خرید لی تھی۔ اس کی جانکاری سیف عالم کو ہوئی تو انھوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ ہائی کورٹ نے 2021 میں زمین کی خرید-فروخت پر روک لگا دی۔

سیف عالم کا الزام ہے کہ زمین خریدنے پر روک ہونے کے بعد بھی محمد سمیع کی پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر ان کے بھائی محمد حسیب نے باقی بچی زمین کو بھی خرید لیا۔ اس زمین کے 20 دسمبر 2022 اور 26 دسمبر 2022 کو الگ الگ 6 بیع نامے کرائے گئے تھے، جبکہ محمد سمیع نے 19 فروری 2022 کو زمین کا کچھ حصہ 1.28 کروڑ روپے میں خرید کر اپنی ماں انجم آرا کے نام بیع نامہ کرا دیا۔ اس کے بعد سیف عالم نے سول کورٹ میں ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا اور بیع نامہ رد کرانے کے لیے دو مقدمے دائر کیے۔

سیف عالم کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ 6 لائن کے لیے اراضی لی گئی جس میں تقریباً ساڑھے چار بیگھا زمین شاہراہ تعمیر کے لیے چلی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ محمد سمیع سمیت دیگر لوگوں نے غلط و فرضی طریقے سے زمین کا 3.50 کروڑ روپے معاوضہ بھی لے لیا۔ ویسے زمین کا معاوضہ کسے اور کتنا ملا، یہ ایس ایل او ہی بتا سکتے ہیں۔ سیف عالم نے زمین پر اپنا حق ظاہر کرتے ہوئے معاوضہ انھیں دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف محمد سمیع کے بھائی محمد حسیب کا کہنا ہے کہ سیف عالم کا شروع سے لے کر آخر تک زمین کی فرد میں نام درج نہیں ہے، پھر وہ کیسے زمین کے حصہ دار بن گئے۔ حسیب نے کہا کہ ’’ہم نے تیسری پارٹی سے زمین خریدی ہے۔ سیف عالم کی پہلے بھی کئی اپیلیں خارج ہو چکی ہیں۔ اب پھر وہ عدالت گئے ہیں۔ میں نے بھی جواب داخل کر دیا ہے۔ زمین جس کے نام ہوتا ہے معاوضہ اسی کو تو ملتا ہے۔ اب عدالت کا جو حکم ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔‘‘

تریپورہ: لیفٹ فرنٹ نے ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کیا

0
تریپورہ:-لیفٹ-فرنٹ-نے-ضمنی-انتخاب-کے-ووٹوں-کی-گنتی-کا-بائیکاٹ-کیا

اگرتلہ: تریپورہ لیفٹ فرنٹ (ایل ایف) کمیٹی نے جمعرات کو سیپاہیجلا ضلع کے دھن پور اور باکس نگر کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے جمعہ کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔

کمیٹی نے دونوں سیٹوں پر 5 ستمبر کو ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا اور انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ بائیں بازو کے اہم اتحادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سکریٹری جتیندر چودھری نے الزام لگایا ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بدمعاشوں نے پولیس اور سول انتظامیہ کے ایک حصے کا استعمال کر کے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔

حلانکہ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کیانکار کرتے ہوئے اور مبصرین کی رپورٹوں کی بنیاد پر کہا کہ ضمنی انتخاب منصفانہ اور پرامن تھا، جس سے اپوزیشن ناراض تھی۔ حالانکہ اہم اپوزیشن پارٹیاں ٹی آئی پی آر اے موتھا اور کانگریس نے الیکشن نہیں لڑاتھا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا الیکشن میں دھاندلی کے الزام کے ساتھ قائم ہے۔

ایک بیان میں بائیں بازو کے کنوینر نارائن کر نے کہا کہ باکس نگر اور دھن پور کے ضمنی انتخابات میں پوری طرح سے دھاندلی ہوئی تھی اور پولنگ کے آغاز سے ہی اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی توجہ بار بار مبذول کرائی گئی تھی، لیکن دھاندلی روکنے کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا، ”چونکہ الیکشن کمیشن نے ویڈیو فوٹیج میں ووٹوں میں دھاندلی کی شکایات کو قبول نہیں کیا، اس لیے ہم نے دھاندلی شدہ ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان حالات میں یہ بالکل واضح ہے کہ الیکشن کمیشن کا مقصد کیا ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے۔“

انہوں نے ریاست کے قبائلی بہبود کے وزیر وکاس دیو ورما کو گرفتارکرنے، سپاہیجلا ضلع میں ریٹرننگ افسران اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہٹانے اور ضمنی انتخابات کو منسوخ کرنے کے اپنے مطالبات کو دہرایا۔

انڈیا-بھارت تنازعہ: ’نام بدلنے کی درخواست ملنے کے بعد ہم غور کریں گے‘، اقوام متحدہ کا بیان

0
انڈیا-بھارت-تنازعہ:-’نام-بدلنے-کی-درخواست-ملنے-کے-بعد-ہم-غور-کریں-گے‘،-اقوام-متحدہ-کا-بیان

ملک میں اس وقت انڈیا-بھارت تنازعہ عروج پر ہے۔ جب سے جی-20 کی عشائیہ تقریب کے لیے صدر جمہوریہ کے ذریعہ بھیجے گئے دعوت نامہ میں ’پریسیڈنٹ آف انڈیا‘ کی جگہ ’پریسیڈنٹ آف بھارت‘ لکھے جانے کی خبر سامنے آئی ہے، انڈیا کا نام بدل کر بھارت کیے جانے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کے درمیان اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ کسی ملک کا نام بدلنے کا کیا عمل ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جب ہمیں نام بدلنے کی درخواست ملتی ہے، اس کے بعد ہی نام بدلا جا سکتا ہے۔ دراصل میڈیا کے ذریعہ اس سلسلے مین سوال اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیرس کے نائب ترجمان فرحان حق سے پوچھا گیا تھا۔ انھوں نے اس سلسلے میں ترکیے کی مثال پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ وہاں کی حکومت نے نام بدلنے کو لے کر ہمیں رسمی طور پر درخواست بھیجی تھی، جس کے بعد ہی نام بدلا گیا۔ اگر ہمیں (انڈیا کے تعلق سے) درخواست ملتی ہے تو ہم اس پر غور کریں گے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن پارٹیاں الزام عائد کر رہی ہیں کہ مرکزی حکومت ملک کے نام سے انڈیا ہٹا کر صرف بھارت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حالانکہ حکومت نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے۔ انڈیا-بھارت تنازعہ کے درمیان وزیر اعظم مودی نے 6 ستمبر کو اپنے وزراء سے کہا کہ وہ بھارت نام کو لے کر جاری تنازعہ پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کریں۔

‘من کی بات’ کے برعکس ’بھارت جوڑو یاترا‘ ایک انقلابی واقعہ: کانگریس

0
‘من-کی-بات’-کے-برعکس-’بھارت-جوڑو-یاترا‘-ایک-انقلابی-واقعہ:-کانگریس

نئی دہلی: بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کانگریس نے جمعرات کو کہا کہ یاترا ہندوستانی سیاست میں ایک انقلابی واقعہ ہے جس میں لوگوں سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی تھی اور یہ کوئی لیکچر دینے والی ‘من کی بات’ نہیں تھی۔ کانگریس نے مزید کہا کہ 30 جنوری کو سری نگر، جموں و کشمیر میں یاترا کے اختتام کے بعد بھی یاترا مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ راہل گاندھی نے طلباء، ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور کھیت مزدوروں اور دیگر سے بات چیت کی۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ میں کہا ’’آج راہل گاندھی کی قیادت میں تاریخی کنیا کماری سے کشمیر بھارت جوڈو یاترا کے آغاز کی پہلی برسی ہے۔ سری پیرمبدور میں اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد انہوں نے وویکانند راک، تھروولوور کا مجسمہ، کامراج یادگار اور گاندھی منڈپم کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد وہ بحر ہند کے کنارے کنیا کماری میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرنے کے لیے گاندھی منڈپم سے روانہ ہوئے اور اگلی صبح کی اولین ساعتوں میں یاترا شروع کی۔‘‘

انہوں نے کہا ’’بھارت جوڑو یاترا ہندوستانی سیاست میں ایک انقلابی واقعہ تھا اور اس کی توجہ بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات، بڑھتے ہوئے سماجی پولرائزیشن اور سیاسی آمریت پر حملہ کرنے پر مرکوز تھی۔ یہ من کی بات جیسا لیکچر پروگرام نہیں تھا، بلکہ لوگوں کی آواز سننے کی کوشش تھی۔‘‘

جے رام رمیش نے کہا ’’یہ یاترا مختلف شکلوں میں جاری ہے، جیسا کہ راہل گاندھی کی طلباء، ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور کھیت مزدوروں، سبزی تاجروں، ملک بھر کے ایم ایس ایم ایز کے ساتھ ملاقاتوں اور منی پور میں ان کی موجودگی کے ساتھ لداخ کے ان کے طویل دورے سے معلوم ہوتا ہے۔‘‘

بھارت جوڈو یاترا گزشتہ سال 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہوئی اور 75 اضلاع اور 76 لوک سبھا حلقوں سے ہوتی ہوئی 12 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے گزری۔